☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
سپورٹس راؤنڈ اپ

سپورٹس راؤنڈ اپ

تحریر : عابد حسین

05-10-2020

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ
بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

  مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ انڈیا کی ٹیم پاکستان سیریز کھیلنے گئی ہوئی تھی۔ سیریز کے آخری میچ میں میرے والد میچ دیکھنے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ وہ میرے پاس آئے اورکہا میں پاکستان کے ڈریسنگ روم میں جانا چاہتا ہوں اور میانداد سے ملنا چاہوں گا، میں نے انہیں منع کیا ۔
عرفان پٹھان نے مزید کہا، ’حالانکہ میرے والد نے بات نہیں مانی اور وہ پاکستان کے ڈریسنگ روم میں جا پہنچے۔ جیسے ہی میرے والد کو جاوید میانداد نے دیکھا وہ کھڑے ہوگئے۔ میرے والد صاحب کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی اور انہوں نے کہا، میں آپ کو کچھ کہنے کیلئے نہیں آیا۔ میں توآپ سے ملاقات کرنا چاہتا تھا، آپ کافی اچھے کھلاڑی تھے۔سال 1999 میں پاکستان کے ساتھ ہوئے کارگل جنگ کے بعد 2004 میں ہندوستان کا یہ پہلا پاکستانی دورہ تھا۔

شعیب اختر کا دھونی کو مشورہ ۔۔


عالمی کپ کے بعد سے ہی ہندوستان کے تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کرکٹ کے میدان سے دور ہیں۔ ایسے میں ان کے مستقبل کو لیکرکئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ حالانکہ ایسی امید کی جارہی ہے کہ دھونی اس سال ہونے والے ٹی20 عالمی کپ کے بعد ہی ریٹائر منٹ لے لیں گے۔ مگر پاکستان کے سابق تیز فاسٹ بائولر شعیب اخترکا کہنا ہے کہ دھونی کو گزشتہ سال عالمی کپ کے بعد سے ہی ریٹائرمنٹ لے لینا چاہئے تھی۔ انہوں نے کہاکہ وہ نہیں جانتے کہ دھونی نے یہ فیصلہ اتنے طویل عرصے تک کیوں لٹکائے رکھا ہے۔ شعیب اختر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دھونی کو شاندار طریقے سے الودا ع کہا جائے گا۔ شعیب اختر نے کہا کہ دھونی نے اپنی پوری صلاحیت سے کرکٹ کھیلی ہے۔ انہیں پورے احترام کے ساتھ کرکٹ کو الوداع کہنا چاہئے۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اسے اتنا لمبا کیوں کھینچا۔ میں چھوٹے فارمیٹ میں تین چار سال اورکھیل سکتا تھا، لیکن میں نے (عالمی کپ 2011 کے بعد) ریٹائرمنٹ لے لی۔ کیونکہ میں کھیل کو سو فیصد نہیں دے پا رہا تھا۔ یاد رہے کہ دھونی نے گزشتہ سال جولائی میں عالمی کپ سیمی فائنل کے بعد کوئی ٹورنامنٹ نہیں کھیلا ہے۔

جب پاکستانی کھلاڑیوں نے شاستری کو سوئمنگ پول میں پھینک دیا


کرکٹ کے میدان پر پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے درمیان جتنا سخت کھچائو دیکھنے کو ملتا ہے، اسٹیڈیم کے باہر دونوں ملکوں کے کھلاڑیوں کے درمیان اتنی ہی دوستی بھی رہی ہے ۔ میدان پر رقابت و مخالفت کے قصے تو اکثر آپ کو سننے کو ملتے رہتے ہیں لیکن پاکستان کے سابق بیٹسمین جاوید میانداد نے دونوں ٹیموں کے مابین پیش آنے والا ایک ایسا قصہ بیان کیا ہے جسے سن کرآپ کو بہت مزہ آئے گا۔ دراصل، یہ واقعہ پاکستانی ٹیم کے دورہ انڈیا کا ہے جب عمران خان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے ہوٹل میں ہلا گلا کیا تھا۔
دراصل، جاوید میانداد نے اپنے یوٹیوب چینل پر اس قصے کو یاد کرتے ہوئے بتایا۔ تب اس دورے پر بنگلور ٹیسٹ کے دوران دونوں ٹیمیں ایک ہی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ تب کھلاڑیوں کے پاس زیادہ کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ شام کو سبھی ایک ساتھ وقت گزارتے تھے۔ میانداد نے کہا کہ وہ ہولی کے آس پاس کے دن تھے۔ لوگوں نے ہوٹل میں ہولی کھیلنا شروع کر دی۔ مجھے یاد ہے کہ عمران خان کے کمرے میں کوئی ایک دوسرے پر رنگ انڈیل رہا تھا۔ ہم نے ہندوستانی کھلاڑیوں کو بھی نہیں چھوڑا اور ظاہر سی بات ہے انہیں بھی اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔
جاوید میانداد نے ساتھ ہی کہا کہ اس دوران جب سبھی ہولی کھیل رہے تھے، روی شاستری چھپنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم سبھی ان کے کمرے میں داخل ہوئے، انہیں اٹھایا اور ہوٹل کے سوئمنگ پول میں پھینک دیا۔ ہم سبھی نے اس لمحہ کا بھرپور لطف اٹھایا۔

ثقلین مشتاق نے ٹنڈولکر کی وکٹ کو یادگار قرار دیدیا


پاکستان کے سابق اسپنر ثقلین مشتاق نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی اسپن بولنگ سے متعدد بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچایا ہے۔ انہوں نے قومی ٹیم کے لئے 400 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن وہ ان وکٹوں میں سچن ٹنڈولکر کی وکٹ کو سب سے قیمتی قرار دیتے ہیں۔ 43 سالہ ثقلین مشتاق نے 1999 میں چنئی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے سے متعلق اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سچن کو دوسرا پھینکنے میں ڈر لگتا تھا۔ پاکستان کے خلاف 1999 میں انہوں نے اپنی عمدہ بیٹنگ کی مہارت کا مظاہرہ کیا اور بھارتی ٹیم کو ایک وقت 81 رنز پر پانچ وکٹ گنوانے کی صورتحال سے چھ وکٹ پر 218 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے وکٹ کیپر بلے باز نین مونگیا (52) کے ساتھ حیرت انگیز شراکت کی ، جس نے میزبان ٹیم کو فتح کے قریب پہنچا دیا۔ایسا لگتا تھا کہ 46 سالہ سابق ہندوستانی بلے باز شاید اپنی ٹیم کو اکیلے ہی جیت کی منزل پر پہنچا دیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا ، کیونکہ ثقلین مشتاق نے انہیں کھیل کے اہم مرحلے پر آؤٹ کردیا۔ اس کے سبب ٹیم انڈیا 258 کے اسکور پر آؤٹ ہوگئی اور میچ 12 رنز سے ہار گئی۔ ثقلین مشتاق نے کہا کہ سچن ٹنڈولکر اس میچ میں اپنی بہترین کارکردگی کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ وہ حریف بائولرز کو پڑھ کر آسانی سے گیند کے مقام کا اندازہ لگا رہے تھے ، جس کی وجہ سے وہ باؤنڈری اسکور کرنے میں کامیاب ہورہے تھے۔ میچ کے ایک مرحلے پر ثقلین مشتاق بھارتی بلے باز کے خلاف دوسرا ڈالنے سے خوفزدہ ہوگئے ، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ سچن دوسرا پر آسانی سے چوکا لگا دیں گے۔ثقلین مشتاق نے بتایا کہ بائولنگ کے دوران مجھے چند چوکے کھانے پڑے ، لیکن آخر کار میں سچن کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہا۔ سچن کی آنکھیں تیز تھیں اور وہ بائولر کے دماغ میں چلنے والے منصوبوں کو پڑھ سکتے تھے۔ یہ بہت ڈراؤنا تھا۔ آپ یقین نہیں کریں گے ، لیکن میں انہیں دوسرا ڈالنے میں ڈر رہا تھا ، مجھے ڈر تھا کہ دوسرا گیند کا حشر کہیں چوکے یا چھکے کی شکل میں برآمد نہ ہو۔
ثقلین مشتاق نے مزید کہا کہ شاید اس دن خدا ان پر مہربان تھے ، کیونکہ انہوں نے اس ٹیسٹ میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ تاہم یہ ان کے مقدر میں پہلے ہی لکھا ہوا تھا ، لہذا وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے۔ اور ٹنڈولکر کی وکٹ لے لی ۔اور ہم میچ جیت گئے ۔ یہ یادگار لمحہ تھا۔

کرکٹرعمران طاہر کی قسمت کیسے بدلی


عمران طاہر پاکستانی نژاد جنوبی افریقہ کے بہترین اسپنرز میں شامل ہیں۔ ان کی پیدائش لاہور میں 1979 میں ہوئی ۔ اپنے گھر کے سب سے بڑے بیٹے ہونے کی وجہ سے انہیں کم عمری میں ہی نوکری کرنا پڑی۔ 16 سال کی عمر میں ہی وہ ایک مال میں سیلز مین کی نوکری کرتے رہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں کرکٹ کھیلنے کا بھی شوق تھا۔
عمران طاہر کی قسمت اس وقت بدل گئی جب ان کی سلیکشن پاکستان کی انڈر 19 ٹیم میں ہوئی اور پاکستان کی اے ٹیم میں بھی کھیلے۔انہوں نے 1998 میں پاکستان کیلئے انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلا تھا۔ اس کے بعد وہ جنوبی افریقہ چلے گئے اور محدود اوورز کی فارمیٹ میں انہوں نے اپنی ایک الگ ہی شناخت بنالی ہے۔عمران طاہر 1998 میں پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے ساتھ جنوبی افریقہ کے دورہ پر گئے تھے۔ یہاں ان کی ملاقات جنوبی افریقہ میں رہ رہی ایک بھارتی نزاد لڑکی سومیہ دلدار سے ہوئی۔ جو محبت میں تبدیل ہوگئی ۔انہوں نے 2006 میں سومیہ دلدار سے شادی کرلی اور پھر جنوبی افریقہ چلے گئے۔ شادی کے کچھ وقت بعد عمران طاہر کو جنوبی افریقہ کی شہریت مل گئی۔جنوبی افریقہ میں طاہر کا کرکٹ سفر ڈالفنس ٹیم کے ساتھ شروع ہوا اور پھر وہ ٹائٹنز کے ساتھ کھیلتے ہوئے قومی ٹیم کی جرسی پہننے میں کامیاب ہوگئے۔طاہر نے اپنے 32 ویں یوم پیدائش سے ایک ماہ پہلے فروری 2011 میں جنوبی افریقہ کیلئے ڈیبیو کیا۔عمران طاہر کا ڈیبیو کافی تاخیر سے ہوا ، لیکن موجودہ وقت میں ان کا تجربہ کسی بھی کرکٹر سے زیادہ ہے۔ وہ دنیا کی کل 37 ٹیموں کا حصہ رہ چکے ہیں۔عمران طاہر جنوبی افریقہ ، چنئی سپرکنگز ، دہلی ڈئیرڈیولز ، ڈربی شر ، ڈولفنز ، ڈرہم ،ملتان سلطان، پاکستان اے ، پاکستان انڈر 19 سمیت 37 ٹیموں کیلئے کرکٹ کھیل چکے ہیں۔انہوں نے جنوبی افریقہ کی جانب سے 100 سے زیادہ ون ڈے میچ کھیلے ہیں۔

وسیم اکرم بھارتی بائولر محمد شامی کے استاد نکلے


محمد شامی کو اس وقت ٹیم انڈیا کا سب سے بڑا میچ ونرکھلاڑی کہا جاسکتا ہے۔ محمد شمی نے ونڈے، ٹی20 اورٹیسٹ تینوں فارمیٹ میں ہندوستان کو کئی میچ جتوائے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں تو ان کی کارکردگی بہترین رہی ہے اور انہوں نے اپنی سوئنگ، رفتار سے مخالف بیٹسمینوں کو خوب پریشان کیا ہے۔ محمد شامی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ ایک پاکستانی فاسٹ بائولر کے مشورے کے بعد بہتر بائولنگ کرنے لگ پڑے تھے۔ اور وہ تھے شہر ہ آفاق بائولر وسیم اکرم۔۔
محمد شامی نے بتایا کہ جب وہ آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے کھیل رہے تھے تو وسیم اکرم نے ان کی بہت مدد کی۔ محمد شامی نے مزید کہا کہ ’میں نے ٹی وی پر پوری زندگی وسیم اکرم کو بائولنگ کرتے دیکھا تھا۔ اس کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں مجھے ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ایک دن وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بائولنگ کے کئی گر سکھائے۔ انہوں نے مجھے بہت جلدی سمجھ لیا اور میں نے ان سے کافی کچھ سیکھا۔
محمد شامی نے مزیدکہا، ’اگر کوئی اتنا تجربہ کار کرکٹر آپ کے پاس ہوتا ہے توآپ کو سیکھنے کیلئے شرمانا نہیں چاہئے۔ آپ کو کوشش کرنی چاہئے کہ آپ زیادہ سے زیادہ سیکھو’۔ محمد شامی نے کہا، ’ہم بچپن میں انڈیا - پاکستان کے میچ دیکھ کر بڑے ہوئے، جب ہندوستان کی گیند بازی ہوتی تھی تو میں ظہیر خان کو دیکھتا تھا۔ میں وسیم اکرم کو بھی بے حد پسند کرتا تھا۔ دونوں بائیں ہاتھ کے تیز بائولر تھے، لیکن میں اس کے باوجود انہیں فالو کرتا تھا۔
واضح رہے کہ تین سال پہلے محمد شامی کے کوچ بدرالدین نے انکشاف کیا تھا کہ ٹیم انڈیا کے اس تیز بائولر نے وسیم اکرم سے ریورس سوئنگ سیکھی تھی۔ انہوں نے کہا، ’وسیم اکرم ہی وہ شخص ہیں، جنہوں نے محمد شامی کو ریورس سوئنگ کا ہنر سکھایا۔ محمد شامی کے اندر سیکھنے کا جذبہ تھا اور وہ بے حد خوش قسمت رہے کہ انہیں وسیم اکرم جیسا استاد (گرو) ملا۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 کسی بھی سڑک یا شاہراہ پر دوران سفر ’’رانگ سائیڈ ‘‘سے سامنے آنے والا کوئی شخص اچانک آپ کو بوکھلاہٹ کا شکار تو کر ہی سکتا ہے لیکن اس کی جانب سے گھورنا زیادہ حیران کن ہوتا ہے    

مزید پڑھیں