☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
پاکستان کی پہلی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم

پاکستان کی پہلی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

11-03-2019

پاکستان 1947میں معرض وجود میں آیا اور ٹھیک پانچ سال بعد یعنی 1952 میں اسے ٹیسٹ کا درجہ مل گیا۔ پاکستان کو ٹیسٹ کا درجہ آئی سی سی کے ایک اجلاس میں دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے بھارت کا پہلا دورہ کیا اور بھارت کے ساتھ اکتوبر 1952میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ اس میچ میں جو ٹیسٹ ٹیم کھیلی ان میں سے کئی ایک نے آگے چل کر بہت کامیابیاں حاصل کیں۔

پاکستان کی طرف سے عبدالحفیظ کاردار کپتان تھے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں امتیاز احمد، خورشید احمد، مقصود احمد، ذوالفقار احمد، اسرار علی، روسی ڈنشا، امیر الٰہی، وقار حسن، انور حسین، محمود حسین، خالد عباداللہ، فضل محمود، نذر محمد، وزیر محمد اور خالد قریشی شامل تھے ان کھلاڑیوں میں سے جنہوں نے پہلے ٹیسٹ میچ میں حصہ لیا ان میں عبدالحفیظ کاردار (کپتان)، خان محمد، امیر الٰہی، نذر محمد، فضل محمود، حنیف محمد، امتیاز احمد (وکٹ کیپر) اسرار علی، مقصود احمد، انور حسین اور وقار حسن شامل تھے۔

مذکورہ بالا 11کھلاڑیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے پاکستان کی طرف سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا اور وہ بھی بھارت کے خلاف۔ ان میں امیر الٰہی اور گل محمد اور عبدالحفیظ کاردار وہ کرکٹرز تھے جنہوں نے انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔ پاکستان کی پہلی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا ایک  کھلاڑی وقار حسن کے سوا کوئی رکن آج زندہ نہیں اور سب عالم جاوداں کو سدھار چکے ہیں۔ عبدالحفیظ کاردار کو پاکستان کرکٹ کا باپ (Father of Pakistan Cricket) کہا جاتا ہے۔ وہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے پہلے کپتان تھے۔ بلے بازی بھی کر لیتے تھے اور سپن باؤلنگ کے جوہر بھی دکھاتے تھے۔ کاردار نے مجموعی طور پر 26ٹیسٹ میچ کھیلے۔ انہوں نے فسٹ کلاس کیریئر میں 344وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت اعلیٰ کپتان تھے اور نظم و ضوبط کے بہت پابند تھے۔ بھارتی کپتان لالہ امرناتھ بھی کاردار سے بڑے متاثر تھے۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں بھارت کے کپتان لالہ امرناتھ تھے۔ 1978-79میں جب بھارت کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو اس وقت بشن سنگھ بیدی بھارت کے کپتان تھے اور لالہ امر ناتھ بطور مبصر ٹیم کے ساتھ آئے تھے۔ انہوں نے 1952-53 کی پاک بھارت سیریز کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سیریز سے ہی پتا چل گیا تھا کہ فضل محمود اور حنیف محمد بہت نام کمائیں گے۔ انہوں نے کاردار کی کپتانی کی بھی بہت تعریف کی تھی۔ فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ دہلی میں پاکستان نے پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ بھارت نے ٹاس جیت کر بلے بازی کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم 372رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ بھارت کی طرف سے وجے ہزارے نے 76اور ادھیکاری نے 81 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ اس کے علاوہ غلام احمد نے 50رنز بنائے۔ یہ غلام احمد سابق پاکستان کرکٹ کپتان آصف اقبال کے ماموں تھے۔ وہ بلے باز کے علاوہ باؤلر بھی تھے۔ پاکستان کی طرف سے خان محمد نے 52رنز دے کر دو، فضل محمود نے 92رنز دے کر دو، امیر الٰہی نے 134رنز دے کر چار اور عبدالحفیظ کاردار نے 53رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فضل محمود اور امیر الٰہی دونوں نے 40,40اوورز کرائے۔

اس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 150رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ حنیف محمد نے سب سے زیادہ 51رنز بنائے۔ نذر محمد نے 27اور فضل محمود نے 21رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کوئی اور کھلاڑی قابل ذکر رنز نہ بنا سکا۔ یہ بڑی مایوس کن کارکردگی تھی۔ بھارتی باؤلرز نے بڑی نپی تلی باؤلنگ کی۔ خاص طور پر ایم ایچ منکڈ نے 52 رنز دے کر 8وکٹیں اپنے نام کیں۔ غلام احمد کو ایک وکٹ ملی جبکہ ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا۔ اس طرح پاکستان فالو آن ہو گیا۔

دوسری اننگز میں پاکستانی بلے بازوں نے پھر غیر معیاری کھیل پیش کیا اور پوری ٹیم 152رنز بنا سکی۔ امتیاز احمد نے 41اور کاردار نے 43رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ فضل محمود نے 27رنز کی اننگز کھیلی۔ ایم ایچ منکڈ نے 79رنز دے کر اور غلام احمد نے 35رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔ منکڈ نے مجموعی طور پر 13وکٹیں حاصل کیں۔ یہ منکڈ کا میچ ثابت ہوا۔ پاکستانی بلے باز اس بھارتی باؤلر کو کھیل نہیں سکے۔ پاکستان کی طرف سے نذر محمد، حنیف محمد، اسرار علی، امتیاز احمد، مقصود احمد، وقار حسن، فضل محمود اور خان محمد کا یہ پہلا ٹیسٹ تھا۔ پاکستان اپنا پہلا ٹیسٹ میچ ایک اننگز اور 70رنز سے ہار گیا۔ اگرچہ پاکستان نے دوسرا ٹیسٹ جو لکھنو میں ہوا، ہندوستان کو ایک اننگز سے شکست دی لیکن پہلا ٹیسٹ پاکستان جیت نہ سکا۔ یہاں کچھ ذکر ایم ایچ منکڈ کا ہو جائے۔ انہیں ونومنکڈ بھی کہا جاتا تھا۔ وہ آل راؤنڈر تھے۔ انہوں نے 44ٹیسٹ میچز کھیلے اور پانچ سنچریاں بنائیں جن میں ایک ڈبل سنچری بھی شامل ہے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور بائیں ہاتھ سے سپن باؤلنگ کیا کرتے تھے۔

اب ہم اپنے قارئین کو پاکستان کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کے ارکان کے بارے میں فرداً فردا بتاتے ہیں ۔

-1 عبدالحفیظ کاردار (کپتان)

کاردار بہت اچھے کپتان تھے۔ وہ قیام پاکستان سے پہلے بھی متحدہ ہندوستان کی متحدہ ٹیم کی طرف سے کھیلتے رہے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے ٹیسٹ کپتان تھے۔ وہ بلے بازی بھی کر لیتے تھے اور باؤلنگ بھی۔ ہندوستان کے بڑے بڑے کرکٹرز ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف تھے۔ 17جنوری 1925کو لاہور میں پیدا ہونے والے کاردار نے 26ٹیسٹ میچز کھیلے اور 23.76رنز کی اوسط سے 927رنز بنائے۔ انہوں نے پانچ نصف سنچریاں بنائیں۔ اسی طرح باؤلنگ میں انہوں نے 45.42رنز کی اوسط سے 21وکٹیں حاصل کیں۔ عبدالحفیظ کاردار کو پاکستان کرکٹ کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتے رہے۔ ہندوستان کے معروف فلمساز و ہدایت کار عبدالرشید کاردار (اے آر کاردار) ان کے کزن تھے۔ 21اپریل 1996کو عبدالحفیظ کاردار 71برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

-2 نذر محمد

5مارچ 1921ء کو پیدا ہونے والے نذر محمد نے اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ اکتوبر 1952میں پاکستان نے لکھنؤ ٹیسٹ جیت کر پہلا ٹیسٹ اپنے نام کیا۔ اس میں انہوں نے سنچری بنائی۔ اس طرح وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔ ان کا ریکارڈ یہ بھی ہے کہ وہ میچ کے آخر تک گراؤنڈ میں رہے۔ وہ ایک افتتاحی بلے باز تھے اور لکھنؤ ٹیسٹ ان کا یادگار ٹیسٹ ہے۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچز کھیلے اور پھر ریٹائرڈ ہو گئے ان کے بیٹے مدثر نذر نے بھی کئی سال انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی۔ باپ کی طرح وہ بھی افتتاحی بلے باز اور میڈیم پیسر تھے۔ انہوں نے بھی اپنے والد کی طرح ایک ٹیسٹ میچ میں بیٹ کیری کیا۔ یعنی وہ افتتاحی بلے باز کی حیثیت سے کھیلنے آئے اور آخر تک آؤٹ نہیں ہوئے۔ نذر محمد نے پانچ ٹیسٹ میچوں میں 3957رنز کی اوسط سے 277رنز بنائے جن میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری بنائی۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 124رنز ناٹ آؤٹ رہا۔ 12جولائی 1996 کو نذر محمد 75برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

