☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
ورلڈ کپ:ماضی کے اپ سیٹ

ورلڈ کپ:ماضی کے اپ سیٹ

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

07-07-2019

1975 کے ورلڈ کپ سے لے کر 2015کے ورلڈ کپ تک کئی ایسے اپ سیٹ میچز ہوئے جن کی یاد آج بھی باقی ہے۔ 2019 کے ورلڈ کپ میں اب تک ایک اپ سیٹ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ یہ بھارت اور افغانستان کا میچ تھا جو افغانستان صرف پانچ رنز سے ہار گیا۔ اس میں بھارت کے باؤلر محمد شامی کی عمدہ باؤلنگ کا بہت عمل دخل تھا۔

ورلڈ کپ کے فائنل تک کون سے اپ سیٹ میچز ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ہم اپنے قارئین کو 2015 تک ہونے والے ان ورلڈ کپ میچوں کے بارے میں بتائیں گے جن کے نتائج بالکل غیر متوقع تھے اور جب کبھی ان میچوں کی یاد آتی ہے تو شائقین کرکٹ کے ذہنوں کو ایک جھٹکا سا لگتا ہے۔

 

-1 بھارت، ویسٹ انڈیز (1983)

1983 کا ورلڈ کپ فائنل 25جون 1983کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ لندن میں کھیلا گیا۔ بھارت کی ٹیم سیمی فائنل میں انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچی تھی۔ 1975 اور 1979کی طرح اس بار بھی ویسٹ انڈیز کی ٹیم فیورٹ تھی۔ ان کے پاس اینڈی رابرٹس، میلکم مارشل، مائیکل ہولڈنگ اور جوئیل گارنر جیسے فاسٹ باؤلرز تھے جنہوں نے بھارت کی ٹیم کو 183رنز پر آؤٹ کر دیا۔ یہ 183رنز 60 اوورز میں بنائے گئے۔ ویسٹ انڈیز کے باؤلر لیری گومز نے بھی بڑی شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔ ہر کسی کو یقین تھا کہ ویسٹ انڈیز بھارت کو آسانی سے ہرا دے گا اور تیسری بار ورلڈ کپ جیت لے گا۔ لیکن ہوا کچھ اور ہی۔ ویسٹ انڈیز نے کھیلنا شروع کیا تو پہلے ہی اوور میں ویسٹ انڈیز کے جارح مزاج بلے باز گورڈن گرینج آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد ڈیسمنڈ ہنیز بھی 13رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، اب کریز پر ویوین رچرڈ اور کلائیو لائیڈ موجود تھے اور بڑے اعتماد سے کھیل رہے تھے۔ جب رچرڈ کا سکور 33تھا تو مدن لال کی گیند پر بھارتی کپتان کپل دیو نے دوڑتے ہوئے ان کا کیچ لیا۔ یہ ایک یادگار کیچ تھا اور اس کے بعد ہی ویسٹ انڈیز شکست کے راستے پر چل نکلا۔ حیرت انگیز طور پر پوری ٹیم 140رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ یہ ایک ایسی فتح تھی جس کا خود بھارتی شائقین کو بھی یقین نہیں تھا۔ بہرحال اب یہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ کپل دیو بھارتی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان تھے جنہوں نے ورلڈ کپ ٹرافی اٹھائی۔

 

-2 آسٹریلیا، زمبابوے (1983)

1983 کے ورلڈ کپ کے گروپ میچوں میں آسٹریلیا اور زمبابوے کا میچ بھی سنسنی خیز ثابت ہوا۔ اس میچ میں زمبابوے نے آسٹریلیا کو ہرا دیا۔ ایسا اپ سیٹ تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آسٹریلیا کی ٹیم ہر لحاظ سے زمبابوے سے مضبوط تھی لیکن ایک کمزور ٹیم سے غیر متوقع طور پر شکست کھا گئی۔ ٹاس جیت کر آسٹریلیا نے زمبابوے کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی۔ زمبابوے کا آغاز اچھا تھا لیکن پھر ان کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔ 94رنز پر زمبابوے کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔ لیکن پھر کیون کرن اور ڈنکن فلیچر کے درمیان 70رنز کی پارٹنر شپ ہوئی۔ کیون کرن کے آئوٹ ہونے کے بعد بھی فلیچر نے اپنا کھیل جاری رکھا اور 76رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ 60اوورز کے بعد زمبابوے چھ وکٹوں کے نقصان پر 239رنز بنا چکا تھا۔ آسٹریلیا نے جب کھیلنا شروع کیا تو لگ رہا تھا کہ 240 رنز کا ہدف اس کے لئے اتنامشکل نہیں ہوگا۔ لیکن جب 31رنز پر گراہم وڈ آؤٹ ہوئے تو پھر اس کے بعد وقفوں وقفوں سے آسٹریلیا کے بلے باز آؤٹ ہوتے گئے۔ ڈنکن فلیچر نے بلے بازی کے بعد باؤلنگ میں بھی کمالات دکھائے۔ جب ایلن بارڈر آؤٹ ہوئے تو آسٹریلیا چھ وکٹوں کے نقصان پر 168رنز بنا چکا تھا۔ اب وکٹ کیپر روڈنی مارش کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی ٹیم کو فتح کی منزل تک لے جائیں۔روڈنی مارش نے اپنی ٹیم کو فتح دلانے کیلئے بھرپور کوششیں کیں لیکن شکست آسٹریلیا کا مقدر بن چکی تھی۔ زمبابوے نے یہ میچ 13رنز سے جیت لیا۔ یہ میچ جیت کر زمبابوے ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ہر ٹیم کو ششدر کر دیا۔ خود آسٹریلوی ٹیم حیرت کا مجسمہ بنی ہوئی تھی کہ آخر یہ کیا ہوا؟ لیکن فیصلہ تو ہو چکا تھا۔ تاریخ میں یہ لکھا جا چکا تھا کہ زمبابوے نے آسٹریلیا کو ورلڈ کپ میچ میں ہرا دیا ہے۔

 

-3کینیا، ویسٹ انڈیز 1996

1996 کا ورلڈ کپ پاکستان اور بھارت میں ہوا۔ گروپ میچ میں کینیا جیسی معمولی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کے سب کو حیران کر دیا۔ یہی ویسٹ انڈیز کی ٹیم تھی جس نے بعد میں آسٹریلیا کے ساتھ سیمی فائنل کھیلا۔ بہرحال اس میچ کا نتیجہ اتنہائی حیران کن اور ناقابل یقین تھا۔ ویسٹ انڈیز کے اس وقت کے کپتان برائن لارا کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب شکست کے بعد کلائیو لائیڈ نے ان کی سرزنش کی۔ ویسٹ انڈیز والے بھی سوچتے رہ گئے کہ یہ ان کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ شائقین کرکٹ حیران بھی تھے اور ویسٹ انڈیز ٹیم کا تمسخر بھی اڑا رہے تھے۔ یہ میچ بھارت کے شہر پونا میں کھیلا گیا۔ ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر کینیا کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ کینیا کی پوری ٹیم 166رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے لئے یہ ہدف حاصل کرنا چنداں مشکل نہ تھا۔ لیکن سب کی توقعات کے برعکس کینیا کے باؤلرز نے شاندار باؤلنگ کی۔ ویسٹ انڈیز کے افتتاحی بلے باز کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے، حالانکہ ان سے بڑی امیدیں تھیں۔ اس کے بعد بھی ویسٹ انڈیز کے بلے باز مختصر وقفوں کے بعد آؤٹ ہوتے رہے جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ یہ میچ ویسٹ انڈیز کی گرفت سے نکلتا جا رہا ہے۔ اپ سیٹ کے امکانات روشن ہوتے گئے۔ اور جب کینیا کے باؤلر رجب علی نے کیمرون کفی کو ایک رن پر آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کی کہانی ختم ہو چکی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے شائقین کے لئے یہ ہزیمت ناقابل برداشت تھی۔ ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم صرف 93رنز بنا سکی۔ یہیں سے پتہ چل گیا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے گی اور پھر اس کے بعد وہی کچھ ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ ابھی تک ویسٹ انڈیز کو دوبارہ وہ عروج حاصل نہیں ہوا جو اسے 70، اور 80کی دہائی میں حاصل تھا۔

 

-4 پاکستان، بنگلہ دیش (1999)

1999کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو فیورٹ سمجھا جا رہا تھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ 1999میں جتنی مضبوط ٹیم پاکستان کی تھی اس سے پہلے کبھی اتنی نہیں تھی۔ اس ٹیم میں سعید انور، انضمام الحق، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، وسیم اکرم، معین خان، شعیب ا ختر اور ثقلین مشتاق جیسے کھلاڑی تھے۔ پاکستان گروپ میچوں میں ہی اپنی دھاک جما چکا تھا اور سپر سکس مرحلے تک پہنچ چکا تھا۔ ایک آخری میچ بنگلہ دیش سے تھا جس میں اگر پاکستان ہار بھی جاتا تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن پاکستان غیر متوقع طور پر یہ میچ ہارگیا۔ اس وقت بنگلہ دیش کو ٹیسٹ سٹیٹس بھی نہیں ملا تھا۔ بنگلہ دیش نے پہلے کھیلتے ہوئے 223رنز بنائے اور اس کے 9کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔

جب پاکستان نے کھیلنا شروع کیا تو آغاز ہی سے پتہ چل گیا کہ قومی ٹیم بنگلہ دیش کے باؤلروں کو درست طریقے سے نہیں کھیل رہی۔ صرف 42رنز پر ان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔ سعید انور کا رن آؤٹ ہونا بھی قومی ٹیم کو بہت مہنگا پڑا۔ لوئر آرڈر بلے بازوں نے صورت حال کو سنبھالنے کیلئے بڑی کوشش کی لیکن پاکستان کی پوری ٹیم 44.3اوورز میں 161رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، سمجھ میں نہیں آیا کہ پاکستانی بلے بازوں نے اس میچ کو اتنا آسان کیوں لیا؟ بہرحال ورلڈ کپ کے اختتام کے کچھ عرصہ بعد بنگلہ دیش کو ٹیسٹ سٹیٹس مل گیا۔

 

-5 بھارت، بنگلہ دیش (2007)

2007کے ورلڈ کپ میں 16ٹیموں نے حصہ لیا، اور انہیں چار گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارت کے لئے پریشانی کی کوئی ایسی بات نہیں تھی جب اسے گروپ بی میں شامل کیا گیا۔ اس میں اس کے علاوہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور برموڈا تھے۔ بھارتی ٹیم کے کپتان راہول ڈریوڈ تھے۔ انہیں پہلے میچ میں ہی ہزیمت اٹھانا پڑی جب وہ بنگلہ دیش سے ہار گئی۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اس وقت کی بنگلہ دیش ٹیم اتنی اچھی نہیں تھی۔ آج تو وہ اچھی خاصی ٹیم بن چکی ہے۔ بنگلہ دیش نے بھارت کو 191 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ وہ بھی سارو گنگولی کی اچھی بلے بازی کا کمال تھا جنہوں نے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 66رنز بنائے اور اپنی ٹیم کا سکور 191تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔بنگلہ دیش نے پانچ وکٹوں پر ہدف پورا کر لیا۔ نوجوان کھلاڑی مشفیق الرحیم نے بڑی ذہانت سے بلے بازی کی اور 56رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ یہ شکست بھارت کو بہت مہنگی پڑی اور بھارت پہلے مرحلے میں ہی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔

 

-6 بھارت، زمبابوے (1999)

1999 کے ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں زمبابوے نے شکست کے جبڑوں سے فتح چھین لی۔ بھارت کو جیتنے کیلئے آخری دو اوورز میں صرف 9رنز کی ضرورت تھی۔ تاہم ہنری اولنگا نے پانسہ پلٹ دیا۔ اولنگا نے پہلے باؤلنگ سیپل میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن پھر آخری سیپل میں انہوں نے ایک ہی اوور میں تین بھارتی کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔ جب روبن سنگھ 35رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو اس کے بعد سری ناتھ اور پرشاد بھی پیولین لوٹ گئے۔ یہ صورت حال بھارت کے لئے انتہائی پریشان کن تھی۔ بھارت کے کرکٹ تبصرہ نگاروں نے اپنی ٹیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ٹیم سے کیا توقع کی جا سکتی ہے جو دو اوورز میں 9رنز نہ بنا سکتی ہو۔ اس شکست نے بھارتی ٹیم کو سخت مایوسی ہوئی۔

 

-7 جنوبی افریقہ، زمبابوے (1999)

