☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)
1992 ،کرکٹ ورلڈ کپ کی حسین یادیں

1992 ،کرکٹ ورلڈ کپ کی حسین یادیں

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

02-09-2020

 یہ ایک حقیقت ہے کہ 1992ء سے پہلے پاکستانی ٹیم کے پاس دو ایسے مواقع آئے جن کا مناسب طور پر فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔ کرکٹ کے کچھ نقاد اسے بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہیں لیکن جہاں ہم نے غلطیاں کیں انہیں بھی تسلیم کرنا چاہیے۔
 

 

آپ 1975ء کا ورلڈ کپ لے لیجئے جو کرکٹ کا پہلا ورلڈ کپ تھا اور یہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں پاکستان کے پاس ماجد خان، ظہیر عباس، آصف اقبال، مشتاق محمد، وسیم راجہ اور سرفراز نواز جیسے کرکٹرز شامل تھے۔ اس زمانے میں 60 اوورز کا میچ ہوتا تھا اور کرکٹ بھی اتنی تیز نہیں تھی جو ٹیم 60 اوورز میں 250 رنز بنا لیتی تھی تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس ٹیم نے 50 فیصد میچ جیت لیا ہے۔ پاکستان کا ایک اہم میچ ویسٹ انڈیز سے ہوا تھا جو حیران کن طور پر پاکستان ہار گیا۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے 9 کھلاڑی آئوٹ کر دیئے تھے اور ویسٹ انڈیز کو فتح حاصل کرنے کیلئے 63 رنز کی ضرورت تھی لیکن افسوس پاکستانی بائولرز پورے میچ میں شاندار بائولنگ کرنے کے باوجود ویسٹ انڈیز کی آخری وکٹ حاصل نہ کر سکے اور ویسٹ انڈیز یہ میچ ایک وکٹ سے جیت گیا۔ 

1979ء کے ورلڈ کپ میں بھی یہی ہوا۔ ماجد خان اور ظہیر عباس نے فتح کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن بعد میں آنے والے بلے بازوں نے سخت مایوس کیا اور یہ میچ بھی پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ 1983ء میں کپتان عمران خان زخمی تھے انہوں نے ٹیم کی کپتانی تو کی لیکن زخمی ہونے کے باعث وہ بائولنگ نہیں کروا سکتے تھے اس وقت عمران خان اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور ان کی بائولنگ بھی قابل دید تھی۔ رفتار کے ساتھ ساتھ ان کی سوئنگ بائولنگ اور یارکرز بھی بڑے خطرناک تھے۔ لیکن وہ اس ٹورنامنٹ میں صرف، بلے باز کی حیثیت سے کھیلے۔ اگرچہ انہوں نے بلے بازی بہت اچھی کی اور ایک سنچری بھی بنائی لیکن ان جیسے بائولرز کی عدم دستیابی سے پاکستان ٹیم کو بہت نقصان پہنچا ۔ ان کا سیمی فائنل پھر ویسٹ انڈیز سے ہوا جس میں پاکستان کو شکست ہوئی۔ 
1987ء کا ریلائنٹس ورلڈ کپ پاکستان اور بھارت میں ہوا یہ پہلا ورلڈ کپ تھا جس میں پاکستان کو شروع سے ہی فیورٹ قرار دیا گیا۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم بہت اچھے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جن میں کپتان عمران خان، وسیم اکرم، رمیض راجہ، منصور اختر، سلیم یوسف، عبدالقادر اور جاوید میاں داد جیسے کھلاڑی شامل تھے۔ یہ ٹیم مسلسل جیت رہی تھی۔ ادھر بھارت کی ٹیم بھی بہت فارم میں تھی پاکستانی ٹیم کا اعتماد آسمان کو چھو رہا تھا کیونکہ یہ ٹیم بھارت کو بھارت میں اور انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرا چکی تھی آسٹریلیا کی ٹیم نسبتاً نئے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی لیکن ان میں بلا کا اعتماد تھا پھر یوں ہوا کہ سیمی فائنل میں پاکستان کے مقابل آسٹریلیا آ گیا۔ 
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان جیسی مضبوط ٹیم آسٹریلیا کی نسبتاً کمزور ٹیم سے ہار جائے گا۔ پاکستانی شائقین ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے کہ پاکستان اس بار ورلڈ کپ جیت جائے گا۔ عمران خان نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اس ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ ورلڈ کپ جیتنے کے سب خواب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب آسٹریلیا نے پاکستان کو ہرا دیا۔ ابھی تک اس شکست کو قوم بھلا نہیں پائی۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ منصور اختر اور سلیم جعفر شکست کے ذمہ دار ہیں اور پھر ڈکی برڈ کا عمران خان کو کیچ آئوٹ دینا بھی غلط تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منصور اختر کو اس ٹیم میں کیوں شامل کیا گیا اور پھر سلیم جعفر کو آخری اوور کیوں دیا گیا جس نے ایک اوور میں 18 رنز دے دیئے۔ میاں داد اتنا سست کیوں کھیلے کہ عمران خان نے انہیں تیز کھیلنے کی ہدایت کی چلئے ڈکی برڈ کا فیصلہ تو انسانی غلطی تھا لیکن جو غلطیاں آپ نے کیں کیا اسے بھی بدقسمتی قرار دیا جا سکتا ہے؟
اس سیمی فائنل کی شکست سے کتنے دل ٹوٹے، ان کا کوئی شمار نہیں، کروڑوں کرکٹ شائقین مایوسی کے سمندر میں ڈوب گئے۔ عمران خان نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے لیا اور ایک بار پھر قومی کرکٹ ٹیم کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے میدان میں آ گئے۔ 1992ء کے ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں کئی فتوحات سیمٹیں جن میں شارجہ کپ، اور نہرو کپ میں فتح ناقابل فراموش ہے۔ 1989ء میں وقار یونس بھی ٹیم کا حصہ بن چکے تھے اور انہوں نے دو برس کے اندر ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ 1992ء کے ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کو یہ نقصان ہوا کہ وقار یونس ان فٹ ہو گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وقار یونس فٹ ہوتے تو پاکستان کیلئے فتوحات آسان ہو جائیں۔ وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی بڑی زیردست تھی اور اس وقت وقار یونس جوان بھی تھے اور بڑی خطرناک سوئنگ بائولنگ کرا رہے تھے۔ لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں کئی نئے اور ناتجربہ کار کھلاڑی شامل تھے جن میں عامر سہیل، انضمام الحق، وسیم حیدر، اقبال سکندر اور زاہد فضل جیسے کھلاڑی تھے۔ پاکستان کو ابتداء ہی میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، پہلے ویسٹ انڈیز سے یہ ٹیم ہاری، زمبابوے سے جیتی ، پھر بھارت سے بھی شکست ہوئی، جنوبی افریقہ ایک طویل عرصے بعد عالمی کرکٹ میں واپس آئی تھی اس نے آتے ساتھ ہی تہلکہ مچا دیا۔ ان کے کھلاڑیوں کی فٹنس کمال کی تھی۔ لگتا تھا کہ یہ سب اتھلیٹ ہیں، جونٹی روڈز جیسا فیلڈر ان کے پاس موجود تھا جس کا کوئی جواب نہ تھا۔
پاکستان سے جنوبی افریقہ کا میچ بارش سے متاثر ہوا جس کا نقصان پاکستان کو ہوا۔ پاکستان کو آٹھ رنز کی اوسط سے رنز بنانا پڑے جو اس زمانے میں اتنا آسان کام نہ تھا۔ پھر بھی پاکستانی بلے بازوں نے بھرپور کوشش کی کہ ہدف کو پورا کیا جائے۔ انضمام الحق بہت اچھا کھیل رہے تھے لیکن جونٹی روڈز نے ان کو نا قابل یقین رن آئوٹ کردیا ۔ اس رن آئوٹ کو اب بھی تاریخ کرکٹ کے عظیم ترین رن آئوٹ میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میچ میں شکست کے بعد مایوسی کے بادل چھا گئے۔ کرکٹ شائقین کی رائے میں یہ ورلڈ کپ کی کمزور ترین ٹیموں میں سے ایک ٹیم تھی جس کے ورلڈ کپ جیتنے کے کوئی امکانات نہیں تھے۔ پھر پاکستان انگلینڈ اور بھارت سے بھی ہار گیا۔ انگلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم صرف 75 رنز پر آئوٹ ہو گئی۔ کپل دیو اب بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ جس ٹیم نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا اسے انہوں نے لیگ میچ میں ہرا دیا تھا۔ لیکن کوئی اس بات پر یقین کرنے پر تیار نہیں تھا ادھر انگلینڈ مسلسل فتوحات حاصل کر رہا تھا اس کی ٹیم میں بڑے شاندار کھلاڑی موجود تھے۔ دوسرے گروپ میں نیوزی لینڈ مسلسل جیت رہا تھا کوئی ٹیم اسے شکست نہ دے سکی۔
اب کپتان عمران خان نے فرنٹ سے لیڈ کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان نے سری لنکا اور آسٹریلیا کو شکست دے دی، ممتاز آسٹریلوی تبصرہ نگار رچی بینو نے کہا کہ عمران خان نے اپنی ٹیم میں نئی روح پھونک دی ہے اور اس ٹیم کے حوصلے پھر جوان ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لیگ میچ بارش کے باعث منسوخ ہو گیا تھا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا تھا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان سیمی فائنل تک کیسے رسائی حاصل کرے؟ اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ پاکستان نیوزی لینڈ کو لیگ میچ میں شکست دے اور آسٹریلیا ویسٹ انڈیز کو ہرائے تو پھر پاکستان سیمی فائنل کھیل سکتا ہے۔ پوری پاکستانی قوم اپنی ٹیم کی کامیابی کیلئے دعائیں مانگ رہی تھی۔ پھر قدرت نے کمالات دکھائے، پاکستان نے لیگ میچ میں نیوزی لینڈ کو باآسانی ہرا کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرلی۔ دنیائے کرکٹ کیلئے یہ ناقابل یقین خبر تھی وہ نیوزی لینڈ جسے شکست سے ہمکنار کرنا ایک خواب بن چکا تھا اسے جس انداز سے پاکستان نے ہرایا اس پر ویون رچرڈ بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ آسٹریلیا کے کپتان ایلن بارڈر کو جب نیوزی لینڈ کی شکست کی خبر ملی تو انہوں نے سر پیٹ لیا پاکستان کی فتح کے ساتھ آسٹریلیا ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا تھا اب آسٹریلیا کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے تھا توقع یہ کی جا رہی تھی کہ آسٹریلیا بے دلی سے کھیلے گا لیکن آسٹریلوی ٹیم نے پیشہ ور ہونے کا ثبوت دیا اور جاتے جاتے ویسٹ انڈیز کو ہرا دیا۔
اس کے بعد کیا ہوا؟ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان بارش کی وجہ سے جو میچ منسوخ ہوا تھا اس سے پاکستان کو ایک پوائنٹ ملا تھا اس پوائنٹ نے پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 
سیمی فائنل میں ایک بار پھر پاکستان کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہوا اس بار نیوزی لینڈ نے جو کھیل پیش کیا وہ حیران کن تھا۔ لگ رہا تھا کہ نیوزی لینڈ یہ سیمی فائنل اپنے نام کر لے گا۔ خاص طور پر نیوزی لینڈ کے کپتان مارٹن کرو کا کھیل اپنی مثال آپ تھا۔ پاکستانی بلے باز اچھا کھیل رہے تھے لیکن پھر ایک دم دبائو میں آ گئے اور کچھ کھلاڑی جلد آئوٹ ہو گئے پھر جاوید میاں داد اور انضمام الحق نے یادگار کھیل کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو فتح کے راستے پر ڈال دیا۔ خاص طور پر انضمام الحق نے جو سٹروکس کھیلے اس نے نیوزی لینڈ کے فیلڈر زکے اوسان خطا کر دیئے۔ انضمام الحق کی یہ بہترین اننگز تھی پاکستان کیویز کو ہرا کر فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوا۔
اس سے پہلے انگلینڈ جنوبی افریقہ کو سیمی فائنل میں ہرا چکا تھا لیکن جنوبی افریقہ کی شکست کی بڑی وجہ بارش تھی وگرنہ جنوبی افریقہ یہ میچ جیت رہا تھا۔ ان کے کھلاڑیوں کا جوش اور ولولہ یہ بتا رہا تھا کہ طویل عرصے کے بعد عالمی کرکٹ میں دوبارہ آنے والی یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کا تہیہ کئے بیٹھی ہے۔ لیکن یہاں قسمت کی دیوی جنوبی افریقہ پر مہربان نہ ہوئی اور بارش کے قانون نے جنوبی افریقہ کے مقدر میں ہار لکھ دی۔ اس شکست کے بعد پورے جنوبی افریقہ میں مایوس کی لہر دوڑ گئی۔ کھلاڑی اس قدر دل شکستہ تھے کہ ان سے بات تک نہیں ہو رہی تھی۔
کرکٹ کے عالمی مبصرین نے بھی جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں سے اظہار ہمدردی کیا اور ان کے جذبے کو سراہا لیکن ایک بات پر سب متفق نظر آئے کہ مستقبل میں جنوبی افریقہ دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک ہو گی اور یہ سب اندازے درست ثابت ہوئے۔ بھارت ، سری لنکا، زمبابوے، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی تھیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل ہارنے کے بعد جنوبی افریقہ بھی باہر ہو گیا۔ اب فائنل کے لئے دو ٹیمیں رہ گئیں انگلینڈ اور پاکستان ، ان دونوں ٹیموں کا فائنل 25 مارچ 1992ء کو میلبورن کرکٹ گرائونڈ میں ہوا جہاں 87,000 لوگوں نے یہ میچ دیکھا جو کہ ایک ریکارڈ تھا۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، رمیض راجہ اور عامر سہیل نے اننگز کا افتتاح کیا لیکن دونوں افتتاحی کھلاڑی جلد آئوٹ ہو گئے اس کے بعد عمران خان اور جاوید میاں داد نے میدان سنبھالا اور دونوں نے ٹیم کے سکور میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ عمران خان نے 70 اور جاوید میاں داد نے 58 رنز بنائے بعد میں وسیم اکرم اور انضمام الحق نے برق رفتاری سے بلے بازی کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعی سکور 249 تک پہنچا دیا۔ 
انگلینڈ نے جب اننگز کا آغاز کیا تو عام خیال یہ تھا کہ انگلینڈ پاکستان کو باآسانی ہرا دے گا کیونکہ ایک تو انگلینڈ کی ٹیم بہت مضبوط تھی اور دوسری دلیل یہ دی گئی کہ انگلینڈ نے لیگ میچ میں پاکستان کو 75 رنز پر آئوٹ کر دیا تھا۔ لیکن فائنل میں حالات کچھ اور تھے پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوئی۔ انگلینڈ کی ٹیم میں آئن بوتھم، گراہم گوچ، نیل فیئر برادر، ڈیرک پرنگل ، ایلن لیمب اور ایلک سٹیوورٹ جیسے تجربہ کار اور منجھے ہوئے کھلاڑی شامل تھے۔ انگلینڈ کی ٹیم کا آغاز اچھا نہ تھا وسیم اکرم اور عاقب جاوید نے اپنی سوئنگ بائولنگ سے جلد ہی آئن بوتھم اور گراہم ہک کو پیویلین واپس بھیج دیا۔ گراہم گوچ جم گئے لیکن وہ بھی آئوٹ ہو گئے۔ پھر ایلن لیمب اور ان کے ساتھی کھلاڑی بھی وسیم اکرم کی تباہ کن بائولنگ کا نشانہ بنے۔ دونوں کو وسیم اکرم نے ان سوئنگ بائولنگ سے آئوٹ کیا۔ وسیم اکرم کے اس سپیل کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وسیم اکرم کی وہ دو ڈلیوریز آج بھی دیکھنے کے قابل ہیں جن پر انہوں نے ایلن لیمب اور کرس لیوس کو بولڈ کیا تھا۔ بہرحال پھر پاکستان نے پہلی بار ورلڈ کپ جیت لیا اور اس کپ کی حسین یادیں لئے قومی ٹیم وطن واپس لوٹی۔ اس ورلڈ کپ کی کچھ یادگار باتیں ذیل میں بیان کی جا رہی ہیں۔
-1 پاکستان کا سیمی فائنل میں پہنچنا اور پھر فائنل جیت لینا کسی معجزے سے کم نہ تھا، لگتا تھا شائقین ایک سسپنس سے بھرپور فلم دیکھ رہے ہیں۔
-2 جنوبی افریقہ نے قریباً 22 برس بعد عالمی کرکٹ میں قدم رکھا اور اپنی قابلیت اور مہارت کا سکہ جما دیا۔ دنیائے کرکٹ نے جونٹی روڈز جیسا فیلڈر دیکھا جس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ 
-3 اس ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کا یونیفارم بدل دیا گیا اور سفید یونیفارم کی بجائے کھلاڑیوں نے رنگدار یونیفارم پہنااور سفید گیند کا استعمال کیا گیا۔
-4 آسٹریلیا کو اس ٹورنامنٹ میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ کپتان ایلن بارڈر پر سخت تنقید کی گئی۔ آسٹریلوی شائقین کا کہنا تھا کہ اب بوڑھے ایلن بارڈر کو کرکٹ کی جان چھوڑ دینی چاہیے۔
-5 بھارت بھی بری طرح ناکام ہوا ان کیلئے یہی خوشی کی بات تھی کہ انہوں نے پاکستان کو لیگ میچ میں ہرا دیا۔
-6 نیوزی لینڈ کے مارٹن کرو کو مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ پاکستان سے مسلسل دو شکستیں کھانے کے بعد وہ بہت افسردہ نظر آئے۔
-7 اس ورلڈ کپ کے بعد ہی انضمام الحق کا عروج شروع ہوا، وہ ترقی کرتے کرتے پاکستان کے کپتان بن گئے۔
-8 اس ورلڈ میں پہلی بار ایک گانا متعارف کرایا گیا جو بہت زیادہ مقبول ہوا اس کے بول تھے see who rule the world 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پرانے زمانے میں زندگی بڑی سادہ سی تھی ۔ جہاں دل کیا، چند لوگ بیٹھ کر خوش گپیوں میں مشغول ہو جاتے یا سڑک پر ہی لڈو ، تاش اور دوسرے اسی قسم کے کھیلوں کی منڈلی سجا لیتے۔    

