☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
ورلڈکپ کے ناقابل فراموش فائنل مقابلے

ورلڈکپ کے ناقابل فراموش فائنل مقابلے

تحریر :

07-14-2019

آج 14جولائی ہے اور کرکٹ ورلڈکپ کا فائنل لارڈز کرکٹ گرائونڈ لندن میں کھیلا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ورلڈکپ کے 11فائنل کھیلے جا چکے ہیں۔

اکثر فائنل بڑے دلچسپ اور سنسنی خیز تھے۔ 1999میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ورلڈکپ کا فائنل یکطرفہ ثابت ہوا۔ یہ بالکل غیر متوقع اور مایوس کن تھا۔ پاکستان لیگ میچ میں آسٹریلیا کو شکست دے چکا تھا اور امید تھی کہ دونوں ٹیموں کا فائنل میں زبردست مقابلہ ہوگا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔

 

پہلے کھیلتے ہوئے پاکستانی ٹیم صرف 132 رنز پر آئوٹ ہو گئی۔ آسٹریلیا نے 133 کا معمولی ہدف صرف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ اس کے علاوہ جو فائنل بھی کھیلے گئے وہ خاصے دلچسپ تھے۔ 2003ء میں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا فائنل بھی تقریباً یکطرفہ تھا۔ ہم ذیل میں ورلڈکپ کے دلچسپ اور یادگار فائنل میچوں کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔

1- آسٹریلیا‘ ویسٹ انڈیز(1975)

آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا گیا فائنل بڑا دلچسپ اور سنسنی خیز تھا۔ دونوں ٹیمیں بڑی زبردست تھیں اور ان کے پاس ورلڈکلاس کھلاڑی تھے۔ ویسٹ انڈیز کے پاس گورڈن گرینج‘ ویون رچرڈز‘ کالی چرن‘ روہن کہنائی‘ کلائیو لائیڈ‘ کیتھ بوائس اور ڈیرک مرے جیسے کھلاڑی تھے جبکہ دوسری طرف آسٹریلیا کی طرف سے آئن چیپل‘ گریگ چیپل‘ ڈینس للی‘ گیری گلمور‘ جیف تھامسن‘ ایلن ٹرنر‘ ڈوگ والٹرز جیسے کھلاڑی اس ورلڈکپ فائنل میں حصہ لے رہے تھے۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 291رنز بنائے۔ کنہائی نے 55‘ کیتھ بوائس نے 34جبکہ کپتان کلائیو لائیو نے 102رنز بنا کے اپنی ٹیم کا سکور 291رنز تک پہنچایا۔ گیری گلمور نے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں آسٹریلیا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ایلن ٹرنر نے 40‘ آئن چیپل نے 62 ‘اور والٹرز نے 35 رنز بنائے۔ بدقسمتی سے آسٹریلیا کے پانچ بلے باز رن آئوٹ ہو گئے۔ پھر بھی آسٹریلوی بلے بازوں نے 274 رنز بنائے اور یہ فائنل میچ ویسٹ انڈیز نے 17رنز سے جیت لیا۔ اس میچ میں کئی نشیب و فراز آئے چونکہ یہ 60اوورز کا میچ تھا اس لیے رنز زیادہ تیز رفتاری سے نہیں بنتے تھے۔ بہرحال یہ ایک یادگار میچ تھا۔

2- بھارت‘ ویسٹ انڈیز1983

ورلڈکپ 1983کے فائنل میچ کے نتائج نے دنیائے کرکٹ کو ششدر کر دیا۔25جون 1983کو لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں کھیلے گئے اس فائنل میچ میں بھارت نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 183رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بائولرز اینڈی رابرٹس‘ میلکم مارشل اور مائیکل ہولڈنگ نے بھارتی بلے بازوں کو جم کر کھیلنے نہیں دیا۔ سری کانت نے سب سے زیادہ 38رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے کیلئے 184 رنز کی ضرورت تھی اور عام خیال یہی تھا کہ ویسٹ انڈیز یہ فائنل آسانی سے جیت جائے گا۔ لیکن تمام اندازے غلط ثابت ہوئے پہلے ہی اوور میں گورڈن گرینج کو ساندھو نے آئوٹ کر دیا۔

پھر ڈیسمنڈ ہینز بھی 13رنز بنا کر آئوٹ ہو گئے۔ ویوین رچرڈز بہت اچھا کھیل رہے تھے لیکن 33رنز پر مدن لال کی گیند پر کیپل دیو نے ان کا ایک شاندار کیچ پکڑا۔ رچرڈز کے آئوٹ ہونے کے بعد ایسا لگا جیسے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے ہاتھ پائوں پھول گئے ہوں۔ صرف جیفری ڈوجن نے 25رنز بنائے۔ باقی کوئی بھی کھلاڑی بھارتی بائولروں کا مقابلہ نہ کر سکا اور پوری ٹیم 140رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

