☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ صحت رپورٹ سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا دلچسپ دنیا طنزومزاح انٹرویوز کھیل خواتین تاریخ روحانی مسائل
ایک آنکھ سے محروم مشہور کرکٹرز

ایک آنکھ سے محروم مشہور کرکٹرز

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

10-20-2019

ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ انسانوں نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بنایا اور بے مثال عزم و ہمت سے کامیابی کی منازل طے کرتے رہے۔ وہ حوصلے کی چٹان بن گئے اور ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔

اس مضمون میں ہم ان کرکٹرز کا ذکر کر رہے ہیں جو ایک آنکھ سے محروم ہوچکے تھے لیکن انہوں نے شاندار کرکٹ کھیلی اور شائقین کو ششدر کر دیا۔ ان کا کھیل ہی اس حقیقت کا غماز ہے کہ حوصلے ہمت اور خود اعتمادی سے ہر مشکل آسان ہوسکتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا

یہ کرکٹرز تاریخ میں اپنا نام لکھوا چکے ہیں اور انہیں کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔

-1 سررنجیت سنجی وبا جی جڈیجہ

سررنجیت جڈیجہ کو بھارتی کرکٹ کا باپ کہا جاتا ہے۔ وہ پہلے بھارتی کھلاڑی تھے جو بین الاقوامی کرکٹ کھیلے۔ وہ ایک غیر معمولی کرکٹر تھے۔ سر جڈیجہ وہ کرکٹر تھے جن کو شائقین کی طرف سے بے حد پذیرائی ملی۔ لوگ کھڑے ہو کر ان کو داد دیتے تھے۔ 10 ستمبر 1872 کو پیدا ہونے والے سرجڈیجہ کے کیریئر کا اختتام ہو رہا تھا جب ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ 1915 میں جب ان کی عمر 43 سال تھی۔ وہ شمالی یارک شائر انگلینڈ میں شکاریوں ے ایک گروپ کے ساتھ موجود تھے جب اس گروپ کے ایک رکن نے غلطی سے ان کی دائیں آنکھ پر گولی چلا دی۔ انہوں نے جلد ہی انگلینڈ میں اپنا علاج شروع کرایا اور جس آنکھ کو نقصان پہنچا تھا اسے نکلوا دیا۔ اس کے بعد وہ فوری طور پر ہندوستان واپس چلے گئے۔ اس وقت ان کی صرف ایک آنکھ کام کر رہی تھی۔ وہ ہندوستان میں پہلی جنگ عظیم کے خاتمے تک رہے۔

تاہم ایک آنکھ کھونے کے باوجود وہ کرکٹ کھیلتے رہے۔ 1920 میں انہوں نے انگلینڈ میں دوبارہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنی شروع کر دی۔ لیکن وہ صرف تین میچ کھیلے کیونکہ انہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ وہ گیند کو صحیح طور پر فوکس نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد انہوں نے کرکٹ کو خیر آباد کہنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہندوستان واپس آئے اور کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں یہ بتانا مقصود تھا کہ ایک آنکھ سے کرکٹ کھیلنے کا تجربہ کیسا رہا۔ لیکن یہ کتاب شائع نہ ہوسکی۔

-2 ٹائیگر پٹوری

5 جنوری 1941 کو پیدا ہونے والے نواب منصور علی خان پٹوری صرف 21 برس کی عمر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے وہ بڑے ذہین اور جری کرکٹر تھے۔ ماہرین کرکٹ انہیں بھارت کا عظیم ترین کرکٹر کہتے ہیں۔ اپنے دور میں کرکٹ کے تبصرہ نگار اور دوسرے کھلاڑی ان کی فیلڈنگ کے بھی بڑے معترف تھے۔ بہت سے تبصرہ نگاروں کے مطابق وہ اپنے دور میں دنیا کے بہترین فیلڈر تھے۔ یہ غیر معمولی کرکٹر ایک آنکھ کھونے کے باوجود زبردست کامیابیاں حاصل کرتا رہا۔

