☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
دورہ آسٹریلیا ۔۔بدترین نتائج

دورہ آسٹریلیا ۔۔بدترین نتائج

تحریر : طیب رضا عابدی

12-08-2019

پاکستان کا دورہ آسٹریلیا ایک لحاظ سے منفرد اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ منفرد اس لئے کہ اس میں پاکستان نے نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو آزمایا اور بدترین اس لئے کہ قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ سیریز دونوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ بدترین شکست اس لئے کہیں گے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی مزاحمت یا مقابلہ بازی کہیں بھی نظر نہیں آئی اور آسٹریلیا کی ٹیم تمام شعبوں پر حاوی دکھائی دی۔ یہ دورہ 3نومبر کو شروع ہوا اور 2دسمبر کو ختم ہوا جس میں تین ٹی ٹوئنٹی اور آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلہ میں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی گئی ۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز کی بات کی جائے تو وہاں بھی مقابلہ یکطرفہ نظر آیا اور پہلے میچ سے لیکر تیسرے میچ تک پاکستانی بیٹسمین ناکام اور بائولرز بے بس دکھائی دیئے سوائے افتخار احمد یا بابر اعظم کے کسی نے متاثر کن کھیل پیش نہ کیا، لیکن افتخار احمد ٹیسٹ میں نہ چل سکے۔ عالم تو یہ ہے کہ بار بار مواقع ملنے کے باوجود آصف علی ناکام ہی دکھائی دیئے ۔ شائد ان میں عالمی کرکٹ کھیلنے کی استطاعت نظر نہیں آتی۔ محمد رضوان کھیلے تو ضرور لیکن سست روی کا شکار نظر آئے ۔ ٹی ٹوئنٹی کی ضرورت کے مطابق کھیلنا ان کے بس کی بات نہیں ۔ وہ ون ڈے اور ٹیسٹ کے بہترین کھلاڑی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کیلئے مناسب نہیں ہیں ۔ حارث سہیل کا بلا تو پوری سیریز میں ہی خاموش رہا نہ وہ ٹی ٹوئنٹی میں چل سکے اور نہ ہی ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی سامنے آسکی ۔ وہ ایک ہی طرح کے شاٹس پر کیچ دے کر آئوٹ ہوتے رہے ۔ ان کی کمزوری مخالف ٹیم نے پکڑ لی ہے ۔ اسی طرح فخر زمان بھی نہ چل سکے ۔ غرض بیٹنگ میں کس کس کا ذکر کریں کہ پوری بیٹنگ لائن اپ ہی خراب کارکردگی سے دوچار رہی ۔ بہتر ہے کہ ڈومیسٹک میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو مواقع دیئے جائیں ۔ بائولنگ کی بات کی جائے تو تین سال کے بعد ٹیم میں شامل ہونے والے محمد عرفان بھی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے اور کینگروز کے ہاتھوں بری طرح سکور کھایا۔ ہماری بائولنگ لائن اپ تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پوری ٹیم آئوٹ کرنا تو درکنار اوپننگ کو ہی آئوٹ نہ کرسکی اور یہ میچ دس وکٹوں سے ہاری جبکہ دوسری طرف پاکستان کے اس میچ میں آٹھ کھلاڑی آئوٹ ہوئے تھے۔ دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کے بائولر زصرف تین کھلاڑی آئوٹ کرسکے اور خوب چوکے چھکے کھائے۔ پاکستان نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست کے بعد تیسرے میچ میں چار تبدیلیاں کیں اور فخر زمان کی جگہ امام الحق ، آصف علی کی جگہ خوش دل شاہ، وہاب ریاض کی جگہ محمد موسی اور محمد عرفان کی جگہ محمد حسنین کو کھلایا گیا لیکن یہ تبدیلیاں بھی کارآمد ثابت نہ ہوئیں اور ٹیم نے پہلے کی نسبت اور زیادہ کم تر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔سیریز میں اگر کوئی کھلاڑی ابھر کر سامنے آئے تو وہ صرف بابر اعظم اور افتخار احمد تھے جنہوں نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلایاورنہ تو تینوں میچز یکطرفہ طور پر ہی ختم ہوئے ۔ پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا اگر اس میچ میں بارش نہ ہوتی تو وہ بھی آسٹریلیا نے جیت جانا تھا۔ باقی دو میچز کینگروز نے جس آسانی سے جیتے اس کی داد دینا چاہیے کہ جس طرح کی کرکٹ آسٹریلیا کے کھلاڑی کھیل رہے ہیں وہ یقینا اعلیٰ معیار کی ہے ۔ آسٹریلیا کے مچل سٹارک ہوں یا بیٹنگ میں سٹیوسمتھ، ڈیوڈ وارنر یا ایرون فنچ ہوں سب نے کلاس کے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ آسٹریلیا کو یہ ایڈونٹیج حاصل ہے کہ ٹاپ آرڈر میں کوئی نہ کوئی بلے باز ضرور اچھی پارٹنر شپ قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جس سے سکور میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے ۔ کبھی سٹیو سمتھ وکٹ پر کھڑے ہوجاتے ہیں ، کبھی ڈیوڈ وارنر اور کبھی ایرون فنچ ۔

ٹی ٹوئنٹی کے بعد پاکستان کے لئے سب سے بڑا امتحان ٹیسٹ سیریز تھی جو کہ برسبین اور ایڈیلیڈ میں کھیلی گئی۔ پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل پاکستان نے دو پریکٹس میچ کھیلے جن میں اچھی کارکردگی سے یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ پاکستان ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھائے گا ۔ خاص طور پر نسیم شاہ جیسے کم عمر بائولر کو ایک پیکج کے طور پر لیا جارہا تھا اور ان کی تیز رفتار بائولنگ کے چرچے آسٹریلیا میں بھی ہورہے تھے ۔ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کے پاکستان نہ جانے کے فیصلے اور پاکستان کیلئے کھیلنے کی خواہش پر ان کو جہاں ایک طرف داد و تحسین مل رہی تھی وہاں ٹیم کے کھلاڑی بھی بھرپور سپورٹ کررہے تھے ۔ عمران خان کی سائیڈ میچ میں عمدہ بائولنگ کی وجہ سے یہ خیا ل کیا جارہا تھا کہ پاکستان آسٹریلیا کو ٹیسٹ میچز میں ٹف ٹائم دے گا اس کے علاوہ اسد شفیق اور بابر اعظم کی عمدہ بیٹنگ نے بھی نئی امید دلائی تھی لیکن پہلے ٹیسٹ میچ میں ہی ان امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب پہلے دن کھانے کے وقفے کے بعد یکے بعد دیگرے پاکستان کی وکٹیں گرنا شروع ہوئیں اور پاکستان کی بیٹنگ ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ اور پوری ٹیم پہلے ہی دن 240رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ پاکستان کی طرف سے صرف اسد شفیق نے نصف سنچری بنائی۔ باقی کوئی کھلاڑی نہ چل سکا ۔ یاسر شاہ نے اسد شفیق کا اچھا ساتھ دیا اور سکور کو دو سو سے اوپر لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ جواب میں آسٹریلوی کھلاڑی بیٹنگ کرنے آئے تو انہوں نے جس طرح پراعتماد طریقے سے آغاز کیا اور پاکستانی نئے بائولر ز کو کھیلا اس سے معلوم ہو ا کہ وہ تو نئے پیکج کو خاطر میں ہی نہیں لارہے ۔ چاہے نسیم شاہ کی تیز رفتار بائولنگ ہو یا عمران خان کی ہلکی پھلکی سوئنگ ہر اوور میں ڈیوڈ وارنر اور جوئے برنز چوکا جڑتے رہے ۔ ڈیوڈ وارنر نے پہلی اننگز میں پاکستانی بائولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سنچری بنائی وہ154 رنز پر نسیم شاہ کی گیند پر رضوان کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوئے۔ آسٹریلیا کی طرف سے دوسری سنچری لیبوشائن نے بنائی انہوں نے شاندار185 رنز بنائے ۔ اس طرح پہلی اننگز میں کینگروز580 رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔ پاکستان نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو بیٹنگ لائن پھر مشکلات سے دوچار نظر آئی اور13 کے مجموعی سکور پر کپتان اظہر علی جواب دے گئے ۔ 94 کے مجموعی سکور پر آدھی ٹیم آئوٹ ہوچکی تھی کہ بابر اعظم اور محمد رضوان نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ۔ بابراعظم اور محمد رضوان نے کینگروز بائولر ز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے سکور کو 226تک پہنچایا جہاں بابر اعظم اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد آئوٹ ہوگئے۔محمد رضوان نے قیمتی 95رنز بنائے ۔ رضوان کا ساتھ یاسر شاہ نے خوب نبھایا اور قیمتی42 رنز بنائے۔ رضوان اور یاسر شاہ کے آئوٹ ہونے کے بعدکوئی کھلاڑی نہ جم سکا۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے مزاحمت تو بہت کی لیکن پاکستان اننگز کی شکست سے نہ بچ سکا اور صرف پانچ رنز پیچھے رہ گیا ۔ ا س طرح پاکستان کو اس میچ میں ایک اننگز اور پانچ رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیبوشائن میچ کے مین آف دی میچ قرار پائے ۔ 

ایڈیلیڈ میں شروع ہونیوالے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستانی بیٹنگ کچھ مختلف نہیں تھی کہ یہاں بھی بیٹسمین پہلے ٹیسٹ میچ کی طرح وکٹوں کے پیچھے کیچ دے کر آئوٹ ہوتے رہے ۔ اظہر علی جنہیں جنوبی افریقہ میں خراب کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے ڈراپ کیا گیا تھا انہیں ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا ۔ ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ ان کی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی کجا انہیں ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا ہے ۔ ایسے غلط فیصلے ہونگے تو ٹیم ہارے گی ہی۔ ڈومیسٹک میں اچھا پرفارم کرنے والوں کو موقع دینے کی بجائے چلے ہوئے کارتوسوں کو ہی بار بار آزمایا جائے گا تو نتیجہ ایسے ہی نکلے گا جیسے جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز میں نکلا اور اب آسٹریلیا میں دونوں ٹیسٹ میچوں میں ہار کی صورت میں نکلا ۔ ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا اور ڈیوڈ وارنر نے ایسی کلاس کی اننگز کھیلی کہ پاکستانی بائولرز کے ہاتھ پائوں پھول گئے ۔ وہ اپنی لائن اینڈ لینتھ ہی بھول گئے ۔ لیبو شائن اور ڈیوڈ وارنر نے پاکستانی بائولرز کا بھرکس نکال دیا۔ وارنر کی شاندار ٹرپل سنچری نے پاکستانی بائولنگ کا پول کھول کر رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوگیا کہ چیف سلیکٹر مصباح الحق کی سلیکشن کس حد تک درست تھی؟ اور کیا انہوں نے ناتجربہ کار بائولرز پر انحصار کرکے اچھا کیا؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ڈومیسٹک میں اچھا پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کو منتخب کیا جاتا۔ عابد علی جیسے اچھے بلے باز کو بینچ پر بٹھاکر ضائع کیا جارہا ہے اور چلے ہوئے کارتوسوں کو بار بار آزمایا جارہا ہے ۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں اگر امام الحق کی جگہ عابد علی کو موقع دیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا لیکن نہ جانے ٹیم انتظامیہ کیا سوچتی ہے اور تنقید کے بعد ہی فیصلے کرتی ہے ۔ محمد موسیٰ کی کارکردگی اتنی بھی متاثر کن نہیں تھی کہ اسے ٹیسٹ کیلئے منتخب کرلیا جاتالیکن نہ جانے کیاسوچ کر انہیں موقع دے دیا گیا اور کئی دوسرے ڈومیسٹک کے کھلاڑیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ دونوں ٹیسٹ میچز میں اگر کسی کی بیٹنگ بلے بازوں کیلئے مشعل راہ ہے تو وہ یاسر شاہ کی بیٹنگ ہے کہ جس طرح انہوں نے مشکل حالات میں بیٹنگ کرکے بتا دیا کہ لمبی اننگز کس طرح کھیلی جاسکتی ہے ۔ ہماری بیٹنگ لائن میں تسلسل نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے ایک کھلاڑی پہلی اننگز میں سنچری بنالیتا ہے تو دوسری اننگز میں صفر پر آئوٹ ہوجاتا ہے ۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں فالوآن کی وجہ بھی کھلاڑیوں کی فلیٹ وکٹ پر اپنی غلطیوں سے آئوٹ ہونا ہی تھی ۔ رمیض راجہ نے درست کہا کہ اگر ہارنا ہی ہے تو اتنی کمزور ٹیم آئندہ آسٹریلیا لے کر نہ جائی جائے ۔ٹی ٹوئنٹی کے بعد دونوں ٹیسٹ میچز میں شکست سے ثابت ہوگیا کہ فیصلوں میں غلطیاں اور ناقص حکمت عملی ہمیں مسلسل لے ڈوب رہی ہے ۔ خاکم بدہن یہ نہ ہو کہ کرکٹ کا حال بھی ہاکی جیسا ہوجائے ۔ اس لئے فوری طور پر کمز وریوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بہترین بلے باز تیار کرنا ہوں گے ۔ اور فاسٹ بائولرز کی کھیپ بھی ڈھونڈنی ہوگی۔ دورہ آسٹریلیا سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھنے کا وقت گزر گیا۔ اتنی بھاری تنخواہوں پر رکھے گئے کوچز نے اگر یہی رزلٹ دینا ہے تو کوئی فائدہ نہیں ان کوچز کا۔ انہیں خدا حافظ کہیئے۔

ٹیسٹ ڈیبیو کرنیوالے ۔۔نسیم شاہ اور محمد موسی

دورہ آسٹریلیا میں دو نئے کھلاڑیوں کا ڈیبیو ہوا جن میں ایک 16سالہ نسیم شاہ تھے اور دوسرے محمد موسیٰ۔نسیم شاہ کا تعلق دیر سے ہے ۔ ان کے والد تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ نسیم شاہ کو کرکٹ کھیلنے سے منع کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اپنی پڑھائی پر توجہ دو لیکن کرکٹ ان کا شوق تھا۔ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلنے والے نسیم اپنے علاقے میں بہترین تیز بائولر مشہور تھے ۔ نسیم شاہ کرکٹ کھیلنے کیلئے لاہور جانے کے خواہشمند تھے، لیکن ان کے والد جانے نہیں دے رہے تھے۔ ان کے والد کے دوستوں نے جب ان کی بائولنگ دیکھی تو انہوں نے نسیم شاہ کے والد سے سفارش کی کہ اسے مزید کرکٹ کھیلنے کیلئے لاہور بھیج دیا جائے ۔ آخر وہ رضا مند ہوگئے اور اس طرح ان کا لاہور میں آنا ممکن ہوا جہاں انہیں عبدالقادر مرحوم کی اکیڈمی میں داخلہ مل گیا۔ عبدالقادر نے نسیم شاہ کی بائولنگ دیکھی تو کہہ اٹھے کہ یہ لڑکا ایک دن قومی ٹیم میں جائے گا۔ اور ایک دن یہ بات سچ ثابت ہوگئی جب برسبین میں نسیم شاہ کا ڈیبیو ہوا۔ قومی ٹیم میں آنے سے قبل انہوں نے زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ۔ اس کے علاوہ وہ انڈر19 ٹیم کا حصہ بھی رہے ۔فرسٹ کلا س کے8 میچز میں وہ 28وکٹیں لے چکے ہیں ۔ برسبین کے پہلے ٹیسٹ میچ میں وہ صرف ایک وکٹ لے سکے اور وہ تھی ڈیوڈ وارنر کی ۔ 

دوسرے اہم کھلاڑی محمد موسیٰ ہیں جنہوں نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ڈیبیو کیا۔ ان کا تعلق چترال سے ہے لیکن اب اسلام آباد میں رہتے ہیں ۔ ان کے والد ایک مستری کا کام کرتے رہے ہیں ۔ محمد موسیٰ پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی وجہ سے منظر عام پرآئے ۔ انہیں انڈر19کھیلنے کا بھی موقع مل چکا تھا۔ایشیا کپ انڈر19 میں ٹاپ بائولر رہے ۔پی ایس ایل میں لانے کا سہرا وسیم اکرم اور مصباح الحق کے سر جاتا ہے ۔ شعیب اختر ان کے پسندیدہ بائولر ہیں۔فرسٹ کلاس میں وہ ناردرن کی طرف سے کھیلتے ہیں ۔نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے انہیں دورہ آسٹریلیا میں شامل کیا گیا۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں انہوں نے20 اوورز کرائے لیکن بدقسمتی سے کوئی وکٹ نہ لے سکے ۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

2019میں کھیل کے میدانوں میں کیا ہوا ، کون نمبرون رہا ، کس کو شکست ہوئی ، یہ سب کچھ جاننے کیلئے پورے سال کے کھیل کے کیلنڈر کو کھنگالنا پڑے گا۔ ...

مزید پڑھیں

ایک کرکٹر جب ایمپائر بنتا ہے توکچھ عرصے کے لئے اسے بڑی دلچسپ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اکثر سوچتا ہے کہ کبھی وہ دن تھے کہ بلے باز ا ...

مزید پڑھیں

کرکٹ کا میدان ہو یا گلوکاری کا، پاکستان کے غیر مسلم افراد نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی زبردست صلاحیتوں کی بدولت شہرت بھی حا ...

مزید پڑھیں