☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خواتین(نجف زہرا تقوی)
ملاکھڑا ،سندھ کا روائتی کھیل یہ کھیل وادی سندھ کی 7ہزار سال کی تاریخ کو سمیٹے ہوئے ہے

ملاکھڑا ،سندھ کا روائتی کھیل یہ کھیل وادی سندھ کی 7ہزار سال کی تاریخ کو سمیٹے ہوئے ہے

تحریر : پروفیسر عثمان سرور انصاری

03-15-2020

کسی بھی کھیل میں معاشرے کی روایات اور ثقافت کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایسے کھیل ہر زمانے اورنسلِ انسانی کو نئے محسوس ہوتے ہیں ۔
 

 

ایسا ہی ایک کھیل’’ ملا کھڑا‘‘ وادیِ سندھ کی سات ہزار سال کی تاریخ کو اپنی آغوش میں سمیٹے ہوئے ہے کئی جوانوں کے زورِبازو کے قصے کئی خواہشوں کی تکمیل کی داستانیں،کئی عروج دیکھنے والوں کی مستیاں اور کئی زوال کی گہرائیوں سے نکلنے والوں کی دعائوں کی بازگشت ہر اس شخص کو با آسانی سنائی دی جاتی ہے جوذرا بھر کے لیے ــملاکھڑا کو سوچتا ہے اس سے قربت کرتا ہے اور یہ قربت ایسی سحر انگیز ثابت ہوتی ہے کہ جو اس حد تک آیا تو پھر پلٹنا اس کے بس میں نہ رہا وہ اس کا ہوکے رہ گیا اور تمام عمرکے لیے ہوکے رہ گیا۔لال شہباز قلندرؒ،شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ، حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ اورد یگر اولیاء اﷲ کے درباروں پر سجنے والے میلوں میں ملھ پہلوانی کا باقاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی آف سندھ نے انسٹیٹیوٹ آف سندھیولاجی میں ملاکھڑا کا ایک کارنر بھی قائم کیا ہے جو یقینا غفلت کے اندھیرے میں ایک روشن قندیل ہے۔ 
ملاکھڑا جسے علاقائی زبان میں ملاکھڑو بھی بولتے ہیں مضبوط بازوئوں،توانا ٹانگوں، پھرتیلے وجود، چٹان جیسے قائم ا عصاب اور چودہویں رات میں سمندر کی طرح بپھرے ہوئے جذبات رکھنے والوں کا کھیل ہے۔ کمزور دل انسان ملاکھڑو کے میدان میں اترنا تو کوسوں دور کا قیاس ہے ۔دل تھامے بغیر اس کھیل کو دیکھنے کا حوصلہ تک نہیں رکھ پاتا کہ اس کھیل میں دو مدِمقابل آنے والے کھلاڑی ایک دوسرے کو ہوا میں ایسے اچھالتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے بچے ہوا میں غبارے اچھالتے خوش ہوتے اورتالیاں بجا بجا کر اس خوشی کو قہقہوں کے سپرد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 
ملاکھڑا کو سندھی زبان میں ملھ بھی کہا جاتا ہے اور اس کے کھلاڑی کو ملھ پہلوان کہتے ہیں۔ سندھ میں جس کھیل کو ملاکھڑا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بلوچستان میں اسی کھیل کو غیثر کہتے ہیں اور پنجاب میں اسی کھیل کوکنڈی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کھیل علاقے کے لحاظ سے اپنے اطوار و انداز بھلے بدل چکے ہیں مگر اس کے بنیادی اصول ایک جیسے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کھیل ایران،افغانستان ، ترکی، چیکو سلواکیہ، روس، ہنگری اور جاپان میں کھیلا جاتا ہے ۔سو ہم یہ بڑے مان سے کہہ سکتے ہیں کہ سندھ کے میدانوں میں لڑی جانی والی یہ ملھ کشتی دنیا کے دیگر ممالک تک بھی پھیل چکی ہے ۔بس علاقائی تغیر کی وجہ سے مختلف علاقوں میں اسے مختلف ناموں سے کھیلا جاتا ہے جیسے وسطی ایشیا میں اس کھیل کوــــکوریش اور جاپان میں اسی کھیل کو سوموکے نام سے کھیلا جاتا ہے۔ افغانستان اور بلوچستان میں کھیلے جانے والے کھیل میں زور دائیں کندھے سے لگایا جاتا ہے جبکہ سندھ کی ملھ کشتی میں یہی زورآزمائی کا مرکزی نقطہ بایاں کندھا ہوتا ہے وسطی ایشیا میں سندھ کے سندڑ کی بجائے چمڑے کا پٹہ باندھ کر زور آزمائی کی جاتی ہے اس کے علاوہ یہ کھیل گجرات اور انڈیا کے دیگر علاقوں میں بھی کھیلا جاتا ہے۔ ملاکھڑا دنیا بھر میں سب سے زیادہ سندھ کے مردوں کامن پسند کھیل ہے وہ اسے شیروں کی لڑائی سے بھی تشبیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھیل سندھ بھر میں اپنی مقبولیت کے لحاظ سے کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ آج بھی سندھ کے دور دراز کے ایسے گوٹھ جہاں بجلی گیس اور تفریحی ذرائع ابلاغ کی شدید عدم موجودگی ہے وہاں بسنے والوں کے لیئے ملھ پہلوانی تفریح کا معروف ذریعہ ہے۔ سندھی بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد ملھ پہلوانی سے وابستہ ہے ۔
مالاکھڑاکھیلنے کے لیے دو افراد میدان میں اترتے ہیں جن کی کمر کے گرداگرد کپڑے کی ایک پٹی سی بندھی ہوتی ہے ۔ہر کھلاڑی اپنے مدِ مقابل کی کمر کو مضبوطی سے گھیرے ہوئے اس کپڑے کو جسے سندڑ کہا جاتا ہے۔ اپنے مضبوط ہاتھوں سے پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیتا ہے اور اپنے پورے وجود کی طاقت کو اپنے بازوئوں میں سمیٹتے ہوئے مدِمقابل کو اٹھا کر زمین پر گرانے کی کوشش کرتا ہے ۔جو کھلاڑی ایسا کرنے میں کامیاب ہوپاتا ہے وہی فاتح قرار دیا جا تا ہے ۔جیت اپنے نام کرنے کی کوشش میں طاقت کے یہ دیو اکثر اپنے مدِمقابل کو اپنے بازوئوں میں دبوچ کر ہوا میں ایسے گھماتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے لٹو جو ڈوری میں لپیٹ کر زمین پرگھمایا جاتا ہے۔ وہ کئی کئی منٹ بغیر مداخل کے گھومتا رہتا ہے ۔ ملاکھڑا کے یہ کھلاڑی طاقت کا بپھرا سمندر ہیں کوئی لٹو نہیں جوڈوری سے ملنے والی تحریک سے گھومتے ہی رہیں بلکہ بہت جلد یہ ہوا میں گھومتے ہوئے گھمانے والے کو اپنے زورِبازو سے نا صرف قابو میں کرلیتے ہیں بلکہ عین ممکن ہے اگلے ہی لمحے گھمانے والا خود ہوا میں گھوم رہا ہو۔ملاکھڑا کے کھلاڑیوں کا تو پتہ نہیں کہ وہ کیسے زمین سے اوپر ہوا ہی ہوا میں اپنی طاقت کسی ایک نقطے پر مرکوز کرکے مدِمقابل کی طاقت کو شکست دیتے ہیں البتہ میرے جیسے ہزاروں کے پاس اس سوال کا آج تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں بن پایا ۔یہ حیرت ہے اور حیرت بھی ایسی جو کسی حیرت کدے میں بھی مل نہیں سکتی ۔
دوسری بڑی حیرت کی بات جو اس کھیل کی خوبی ہے وہ مدِمقابل کو بازوئوں کی مدد سے اٹھا کر سر سے گھماتے ہوئے نیچے زمین پر پٹخنا ہے تاکہ فتح کو اپنے نام کیا جاسکے اور جیت کی اس کوشش میں مقابل کو بار بار ایسے اٹھا اٹھا کر اور گھما گھما کرزمین پر پٹخنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے کوئی دھوبی کپڑوں کو دھونے کے لیے زمین پر نہیں پٹخ سکتا جب کوئی کھلاڑی دوسرے کھلاڑی کو ہوا میں سے گھماتا ہوا زمین پر پٹختا ہے تو ایک بار تماشائیوں کا کلیجہ منہ کو آتا ہے خوف کی لہر وجود میں اتنی شدت سے پیدا ہو تی ہے کہ دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔مگر یہ کھلاڑی دھوبی کے ہاتھ میں آنے والے کپڑے تھوڑی ہیں جو آسانی سے زمین پرپٹخے جاسکتے ہیں یہ تو ملاکھڑا کھیلنے والے جرات مند جوان ہیں جو پائوں زمین پر لگتے ہیں گرنے کی بجائے ایسے اچھلتے ہیں جیسے ربڑکی گیند زمین پر ماری جائے تو واپس ہوامیں اتنی رفتار سے اچھلتی ہے کہ ایک بار تو نیوٹن کا تیسرا حرکت کا قانون مشکوک سا لگنے لگتا ہے زمین پر یوں پھینکے جانے والے کھلاڑیوں کا زمین کو چھوتے ہی دوبارہ ہوامیں اچھلنے کا عمل کئی تماشائیوں کے دل و دماغ میں یقین پیدا کرجاتا ہے کہ ان کی ٹانگوں میں ہڈیاں ربڑ کی بنی ہوئی ہیں جو اس طرح زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے ٹوٹنے کی بجائے ردِعمل کے طور پر دوبارہ ہوا میں اچھل جاتی ہیں یہ حیرت اپنے تمام تر جادوئی اثر کے باوجود گذشتہ حیرت کو کم نہیں کرپاتی کہ اس طرح ہوا میں اچھلنے والا کھلاڑی کس طرح ہوائوں کے بیچو بیچ اپنے آپ کو نا صرف سنبھالتا ہے بلکہ دوسرے کھلاڑی کو بھی اپنے فن کے کسی نا کسی دائو پیچ میں پھنسا لیتا ہے کیوں کہ عام فہم کے مطابق جسم میں موجود طاقت کے اظہار اور اس کے عملی نمونے کے لیے زمین کی ضرورت ہوتی ہے یہ کھلاڑی زمین کے ساتھ جڑے تو نہیں ہوتے پھر بھی مد مقابل کی طاقت کوسہارا بناتے ہوئے ہوا کے دوش پر ہونے کے باوجود نا صرف اپنی طاقت کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں بلکہ اپنے فن کی مہارت کو بھی بڑی خوبی سے ثابت کرتے ہیں۔ 
تیسری حیرت کا باعث جادوئی کرتب کی تاثیر جو شاید کبھی بھی عام سمجھ بوجھ کے دامن میں سما نہ پائے وہ یہ ہے کہ اکثر جو کھلاڑی مدِمقابل کو ہوا میں اچھال کر زمین پر پٹخنے کی کوشش کرتا ہے جیت نہیں پاتا بلکہ اگلے ہی لمحے ہار جاتا ہے کیوں کہ زمین پر گرنے والا کھلاڑی پائوں کو زمین کے ساتھ مس ہوتے ہی دوبارہ ایسے ہوا میں اچھلتا ہے کہ اس کے بازوئوں کے گھیرے میں گٹھری میں بندھے ہوئے کپڑوں کی طرح دوسرا کھلاڑی ہوتا ہے جس نے اسے گذشتہ لمحے ہوا میں سے گھماتے ہوئے زمین پر گرانے کی کوشش کی تھی ایک دوسرے کو زمین پر گھما کر گرانے کا یہ نظارہ  ایسے ہی ہے جیسے گردباد کے دنوں میں ہوا کے بگولے ادھر سے ادھر گھومتے پھرتے ہیں اور جیسے جیسے کھلاڑی ایک دوسرے کو ہوائوں میں دائرے کی صورت گھماتے ہیں ویسے ویسے تماشائیوں کے دل وجود سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی سینے میں ایسے دبھک کے بیٹھ جاتے ہیں  جیسے کہ وجودمیں رہے ہی نہ ہوں تماشائیوں کی یہ تمام تر کیفیات کھیل کے دوران خوف کے باعث ہوتی ہیں ۔
اس کھیل کو سیکھنے کا عمل 5 سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے پہلوان کو میدان میں ۱۷ سال کی عمر میں اتارا جاتا ہے اور پہلوان یہ کھیل ۳۵ سال کی عمر تک کھیلتا ہے اس کے بعد وہ اس کھیل کے استاد کے طور پر تاحیات اس سے منسلک رہتا ہے عوامی سطح پر اس کھیل کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے۔علاقے کے جاگیردار ، تماشائی اور ملھ پہلوان اس کھیل کو صدیوں سے اپنی مدد آپ کے تحت جاری رکھے ہوئے ہیں وہ ملھ پہلوان جو مقابلہ جیت جاتا ہے اسے عوامی سطح پر عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے اسے اپنا ہیرو سمجھا جاتا ہے اور اس کی بہادری کے قصے زبان زدعام ہوتے ہیں لوگ اپنے بچوں کو ملھ پہلوانوں کی جرات اور طاقت کی کہانیاں سناتے ہیں گویا کہ ملاکھڑا سندھی تہذیب و ثقافت کا وہ حصہ ہے جسے فراموش کرنا مطلب سندھی تہذیب و ثقافت کو فراموش کرنے کے مترادف ہے تاریخ میں جن جوانوں نے ملھ پہلوانی میں اپنے نام کے ڈنکے بجائے انہیں آج بھی سندھی  اپنی آن بان اور شان سمجھتے ہیں جن میں سے چند نام درج زیل ہیں بکھر شیدی، غلام سرور جتوئی، جمعہ شیدی ، سڈل مکرانی، سید سمن شاہ، کریم بخش شیدی ، شیر سیدی ، سائیں تھر ، بنن جمالی ، حاجی خشک ، نواز علی رند ، دادلو شیدی، ارباب گائو، نورو مکرانی، علی محمود کوریجو، احمد مری ، غلام قادر لغاری اور اللہ جوڑیو سمو وہ نام ہیں جو اپنے اپنے زمانے میں اس کھیل میں اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں ۔ یہ سبھی جوان ملاکھڑا کے میدان میں ایسے ان مٹ نقوش چھوڑ چکے ہیں جو ستاروں کی طرح تابندہ اور چاند کے جیسے روشن ہیں ۔ یہ وادی سندھ کے ایسے دہکتے آفتاب ہیں جن کی شہرت کی روشن کرنوں میں سندھی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلو عیاں ہوتے ہیں اور اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ جب قلوہ پطرہ نے اپنے بیٹے سکندر اعظم کو یونانیوں میں ممتاز کرنے کے لیئے دیوتائوں کی اولاد قرار دینے کا سوچا بھی نہیں تھا۔ 
 ملھ پہلوانی کے اکلوتے میدان جس کا افتتاح گورنر سندھ محمود ہارون نے ۱۴اگست ۱۹۹۲ کو بھٹ شاہ شہر میں کیاتھا۔ آج اس پر قبضہ مافیہ کا راج ہے۔ملھ پہلوانوں کے ہاسٹل کی جگہ پہ مکان تعمیر کر لئے گئے ہیں۔اور تو اور ،طاقت ور لوگ اس میدان کو شادی بیاہ کی تقریبات کے لئے استعمال میں لا نااپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔ ہمارا گورنر سندھ ، وزیراعلیٰ سندھ ، صوبائی وزیر کھیل، کمشنر حیدر آباد اور ڈپٹی کمشنر مٹیاری سے بھر پور مطالبہ ہے کہ بھٹ شاہ ملاکھڑا گرائونڈ کو قبضہ مافیہ سے آزاد کروا کر ملھ پہلوانوں کے زیرِ استعمال لایا جائے ۔
سہولیات کی عدم دستیابی اور میڈیا کی توجہ نہ ملنے کے باعث ملھ پہلوانوں کی تعداد میں روز بروز کمی آتی جارہی ہے اگرمیر پور خاص کی ہی بات کی جائے تو جنرل سیکرٹری ملھ ایسوسی ایشن سندھ ممتاز مری کا کہنا ہے کہ پانچ چھ سال پہلے میر پور خاص ڈویژن میں ملھ پہلوانوں کی تعداد دو سو تک تھی جو اب محض 25سے 30تک رہ گئی ہے۔ یہی صورتحال سندھ کے دوسرے ڈویژنز کی بھی ہے، خاص کر تھر جہاں ملھ بڑے شوق سے کھیلا جاتا ہے وہاں بھی ملھ پہلوانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہو گئی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس تہذیبی وثقافتی کھیل کی طرف توجہ مبذول کرے اس کو قومی و بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کے اسباب کرے اس سے اچھا خاصا زرِمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے اس کی تازہ مثال پنجاب کا روایتی کھیل کبڈی ہے جو حکومت کی تھوڑی سے توجہ کے باعث دیہات کی حدوں سے نکل کر آج پوری دنیا میں اپنی پہچان قائم کرچکا ہے اور پاکستان نے اس کھیل میں عالمی چیمپئن کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے۔ اسی طرح ملاکھڑا کو پروان چڑھایا جائے تو یہ مقبولیت حاصل کر سکتا ہے ۔ 
 

 

مزید پڑھیں

2016ء میں جب پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہوا تو عام خیال یہی تھا کہ اس ٹورنامنٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرنا خاصا مشکل ہوگا کیونکہ دنیا کی دوسری لیگز کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا، یہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ غیر ملکی کھلاڑی پاکستان نہیں آئیں گے ۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ خوشی کی بات ہے کہ پاکستانی خواتین بھی کرکٹ تبصرہ نگاری کر رہی ہیں، یقین کامل ہے کہ عروج ممتاز اور مرینہ اقبال کی طرح دیگر خواتین بھی اس شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑیں گی

مزید پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں