☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
پاکستان میں کرکٹ کا نیا دور

پاکستان میں کرکٹ کا نیا دور

تحریر : رحمی فیصل

10-06-2019

سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد کے بعد یہاں عالمی کرکٹ کی بحالی پر بھارت میں صف ماتم بچھی ہے ،سری لنکا کے کھلاڑیوں پر میچ رکوانے میں ناکامی کے بعد کراچی میں بارش سے میچ کے روکے جانے پر سب سے زیادہ خوشیاں بھارت میں منائی گئیں۔’’بارش نے میچ تباہ کر دیا‘‘۔۔۔’’بارش پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی میں رکاوٹ بن گئی‘‘۔

یہ اور ایسی بے شمار سرخیاں بھارتی میڈیا میںزیر بحث رہیں۔لیکن اس روز بارش نے پاکستان کا میچ ہی خراب نہیں کیا بلکہ بھارت اور افریقہ میں بھی میچز رکوا دیئے تھے۔ بھارت اور سائوتھ افریقہ کے مابین سورت میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی میچ بھی شدید بارش کی نظرہو گیا تھا۔ ’’جلنے والے کا منہ کالا‘‘ کے مصداق ہمارے ہاں کرکٹ کی بحالی میں تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔خواہ کچھ بھی ہو، سکیورٹی زیادہ ہو یا کم ، ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہوٹلوں تک محدود رکھا جائے یا انہیں نقل و حمل کی مکمل آزادی ہو، پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ بات ہم خود سے نہیں کہہ رہے ، آئی سی سی کانکتہ نظر بھی یہی ہے۔یوں بھی دوسرے ممالک کے کھلاڑی ہمارے ملک میں زیادہ محفوظ ہیں۔ اسی سال 15مارچ کو لوگ نہیں بھولے جب نیوزی لینڈ میں بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کو جانیں بچانے کے لئے بھاگنا پڑا تھاورنہ 51سے زائد افرادکے ساتھ وہ بھی مارے جاتے۔اسی طرح برطانیہ میں بھی ورلڈ کپ کے دوران گرائونڈ میں زبردست تصادم ہو گیا تھا جس پر آئی سی سی کو بھی ایکشن لینا پڑا تھا۔ جب بھارت اور افغانستان کے شائقین نے اوول کی گرائونڈ کو چینائی کی گرائونڈ سمجھتے ہوئے پاکستاینوں اور پاکستانی نژاد برطانویوں سے دست و گریبان ہونے کی کوشش کی تھی وہاںکھلاڑی تو ایک طرف ،شائقین بھی محفوظ نہ تھے۔

سری لنکا بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کی ہر ممکن مدد کی اور بورڈ کے تعاون سے ہی ٹیم کادورہ پاکستان ممکن ہوا۔ مگر بارش نے میدان مار لیا! اور پانی بھرنے کی وجہ سے میچ ہی نہ ہو سکا۔مقررہ تاریخ کو شروع ہی نہ ہو سکا۔ان میچوں میں سرفراز احمد پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کا کیریئر اچھا ہے۔ ٹیم کے 15میں سے 12کھلاڑی پہلی بارپاکستان میں کسی او ڈی آئی میچ میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہیں ان میچوں کا تجربہ نہیں ہے۔مگر اچھا کھیل رہے ہیں۔ اسی طرح نئے کوچ مصباح الحق سے بہت توقعات ہیں ،شائد ان کی ٹریننگ ان میچوں میں تو سامنے نہ آ سکے ، مگر اگلے سال ہونے والے عالمی میچ ان کا امتحان ہوںگے جن میںا علیٰ کارکردگی دکھانا ضروری ہے ورنہ یہاںتنقید کرنا کوئی مشکل کام تو ہے نہیں۔اب ذرا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوچ کا عہدہ سنبھالنے والے کپتان کس قدر کامیاب رہے ہیں اسی سے یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہو گی کہ ہماری ٹیم کی کارکردگی کیا ہو سکتی ہے۔ کئی ممالک میں کپتانوں کو کوچ بنانے کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے،لیکن کچھ ممالک میں کوچز اور کپتان کی باہمی چپقلش نے ٹیم کو ہروا دیا۔

پاکستان کے تیز رفتار بائولر وقار یونس کا نام سنتے ہی کئی غیر ملکی کھلاڑیوں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔ وہ اب مصباح الحق کے ساتھ بائولنگ کوچ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔وہ 2003کے ورلڈ کپ میچوں میں پاکستان ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں،بطور کوچ یہ ان کا تیسر رائونڈ ہے۔پہلی مرتبہ انہیں 2010میں آسٹریلیا کے مقابلے میں بائولرز کو تیار کرنے کے لئے کوچ مقرر کیا گیا تھا ۔مگرانہی دنوں سپاٹ فکسنگ سیکنڈل منظر عام پر آ گیاتھا۔2011کے سیمی فائنل میں ان کے تربیت یافتہ بائولرز بھارت کے سوا دیگر دوسری ٹیموں کے مقابلے میں اچھا پرفارم کرنے میں کامیاب رہے۔بعدازاں خرابی صحت نے وقار یونس کو آلیا اور انہیں مستعفی ہونا پڑا۔دوسری مرتبہ ان کی انٹری 2014میں ہوئی۔ہماری ٹیم سری لنکا کے خلاف تو جم کر نہ کھیل سکی اور سیریز ہاری گئی لیکن آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کے مقابلے میں ہم نے اچھا پرفارم کیا۔ لیکن ٹیم 2015میں پھر اچھی پرفارمنس دکھانے میں ناکام رہی۔حتیٰ کہ بنگلہ دیش نے بھی ہمیں شکست دے دی جس کے بعد ان کی بائولنگ کی کوچنگ ختم ہو گئی۔ 2018میں پاکستان ٹیم کی پرفارمنس افسوسناک تھی۔ہم آٹھ میں سے صرف ایک او ڈی آئی میچ ہی جیت پائے تھے۔افسوسناک کا لفظ نرم ترین ہے جو ہم ناکامی کے بارے میں استعمال کر سکتے ہیں۔ 2018ء سے اب تک ہانگ کانگ، بنگلہ دیش اور زمبابوے کے خلاف ہی قابل ذکر کامیابی حاصل کر سکی ہے،باقی دیگر اے کلاس ٹیموں سے ہم نے شکست ہی کھائی ہے۔آخری چار ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم فائنل کے لئے کوالیفائی ہی نہیں کر سکی تھی۔جبکہ اس سال کے آغاز میں تین او ڈی آئی میچوں میں سے دو میں ہماری ٹیم سائوتھ افریقہ سے ہار گئی پھر تو جیسے شکست کی لائن لگ گئی ، آسٹریلیا اور انگلینڈ سے 9میچوں میں مسلسل شکست نے دل خراب کر دیئے جس کے بعد ہی کرکٹ بورڈ میں نمایاں تبدیلیا ں لائی گئی تھیں۔اب پھر وہ میدان میں ہیں،دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹیم کی کارکردگی چنددنوں میں بہتر نہیں ہو سکتی ،یہ طویل محنت ہے جو ٹیم کو کرنا ہوگی ۔ہمیں امید کر ناچاہیے کہ وہ اچھے بائولنگ کوچ ثابت ہوں گے۔کیونکہ کئی بائولنگ کوچ بننے والے سابق کپتانوںاور بائولرز نے اپنی ٹیموں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ان میں اینڈی فلاور، جان رائٹ،گریگ چیپل اور کمبلے بھی شامل ہیں ۔ بلکہ بھارتی ٹیم کو بنانے والے ہی ایک سابق کپتان ہیں جنہوں نے مردہ ٹیم میں اس قدر جان ڈال دی کہ وہ آج بھی اپنی پرفارمنس کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسا کن ممالک میں ہوا اور اگر وہاں بائولرز یا کپتان نے کوچ بن کر ٹیم کی قسمت کو بدل ڈالا، اور اگر ان ممالک میں ایسا ہو سکتا ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔

عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اینڈی فلاورکاسٹائل آج بھی کرکٹرز کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر اوربیٹسمین تھے۔انہیں 2007میں انگلینڈ کی ٹیم کا معاون کوچ بنایاگیا تھا ۔کوچ پیٹر موروز کو متنازعہ بننے کے بعد نکال دیا گیا جس کے اینڈی فلاور کوچ بن گئے۔ان کے دور میں ٹیم نے اچھی کارکردگی بھی دکھائی۔ انگلینڈ نے ایشز اور ورلڈ کپ جیت لئے۔ہر طرف ان ہی کے نام کا چرچا ہونے لگا۔ آسٹریلیا سے ایشز کپ چھیننا اور ورلڈ کپ جیتنا برطانیہ کے خواب تھے جو انہوں نے پورے کئے۔ان کے دور میں برطانوی ٹیم ٹاپ رینکنگ پر پہنچ گئی۔مدمقابل اس سے کہیں نیچے تھے۔2013 تک ان کی مدد سے برطانیہ تین مسلسل ایشز ٹرافی اپنے نام کرتا رہا۔ مگرٹیم میں انتشار پڑنے پر انہیں الگ ہونا پڑا۔ٹیم کی حالت بدل دینے والے ایک اور اہم کوچ 1980ء کی دہائی میں نیوزی لینڈ کے مایہ ناز کپتان جان رائٹ تھے۔ یہ وہی کوچ ہیں جنہوں نے بھارت کی کمزور ،شکست خوردہ ٹیم کو زمین سے اٹھا کر کرکٹ کی دنیا میں اعلیٰ مقام پر پہنچایاورنہ ہاری ہوئی بھارتی ٹیم کا مورال ڈائون تھا،وہ جم کر کھیلنے کے قابل نہ تھی۔ بھارتی ٹیم کو موجودہ مقام تک پہنچانے میں نیوزی لینڈ کے جان رائٹ کا ہی ہاتھ ہے۔انہوں نے گنگولی کے ساتھ مل کر انتہائی اچھی ٹریننگ دی۔جب بھارت نے آسٹریلیا کے خلاف کلکتہ کی گرائونڈ پر ٹیسٹ سیریز میں افریقہ کو شکست دے کراپنی ٹیم کی دھاک بٹھائی۔جان رائٹ کے بعد بھارت نے ٹریننگ کے لئے گریگ چیپل کی خدما ت حاصل کیں۔جان کے الگ ہونے سے ٹیم نچلی سطح پرآگئی تھی۔ گریگ چیپل ،گنگولی کے ساتھ اچھی کوآرڈینیشن قائم کرنے میں ناکام رہے۔ جان کی ٹریننگ کے بعد گنگولی کے بھی کل پرزے نکل آئے تھے،وہ بھی دو تین اعلیٰ میچ جتنے کے بعد اپنا آپ منوانے پر بضد تھے۔لہٰذا گنگولی اور گریگ آمنے سامنے آگئے۔تاہم ٹیم کی یہ اندرونی کش مکش گنگولی کو لے ڈوبی اور ان کی جگہ راہول ڈریوڈ نے لے لی۔لیکن ان کی تربیت پر جو داغ لگنے تھے وہ لگ چکے تھے، ٹیم اب ان کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہ تھی۔ان کے دور میں بھارتی ٹیم نے کئی کامیابیاں سمیٹیں مگر کئی بڑی ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔او ڈی آئی اور ٹیسٹ میچوں میں بھارتی ٹیم نے اچھا پرفارم کیا مگر ورلڈ کپ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد بھارت میںگریگ چیپل کا کیریئر بطور کوچ ختم ہو گیا۔ 

بھارت میں انیل کمبلی بھی کپتانی کے بعد 2014میں کوچ کے منصب پر فائز ہوئے اور اچھی پرفارمنس دکھانے میں کامیا ب رہے۔ ان کا پورا دور کپتان اور کوچ کے مابین محاذ آرائی کی نظر ہو گیا۔ وہ بھی کپتان کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکا م رہے ، کپتان بھی ان کے ساتھ چلنا نہیں چاہتے تھے۔اس دوران بھارت نے ٹیسٹ سیریز جیتی۔انگلینڈ، آسٹریلیااور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کو شکست دی۔وہ 2017،میں ویرات کوہلی سے تنازعات کے بعدمستعفی ہو گئے۔ان وجوہات کی بنا پر ہم دعا گو ہیںکہ ہمارے ہاں بھی نئی تبدیلی مثبت ثابت ہو۔

مہذب دنیا میں کھیلوں پر بدترین حملے !

 افغانستان اور پاکستان کی ٹیموں کے مابین کھیلے جانے والے ورلڈ کپ میچ میں افغانستان کے شائقین نے ہیڈنگلے گرائونڈ میںجو اودھم مچایا ،اس سے کون واقف نہیں ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ناصرف وہ میچ کھیلنے کے قابل نہیں بلکہ انہیں تو میچ دیکھنے کا حق بھی نہیں ملنا چاہیے۔ اس موقع پر آئی سی سی کو بار بار یہ کہنا پڑا کہ کرکٹ کو عالمی سیاست سے بچایا جائے ،مگر بھارت اور افغانستان اتنا ہی کرکٹ کو بھی عالمی سیاست میں گھسیٹنا چاہتے تھے۔ ہیڈنگلے کی گرائونڈ میں افغان شائقین نے ناصرف پاکستا نیوں پر حملہ کیا بلکہ سکیورٹی اہل کاروں سے بھی الجھ پڑے اور سٹیڈیم پراپرٹی کونقصان پہنچایاجس پر یارک شائر پولیس نے متشدد افغانیوں کے خلاف مقدمے درج کر لئے ، آئی سی سی نے بھی اگلے میچز پر پابندی لگا دی۔ 

بوسٹن میراتھن پر حملہ،دو ہلاک

 دہشت گردنے ایک خطرناک حملہ 6اپریل 2013کوبوسٹن میں کیا۔جب دہشت گرد میرا تھن ریس کی فنش لائن کے قریب کھڑے شائقین میں داخل ہو گیا ،عین بیچ میں کھڑے ہو کر اس نے بم دھماکہ کر دیا۔ جس سے پورا سٹیڈیم لرز اٹھا، دھماکے کی آواز سنتے ہی میراتھن ریس میں بھگڈر مچ گئی، جس کے جہاں سینگ سمائے بھاگ کھڑا ہوا۔ پولیس نے فوراََ ہی پورے علاقے کا کنٹرول سنبھا ل لیا ۔ حملے میں دو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ۔میڈیا نے اسے دہشت گردوںکی کارروائی قرا ردیا،مگر (سابق)صدر اوبامانے یہ زبان استعمال کرنے سے گریز کیا۔

میونخ گیمز پر حملہ

5 ستمبر 1972ء کودہشت گردوں نے اولمپک ویلج پر قبضہ کرکے میونخ گیمز کو نشانہ بنایا ۔’’بلیک ستمبر‘‘ کہلانے والی فلسطینی تنظیم نے میونخ گیمز کے موقع پر اسرائیلی ایتھیلیٹس کو اغوا کر کے 11کھلاڑیوں کو ہلاک کر دیا۔مارے جانے والوں میں اسرائیلی کوچ اورسکیورٹی پر مامور ایک جرمن سپاہی بھی شامل تھا۔ حملہ آوروں نے مصر روانگی کے لئے طیارہ اور دیگرسہولتیں مانگیں ،ابھی مذاکرات جاری تھے کہ جرمن پولیس نے مغویوں کو چھڑانے کے لئے آپریشن کیا جس میں ایک اہل کار سمیت چھ حملہ آور بھی مارے گئے۔حملہ آوروں ے پولیس ایکشن کو دیکھتے ہی یرغمالیوں کو بھی ہلاک کر دیا۔

