☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
ٹائی ہونیوالے ٹیسٹ میچز

ٹائی ہونیوالے ٹیسٹ میچز

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

02-02-2020

شائد بہت سے کرکٹ شائقین کو اس حقیقت کا علم نہ ہو کہ ٹیسٹ میچ بھی ٹائی ہوتے ہیں۔ ایک روزہ میچ کی تاریخ پڑھی جائے تو متعدد مثالیں مل جاتی ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ؟ اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتا کہ پانچ روزہ میچ بھی ٹائی ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ تاریخ میں صرف دو ایسے ٹیسٹ میچ ملتے ہیں جو ٹائی ہوئے۔ٹائی ٹیسٹ میچ کیا ہوتا ہے؟ جو ٹیم آخری اننگز کھیلے اور اس کے سامنے جیتنے کیلئے ایک ہدف ہو، وہ اس ہدف تک نہ پہنچ سکے یعنی جیت نہ سکے او ر اتنے ہی سکور پر آئوٹ ہو جائے جتنے پر مخالف ٹیم آئوٹ ہوئی ہو، یا پھر دوسری اننگز میں چاہے سارے کھلاڑی آئوٹ نہ بھی ہوں لیکن سکور برابر ہو جائے تو ایسے ٹیسٹ میچ کو ٹائی کہا جاتا ہے۔ چونکہ دوسری اننگز میں بلے بازی کرنے والی ٹیم یا تو ہار جاتی ہے اور یا ہدف پورا کرکے فتح کا جشن مناتی ہے، میچ ٹائی ہونے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں لیکن یہ کرکٹ ہے اور اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
 

 

