☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
کرکٹ کی تاریخ کے بہترین فیلڈرز

کرکٹ کی تاریخ کے بہترین فیلڈرز

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

03-10-2019

کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ اگر کوئی ٹیم ان تینوں شعبوں میں سے ایک میں بھی کمزور کارکردگی دکھائے تو اُس کی فتح کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ 1992 سے پہلے ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا دو ایسی ٹیمیں تھیں جن کی فیلڈنگ لاجواب ہوتی تھی اور ان ٹیموں کی فتوحات میں ان کے فیلڈرز کا بڑا ہاتھ ہوتا تھا۔ لیکن 1992 میں جب جنوبی افریقہ کی ٹیم پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی کا خاتمہ ہوا تو یہ ٹیم 1992 کا ورلڈ کپ کھیلی، اس ورلڈ کپ کا انعقاد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہوا تھا۔ ایک طویل عرصے بعد کرکٹ کے شائقین نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کا کھیل دیکھا تو ششدر رہ گئے۔ یہ ٹیم ہر شعبے میں حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی تھی اور اپنی بے مثال کارکردگی کی وجہ سے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچ گئی۔ بدقسمتی سے اس کی فتح میں بارش کا قانون آڑے آ گیا ورنہ اس کا فائنل تک پہنچنا یقینی تھا۔

اس جنوبی افریقہ کی ٹیم کا جو سب سے بڑا وصف دیکھنے میں آیا وہ اس کی فیلڈنگ تھی۔ جس اعلیٰ درجے کی فیلڈنگ کا معیار اس ٹیم نے قائم کیا اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم نے کئی میچ صرف اپنی فیلڈنگ کی وجہ سے جیتے۔ اس ٹیم کا ہر کھلاڑی اتھلیٹ لگتا تھا۔ اُن کی فیلڈنگ کا معیار ابھی تک قائم ہے۔ اس ٹیم کی فیلڈنگ نے ہر حریف ٹیم کو متاثر کیا۔ ہر کرکٹ ٹیم اپنی فیلڈنگ کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ دینے لگی۔ جنوبی افریقہ کے عظیم فیلڈر جونٹی روڈز سب کے لئے رول ماڈل کی حیثیت اختیار کر گئے۔ آج باقی کرکٹ ٹیموں کی فیلڈنگ بھی پہلے سے کافی بہتر ہو چکی ہے۔ ہم ذیل میں کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین فیلڈرز کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے جنہوں نے اپنی عدیم النظیر فیلڈنگ کی بدولت کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا ہے۔

 -1 جونٹی روڈز ان کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ ویسے تو یہ اچھے بلے باز بھی تھے لیکن اُن کو اصل شہرت ان کی حیرت انگیز فیلڈنگ کی وجہ سے ملی۔ ان کی فیلڈنگ کو شاندار نہیں بلکہ سحر انگیز کہنا چاہیے۔ جونٹی روڈز جس طریقے سے گیند کو پکڑتے تھے وہ ناقابل یقین ہے۔ ورلڈ کپ 1992 میں پاکستان کے خلاف جنوبی افریقہ کے میچ میں انہوں نے انضمام الحق کا جس طریقے سے کیچ پکڑا وہ اب تک لوگوں کو یاد ہے بلکہ جب اعلیٰ ترین کیچز کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے اسی کیچ کی بات ہوتی ہے۔ انہیں فیلڈنگ کے حوالے سے لیجنڈ کی حیثیت حاصل ہے وہ ایک راکٹ کی طرح تھے اور ان کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا۔ انہیں صرف بہترین فیلڈر نہیں کہنا چاہیے بلکہ وہ بہترین میں سے بہترین (Best of the best) ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جونٹی روڈز جیسا فیلڈر اب شاید ہی کوئی آئے۔

 -2 سریش رائنا بھارت سے تعلق رکھنے والے اس فیلڈر نے بھی بلے بازی اور فیلڈنگ میں خوب نام کمایا۔ وہ ایک بڑے پرجوش فیلڈر تھے جو ہر وقت باؤلرز کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے۔ بہت دیر پہلے رائنا نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ وہ جونٹی روڈز سے ملے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ تم بھارت کے بہترین فیلڈر ہو۔ میں اس پر بہت فخر محسوس کرتا ہوں۔ سریش رائنا میں ایک بہترین فیلڈر کی تمام صفات موجود تھیں۔ وہ جارحانہ انداز میں فیلڈنگ کرتے تھے۔ جو بھی گیند ان سے چھوٹ جاتی تھی اسے روکنے کیلئے وہ بھرپور کوشش کرتے تھے۔ وہ واقعی ایک لاثانی فیلڈر تھے۔

 -3 یووراج سنگھ بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ اپنے جارحانہ کھیل کی وجہ سے بہت مشہور تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہت اچھے فیلڈر بھی تھے۔وہ نہ صرف گراؤنڈ فیلڈنگ بہت عمدہ طریقے سے کرتے تھے بلکہ کیچز پکڑنے میں بھی ان کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ بڑے پھرتیلے فیلڈر تھے اور ان کی نظر ہر وقت گیند پر ہوتی تھی۔ ایک طرف وہ اپنے دلکش کھیل سے شائقین کرکٹ کو محظوظ کرتے تھے تو دوسری طرف ان کی بہترین فیلڈنگ بھی لوگوں کو بہت متاثر کرتی تھی۔ ان کا نام کرکٹ کے بہترین فیلڈرز کی فہرست میں ہمیشہ درج کیا جائے گا۔

 -4 شاہد آفریدی شاہد آفریدی ایک نایاب کھلاڑی تھے۔ انہیں تھری اِن ون کہا جاتا تھا۔ یعنی بلے باز، باؤلر اور فیلڈر۔ ایسے کھلاڑی کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم ملتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اتنے زیادہ ٹیسٹ میچز نہیں کھیلے لیکن کرکٹ کے پنڈتوں کی رائے ہے کہ اگر وہ ٹیسٹ کرکٹ کی طرف سنجیدگی سے توجہ دیتے تو بہت کچھ کر سکتے تھے۔ اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ نہوں نے ٹیسٹ میچوں میں بھی سنچریاں بنائیں۔ ایک روزہ اور ٹی 20 میچوں میں انہوں نے بڑی متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے ایک روزہ میچوں میں 395 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ان کے بہترین فیلڈر ہونے میں بھی دو رائے نہیں۔ ایک روزہ اور ٹی 20 میچوں میں وہ ہمیشہ شامل کیے جاتے تھے کیونکہ وہ ایک شاندار فیلڈر بھی تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر یہ بیٹنگ میں چل گئے تو میچ پاکستان کی جھولی میں آن گرے گا۔ اگر بلے بازی میں ناکام ہوئے تو اپنی سپن باؤلنگ کا جادو جگائیں گے اور تیسرا وصف ان کی فیلڈنگ تھا۔ شاہد آفریدی نے کئی مشکل اور ناقابل یقین کیچز پکڑے۔ ان کا شمار کرکٹ کے بہترین فیلڈرز میں ایسے ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے فیلڈنگ کے شعبے میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ انہیں صرف بلے باز اور باؤلر ہی نہیں بلکہ فیلڈر کی حیثیت سے بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔

 -5 اے بی ڈی ویلیرز کیا شانداربلے باز تھے اے بی ڈی ویلیرز۔ لیکن ان کی فیلڈنگ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جونٹی روڈز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ڈی ویلیرز کی فیلڈنگ دیکھ کر انہیں جونٹی روڈز کی یاد آتی ہے۔ ان کی منفرد بلے بازی نے ہمیشہ شائقین کرکٹ کو حیران کیا لیکن ان کی فیلڈنگ بھی سحر انگیز تھی۔ اتنی پھرتی، اتنی مہارت اور اتنا جذبہ، بہت کم کھلاڑیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب بلے باز یہ دیکھتا تھا کہ گیند اے بی کے پاس جا رہی ہے تو وہ سوچ سمجھ کر رنز بنانے کا فیصلہ کرتا تھا۔ کیچز پکڑنے میں بھی ان کو مہارت حاصل تھی پورے کیریئر میں شاید ہی کوئی کیچ ان سے چھوٹا ہو۔ ان کے بارے میں یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ دوسرے فیلڈرز کیلئے رول ماڈل تھے۔

 -6 رکی پونٹنگ آسٹریلوی بے باز رکی پونٹنگ ایک نہایت شاندار کھلاڑی تھے۔ ان کی بلے بازی کے قصے ہمیشہ سنائے جاتے رہیں گے لیکن ان کی فیلڈنگ بھی اعلیٰ درجے کی ہوتی تھی۔ وہ ایک اتھلیٹ کی طرح نظر آتے تھے، ان کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ کیچ نہیں چھوڑ سکتے۔ اس لیے انہیں (Safer Catcher) کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ بلے بازوں کو اپنی شاندار فیلڈنگ کی وجہ سے رن آؤٹ کرانے کا ملکہ بھی رکھتے تھے۔ کچھ لوگ انہیں فیلڈنگ کا بادشاہ بھی کہتے تھے۔ اتنا بڑا بلے باز اگر عدیم النظر فیلڈر بھی ہو تو اس کا نام کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رکی پونٹنگ کو صرف ایک عظیم بلے باز ہی نہیں بلکہ ایک لاثانی فیلڈر بھی کہا جاتا ہے ان کی گراؤنڈ فیلڈنگ زبردست ہوتی تھی۔ وہ ہر وقت چوکس رہتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا شمار عظیم فیلڈرز میں ہوتا ہے۔

 -7 محمد کیف ہو سکتا ہے کرکٹ شائقین اس بے مثل کھلاڑی کو بھول گئے ہوں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے یہ کھلاڑی ایک عمدہ بلے باز ہی نہیں بلکہ ایک زبردست فیلڈر بھی تھے، انہوں نے فیلڈنگ کے شعبے میں ایسے کارنامے سرانجام دیے جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے ناقدین انہیں بھارت کا عظیم ترین فیلڈر قرار دیتے ہیں۔ وہ اتنے اچھے بلے باز نہیں تھے جتنے اچھے فیلڈر۔ بعض تبصرہ نگار محمد کیف کو سریش رائنا اور یووراج سنگھ سے بھی اچھا فیلڈر قرار دیتے ہیں۔ انہیں بھارت کا جونٹی روڈز بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی ناقابل یقین کیچز پکڑے۔ وہ ہر میچ میں بھارت کے لئے 20سے 30 رنز روک لیتے تھے۔ انہوں نے کئی کیچز ڈائیو کر کے پکڑے اور یہ کیچز کبھی نہیں بھلائے جا سکتے۔ اپنی بہترین فیلڈنگ کی وجہ سے ان کے مداحین کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی۔ اب تک انہیں یاد کرتے ہیں۔ محمد کیف جیسے فیلڈر روز روز پیدا نہیں ہوتے۔

 -8 شکیب الحسن یہ بنگلہ دیشی کھلاڑی نہ صرف عمدہ بلے باز ہے بلکہ فیلڈنگ میں بھی اس کا کوئی جواب نہیں۔ بنگلہ دیش کا بہترین فیلڈر شکیب الحسن ہے لیکن اس کے علاوہ اُن کا شمار دنیائے کرکٹ کی تاریخ کے بہترین فیلڈرز میں بھی ہوتا ہے۔ شکیب الحسن شاندار آل راؤنڈر ہیں۔ انہوں نے ہر قسم کی کرکٹ میں اپنی آل راؤنڈر پرفارمنس سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کی یہ خوبیاں اپنی جگہ لیکن انہوں نے فیلڈنگ کے شعبے میں بھی منفرد مقام حاصل کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شکیب الحسن کے بعد دوسرا بہترین بنگلہ دیشی فیلڈر کون ہوگا۔ ابھی تک تو شکیب الحسن ہی راج کر رہے ہیں۔

 -9 شعیب ملک پاکستانی کھلاڑی شعیب ملک نے بلے بازی اور باؤلنگ کے علاوہ فیلڈنگ کے شعبے میں بھی اپنے آپ کو منوایا ہے۔ انہوں نے کپتانی بھی کی۔ انہیں ہر لحاظ سے ایک مکمل کرکٹر کہا جا سکتا ہے۔ وہ بھی بڑی پھرتی سے گیند کو روکتے ہیں اور مشکل سے ہی کوئی کیچ چھوڑتے ہیں۔ وہ طویل عرصہ سے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بلے بازی اتنی متاثر کن نہیں ہوتی اور باؤلنگ میں بھی وہ کچھ خاص نہیں کر پاتے لیکن ان کی فیلڈنگ پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ وہ گیند کو مشکل سے ہی جانے دیتے ہیں اور مشکل کیچز پکڑنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک کھلاڑی کپتانی کے فرائض بھی سرانجام دے رہا ہو اور پھر بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں بھی عمدہ کارکردگی دکھا رہا ہو۔ شعیب ملک نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت فیلڈنگ کے شعبے میں بھی شہرت حاصل کی۔ ٭٭٭

مزید پڑھیں

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے رواں برس یومِ پاکستان 23مارچ 2019ء کو زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی جن 127پاکستانی شہری وغیرملکی شخصیات کو سول ایوارڈز دینے کی منظوری دی ہے ان میں کھیلوں سے وابستہ صرف چار قومی ہیروز ہی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں اوران میں بھی تین اسٹارز وسیم اکرم، وقاریونس اوریاسرشاہ کاتعلق کرکٹ سے ہے جب کہ ایک ستارے محمد انعام بٹ کا تعلق فنِ پہلوانی سے ہے۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ قومی کھیل ہاکی، سنوکر،اتھلیٹکس، سکواش، کبڈی،ویٹ لفٹنگ،باکسنگ اورمارشل آرٹس سمیت کسی دوسرے کھیل سے وابستہ شخصیات کی وطنِ عزیز کے لئے خدمات کوخاطر میں نہیں لایاگیا حالانکہ ہمارے سینکڑوں ایسے مرد وخواتین انٹرنیشنل اتھلیٹس ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لئے متعدد میڈلز جیتے، گرین شرٹس کو سائوتھ ایشیاء،ایشیاء اورعالمی چیمپیئن بنایا اورسبزہلالی پرچم کو پوری دنیا میں سربلندکیا لیکن ان کی خدمات ایوارڈز کی فہرست مرتب کرنے والی کمیٹی کی نظروں میں نہ آسکیں یاانہیں اس قابل ہی نہیں سمجھاگیاکہ ان کی گراں قدر خدمات کو بھی قومی سطح پرسراہا جائے، جب کہ کھیلوں کے مقابلے میں اداکاروں، گلوکاروں اورموسیقاروں سمیت ثقافت کے شعبے سے سول ایواردز کے لئے منتخب شخصیات کی تعداد بھی کئی گنا زیادہ ہے، جن کی خدمات بلاشبہ پاکستان کے لئے بڑی نمایاں ہیں اورانہیں ایوارڈز بیشک میرٹ پردئیے گئے ہیں لیکن اگر کھیلوں سے وابستہ قومی سپراسٹارز کو بھی کم ازکم فن کاروں کے مساوی ایوارڈز عطا کئے جاتے تو اس سے نہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی اور عالمی سطح پر کھیلوں میں پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کوبحال کرنے میں یقیناََ مدد ملتی بلکہ ہمارے قومی اورروایتی کھیلوں کوملک میں دوبارہ فروغ بھی ملتا۔ یہاں یہ امربھی قابلِ ذکر ہے کہ کرکٹ بلاشبہ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول کھیل بن چکاہے اوراس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان عمران خان نے مقبولیت کی وہ معراج پائی جس نے انہیں پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچادیااور جن تین کرکٹرز کو رواں برس ایوارڈز کے لئے منتخب کیاگیا انہوں نے دنیابھرمیں پاکستان کانام روشن کیا لیکن ان کے ساتھ صرف ایک مایہ نازقومی پہلوان ہی اس فہرست میں جگہ بناسکے اور دیگر کھیلوں کونظراندازکیاگیا۔ ایشیاء کے سابق تیزترین انسان عبدالخالق (برڈآف ایشیاء) سمیت ہمارے کئی انٹرنیشنل سٹارز اوراولمپیئنز ایسے ہیں جو اس معیار پرپورا اترتے ہیں اور ان کی خدمات کوسراہنا ہم پرفرض ہے، تاہم حکومت وقت کی جانب سے کھیلوں سے وابستہ جن چارشخصیات کوسول ایوارڈز کے لئے منتخب کیاگیا بلاشبہ وہ چاروں ہمارے قومی ہیروز اورشاید اس سے بھی زیادہ حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔یوں توپاکستان کا بچہ بچہ اپنے ان ہیروز کاپرستار ہے لیکن پھربھی ہم اپنے قارئین کے لئے ان چاروں شخصیات کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

مزید پڑھیں