☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
کھیل کے میدان بدستورویران

کھیل کے میدان بدستورویران

تحریر : ڈاکٹر زاہد اعوان

05-17-2020

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

 پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی مرد وخواتین کرکٹرزکو آن لائن سیشنز کے ذریعے مصروف رکھنے ، تربیت اور مقابلے کارجحان بڑھانے کا سلسلہ شروع کررکھاہے، پہلوانوں سمیت انفرادی کھیلوں کے اتھلیٹس نے بھی گھروں میں ہی پریکٹس جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ یوتھ ایجوکیشن اینڈسپورٹس (YES) ویلفیئر سوسائٹی نے کھلاڑیوں کیلئے آن لائن کوچنگ کورسز کااہتمام شروع کردیاہے جسے بے حد پسند کیاجارہاہے اور کھلاڑی تیزی سے رجسٹریشن کرا رہے ہیں۔ ٹوکیو اولمپکس ملتوی ہونے کے بعد اب کھیلوں کے شائقین کی نظریں آسٹریلیامیں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر مرکوز ہیں لیکن آئی پی ایل کیلئے ونڈو نکالنے کی غرض سے عالمی ایونٹ کے رواں برس انعقاد پر بھارتی حکام نے نیا شوشا چھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر میں شیڈول ایونٹ میں کھیلنے کیلئے ایلیٹ پلیئرز تیار نہیں ہونگے،بی سی سی آئی کے خزانچی ارون دھومل کا کہنا ہے کہ تمام بڑے کرکٹرز طویل عرصے سے کھیل سے دور ہیں اور کون چاہے گا کہ طویل عرصے تک ٹریننگ سے محرومی کے بعد اسے براہ راست ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسا بڑا ایونٹ کھیلنا پڑے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کافی مشکل محسوس ہو رہا ہے اور ہر کرکٹ بورڈ کو یہ مسئلہ درپیش رہے گا۔
پی سی بی کی جانب سے آن لائن سیشنز میں سابق وموجودہ سنیئر کرکٹرز کے مشوروں کو قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے مفید قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی موجودہ کھلاڑیوں اور ایمرجنگ کرکٹرز کیلئے وسیم اکرم اور بابراعظم کے علیٰحدہ علیٰحدہ آن لائن سیشنز کا اہتمام کیا جہاں مجموعی طور پر 35 خواتین کرکٹرز کو مختلف حالات میں جامع حکمت عملی اپنانے سے متعلق مشورے دئیے گئے ۔آئی سی سی ہال آف فیم کے رکن فاسٹ بائولر وسیم اکرم اور قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے خواتین کھلاڑیوں کیلئے منعقدہ سیشنز میں محنت اور فٹنس کی اہمیت پر زوردیا۔انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی کیلئے خواتین کرکٹرز کو برداشت اور مثبت سوچ پیدا کرنے کی ہدایت کی۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ان سیشنز سے خواتین کھلاڑیوں کے کھیل میں نکھار آئے گا۔ وسیم اکرم کے سیشنز سے کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ بابراعظم کو سننا بھی ایک شاندار لمحہ تھا جہاں انہوں نے مختلف کنڈیشنز میں میچزکیلئے اپنی تیاری کے بارے میں بتایا۔فاسٹ بائولر ایمن انور نے وسیم اکرم کا آن لائن سیشن منعقد کروانے پر پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ لیجنڈری کرکٹر کے مفید مشوروں پر عمل کریں گی۔ فاسٹ بالر ڈیانا بیگ کاکہنا ہے کہ وہ وسیم اکرم کے آن لائن سیشن سے بہت متاثر ہوئی ہیں، عظیم فاسٹ بائولر نے انہیں بالنگ میں مختلف ویری ایشنز اپنانے کے بارے میں بتایا، انہوں نے ایک بائولر کی حیثیت سے دبا ئوبرداشت کرنے اور اپنی فٹنس کے معیار کو برقرار رکھنے سے متعلق مفید مشورے دئیے۔ منیبہ علی کا کہنا ہے کہ بابراعظم کی آن لائن ٹپس سے انہیں اپنی بیٹنگ کی صلاحیتوں میں نکھار لانے کا موقع ملے گا، بابراعظم سے مشکل صورتحال میں اننگز کا پراعتماد آغاز اور پھر اسے لمبی اننگز میں تبدیل کرنے کا فن سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ارم جاوید کا کہنا ہے کہ بابراعظم نے ایک کھلاڑی اور کپتان دونوں کی حیثیت سے دبائو برداشت کرنے سے متعلق ٹپس دیں ۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے قومی کھلاڑیوں کو ہمت نہ ہارنے کا آن لائن مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنی فیلڈنگ میں بہتری کے ساتھ بیٹنگ کی کارکردگی میں تسلسل پیدا کرنا چاہئے ۔یونس خان نے آن لائن سیشن کے دوران قومی کھلاڑیوں کو ہدایت کی کہ وہ کریز پر سخت مزاحمت کرتے ہوئے اپنی کارکردگی میں تسلسل لانے کی کوشش کریں جبکہ اپنا کردار مضبوط بناتے ہوئے قربانی کا جذبہ بھی بیدار کریں۔انہوں نے آن لائن سیشن کے دوران موجود محمد حفیظ،اظہرعلی،اسد شفیق، حارث رئوف اور امام الحق کے علاوہ دیگر ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو فیلڈنگ کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا جو کھلاڑی کی اہلیت میں اضافی چیز تصور کی جاتی ہے اور چونکہ یہ کسی بھی کھلاڑی کیلئے انفرادی نوعیت کا معاملہ ہے لہٰذا انہیں اس کے حوالے سے ذاتی طور پر محنت کرنی چاہئے ۔یونس خان کا کہنا تھا کہ موجودہ پلیئرز کو اپنے مضبوط کردار کے ساتھ قربانی کے جذبے کو بھی بیدار کرنا چاہئے کیونکہ وسیم اکرم اور وقار یونس نے ٹوٹی ہڈیوں کے باوجود پاکستان کی نمائندگی کا فرض نبھایا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کھلاڑی بڑا نام بنانے کیلئے زندگی میں خود کو چیلنج کرنا سیکھیں اور جب وہ اپنے آپ سے سوال کرنا سیکھ جائیں گے تو تب ان کیلئے بہتری کی جانب بڑھنا ممکن ہوگا۔10ہزار ٹیسٹ رنز اسکور کرنے والے واحد پاکستانی بیٹسمین کا کہنا تھا کہ دیانتداری اور جامع منصوبہ بندی کسی بھی عام کھلاڑی کو لیجنڈ میں تبدیل کردیتی ہے جیسے عمران خان نے اپنی زندگی میں ایمانداری اور پلاننگ کو اہمیت دی تو وہ ملک کے وزیراعظم کے منصب تک جا پہنچے ۔اس سے قبل جاوید میانداد، وسیم اکرم، راشد لطیف، مشتاق احمد ،محمد یوسف اور شعیب اختر بھی آن لائن ہدایات و مشورے دے چکے ہیں۔
قومی ٹیسٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین شان مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے گھر میں محدود رہتے ہوئے دیگر ساتھی کرکٹرز کیساتھ ویڈیو چیٹنگ کے دوران زوم کرکٹ متعارف کرادی جس کا انہیں کسی حد تک فائدہ پہنچے گا۔شان مسعود کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پابندیوں نے کھلاڑیوں کو بوریت کا شکار کردیا ہے لہٰذا انہوں نے ویڈیو چیٹنگ کے دوران ہیلمٹ پہنا اور حسن علی نے بالنگ کرانے کا ایکشن لیا جبکہ امام الحق فیلڈنگ کرنے کا تاثر دینے لگے اور وہاب ریاض نے قیادت کی جس سے زوم کرکٹ ایجاد ہو گئی۔قومی اوپننگ بیٹسمین کا کہنا تھا کہ اس طرح انہوں نے ویڈیو چیٹ کے دوران ویڈیو کرکٹ میچ کا لطف اٹھایا۔شان مسعود کے مطابق ان دنوں کرکٹرز اپنے گھروں میں سیڑھیوں،کرسیوں اور جم کا سامان استعمال کرتے ہیں تاکہ فٹ رہ سکیں جو اگرچہ رمضان المبارک کے دوران آسان نہیں لیکن تمام پلیئرز نے مشقوں اور ورزشوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔
لاک ڈائون کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ڈیجیٹل ڈریم پیئرز مہم کو زبردست مقبولیت حاصل ہو رہی ہے،جس کے تحت اوپنرز اور مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے علاوہ فاسٹ باولرز اورسپنرز کی مقبول جوڑیاں بھی سامنے آچکی ہیں۔90 کے عشرے کی بہترین اوپننگ جوڑی سعید انور اور عامر سہیل کو سب سے زیادہ مقبول قرار دیا گیا جبکہ سعید انور کیساتھ ماجد خان کی جوڑی دوسرے نمبر پر رہی۔مڈل آرڈر بیٹسمینوں میں یونس خان اور محمد یوسف کی جوڑی ٹاپ پر رہی جبکہ انضمام الحق کے ساتھ محمد یوسف کو دوسرا نمبر حاصل ہوا جو پاکستانی بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے گئے ۔فاسٹ بائولرز میں وسیم اکرم کیساتھ وقار یونس کا پیئر سرفہرست رہا جبکہ دوسری مقبول ترین جوڑی وسیم اکرم اور محمد آصف قرار پائے ۔عبدالقادر اور ثقلین مشتاق بہترین سپن بائولنگ جوڑی کی صورت میں ابھرے جبکہ ثقلین مشتاق کیساتھ مشتاق احمد کی جوڑی دوسرے نمبر پر رہی۔سابق آل رانڈر شاہد آفریدی وکٹ کے حصول پر جشن منانے کے لحاظ سے اب بھی سرفہرست بائولر ہیں۔
ایک سروے میں شاہد آفریدی 3800 سے زائد ووٹس کی بدولت دیگر کھلاڑیوں پر سبقت لے گئے جن کا ہاتھ فضا میں بلند کرکے کھڑے ہونے کا انداز سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ویسٹ انڈین پیسر شیلڈن کوٹریل کا سلیوٹ مارتے ہوئے جشن منانے کا انداز 2200 ووٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا ۔ جنوبی افریقہ کے عمران طاہر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔پنجاب یونیورسٹی شعبہ سپورٹس نے بھی’’ سٹے ہوم، سٹے ایکٹو‘‘ مہم کا آغاز کر دیااس سلسلے میں اساتذہ، ملازمین اور طلباو طالبات کے آن لائن فٹنس مقابلے کرانے کا اعلان کیا گیاہے، مقابلوں میں رسہ کودنے اور پش اپ وغیرہ کی گیمز شامل ہوں گی ۔
یووینٹس ایف سی کے سٹار فٹ بالر پالو ڈیبالا کورونا وائرس سے صحت یاب ہوگئے،چھ ہفتوں میں ان کے 4 مرتبہ ٹیسٹ پازیٹو آئے تھے ۔ دوسری جانب ٹورینو ایف سی نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک کھلاڑی عالمی وبا ء کا شکار ہوگیا ہے جسے قرنطینہ کردیا گیاجبکہ جنوبی افریقی آل رانڈر سولو این کوئنی میں کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ کی تصدیق ہوگئی وہ گزشتہ جولائی سے ایک سنڈروم میں بھی مبتلا ہیں جس میں جسم کا دفاعی نظام اعصاب پر حملہ کرتا ہے ۔ ادھر 4 مرتبہ کے ورلد ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن ایونڈر ہولی فیلڈ نے 57سال کی عمر میں بچوں کی نگہداشت اورکورونا وائرس سے متاثرین کی خاطر چیریٹی مقاصد کیلئے باکسنگ رنگ میں اترنے کا اعلان کردیاامکان ہے کہ ان کا نمائشی میچوں کے دوران 20سال بعد مائیک ٹائیسن سے بھی مقابلہ ہوگا۔
بیچ ریسلنگ کے ورلڈچیمپئن اورپاکستان کے مایہ ناز پہلوان انعام بٹ اکھاڑے میں واپسی کیلئے بے قرار ہیں وہ کہتے ہیں کہ سماجی فاصلوں کے باعث ریسلنگ سے دوری مچھلی کو پانی سے باہر نکال دینے جیسی ہے ۔انعام بٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں کہیں بھی ریسلنگ کے مقابلے نہیں ہو رہے جبکہ لاک ڈائون کے دوران سماجی فاصلوں کی پابندی کے باعث وہ دیگر پہلوانوں کے ساتھ مشق بھی نہیں کر سکتے لہٰذا معمولات کی اس تبدیلی کو وہ بہت زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔انعام بٹ لاک ڈائون کے دوران خود کو فٹ رکھنے کیلئے گھر میں ہی مختلف ورزشیں کر رہے ہیں تاکہ فٹنس برقرار رکھی جا سکے تاہم وہ حالات بہتر ہوتے ہی اکھاڑے میں جا کر سب سے پہلے شکرانے کے نفل ادا کریں گے اور پھر وہ تمام دائو پیچ آزمائیں گے جو ان کے ذہن میں موجود ہیں۔
لاک ڈائون میں نرمی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنے دفاتر کل بروز پیر سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو مارچ میں کورونا وائرس کی عالمی وباء کے پھیلا ئوکو روکنے کیلئے بند کر دیئے گئے تھے ۔ کرکٹ بورڈ کے دفاتر تمام تر حفاظتی اقدامات پیش نظر رکھتے ہوئے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ابتدائی مرحلے میں معاملات کو چلانے کیلئے صرف ضروری سٹاف کو طلب کیا جائے گا۔دوسری جانب پی ایچ ایف کے سیکریٹری آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ دفاتر کھولنے سے قبل تمام ضروری ہدایات کو پیش نظر رکھا جائے گا جہاں اسٹاف کیلئے ماسک،ہینڈ سینی ٹائزر اور باڈی ٹمپریچر کی جانچ کیلئے آلات موجود ہوں گے جبکہ ممکنہ پریشانیوں سے بچائو کیلئے سماجی فاصلوں سے متعلق تمام تر ہدایات کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔
سابق آسٹریلین سپنر بریڈ ہوگ نے طویل لاک ڈائون کے بعد کرکٹ میدان آباد کرنے اورشائقین کی دلچسپی بحال کرنے کیلئے پاک بھارت کرکٹ سیریز کے انعقاد کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سے شائقین میں نئی دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے جبکہ اسی سیریز کے دوران یہ فیصلہ بھی ہو سکتا ہے کہ ویرات کوہلی اور بابر اعظم میں زیادہ بہتر بیٹسمین کون ہے ۔بریڈ ہوگ کا کہنا تھا کہ شائقین پاک بھارت سیریز کیلئے ترسے ہوئے ہیں لہٰذا دونوں ممالک میں چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے2ٹیسٹ پاکستان اور دو بھارت میں کھیلے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ کھیل کے مداح دلچسپ کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں لہٰذا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو کچھ عرصے کیلئے موخر کر کے ایسی سیریز کھیلی جائیں جن کی بدولت دنیا بھر میں دلچسپی پیدا ہو جبکہ رواں برس آسٹریلیا بمقابلہ بھارت سیریز کے بجائے ایشز کا اہتمام کیا جائے ۔انگلش کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ رواں سیزن کے دوران پاکستان اور ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کیلئے پرامید ہیں ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر اس مہم جوئی کی خاطر ان کے پلیئرز کو 2 ماہ تک قرنطینہ میں بھی رہنا پڑے گا۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ لاک ڈائون کا شکار ہے اور ویسٹ انڈیز کیخلاف جون میں شیڈول3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز ملتوی ہو چکی ہے لیکن یکم جولائی سے سیزن کا آغاز ہو سکا تو پاکستان کیخلاف سیریز کا جولائی کے اختتام پر انعقاد ہو سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ چند ماہ کے دوران کھیل کی بحالی کیلئے پرامید ہیں البتہ ایسا نہیں ہو سکا تو یہ بڑی شرمندگی کی بات ہو گی کیونکہ شائقین کرکٹ کے میچز کم از کم ٹی وی پر دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ کھلاڑی بھی بڑی شدت کے ساتھ میدان میں واپسی کے منتظر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ کھیل سے منسلک تمام افراد مکمل طور پر محفوظ رہیں اور انہیں پورا یقین ہے کہ بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا تو مزید معلومات کے حصول کے ساتھ وہ کرکٹ کی واپسی کے قریب تر آجائیں گے اور انٹرنیشنل کرکٹ دوبارہ کھیلی جانے لگے گی خواہ اس کیلئے ان کے پلیئرز کو آئسولیشن میں بھی کیوں نہ رہنا پڑے ۔انگلش آل رائونڈر بین سٹوکس نے بھی بند دروازوں میں کرکٹ کھیلنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پلیئرز کو موجودہ حالات میں شائقین کیلئے کچھ بھی کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ بین سٹوکس نے نیشنل ہیلتھ سروس اور نیشنل چلڈرن کرکٹ چیرٹی چانس ٹو شائن کیلئے پہلی ہاف میراتھن مکمل کر کے چندہ جمع کرنے کی مہم کے دوران واضح کیا کہ وہ بند دروازوں کے پیچھے کرکٹ کھیلنے میں بھی خوش ہیں اور انہیں ایسا نہیں لگتا کہ شائقین کے بغیر خالی میدانوں میں کرکٹ ان کے کھیل پر اثر انداز ہو سکتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ محض ایک کھیل ہے مگر ہر فرد کی صحت اور حفاظت اس وقت انتہائی ضروری ہے ۔
پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کیلئے سرگرم تنظیم یوتھ ایجوکیشن اینڈ سپورٹس (YES) نے لاک ڈائون کے دوران مرد وخواتین قومی کھلاڑیوں کو آن لائن ملٹی سپورٹس کوچنگ کورسز ، گھر پر اپنی فٹنس بہتر بنانے اور کھیل میں نکھار پیدا کرنے کیلئے عیدالفطر کے فوری بعد مختلف سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، تنظیم کے خزانچی ملک عبدالرحمان کاکہناہے کہ کورسز کیلئے کھلاڑیوں کی رجسٹریشن جاری ہے ،مختلف کھیلوں کے سپرسٹارز انعام بٹ ، طیب رضا اعوان، اویس ضیاء، حماداعظم، طلحہ بٹ، بینش خان،عائشہ شرجیل، فوزیہ ممتاز،نادیہ بھٹی، ندیٰ خان اوردیگر انٹرنیشنل پلیئرز آن لائن سیشنز میں خصوصی لیکچرز دیں گے جبکہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری نعیم بھٹی نے سپورٹس کوچز شاہدخان، محمداعجاز، شفقت نیازی، رضی الدین،مطاہرسہیل، سیدندیم ساجد، عرفان خان، شازیہ جاوید، نائلہ عباسی اوردیگر سے رابطے شروع کردئیے ہیں، کورسز کے دوران آن لائن مقابلوں کاانعقاد بھی کیاجائیگا جبکہ حصہ لینے والے کھلاڑیوں کیلئے قومی سرٹیفکیٹ، خصوصی تحائف اور پرکشش انعامات بھی رکھے جائیں گے۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم) سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔ بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں

 کسی بھی سڑک یا شاہراہ پر دوران سفر ’’رانگ سائیڈ ‘‘سے سامنے آنے والا کوئی شخص اچانک آپ کو بوکھلاہٹ کا شکار تو کر ہی سکتا ہے لیکن اس کی جانب سے گھورنا زیادہ حیران کن ہوتا ہے    

مزید پڑھیں