☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
ٹیسٹ میچوں میں ٹرپل سنچری بنانے والے کھلاڑی

ٹیسٹ میچوں میں ٹرپل سنچری بنانے والے کھلاڑی

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

04-14-2019

ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانا یقینا اعزاز کی بات ہے، ڈبل سنچری بنانا اُس سے بھی بڑا اعزاز ہے لیکن ٹرپل سنچری بنانا وہ کارنامہ ہے جس پر ایک بلے باز جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اب تک 30ٹرپل سنچریاں بنائی گئی ہیں جن میں پاکستان کے چار بلے باز بھی شامل ہیں۔

ان بلے بازوں میں حنیف محمد، انضمام الحق، یونس خان اور اظہر علی کے نام سامنے آتے ہیں۔ دنیائے کرکٹ کے کئی ایسے شاندار بلے باز ہیں جو ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کرنے سے محروم رہے۔ ان میں سنیل گواسکر اور سچن ٹنڈولکر بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ کی تاریخ میں صرف چار بلے باز ایسے ہیں جنہوں نے دوبارہ ٹرپل سنچری بنا کر انوکھا کارنامہ سرانجام دیا۔

 

ایک ڈون بریڈین دوسرے برائن لارا تیسرے وریندر سہواگ اور چوتھے کرس گیل۔ ہم ذیل میں ان بے مثال کرکٹرز کا ذکر کریں گے جنہوں نے ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ ٹیسٹ کی پہلی ٹرپل سنچری انگلینڈ کے اینڈی سینڈھم نے 1930 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بنائی۔ یہ ٹرپل سنچری انہوں نے ویسٹ انڈیز میں کھیلی جانے والی سیریز کے دوران بنائی۔

 

انہوں نے 325رنز بنائے۔ 1930 کو ہی ڈون بریڈین نے انگلینڈ کے خلاف لیڈز میں ٹرپل سنچری بنائی۔ انہوں نے 334رنز بنائے۔ 1933 میں انگلینڈ کے ویلی ہمینڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف آک لینڈ میں 336رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ 1934 میں لیڈز (انگلینڈ) میں ڈون بریڈمین نے 304 رنز بنائے۔ 1938 کو انگلینڈ کے لین ہٹن نے اوول لندن میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 364رنز بنائے۔ اس کے بعد 20برس تک کوئی ٹرپل سنچری نہیں بنائی گئی۔

1958 میں پاکستان کے حنیف محمد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن میں 337رنز بنائے۔ اس اننگز کی اہمیت اس لحاظ سے بھی زیادہ ہے کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی طویل ترین اننگز تھی۔ اس کے علاوہ یہ ٹرپل سنچری بڑے مشکل حالات میں بنائی گئی تھی۔ پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں فالو آن ہو گئی تھی اور پھر حنیف محمد نے 337رنز بنا کر یہ میچ ڈرا کروا دیا تھا۔

 

1958 میں ہی سرگیری سوبرز نے کنگسٹن میں پاکستان کے خلاف 365 رنز ناٹ آؤٹ بنا ڈالے۔ اس کے بعد چھ برس تک کسی بلے باز نے ٹرپل سنچری نہیں بنائی۔ 1964 میں ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز آسٹریلیا کے بوب سمپسن نے حاصل کیا جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں 311رنز بنائے۔ اگلے برس یعنی 1965 میں انگلینڈ کے جون ایڈرچ نے نیوزی لینڈ کے خلاف لیڈز میں 310رنز ناٹ آؤٹ بنائے

اس ٹرپل سنچری کو بھی یادگار کہا جاتا ہے۔ فروری 1966 میں آسٹریلیا کے باب کاؤپر نے انگلینڈ کے خلاف ملبورن میں 307رنز بنائے۔ اب پھر آٹھ سال کا وقفہ آ گیا۔ 1974 میں ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز ویسٹ انڈیز کے لارنس رو کو حاصل ہوا جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف برج ٹاؤن میں 302رنز بنائے۔ لارنس رو کا شمار ویسٹ انڈیز کے شاندار بلے بازوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے بڑی شاندار ٹرپل سنچری بنائی، ان کے کھیلنے کا انداز انتہائی دلکش تھا۔ اب جو ٹرپل سنچری بنائی گئی اسے بنانے میں 16 برس لگ گئے۔

 

