☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(نجف زہرا تقوی)
پی ایس ایل کا دیگر لیگز سے موازنہ معیار کے اعتبار سے یہ لیگ کسی دوسری لیگ سے کم نہیں

پی ایس ایل کا دیگر لیگز سے موازنہ معیار کے اعتبار سے یہ لیگ کسی دوسری لیگ سے کم نہیں

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

03-15-2020

2016ء میں جب پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہوا تو عام خیال یہی تھا کہ اس ٹورنامنٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرنا خاصا مشکل ہوگا کیونکہ دنیا کی دوسری لیگز کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا، یہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ غیر ملکی کھلاڑی پاکستان نہیں آئیں گے ۔
 

 

ان حلقوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پایا جا چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے عفریت کو قابو میں لانے کے لئے بہت زیادہ قربانیاں دی گئیں ۔ لیکن پھر وقت نے تیور بدلے اور پی ایس ایل کا پہلا ہی ٹورنامنٹ کامیاب ہو گیا ۔ اگرچہ پہلے چار ٹورنامنٹس متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے لیکن اب بفضلِ تعالیٰ پانچواں ٹورنامنٹ مکمل طور پر پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ 
پاکستان سپر لیگ میں چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کے نام شہروں کے نام پر رکھے گئے ہیں ۔ ان میں کراچی کنگز ، ملتان سلطان ، کوئٹہ گلیڈیٹرز ، لاہور قلندر ز ، اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی شامل ہیں ۔ ان میں بہت سے غیر ملکی کھلاڑی کر س جور ڈن ، بین کٹنگ ، کولن منرو ، شین واٹسن اور کئی دوسرے شامل ہیں ۔ا بھی حال ہی میں پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو ان کی ٹیم کا ہیڈ کوچ بنا دیا گیا ہے ۔ جنوبی افریقہ کے عظیم کھلاڑی اے بی ڈی ویلیئر ز نے 2019میں پی ایس ایل ٹورنامنٹ کھیلا تھا ۔ اس دفعہ جب یہ ٹورنامنٹ مکمل طور پر پاکستان آگیا ہے لیکن وہ نہیں آئے جس سے ان کے مداحین بہت مایوس ہوئے ہیں ۔ پی ایس ایل کا فائنل 22مارچ کو لاہور میں منعقد ہوگااور شائقین کی دلچسپی کا اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ٹکٹوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہے ۔ 
اگر ہم پی ایس ایل کا دنیا کی دیگر لیگز یعنی آئی پی ایل (بھارت) ، بگ بیش (آسٹریلیا ) ، بی پی ایل ( بنگلہ دیش )اور کیربین لیگ ( ویسٹ انڈیز ) سے موازنہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پی ایس ایل نے اپنا معیار برقرار رکھا ہے اور اگر یہ باقی لیگز سے بہتر نہیں توان سے کم بھی نہیں ۔ امن و امان کی صورت حال اتنی بہتر ہو ئی ہے تو آج غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل مکمل طور پر پاکستان میں کھیلنے پر متفق ہوئے ہیں۔ جب انڈین پریمیئر لیگ شروع ہو ئی تو پہلے دو یا تین ٹورنامنٹس میں پاکستان کے کرکٹرز کو بھی شامل کیا گیا تھا ۔ لیکن پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تلخی آگئی اور پاکستانی کھلاڑیوں نے انڈین پریمیئر لیگ کھیلنا بند کر دیا ۔ آئی پی ایل کے ٹورنامنٹس ہر سال منعقد ہو رہے ہیں اور اس ٹورنامنٹ نے بھارت کی کرکٹ ٹیم کو کئی اچھے کرکٹرز دئیے ہیں ۔ خا ص طور پر دھواں داربلے باز بہت اچھے دئیے ہیں ۔ 
بڑے غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل ٹورنامنٹ میں حصہ لیا ان میں کرس گیل ، اے بی ڈی ویلیئرز ، کمار سنگا کارا ، کیوین پیئرسن ، آندرے رسل ، برینڈن ،کیرن بولا رڈ ، میکلم ، شکیب الحسن ، سنیل نارائن، بین ڈنک ، کارلوس بریتھ ویٹ ، شین واٹسن ، مارلن سیمولز ، آئن مورگن ، ڈیاوان برادو ، تمیم اقبال ، کرس جورڈن ، بین کٹنگ اور کولن مینرو ودیگر شامل رہے اور ان میں سے کچھ اب بھی کھیل رہے ہیں ۔انڈین پریمیئر لیگ چونکہ سب سے پرانی ہے اس لئے اس کا معیار بھی اچھا ہے لیکن پی ایس ایل کا معیار کسی بھی غیر ملکی لیگ سے کم نہیں اور اس کا شمار دنیا کی ٹاپ تھری لیگز میں ہوتا ہے ۔ دوسری دولیگز میں آئی پی ایل اور بگ بیش شامل ہیں ۔ 
شروع شروع میں پی ایس ایل مقابلوں میں پانچ ٹیمیں حصہ لیتی تھیں لیکن اب ٹیموں کی تعداد چھ ہو گئی ہے ۔اب ہم اپنے قارئین کو پی ایس ایل کھیلنے والے ان کرکٹرز کے بارے میں بتائیں گے جو سب سے زیادہ معاوضہ لیتے ہیں ، یا یوں کہہ لیجئے کہ یہ پی ایس ایل کے مہنگے ترین کھلاڑی ہیں ۔  
-1شاہد آفریدی (پاکستان ) 1,40,000امریکی ڈالر 
-2مصباح الحق (پاکستان) 1,40,000امریکی ڈالر 
-3شین واٹسن (آسٹریلیا ) 1,40,000امریکی ڈالر 
-4شعیب ملک ( پاکستان ) 1,40,000امریکی ڈالر 
-5ڈاوئن براوو ( ویسٹ انڈیز ) 1,40,000امریکی ڈالر 
-6اے بی ڈویلیئر ز (جنوبی افریقہ )  1,40,000امریکی ڈالر 
-7آندرے رسل (ویسٹ انڈیز ) 1,25,000امریکی ڈالر 
-8سرفراز احمد ( پاکستان ) 1,25,000امریکی ڈالر 
-9بابر اعظم ( پاکستان ) 1,25,000امریکی ڈالر 
-10فخر زمان ( پاکستان ) 1,25,000امریکی ڈالر 
مذکورہ بالا کرکٹرز کو یہ معاوضہ 2019ء کے پی ایس ایل میں دیا گیا ۔ اب ہم 2019 ء کے بگ بیش لیگ کے مہنگے ترین کھلاڑیوں کے بار ے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے ۔ 
-1ڈی آر کی شاٹ 2,58,000امریکی ڈالر 
 -2اینڈریو ٹائی 2,46,000امریکی ڈالر 
-3مارکس سوئنس 2,27,000امریکی ڈالر
-4کرس لائن 2,02,000امریکی ڈالر 
-5جوئے روٹ 2,00,000امریکی ڈالر 
-6الیکس کیرے 1,99,600امریکی ڈالر 
یقینا ان کرکٹرز کے معاوضے خاصے زیادہ ہیں لیکن اب ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ 2019ء کے آئی پی ایل میں کن کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ معاوضہ دیا گیا ۔ 
-1ویرات کوہلی (بھارت ) 17کروڑ روپے 
-2روہیت شرما ( بھارت ) 15کروڑ روپے 
-3ایم ایس دھونی ( بھارت ) 15کروڑ روپے 
-4ڈیوڈ وارنر (آسٹریلیا ) 12کروڑ روپے 
-5بین سٹوکس 12کروڑ روپے 
اندازہ لگا یاجاسکتا ہے کہ آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ معاوضہ دیا جارہا ہے۔ 
اس کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں ۔ 
-1بہت زیادہ سپانسرز -2ٹی وی شائقین کی زبردست تعداد -3ٹکٹوں کی ریکارڈ فروخت 4۔ ٹی وی ویورشپ
بھارت چونکہ بہت بڑا ملک ہے ۔ اس لئے یہاں کرکٹ شائقین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔ آئی پی ایل کے میچز بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ بہر حال آئی پی ایل کھلاڑیوں کے وارے نیارے ہیں ۔ اگر کوئی کھلاڑی ایک سیزن بھی کھیل لے تو اسے کافی بڑی رقم مل جاتی ہے ۔ یہ فطری امر ہے کہ جب کسی کھلاڑی کو بہت زیادہ معاوضہ ملتا ہے تو اس کی ساری توجہ اپنے کھیل کو بہتر بنانے پر ہوتی ہے اور وہ اپنی جگہ مستقل بنانے کے لئے سخت محنت کرتا ہے کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ بہت سے دیگرکھلاڑی اس کی جگہ لینے کو بیٹھے ہیں ۔ 
پی ایس ایل کی کامیابی کی ایک اور وجہ شائقین کا رویہ (Crowd Behaviour)ہے ۔ شائقین نے ہر اس کھلاڑی کو کھل کر داد دی جس نے خوبصورت کھیل کا مظاہرہ کیا ۔ یہ بات اپنی جگہ قابل طمانیت ہے کہ پاکستان کے کرکٹ شائقین نے نہ صرف اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی بلکہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے معیاری کھیل کو بھی سراہا۔ کرکٹ سے محبت کے اس جذبے سے غیر ملکی کھلاڑی بھی متاثر ہوئے ۔ ڈیرن سیمی نے جس طرح پاکستان اور یہاں کے عوام سے اپنائیت کا اظہار کیا اس پر انہیں پاکستان کی اعزازی شہریت دے دی گئی ہے ۔ ہاشم آملہ جیسے بلے باز اب پشاور زلمی کے رہبر (Mentor)بن چکے ہیں ۔ ویوین رچرڈز پہلے ہی کوئٹہ گلیڈیٹرز کے لئے یہی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ڈین جونز اور اینڈی فلاور بھی ہیڈ کوچ کے طور پر کام کررہے ہیں ۔پی ایس ایل کے بارے میں ان بڑے کھلاڑیوں کی رائے یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ سے پاکستان کو معیاری بائولرز مل رہے ہیں ۔ انہوں نے پی ایس ایل کے معیار پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ 
پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ نے اس دفعہ ایک خاتون تبصر ہ نگار کی خدمات بھی حاصل کی ہیں ۔ یہ پاکستان میں پہلی بار ہو رہا ہے ۔ خاتون تبصرہ نگار عروج ممتاز کمنٹری کر رہی ہیں جسے شائقین کرکٹ بہت پسند کررہے ہیں ۔ وہ جس قابلیت اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت نام کمائیں گی ۔ 
اس سلسلے میں یہ کہا جاتا ہے کہ خاتون تبصرہ نگار کی خدمات حاصل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی خواتین اور لڑکیوں کو بھی کرکٹ کی طرف راغب کیا جائے اور انہیں کرکٹ کے اسرار و رموز کے بارے میں بتایا جائے ۔ اس کے علاوہ ایک ایسا اسٹوڈیو بنایا جائے گا جو دنیا بھر کے صدا کا روں ( براڈ کاسٹرز ) کو دستیاب ہوگا۔ اس کے علاوہ ایسے کرکٹ تبصرہ نگاروں کو پاکستان لایا گیا ہے جو عالمی سطح پر بہت پہچانے جاتے ہیں اور ان سے محبت کی جاتی ہے ۔ ان میں کاس تایئڈواور ایچ ڈی اکرین کے نام شامل ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ اس دفعہ پی ایس ایل انتظامیہ شائقین کو ایک سر پرائز دینے والی ہے لیکن اسے خفیہ رکھا جارہا ہے ۔ یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شائقین کو وہ کچھ دیا جائے گا جو ناقابل یقین ہوگا ۔ ایسا آئی پی ایل میں بھی نہیں ہوسکا ۔ ایسا اب تک آسٹریلیا میں ہوا ہے ۔ 
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقامی طور پر کھیلوں کا سامان بنانے والی صنعت کو نقصان پہنچا ہے اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی ۔ 2009ء  کے بعد نہ صرف پاکستان کرکٹ کو بہت نقصان پہنچا بلکہ اس سے وابستہ صنعت بھی زبوں حالی کا شکار ہے ۔اب دنیا پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان عالمی مقابلوں کے انعقاد کے لئے بہترین جگہ ہے ۔ امید واثق ہے کہ اب پاکستان میں مزید بڑے مقابلے دیکھنے میں آئیں گے ۔ اس کے علاوہ یہ انتظامات بھی کئے جارہے ہیں کہ کرکٹ مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں کو کلاس رومز میں لیکچر دئیے جائیں اور میچوں کے دوران ان کی تربیت کی جائے گی ۔ پی ایس ایل کی اہمیت کو معاشیات کے حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس سے ان لوگوں کے لئے بہت مواقع پیدا ہوں گے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں ۔ پروڈکشن کے اس عمل میں زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو شامل کیا گیا ہے ۔ پی ایس ایل کامکمل طور پر پاکستان میں انعقاد معاشی طور پر بھی بہت فائدہ مند ہوگا۔ ایئر لائنز سے ہوٹلوں اور ریستورانوں تک کا خرچ پہلے عالمی سطح پر ہوتا تھا لیکن اب یہ سب کچھ پاکستان میں ہوگا اور اس سے معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا ۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر پی ایس ایل کا انعقا دپاکستان میں ہوتا رہا تو اس سے بڑی بات اور کوئی نہیں ، پی ایس ایل کا سکوپ نہ ختم ہونے والا ہے ۔ اور اگر اس ٹورنامنٹ کا معیار برقرار رکھا گیا تو اس کی مقبولیت آسمانوں کو چھولے گی ۔ 
اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ پی ایس ایل کا شمار اب دنیا کی بہترین لیگز میں ہوتا ہے اور سال 2020ء اس لیگ کے لئے بہت اہم ہے ۔ اور اب اس لیگ کا اہتمام مکمل طور پر پاکستان میں کیا گیا ہے اس لئے ملک کے 100فیصد عوام اس کے پیچھے ہیں ۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ پی سی بی کی انتظامیہ نے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور مستقبل میں جو منصوبے بنائے جارہے ہیں وہ بھی بڑے متاثر کن اور شاندار ہیں ۔ ایک اور امید کی جارہی ہے کہ مستقبل میں عالمی معیار کے اور کھلاڑی بھی پی ایس ایل میں شمولیت اختیار کرنا پسند کریں گے ۔ وہ ایسا کھیل کے معیار اور پیسوں کیلئے نہیں کریں گے بلکہ وہ ایسا ایک زبردست تجربہ حاصل کرنے کے لئے کریں گے اور وہ تجربہ ہے پاکستان میں کھیلنا ۔پی سی بی کا فوکس ہر شعبے میں تجربہ کا ر افراد سے کام لینا ہے ۔ چاہے وہ کیمرہ ہو ، انجینئر نگ ہو پروڈکشن کا معیار ہو ۔ مقاصد یہ ہیں کہ پی ایس ایل کو بلندیوں تک لے جایا جائے اور دنیا کا ہر برا کرکٹر اس لیگ میں کھیلنا اپنے لئے باعث افتخار سمجھے ۔ معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ قابل ترین آدمیوں کی خدمات حاصل کی جائیں ۔ظاہر ہے کہ قابلیت اور لیاقت کا کوئی توڑ نہیں ۔ اس قسم کے لوگ جس جگہ جاتے ہیں وہاں کی کایا پلٹ جاتی ہے کرکٹ بورڈ نے یہ احسن فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ کو ایسے ہی مثبت فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ملکی کرکٹ عروج کی سای منزلیں طے کر سکے ۔ 
اگر لگن ، یکسوئی اور ولولے سے کام ہوتا رہا تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جائے گا کہ پاکستان کرکٹ بہت آگے جائے گی ۔ نوجوان کرکٹروں کی ایک پوری کھیپ قومی کرکٹ ٹیم کو حاصل ہ وجائے گی اور وہ دن بھی آئے گا جب پاکستان کرکٹ کا ایک اور سنہری دور شروع ہو جائے گا۔ 

مزید پڑھیں

کسی بھی کھیل میں معاشرے کی روایات اور ثقافت کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایسے کھیل ہر زمانے اورنسلِ انسانی کو نئے محسوس ہوتے ہیں ۔
مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ماضی میں دنیا بھر میں وبائی امراض نے بڑ ے پیمانے پر عالمی سطح پر کھیلوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی بار کھیل کے میدان وبائی امراض کی وجہ سے سونے ہوئے ہیں یا کم از کم محدود ضرور ہوئے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 کورونا وائرس کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کے بعد دنیا میں کھیلوں کا سب سے اہم ایونٹ پاکستان سپر لیگ ہی تھا جو بند دروازوں میں منتقلی کے بعد جاری تھا    

مزید پڑھیں

 پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا پانچواں ایڈیشن جاری ہے اس لیگ سے پاکستان کرکٹ کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ کئی نئے کھلاڑی پاکستان کو ملے اور کئی دیگر کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نکھار آیا۔    

مزید پڑھیں