☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
بدعنوانی کا عفریت کورونا سے بھی خطرناک

بدعنوانی کا عفریت کورونا سے بھی خطرناک

تحریر : منصور علی بیگ

05-03-2020

 کسی بھی سڑک یا شاہراہ پر دوران سفر ’’رانگ سائیڈ ‘‘سے سامنے آنے والا کوئی شخص اچانک آپ کو بوکھلاہٹ کا شکار تو کر ہی سکتا ہے لیکن اس کی جانب سے گھورنا زیادہ حیران کن ہوتا ہے
 

 

گویا وہ بالکل ٹھیک اور آپ سراسر غلط ہوں،بالکل ایسا ہی طرز عمل حالیہ عرصے کے دوران کرکٹ کے کھیل میں بھی نمایاں رہا ہے جہاں بے ایمان اور بدعنوان افراد تو خوب کھل کر باتیں بنا رہے ہیں جبکہ ایماندار اور سچائی کا علم بلند کرنے والے خاموشی کے ساتھ تماشہ دیکھنے پر مجبور ہیں جن کو قانون بنانے والے آئے روز پالیسیوں کیخلاف زبان بندی پر مجبور کرتے رہتے ہیں جن کو پیغام دے دیا جاتا ہے کہ اگر انہیں پاکستان کیلئے مزید کرکٹ کھیلنا ہے تو دوسروں پر انگلیاں نہ اٹھائیںاور یہی وہ طرز عمل ہے جس نے پاکستان کرکٹ کو بدعنوانی کے چنگل میں جکڑ رکھا ہے اور آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ عالمی سطح پر پاکستان کی ’’نیک نامی‘‘میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔سابق کھلاڑیوں کی جانب سے بدعنوانی کو قانون سازی کر کے باضابطہ جرم قرار دینے کے مطالبات میں اگرچہ پی سی بی نے خود بھی اپنی آواز شامل کرلی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ماضی سے لے کر حال تک اس کی جانب سے کھیل میں بے ایمانی کے حوالے سے دوعملی نمایاں رہی ہے جس کے باعث آج سابقہ کھلاڑیوں کی اکثریت یہ کہنے پر مجبور ہے کہ اگر پی سی بی کی طرف سے ڈھیل نہ دی جاتی اور ملوث افراد کڑی سزاؤں کا شکار بنائے جاتے تو اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا تھا۔کس قدر عجیب سی صورتحال ہے کہ جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر وسیم اکرم کو پاکستانی ٹیم کیلئے کوئی عہدہ دینے سے گریز کیا جاتا ہے لیکن وہ کبھی چیئرمین پی سی بی کے مشیراورکبھی کرکٹ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے فرائض کی انجام دہی کرتے دکھائی دیتے ہیں اور انہیں پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز بھی ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں۔جسٹس قیوم رپورٹ میں جن کھلاڑیوں کو منفی حرکات کے باعث جرمانوں کا مستحق سمجھا گیا ان میں سے بیشتر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مختلف عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن اس بارے میں آوازیں بلند کرنے والے سابق کھلاڑیوں کی ایک نہیں سنی جاتی جو یہ کہتے تھک چکے ہیں کہ ایسی دو عملی کے ساتھ میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ کو نکیل ڈالنا ممکن نہیں ہے۔

2010ء کے لندن اسپاٹ فکسنگ کیس کی مثال ہی سامنے رکھی جائے کہ محمد عامر کو آئی سی سی کی حمایت کے باعث پی سی بی حکام نے کاندھوں پر بٹھا کر کھیل میں واپسی کا راستہ دے دیا لیکن اسی اسکینڈل میں ملوث سلمان بٹ اور محمد آصف تمام تر کوششوں کے باوجود ڈومیسٹک کرکٹ تک ہی محدود رکھے گئے اور ان کی بہترین کارکردگی کو بھی بالائے طاق رکھ دیا گیا ۔یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ محمد عامر کو اسکینڈل سامنے لانے اور بروقت اعتراف کا ’’صلہ‘‘دیا گیا جبکہ سلمان بٹ اور محمد آصف کا طویل عرصے تک خود کو بے قصور قرار دینا راہ کی رکاوٹ ثابت ہوا جنہوں نے مجبوری کے عالم میں یہ دیکھتے ہوئے اپنا جرم قبول کرنے میں عافیت سمجھی کہ اگر وہ اپنا گناہ تسلیم کر لیں گے تو انہیں کم از کم ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کا راستہ مل جائے گا لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اسی دوران بدعنوانوں کی اس تکون کے ساتھ جن لوگوں کے نام سامنے آئے انہیں کچھ عرصے تک نظر انداز کر کے خاموشی سے آگے بڑھنے کا راستہ دے دیا گیااو ر وہ آج بھی کھیل سے منسلک ہیں۔وکٹ کیپر بیٹسمین ذوالقرنین حیدر اور دانش کنیریا کے علاوہ سلیم ملک جیسے کردار آج بھی ہر کچھ روز بعد میڈیا میں دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں جن کی واحد کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی طور کھیل میں واپسی کو ممکن بنالیںلیکن انہیں معافی نہیں ملتی کیونکہ کرکٹ سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے دعویدار کسی کے ساتھ سختی اور کسی کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں جنہوں نے شرجیل خان کی پی ایس ایل میں واپسی کے بعد شاید انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے کا ذہن بھی بنالیا ہے لیکن کیا یہ دو عملی نہیں کہ خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کا اب کوئی تذکرہ بھی نہیں کرتا جبکہ محمد عرفان اور محمد نواز جیسے کھلاڑی جو اپنی سزاؤں کی تکمیل کے بعد کھیل میں دوبارہ قدم رکھنے میں کامیاب ہوئے اچانک ہی سرفہرست کھلاڑیوں کی قطار سے باہر کردیئے گئے جن کو ٹاپ لیول پر کھلانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جن کھلاڑیوں کا یہاں تذکرہ کیا گیا وہ صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی بھی شک سے بالاتر تھے لیکن ان کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا گیا ۔بدعنوان کرکٹرز کی قومی ٹیم میں واپسی کے مخالف رمیز راجہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں جبکہ محمد حفیظ اور اظہرعلی کی سوچ بھی تبدیل نہیں کی جا سکی لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ راست اقدامات سے گریزاں ہے جس نے مختلف کرداروں کیلئے الگ رویہ اپنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی کا عفریت اس ملک کی کرکٹ سے کھرچ پھینکنا ممکن نہیں رہا ہے اور جاوید میانداد جیسے عظیم کردار کا یہ کہنا کہ’’بدعنوانی کر کے پیسہ کماؤ،معافی مانگو اور واپس آجاؤ‘‘ اسی طرز عمل کا عکاس ہے۔
ملکی کرکٹ میں بدعنوانی کیخلاف تازہ ’’مہم جوئی ‘‘کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شرجیل خان کی قومی ٹیم میں ممکنہ واپسی پر آل راؤنڈر محمد حفیظ نے آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کھلاڑی کی قومی ٹیم میں واپسی کیلئے استعداد کار،اہلیت اور صلاحیت ہی کافی ہے یا ایمانداری اور فخر کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔اس کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لے لیا اور چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے بھی محمد حفیظ کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں ہدایت کردی کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر انگلیاں اٹھانے سے گریز کریں اور اپنے کام سے کام رکھیں جس پر محمد حفیظ کو خاموشی اختیار کرنا پڑی جو اس سے قبل ماضی میں محمد عامر کی واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے بھی اس وقت کے پی سی بی حکام کی جانب سے لتاڑے گئے تھے جب انہوں نے اظہرعلی سمیت قومی کیمپ میں شمولیت سے انکار کیا تھا لیکن انہیں اپنا کیریئر بچانے کی خاطر اس وقت بھی محمد عامر کے ساتھ کرکٹ کھیلنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔اگرچہ اس بار ’’پروفیسر‘‘تنہا نہیں کیونکہ جاوید میانداد ،شاہد آفریدی اور ظہیر عباس جیسے بڑے نام بھی بدعنوان پلیئرز کیخلاف سخت اقدامات کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں اور جاوید میانداد نے تو بے ایمانوں کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے سے گریز نہیں کیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک جانب کرکٹ کو چلانے والے ان کی بات سننا بھی گوارہ نہیں کر رہے تو جن لوگوں کیخلاف یہ بیانات دیئے جا رہے ہیں وہ یہ جواز پیش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کی سزا پوری کر چکے لہٰذا انہیں دوسرا موقع ملنا چاہئے۔ سابق قومی کپتان سلمان بٹ نے دعویٰ کیا کہ اپنی کسی غلطی پر پابندی یا سزا کا عرصہ مکمل کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ عام کرکٹرز جیسا سلوک ہونا چاہئے کیونکہ مروجہ قوانین کے مطابق بھی وہ برابری کے سلوک کے مستحق ہیں۔انہوں نے بڑے جذباتی انداز سے واضح کیا کہ ان افراد کی ایمانداری اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب وہ سزا یافتہ کھلاڑیوں سے ملتے جلتے یا ان کے ساتھ کام کرتے ہیں اور وہ اس وقت سچائی سے کام کیوں نہیں لیتے جب وہ ایسے کھلاڑیوں کو بھی قبول کر لیتے ہیں جو اپنے تعلقات کی بنیاد پر ٹیم میں منتخب ہو کر حقداروں کو ان کے حق سے محروم کر دیتے ہیں اور ان کی ایمانداری اس وقت کہاں رخصت ہو جاتی ہے جب ٹیم میں داخل ہونے والے ان کھلاڑیوں کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ نقصان اٹھاتی ہے۔
سلمان بٹ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ داغدار پلیئرز سے متعلق بات کرنے والوں کو کچھ بھی کہتے ہوئے سوچنا چاہئے کیونکہ ہر ایک نے اس قسم کی باتیں شروع کردیں تو ان کا کسی طرح بھی خاتمہ نہیں ہوگالہٰذا وہ کسی کا نام لینے کے بجائے اتنا ہی کہیں گے کہ آئی سی سی کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ مسئلہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ان کھلاڑیوں کو قابو کیا جائے جو بعض معاملات پر بات کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے ہیں۔کس قدر حیران کن امر ہے کہ بدعنوانی کیخلاف آواز اٹھانے والے پلیئرز کو خاموشی کی تلقین کی جا رہی ہے لیکن پی سی بی اور آئی سی سی کی جانب سے انکی زبان بندی نہیں کی جاتی جو ملک کا نام مٹی میں ملانے کے بعد اب سچائی سے کام لینے والوں کو منافق قرار دینے سے گریز نہیں کر رہے اور یہ معاملہ کسی طرح قابو میں نہیں آرہا ہے۔سلمان بٹ،محمد آصف اور دانش کنیریا کی جانب سے آئے روز سوشل میڈیا پر نت نئے بیانات داغ دیئے جاتے ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انہیں کوئی وارننگ نہیں دی جاتی کہ وہ خاموش رہیں اور کھیل کے حوالے سے پالیسی معاملات پر بیان بازی سے گریز کریں جس کی وجہ شاید یہی ہے کہ پی سی بی سے بھی پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ کے معاملے پر کہیں نہ کہیں کوتاہی ہوئی جس کی وجہ سے اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہائی پروفائل میڈیا کمپنی کی جانب سے معذرت موصول ہو چکی ہے جس نے پی سی بی کے علم میں لائے بغیر شرطیں لگانے والے برطانوی ادارے کو پی ایس ایل فائیو لائیو اسٹریمنگ کے حقوق فروخت کردیئے تھے تاہم اس حوالے سے مختلف پہلو اب بھی سامنے لائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے سابق کھلاڑی راشد لطیف کو بھی یہ کہنا ہی پڑا کہ میچ فکسنگ کے معاملے پر ہمیشہ کرکٹرز ہی پھنس جاتے ہیں جبکہ کرکٹ کو چلانے والے افراد سے کچھ پوچھا تک نہیں جاتا جن کی جانب سے بدعنوانی کو ختم کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے نہیں جاتے۔
حالیہ عرصے میں کراچی کے میڈیا کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کے دوران راشد لطیف نے سوال اٹھایا کہ کیا بدعنوانی میں صرف کرکٹرز ہی ملوث ہیں کیونکہ کرکٹ کو چلانے والے افراد سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہئے اور کرکٹرز پکڑے جاتے ہیں تو ان آفیشلز پر بھی نگاہ رکھی جائے جو کھیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے آئی سی سی اور مختلف ممالک کے کرکٹ بورڈز کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے واضح کیا کہ بدعنوانی کے ذمہ دار صرف کرکٹرز نہیںبلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو کمزور قوانین بنا کر ان کا اطلاق کرتے ہیں۔شرجیل خان کی ممکنہ واپسی پر سابق وکٹ کیپر بیٹسمین کا کہنا تھا کہ داغدار کرکٹرز کو نیشنل ٹیم کے بجائے صرف ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی اجازت دی جائے کیونکہ آئی سی سی جو قوانین بناتی ہے اس کی تمام  ممالک کے کرکٹ بورڈز پاسداری کرتے ہیں مگر ان قوانین کی وجہ سے اکثر بدعنوان کرکٹرز کو واپسی کی اجازت مل جاتی ہے جن کو زندگی گزارنے کیلئے محض ڈومیسٹک کرکٹ تک ہی محدود رکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی میں ملوث افراد کیخلاف دنیا کے دیگر ممالک میں کیس بنائے جاتے ہیں تاہم پاکستان میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کر کے کھیل میں بدعنوانی کو جرم قرار دیا جائے اور کھلاڑیوں کی جائیدادیں بھی قبضے میں لی جائیں۔راشد لطیف کا یہ جواز بالکل درست ہے کیونکہ ابھی تک ہوتا یہ آیا ہے کہ کھلاڑی بدعنوانی کے بعد پکڑے جانے پر سزا کے مستحق تو سمجھے جاتے ہیں لیکن ان سے وہ پیسہ واپس نہیں لیا جاتا جو انہوں نے بے ایمانی کے کسی بھی واقعے میں وصول کیا ہوتا ہے۔پی سی بی کی جانب سے موثر پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ہی دانش کنیریا اور سلمان بٹ کو سوشل میڈیا پر باتیں بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور سلیم ملک بھی اپنی واپسی کی دہائیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جب بھی کوچنگ کیلئے کوشش کی تو انہیں نظر انداز کیا گیا حالانکہ انہیں سول کورٹ کی جانب سے دو ہزار آٹھ میں کلیئر کردیا گیا تھا اور تاحیات پابندی کی سزا ختم ہونے کے بعد ان پر قانونی اعتبار سے ملک کی دوبارہ خدمت کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں اور جب محمد عامر،سلمان بٹ اور اب شرجیل خان کو کھیل میں واپسی کا موقع دیا گیا ہے جو پی ایس ایل میں بھی کھیل رہے ہیں تو یہی موقع انہیں کیوں نہیں مل سکتا کیونکہ وہ بھی پاکستان کرکٹ کی کسی بھی طرح خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ 
پی سی بی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسرعارف علی خان عباسی کا کہنا ہے کہ کرکٹ سے بدعنوانی کا عنصر مکمل طور پر اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں کیونکہ اس معاشی قوت کو انتظامی سطح پر کسی طرح بھی کنٹرول نہیں کیا جا سکتا البتہ پارلیمنٹ کی سطح پر کی جانے والی کسی بھی قانون سازی کے نتیجے میں بدعنوانی کا عفریت کھیل سے مکمل طور پر ختم کردیا جاتا ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی ورنہ حقیقت یہی ہے کہ کرکٹ میں بدعنوانی کا معاملہ صدیوں پرانا ہے جسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا جس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی قوت بن جانے والے مسئلے کو انتظامی پیمانوں پر کنٹرول کرنے کے مثبت نتائج نہیں آسکتے البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ اس میں کچھ کمی واقع ہو جائے۔سچائی یہی ہے کہ اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بدعنوانی کا سلسلہ مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے موثر اقدامات کرنا ہی ہوں گے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب کھلاڑیوں کے ساتھ اسے بھی متعدد الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سلمان بٹ،محمد آصف ،سلیم ملک،دانش کنیریا اور سلیم ملک جیسے کھلاڑیوں نے اپنے وقتوں میں پاکستان کرکٹ کی خدمت کی لیکن ان سے جو غلطیاں یا کوتاہیاں سرزد ہوئیں ان کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ انہیں دوبارہ کرکٹ کے کھیل میں ذمہ داریاں سونپی جائیں کیونکہ آئی سی سی کے ریکارڈ میں اب بھی ان میں سے کچھ کرکٹرز مکمل طور پر کلیئر نہیں جن کی جانب سے واپسی کی کوشش نئے معاملات کو سامنے لا سکتی ہے جس سے پاکستان کرکٹ کی مزید بدنامی کا خدشہ ہے لہٰذا اس بارے میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کئے جائیں اور پی سی بی محض پارلیمنٹ سے بدعنوانی کو جرم قرار دینے کی سعی نہ کرے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ اس کھیل سے بدعنوانی کا عفریت ہمیشہ کیلئے رخصت کردیا جائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک کو بدنامی کی دلدل میں دھکیلنے والوں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کی جائے کیونکہ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دو عملی کا رویہ پاکستان کرکٹ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے بلکہ ’’رانگ سائیڈ‘‘سے آنے والے سیدھے راستے پر چلنے والوں کو بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں۔
 
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں