☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل طب رپورٹ فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا متفرق کھیل خواتین روحانی مسائل
آسٹریلیا اور انگلینڈ پاکستان آنے کو تیار

آسٹریلیا اور انگلینڈ پاکستان آنے کو تیار

تحریر : انجینئرمحمد سعد

10-27-2019

پاکستان میں عالمی کرکٹ پورے طور پر بحال ہونے والی ہے ،یورپی ممالک کی ایک دو مزید ٹیموں نے پاکستان آنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اس سلسلے میں آسٹریلیا،برطانیہ اور آئرلینڈ کے حکام لاہور اور اسلام آباد کے دورے کے بعد واپس جا چکے ہیں ۔

انہوں نے اگلے دوسال کے اندر اندر پاکستان کی ہوم گرائونڈ پر میچ کھیلنے کا اعلان کر دیا ہے ، آئرلینڈ کی ٹیم پہلے آئے گی،بعدازاں برطانیہ اور آسٹریلیا کے کھلاڑی پاکستان آئیں گے ۔آئرلینڈ کی ٹیم 2020میں پاکستان میںمیچز کھیلے گی۔ آئرلینڈ کی ٹیم اگرچہ اتنی اہم نہیںمگر، یورپی ممالک سے تعلق رکھنے کے باعث اس کی اہمیت زیادہ ہے ۔ برطانیہ اور آسٹریلیا سے بھی پاکستان آمد کے بارے میں مذاکرات جا ری ہیں۔ آئی سی سی بھی کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے جس پر بھارت میں آگ لگی ہوئی ہے۔

کرکٹ کی بحالی کے عمل کا آغاز آئی سی سی کے تعاون سے اس وقت شروع ہوا جب آئی سی سی نے پاکستان کو کرکٹ کے لئے محفوظ ملک سمجھتے ہوئے ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان میں تعاون کیا جس کے بعد ہی 2017ء میں اس ٹیم کا پہلا دورہ ممکن ہوا۔ بھارت کی تمام تر مخالفت کے باوجود آئی سی سی نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ پاکستان محفوظ ملک ہے اور ٹی ٹوئنٹی میچز وہاں کھیلے جا سکتے ہیں جس سے پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کا اثر آہستہ آہستہ زائل ہو رہا ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ 2009ء میں بھی میانمار کے ایک رہنما نے پاکستان آنے والے کھلاڑیوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی جو اس وقت میڈیا میں منظر عام پرآئی تھی۔ ان کھلاڑیوں کوتھریٹ پاکستان سے نہیں بلکہ میانمار سے تھی۔ ہندو تاملوں کا بھارتی نیٹ ورک بھی اس میں ملوث تھا ،اس خطے میں چرچ میں ہونے والے دھماکوں کاتعلق بھی بھارت ہی سے نکلا تھا۔کہتے ہیں کہ سری لنکن کھلاڑی ایک مرتبہ پھر میانمار کے وحشی لیڈر کے دبائو میں ہیں۔ بعض ناقدین اس بات کو کیوںنظر انداز کر رہے ہیں کہ زمبابوے کی آمد کے بعد سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب بہت آگے چلا گیا ہے۔ویسٹ انڈیز،ورلڈ الیون ،بنگلہ دیش اور سری لنکا کی ٹیمیں بھی پاکستان کا رخ کر چکی ہیں۔اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے ’’ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ‘‘ کے مقابلے پاکستان میں بھی منعقد ہو سکتے ہیں، دسمبر میں سری لنکن ٹیم کی آمد کا امکان ہے ،سینئر ان میچوں کے لئے بھی آنے سے گریزاں ہیں مگر اس میں سکیورٹی کی صورتحال پاکستان کی نہیں بلکہ اپنے ملک سری لنکا کی ٹھیک نہیںہے۔ عالمی ماہرین نے اعتراف کیا کہ اس عرصے میںبھارت اور سری لنکا میں بھی امن و امان کی خرابی کے واقعات پیش آ ئے،لیکن پاکستان میں امن و امان کا ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیاجس سے دوسرے ممالک کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق عالمی میچز نہ ہونے سے پاکستان کو کم از کم 20کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ پی سی بی مالی بحران کا شکار ہو گیا اور نیوٹرل گرائونڈز پر میچ کے لئے بھی فنڈز کی کمی آڑے آنے لگی ۔آئی سی سی کی بھی خواہش ہے کہ کرکٹ ٹیمیں 22کروڑ شائقین کی کرکٹ مارکیٹ لوز نہ کریں ۔اسی لئے اب دنیا بھر کے اخبارات لکھ رہے ہیں کہ 2009ء کے واقعے کے بعد عالمی کرکٹ پاکستان سے ختم ہوگئی مگر اس میں 22کروڑ پاکستانیوں کا کیا قصور ہے انہیں کیوں اچھی اور عالمی کرکٹ سے محروم رکھا جائے۔ عالمی کرکٹ ٹیموں کے لئے آئی سی سی کا بھی یہی مشورہ ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے، وہاں جانا چاہیے۔آئی سی سی کسی بھی ٹیم پر کسی قسم کا دبائو نہیں ڈال سکتی ،لیکن اس کا مشورہ ہی کافی ہے۔اسی لئے پہلے مرحلے میں پاکستان اپنے پی ایس ایل میچوں کوامارات سے اپنے ملک میں لئے آیا ہے۔ 2020ء کے پاکستان سپر لیگ کے تمام میچز بلا خوف و خطر پاکستان میں ہی منعقد ہوں گے جن میں گزشتہ پی ایس ایل سے زیادہ عالمی کھلاڑیوں کی آمد کا امکان ہے۔ 

بہرکیف، عوام تیار ہو جائیں،جنوری 2021ء میںبنگلہ دیش اورویسٹ انڈیز کی ٹیمیںپاکستان آئیں گی۔ دونوں ٹیمیں یہاں دو دو ٹیسٹ کھیلیں گی ۔یہ میچز شیڈول کر لئے گئے ہیں،اب ہوں گے یا نہیں ؟اس بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا لیکن اغلب امکان ہے کہ میچز شیڈول کے مطابق ہو جائیں گے۔ایک غیر ملکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ 2022میں آسڑیلوی کرکٹ ٹیم بھی پاکستان آنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے 1998ء کے بعد سے پاکستان کا کوئی دورہ نہیںکیا،جب اس ملک نے پاکستان آنے کے بارے میں منفی ٹریول گائیڈ جاری کر دی تھی جس کے بعد ٹیم نے بھی آنے سے انکار کر دیا تھا۔امکان ہے کہ آسٹریلوی حکومت ٹیم کی آمد کی حوصلہ افزائی کر یگی جس سے منفی ٹریول گائیڈ کے اثرات زائل ہو جائیں گے۔

اب تک کے شیڈول کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان طویل اور دو ررس اثرات کا حامل ہو گا۔ یہ ٹیم 2022ء میں پاکستان میںدو ٹیسٹ،تین او ڈی آئی اور تین ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی ۔آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹوکیون رابرٹس اور ہیڈ آف سکیورٹی سیون کیرل پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ اعلیٰ اختیاراتی دورہ ایک دہائی کے بعد ہی کیا گیا ہے۔اس کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’’ہم نے وہاںلینڈ سکیب کا جائزہ لیا ہے،منصوبوں پر بھی بات چیت کی ہے۔سکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کی حفاظتی اقدامات کا بھی بغور جائز لیا ہے اور مستقبل میں بھی لیں گے۔ ہم دو سال تک اس سلسلے میں سپورٹ مہیا کریں گے، معاملات صحیح سمت میں چل رہے ہیں۔ہم نے بکتر بند کاروں اور پولیس کی حفاظت میں خود کو نہایت محفوظ تصور کیا ہے۔ یقیناََابھی کچھ کرنا باقی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ناصرف کرکٹ کیلئے یہ دورہ ضروری ہے بلکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے گہرے روابط بھی اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہمارے کھلاڑی پاکستان میں میچز کھیلیں۔لیکن ہم اپنے کھلاڑیوں کے مکمل تحفظ کے لئے رہنمائی کرتے رہیں گے۔