نواب منصور علی خان پٹوری جب 20 برس کے تھے جب کار کے ایک حادثے میں وہ اپنی داہنی آنکھ سے محروم ہوگئے۔ اس وقت ان کا کرکٹ کیریئر شروع نہیں ہوا تھا۔ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ ان حالات میں کبھی کھلاڑی بننے کا نہ سوچتا۔ لیکن منصور پٹوری نے کمال کر دکھایا۔ انہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی اپنے فیصلے کو تبدیل نہیں کیا اور یہ عہد کیا کہ ایک آنکھ کھونے کے باوجود وہ کرکٹر بنیں گے اور نام کمائیں گے۔

نواب پٹوری نے نیٹ پریکٹس شروع کر دی۔ داہنی آنکھ سے محرومی کے چھ ماہ بعد انہوں نے بھارت کی طرف سے انگلینڈ کے خلاف 1961 میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ انہوں نے تیسرے ٹیسٹ میچ میں 103 رنز بنائے اور بھارت نے انگلینڈ کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز جیت لی۔ یہ ابھی ٹائیگر پٹوری کے کیریئر کا آغاز تھا۔ پھر وہ بھارتی ٹیم کے کپتان بن گئے اور ان کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔ بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں نواب منصور علی خان پٹوری کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

-3کولن مل برن

کولن مل برن انگلش کرکٹر تھے جو 23 اکتوبر 1941 کو پیدا ہوئے آنکھ کھونے کے حادثے سے قبل وہ شائقین کو اپنے دلکش سڑوک پلے سے بہت محظوظ کرتے تھے۔ انہوں نے بہت سے فسٹ کلاس میچوں میں حصہ لیا۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ گیند کو بائونڈری کے باہر پھینکیں۔ انہوں نے 9 ٹیسٹ میچز بھی کھیلے۔ انہیں اولی (Ollie) کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ اولی کی بائیں آنکھ کار کے ایک حادثے میں ضائع ہوگئی تھی اس وقت وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور ان کی عمر صرف 28 برس تھی۔

کولن ملرن تکنیکی طور پر بڑے شاندار بلے باز تھے اور جب دفاعی کھیل پیش کرنا ہو تو وہ زبردست مہارت دکھاتے تھے۔ ان کی ٹائمنگ بھی لاجواب تھی۔ لیکن جب بڑی شاٹس کھیلنی ہوتی تھیں تو وہ پوری توانائی سے شاندار سڑوک پلے کا مظاہرہ کرتے تھے۔ انہوں نے انگلینڈ کی طرف سے 9 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 46.71 کی اوسط سے 654 رنز بنائے۔ انہوں نے دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں اپنے نام کیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ انہوں نے 430 رنز 91 چوکوں اور دوچھکوں کی مدد سے بنائے وہ موٹے تھے اس لئے سلیکٹرز نے انہیں ٹیم سے الگ کر دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اولی فیلڈنگ کے حوالے سے ٹیم پر بوجھ بن جائیں گے۔

کولن کو اس فیصلے پر بہت افسوس ہوا۔ اداسی اور مایوسی کی تصویر بنے انہوں نے دوبارہ فسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کردی۔ وہ نارتھیمٹن شائر کی طرف سے کھیلتے رہے اور انہوں نے بعض بہت شاندار اننگز کھیلیں۔ انہوں نے ویسٹرن آسٹریلیا کی طرف سے بہت کرکٹ کھیلی۔ اس طرح انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے لئے ایک بار پھر امیدوار بن گئے۔ پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی انگلش ٹیم پر جب مشکل وقت پڑا تو اس نے تیسرے ٹیسٹ کے لئے کولن کو بلوالیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی واپسی کتنی شاندار تھی؟ انہوں نے پہلی اننگز میں 139 رنز بنائے اور ٹیم کو ایک مضبوط آغاز فراہم کیا۔ بدقسمتی سے یہ میچ تیسرے دن ہنگاموں کے باعث ختم کر دیا گیا۔ یہ ان کا آخری ٹیسٹ میچ ثابت ہوا۔ ٹائیگر پٹودی سے متاثر ہو کر انہوں نے دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا ارادہ کیا۔ 1973 اور 1974 میں وہ واپس کرکٹ کے میدانوں میں آئے لیکن وہ اچھے کھیل کا مظاہرہ نہ کرسکے۔

اصل میں وجہ یہ تھی کہ پٹودی کے برعکس کولن مل برن بائیں آنکھ سے محروم ہوئے۔ دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز کے لئے ان حالات میں کھیلنا بہت نازک ہوتا ہے۔

انہوں نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ دیا اور کرکٹ کے تبصرہ نگار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ 48 برس کی عمر میں وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ٹائیگر پٹودی کا مقام اس لحاظ سے بڑا ہے کہ جب انہوں نے کرکٹ کیریئر شروع کیا تو وہ ایک آنکھ سے محروم ہو چکے تھے لیکن اولیٰ بھی نایاب کھلاڑی تھے۔ وہ عزم و ہمت کی چٹان تھے اور دوسرے کھلاڑیوں کے لئے ایک مثال تھے۔

-4ایولف پیٹر نوپن

نوپن یکم جنوری 1902ء کو ناروے میں پیدا ہوئے لیکن کرکٹ انہوں نے جنوبی افریقہ کی طرف سے کھیلی۔انہیں پیٹر نوپن کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہ دائیں ہاتھ کے فاسٹ میڈیم بائولر تھے۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف جنوبی افریقہ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت بھی کی۔ اس سریز کے پہلے میچ میں نوپن نے 63 رنز دے کر پانچ وکٹیں اڑائیں اور دوسری اننگز میں 87 رنز کے عوض چھ وکٹیں اپنے نام کیں۔ جنوبی افریقہ نے اس ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل کی۔ چوتھے ٹیسٹ میں نوپن نے پہلی اننگز میں 148 رنز دے کر تین جبکہ دوسری اننگز میں صرف 46 رنز دے کر چھ وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کی شاندار بائولنگ کی وجہ سے یہ میچ برابر ہو گیا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کی طرف سے 17 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 50 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ انہوں نے فسٹ کلاس میچز میں صرف 18.19 رنز کی اوسط سے 334 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ریکارڈ اس حقیقت کا غماز ہے کہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل بائولر تھے۔ لیکن ان کے مرتبے میں مزید اضافہ اس حقیقت سے ہو جاتا ہے کہ وہ ایک آنکھ سے کھیلنے والے کرکٹر تھے۔

اب یہ بات بھی قارئین کو بتانا ضروری ہے کہ نوپن ملبرن اپنی ایک آنکھ سے کیسے محروم ہوئے؟ ملبرن اپنی ایک آنکھ سے صرف چار برس کی عمر میں محروم ہو گئے۔ ایک دن وہ ایک ہتھوڑے سے دوسرے ہتھوڑے کو ہٹ کر رہے تھے تو اچانک لوہے کا ایک ٹکڑا ان کی آنکھ میں گھس گیا۔ اس کے بعد انہوں نے تمام عمر شیشے کی آنکھ پہنی۔ زندگی کے اوائل میں اس حادثے کے باوجود ان کا کرکٹ کیریئر قابل رشک تھا۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ ایک آنکھ سے محرومی کے باوجود نوپن اتنی اچھی بائولنگ کیسے کروا سکتے ہیں۔ یہاں کرکٹ کے تبصرہ نگار یہ کہتے ہیں کہ منصور علی پٹودی جب اپنی ایک آنکھ سے محروم ہوئے تو ان کی عمر 20 برس تھی جبکہ نوپن کو صرف چار برس کی عمرم یں ایک آنکھ سے محروم ہونا پڑا۔ اس لحاظ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پٹودی دوسروں کے لئے ایک مثال تھے تو نوپن بھی کچھ کم نہیں تھے، نوپن کا کیریئر بھی نہایت متاثر کن تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوپن غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے اور ان کے عزم و ہمت کی بھی جتنی داد دی جائے کم ہے۔ کون سا ایسا کرکٹر ہو سکتا ہے جو صرف چار برس کی عمر میں ایک آنکھ کھو بیٹھا ہو اور پھر یہ فیصلہ کرے کہ وہ کرکٹ کے میدان میں جھنڈے گاڑے گا؟ قدرت نے نوپن کو ہی یہ حوصلہ عطا کیا تھا کہ انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

-5 ڈیوڈ فلٹن

 ڈیوڈ فلٹن 15 نومبر 1971ء کو انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کینٹ کی طرف سے 15 کائونٹی سیزن کھیلے۔ وہ دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے افتتاحی بلے باز تھے۔ انہوں نے کچھ عرصہ قومی ٹیم کی قیادت بھی کی۔ سابق آسٹریلوی کپتان سٹیووا جب کینٹ کی طرف سے کھیلتے تھے تو انہوں نے فلٹن کے بارے میں کہا تھا کہ وہ مستقبل میں انگلینڈ کے کپتان ہو سکتے ہیں۔ ایسا کہنا فلٹن کیلئے ایک اعزاز تھا۔ فلٹن نے فسٹ کلاس کرکٹ میں 12000 سے زیادہ رنز بنائے جس میں 28 سنچریاں اور 53 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انہوں نے ایک ڈبل سنچری بھی اپنے نام کی۔ 2003ء میں ڈیوڈ فلٹن کائونٹی سیزن کے لئے تیار کر رہے تھے۔ وہ سنیٹ میں پل شاٹ کھیلنے کی پریکٹس کر رہے تھے۔ بدقسمتی سے ایک گیند جو 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی گئی ان کے ہیلمٹ کو توڑتی ہوئی ان کی داہنی ان کی داہنی آنکھ سے بری طرح ٹکرائی۔ اگرچہ آنکھ پوری طرح ضائع نہیں ہوئی لیکن انہیں اس آنکھ سے چیزیں دھندلی نظر آنے لگیں اور پھر یہ شاندار کرکٹر پہلے جیسا کھیل پیش نہ کر سکا۔

اس کے باوجود ڈیوڈ فلٹن کینٹ کی طرف سے کھیلتے رہے اور 2003ء کے سیزن میں 11میچوں میں 600 رنز بنا ڈالے۔ وہ اگلے تین سیزن میں بھی اپنی کائونٹی کی طرف سے کھیلتے رہے اور جب تک کھیلتے رہے ان کی کائونٹی کینٹ کی چیمپئن شپ جیتنے کی امیدیں برقرار رہیں۔ کائونٹی چیمپئن شپ میں کینٹ کی پوزیشن دوسری رہی۔ وہ کائونٹی کرکٹ سے 2006ء میں ریٹائر ہوئے۔ مڈل سیکس کے خلاف کھیلتے ہوئے انہوں نے اپنے آخری کائونٹی میچ میں 155 رنز کی دلکش اننگز کھیلی۔

ایک آنکھ سے کھیلنے والے مذکورہ بالا پانچ کرکٹروں میں صرف ایک بائولر تھا اور باقی سب بلے باز۔ بہرحال یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، ان لوگوں نے غیر معمولی ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنام نام ہمیشہ کے لئے کرکٹ کی تاریخ میں لکھوا لیا۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان کا دورہ آسٹریلیا ایک لحاظ سے منفرد اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ منفرد اس لئے کہ اس میں پاکستان نے نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو ا ...

مزید پڑھیں

کرکٹ کا میدان ہو یا گلوکاری کا، پاکستان کے غیر مسلم افراد نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی زبردست صلاحیتوں کی بدولت شہرت بھی حا ...

مزید پڑھیں

اس حقیقت سے انکارمشکل ہے کہ پاکستان کرکٹ کو شروع سے ہی اچھے فاسٹ اور سپن باؤلرز ملے جن کی وجہ سے پاکستانی ٹیم نے اپنے ابتدائی دور میں ہی ...

مزید پڑھیں