-3 امتیاز احمد (وکٹ کیپر)

امتیاز احمد وکٹ کیپر بلے باز تھے اور انہوں نے بڑا نام پیدا کیا۔ وہ پانچ جنوری 1928 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1952سے 1962تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی۔ امتیاز احمد نے 41ٹیسٹ کھیلے اور 29.3رنز کی اوسط سے 2079رنز بنائے انہوں نے 3سنچریاں 11 نصف سنچریاں بنائیں ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 209رنز تھا۔ انہوں نے وکٹوں کے پیچھے 77کیچز پکڑے اور 16کھلاڑیوں کو سٹمپ آؤٹ کیا۔ 1966میں انہیں حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغہِ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ یہ شاندار وکٹ کیپر بلے باز 31دسمبر 2016کو 88برس کی عمر میں لاہور میں وفات پا گیا۔

-4 امیر الٰہی

امیر الٰہی یکم ستمبر1908ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور بائیں ہاتھ سے بائولنگ کرتے تھے۔ انہوں نے چھ ٹیسٹ میچز کھیلے اور 82 رنز بنائے جبکہ بائولنگ میں انہوں نے 35.42 رنز کی اوسط سے سات وکٹیں حاصل کیں۔ 28 ستمبر1980ء کو ان کا کراچی میں انتقال ہو گیا۔

-5 خان محمد

خان محمد پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر تھے۔ وہ یکم جنوری 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔16 اکتوبر 1952ء کو انہوں نے بھارت کے خلاف پہلاٹیسٹ میچ کھیلا۔ وہ اسلامیہ کالج لاہور میں پڑھتے رہے۔ انہوں نے 13 ٹیسٹ میچز کھیلے، فضل محمود کے ساتھ وہ پاکستان کی طرف سے بائولنگ کا آغاز کرتے تھے۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پاکستان کی طرف سے پہلی ٹیسٹ بال کرائی اورپہلی ٹیسٹ وکٹ بھی حاصل کی۔1954ء میں انہوں نے لارڈز میں لین ہٹن کو صفر پر آئوٹ کر دیا جو ایک بڑا کارنامہ تھا۔ 1951ء میں انہوں نے سمر ٹیسٹ کی طرف سے کائونٹی کرکٹ بھی کھیلی۔ انہوں نے 13 ٹیسٹ میچز میں 23.92 رنز کی اوسط سے 54 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے چار دفعہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں اپنے نام کیں۔ انہوں نے 10 کی اوسط سے 100 رنز بھی بنائے۔ 4 جولائی 2009ء کو خان محمد 81 برس کی عمر میں لندن میں چل بسے۔

-6 اسرار علی

اسرار علی بائیں ہاتھ سے بائولنگ کرتے تھے۔ 1952ء  میں بھارت کے خلاف انہوں نے پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے چھ وکٹیں حاصل کیں۔ لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 29رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں جو ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ اسرار کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا اور پھر سات سال بعد دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ لاہور میں کھیلا جس میں انہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں، 40 فسٹ کلاس میچز میں اسرار نے چھ ہاف سنچریاں بنائیں۔ انہوں نے 2263 رنز کی اوسط سے 114 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ انہوں نے 88 سال کی عمر پائی اور ان کا انتقال 2015ء میں اوکاڑہ میں ہوا۔

-7 وقار حسن

12 ستمبر1932ء کو امرتسر میں پیدا ہونے والے وقار حسن نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی وہ داتیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ سابق سپنر پرویز سجاد ان کے بھائی ہیں، وہ بحران کے وقت بہت اچھا کھیلتے تھے۔ انہوں نے 21 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 315 رنز کی اوسط سے 1071 رنز بنائے۔ انہوں نے ایک سنچری اور چھ نصف سنچریاں بنائیں۔ ایک اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 189 رنز تھا۔ وہ دائیں ہاتھ سے بائولنگ بھی کرتے تھے۔ انہوں نے 99 فسٹ کلاس میچز کھیلے۔ 1952ء میں بھارت سے پہلا ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم کے وہ واحد رکن ہیں جو بفضل خدا حیات ہیں۔ آج ان کی عمر87 برس ہو چکی ہے اور دہلی ٹیسٹ کی یادیں ابھی تک ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔ 

-8 مقصود احمد

26 مارچ 1925ء کو امرتسر میں پیدا ہونے والے مقصود احمد دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی میڈیم فاسٹ بائولنگ کرتے تھے۔ انہوں نے 16 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 19.50 رنز کی اوسط سے 507 رنز بنائے۔ انہوں نے دو نصف سنچریاں بنائیں اور ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 99 تھا۔ انہوں نے 3وکٹیں بھی حاصل کیں، 4 جنوری 1999ء کو مقصود احمد کا راولپنڈی میں انتقال ہو گیا۔

-9 حنیف محمد

حنیف محمد 21 دسمبر 1934ء کو جونا گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انہیں لٹل ماسٹر کہا جاتا تھا۔ وہ اپنے زمانے کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک تھے۔ برج ٹائون ویسٹ انڈیز میں 1958ء میں کھیلی گئی ان کی 337 رنز کی اننگز ابھی تک یاد کی جاتی ہے۔ وہ دائیں ہاتھ کے افتتاحی بلے باز تھے۔ ان کے چار بھائی بھی کرکٹر رہے۔ 1952ء میں دہلی میں انہوں نے بھی اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ انہوں نے 55 ٹیسٹ میچوں میں 43.98 رنز کی اوسط سے 3915 رنز بنائے۔ جن میں 12 سنچریاں اور 15 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ فسٹ کلاس میں ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 499 رنز تھا۔ انہوں نے کائونٹی کرکٹ نہیں کھیلی۔ 1972ء میں وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔ 2016ء میں ان کا کراچی میں انتقال ہو گیا۔

-10 انور حسین

ان کا پورا نام انور حسین کھوکھر تھا۔ وہ 16 جولائی 1920ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ آل رائونڈر تھے۔ انہوں نے چارٹیسٹ میچز کھیلے جن میں انہوں نے 92 رنز بنائے اور ایک وکٹ حاصل کی۔ انہوں نے45 فسٹ کلاس میچز کھیلے۔ انور حسین کا 9 اکتوبر 2002ء کو لاہور میں انتقال ہو گیا۔

-11فضل محمود

 فضل محمود کا شمار پاکستان کے عظیم فاسٹ بائولرز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 1952ء میں بھارت کے خلاف دہلی میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ 18 فروری 1927ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے فضل محمود نے 34 ٹیسٹ میچوں میں 24.70 رنز کی اوسط سے 139 وکٹیں اپنے نام کیں۔ وہ پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے 100 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 14.1 رنز کی اوسط سے 620 رنز بھی بنائے۔ انہوں نے چار دفعہ ایک ٹیسٹ میں 10وکٹیں حاصل کیں۔ عبدالحفیظ کاردار کے بعد انہیں کپتان بنایا گیا۔ 1954ء میں اوول ٹیسٹ میں انہوں نے 12وکٹیں حاصل کیں جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ان کا لیگ کٹر بہت مشہور تھا 30 مئی 2005ء کو اس عظیم بائولر کا لاہور میں انتقال ہو گیا۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کیری پیکر کا نام آتے ہی 1977 یاد آ جاتا ہے جب کیری پیکر سیریز کا آغاز ہوا۔ کیری پیکر آسٹریلوی میڈیا کی بہت بڑی شخصیت تھی۔ وہ ارب پتی آد ...

مزید پڑھیں

پاکستان کرکٹ ٹیم آج کل آسٹریلیا کے دورہ پر ہے جہاں وہ تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکی ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دو ٹیسٹ میچز ...

مزید پڑھیں

پاکستان میں عالمی کرکٹ پورے طور پر بحال ہونے والی ہے ،یورپی ممالک کی ایک دو مزید ٹیموں نے پاکستان آنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اس سلسلے م ...

مزید پڑھیں