☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(احمدعلی محمودی ) خصوصی رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(محمد سعید جاوید)
روایتی کھیل اب ختم ہونے جا رہے ہیں

روایتی کھیل اب ختم ہونے جا رہے ہیں

تحریر : محمد سعید جاوید

02-16-2020

پرانے زمانے میں زندگی بڑی سادہ سی تھی ۔ جہاں دل کیا، چند لوگ بیٹھ کر خوش گپیوں میں مشغول ہو جاتے یا سڑک پر ہی لڈو ، تاش اور دوسرے اسی قسم کے کھیلوں کی منڈلی سجا لیتے۔
 

 

کچھ تماشائی بن جاتے اور کھلاڑیوں کو مسلسل اپنے مشوروں سے فیض یاب کرتے رہتے تھے۔کئی بار تو یوں بھی ہوتا تھا کہ مدتوں سے بچھڑے ہوئے دو دوست رستے میں ملے ، پرانے داؤ پیچ یاد آگئے تو وہیں فٹ پاتھ پر کوئلے سے چند لکیریں لگائیں ، آس پاس بکھرے ہوئے کنکروں، لکڑی کے ٹکڑوں یا املی کے بیجوں کی گوٹیاں بنائیں اور کھیل شروع ہو جاتا تھا۔ لوگوں کے پاس وقت کافی تھا۔ کسی کے گھر شطرنج کی بازی لگ جاتی توپھر صبح تک لگی ہی رہتی ۔ اندر سے بیویوں کی چیخ و پکار کے باوجود کوئی بھی کھیل بیچ میں چھوڑنے کو آمادہ ہی نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک بجھے دل کے ساتھ اپنی مات قبول کرلیتا اورپھر وہ اس وقت تک ہارے ہوئے لشکر کے سپاہی کی طرح اپنے ’’دشمن‘‘سے شرمایا شرمایا سا پھرا کرتا تھا جب تک کہ وہ اس سے اپنی اس ہزیمت کا بدلہ نہ چکا لیتا۔ 
جھاڑ بندر:کراچی کے محلوں میں نیم، برگد، شیشم اور پیپل وغیرہ کے بے شمار درخت ہوا کرتے تھے ۔ لڑکے بالے ان پر پھدکتے پھرتے ، گھونسلوں سے کوئلوں اور کوئوں کے انڈے نکال پھینکتے تھے۔ جہاں دو چار لونڈے لپاڑے اکٹھے ہو جاتے تو جھاڑ بندر کھیل شروع ہو جاتا جس میں ایک لڑکے کو گلی کے پیچھے دوڑاکر باقی سب درخت پر چڑھ جاتے ، اور وہ بیچارہ زمین پر کھینچے گئے ایک دائرے میں ڈنڈا رکھ کر بندروں کی طرح اچھل اچھل کر ان کو پکڑنے کی کوشش کرتا۔ اس دوران کوئی بھی چپکے سے اتر کر دائرے میں سے ڈنڈا اٹھا لیتا ۔اگر کوئی پکڑا جاتا تو اگلی بار اس کی بھاگ دوڑ کرنے کی ذمہ داری آ جاتی تھی۔
گلی ڈنڈا :جو لڑکے بلوغت کے قدرے قریب ہوتے ، وہ گلی ڈنڈا کھیلتے تھے اور گلی کو ٹُل مار کر اس کے پیچھے چلتے چلے جاتے تھے۔ بعض دفعہ تو وہ بلا مبالغہ کئی کئی میل کا سفر طے کر آتے اور آئوٹ نہیں ہوتے تھے ۔ 
لٹو :لڑکوں کا ایک ٹولا ہاتھ میں لکڑی کے بنے ہوئی لٹو اٹھائے پھرتا تھا۔ جہاں ذرا سا مزاج کھیل کی طرف مائل ہوا ، لٹو کے اردگرد موٹی ڈوری لپیٹی اور پھر ایک خاص ادا سے گھما کر نیچے پھینک کر اس کی ڈوری کھینچ لی جاتی تھی اور وہ لٹو بڑی دیر تک وہاں گھومتا ہی رہتا جس کو دیکھ کر لوگ واہ واہ کرتے تھے ۔ لٹو پرچونکہ کئی رنگ چڑھائے ہوتے تھے اس لیے جب وہ گھومتا تو ایسے لگتا جیسے دھنک محو رقص ہے۔ ایک مقابلہ تو یہ بھی ہوتا تھا کہ کس کا لٹو زیادہ دیر تک چلتا ہے ۔ کچھ شوخ مگر تجربہ کاربچے زمین پر گھومتے ہوئی لٹو کو ایک خاص ادا سے دو انگلیوں پر اٹھاتے، پھر ہتھیلی پر منتقل کردیتے اور وہ بڑی دیر تک وہاں گھومتا رہتا تھا ۔ ایک دو تو اس کو اسی گردشی حالت میں بازو پر چڑھاتے ہوئے کاندھے تک لے جاتے اور پھر اسی روٹ سے واپس لا کر بڑے پیار سے زمین پر بٹھا دیتے تھے ، تب بھی وہ گھومتا ہی رہتا تھا ۔ 
 پٹھو گرم اور سٹاپو:ایک اور کھیل جو لڑکے لڑکیاں مل کر کھیلتے تھے تھے وہ پٹھو گرم ہوتا تھا ۔ پتھروں کے چپٹے اورہموار ٹکڑوں کو ایک ترتیب سے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر ایک ڈھیری سی بنا لی جاتی او ر جس کی باری ہوتی تھی وہ ربڑ کی گیند اس پر پھینک کر اسے گرانے کی کوشش کرتا تھا۔ جوں ہی وہ نیچے گر کر بکھر جاتی تو سارے بچے ادھر اُدھر بھاگ جاتے اور پھر جب کوئی بچہ اسے دوبارہ بنانے کی کوشش کرتا تودوسرے بچے بال سے اس کو مار مار کر بھاگنے پر مجبور کر دیتے۔ اس دوران کوئی دوسرا بچہ آکر ادھورا کام مکمل کرنے کی کوشش کرتا تو وہ نشانے پر آ جاتا۔ سب کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ کوئی ڈھیری مکمل نہ کرنے پائے۔ جو کر لیتا و ہی سکندر۔اگر کہیں صرف لڑکیاں ہی ہوتی تھیں تو ان کا محبوب کھیل گڈے گڈی کی شادی ہوتا تھا ، جس میں با قاعدہ بارات آتی تھی اور دلہن کی رخصتی ہوتی تھی۔ بعض دفعہ کوئی رنجش ہو جاتی تو دولہا والے بارات واپس لے جاتے یا دلہن والے انکار کردیتے اور ’’ نکاح ‘‘ سے پہلے ہی گڑیا اٹھا کر بھاگ جاتے۔ اس شادی میں باراتیوں کی باقاعدہ دعوت بھی ہوتی تھی۔ کچھ لڑکیاں کھلی جگہ پر لکیریں لگا کر ایک خاص ترتیب سے بڑے بڑے چوکورخانے بناتیں اور پھر ان پر اچھل کود کر تے ہوئے طے شدہ اصولوں کے مطابق ایک کھیل کھیلا کرتی تھیں،جسے غالباً سٹاپو کہا جاتا تھا اور یہ بچیوں کا بڑا ہی پسندیدہ کھیل تھا۔
 کنچے :گلی کے دو چار لڑکے مل کر بنٹے یا کنچے بھی کھیل لیا کرتے تھے۔ یہ اس وقت ایک روپے کے بتیس آجاتے تھے لیکن سوال یہ تھا کہ روپیہ ہوتا کس کے پاس تھا! اس کا واحد حل یہی تھا کہ اپنی فن کاری سے دوسرے بچوں سے کنچے ہتھیا لیے جائیں۔اس وقت بڑا مزہ آتا تھا جب دیوار کے ساتھ کھودے گئے ایک چھوٹے سے گڑھے میں شریک کھیل بچوں کے ۔ البتہ باقی سب کنچوںپر جو ادھر اُدھر بکھر جاتے تھے ، کھلاڑی باری باری اپنے ایک بڑے بنٹے سے تاک تاک کر نشانے لگاتے اور ایک ایک کر کے سب کا شکار کرتے۔ کبھی نشانہ نہ لگتا تو دوسرے فریق کی باری آجاتی تھی اوروہ یہی سب کچھ کرتا تھا ۔ذرا سے بے ضرر اور آوارگی پر مائل بچے’’ کچھ جمع‘‘ کرنے کی صرف ایک رسم نبھانے کی خاطر سڑکوں اور کچرے کے ڈھیروںسے سگریٹ کے مختلف خالی پیکٹ اٹھا کر نیکر اورقمیص کی جیبوں میں ٹھونس لیتے تھے۔ پھر جہاں بھی کسی نے انہیں مقابلے کے لیے للکارا ، وہ دونوںوہیں زمین پر ایک دائرہ کھینچ کر اس میں اپنے اپنے پیکٹ پھینکتے اور پھر پتھروںسے ان پر تاک کر نشانے لگاتے اور مار مار کر دشمن کے اثاثوں کود ائرے سے باہر نکال کران پر قبضہ کرنے کی کوششں کرتے تھے۔ مزے دار بات یہ تھی کہ خالی پیکٹوں کی بھی مختلف مالیت ہوتی تھی۔ سب سے مہنگے پیکٹ کیپسٹن اور تھری کیسل کے تصور کیے جاتے تھے جب کہ لالٹین اور قینچی کی سگریٹ کی ڈبیاں گئی گزری مانی جاتی تھیں ۔ایسے ہی بچوں کی ایک اور قسم بھی تھی جو سوڈا واٹر والے کی دوکان سے بوتلوں کے خالی ڈھکن اٹھا لاتے اور ان کو جیبوں میں ڈالے پھرتے اور ضرورت پڑتے ہی کسی مقابلے میں جھونک دیتے تھے۔
اب مشغلوں کی بات چل نکلی ہے تو بتاتا چلوں کہ بچوں کے شوق بھی عجیب ہوتے تھے۔ کوئی ڈاک کے ٹکٹ جمع کرتا اور اس مقصد کے لیے تیار کی گئی ایک خاص البم پر ان کو چپکا لیتا۔جب ایک ہی ملک اور مالیت کے ایک سے زیادہ ٹکٹ آ جاتے تو وہ اپنے کسی  ہم جماعت دوست سے ان کا تبادلہ کرکے اس سے وہ ٹکٹ لے لیتا تھا جو اس کے پاس اضافی ہوتے ۔استعمال شدہ ڈاک ٹکٹوں کا حصول بھی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا ۔ ابا سے ان کے سب دوستوں کوکہلوایا جاتا تھا کہ وہ ٹکٹوں والے لفافے ضائع نہ کریں ۔ دوسری طر ف ٹکٹ جمع کرنے والے بچے دفتروں میں مارے مارے پھرتے یا ڈاکیے کی منت سماجت کرتے کہ ڈاک میں آنے والے لفافوں پرسے ٹکٹ اتار کر ان کو دے دیں۔کسی بچے کو مختلف ممالک کے کرنسی نوٹ اور سکے جمع کرنے کی لت پڑ جاتی تھی ، لیکن اس کو پورا کرنے اور بسا اوقات مطلوبہ نوٹوں اور سکوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کچھ خرچ بھی کرنا پڑ جاتا تھا جواپنے ابا کی مالی معاونت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا تھا ۔مالی طور پر کمزور گھروں کے بچے یہ مہنگے چونچلے برداشت نہیں کر سکتے تھے تو وہ ذرا ہلکی پھلکی نوعیت کی چیزوں کا ذخیرہ کر لیتے تھے ۔ کچھ لڑکوں کو رنگ برنگی ماچسیں اکٹھا کر کے گھر کی کسی الماری میں ترتیب سے رکھنے کا شوق تھا ۔یہ ایسے کھیل تھے جن میں کسی کا کچھ مالی خسارہ نہیں ہوتا تھا اور ہر کوئی جیت یا ہار کر خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ جاتا تھا۔
 آپ سوچتے ہوں گے کہ دن تو ازل سے ہی ایک جیسے طویل ہیں، پھر بچے یہ سب کچھ کرنے کا وقت کیسے نکال لیتے تھے ۔ اس وقت کے والدین نہ صرف ان کے ساتھ تعاون کرتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور خودان کو باہر کھیلنے کے لیے بھیجتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے نہ صرف وہ جسمانی طور پر مضبوط رہیں گے بلکہ ان میں بلا کا اعتماد بھی آئے گا۔ تاہم کسی بھی بچے کو مغرب کے بعد گھر سے باہر رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ رات کو کچھ دیرپڑھائی، اور بس۔ بعد میں رفتہ رفتہ بچوں کی دیگر مصروفیات بڑھتی گئیں اور کھیل کود کی سرگرمیوں میں کمی آتی گئی۔ میں بڑے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ان تمام کھیلوں سے محظوظ ہونے والی غالباً ہماری آخری نسل ہی تھی ۔آنے والوں کے لیے تو یہ محض ایک خواب ہی ہوگا۔ ان کی سرگرمیاں محض گھر کی چار دیواری کے اندرتک ہی محدود ہوگئی تھیں۔ اس کی کئی وجوہات تھیں، جن کا سب کو اچھی طرح علم ہے۔
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں