☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
ورلڈ کپ 2019ء میں’’بھارتی سازش‘‘

ورلڈ کپ 2019ء میں’’بھارتی سازش‘‘

تحریر : منصور علی بیگ

06-14-2020

  پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی چپقلش کوئی نئی بات نہیں لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کھیلوں اور شوبز سمیت اب کسی بھی سطح پر تعلقات بہتر نہیں رہے اور حد تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے کھلاڑیوں میں قائم پرانی دوستی بھی داؤ پر لگ چکی ہے جس کی وجہ ظاہر ہے کہ بھارتی حکومت کا رویہ ہی ہے جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور دشمنی پر مبنی بیانات کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اور اس طرز عمل کی حمایت بھارت میں رہنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو کرنا ہی پڑتی ہے جو اکثر اوقات حقائق کے منافی باتیں کرتے ہوئے حد سے گزر جاتے ہیں

اور ایسے ہی ایک کردار آکاش چوپڑا بھی ہیں جو کرکٹ سے علیحدگی کے بعد کمنٹری کے شعبے میں آئے اور اب یو ٹیوب چینل کی بدولت خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ایک مبصر کی حیثیت سے وہ پاکستان کے سینئر کھلاڑیوں اور کمنٹیٹرز سے بھی رابطے میں رہتے ہیں اور ان کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو سراہا بھی جاتا ہے لیکن جب بات بھارت پر آجائے تو وہ سچائی اور ایمانداری کو کسی طاق پر سجا کر رکھتے ہوئے متعصب اور انتہا پسند بھارتی بن جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بین اسٹوکس کی جانب سے گزشتہ برس ورلڈ کپ کے دوران بھارت بمقابلہ انگلینڈ میچ پر شکوک کے اظہار کے بعدانگلش آل راؤنڈر کیخلاف تو ایک لفظ کہنے کی جرات نہیں کی لیکن انہوں نے بھارت پر جان بوجھ کر میچ ہارنے کا الزام عائد کرنے والے سابق پاکستانی کھلاڑیوں کو شرم دلانے کی کوشش ضرور کر ڈالی کہ بھارت نے پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی کا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔آکاش چوپڑا ہی کیا بھارت میں کچھ اور کمتر شہرت کے مالک مبصرین بھی عالمی کپ میں بھارت کے باعث شرم عمل کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ بلیو شرٹس کی میگا ایونٹ میں بھونڈی اور بھدی ’’کانسپیریسی تھیوری‘‘کھل کر سامنے آگئی ہے اور میڈیا میں اس کے چرچے ہو رہے ہیں۔
عالمی کپ 2019ء میں بھارت بمقابلہ انگلینڈ میچ کا معاملہ اس وقت بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا جب پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں رسائی کی امید کے ساتھ وطن واپس لوٹ آئی تھی اور سابق پاکستانی فاسٹ بائولر وقار یونس کو بھی یہ بات کہنا پڑی تھی کہ ’’پاکستان سیمی فائنل میں پہنچا یا نہیں لیکن ایک بات ضرور ہوئی کہ کچھ چیمپئنز کی اسپورٹس مین اسپرٹ کی آزمائش ہو گئی جس میں انہیں مکمل ناکامی ہوئی‘‘ مگر اس معاملے پر انگلش آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے جلتی پر تیل کا کام کیا

جنہوں نے اپنی کتاب ’’آن فائر‘‘ میں مذکورہ میچ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر کے اسے مزید ’’مشکوک ‘‘بنا دیا۔انگلش آل راؤنڈر نے اگرچہ صاف اور واضح الفاظ میں نہیں کہاکہ بھارت نے جان بوجھ کر میچ ہارا تھا لیکن انہوں نے اپنی کتاب کی فروخت میں اضافے کیلئے یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ روہیت شرما اور ویرات کوہلی نے پراسرار انداز سے بیٹنگ کی جبکہ مہندر سنگھ دھونی کا تو میچ جیتنے کا کوئی ارادہ ہی نظر نہیں آرہا تھا۔بین اسٹوکس نے صاف لفظوں میں اعتراف کیا کہ اگر بھارتی ٹیم انگلینڈ کو ہرا دیتی تو پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات روشن ہو سکتے تھے لیکن مہندر سنگھ دھونی نے حیران کن طورپر اس وقت کوئی حقیقی کوشش نہیں کی جب آخری گیارہ اوورز میں 112 رنز درکار تھے کیونکہ انہوں نے چھکے لگانے کے بجائے سنگلز لینے پر اکتفا کیا اور حد تو یہ ہے کہ جب درجن بھر گیندیں باقی تھیں

اس وقت بھی بھارت نے کامیابی کی کوشش تک نہیں کی تھی۔انگلش آل راؤنڈر کے مطابق ان کی ٹیم نے اس عرصے میں عمدگی سے بائولنگ کی لیکن بھارتی بیٹسمینوں کی بیٹنگ بہت زیادہ عجیب محسوس ہوئی جنہوں نے میچ کے دوران اپنی ٹیم کو خود ہی پیچھے دھکیل دیا اور انگلش ٹیم پر دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور یوں محسوس ہوا کہ وہ انگلینڈ کے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور ہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی بھارتی مبصر بین اسٹوکس کی ان باتوں کو عام سا جائزہ سمجھتے ہوئے جھٹلا دے لیکن درحقیقت یہ اس سازش کا پردہ چاک کرنے کے مترادف ہے جو بھارتی ٹیم نے محض اس وجہ سے رچائی کہ اسے سیمی فائنل جیسے اہم مقابلے میں پاکستان کا سامنا نہ کرنا پڑے جوانگلینڈ کی لیگ میچ میں چوتھی ناکامی کی بدولت لاسٹ فور میں پہنچ سکتی تھی۔
اگرچہ بین اسٹوکس نے آئی پی ایل کے معاہدے اور بھارت میں اپنی کتاب کی فروخت کے پیش نظر اس بات سے صاف انکار کردیا کہ انہوں نے بھارت پر جان بوجھ کر میچ ہارنے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ سابق پاکستانی پیسر سکندر بخت کے اسی بابت ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’وہ لفظوں کو توڑنے اور مروڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ جبکہ انگلش آل راؤنڈر اور بھارت کے ایک حامی نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ بین اسٹوکس نے کہاں لکھا ہے کہ بھارتی ٹیم نے جان بوجھ کر ناکامی کو گلے لگایالیکن سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ بین اسٹوکس کی جانب سے شکوک کی اصل وجہ کیا تھی؟ اگر ان کے خیال میں بھارتی ٹیم نے جان بوجھ کر میچ نہیں ہارا تو انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیوں کیا اور اپنی کتاب میں اس میچ کو خاص طور پر شامل کیا جس میں ناکامی انگلش ٹیم کو ایونٹ سے باہر کر سکتی تھی۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ برس جب اس میچ کے بارے میں وقار یونس سمیت بعض کھلاڑیوں نے اشارہ دیا کہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو اس وقت کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا اور خاموشی اختیار کی گئی مگر اب آکاش چوپڑا جیسے تیسرے درجے کے کرکٹر نے آگے بڑھ کر بھارت کے دفاع کیلئے کمر کس لی ہے ۔ دو ہزار تین میں کیریئر کا آغاز کرنے والے آکاش چوپڑا 23.00 کی معمولی اوسط کے ساتھ دس ٹیسٹ کھیل سکے جن کی 19اننگز میںانہیں محض دو نصف سنچریاں بنانے کا موقع مل سکا لیکن کمنٹری کے شعبے سے وابستہ سابق اوپنر خود کو باتیں بنانے کے لحاظ سے سچن ٹنڈولکر یا سارو گنگولی سے کم نہیں سمجھتے اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے سے زائد قد آور پاکستانی کھلاڑیوں کو شرم دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پر انگلینڈ کیخلاف جان بوجھ کر ورلڈ کپ میچ ہارنے کا الزام بھلا کیسے لگایا جا سکتا ہے لیکن پاکستانی پلیئرز کھلے عام کہتے رہے ہیں کہ بھارت نے جان بوجھ کر مذکورہ میچ ہارا تھا لہٰذا ان پر آئی سی سی جرمانہ عائد کرے کیونکہ ایسا سوچنا بھی غلط ہے کہ بھارتی ٹیم نے کسی مقصد کے تحت ناکامی قبول کی جسے گروپ میں اپنی ٹاپ پوزیشن برقرار رکھنے کیلئے انگلینڈ کیخلاف فتح کی اشد ضرورت تھی جسے گروپ اسٹیج میں صرف ایک ناکامی ہوئی جو انگلینڈ کیخلاف اسی میچ میں تھی جس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
سابق ویسٹ انڈین پیسر اور موجودہ کمنٹیٹر مائیکل ہولڈنگ بھی اسی دوران میدان میں کود پڑے جنہوں نے انگلش آل راؤنڈر بین اسٹوکس کا دعویٰ یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے انگلینڈ کیخلاف ورلڈ کپ دو ہزار انیس کا میچ کسی مقصد کے تحت نہیں ہارا تھا بلکہ کرکٹ میں بعض اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے اور بین اسٹوکس نے اپنی کتاب ’’آن فائر‘‘ میں صرف بھارتی ٹیم کے کھیلنے کے انداز پر سوال اٹھایا ہے۔ مائیکل ہولڈنگ کا اپنے یو ٹیوب چینل پر کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی اضطراب کے باعث خیال کیا گیا کہ اس شکست کے پس پشت کوئی سیاست کارفرما تھی اور بھارتی ٹیم نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان کو سیمی فائنل کھیلنے کا موقع ملے البتہ کرکٹ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ٹیمیں اپنی آسانی کیلئے کسی خاص حریف کا سامنا کرنے کیلئے ایسا کرتی ہیں لیکن اس میچ کا شور شرابہ زیادہ ہونے کی وجہ پاک بھارت خراب تعلقات تھے۔

مائیکل ہولڈنگ نے عالمی کپ 1992ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کیخلاف میچ ہار گئی جس کی وجہ سے آسٹریلیاکو باہر ہونا پڑا لہٰذا ایسے واقعات کھیل میں ہوتے رہتے ہیں کہ کسی ٹیم کو جہاں اپنا فائدہ نظر آتاہے وہ ایسا کر گزرتی ہے۔یقینی طور پر مائیکل ہولڈنگ نے بھی بعض ’’وجوہات‘‘کے پیش نظر بھارتی ٹیم پر الزام لگانا مناسب نہیں سمجھا جو شاید بطور مبصر اپنا کیریئر ختم کرنے کے بعد آئی پی ایل میں مستقبل بنانے کے خواہاں ہوں لیکن ان کی یہ بات کسی سازش کی طرف واضح اشارہ ہے کہ بعض اوقات ٹیمیں اپنی آسانی کیلئے ایسا کرتی ہیں اور بھارت نے بھی ممکنہ طور پر سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم سے سامنا ہونے کا خطرہ ٹالا تھا جسے کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔مائیکل ہولڈنگ نے عالمی کپ 1992ء کی جس صورتحال کا ذکر کیا ہے اس میں پاکستا ن کیخلاف کیویز کی شکست پر کسی نے بھی یہ سوال نہیں اٹھایا تھا کہ نیوزی لینڈ نے جان بوجھ کر میچ ہارا ہے اور یہ پہلو مائیکل ہولڈنگ کی طرف سے سامنے آیا ہے جو اس بات کو فراموش کر گئے کہ پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی اسی وقت ممکن ہوئی تھی جب آسٹریلیا نے مرد میدان ڈیوڈ بون کی سنچری اور مائیکل وہٹنی کی عمدہ بالنگ کے سبب ویسٹ انڈیز کو لاسٹ فور کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔
سابق پاکستانی لیگ اسپنر مشتاق احمد نے بھی بین اسٹوکس کے بیان کے بعد انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ برس ورلڈ کپ کے دوران ویسٹ انڈین ٹیم کے ساتھ منسلک تھے اور بھارت کی انگلینڈ کیخلاف شکست کے بعد کرس گیل،جیسن ہولڈر اور آندرے رسل نے ان سے کہا تھا کہ’’یہ سوچنا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ بھارتی ٹیم پاکستان کو سیمی فائنل میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔‘‘مشتاق احمد کے مطابق انگلش کمنٹیٹرز ناصر حسین اور مائیک ایتھرٹن نے بھی اس پہلو کی نشاندہی کی تھی کہ اگر آپ کرکٹ کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کریں گے تو وہ آپ کے ساتھ کھیل جائے گی اور شاید لوگوں کی نظر میں فیورٹ بھارتی ٹیم حد سے زیادہ اعتماد کا شکار ہو گئی تھی۔مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ لوگ اس میچ میں بھارتی بیٹنگ کی بات کر رہے ہیں حالانکہ کوہلی الیون نے بالنگ کے دوران بھی کوئی خاص کوشش نہیں کی تھی جس نے ابتدائی وکٹیں جلد حاصل کرنے کے باوجود انگلینڈ کو 337 رنز بنانے کی اجازت دے دی جو کافی حیران کن بات تھی۔

سابق قومی آل راؤنڈر عبدالرزاق کا بھی یہی کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستانی ٹیم کو سیمی فائنل میں جانے سے روکا تھا اور یہ بات انہوں نے اسی وقت کہی تھی جب یہ میچ کھیلا گیا تھا بلکہ ہرکوئی یہی بات کہہ رہا تھا کہ مہندر دھونی جیسا شخص جو چوکے اور چھکے لگا سکتا ہے وہ ہر گیند کو بلاک کیوں کر رہا تھا۔ بھارتی مبصر آکاش چوپڑا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کا سفیر ہونے کے باوجود وقار یونس نے بھی ورلڈ کپ کے دوران تبصرہ کیا کہ بھارت نے ایک مقصد کے تحت شکست کھائی تھی حالانکہ بین اسٹوکس نے اپنی کتاب میں بھارتی حکمت عملی پر حیرانگی کے باوجود کہیں نہیں لکھا کہ بھارت جان بوجھ کر میچ ہارا تھا۔ آکاش چوپڑا اگر گزشتہ برس وقار یونس کے ٹوئٹ کو دوبارہ دیکھ لیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ انہوں نے بھی براہ راست بھارت پر کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا بلکہ محض ایک رائے دی تھی اور اگر بین اسٹوکس نے براہ راست بھارتی کو کسی سازش میں ملوث نہیں کیا تو وقار یونس نے بھی اپنے تبصرے میں بھارت کا نام تک نہیں لیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ برس ورلڈ کپ میں انگلینڈ اور بھارت کے درمیان میچ پر تبصرے سے انکار کردیا اورپی سی بی ترجمان کا کہنا تھا کہ دو ہزار انیس کا ورلڈ کپ آئی سی سی نے آرگنائزکیا تھا اور جس میچ کی بات کی جارہی ہے اس میں پاکستان ملوث نہیں تھا لہٰذا اس کے بارے میں کسی قسم کا تبصرہ کرنا عقلمندی کی بات نہیں ہو گی لیکن حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو آکاش چوپڑا کے تمام دعوے کھوکھلے اور بے بنیاد ہیں کیونکہ گیارہ پوائنٹس کی مالک بھارتی ٹیم اس وقت بھی گروپ میں سرفہرست تھی جب اس کا انگلینڈ سے برمنگھم میں سامنا ہوا تھا اورجس نے بعد میں حسب توقع قدرے کمزور حریفوں بنگلہ دیش اور سری لنکا کو ہرا کر اپنے پوائنٹس کی تعداد 15تک پہنچا دی تھی جبکہ انگلش ٹیم نے بھارت کیخلاف فتح کے بعد نیوزی لینڈ کو آخری لیگ میچ میں 119رنز سے ہرا کر 12پوائنٹس کی بدولت پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن یقینی بنائی تھی جو بھارت کے ہاتھوں شکست کی صورت میں محض دس پوائنٹس تک محدود رہ جاتی اور یکساں طور پرگیارہ پوائنٹس کی مالک ٹیمیں نیوزی لینڈ اور پاکستان کو سیمی فائنل میں جگہ مل جاتی لیکن بھارت کی انگلینڈ کیخلاف شکست کی وجہ سے پاکستانی ٹیم رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل سے باہر ہوگئی اور بھارت نے ممکنہ طور پر سیمی فائنل میں پاکستانی مقابلے سے نجات حاصل کرلی لیکن یہ الگ بات ہے کہ اسے لاسٹ فور میں کیویز کیخلاف 240رنز کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا اور اس نے منہ کی کھائی۔

کسی بھی اعتبار سے دیکھا جائے تو بھارت نے پاکستان کی راہ روکنے کیلئے انگلینڈ کیخلاف شکست کا سامان کیا جسے امید تھی کہ وہ اگلے دو میچوں میں سے ایک بھی جیت کر لاسٹ فور میں جگہ بنا سکتی ہے اور اس نے ایسا ہی کیا اور اپنے مقصد کی خاطر گرین شرٹس کو مقابلوں سے باہر کرادیا۔آکاش چوپڑا سمیت بھارتی مبصرین خوا ہ اپنی سازش کا کتنا ہی دفاع کر لیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کیخلاف اس کا طرز عمل کبھی اچھا نہیں رہاجس کی مثال عالمی کپ دو ہزار گیارہ بھی تھا جب سچن ٹنڈولکر کا سعید اجمل کے ہاتھوںصاف ایل بی ڈبلیو تھرڈ امپائربلی باؤڈن ’’ڈکار‘‘گئے ۔انگلش امپائر ایان گولڈ نے ایک بار پھر اعتراف کیا ہے کہ وہ کسی خوف کے بغیر پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سچن ٹنڈولکر آؤٹ تھا اور ان کا فیصلہ آج بھی وہی ہے لیکن کوئی بھارتی مبصر ایان گولڈ کے اس بیان کیخلاف ایک لفظ بولنے کی ہمت نہیں کر سکا مگر پاکستانی کو ایک حقیقت اور سچائی سامنے لانے پر شرم دلائی جا رہی ہے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  جب خواتین کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئیں تو عام خیال یہی تھا کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ کرکٹ ایک مشکل کھیل ہے اور اس میں فنی مہارت کے علاوہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی فٹ رہنا پڑتا ہے۔ یعنی یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ صنف نازک کیلئے اس میدان میں کامیابی ہرگز آسان نہیں ہوگا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خواتین نے ثابت کیا کہ وہ ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں

  پچاس ہزار افراد کی گنجائش والے کسی اسٹیڈیم کے وسط میں اگر صرف پندرہ افراد موجود ہوں اورماسک لگائے کسی فاسٹ بالر کی شارٹ پچ گیند پر بیٹسمین کی سنسناتی ہوئی ڈرائیو کی’’پٹاخ‘‘ گہرا سناٹا توڑ دے اور اس کے بعد یکایک پبلک ایڈریس سسٹم پر تالیوں کی گونج اور شائقین کا شور سنائی دے تو سمجھ لیں کہ یہ کورونا وائرس کے دوران یا اس کے کسی حد تک خاتمے کے بعد کرکٹ کی بحالی کا وہ منظر ہے جسے شاید کچھ عرصے تک دیکھنا بلکہ جھیلنا ہی پڑے گا۔ اگرچہ یہ نظم و ضبط کے ساتھ کھیلے جانے والے ’’شریفوں‘‘ کے کھیل کا شعار نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ مالی بحران نے کرکٹ کے منتظمین کو وہ سب کرنے پر مجبور کردیا ہے

مزید پڑھیں

  یہ خوشی کی بات ہے کہ پاکستانی خواتین بھی کرکٹ تبصرہ نگاری کر رہی ہیں، یقین کامل ہے کہ عروج ممتاز اور مرینہ اقبال کی طرح دیگر خواتین بھی اس شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑیں گی

مزید پڑھیں