1999کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ بہت مضبوط ٹیم تھی۔ کچھ تبصرہ نگار کہہ رہے تھے کہ 1999کا ورلڈ کپ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جائے گا۔ جنوبی افریقہ کی قیادت اس وقت ہانسی کرونیے کر رہے تھے اور اس ٹیم میں ایلن ڈونلڈ، شان پولاک، جیک کیلس، جونٹی روڈز، ہرشل گبز اور لانس کلوزنر جیسے کھلاڑی شامل تھے لیکن پھر ایک اپ سیٹ ہوا اور یہ زبردست ٹیم زمبابوے جیسی ٹیم سے شکست کھا گئی۔ اس میچ کے ہیرو زمبابوے کے آل راؤنڈر نیل جانسن تھے جانسن اس سے پہلے جنوبی افریقہ میں رہتے تھے پھر زمبابوے چلے گئے۔ بہرحال انہوں نے زمبابوے کی طرف سے کھیلتے ہوئے 76رنز بنائے اور اپنی ٹیم کے سکور کو 233تک پہنچا دیا۔ لیکن پھر اس آل راؤنڈر نے باؤلنگ کے ایسے کمالات دکھائے کہ جنوبی افریقہ کے بلے باز حیران رہ گئے۔ جنوبی افریقہ 40رنز پر چھ وکٹیں کھو چکا تھا۔ لیکن پھر شان پولاک اور لانس کلوزنر نے ٹیم کو سنبھالا اور دونوں کے درمیان 52رنز کی پارٹنر شپ ہوئی لیکن جب شان پولاک کیچ آؤٹ ہوئے تو اس کے بعد جنوبی افریقہ کی امیدیں ختم ہو گئیں۔ اکیلے لانس کلوزنر کیا کر سکتے تھے۔ پوری ٹیم 185 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

زمبابوے نے اپنے ہمسائے جنوبی افریقہ کے خلاف کسی بھی مقابلے میں یہ پہلی فتح حاصل کی تھی۔ زمبابوے کے کھلاڑی جانسن کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

 

-8 سری لنکا، کینیا (2003)

2003کے ورلڈ کپ میں کینیا نے سری لنکا کو ہرا کر شائقین کرکٹ کو حیران کر دیا۔ 1996کے بعد کینیا کی یہ سب سے بڑی فتح تھی۔ سری لنکا کی بلے بازی اس میچ میں ناکام ہو گئی۔ کینیا نے پہلے کھیلتے ہوئے 210رنز بنائے۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ سری لنکا کے بلے باز کینیا کے باؤلرز کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ان باؤلرز میں سب سے نمایاں کالنز اوبیا تھے۔ کالز اوبیا لیگ سپن باؤلنگ کرتے تھے اور انہوں نے 10اوورز میں 24رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کھلاڑیوں میں کمارسنگاکارا، اروندا ڈی سلوا اور مہیلا جے وردھنے بھی شامل تھے۔ سری لنکا کی پوری ٹیم 45اوورز میں 157رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ یہ ہر لحاظ سے ایک اپ سیٹ میچ تھا۔ سری لنکا کی مضبوط اور تجربہ کار بیٹنگ کو مدنظر رکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ ٹیم کینیا سے ہار جائے گی۔ لیکن جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔

 

-9 پاکستان، آئرلینڈ (2007)

اس میچ میں پاکستان کو آئر لینڈ سے حیران کن شکست ہوئی۔ 2007ورلڈ کپ کا یہ سب سے بڑا اپ سیٹ تھا۔ آئر لینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بلے بازی کی دعوت دی اور پاکستان کو 132رنز پر آؤٹ کر دیا۔ اصل میں وکٹ تیز گیند بازوں کی مدد کر رہی تھی۔ بوئیڈ رینکن نے 32رنز کے عوض 3وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ بھی آئر لینڈ کے ہر باؤلر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی لیکن یہ ہدف بھی آئر لینڈ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکتا اگر نیل اوبرائن 72رنز نہ بناتے۔ اس میچ کے نتیجے کے بعد آئر لینڈ نے سپر8 کے لئے کوالیفائی کر لیا۔ اس اپ سیٹ نے پاکستانی ٹیم کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس سے اگلے دن ہی پاکستانی ٹیم کو ایک اور صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ ان کے کوچ باب وولمر کی پراسرار حالات میں موت واقع ہو گئی۔ باب وولمر بہت اچھے کوچ تھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

تین مارچ 2009، سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورہ پر تھی ۔ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ م ...

مزید پڑھیں

سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد کے بعد یہاں عالمی کرکٹ کی بحالی پر بھارت میں صف ماتم بچھی ہے ،سری لنکا کے کھلاڑیوں پر میچ رکوانے میں ناکامی ک ...

مزید پڑھیں

ہم اپنے قارئین کو اس مضمون میں پاکستان کرکٹ کے ان سابق کھلاڑیوں کے بارے میں بتائیں گے جو بھولے بسرے ہو چکے ہیں۔ یہ سارے ذہین لوگ تھے اور خ ...

مزید پڑھیں