اس حقیقت کا تذکرہ بہت ضروری ہے کہ 1877 ء سے لیکر اب تک 2000 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے ہیں لیکن ٹائی ہونے والے میچز کی تعداد صرف 2ہے۔ یہ دونوں میچ اگرچہ سست رفتاری سے کھیلے گئے لیکن اس کے باوجود شائقین نے ان میچز سے بہت محفوظ ہوئے۔ پرانے دور میں کرکٹ میچز اگرچہ سست رفتاری سے کھیلے جاتے تھے لیکن لوگوں کی دلچسپی میں کمی واقع نہ ہوئی۔ اس وقت کے شائقین تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب ٹیسٹ کرکٹ بہت تیز ہو جائے گی۔ ایک روزہ اور ٹی 20 میچز کرکٹ کی شکل ہی تبدیل کر دیں گے۔ پھر آہستہ آہستہ شائقین نے بھی اس خواہش کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کو تھوڑا سا تیز کیاجائے تاکہ جوش و خروش اور سنسنی پیدا ہو۔
اب ہم تاریخ کے پہلے ٹائی ہونیوالے ٹیسٹ میچ کی تفصیلات بیان کریں گے ۔ یہ میچ 9 دسمبر سے 14 دسمبر 1960ء کو آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے درمیان برسبین (آسٹریلیا) میں کھیلا گیا۔ پہلے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ارکان پر ایک نظر ڈالتے ہیں، یہ کھلاڑی تھے ایف ایم ایم وورل (کپتان) سی سی نہٹے، سی ڈبلیو سمتھ، آر بی کہنائی، جی ایس سوبرز، جے ایس سولومون، پ ڈی یشلے، ایف سی ایم الیگزینڈر، ایس رام دین، ڈبلیو ڈبلیو ہال اور الونٹیائن،آسٹریلیا کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، رچی بینو (کپتان) سی سی میکڈونلڈ ، آر بی سمپن، آر این ہاروے، این سی ایل او نیل، ایل ای نیویل، کے ڈی ماسکے، اے کے ڈیوائن، اے آئی ڈبلیو گراوٹ، آئی پکیفاور ایل ایف کلائن۔
ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ سی سی نیٹے اور سی ڈبلوی سمتھ نے افتتاحی بلے بازوں کی حیثیت سے بالترتیب 24 اور 7 رنز بنائے۔ انہیں ڈیوڈسن نے آئوٹ کیا۔ اب ویسٹ انڈیز کے منجھے ہوئے کھلاڑی روہن کہنائی آئے لیکن وہ بھی زیادہ مزاحمت نہ کر سکے اور 15 رنز بنا کر ڈیوڈسن کی بائولنگ پر گراڈٹ کے ہاتھ کیچ آئوٹ ہو گئے۔ ویسٹ انڈیز کے تین اہم کھلاڑی بہت کم سکور پر آئوٹ ہو چکے تھے۔ اس موقع پر گیرمی سویر تر نے آ کر ٹیم کو سنبھالا دیا۔ اس عظیم کھلاڑی نے 174 گیندوں پر 132 رنز بنائے اور کلائن کی گیند پر میکف کی گیند پر آئوٹ ہو گئے۔ ان کا ساتھ کپتان وورل نے دیا اور 65 رنز بنائے۔ سولومون نے بھی اچھی بلے بازی کرتے ہوئے 65 رنز بنائے۔ لاشلے نے 19 رنز بنائے اور پھر الگزینڈر نے 60 رنز کی خوبصورت اننگز کھیلی۔ اگرچہ وہ بہت سست رفتاری سے کھیلے لیکن ان کے یہ رنز ٹیم کے لیے بہت قیمتی ثابت ہوئے۔ ویسلے ہال نے بھی 50 رنز بنا ڈالے، جبکہ ویلنٹائن صفر پر ناٹ آئوٹ رہے۔ یوں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 453 رنز پر آئوٹ ہو گئی۔ یہ زبردست کارکردگی تھی۔ یہ خیال کرنا مشکل تھا کہ جس ٹیم کے تین ابتدائی بلے باز اتنے کم رنز پر پویلین لوٹ چکے ہوں وہ ٹیم 453 رنز بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈسن نے پانچ، میکف نے ایک بوبی سمسپن نے ایک اور کلائن نے 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔ کپتان رچی بینو جو کہ ایک عمدہ لیگ سپنر تھے، کوئی وکٹ نہ حاصل کر سکے۔
جب آسٹریلیا نے پہلی اننگز شروع کی تو عام خیال یہی تھا کہ آسٹریلوی بلے باز دبائو میں کھیلیں گے کیونکہ 453 رنز تک پہنچنا بہر حال آسان کام نہیں تھا۔ لیکن آسٹریلوی بلے بازوں نے کمال کر دکھایا۔ انہوں نے 453 رنز کے جواب میں 505 رنز بنا ڈالے اور یوں 62 رنز کی برتری حاصل کی۔ آسٹریلیا کی طرف سے میکڈونلڈ نے 57 اور بوبی سمسپن نے 92 رنز بنا کر مضبوط بنیاد رکھ دی۔ اس کے بعد ہاروے نے 15 رنز بنائے اور پھر اونیل نے 181 رنز بنا کر یہ بتا دیا کہ وہ دبائو میں آنے والے نہیں۔ اعتماد کی دولت سے مالا مال آسٹریلوی بلے بازوں نے خوبصورت کھیل جاری رکھا۔ فیول نے 35، ڈیوڈسن نے 44، رچی ہیٹو نے 10 ، کرائوٹ نے 4، میکف نے 4 اور کلائن نے 3 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کے بلے باز بھی سست رفتاری سے کھیلے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اس زمانے کی کرکٹ بہت سست تھی۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے ویسلے ہال نے 4، گیری سویرز نے 2، ویلنٹائن نے ایک اور رام دین نے بھی ایک وکٹ حاصل کی۔ ویسلے ہال اس دور کے بہترین برق رفتار بائولر تھے، لیکن انہیں بھی چار وکٹوں کے لیے 140 رنز دینے پڑے۔
ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز شروع کی تو پوری ٹیم 284 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔ سب سے زیادہ رنز کپتان وورل نے بنائے۔ ان کے 65 رنز کے علاوہ روہن کہنائی نے 54،اور سلومون نے 47رنز بنائے۔گیری سوبرز کو ڈیو ڈسن نے 14رنز پر کلین بولڈ کر دیا۔اوپنر سی سی نہٹے کو ما کے نے 39رنز کے انفرادی سکور پر بوبی سمسپن کے ہاتھوں کیچ آئوٹ کرا دیا۔
ڈیوڈسن نے دوسری اننگز میں بھی شاندار بائولنگ کا مظاہرہ کیا اور ویسٹ انڈیز کے چھ کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ ماکے نے ایک ،رچی بینو نے ایک اور بوبی سمپسن نے بھی نپی تلی بائولنگ کی اور ویسٹ انڈیز کے باقی کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا۔اب آسٹریلیا کو چوتھی اننگز کھیلنا تھی اور اسے فتح کے لیے 233رنز درکار تھے۔ لیکن اس بار ویسٹ انڈیز کے بائولرز نے بھی عہد کر رکھا تھا کہ وہ آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر نہیں کھیلنے دیں گے۔آسٹریلوی کے ابتدائی بلے باز جلدی آئوٹ ہو گئے۔پھر ڈیوڈسن اور کپتان رچی بینیو نے ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے بالترتیب 80اور 52رنز بنائے۔اس موقع پر آسٹریلیا کے دو بلے باز رن آئوٹ ہوگئے۔یہ ذہنی دبائو کا نتیجہ تھا ۔لگ یہ رہا تھا کہ آسٹریلیا ایک یا دو وکٹوں سے یہ میچ جیت جائے گالیکن ویسٹ انڈیز کے بائولرز اور فیلڈرز نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور یہ میچ جووہ ہار سکتے تھے،ٹائی کردیا۔آسٹریلیا کی پوری ٹیم 232رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔
وسیلے ہال نے ڈیوڈسن کی طرح دوسری اننگز میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور 63رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا ۔وورل اور رام دین نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔گیری سوبرز اگرچہ کوئی وکٹ نہ لے سکے لیکن انہوں نے بڑی نپی تلی بائولنگ کی اور آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر نہیں کھیلنے دیا۔ ٹائی ہونے والے اس پہلے ٹیسٹ میچ کے امپائر کول ہوئے اور کول ایگر تھے ۔ کیمی سمتھ اور پیٹر لاشلے کا یہ پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔
اب ہم ٹائی ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کا ذکر کرتے ہیں ۔ یہ بھی ایک یادگار ٹیسٹ میچ تھا جو 18 ستمبر 1986 ء سے 22 ستمبر تک چنائی میں کھیلا گیا۔ اب ہم آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کا ذکر کررہے ہیں جنہوں نے یہ میچ کھیلا وہ ڈین جونز ، زوہیر میکڈرمٹ ، ڈیوڈ بون ، جی آرمارش ، اے برائٹ ، ایلن بارڈر ، گریگ رچی ، بی اے ریڈ ، جی آر جی میتھوئس اور سٹیووا ، سٹیووا اس وقت بلے بازی کے ساتھ ساتھ بائولنگ بھی کروا لیتے تھے ۔ بھارت کی ٹیم میں یہ کھلاڑی شامل تھے ۔ کپل دیو ( کپتان) ، سنیل گواسکر ، روی شاستری، سی ایس پنڈٹ ، کرن مورے ، مہندرا امرناتھ، ایم اظہر الدین ، سری کانت ، چیتن شرما ، این ایس یادیو اور منتدر سنگھ۔
آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بلے بازی کا فیصلہ کیا اور پہلی اننگز میں رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ کینگروز نے 7 وکٹوں پر 574 رنز بنا کر اننگز ڈیکلئر کر دی، ڈیون بون نے 122، ڈین جونز نے 210، ایلن بارڈر نے 106 اور میتھوئس نے 44 رنز بنائے، یادیو نے 4 جبکہ شاستری اور شرما نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ کپتان کپل دیو کو کوئی وکٹ نہ مل سکی۔ منندر سنگھ نے 135رنز دیئے لیکن کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ بھارت نے اننگز شروع کی اور پوری ٹیم 397رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ سب سے زیادہ رنز کپتان کپل دیو نے بنائے۔ انہوں نے 119رنز بنائے وہ وکٹ تو کوئی حاصل نہ کر سکے لیکن بلے بازی میں انہوں نے دھاک جما دی۔ ان کے علاوہ سری کانت نے 53، ایم اظہر الدین نے 50، روی شاسری نے 62اور پنڈت نے 35رنز بنائے۔ آسٹریلیا کی طرف سے میتھوئس نے پانچ اور برائٹ نے دو وکٹیں اپنے نام کیں۔ سٹیووا اور بی اے ریڈ کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔ آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹوں پر 170رنز بنا کر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ سب سے زیادہ رنز ڈیوڈ بون کے تھے جو 49رنز بنا کر منندر سنگھ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ منندر سنگھ نے تین اور روی شاستری نے دو وکٹیں اپنے نام کیں۔ اب بھارت چوتھی اننگز کھیلنے کے لئے میدان میں اترا۔ اسے جیتنے کیلئے 348رنز کی ضرورت تھی۔ بہت سے کرکٹ کے پنڈتوں کا خیال تھا کہ بھارت یہ ہدف حاصل کر سکتا ہے کیونکہ ریکارڈ کے مطابق بھارتی ٹیم چوتھی اننگز میں بڑے اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن دوسری طرف یہ خیال کیاجا رہا تھا کہ آسٹریلیا بھارت کو یہ ہدف حاصل نہیں کرنے دے گا۔
بھارت نے دوسری اننگز کا آغاز بڑے پراعتماد طریقے سے کیا۔ سنیل گواسکر اور سری کانت نے اپنی ٹیم کو بہت اچھا آغاز فراہم کیا۔ انہوں نے بالترتیب 90 اور 39رنز بنائے۔ اس کے بعد مہندر امرناتھ نے 51اور ایم اظہر الدین نے 42رنز بنا کر بھارت کی فتح کی شمع جلائی۔ سی ایس پنڈت نے 39رنز جوڑے، لیکن کپل دیو صرف ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ اس موقع پر یوں لگا کہ آسٹریلیا کا پلڑا بھاری ہے لیکن پھر روی شاستری اورچیتن شرما آسٹریلوی باؤلنگ کے سامنے ڈٹ گئے۔ انہوں نے بالترتیب 48اور 23رنز بنا کر میچ کا رُخ بھارت کی جانب موڑ دیا۔ آسٹریلوی ٹیم کو ایسا لگا جیسے شکست کی دیوی ان کے سر پر کھڑی ہے لیکن کرن مورے صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہو گئے، یادیو جو بہت اچھا کھیل رہے تھے، آٹھ رنز بنا کر برائٹ کی باؤلنگ کا شکار ہو گئے جبکہ منندر سنگھ صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ اُس وقت بھارت کا سکور 347رنز ہو چکا تھا اور اسے میچ جیتنے کے لئے صرف ایک رن کی ضرورت تھی لیکن پوری ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی۔ اگر منندر سنگھ اور یادیو صرف ایک اوور اور وکٹ پر کھڑے رہتے تو ایک رن بنایا جا سکتا تھا لیکن اعصاب کی جنگ تھی۔ آسٹریلوی باؤلرز اور فیلڈرز نے آخری اوورز میں ہمت نہیں ہاری اور مسلسل میچ جیتنے کی کوشش کرتے رہے۔ دوسری جانب بھارت بھی اس میچ میں فتح کیلئے سرتوڑ کوشش کر رہا تھا۔
کرکٹ شائقین سانسیں روک کے بیٹھے تھے کہ میچ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ قریباً طے ہو چکا تھا کہ دونوں میں سے ایک ٹیم بالآخر فتح حاصل کر لے گی لیکن بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جن کی یہ سوچ تھی کہ یہ میچ ٹائی ہو جائے گا۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، 26سال بعد یہ کرکٹ ٹیسٹ بھی ٹائی ہو گیا۔ میتھوئس نے ایک بار پھر پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ اے برائٹ بھی پانچ وکٹیں اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔ باقی کسی آسٹریلوی باؤلر کو کوئی وکٹ نہ مل سکی۔ اس میچ کے بعد بھارت اور آسٹریلیا کی سیریز 0-0 سے برابر ہو گئی۔ اس یادگار ٹیسٹ میچ کے امپائر وی وکرم راجو اور راجہ دوتی والا تھے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ 1986-87 تک غیر جانبدار امپائرز کا تقرر نہیں ہوا تھا۔ غیر جانبدار امپائرز 1989میں متعارف کرائے گئے اور اس کے لئے عمران خان نے اہم کردار ادا کیاتھا۔
اس سیریز کے بعد پاکستان کی ٹیم بھارت گئی جہاں انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی اور پھر بنگلور ٹیسٹ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ ایک ٹیسٹ میچ 1960میں ٹائی ہوا اور دوسرا 1986میں۔ 26برس کے بعد یہ معجزہ دوبارہ رونما ہوا۔ اب کرکٹ شائقین منتظر ہیں کہ یہ معجزہ تیسری بار کب رونما ہوتا ہے؟ ون ڈے اور ٹی 20میچز اگر ٹائی ہو جائیں تو شاید اتنی حیرت نہیں ہوتی لیکن ٹیسٹ میچ ٹائی ہونا ناقابل یقین واقعات میں سے ہے۔ جن کرکٹر زنے ان دو میچوں میں حصہ لیا ان کے لئے بھی یہ ناقابلِ فراموش میچز تھے۔ اُن کے لئے یہ اعصاب شکن مقابلے تھے لیکن پھر یہی میچز نہ صرف ان کے لئے بلکہ کرکٹ کی تاریخ میں بھی ہمیشہ کیلئے درج ہو گئے۔ دیکھیں ا ب کن کھلاڑیوں کو ایسے مشکل لمحات میں سے گزرنا پڑتا ہے

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں