☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
ایشیا کپ کا انعقاد اہم چیلنج ثابت ہوگا

ایشیا کپ کا انعقاد اہم چیلنج ثابت ہوگا

تحریر : منصور علی بیگ

04-26-2020

 کورونا وائرس کی عالمی وباء نے مختلف شعبہ ہائے زندگی کو ٹھکانے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جس میں کھیل بھی شامل ہیں جو برسہا برس تک خواہ محض شوق کی خاطر کھیلے جاتے ہوں لیکن اب ایک انڈسٹری کا روپ دھار چکے ہیں ،
 

 

اس صنعت میں کی گئی سرمایہ کاری کو موجودہ صورتحال میں اچانک بریک لگ چکا ہے اور کھیلوں کی سرگرمیاں رک جانے کے باعث ان سے منسلک اداروں میں مالی بحران نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور ان منفی اثرات کا سامنا چھوٹے ہی نہیں بلکہ بڑے ممالک کو بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی فی الحال تو اس نوعیت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں کہ اسے اپنے ملازمین یا کھلاڑیوں کی تنخواہوں یا معاوضوں میں کمی اور کٹوتی کرنا پڑے لیکن رواں برس ایشیائی اور عالمی سطح کے ایونٹس کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا تو پھر یقینی طور پر مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کو مختلف قسم کی پریشانیاں لاحق ہیں جن میں سے ایک بھارت کیخلاف باہمی سیریز کے انعقاد میں ناکامی کے ساتھ پڑوسی ملک کی جانب سے مختلف معاملات پر اختلاف ہی نہیں سازشوں کا بھی سامنا ہے۔بھارت نے محض اپنے اثر و رسوخ کے سہارے پاکستانی ویمن ٹیم کیخلاف باہمی سیریز سے انکار کے باوجود تین قیمتی پوائنٹس ہتھیا کر براہ راست آئندہ برس ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کرلیا جبکہ باقی تین پوائنٹس شیئر کرنے والی پاکستانی ٹیم اب کوالیفائرز میں شریک ہوگی جو کہ بہترین چار ٹیموں میں شمولیت سے چار پوائنٹس پیچھے رہ کر منہ دیکھتی رہ گئی کیونکہ آئی سی سی حکام کو بھارتی وکلاء  پاکستان کی جانب سے ہرجانہ کیس میں یہ بات سمجھانے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ بی سی سی آئی بھارتی حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی بھی باہمی سیریز کھیلنے سے قاصر ہے لیکن آئی سی سی حکام کا بھولپن اپنی جگہ جنہیں یہ بات ہی سمجھ میں نہیں آسکی کہ بھارتی ٹیم کو کسی بھی ملک کیخلاف باہمی سیریز کی اجازت مل جاتی ہے لیکن پاکستان کیخلاف ان کا انکار اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

اگرچہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ بھارت قابل بھروسہ نہیں جس کیخلاف باہمی سیریز کھیلنے کا نہیں سوچ رہے کیونکہ پڑوسی ملک کیخلاف کرکٹ کھیلنا ان کیلئے مجبوری یا بقاء کی جنگ نہیں جو پہلے بھی دویا تین مرتبہ وعدہ کر کے مکر چکا ہے جس کے وعدوں پر یقین نہیں کیا جا سکتا لہٰذا باہمی سیریز کا انعقاد ممکن ہوتا ہے تو ٹھیک ورنہ ان کیخلاف آئی سی سی اور ایشیائی سطح کے ایونٹس ہی کافی ہیں اور ان مقابلوں کو بھی اس وجہ سے ترجیح دی جاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھا ہے اور آئندہ بھی یہی طرز عمل پیش نظر رکھا جائے گا۔پی سی بی کی جانب سے جاری پوڈکاسٹ میں احسان مانی نے رواں برس ایشیاء کپ کی میزبانی کے حوالے سے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایونٹ کا انعقاد سخت چیلنج ہے جس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ان کا کہنا تھا کہ حالات کی بہتری کے بعد ایشیاء کپ کا انعقاد لازمی طور پر کیا جائے گا کیونکہ یہ خطے کے چھوٹے ممالک کو فنڈز کی فراہمی کا بھی ذریعہ ہے ۔ایک جانب احسان مانی کی کوشش تھی کہ رواں برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ایشیاء کپ کا ستمبر میں انعقاد یقینی بنایا جائے تو دوسری جانب بھارتی میڈیا غیر معینہ مدت تک ملتوی کئے جانے والے ایونٹ آئی پی ایل کیلئے ستمبر کی متبادل ونڈو تلاش کرکے بیٹھا ہوا تھا اور یہ قیاس آرائی زوروں پر تھی کہ ایشیاء کپ کو رواں برس منسوخ کردیا جائے اور اس کی جگہ آئی پی ایل کا انعقاد ممکن بنایا جائے تاکہ بھارت کو خسارے سے بچایا جا سکے اور یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ بھارتی سرمایہ سب سے زیادہ کس خزانے میں جاتا ہے۔ایشیاء کپ کی میزبانی پاکستان کو ملنے کے بعد سے بھارت کی جانب سے مسلسل مخالفت کا سلسلہ جاری ہے جس نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا ہے اور بی سی سی آئی کے صدر سوراو گنگولی اگرچہ یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ایشیاء کپ کسی غیر جانبدار ملک میں کرایا جائے تو ان کی ٹیم بھی ایونٹ میں شرکت کر سکتی ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔ 
 احسان مانی کاایشیاء کپ کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ انہوں نے اس بابت کچھ افواہیں اور قیاس آرائیاں سنی ہیں اور انہیں اس بارے میں پڑھنے کا بھی موقع ملا کہ آئی پی ایل کی خاطر ایشیاء کپ کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن فی الوقت اس بات کو ذہن میں رکھا جائے کہ ایشیاء کپ رواں برس ہوتا ہے یا نہیں مگر یہ صرف دو ملکوں پاکستان اور بھارت کا معاملہ نہیں بلکہ اس میں دوسرے ایشیائی ممالک بھی ملوث ہیں جن کے مفادات کو صرف ایک ملک کے فائدے کی خاطر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔بھارتی میڈیا اپنی خبروں میں اس بات کی بھی وضاحت کر رہا ہے کہ بھارتی ٹیم کے سیکیورٹی خدشات اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث پاکستان جانے سے انکار کے بعد پی سی بی نے ایشیائی ایونٹ کی میزبانی دبئی اور ابوظہبی میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پہلے ہی اس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ پاکستان کو میزبانی دینے کا فیصلہ ایشین کرکٹ کونسل نے کیا تھا اور اس بات کا فیصلہ بھی اے سی سی اجلاس میں ہی ہونا ہے لہٰذا اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ واضح رہے کہ اس بابت حتمی فیصلہ مارچ میں ایشیائی ممالک کے اجلاس میں ہونا تھا جسے کورونا وائرس کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا تاہم اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی اس بات کی وضاحت کر چکا ہے کہ وہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی کیلئے  اس ٹورنامنٹ کو اپنے ملک میں کرانے کا خواہشمند ہے اور اگر بھارتی ٹیم پاکستان آنے سے انکار کرتی ہے تو اس کے میچز متحدہ عرب امارات میں کرائے جا سکتے ہیں البتہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ہی ممکن ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت کی جانب سے چالبازیاں جاری ہیں۔
چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ 2023ء تک کے پروگرام کے مطابق آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کو پاکستان کے دورے پر آنا ہے اور آنے والے برسوں کے دوران کچھ مقابلے سے بھرپور سیریز کھیلی جائیں گی اور فی الوقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان سیریز کی مارکیٹنگ کس طرح کی جائے کیونکہ موجودہ حالات میں براڈ کاسٹرز پر بھی کافی پریشر ہے اور معاشی مشکلات کے پیش نظر خدشہ ہے کہ وہ ماضی کی طرح مالی اعتبار سے بھاری معاہدے نہ کر سکیں لہٰذا متبادل ذرائع پر بھی نگاہ رکھنی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کا سب سے بڑا اور اہم اسپانسر پیپسی ہے لیکن بورڈ اور اس کے اسپانسر کو اپنے طور پر بعض پہلوؤں پر ضمانت چاہئے کہ ملک میں کرکٹ کی واپسی کب تک ممکن ہو سکے گی کیونکہ موجودہ حالات کیا رخ اختیار کریں گے اس کا کسی کو بھی علم نہیں ہے۔ احسان مانی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان حالات میں نقصان کا اندیشہ تو رہتا ہے لیکن اس وقت اس پہلو کے بارے میں بھی نہیں سوچا جا رہا کیونکہ یہ صورتحال غیر معمولی ہے اور ایسے میں وہ ملکی گراؤنڈز کی تزئین و آرائش کا منصوبہ فی الحال ترک کر دیں تو دو سے تین سال تک انہیں مالی طور پر کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔رواں برس انگلینڈ کے دورے کیلئے پرامید احسان مانی نے واضح کیا کہ وہ ذہنی طور پر کسی بھی نوعیت کی پریشانی یا مشکلات کیلئے تیار ہیں کیونکہ جو منصوبہ بندی کی گئی تھی اس کے مطابق کچھ بھی ہونا ممکن نظر نہیں آرہا البتہ توقع ہے کہ انگلینڈ کا دورہ ممکن ہو سکتا ہے جس کیلئے دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور جس طرح حالات چل رہے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی حمایت اور باہمی تعاون کیا جائے جس کیلئے وہ ای سی بی کے ساتھ مل کرکسی متبادل مقام پر سیریز کیلئے بھی آمادہ ہو سکتے ہیں ۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ رواں برس ایشیاء کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے بعد آسٹریلیا میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد پاکستان ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے ممالک کیلئے بھی اہمیت کا حامل ہے جن کی مالیات کو کافی سہارا مل سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ نے ایک جانب حالیہ مقابلوں کا تیا پانچہ کردیا ہے تو مستقبل کے ایونٹس کے متعلق بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ احسان مانی بند دروازوں کے پیچھے میچوں کی تجویز کے ویسے بھی حامی نہیں جن کا کہنا تھا کہ شائقین کے بغیر خالی اسٹیڈیمز میں میچز کرانے کا فیصلہ کر بھی لیا جائے تو لاجسٹک مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے کیونکہ کوئی بھی ٹیم جہاز میں سوار ہوگی تو خطرہ اسی وقت شروع ہو جائے گا جبکہ ہوٹل میں قیام اور سفری مسائل تو اپنی جگہ ہوں گے لہٰذا موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھنا ہوگا کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور پھر اسی لحاظ سے پلاننگ میں ردو بدل کرنا ہوگا اور یہ سب وقت کے ساتھ ہی ممکن ہے کیونکہ عام حالات کی طرح پہلے سے کوئی منصوبہ بندی ممکن نہیں ہے۔ 
چیئرمین پی سی بی کو یقین ہے کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں حالیہ نقصانات کے باوجود تنخواہوں میں کٹوتی زیر غور نہیں جبکہ ریٹائرڈ کرکٹرز کی پنشن اور ڈومیسٹک کرکٹرز کے معاہدے بھی برقرار رکھے جائیں گے کیونکہ 
 پی سی بی کی اولین ترجیح اس کے کھلاڑی اور ملازمین ہیں جن کے بغیر بورڈ کا تصور بھی ممکن نہیں لہٰذا ریٹائرڈ کرکٹرز کی پنشن اور ڈومیسٹک کرکٹرز کے کنٹریکٹس بھی برقرار رکھیں گے حالانکہ پی ایس ایل کے قبل وقت  اختتام کی وجہ سے کم و بیش پانچ اعشاریہ دو ملین ڈالرز کا نقصان ہواجس کو دیگر ذرائع سے پورا کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔واضح رہے کہ احسان مانی کی جانب سے پی سی بی کے اہم ترین معاملات پر جو باتیں سامنے آئیں اور انہوں نے حال سے لے کر مستقبل کے حوالے سے جس منصوبہ بندی کو واضح کیا اس سے کچھ لوگ بالکل بھی متاثر نہیں ہوئے جس میں سابق قومی کپتان عامر سہیل بھی شامل ہیں ۔عامر سہیل کا کہنا تھا کہ  ادارے اغراض و مقاصد کے تحت چلا کرتے ہیں مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے بارے میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ یہ ادارہ دو قدم آگے جانے کے بعد چار قدم پیچھے چلا جاتا ہے جسے کسی بھی ادارے کی ترقی نہیں بلکہ بربادی کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے حالیہ بحران کے باعث فی الحال پی سی بی کو کچھ وقت مل گیا ہے البتہ بحران کے خاتمے پر بورڈ حکام کو عدالتی محاذ پر پیش ہونا پڑے گاکیونکہ احسان مانی ایک مخصوص ایجنڈے کے مطابق بورڈ کے معاملات کو چلا رہے ہیں۔
اس پہلو سے بھی صرف نظر ممکن نہیں کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سبحان احمد،ہارون رشید،شفیق پاپا،آغا زاہد اور علی ضیاء کی بورڈ سے رخصتی کا پروانہ جاری ہو چکا ہے کیونکہ چیف ایگزیکٹو وسیم خان ایک نیا سیٹ اپ لانا چاہتے ہیں اور انہوں نے برسہا برس سے کام کرنے والے ملازمین کی وکٹیں گرانا شروع کردی ہیں لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ وہ جن افراد کو اب منظر پر ابھارنے چلے ہیں ان کی اہلیت پر پہلے سے ہی سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں جن میں سے ایک ڈیوڈ پارسنز بھی ہیں جن کو گزشتہ برس نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ کرایا گیا اور اب وہ ہائی پرفارمنس سینٹر میں تبدیل ہونے والی اکیڈمی میں کنسلٹنٹ کا عہدہ سنبھالیں گے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بطور کوچ ڈیوڈ پارسنز نے نیشنل کوچ کے علاوہ ای سی بی کے پرفارمنس ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات کی انجام دہی کی لیکن کیا اس پہلو کو نظر انداز کرنا ممکن ہے کہ اسکول کے زمانے میں کرکٹ کے ساتھ طویل فاصلے کی دوڑ کیلئے معروف ڈیوڈ پارسنز کے کرکٹ کیریئر میں محض ایک نمایاں میچ کا تذکرہ ملتا ہے جب انہوں نے 1981ء میں ٹورنگ سری لنکن ٹیم کی جانب سے مائنر کاؤنٹیز الیون کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک رن بنانے کے ساتھ ایک وکٹ حاصل کی تھی اور ان کی اس کمزوری کو سہارا دینے کیلئے  پی سی بی نے اس پوسٹ کیلئے جو اشتہار دیا ہے اس میں کرکٹ کیریئر کے حوالے سے شرائط نرم رکھی گئی ہیں اور یہی وہ تمام باتیں ہیں جن کو بنیاد بنا کر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے رکن اقبال محمد علی نے بھی پی سی بی حکام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمے پر چیئرمین احسان مانی سے کرکٹ کے سسٹم پر بات چیت کی جائے گی جنہوںنے سوچے سمجھے بغیر ڈپارٹمنٹس اور ریجنز بند کر کے ان کے دروازوں پر تالے ڈال دیئے مگر اپنے مفاد کی خاطر وہ علاقائی اور ادارتی نمائندوں کے ساتھ گورننگ بورڈ کی سیاست چلا کر مرضی کے فیصلے کر رہے ہیں جن کی قانونی حیثیت کاکوئی تعین ہی نہیں ہے ۔کوئی شک نہیں کہ بہت سارے اچھے کاموں کے ساتھ پی سی بی حکام کو اپنے ان فیصلوں کی جوابدہی کرنا ہی ہوگی جن سے فی الحال کورونا وائرس نے انہیں بچا لیا ہے۔ 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

مزید پڑھیں

کیمبل بور ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے حیدر علی اکتوبر 2002 میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلتے رہے ، والدین نے سپورٹ کیا، خاص طور پر والد نے حوصلہ افزائی کی۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں