☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
ورلڈ کپ کرکٹ کے ناقابلِ یقین مقابلے

ورلڈ کپ کرکٹ کے ناقابلِ یقین مقابلے

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

05-26-2019

30مئی سے بارہویں ورلڈ کپ کرکٹ کا آغاز ہو رہا ہے ،ورلڈ کپ کا آغاز 1975 میں ہوا تھا۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ چار سال بعد ورلڈ کپ کھیلا جائے گا۔ اس قانون کے مطابق 1975 کے بعد 1979، 1983، 1987، 1992، 1996، 1999، 2003، 2007، 2011 اور 2015میں ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا۔ یعنی اب تک 11ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلے جا چکے ہیں اور اب بارہویں ورلڈ کپ کا انتظار ہے جس کے انعقاد میں چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں۔

ماضی میں کھیلے گئے 11ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں سے آسٹریلیا نے پانچ دفعہ یہ اعزاز اپنے نام کیا جبکہ بھارت اور ویسٹ انڈیز دو بار ورلڈ کپ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک بار رولڈ کپ جیتا۔ نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور دیگر ٹیمیں یہ اعزاز ابھی تک اپنے نام نہیں کر سکیں۔ دیکھیں 2019 کے ورلڈ کپ میں قسمت کی دیوی کس ٹیم پر مہربان ہوتی ہے۔

کرکٹ ورلڈ کپ میں کھیلے گئے کئی میچ ایسے تھے جو ناقابلِ یقین تھے اور لوگوں کو اس بات پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ کرکٹ میں کوئی بات بھی حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ کمزور ٹیم بھی مضبوط ٹیم کو ہرا کر شائقینِ کرکٹ کو ششدر کر سکتی ہے۔ مضبوط ٹیمیں بعض اوقات جیتے ہوئے میچ ہار جاتی ہیں۔ میچ کا نقشہ کس وقت پلٹ جائے، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بعض ٹیمیں ڈارک ہارس ثابت ہوتی ہیں اور فیورٹ ٹیمیں منہ تکتی رہ جاتی ہیں۔ ہم اپنے قارئین کو ورلڈ کپ تاریخ کے ان یادگار میچوں کے بارے میں بتائیں گے جو ریکارڈ بک میں محفوظ ہو چکے ہیں۔

-1 پاکستان، ویسٹ انڈیز (1975)

واہ کیا میچ تھا! پہلے ورلڈ کپ کا سب سے ناقابلِ یقین مقابلہ یہی تھا۔ اُس وقت 60اوورز کا میچ ہوتا تھا اور ہر باؤلر 12اوورز کرا سکتا تھا۔ کرکٹ اتنی تیز نہیں تھی۔ 250 یا اس سے زیادہ رنزبنا لیے جاتے تو کھلاڑی خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ یہ میچ اس لیے بھی یادگار تھا کہ جاوید میانداد اور گورڈن گرینج کا یہ پہلا ایک روزہ میچ تھا۔ جاوید میاں داد کو بلے باز کے علاوہ لیگ سپن باؤلر کی حیثیت سے بھی شامل کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ جاوید میاں داد نے اُس وقت تک کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا تھا۔ پاکستان کی ٹیم میں ماجد خان، سرفراز نواز، ظہیر عباس صادق محمد اور وسیم راجہ جیسے کھلاڑی شامل تھے۔

پرویز میر اور نصیر ملک کو بھی باؤلنگ سکواڈ میں شامل کیا گیا۔ ٹیم کی قیادت آصف اقبال کر رہے تھے لیکن بیماری کی وجہ سے وہ کپتانی نہ کر سکے اور ان کی جگہ ماجد خان نے کپتانی کے فرائض سرانجام دیئے، پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور 60اوورز میں 266رنز بنائے۔ ماجد خان، وسیم راجہ اور مشتاق محمد نے بہت اچھی بلے بازی کی۔ خاص طور پر وسیم راجہ نے برق رفتاری سے 57رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز میں روہن کنہائی کو خاص طور پر شامل کیا گیا۔ پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے بڑی نپی تلی باؤلنگ کی اور ویسٹ انڈیز کو ششدر کر دیا۔ سرفراز نواز نے چار وکٹیں حاصل کیں۔ اب کلائیو لائیڈر استے کی دیوار تھے جن کو جاوید میاں داد نے آؤٹ کر دیا۔ پاکستان کی فتح یقینی تھی۔ ویسٹ انڈیز کو جیت کے لئے 64رنز کی ضرورت تھی اور صرف ایک وکٹ باقی تھی۔ اینڈی رابرٹس اورڈیرک مرے میدان میں تھے۔ انہوں نے یادگار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو فتح دلا دی۔ افسوس صد افسوس پاکستانی باؤلر آخری وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ یہ ایک ناقابل یقین فتح تھی۔

-2 بھارت، انگلینڈ (1975)

اِس میچ میں بھارت کو انگلینڈ نے 202رنز سے شکست دے دی۔ یہ ناقابل یقین نتیجہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ اس وقت بھارت کی ٹیم ایک روزہ میچ میں اتنی اچھی نہیں تھی لیکن یہ بھی توقع نہیں کی جا رہی تھی کہ وہ اتنے بڑے مارجن سے انگلینڈ سے ہار جائے گی، انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے 334رنز بنائے اور اُس کے صرف 4کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ ڈینس ایمس، کیتھ فلیچر،اورکرس اولڈ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور بھارتی باؤلرز کی جی بھر کر پٹائی کی۔ بھارت نے مایوس کن باؤلنگ تو کی ہی تھی لیکن اس کے بلے بازوں نے بھی شائقین کرکٹ کو مایوس کیا۔ بھارتی ٹیم صرف 132رنز بنا سکی۔ اوپننگ بلے باز سنیل گواسکر نے 60اوورز میں صرف 36رنز بنائے۔ دوسرے قابلِ ذکر بلے باز گنداپاوشوا ناتھ تھے جنہوں نے 37رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ بہت بری پرفارمنس تھی اور اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ بھارتی ٹیم آئندہ میچوں میں کیا کرے گی۔

-3 پاکستان، ویسٹ انڈیز (1979)

یہ بھی ایک ناقابلِ یقین میچ تھا۔ ویسٹ انڈیز نے مقررہ 60اوورز میں 293رنز بنائے جو اس دور کے حوالے سے بڑا سکور تھا۔ گرینج نے 73، رچرڈز نے 42، ہنیز نے 65اور کولس گنگ نے 25گیندوں پر 34رنز بنائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ کھلاڑیوں میں سے چار کو کپتان آصف اقبال نے آؤٹ کیا۔ پاکستان نے بلے بازی شروع کی تو شروع میں ہی صادق محمد آؤٹ ہو گئے۔ پھر ظہیر عباس اور ماجد خان نے کمال کر دیا۔ دونوں نے ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس وقت وسٹ انڈیز کے پاس کرافٹ، ہولڈنگ اور اینڈی ربرٹس جیسے باؤلر تھے۔ ان سب کے ہوتے ہوئے ویوین رچرڈز نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔ جب تک ماجد خان اور ظہیر عباس کریز پر موجود رہے، پاکستان کی فتح کی شمع روشن رہی۔ ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کے چہرے مرجھا گئے۔ ظہیر عباس نے 91اور ماجد خان نے 81رنز بنائے۔ یہ بات یقینی ہو گئی کہ پاکستان یہ میچ جیت جائے گا۔ لیکن 1975 کی طرح اس بار بھی قسمت کی دیوی پاکستان پر مہربان نہ ہوئی۔ جونہی ظہیر اور ماجد آؤٹ ہوئے، پاکستانی بیٹنگ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ ہارون رشید، آصف اقبال، جاوید میاں داد، مدثر نذر اور عمران خان کچھ نہ کر سکے اور یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے ۔چونکہ یہ سیمی فائنل میچ تھا اس لیے کرکٹ کے پنڈتوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ماجد اور ظہیر عباس زیادہ دباؤ برداشت نہ کر سکے ورنہ اتنے سارے بلے بازوں کی موجودگی میں بقایا سکور کرنا مشکل نہ تھا۔ کلائیو لائیڈ 1975 کی طرح پھر خوش قسمت ثابت ہوئے۔ 1975 کے ورلڈ کپ میچ میں تو وہ گراؤنڈ سے باہر چلے گئے تھے کیونکہ انہیں اپنی شکست کا سو فی صد یقین ہو گیا تھا۔ 1979 میں بھی وہ مایوس ہو گئے تھے لیکن آخر میں نتیجہ ان کے حق میں نکلا۔

-4بھارت، ویسٹ انڈیز 1983

بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 1983کا ورلڈ کپ فائنل کھیلا گیا۔ ویسٹ انڈیز ہر لحاظ سے فیورٹ تھی۔ اُن کے باؤلرز اور بلے باز پوری طرح فارم میں تھے اور تیسری بار ورلڈ کپ چیمپئن بننے کیلئے بے تاب تھے۔ یہ میچ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا۔ یہ میچ 25جون 1983کو کھیلا گیا۔ اگرچہ بھارتی ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں بہت اچھا کھیل کر فائنل میں پہنچی تھی لیکن ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں بھارت کی فتح کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے تھے۔ اُس کا سبب یہ تھا کہ ویسٹ انڈیز میں اینڈی رابرٹس، ویون رچرڈز، مائیکل ہولڈنگ، میلکم مارشل،جوئیل گارنر اور کلائیو لائیڈ جیسے کھلاڑی شامل تھے۔ بھارت نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے صرف 183رنز بنائے۔ عام خیال یہ تھا کہ ویسٹ انڈیز کیلئے یہ ہدف حاصل کرنا چنداں مشکل نہیں ہوگا لیکن ویون رچرڈز کے آؤٹ ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو نہ جانے کیا ہوا کہ ساری ٹیم 140رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ ویون رچرڈز نے سب سے زیادہ 33رنز بنائے۔ بھارتی باؤلرز نے بڑی سمجھداری سے باؤلنگ کی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوگئے تھے جو بالآخر ان کی شکست کا باعث بنا۔

-5پاکستان، آسٹریلیا (1987)

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جو سیمی فائنل 1987 کے ریلائنس ورلڈ کپ میں لاہور میں کھیلا گیا وہ بھی ایک ناقابل یقین میچ تھا۔ پاکستان کی ٹیم ہاٹ فیورٹ تھی اور عام خیال یہ تھا کہ 1987 ورلڈ کپ کا فاتح پاکستان ہوگا۔ لیکن آسٹریلیا نے غیر متوقع طور پر پاکستان کو ہرا دیا۔ آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے 267رنز بنائے۔ اس میں سلیم جعفر کی ناقص باؤلنگ کا بڑا ہاتھ تھا جنہوں نے آخری اوور میں 18رنز دیئے۔ ڈیوڈ بون نے 65جبکہ ویلٹیا نے 48رنز بنائے۔ عبدالقادر اور وسیم اکرم نے کوئی وکٹ حاصل نہیں کی۔ پاکستان کی طرف سے جاوید میاں داد نے 70اور عمران خان نے 58 رنز بنائے۔ جاوید میاں داد نے سست رفتاری سے بلے بازی کی۔ پھر بدقسمتی سے ڈکی برڈ نے عمران خان کو آؤٹ قرار دے دیا جو کہ نہایت متنازع تھا۔ عمران خان نے بھی بعد میں کئی بارکہا کہ وہ آؤٹ نہیں تھے۔ بس اسی ایک فیصلے نے یہ سیمی فائنل آسٹریلیا کی جھولی میں ڈال دیا۔ پوری ٹیم 249رنز پر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان یہ میچ 11رنز سے ہار گیا۔ یہ ایک ناقابل یقین شکست تھی۔

-6پاکستان، نیوزی لینڈ (1992)

1992 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں پاکستان کا فتح حاصل کرنا بہت بڑی بات تھی۔ پاکستان نے ہارا ہوا میچ جیتا۔ نیوزی لینڈ کو پاکستان لیگ میچ میں ہرا چکا تھا لیکن سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پورے عزم کے ساتھ میدان میںا تری۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے262رنز بنائے جن میں کپتان مارٹن کرو کے شاندار 91رنز بھی شامل تھے اس کے علاوہ ردرفورڈ نے 50رنز بنائے۔ پاکستان کی بلے بازی کا آغاز اتنا برا نہیں تھا۔ عمران خان اور معین راجہ نے 44,44رنز بنائے لیکن پھر بلے بازی میں وہ دم خم نہ رہا اور ہدف مشکل ہوتا چلا گیا۔ اس موقع پر جاوید میاںداد اور انضمام الحق نے بالترتیب 57اور 60رنز بنائے۔ خاص طور پر انضمام الحق نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ یقینا ایک ناقابل یقین فتح تھی۔

کینیا، ویسٹ انڈیز(1996)

1996کے ورلڈ کپ میں کینیا نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کر پوری دنیا کے کرکٹ شائقین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ میچ 29فروری 1996 کو بھارت کے شہر پونا میں کھیلا گیا۔ کینیا نے پہلے کھیلتے ہوئے 166رنز بنائے۔ لیکن اس کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم صرف 93رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ یہ 1996ورلڈ کپ کا سب سے بڑا اپ سیٹ تھا۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان برائن لارا نے خود کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ یہ واقعی ایک ناقابل یقین میچ تھا جس نے بھی سنا وہ حیرت کا مجسمہ بن گیا۔ کئی لوگوں کو تو اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ کینیا جیسی ٹیم بھی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کھیل رہی ہے۔ بہرحال اب یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

-7 آسٹریلیا، جنوبی افریقہ (1999)

آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا گیا 1999ورلڈ کپ کا سیمی فائنل ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا اور ناقابل یقین مقابلہ کہا جاتا ہے۔ جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو صرف 213رنز تک محدود کر دیا تھا اور ان کے بلے باز بڑے اعتماد سے کھیل رہے تھے۔ لیکن پھر شین وارن کی جادوگری نے کام دکھایا۔ ایک موقع ایسا آیا کہ جنوبی افریقہ کے 9کھلاڑی آؤٹ ہو گئے تھے اور میچ برابر ہو چکا تھا۔ جنوبی افریقہ کو فتح کیلئے ایک رن درکار تھا۔ ایلن ڈونلڈ اور لانس کلوزنر کریز پر تھے ایلن ڈونلڈ پر ایسی گھبراہٹ طاری ہوئی کہ وہ ایک رن لینے کی کوشش کرتے ہوئے رٹ آؤٹ ہو گئے۔ یہ میچ ٹائی ہو گیا لیکن چونکہ لیگ میچ میں آسٹریلیا جنوبی افریقہ کو ہرا چکا تھا اس لئے قواعد کے مطابق آسٹریلیا فائنل میں پہنچ گیا۔ اس میچ کی تلخ یادیں اب بھی باقی ہیں اور جنوبی افریقہ والے آج تک اس میچ کو نہیں بھولے۔ اُن کے نزدیک ان کا فائنل تک نہ پہنچنا ایک ایسے المیے سے کم نہیں تھا لیکن بہرحال کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

-8 پاکستان، آئرلینڈ (2007)

اس میچ میں پاکستان آئرلینڈ سے ہار گیا جو بہت غیر متوقع تھا۔ پاکستان پہلے بازی کرتے ہوئے صرف 132رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا۔ کامران اکمل نے سب سے زیادہ 27رنز بنائے۔ پاکستانی باؤلرز نے بڑی شاندار باؤلنگ کی اور امید تھی کہ پاکستان اس کم ہدف کا بھی دفاع کرنے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن آئر لینڈ کے کھلاڑی اوبرائن دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے 72رنز نے آئر لینڈ کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ محمد سمیع اور محمد حفیظ کی شاندار باؤلنگ کے باوجود پاکستان یہ میچ ہار گیا۔ اس میچ کی تلخ یادیں بھی بھلائی نہیں جا سکتیں کیونکہ اس میچ کے فوری بعد ٹیم کے کوچ باب وولمر کی ناگہانی موت کا پتہ چلا۔ باب وولمر کی موت ابھی تک ایک معمہ ہے۔

-9 آئرلینڈ، ویسٹ انڈیز (2015)

یہ بھی ایک ناقابل تصور میچ ثابت ہوا۔ آئر لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس میچ میںگھبرائی ہوئی نظر آئی۔ 2015کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کا بنگلہ دیش کے ہاتھوں ہارنا بھی ناقابل یقین تھا۔ بنگلہ دیش نے انگلینڈ کو 15رنز سے ہرا دیا۔ اب 2019کا ورلڈ کپ سرپر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس ورلڈ کپ میں کتنے ناقابل یقین مقابلے ہوںگے۔

مزید پڑھیں

کرکٹ کا عالمی ورلڈکپ انگلینڈ کی سرزمین پر رواں ماہ 30 مئی سے شروع ہونے جارہا ہے ۔ اس مقابلے میں دنیا ئے کرکٹ کی ٹاپ دس ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کرکٹ ناممکنات کا کھیل ہے بعض اوقات ایسے ایسے تجربے کامیاب ہوگئے کہ انسان کے وہم و گمان میںبھی نہیں تھے اور بعض اوقات ایسے ایسے کامیاب فیص ...

مزید پڑھیں

گزشتہ کئی ہفتوں سے دنیائے کرکٹ کو بھی کئی تبدیلیوںکا سامنا ہے۔کہیںرولز بدلنے پر غور ہو رہا ہے تو کہیں نئے امپائرزچنے جارہے ہیں۔ جبکہ ایک ...

مزید پڑھیں

یہ گرمیوں کی ایک حبس زدہ دوپہر تھی جب ہم عبدالقادر سے ملاقات کرنے ان کے گھر واقع انفنٹری روڈ پہنچے تھے ۔ یہ ان سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔

مزید پڑھیں