اس طرح اگلے آٹھ مہینوں کے اند راندر آئرلینڈ کی ٹیم بھی پاکستان آ جائے گی۔آئرلینڈ کرکٹ بورڈ کے سربراہ پچھلے دنوں لاہور میں تھے۔انہوں نے کہا کہ آئرلینڈ پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی کے لئے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔قوم کو یہ معلوم ہو گا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سربراہ ٹام ہیریسن بھی پاک سری لنکن میچز کے دوران پاکستان ہی میں تھے۔ٹام ہیریسن نے میچ ہی نہیں دیکھا بلکہ وہ سیف سٹی پراجیکٹ دیکھنے بھی گئے۔انہوںنے خوشی کا اظہار کیا کہ حکومت کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری ردعمل ظاہر کر رہی ہے جس سے لاہور محفوظ ہو گیا ہے۔’’یہ بات حیرت انگیز طور پر متاثر کن ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا پاکستان آنا حفاطتی انتظامات پر اعتمادکا اظہار ہے، اور ہم 2022ء کی دوسری ششماہی میں اپنی ٹیم کو یہاں بھیجنے کی ذمہ داری پوری کریں گے ۔انگلش ٹیم بھی 2022ء میں یہاں آنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس سے دس برس کی دوریاں ختم ہو جائیں گی۔ انگلینڈ کی ٹیم 2005ء کے بعدسے پاکستان نہیں آئی ، مگر اب اس ٹیم نے بھی یہاں آنے کے امکانات پر کام شروع کر دیا ہے۔ برطانیہ کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم بھی یہاں آنے پر تیار ہے

یوں بگ تھری میں سے بگ ٹو 2022ء میں پاکستان آ جائیں گے۔جس سے ہمارے ہاں عالمی کرکٹ مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔ بے شک اس سے پاکستان کے ایک ہمسائے میں صف ماتم بچھ جائے گی جو ہمارے ساتھ میچ نہیں کھیلنا چاہتا۔ 

پاکستان کرکٹ عالمی میچوں کی بحالی سے ہمارے کرکٹ کے ارباب اختیار کا امتحان شروع ہونے والا ہے ۔سری لنکا کی کمزور ٹیم سے ہارنے کے بعد پاکستان ٹیم کو مستقبل کے لئے تیار رہنا چاہیے۔اسی سال اکتوبراورنومبر میں پاکستان ٹیم آسٹریلیامیں دو ٹیسٹ اور تین او ڈی آئی میچوں میں حصہ لے گی۔ دسمبر میںسری لنکا کے ساتھ تین ٹی ٹوئنٹی ا ور اتنے ہی او ڈی آئی میچز بھی سر پر ہیں۔بنگلہ دیش کی ٹیم یہاں بھی میچ کھیلے گی اور اگلے سال جنوری اورفروری 2020ء میں بھی بنگلا دیش کے ساتھ دو ٹیسٹ ، تین اوڈی آئیز کھیلے جانے کی امید ہے۔بنگلا دیش کی ٹیم بھی تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیموں میں شامل ہے، اس لئے ہمیںاس ٹیم کو ہلکانہیں لینا چاہیے ۔ جولائی اور اگست 2020ء بھی اہم مہینے ہوں گے ۔جولائی میںنیدر لینڈ کے ساتھ بھی تین او ڈی آئی میچ ہوں گے۔ بعدازاں برطانیہ اور آئر لینڈ کی ٹیموں کے ساتھ میچز کھیلے جائیں گے ۔پاکستان انگلینڈ کے ساتھ تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گا۔جبکہ آئر لینڈ کے ساتھ دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے پر بات چل رہی ہے۔ستمبر 2020ء میںایشیا کپ کی گہما گہمی شرو ع ہو جائے گی۔ اکتوبر میں سائوتھ افریقہ میں تین ٹی ٹوئنٹی اور تین او ڈی آئی میچزہماری ٹیم کے منتظر ہوں گے۔پاکستان ٹیم نے اکتوبر اور نومبر 2020ء میںخود کو آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لئے تیار کرنا ہے۔جبکہ زمبابوے کے ساتھ نومبر اور دسمبر میں منعقد ہوں گے۔دسمبر او رجنوری میں پاکستان ٹیم سائوتھ افریقہ کے دو ساتھ ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئینٹی میچز کھیلے گی۔ شیڈول کے مطابق پاکستان جولائی 2019ء سے اپریل 2021ء تک جاری رہنے والے ’’ٹیسٹ چیمپئن شپ‘‘ میچوں میں بھی حصہ لے گا۔مئی 2020ء سے مارچ2022ء تک 13 او ڈی آئی چیمپئن شپ مقابلے منعقد ہوں گے۔ ان میچوں میں کامیاب ہونے والی سات ٹیمیں 2023ء میں بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ کپ فائنل میں حصہ لینے کی اہل ہوں گی۔

آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ

 کے برے دن 

پاکستانی نژاد کرکٹر عثمان خواجہ کے برے دن شروع ہو گئے۔ اگست میں انہوں نے تین میچز کھیلے، مگر سٹیو سمتھ کی واپسی اور ایشز میچوں میں ناقص کارکردگی کے باعث انہیں ٹیم سے عارضی طور پر نکال دیا گیا ہے۔ مگر انہیں ٹیم سے نکالنے کا خمیازہ پوری ٹیم کو بھگتنا پڑا ہے۔ اور ایشز کی اہم ٹرافی آسٹریلیا نے اپنے نام کر لی ہے۔عثمان خواجہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ۔۔۔’’چھ ایشز میچوں میں صرف 40رنز بنانے پر انتہائی افسوس ہے، پتہ نہیں کیوں ان میچوں میں میرا بلا نہیں چل سکا‘‘۔انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اگرچہ وہ اچھا نہیں کھیل سکے مگر انہوں نے دوران کھیل کسی دوسرے کھلاڑی کا کھیل خراب نہیں کیا۔ ان کے ساتھ یہ سلوک پہلی مرتبہ نہیںہوا۔2011کے بعد سے ان کا ٹیم میں آناجانالگا ہوا ہے۔وہ پہلے بھی کئی مرتبہ ٹیم سے آئوٹ ہونے کے بعد ان ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے خلاف ان کی پرفارمنس اچھی رہی ،141رنز بنا کر آسٹریلیا کی جیت کا سامان پید ا کر دیا تھا۔اسی سال کے آغاز میں انہوں نے سری لنکا کی مہمان ٹیم کو بھی سنچری بنا کرہرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔آئی سی سی مینز ورلڈ کپ میںمشکل وکٹ پر کئی دوسرے کھلاڑی جم کر کھیلنے میں ناکام رہے تھے مگر انہوںنے 9 میچوں میں دو نصف سنچریاں بناکر شائقین کو محظوظ کر دیا تھا۔پھر انجری نے ان کے کیریئر کو داغ لگا دیا ۔انہیں ٹیم سے الگ ہونا پڑا،وہ اب تک سنبھل نہیں سکے۔

 کوکین ،ایک اور کھلاڑی کو لے ڈوبی 

کوکین اور نشہ کئی عالمی کھلاڑیوںکو منظر سے آئوٹ کر چکا ہے ،دلوں پر حکومت کرنے والے کھلاڑی نشے کی علت میں مبتلا ہو کر شائقین کے دلوںسے بھی آئوٹ ہو چکے ہیں۔ان میںنیا اضافہ پانچ مرتبہ چیمپئن بننے والے جوکی ویلی کارسن کے پوتے ولیم کارسن کا ہے۔ دنیاکا مایہ ناز جوکی نشے کی وجہ سے رواں برس میںآئوٹ ہونے والا چوتھا کھلاڑی ہے ۔1994میں کوکین کے استعمال پر لگنے والی پابندی کے بعد سے کسی بھی ایک سال میں یہ سب سے زیادہ تعدادہے ۔ مستقبل میںہر جوکی کے لئے کوکین ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا جائے گا۔ کوکین کا پتہ چلانے کے لئے بالوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ریس شروع ہونے سے دو دن پہلے اجازت سے دو گنا زیادہ نشہ لینے پر انہیں بین کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 2015میں انہیں ڈپرپشن ہو گیا تھا جس کے بعد کوکین کا نشہ کرناپڑا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان کا دورہ آسٹریلیا ایک لحاظ سے منفرد اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ منفرد اس لئے کہ اس میں پاکستان نے نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو ا ...

مزید پڑھیں

کرکٹ کا میدان ہو یا گلوکاری کا، پاکستان کے غیر مسلم افراد نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی زبردست صلاحیتوں کی بدولت شہرت بھی حا ...

مزید پڑھیں

اس حقیقت سے انکارمشکل ہے کہ پاکستان کرکٹ کو شروع سے ہی اچھے فاسٹ اور سپن باؤلرز ملے جن کی وجہ سے پاکستانی ٹیم نے اپنے ابتدائی دور میں ہی ...

مزید پڑھیں