☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
حیدر علی تسلسل سے کارکردگی دکھانے کی ضرورت

حیدر علی تسلسل سے کارکردگی دکھانے کی ضرورت

تحریر : طیب رضا عابدی

04-26-2020

کیمبل بور ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے حیدر علی اکتوبر 2002 میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلتے رہے ، والدین نے سپورٹ کیا، خاص طور پر والد نے حوصلہ افزائی کی۔
 

 

2015 میں کلب کرکٹ کا آغاز کیا، الفیصل کرکٹ کلب نے ہاتھ تھاما۔ اور ناردرن کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے انڈر 16کرکٹ راولپنڈی ریجن سے شروع کی ۔ پھر انڈر 19 کی کرکٹ بھی اسی ریجن کی طرف سے کھیلی اور قومی انڈر 19 ٹیم میں منتخب کرلیئے گئے۔ دورہ جنوبی افریقہ میں شاندار160 رنز بنانے کی وجہ سے انہیں شہرت ملی اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ پشاور زلمی نے انہیں ایمرجنگ کیٹیگری میں ٹیم کا حصہ بنایا اور انہوں نے پریکٹس میچ میں 19گیندوں پر تیز ترین60 رنز بنا ڈالے۔ ان میں تینوں فارمیٹ کھیلنے کا تجربہ بھی ہے ۔ فرسٹ کلاس کرکٹ ہو یا ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی ، تینوں طرز کی کرکٹ کھیل کر وہ یہ ثابت کرچکے ہیں کہ وہ کسی بھی فارمیٹ کی کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔ حیدر علی بھی روحیل نذیر کے ساتھ ناردرن کی ٹیم کی طرف سے قا ئدِاعظم ٹرافی کھیل چکے ہیں۔ فائنل میں حیدر علی نے دوسری اننگ میں سنچری بھی بنائی لیکن اپنی ٹیم کو شکست سے نہیں بچاسکے۔
حیدر علی کے رول ماڈل روہت شرما اور بابر اعظم ہیں ۔ 
گزشتہ برس سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف انڈر 19 سیریز میں حیدر علی نے پاکستان کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔حیدر علی نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی کافی عمدہ کھیل پیش کیا ہے اور لگ بھگ 50 کی اوسط سے اسکور بنا چکے ہیں۔
سابق آسٹریلین اوپننگ بیٹسمین مائیکل سلیٹر نے نوجوان پاکستانی بیٹسمین حیدرعلی کو ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ابھرتے ہوئے کھلاڑی کو بہت پسند کرتے ہیں کیونکہ پی ایس ایل جیسے ٹورنامنٹس کو باصلاحیت مقامی کھلاڑیوں کی وجہ سے مضبوطی حاصل ہوتی ہے اور حیدرعلی بھی ایک ایسے بیٹسمین ہیں۔
ویسٹ انڈیز کے ماضی کے سٹار فاسٹ بائولر آئن پشپ نے انہیں انڈر19 ورلڈکپ میں کھیلتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا کہ ’’میں نے حیدر علی کے کور ڈرائیو دیکھ کر ان میں بابر اعظم کی جھلک محسوس کی ہے اور وہ مستقبل میں اچھا انٹرنیشنل کیرئیر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ‘‘۔ 
پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے بھی حیدرعلی کی بیٹنگ صلاحیتیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وہ ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے پی ایس ایل فائیو میں عمدہ پرفارم کیا اور وی ایک مناسب طریقے سے اوپر آئے ہیں یعنی پہلے انہوں نے انڈر 19کرکٹ کھیلی، پھر فرسٹ کلاس کھیلی پھر اے ٹیم کا حصہ رہے اور پھر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی پرفارم کیا‘‘۔ 
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے ابھرتے ہوئے نوجوان بلے باز حیدر علی کو اپنی کارکردگی میں تسلسل لانے کی نصیحت کی۔ انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے حیدر علی نے اپنی زبردست کارکردگی سے متاثر کیا تو انہیں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز پشاور زلمی نے منتخب کر لیا جنہوں نے 9 میچوں میں 158.25 کے سٹرائیک ریٹ کیساتھ 239 رنز بنائے۔رمیز راجہ نے کہا کہ ’’ا ن میں بہت ٹیلنٹ ہے، ان کے پاس شاٹس کی ورائٹی ہے اور وہ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کیلئے بہت خطرناک ہیں۔ اب انہیں صرف اور صرف اپنی کارکردگی میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ مستقبل میں دنیا کے چند بہترین بلے بازوں کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔‘‘ رمیز راجہ نے حیدر علی کو قومی ٹی 20 ٹیم کے کپتان بابراعظم کی تقلید کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ’’انہیں بابراعظم یا ویرات کوہلی کے نقش قدم پر چلنا چاہئے کیونکہ دونوں بہت زبردست کھلاڑی ہیں جن کے پاس بہترین شاٹس ہیں اور وہ اپنی کارکردگی میں تسلسل کے باعث میچ ونر ثابت ہو رہے ہیں۔
اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جس طرح پی ایس ایل فائیو میں حیدر علی نے بھرپور اعتماد سے کرکٹ کھیلی وہ ان کے آنے والے دنوں کیلئے بہت خوش آئند ہے اور ان کے جارحانہ سٹروکس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کریز پر کھڑے ہوکر تیز رفتار بیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بات پھر وہی آجاتی ہے جس کی طرف رمیض راجہ نے اشارہ کیا ہے اور جس کی پاکستانی بلے بازوں میں شدت سے کمی ہے اور وہ تسلسل سے کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے، یہ بھی نہیں کہا جاتا کہ بیٹسمین ہر میچ میں ہی نصف سنچری بنا ئے یا سنچری سکور کرے لیکن یہ ضرور امید رکھی جاتی ہے کہ غلط شاٹس نہ کھیلے یا غلط موقع پر نہ آئوٹ ہو۔بیٹسمین میں لڑتے ہوئے کھیلنے کی لگن نظر آئے۔ فائٹنگ سپرٹ نظر آنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حیدر علی میں عمدہ سٹروکس کھیلنے کی صلاحیت ہے لیکن انہیں پالش کرنے کے ساتھ ساتھ میچ کی سیچوئیشن کے ساتھ کھیلنے کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ ان کی ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی سے اب یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے قومی ٹیم کے سلیکٹرز کے ریڈار میں آچکے ہیں اور اب کوئی وجہ نہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جائے ۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے اس وقت وہ فیورٹ قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ حیدر علی کو ٹیم میں شامل کرکے بیٹنگ لائن اپ کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے ۔ موجودہ پی ایس ایل سے یہ واحد بیٹسمین ہے جو کہ اچھا ٹیلنٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ حیدر علی اس سے پہلے بھی اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں ۔ اب یہ ہیڈ کوچ اور قومی سلیکٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بیٹسمین کو کس طرح نکھارتے ہیں۔ 
 
 
 

 

مزید پڑھیں

 کورونا وائرس کی عالمی وباء نے مختلف شعبہ ہائے زندگی کو ٹھکانے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جس میں کھیل بھی شامل ہیں جو برسہا برس تک خواہ محض شوق کی خاطر کھیلے جاتے ہوں لیکن اب ایک انڈسٹری کا روپ دھار چکے ہیں ،    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں