☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(امام النووی) انٹرویو(زاہد اعوان) متفرق(اے ڈی شاہد) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
کورونا :کرکٹ میں’’ تبدیلی‘‘ آرہی ہے

کورونا :کرکٹ میں’’ تبدیلی‘‘ آرہی ہے

تحریر : منصور علی بیگ

06-07-2020

  پچاس ہزار افراد کی گنجائش والے کسی اسٹیڈیم کے وسط میں اگر صرف پندرہ افراد موجود ہوں اورماسک لگائے کسی فاسٹ بالر کی شارٹ پچ گیند پر بیٹسمین کی سنسناتی ہوئی ڈرائیو کی’’پٹاخ‘‘ گہرا سناٹا توڑ دے اور اس کے بعد یکایک پبلک ایڈریس سسٹم پر تالیوں کی گونج اور شائقین کا شور سنائی دے تو سمجھ لیں کہ یہ کورونا وائرس کے دوران یا اس کے کسی حد تک خاتمے کے بعد کرکٹ کی بحالی کا وہ منظر ہے

جسے شاید کچھ عرصے تک دیکھنا بلکہ جھیلنا ہی پڑے گا۔ اگرچہ یہ نظم و ضبط کے ساتھ کھیلے جانے والے ’’شریفوں‘‘ کے کھیل کا شعار نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ مالی بحران نے کرکٹ کے منتظمین کو وہ سب کرنے پر مجبور کردیا ہے

 

 جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا لیکن کرکٹ کے بانی اورروایت پسند سمجھے جانے والے ملک انگلینڈ میں بھی اگرکسی ٹیم کو قدم رکھتے ہی چودہ روز کیلئے قرنطینہ ہونا پڑے تو یہ انتہائی حیران کن بات ہے اور رواں برس ویسٹ انڈیزکے علاوہ پاکستان کی ٹیمیں انگلش سرزمین پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوئیں تو ان کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کوآئسولیشن کا عرصہ گزارنے سمیت کورونا وائرس ٹیسٹ کے عمل سے بھی گزرنا ہوگا جس کے بعد کھلاڑی میدان میں اتر سکیں گے جو کئی ماہ سے گھروں میں ذاتی کوششوں سے فٹنس کی بہتری اور ’’شیڈوٹریننگ‘‘کا سہارا لیتے رہے ہیں یا انہوں نے گھر کے کسی فرد کے ساتھ اپنی پریکٹس کو یقینی بنایا ہے۔برسوں سے کچھ معاملات کے عادی ہو جانے کے بعد یقینی طور پر موجودہ حالات میں ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جب کھیل سے کہیں زیادہ انسانی جانوں کی اہمیت ہے لیکن زندگی کی گاڑی چلانے کیلئے چونکہ پیسہ بھی درکار ہے لہٰذا کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شروع کرنا ہوں گی جو عصر حاضر میں محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مستحکم انڈسٹری کا روپ دھار چکی ہیں اور اس انڈسٹری کو آگے بڑھا کر ہی کھیل کے ساتھ کھلاڑی کو زندہ رکھا جا سکتا ہے خواہ اس کیلئے کتنے ہی قوانین کیوں نہ بدلنا پڑیں اور کتنی ہی روایات سے دامن کیوں نہ چھڑانا پڑے۔
13مارچ دو ہزار بیس کو سڈنی کے شائقین سے عاری اسٹیڈیم میں آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ میچ کے بعد سے دنیا بھر میں کھیل کی سرگرمیاں موقوف ہیں اور اگرچہ ویسٹ انڈیز میں ونسی پریمیئر ٹی ٹین لیگ کے میچز کا انعقاد کیا جا رہا ہے لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کی جلد واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا کیونکہ تمام ممالک میں کھیل کی سرگرمیاں موخر کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور رواں برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد بھی خطرے میں پڑا ہوا ہے جس کے متعلق کرکٹ کی گورننگ باڈی 28مئی کو ہونے والی ٹیلی کانفرنس میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکی بلکہ اب اس بارے میں دس جون کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔آسٹریلین ٹیم اگست میں زمبابوے کیخلاف ون ڈے سیریز سے کھیل کی سرگرمیاں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس نے بھارت کیخلاف چار ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا شیڈول طے کرلیا ہے ۔انگلش حکام کھیل کی طرف لوٹنے کے بارے میں زیادہ بے

چین ہیں جنہوں نے تمام تر حفاظتی انتظامات کے ساتھ اگست میں کھیل کی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم یاد رہے کہ یہ تیسرا موقع ہے جب انہیں ڈومیسٹک کرکٹ شروع کرنے کیلئے نئی تاریخوں کا تعین کرنا پڑا کیونکہ 12اپریل سے شروع ہونے والا انگلش سیزن پہلے 28مئی تک موخر کیا گیا جبکہ بعد میں اسے یکم جولائی اور پھر یکم اگست تک ملتوی کردیا گیا تاہم اسی دوران انگلش حکام پرامید ہیں کہ وہ ’’بائیو سیکیور ببل‘‘ کے تحت ویسٹ انڈیز اور پاکستان کیخلاف سیریز کو یقینی بنالیں گے کیونکہ ان کیلئے مالی بحران سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔انگلینڈ ہی کیا دوسرے کئی ممالک بھی اپنے کھلاڑیوں اور دیگر اسٹاف کی تنخواہوں میں کمی کے ساتھ پیسہ کمانے کی دھن میں مگن ہیں اور یہ کوئی حیران کن امر نہیں کہ آسٹریلیا کیخلاف منافع بخش سیریز کی خاطر کرکٹ نیوزی لینڈنے پاکستانی میزبانی میں تاخیر پر توجہ مرکوز کرلی جبکہ رواں برس دسمبر میں انگلینڈ کو بھی مدعو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کم وقت میں مالی نقصانات کی جلد تلافی ممکن ہو سکے۔
کورونا وائرس سے قبل ہی آئی سی سی کی سطح پرمہمان ٹیم کو ٹاس کے معاملے پر اولین ترجیح سمیت کئی دوسرے قوانین میں تبدیلیوں کا فیصلہ کیا جا چکا تھا لیکن عالمی وباء نے تو کھیل کی ڈائنامکس کو ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور موجودہ حالات میں آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے نئے قوانین کا نفاذ کردیا ہے جن کی پاسداری کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔آ سی سی نے کورونا وائرس کے بعد کھیل کی واپسی کے حوالے سے جو گائیڈلائنز جاری کی ہیں ان کے مطابق پلیئرز اور امپائرز فیلڈ میں اور فیلڈ سے باہر سماجی فاصلوں کا خیال رکھیں گے جبکہ پلیئرز بائولنگ سے قبل اپنے سوئیٹرز،کیپ یا سن گلاسز بھی امپائرز کو نہیں پکڑا سکیں گے۔ گائیڈ لائنز کے مطابق پلیئرز فیلڈ میں کسی کامیابی کے وقت جشن منانے کے دوران گلے ملنے،ہاتھ ملانے اور ہائی فائیو سے گریز کریں گے اور ہر بار بال کو چھونے کی صورت میں انہیں اپنے ہاتھ سینی ٹائز کرنے ہوں گے

اور بال کو چھونے کیلئے امپائرز کو بھی دستانوں کا استعمال کرنا ہوگاجو کھیل کے دوران واضح طور پر ایک نئی تبدیلی ہو گی۔ کھلاڑی میچوں کے دوران پانی کی بوتل،تولیہ یا کرکٹ کا کوئی سامان آپس میں شیئر نہیں کرسکیں گے کیونکہ ایسا کرنے سے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں لہٰذا آئی سی سی حکام کی جانب سے ایسے کسی بھی عمل کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی گیند کو چمکانے کیلئے تھوک کا استعمال پہلے ہی روک چکی ہے تاہم پسینے کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہو گی کیونکہ طبی ماہرین نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ پسینے کا استعمال خطرے کا باعث نہیں بن سکتا ہے تاہم کریم کے استعمال کی اجازت دینے کے چانسز ہیں۔گورننگ باڈی نے وضاحت کی ہے کہ اگرچہ کرکٹ کوئی ایسا کھیل نہیں جس میں کھلاڑیوں کا براہ راست ٹکراؤ یا رابطہ ممکن ہو لیکن اس میں بھی پلیئرز کی صحت کو مختلف قسم کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں لہٰذا ہر قسم کی حفاظتی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں اسی طرح سے کھیل کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے۔
مختلف ممالک میں عائد سفری پابندیوں کے باعث آئی سی سی غیر جانبدار امپائرز کی فراہمی ممکن بنانے سے قاصر ہے لہٰذا آئندہ مہینوں میں شروع ہونے والی کرکٹ کے دوران مقامی امپائرز کی خدمات حاصل کرنے پر اکتفا کرنا ہوگا اور یوں برسوں کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں غیر جانبدار امپائرز کو میدانوں میں نہیں دیکھا جا سکے گا جو کھیل میں ایک اور بڑی تبدیلی ثابت ہوگی۔میچوں کے دوران شائقین کی میدانوں میں آمد بھی بحث کا باعث بنی ہوئی ہے اور کچھ لوگ خالی میدانوں میں میچز کی مخالفت کر رہے ہیں تاہم بڑی تعداد کی خواہش یہی ہے کہ کھیل کی سرگرمیاں شروع کرانے کیلئے اگر شائقین کے بغیر میچز کرانے پڑیں تو اس سے گریز نہ کیا جائے اور انگلش فاسٹ بالر جوفرا آرچر نے اس کیلئے تجویز دی ہے کہ پبلک ایڈریس سسٹم پر تالیوں اور شائقین کے شور کا سہارا لیا جائے تاکہ میچوں کے دوران کھلاڑی ماحول کی مکمل تبدیلی کو آسانی سے قبول کر سکیں۔ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ گھر بیٹھے مداحوں کا شور میدانوں میں پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے نشر کیا جائے البتہ ایک مشورہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ میدانوں میں شائقین کی محدود تعداد کو داخلے کی اجازت دے دی جائے جو سماجی فاصلوں کا دھیان رکھتے ہوئے دور ہو کر بیٹھ سکیں جن کیلئے ماسک اور ہاتھوں میں دستانے پہننا بھی لازمی قرار دیا جائے گا ۔

اس حوالے سے انگلش کاؤنٹی سرے نے اوول کے میدان پر پچیس ہزار سے زائد گنجائش کے باوجود صرف چھ ہزار شائقین کو داخل کرنے کی پلاننگ کر رکھی ہے جو کہ مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے مختلف اسٹینڈز میں بیٹھ سکیں گے۔ صحت کی حفاظت کو اولین ترجیح کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے بعض دیگر پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور کھیلوں کے منتظمین ہر حال میں آنے والے عرصے کے دوران سرگرمیاں بحال کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں ممکنہ طور پر مالی دیوالیہ پن کے خطرات کو ٹالنے کا موقع مل سکے البتہ کھیلوں کی بحالی کے معاملے پر بھی مختلف قسم کی آراء سامنے آرہی ہیں اور سب سے زیادہ تنقید اس بات پر کی جا رہی ہے کہ بال کو چمکانے کیلئے تھوک کا استعمال روک دینا کھیل سے دلچسپی کا عنصر رخصت کردے گا اور مستقبل میں شاید نوجوان اور بچے فاسٹ بالرز بننے کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیں گے۔
آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین انیل کمبلے نے مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات کے بعد وضاحت کردی ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والی کرکٹ کے دوران گیند کو چمکانے کیلئے لعاب کی پابندی وقتی ہے جس پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے لیکن وہ کھیل میں کوئی بیرونی عنصر شامل نہیں کرنا چاہتے لہٰذا لعاب لگانے کی پابندی کو ایک عارضی فیصلہ سمجھا جائے کیونکہ چند ماہ کے بعد جب بیماری کا خاتمہ ہو جائے یا اس پر کنٹرول کرلیا جائے تو حالات ایک بار پھر معمول پر آجائیں گے لیکن فی الوقت بیماری کو پھیلنے سے روکنا اولین ترجیح ہے۔آسٹریلین فاسٹ بالر مچل اسٹارک کا کہنا ہے کہ بال ٹیمپرنگ کے قوانین میں نرمی نہ کی گئی اور بائولرز کو معمول کے مطابق گیند کو چمکانے کیلئے لعاب کا استعمال نہ کرنے دیا گیا تو کرکٹ کا کھیل بے مزہ ہو کر رہ جائے گا کیونکہ بائولرز گیند کی ایک سائیڈ کو چمکا کر سوئنگ میں مدد حاصل کرتے ہیں ۔

مچل اسٹارک کا کہنا تھا کہ وہ اس طریقہ کار میں کوئی تبدیلی یا کمی نہیں چاہتے کیونکہ بال کو سوئنگ ہوتے نہ دیکھنا شائقین کیلئے ناقابل قبول ہوگا لہٰذا اس کا کوئی مناسب متبادل بھی سامنے لانا چاہئے کیونکہ آسٹریلیا میں بھی اب وکٹوں کا معیار بہت اچھا نہیں رہا اور اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ وکٹوں پر گھاس چھوڑ دی جائے تاکہ بال اور بیٹ میں توازن قائم رکھا جا سکے۔اسی دوران پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر عابد علی کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر انہیں سنچری کی تکمیل پر ساتھی کرکٹر سے گلے ملنے کی کمی محسوس ہو گی تاہم اب کھلاڑی وکٹوں کے حصول یا سنچری کی تکمیل پر اب ایک دوسرے کو دور رہتے ہوئے مبارکباد دیں گے اور سچی بات یہی ہے کہ اکثر کھلاڑیوں نے مستقبل قریب میں ہونے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے کیلئے ذہن بنا لیا ہے جن کو احساس ہے کہ بند دروازوں میں ہونے والی کرکٹ میں شائقین کی عدم موجودگی عجیب محسوس ہوگی تاہم مداحوں کو گھر بیٹھ کر ٹی وی پر میچ دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے لعاب کا استعمال روکنے کیلئے بائولرز کو میچوں کے دوران ماسک پہنانے کا مشورہ دے دیا جس پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بال کو شائن کرنے کیلئے اس پر تھوک لگانا بالرز کی عادت بن چکی ہے لہٰذامیچوں کے دوران غیر ارادی طور پر بھی وہ ایسی کوئی کوشش کر سکتے ہیں لہٰذا اس کا بہترین حل یہی ہے کہ بالرز کو مسلسل ماسک لگانے کی ہدایت کی جائے یا ایسی کوئی چیز استعمال کی جائے جس سے وہ اپنی اس عادت پر رکاوٹ لگا سکیں تاہم اس حوالے سے بھی مختلف آراء سامنے آرہی ہیں کیونکہ بائولرز کو ماسک پہنانے پر معترض سابق بھارتی فاسٹ بالر اجیت اگرکار کا کہنا ہے کہ فیلڈرز بھی غیر ارادی طور پر بال چمکانے کیلئے اس پر تھوک کا استعمال کرسکتے ہیں لہٰذا اس طرح تو میدان میں موجود ہر فیلڈر کو ماسک لگانا پڑے گا۔ اجیت اگرکار کا یہ موقف درست ہے کہ بال کو چمکانے میں فیلڈرز بھی اپنا کردار نبھاتے ہیں اور سلپ فیلڈرز کو اکثر یہ کام زیادہ کرنا پڑتا ہے لہٰذا ماسک کی پابندی کے بجائے سب کو نئے قوانین سے ہم آہنگی کی ضرورت ہے ۔اجیت اگرکار کا مزید کہنا تھا کہ ماسک لگا کر بائولنگ کرنے سے بائولرز کو نقصان پہنچ سکتا ہے تاہم طبی ماہرین نے اس بات کی بھی وضاحت کردی ہے کہ ماسک لگا کر دوڑنے سے پھیپھڑوں کو نقصان نہیں پہنچتا البتہ انہیں عادت نہ ہونے کے باعث کچھ مشکل پیش آسکتی ہے ۔

موجودہ صورتحال میں کام کرنے والے بیشترڈاکٹر وں کا موقف ہے کہ مصباح الحق کی تجویز بری نہیں کیونکہ بالرز اگر ماسک کا استعمال کریں تو ان کیلئے بال پر لعاب لگانا ممکن نہیں رہے گا لیکن کسی نے بھی اس پہلو پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ہے کہ طویل عرصے تک کھیل سے دوری کے بعد کھلاڑی خود کو میچ کنڈیشنز سے کس طرح ہم آہنگ کر سکیں گے۔
آئی سی سی کو لاک ڈاؤن کے بعد میدان میں اترنے والے انٹرنیشنل بائولرز کی فکر لاحق ہو گئی ہے اور گورننگ باڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ واپسی کے بعد انجریز کے شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں لہٰذا بائولرز کو ٹیسٹ کرکٹ کی مکمل اور بھرپور تیاری کیلئے دو سے تین ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  جب خواتین کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئیں تو عام خیال یہی تھا کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ کرکٹ ایک مشکل کھیل ہے اور اس میں فنی مہارت کے علاوہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی فٹ رہنا پڑتا ہے۔ یعنی یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ صنف نازک کیلئے اس میدان میں کامیابی ہرگز آسان نہیں ہوگا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خواتین نے ثابت کیا کہ وہ ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں

  پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی چپقلش کوئی نئی بات نہیں لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کھیلوں اور شوبز سمیت اب کسی بھی سطح پر تعلقات بہتر نہیں رہے اور حد تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے کھلاڑیوں میں قائم پرانی دوستی بھی داؤ پر لگ چکی ہے جس کی وجہ ظاہر ہے کہ بھارتی حکومت کا رویہ ہی ہے جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور دشمنی پر مبنی بیانات کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اور اس طرز عمل کی حمایت بھارت میں رہنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو کرنا ہی پڑتی ہے جو اکثر اوقات حقائق کے منافی باتیں کرتے ہوئے حد سے گزر جاتے ہیں

مزید پڑھیں

  یہ خوشی کی بات ہے کہ پاکستانی خواتین بھی کرکٹ تبصرہ نگاری کر رہی ہیں، یقین کامل ہے کہ عروج ممتاز اور مرینہ اقبال کی طرح دیگر خواتین بھی اس شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑیں گی

مزید پڑھیں