اٹلانٹا اولمپک پر حملہ

27جولائی 1996ء کو دہشت گردوں نے ایک بار پھر امریکہ میں کھیلوں کو نشانہ بنایا۔جب اٹلانٹا اولمپک پارک دھماکے سے لرز اٹھا۔امریکی فوج میں بموں کے ماہر ایرکروڈلوف (Eric Rudolph) نے دھماکہ کرنے کا اعتراف کر لیا۔دہشت گرد نے اعتراف کیا کہ دھماکے سے اس کا مقصد انٹا اوپک کو منسوخ کروانا تھا۔

یورپی فٹ بال چیمپئن شپ خطرے میں

15جون1996ء کوبرطانیہ میں یورپی فٹ بال چیمپئن شپ مقابلے جاری تھے۔مانچسٹر سٹیڈیم میں اگلے روز ہی روس اور جرمنی میں زبردست مقابلہ ہونے والا تھا ۔اس سے ایک روز قبل آئرش ری پبلک آرمی کے دہشت گرد 3300کلوگرام دھماکہ خیز بارود سے بھری وین لے کر سٹیڈیم کے قریب ہی شاپنگ سنٹر میں گھس گیا،حملے میں دوسو افراد زخمی ہوئے۔

سپین کے سٹیڈیم میں کا بم دھماکہ

کھیلوں کے حوالے سے سپین بھی محفوظ ملک نہیں،وہاں بھی ایک بڑے ساکر میچ کے موقع پر سٹیڈیم میں کار بم دھماکے میں کم از کم 17افراد زخمی ہوئے تھے۔یکم مئی 2002کویورپین چیمپئن شپ لیگ کے فائنل میچ ہو رہے تھے کہ دہشت گرد بارود سے بھری کار لے کرسانتیاگو سٹیڈیم (Santiago Bernabeu stadium)میں گھس گئے۔اس کے دھماکے کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر اندر سٹیڈیم سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اور دھماکہ ہوا۔

 بھارتی تامل ٹائیگرزکا سری لنکن میراتھن پر حملہ

 لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کی کارروائی کا بہت چرچا ہے ،مگر سری لنکن کھلاڑی اپنے ہی ملک میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔6اپریل 2008ء کو سری لنکا میں میراتھن ریس پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا، جس میںسات افراد ہلاک اور دوسو سے زائد زخمی ہوئے تھے، دھماکے کی ذمہ داری بھارتی تامل ٹائیگرز نے تسلیم کر لی تھی۔

سپین اور نیدرز لینڈ کی ٹیموں پر حملہ

11جولائی 2010ء کویوگنڈا میں ورلڈ کپ ساکر مقابلے جاری تھے۔ سپین اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔دہشت گردوں نے رگبی کے میدان کے علاوہ اس کے قریب ہی واقع ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا۔اس واقعے میں کم از کم 50افراد مارے گئے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

تین مارچ 2009، سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورہ پر تھی ۔ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ م ...

مزید پڑھیں

ہم اپنے قارئین کو اس مضمون میں پاکستان کرکٹ کے ان سابق کھلاڑیوں کے بارے میں بتائیں گے جو بھولے بسرے ہو چکے ہیں۔ یہ سارے ذہین لوگ تھے اور خ ...

مزید پڑھیں

کرکٹ ناممکنات کا کھیل ہے بعض اوقات ایسے ایسے تجربے کامیاب ہوگئے کہ انسان کے وہم و گمان میںبھی نہیں تھے اور بعض اوقات ایسے ایسے کامیاب فیص ...

مزید پڑھیں