یہ اعزاز انگلینڈ کے گراہم گوچ کو حاصل ہوا جب انہوں نے 1990 میں لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں بھارت کے خلاف 333رنز بنائے۔ گراہم گوچ اس وقت بڑی اعلیٰ فارم میں تھے۔ 1992 میں ورلڈ کپ کھیلنے والی انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی وہی تھے۔ گراہم گوچ کے بعد ویسٹ انڈیز کے برائن لارا نے 1994 میں اینٹیگوا میں انگلینڈ کے خلاف 375 رنز بنا ڈالے۔اس طرح انہوں نے سرگیری سوبرز کا 365رنز کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ لارا شاید 400رنز بنا لیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

1997 کو سری لنکا کے سنت جے سوریا نے کولمبو میں بھارت کے خلاف 340رنز بنائے۔ 1998 میں آسٹریلیا کے ایک اور بلے باز مارک ٹیلر نے پشاور میں پاکستان کے خلاف 334 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ مارک ٹیلر نے یہ رنز بنا کر ڈون بریڈمین کا ریکارڈ برابر کر دیا۔

 

وہ اس سے زیادہ رنز بنانے کی خواہش نہیں رکھتے تھے کیونکہ وہ احترام کے باعث بریڈین کا ریکارڈ توڑنا نہیں چاہتے تھے۔ اس کے بعد چار برس تک کوئی ٹرپل سنچری نہیں بنائی گئی۔ 2002 میں یہ اعزاز پھر پاکستان کے حصے میں آیا جب انضمام الحق نے نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں 329 رنز بنائے۔ لگ یوں رہا تھا کہ وہ حنیف محمد کا 337 رنز کا ریکارڈ توڑ دیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور انضمام الحق آٹھ رنز پیچھے رہ گئے۔ 2003 میں آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے جب انہوں نے زمبابوے کے خلاف پرتھ میں 380 رنز بنا ڈالے۔

یہ ان کا ایک بڑا کارنامہ تھا۔ انہوں نے برائن لارا کا ریکارڈ توڑا تھا۔ 2004 میں بھارت کے افتتاحی بلے باز وریندر سہواگ نے پاکستان کے خلاف ملتان میں 304رنز بنائے۔ یہ کسی بھی بھارتی بلے باز کی پاکستان کے خلاف پہلی ٹرپل سنچری تھی۔

اس کے بعد 2004 میں ہی برائن لارا نے 400رنز ناٹ آؤٹ بنا کے میتھیو ہیڈن کا ریکارڈ توڑ دیا۔ انہوں نے یہ 400رنز انگلینڈ کے خلاف ویسٹ انڈیز میں بنائے۔ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں کسی دوسرے بلے باز نے 400رنز نہیں بنائے۔ برائن لارا کا شمار کرکٹ کے تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں یوں ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ان کی بنا پر ہی ان کو مختلف خطابات دیئے جاتے ہیں۔ 2005

 

میں ویسٹ انڈیز کے ہی جارح بلے باز کرس گیل نے جنوبی افریقہ کے خلاف اینٹیگوا گراؤنڈ میں 317 رنز بنائے۔ ان کی یہ اننگز بڑی شاندار تھی۔انہوں نے زبردست سٹروک پلے کا مظاہرہ کر کے تماشائیوں کو خوب محظوظ کیا۔ کرس گیل نے اس کے بعد بھی کئی یادگار ٹیسٹ اور ایک روزہ میچ کھیلے۔ وہ ابھی تک کھیل رہے ہیں اور دنیا کی ہر مخالف ٹیم کے باؤلرز کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں ہیں۔ 2006 میں سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے نے کولمبو میں جنوبی افریقہ کے خلاف 374 رنز بنانے کا کارنامہ سرانجام دیا۔

جے وردھنے بھی ایک باکمال کھلاڑی تھے اور سری لنکا کی کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ 2008 کو وریندر سہواگ نے ایک بار پھر ٹرپل سنچری بنا ڈالی جب انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف چنائی میں 319 رنز بنا ڈالے۔ 2009 کو ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز ایک بار پھر پاکستان کو ملا جب یونس خان نے سری لنکا کے خلاف کراچی میں 313 رنز بنائے۔

یونس خان وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بھی بنائیں اور رنز بھی بنائے۔ 2010 کو ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے ایک بار پھر کمال کر دکھایا۔ انہوں نے سری لنکا کے خلاف گال میں 333رنز بنائے۔ 2012 میں آسٹریلیا کے دلکش بلے باز مائیکل کلارک نے بھارت کے خلاف سڈنی میں 329 رنز ناٹ آؤٹ بنائے مائیکل کلارک بھی کرکٹ کو خیر آباد کہہ چکے ہیں لیکن انہوں نے بھی کرکٹ کے میدانوں کو اپنے زبردست کھیل سے خوب رونق بخشی۔

 

2012میں ہی جنوبی افریقہ کے بے مثل بلے باز ہاشم آملہ نے انگلینڈ کے خلاف اوول میں 311رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ ہاشم آملہ ابھی تک کرکٹ سے وابستہ ہیں اور ان کا کھیل کبھی زوال پذیر نہیں ہوا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ کرکٹ کھیلتے رہیں گے ریکارڈ بناتے جائیں گے۔ 2012 کے بعد دو سالوں میں کوئی ٹرپل سنچری نہیں بنائی گئی۔ 2014 کو یہ اعزاز سری لنکا کے وکٹ کیپر بلے باز کمارسنگاکارا کو ملا جب انہوں نے چٹاگانگ میں بنگلہ دیش کے خلاف 319 رنز بنائے۔

کماراسنگاکارا کے عظیم بے باز ہونے میں کیا شک ہے؟ وہ سری لنکا کی کرکٹ کی تاریخ کے شاید عظیم ترین بلے باز ہیں۔ وہ بھی کرکٹ کو خیرآباد کہہ چکے ہیں۔ 2014 کو ہی نیوزی لینڈ کے منفرد بلے باز برینڈن میکلم نے بھارت کے خلاف ولنگٹن میں 302 رنز بنائے۔ میکلکم کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ وہ صرف ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ ایک روزہ کرکٹ میچوں میں بھی بڑی متاثر کن کارکردگی دکھاتے تھے۔

 

ان کا انداز جارحانہ تھا اور وہ بڑے مقبول کھلاڑی تھے۔ 2015میں کوئی ٹرپل سنچری نہیں بنائی گئی۔ 2016 کو یہ اعزاز پھر ایک پاکستانی کھلاڑی کے حصے میں آیا۔ یہ کھلاڑی تھے اظہر علی۔ انہوں نے دوبئی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 302رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ اظہر علی اب ایک روزہ اور ٹی 20 کرکٹ سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں اور اب وہ صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

 

بہرحال یہ ان کا اعزاز ہے کہ انہوں نے ٹرپل سنچری بنائی۔ 2016 میں ہی بھارت کے کرون نائر نے انگلینڈ کے خلاف 303رنز بنائے یہ ٹرپل سنچری انہوں نے چنائی میں بنائی اور 303 رنز بنا کر وہ آؤٹ بھی نہیں ہوئے۔ مذکورہ بالا بلے بازوں نے ٹرپل سنچریاں بنا کر اپنا نام ہمیشہ کے لیے کرکٹ کی تاریخ کے صفحات میں لکھوا لیا ہے۔ خاص طور پر ان بلے بازوں کے کیا کہنے جنہوں نے صرف ایک بار نہیں بلکہ دو بار یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ یہ بات بھی قابل فخر ہے کہ پاکستان کے کھلاڑیوں نے بھی چار بار یہ اعزاز حاصل کیا۔

انہیں جتنی داد بھی دی جائے کم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے کونسے کھلاڑی ہوں گے جو یہ عظیم کارنامہ سرانجام دیں گے اور پرانے ریکارڈ پاش پاش کریں گے۔ یہ بات سچ ہے کہ ریکارڈ ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 400 رنز ناٹ آؤٹ ہے جو کہ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا نے بنایا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ریکارڈ ٹوٹ پائے گا؟ کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ امکانات کے دریچے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

قیام پاکستان سے قبل جب متحدہ ہندوستان کی ہاکی ٹیم ہوتی تھی تو اس میں کئی مسلمان کھلاڑیوں نے نام کمائے لیکن جو شہرت جعفر شاہ کے حصہ میں آئ ...

مزید پڑھیں

انتخاب عالم اس سکول الیون ٹیم کے کپتان تھے جس نے انٹرسکول الیون ٹورنامنٹ جیتا تھا۔ وہ کراچی سی کی جانب سے چند فرسٹ کلاس میچز بھی کھیل چکے ...

مزید پڑھیں

پاکستان جیسے ملک میں خواتین کا کسی میدان میں اپنا آپ منوانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی کراچی سے تعلق رکھنے وال ...

مزید پڑھیں