مزید پڑھیں

شائد بہت سے کرکٹ شائقین کو اس حقیقت کا علم نہ ہو کہ ٹیسٹ میچ بھی ٹائی ہوتے ہیں۔ ایک روزہ میچ کی تاریخ پڑھی جائے تو متعدد مثالیں مل جاتی ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ؟ اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتا کہ پانچ روزہ میچ بھی ٹائی ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ تاریخ میں صرف دو ایسے ٹیسٹ میچ ملتے ہیں جو ٹائی ہوئے۔ٹائی ٹیسٹ میچ کیا ہوتا ہے؟ جو ٹیم آخری اننگز کھیلے اور اس کے سامنے جیتنے کیلئے ایک ہدف ہو، وہ اس ہدف تک نہ پہنچ سکے یعنی جیت نہ سکے او ر اتنے ہی سکور پر آئوٹ ہو جائے جتنے پر مخالف ٹیم آئوٹ ہوئی ہو، یا پھر دوسری اننگز میں چاہے سارے کھلاڑی آئوٹ نہ بھی ہوں لیکن سکور برابر ہو جائے تو ایسے ٹیسٹ میچ کو ٹائی کہا جاتا ہے۔ چونکہ دوسری اننگز میں بلے بازی کرنے والی ٹیم یا تو ہار جاتی ہے اور یا ہدف پورا کرکے فتح کا جشن مناتی ہے، میچ ٹائی ہونے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں لیکن یہ کرکٹ ہے اور اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔    

مزید پڑھیں

تاریخ کا پہلا کرکٹ ٹیسٹ 1877 میں میلبورن (آسٹریلیا) میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا۔ یہ میچ 15مارچ سے 19مارچ تک کھیلا گیا۔ یعنی پہلا ٹیسٹ میچ ہی پانچ روزہ تھا۔

مزید پڑھیں