☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر فیض احمد چشتی ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) تجزیہ(خالد نجیب خان) فیشن(طیبہ بخاری ) شوبز(مروہ انصر چوہدری ) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کھیل(طیب رضا عابدی ) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
کھلاڑی عید کیسے مناتے ہیں

کھلاڑی عید کیسے مناتے ہیں

تحریر : طیب رضا عابدی

05-24-2020

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم)
سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔

بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

 

محمد رضوان سینئر (کپتان ، قومی ہاکی ٹیم)
پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان محمد رضوان سینئر چند روز قبل ہی ہالینڈ سے پاکستان پہنچے ہیں وہ لیگ کھیلنے وہاں گئے ہوئے تھے اور کورونا وباء پھیلنے کی وجہ سے وہیں رکنے پر مجبور ہوگئے تھے۔اسلام آباد میں چند روز گزارنے کے بعد آبائی شہر پیر محل اپنے گائوں میں پہنچے تو گھر والوں کی عید ہوگئی۔7سال بعد گھر والوں کے ساتھ وہ اس بار عید الفطر کریں گے ۔ اس سے قبل عید الفطر ہالینڈ میں ہی کیا کرتے تھے ۔ محمد رضوان سینئر کے مطابق ’’ہالینڈ میں عید کا اتنا جوش و خروش نہیں ہوتا جتنا ہمارے ملک میں ہوتا ہے ۔ وہاں تو بس عید کی نماز پڑھ لی اور بس روٹین کے کاموں میں لگ گئے۔ ایسے ہی ہے جیسے باقی نمازوں کے ساتھ ایک نماز اضافی پڑھ لی۔ عید کا پتا ہی نہیں چلتا ۔ اصل عید کا مزہ تو اپنے ملک میں ہی ہے ۔ میرے ساتھ راشد بھی لیگ کھیل رہے ہیں تو ہم دونوں نماز پڑھنے کیلئے اکٹھے ہی چلے جاتے تھے۔

لیکن اب ہم دونوں پاکستان ہی عید کرینگے ‘‘۔ قومی ہاکی ٹیم کے کپتان کا مزید کہنا تھا کہ بچپن میں عید منانا ابھی تک یاد ہے ۔ وہ دن بھلائے نہیں جاسکتے ۔ اب وہ مزہ نہیں رہا۔ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ، شاید وہ حالات نہیں رہے یا وقت بدل گیا ہے ۔ ہمارے گائوں میں عید کے دن ہاکی کا میچ ہوتا تھااور بڑے جوش و خروش کا سماں ہوتا تھا ۔ جو ہارتا تھا اس کی بہت کٹ لگتی تھی۔ جتینے والے جشن مناتے تھے۔ ہم یار دوست کسی کی حویلی یا ڈیرے پر اکٹھے ہو کر باربی کیو کا اہتمام کرتے تھے۔لیکن سیرو تفریح کرنے باہر نہیں جاتے تھے ۔عید کا دن گھروالوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتے تھے ۔ گھروں میں خصوصی پکوان تیار ہوتے تھے ۔ بچپن میں گھروالوں سے ، بہن بھائیوں سے عیدی لینے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ہماری ٹیم کے گول کیپر امجد علی کا تعلق بھی میرے گائوں سے ہے تو ان کے ساتھ مل کر عید کا پروگرام تشکیل دیتے تھے ۔ اب بڑے ہونے کے بعد عید کا وہ چارم نہیں رہا ۔ اب تو گھر آیا ہوں تو والد کہتے ہیں کہ تمہارے آنے سے ہی ہماری عید ہوگئی۔

حسیب طارق(تیراک، نیشنل چیمپئن)
کراچی سے تعلق رکھنے والے حسیب طارق کو پاکستان کے نمبرون تیراک ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ وہ تیز ترین سوئمر ہیں اور آج کل کینیڈا میں ٹریننگ حاصل کررہے ہیں ۔ ان کی کئی عیدیں کینیڈا میں ہی گزری ہیں ۔ یہ عید الفطر بھی وہ کینیڈا ہی میں منائیں گے ۔ کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتے ہیں اور اپنی رہائش گاہ پر آکر ناشتہ کرکے اور دوستوں کے ساتھ مل جل کر عید منا لیتے ہیں ۔ لیکن جو مزہ کراچی میں عید منانے کا ہے وہ اسے آج بھی یاد کرتے ہیں ۔ نیشنل چیمپئن حسیب طارق کہتے ہیں کہ انہوں نے پہلا روزہ 8سال کی عمر میں رکھا تھا تو گھر میں امی نے افطاری کا کافی اہتمام کیا تھا۔ پھر ہر جمعے کے جمعے روزہ رکھا کرتا تھا لیکن بڑے ہونے کے بعد پورے روزے رکھنے شروع کردیئے ۔

بچپن میں عید کا کافی جوش و خروش ہوتا تھا نئے کپڑے سلوانے اور چاند رات کو شاپنگ کرنے کیلئے طارق روڈ جاتے تھے۔ بہت گہما گہمی ہوتی تھی ۔ چائینز گلے والے شلوار قمیض کا رواج تھا پھر وقت کے ساتھ ساتھ ڈیزائنز بدلتے رہے۔ لیکن عید والے دن اب بھی شلوار قمیض ہی پہنتے ہیں۔حسیب طارق کا مزید کہنا تھا کہ عید والے دن دادا کے گھر جاتے تھے وہاں سے سب مل کر نماز پڑھنے مسجد جاتے ، واپس آکر شیرخورما کھاتے، پھر یاردوستوں کو ملتے ، رات کو خصوصی کھانے کا اہتمام ہوتا تھا۔عیدی بھی ملتی تھی جسے سنبھال کر رکھتے تھے ، یا کھلونے لے لیتے تھے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میرے زیادہ تر دوست سپورٹس سے تعلق رکھتے تھے اس لئے ہم عید کے دوسرے دن کوئی نہ کوئی کھیل ضرور کھیلتے تھے جیسے فٹبال ، کرکٹ یا کوئی کھیل۔ میدان میں ضرور جاتے تھے ۔ ہماری عید کھیل کے بغیر نامکمل تھی‘‘۔ لیکن اب بہت فرق محسوس ہوتا ہے جوں جوں بڑے ہوئے عید کے منانے میں بھی فرق آگیا ہے ۔

انعام بٹ(ریسلر، عالمی چیمپئن)
گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ریسلر انعام بٹ تسلسل سے روزے تو رکھتے ہیں ساتھ کورونا کی وجہ سے گھر پر ہی ٹریننگ کر رہے ہیں اور اپنے اکھاڑے کو بہت مس کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے اس مرتبہ عید بہت محدود اور پھیکی ہوگی ورنہ سابقہ عیدیں تو ہم پہلوان گوجرانوالہ میں بہت اہتمام سے کیا کرتے تھے۔ نماز عید پڑھنے کے بعد گھر آکر پائے کا ناشتہ ہوتا تھا پھر سویاں کھائی جاتی تھیں۔ اس کے بعد ہم سب پہلوان مل کر ایک دوسرے کے گھروں میں روایتی پگ ، کرتہ اور لاچہ پہن کر ملنے جایا کرتے ہیں ۔ عید کے تین دن زبردست سماں رہتا ہے عید کے دوسرے دن اکھاڑے میں میری طرف سے سب پہلوانوں کو کھاناہوتا ہے جس میں کشتی کے بعد گوشت کا دسترخوان لگتا ہے اور سب پہلوان بہت محظوظ ہوتے ہیں ۔ محمد انعام بٹ اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دن بہت یاد آتے ہیں جب میں اپنے والد کی انگلی پکڑ کر مسجد نما ز پڑھنے جایا کرتا تھا ۔

ہاتھ میں جائے نماز ہوتی تھی، قبرستان دادا دادی کی قبروں پر فاتح خوانی کیلئے جانا اور واپسی پر گھر آکر ابو اور امی سے لڑلڑکر عیدی لینا ، زیادہ عیدی کی ڈیمانڈ کرنا کہ پچھلی دفعہ تو اتنی عیدی دی تھی اس دفعہ زیادہ دیں۔ماموں اور تایا ابو سے بھی عیدی لینا ، جب عیدی اکٹھی ہوجانا تو پھر اسے خرچ کرنے کی تقسیم بنانا ۔ بہت لطف آتا تھا ۔ اتنے پیسے آئس کریم کیلئے ، اتنے پیسے جھولے والے کیلئے ، اتنے پیسے چاٹ کھانے کیلئے، اتنے پیسے کھلونوں کیلئے یعنی ہر چیز کیلئے پیسے مختص کئے ہوتے تھے ۔لیکن ابو نے ایک پابندی لگائی تھی کہ جتنا مرضی وقت کھیلو لیکن ٹریننگ کو وقت ضرور دینا ہے یہی وجہ ہے کہ والد صاحب کی اس پابندی کی وجہ سے میں عید کے دن بھی باقاعدگی سے ٹریننگ کرتا تھا اور اسی وجہ سے میں آج ورلڈ چیمپئن بنا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی پانچ عیدیں ملک سے باہر بھی گزریں ہیں ایک مرتبہ عید الضحیٰ کے موقع پر وہ کوریا میں تھے کہ ساری مسلم فوڈ کی دکانیں بند تھیں ، پاکستان میں سب لوگ گوشت کھا رہے تھے اور انہیں تین دن بریڈ انڈا کھانا پڑا۔اس طرح کھلاڑیوں کیلئے ایسے حالات بھی آتے ہیں کہ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی گھروالوں سے دور رہنا پڑتا ہے۔ انعام بٹ کا کہنا تھا کہ آج اگر دیکھا جائے تو ریسلنگ دوسرے کھیلوں کی نسبت زیادہ گولڈ میڈل لاکر ملک کو دے رہی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ ریسلنگ پر زیادہ توجہ دے اور سہولیات فراہم کرے ۔

ماہور شہزاد(بیڈمنٹن نیشنل چیمپئن)
بیڈمنٹن کی نیشنل چیمپئن ماہور شہزاد کراچی سے تعلق رکھتی ہیں اور عید منانے کیلئے اکثر اپنی فیملی کے ہمراہ ننھیا ل بہاولپور جاتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کورونا کی وجہ سے شاپنگ بھی نہیں کرسکے اور نہ ہی عید اتنے جوش و خروش سے گزرے گی۔ کورونا وباء کی وجہ سے پوری دنیا ایک عجیب ماحول میں جکڑی ہوئی ہے ۔ اللہ جلد اس وبا ء سے چھٹکار نصیب کرے۔ ماہور شہزاد کے مطابق آن لائن دیکھا تھا پچھلے سالوں کی نسبت اس سال مہنگائی زیادہ ہے اور بطور کھلاڑی وہ بھی اس مہنگائی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتیں۔لوگ بے روزگار ہوگئے ، لوگوں پر پریشر آگیا ہے۔ اس سال کورونا کی وجہ سے اتنا زیادہ ملنا جلنا نہیں ہوگا اور نہ ہی عید کی دعوتیں ہوں گی ۔ ہم لوگ بہاولپور ہی جائیں گے عید کرنے۔ وہاں کزنز ہوتی ہیں ، ان کے ساتھ مل کر کھانے وغیر ہ بنائیں گے۔ ویسے تو کوئی ڈش بنانی نہیں آتی لیکن کھیر بنانے میں یا سموسے رول بنانے میں اپنی خالائوں، ممانی اور کزنز کی مدد کردیتی ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں کہ عموماََکھلاڑیوں کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ اتنا بنتی سنورتی نہیں اور کھیل میں ہی مصروف رہتی ہیں ۔ ماہور شہزاد کا کہنا تھا کہ انہیں عید کے موقع پر بننا سنورنا اچھا لگتا ہے اور وہ شوق سے مہندی بھی لگواتی ہیں اور اپنی پسند کے لباس بھی منتخب کرتی ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے تو ابھی بھی عیدی ملتی ہے اور گھر کے بڑے نماز عید پڑھ کر آتے ہیں اور پھر ہم سب مل کر ناشتہ کرتے ہیں تو یہ بہت سپیشل ایونٹ ہوتا ہے اور پھر ہمیں عیدی ملتی ہے۔ رمضان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ روزوں میں فزیکل ٹریننگ کم ہوجاتی ہے کیونکہ پانی کی کمی ہوجاتی ہے ۔بطور کھلاڑی ان کا کہنا تھا کہ عید کی چھٹیا ں زیادہ نہیں ہونی چاہیے ، اس طرح ان کی ٹریننگ کا شیڈول متاثر ہوتا ہے ، پہلے ہی کورونا کی وجہ سے ان کا کھیل بہت متاثر ہوا ہے ، بیڈمنٹن کورٹ بند ہونے کی وجہ سے ہم لوگ کھیل سے دور ہیں ، ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان ڈور گیمز کے جہاں پہلے ہی فاصلہ ہوتا ہے کورٹ اوپن کئے جائیں تاکہ ہم اپنی ٹریننگ کرسکیں۔ ماہور شہزاد نے یہ بھی بتایا کہ وہ بیڈمنٹن سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے والد کا بزنس چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

عرفان مانا(کپتان ، قومی کبڈی ٹیم)
فیصل آباد کے نواحی گائوں سے تعلق رکھنے والے کبڈی کے کھلاڑی عرفان مانا کبڈی کا ورلڈکپ جیتنے کے بعد خوشی سے پھولے نہیں سما رہے اور آج بھی فائنل کے دن کو یاد کرتے ہیں ۔ ان چہرہ مسکراہٹ سے دمکتا رہتا ہے ۔ کہنے لگے بچپن میں عید کی سب سے بڑی خوشی یہ ہوتی تھی نیا سوٹ اور نئے جوتے پہننے ہیں۔زیادہ تر عیدیں گائوں میں ہی گزری ہیں اور آپ کو پتا ہے کہ گائوں کی عید کیسی ہوتی ہے ، خالص دیسی انداز کی ۔ ریڑھیوں پر چیزیں فروخت ہوتی ہیں۔ کھیلنے کیلئے کھیت ہوتے ہیں ، کھلی فضاہوتی ہے اور گرمی ہو تو ٹیوب ویل کا چلتا پانی اور وہاں جاکر انجوائے کرنا ہوتا ہے ۔

عید کے دوسرے دن شہر چلے جاتے ہیں وہاں بچوں کو پارک کی سیر کرائی جاتی ہے ۔ عموماََ عید کا سب سے بڑا پروگرام خصوصی پکوان تیار کرنا ہوتا ہے ۔کبڈی کے پھرتیلے کھلاڑی عرفان مانا کا کہنا تھا کہ عید کے اس موقع پر چونکہ دکانداروں نے مہنگائی کی ہوئی ہے اور ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے تو ایسے میں چاہیے کہ جو صاحب حیثیت لوگ ہیں وہ آگے آئیں اور عید کی خوشیوں میں دوسرے لوگوں کو بھی شریک کریں۔حکومت اپنی جگہ کام کررہی ہے لیکن ہمیں بھی کچھ کرنا چاہیے ۔ جہاں تک ہوسکے دوسروں کو عید کی خوشیوں میں شریک کریں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں

 کسی بھی سڑک یا شاہراہ پر دوران سفر ’’رانگ سائیڈ ‘‘سے سامنے آنے والا کوئی شخص اچانک آپ کو بوکھلاہٹ کا شکار تو کر ہی سکتا ہے لیکن اس کی جانب سے گھورنا زیادہ حیران کن ہوتا ہے    

مزید پڑھیں