☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
سلیم یوسف…ایک شاندار وکٹ کیپر بلے باز

سلیم یوسف…ایک شاندار وکٹ کیپر بلے باز

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

04-28-2019

کرکٹ کی تاریخ میں جہاںعظیم بلے بازوں اور بائولرز کا ذکر ملتا ہے وہیں عدیم النظیر وکٹ کیپرز کے کارہائے نمایاں بھی پڑھنے کو ملتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بے مثل وکٹ کیپر بلے بازوں کے حیرت انگیز کارنامے بھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ عام طور پر عظیم ترین وکٹ کیپر بلے بازوں میں ایلن ناٹ‘ روڈنی مارش‘ ایڈم گلکرسٹ‘ مارک بائوچرز‘ کمارسنگاکارا اور ایم ایس دھونی کے نام لئے جاتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ ایلک سٹیورٹ‘ راشد لطیف اور معین خان کے ناموں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان سب کے علاوہ ایک نام اور بھی ہے اور وہ ہے سلیم یوسف۔

سلیم یوسف نے 80ء کی دہائی میں پاکستانی کرکٹ میں خوب دھوم مچائی۔ انہیں ٹائیگر یوسف کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہ بڑے دلیر اور جرات مند کھلاڑی تھے۔ وکٹ کیپنگ کے ساتھ ساتھ ان کی بلے بازی بھی بڑی دلکش تھی۔ عمران خان کو ان پر بہت اعتماد تھا اور وہ ان کے پسندیدہ کھلاڑی تھے۔ ویسے تو پاکستان کے پہلے وکٹ کیپر بلے باز امتیاز احمد تھے اور وہ بلاشبہ ایک باکمال کھلاڑی تھے۔ لیکن اس دور میں چونکہ کرکٹ بہت کم کھیلی جاتی تھی اس لیے ان کا نام اس فہرست میں نہیں شامل کیا جاتا جس میں عظیم وکٹ کیپر بلے بازوں کے نام پڑھنے کو ملتے ہیں۔

روڈنی مارش کا زمانہ 70 اور 80 کی دہائی کا ہے۔ ایلن ناٹ اس سے بھی پہلے کے ہیں۔ پاکستان کے عظیم ترین وکٹ کیپر وسیم باری تھے لیکن وہ اتنے اچھے بلے باز نہیں تھے۔ انہوں نے ایک طویل مدت تک وکٹ کیپر کی حیثیت سے پاکستان کرکٹ کی خدمت کی۔ ان کے بعد یہ اہم ذمہ داری مرحوم تسلیم عارف نے سنبھالی۔ تسلیم عارف نے کئی سال فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اور وہ منتظر تھے کہ انہیں قومی ٹیم کا حصہ بنایا جائے۔ پھر وہ وقت آ ہی گیا۔ 1979-80 میں بھارت کے دورے پر انہیں شامل کر لیا گیا لیکن انہیں وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے نہیں بلکہ بلے باز کی حیثیت سے شامل کیا گیا اور وکٹ کیپر کے طور پر وسیم باری نے ہی فرائض سرانجام دیئے۔

تسلیم عارف افتتاحی بلے باز تھے اور جارحانہ انداز میں کھیلتے تھے۔ بھارت کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 90رنز بنائے۔ بدقسمتی سے وہ سنچری بنانے سے محروم رہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ نروس نائنٹیز کا شکار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد جب آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آئی تو تسلیم عارف کو وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے شامل کر لیا گیا۔ 1980ء کے آخر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آئی تو تسلیم عارف اس وقت بھی ٹیم میں شامل تھے۔ اس کے بعد کچھ عرصے کیلئے اشرف علی قومی کرکٹ ٹیم میں وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھیلتے رہے۔

وہ بلے بازی بھی کر لیتے تھے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی کارکردگی کچھ زیادہ متاثر کن نہیں تھی۔ پھر ایک اور نوجوان وکٹ کیپر بلے باز قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے جن کا نام تھا انیل دلپت۔ شروع شروع میں کرکٹ کے پنڈتوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ نوجوان طویل عرصے تک وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے گا۔ انہوں نے 9 ٹیسٹ میچوں میں 15 رنز کی اوسط سے 167 رنز بنائے جبکہ 15 ایک روزہ میچوں میں 12 رنز کی اوسط سے وہ صرف 87رنز بنا سکے۔ یہ کارکردگی کسی طور پر اطمینان بخش نہیں تھی۔ وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے پہلے ہندو کھلاڑی تھے۔

اصل میں انیل دلپت کو وسیم باری کے زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ سابق ٹیسٹ کھلاڑی دانش کنیریا انیل دلپت کے کزن ہیں۔ انیل دلپت نے پہلی ٹیسٹ سیریز 1983-84 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلی۔ انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت ظہیر عباس کر رہے تھے۔ پاکستان نے یہ سیریز 1-0 سے جیت لی تھی۔ سیریز کے تینوں میچوں میں انیل دلپت نے بڑی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

اگرچہ انیل دلپت نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا تھا لیکن انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں رہی۔ بھارت کے خلاف ایک میچ میں دلپت نے نہایت غیر معیاری وکٹ کیپنگ کا مظاہرہ کیا جس پر کپتان عمران خان سخت برہم ہوئے۔ پاکستان وہ میچ ہار گیا۔ اس کے بعد ذوالقرنین نامی ایک وکٹ کیپر کو شامل کیا گیا۔ لیکن اس کے ان فٹ ہونے کے بعد سلیم یوسف کو موقع دیا گیا جنہوں نے آتے ساتھ ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ 7

دسمبر 1959ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے سلیم یوسف نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں چونکا دینے والی پرفارمنس دی۔ وہ آج کل کسٹمز کے ادارہ سے وابستہ ہیں اور کراچی ہی میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ 80 کی دہائی میں اتنی زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی جاتی تھی لیکن پھر بھی سلیم یوسف نے قابل تحسین کھیل پیش کیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وسیم باری کے بعد وہ دوسرے سب سے زیادہ باصلاحیت وکٹ کیپر تھے۔ انہوں نے 32 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 44اننگز کھیلیں۔ وہ پانچ بار ناٹ آئوٹ رہے۔

انہوں نے 27.5 رنز کی اوسط سے 1055 رنز بنائے اور ان کا ایک اننگزمیں زیادہ سے زیادہ سکور 91رنز ناٹ آئوٹ رہا۔ انہوں نے پانچ نصف سنچریاں بنائیں۔ 91کیچز پکڑے اور 13کھلاڑیوں کو سٹمپ آئوٹ کیا۔ اسی طرح انہوں نے 86 ایک روزہ میچ کھیلے اور 62 اننگز میں بلے بازی کا موقع ملا۔ انہوں نے 768 رنز بنائے اور ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 62رنز رہا۔ انہوں نے 4 نصف سنچریاں بنائیں اور ان کا سٹرائیک ریٹ 75.00تھا۔ انہوں نے ایک روزہ میچوں میں 81 کیچز پکڑے اور 22کھلاڑیوں کو سٹمپ آئوٹ کیا۔

1982ء میں انہوں نے پہلا ٹیسٹ میچ کراچی میں سری لنکا کے خلاف کھیلا جبکہ ان کا آخری ٹیسٹ میچ 1990ء میں کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا۔ اسی طرح ان کا پہلا ایک روزہ میچ بھی سری لنکا کے خلاف تھا اور آخری میچ بھی اسی ٹیم کے ساتھ کھیلا۔

سلیم یوسف کا ایک ریکارڈ کمال کا ہے۔ وہ پہلے وکٹ کیپر تھے جنہوں نے ایک ون ڈے میچ میں تین کھلاڑیوں کو سٹمپ آئوٹ کیا۔ یہ ریکارڈ ابھی تک سلیم یوسف کے پاس ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سلیم یوسف انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے سے پہلے کئی اداروں کی ٹیموں کی طرف سے کھیلتے رہے اور ان کی کارکردگی پر کبھی کوئی سوالیہ نشان نہیں اٹھا۔

یہ سلیم یوسف کی خداداد صلاحیتوں کا شاخسانہ تھا کہ کپتان عمران خان نے کئی بار ایک روزہ میچوں میں انہیں اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا اور انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ اس سلسلے میں شارجہ میں کھیلے گئے کئی ایک روزہ میچوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ شارجہ میں کھیلے گئے بھارت کے خلاف ایک روزہ میچ میں انہوں نے منظور الٰہی کے ساتھ مل کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔

یہ میچ تقریباً پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا لیکن پھر انہوں نے مڈل آرڈر بلے باز منظور الٰہی کے ساتھ مل کر یادگار کارنامہ سرانجام دیا۔ اب ذرا بات ہو جائے 1986-87 کی وہ سیریز جو بھارت کے خلاف بھارت میں کھیلی گئی۔ اس سیریز میں پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔ پاکستان نے ایک روزہ سیریز 4-1 سے جیت لی۔ سلیم یوسف نے بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

جہاں تک پانچ ٹیسٹ میچوں کا تعلق ہے تو پہلے چار ٹیسٹ میچ ڈرا ہو گئے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف دونوں ٹیموں کی دفاعی حکمت عملی تھی۔ کوئی بھی ٹیم ہارنا نہیں چاہتی تھی۔ دونوں ٹیمیں چاہتی تھیں کہ سیریز فیصلہ کن ثابت ہو لیکن شکست کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں تھی۔

آخری ٹیسٹ میچ بنگلور میں کھیلا گیا اور اس بار مکمل طور پر سپن وکٹ بنا دی گئی۔ بھارت کے سابق سپنر دھیرج پرسنا نے اس وکٹ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پہلی ہی بال سپن کر سکتے ہیں۔ بہرحال یہ میچ انتہائی اعصاب شکن ثابت ہوا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ٹیسٹ میچوں میں سے ایک ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ میچ سپنروں کا میچ ثابت ہوا۔

دونوں ٹیموں کے سپن بائولرز نے بڑی شاندار بائولنگ کی لیکن بازی پاکستان کے سپنرز اقبال قاسم اور توصیف احمد لے گئے۔ اس پورے میچ میں سلیم یوسف نے بڑی مستعدی اور حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا۔ انہوںنے توصیف احمد کی گیند پر روجربنی کا وکٹوں کے پیچھے کیچ پکڑ کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ پاکستان یہ ٹیسٹ سیریز 1-0 سے جیت گیا۔ نہ صرف پاکستان نے یہ ٹیسٹ سیریز جیتی بلکہ پہلی بار بھارت کو بھارت میں ٹیسٹ سیریز میں ہرایا۔

1987ء میں پاکستان اور بھارت میں ریلائنس ورلڈکپ کا انعقاد ہوا۔ اس ورلڈکپ ٹورنامنٹ میں پاکستان جیت کیلئے فیورٹ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کو بھارت میں اور انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرایا تھا۔

بڑے بڑے تبصرہ نگاروں کی نظر میں پاکستان یہ ورلڈکپ جیت رہا تھا لیکن قسمت کی دیوی عمران خان پر مہربان نہ ہوئی اور پاکستان غیر متوقع طور پر سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے ہار گیا۔ بہرحال یہ تو اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے لیگ میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جس طرح سے ہرایا وہ ناقابل فراموش ہے۔

یہ ایک ایسا میچ تھا جو پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا لیکن پھر سلیم یوسف نے بڑی دلیری سے ویسٹ انڈیز کی طوفانی بائولنگ کا سامنا کیا اور شکست کے جبڑے سے فتح چھین لی۔ اگرچہ اس میچ کی جیت میں کورٹنی واش کی آخری گیند پر عبدالقادر کے چھکے نے بھی اہم کردار ادا کیا لیکن جیت کی بنیاد سلیم یوسف رکھ چکے تھے۔ یہیں سے سلیم یوسف کو ٹائیگر کا خطاب ملا۔ اس کے بعد 1987-88 کے ویسٹ انڈیز کے دورے میں بھی سلیم یوسف نے نہ صرف عمدہ وکٹ کیپنگ کی بلکہ شاندار بلے بازی کی۔ سلیم یوسف کی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ عمران خان کے پسندیدہ کھلاڑی رہے۔

جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے کہ سلیم یوسف نے اتنی زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی جتنی کہ آج کل کھیلی جا رہی ہے۔ اگر وہ بھی 100یا اس سے زیادہ ٹیسٹ کھیلتے تو ان کا ریکارڈ قابل رشک ہوتا۔ لیکن انہوں نے جتنی کرکٹ بھی کھیلی خوب کھیلی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ جس زمانے میں سلیم یوسف کرکٹ کھیلتے رہے‘ ویوین رچرڈز بغیر ہیلمٹ کے کھیلتے تھے اور یہ وصف سلیم یوسف میں بھی تھا کہ وہ بھی بغیر ہیلمٹ کے کریز پر موجود ہوتے تھے۔ وہ ایک دلیر اور جرات مند کھلاڑی تھے اور ایسے کرکٹر کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  جب خواتین کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئیں تو عام خیال یہی تھا کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ کرکٹ ایک مشکل کھیل ہے اور اس میں فنی مہارت کے علاوہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی فٹ رہنا پڑتا ہے۔ یعنی یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ صنف نازک کیلئے اس میدان میں کامیابی ہرگز آسان نہیں ہوگا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خواتین نے ثابت کیا کہ وہ ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں

  پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی چپقلش کوئی نئی بات نہیں لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کھیلوں اور شوبز سمیت اب کسی بھی سطح پر تعلقات بہتر نہیں رہے اور حد تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے کھلاڑیوں میں قائم پرانی دوستی بھی داؤ پر لگ چکی ہے جس کی وجہ ظاہر ہے کہ بھارتی حکومت کا رویہ ہی ہے جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور دشمنی پر مبنی بیانات کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اور اس طرز عمل کی حمایت بھارت میں رہنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو کرنا ہی پڑتی ہے جو اکثر اوقات حقائق کے منافی باتیں کرتے ہوئے حد سے گزر جاتے ہیں

مزید پڑھیں

  پچاس ہزار افراد کی گنجائش والے کسی اسٹیڈیم کے وسط میں اگر صرف پندرہ افراد موجود ہوں اورماسک لگائے کسی فاسٹ بالر کی شارٹ پچ گیند پر بیٹسمین کی سنسناتی ہوئی ڈرائیو کی’’پٹاخ‘‘ گہرا سناٹا توڑ دے اور اس کے بعد یکایک پبلک ایڈریس سسٹم پر تالیوں کی گونج اور شائقین کا شور سنائی دے تو سمجھ لیں کہ یہ کورونا وائرس کے دوران یا اس کے کسی حد تک خاتمے کے بعد کرکٹ کی بحالی کا وہ منظر ہے جسے شاید کچھ عرصے تک دیکھنا بلکہ جھیلنا ہی پڑے گا۔ اگرچہ یہ نظم و ضبط کے ساتھ کھیلے جانے والے ’’شریفوں‘‘ کے کھیل کا شعار نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ مالی بحران نے کرکٹ کے منتظمین کو وہ سب کرنے پر مجبور کردیا ہے

مزید پڑھیں