 بھارت کی طرف سے مدن لال اور مہندرا مرناتھ نے بڑی اچھی بائولنگ کی۔دونوں میڈیم فاسٹ بائولر نے لائن اور لینتھ کے مطابق بائولنگ کی اور گیند کو سوئنگ بھی کیا۔ مہندر امرناتھ کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ کیپل دیو پہلے بھارتی کپتان تھے جنہوں نے ورلڈکپ ٹرافی اٹھائی۔

آسٹریلیا‘ انگلینڈ (1987)

1987کا ریلائنس ورلڈکپ بہت انوکھا تھا۔اس میں کئی غیر متوقع نتائج دیکھنے کو ملے۔ یہ ورلڈ کپ پاکستان اور بھارت میں منعقد ہوا۔ آسٹریلیا کی ٹیم میں زیادہ تر نئے اور ناتجربہ کار کھلاڑی تھے۔ لیکن اس ٹیم نے حیران کن کھیل کا مظاہرہ کیا۔ سب سے پہلے تو اس نے سیمی فائنل میں لاہور میں پاکستان کو ہرایا۔ پاکستان کی شکست کی کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔ ویسے بھی پاکستان ورلڈکپ 1987 کی فیورٹ ٹیم تھی۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان ویون رچرڈز نے پاکستان کو مستقبل کا چیمپئن قرار دیا تھا۔ بہرحال اس غیر متوقع شکست نے پوری پاکستانی قوم کو افسرہ کر دیا۔ دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے بھارت کو شکست دے دی۔ یہ بھی غیر متوقع نتیجہ تھا۔ بہرحال آسٹریلیا اور انگلینڈ نے8نومبر 1987 کو کلکتہ کے ایڈن گارڈن میں فائنل کھیلا۔ اس میچ میں بھی امید کی جا رہی تھی کہ انگلینڈ آسٹریلیا کو ہرا دے گا۔ خوب مقابلہ ہوا۔ آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 253رنز بنائے۔ ڈیوڈ بون نے سب سے زیادہ 75رنز بنائے۔

انگلینڈ کی ٹیم بہت اچھا کھیل رہی تھی۔ گوچ نے 35 اور اتھے نے 59رنز بنائے۔ ایلن لیمب نے 45 رنز کی اننگز کھیلی۔ مائیک گیٹنگ ایک غلط شاٹ کھیلتے ہوئے وکٹ گنوا بیٹھے۔ انہوں نے 41رنز بنائے اور انگلینڈ کی پوری ٹیم 246 رنز پر آئوٹ ہو گئی اور یوں آسٹریلیا نے 7رنز سے یہ فائنل میچ اپنے نام کر لیا۔ آسٹریلیا کے ڈیوڈ بون کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ آسٹریلیا نے پہلی دفعہ ورلڈکپ جیتا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ یہ پہلا کرکٹ ورلڈکپ تھا جو انگلینڈ سے باہر کھیلا گیا۔

پاکستان‘ انگلینڈ (1992)

کرکٹ کے بڑے بڑے ماہرین کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ ورلڈکپ کی تاریخ کا سب سے زبردست فائنل 1992میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈکپ فائنل پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ پاکستان فائنل میں جس طرح پہنچا یہ ایک انوکھی اور دلچسپ کہانی ہے۔ پاکستان ابتدائی میچز ہار چکا تھا۔ پھر انگلینڈ کے ساتھ میچ ہوا اور اس میں پاکستانی ٹیم 75رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔ انگلینڈ نے اننگز شروع کی تو بارش شروع ہو گئی جس کی وجہ سے میچ ختم کرنا پڑا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا۔ اس ایک پوائنٹ کا پاکستان کو آگے چل کر بہت فائدہ ہوا۔ انگلینڈ کے خلاف میچ کھیل کر پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان نے فرنٹ سے لیڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بہرحال یہ رحمت خداوندی کا اعجاز تھا کہ پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ اس سیمی فائنل کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مارٹن کرو کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 262رنز بنائے۔ پاکستان اچھا کھیل رہا تھا لیکن پھر یکایک وکٹیں گرنے سے نیوزی لینڈ کی پوزیشن مستحکم ہو گئی۔ اس موقع پر نوجوان انضمام الحق نے یادگار اننگز کھیلی اور جاوید میاں داد نے بھی ان کا بہت ساتھ دیا۔ پاکستان نیوزی لینڈ کو ہرا کر پہلی بار ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچ گیا۔

ادھر دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا۔انگلینڈ کی جیت کی زیادہ باتیں کی جا رہی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو انگلینڈ کی ٹیم میں گراہم گوچ‘ آئن بوتھم‘ گراہم ہک‘ ایلن لیمب‘ ڈیرک پرنگل اور نیل فیر برادر جیسے کھلاڑی تھے اور دوسری دلیل یہ دی جاتی تھی کہ لیگ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 75 رنز پر آئوٹ کر دیا تھا اور نفسیاتی برتری اس وقت انگلینڈ کو حاصل ہے اس لئے انگلینڈ کی فتح کے امکانات زیادہ ہیں۔ بہرحال پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ اس کے دونوں اوپنر عامر سہیل اور رمیض راجہ جلد ہی آئوٹ ہو گئے۔ پھر کپتان عمران خان اور جاوید میاں داد نے میدان سنبھالا اور سکور کو خاصا آگے لے گئے۔ عمران خان 72 اور جاوید میاں داد نے 58رنز بنائے۔ ان کے بعد انضمام الحق اور وسیم اکرم نے برق رفتاری سے رنز بنائے اور ٹیم کا سکور 249تک پہنچا دیا۔

انگلینڈ کی اننگز شروع ہوئی تو وسیم اکرم نے آئن بوتھم کو جلد ہی آئوٹ کر دیا۔ پھر وقفے وقفے سے انگلینڈ کی وکٹیں گرتی رہیں لیکن رنز بھی بنتے رہے۔ پھر وسیم اکرم کا وہ یادگار سپیل شروع ہوا جس میں انہوں نے ایلن لیمب اور کرس لوئیس کو یکے بعد دیگرے آئوٹ کر دیا اور پھر انگلینڈ کے ون ڈے سپیشلسٹ نیل فیئر برادر بھی پیولین لوٹ گئے۔ انہوں نے سب سے زیادہ 62رنز بنائے۔ بہرحال انگلینڈ کی پوری ٹیم 227رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔ پاکستان کی طرف سے وسیم اکرم اور مشتاق احمد نے بہترین بائولنگ کی۔ اس فائنل میچ کی اہم بات یہ تھی کہ پاکستان پہلی بار ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچا اور جیت گیا۔

یہ فائنل میچ آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں کھیلا گیا اور تماشائیوں کی تعداد ستاسی ہزار سے زیادہ تھی جو کہ اس وقت ایک ریکارڈ تھا۔ وسیم اکرم کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ پاکستان کرکٹ کیلئے یہ عظیم لمحات تھے جب کپتان عمران خان نے ورلڈکپ ٹرافی اٹھائی۔

آسٹریلیا‘ سری لنکا (1996)

1996 کا ورلڈکپ ٹورنامنٹ پاکستان‘ بھارت اور سری لنکا میں کھیلا گیا۔ اس ورلڈکپ کی فیورٹ ٹیمیں دو تھیں۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ لیکن بدقسمتی سے دونوں کوارٹر فائنل میں ہار گئیں۔ پھر سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو اور سری لنکا نے بھارت کو ہرا دیا۔ لاہور میں آسٹریلیا اور سری لنکا کا فائنل ہوا جو سری لنکا نے شاندار کھیل پیش کر کے جیت لیا۔ سری لنکا شروع سے ہی اس ٹورنامنٹ میں بڑے اعلیٰ کھیل کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اس کے کھلاڑیوں خاص طور پر جے سوریا نے ایک روزہ کرکٹ کا انداز ہی بدل دیا اور جارحانہ کھیل پیش کیا۔ لاہور میں منعقد ہونے والے اس ورلڈکپ فائنل میں پاکستانی تماشائیوں نے سری لنکا کی حمایت کی۔ آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے سات وکٹوں پر 241 رنز بنائے۔ سری لنکا نے صرف تین وکٹوں کے نقصان پر یہ ہدف پورا کر لیا۔

1999کے ورلڈکپ فائنل کا ذکر بیکار ہے۔ یہ فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین کھیلا گیا جو یکطرفہ ثابت ہوا۔

پاکستان نے پہلے بلے بازی کی اور صرف 132رنز بنائے۔ آسٹریلیا نے صرف دو وکٹوں کے نقصان پر ہدف پورا کر لیا۔ اس طرح 2003اور 2007کے ورلڈکپ میںبھی آسٹریلیا نے فتح حاصل کی۔ 2003میں آسٹریلیا نے بھارت کو ورلڈکپ فائنل میں 125رنز سے شکست دی۔ اس طرح 2007کے ورلڈکپ میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرا دیا۔ یہ ورلڈکپ ٹورنامنٹ ویسٹ انڈیز میں منعقد ہوا۔ بارش کی وجہ سے 38اوورز تک محدود کر دیا گیا۔ آسٹریلیا نے 4وکٹوں کے نقصان پر 281رنز بنائے۔ جس میں گلکرسٹ کے 149رنز شامل تھے۔ جواب میں سری لنکا 215رنز بنا سکا۔ اس طرح آسٹریلیا یہ میچ 53رنز سے جیت گیا۔ بلاشبہ یہ کوئی یادگار فائنل نہیں تھا۔

بھارت‘ سری لنکا (2011)

بھارت اور سری لنکا کے مابین 2011کے ورلڈکپ کا جو فائنل کلکتہ میں کھیلا گیا۔ یہ بھی ایک یادگار میچ تھا۔ سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے چھ وکٹ کے نقصان پر 274 رنز بنائے۔ جے وردھنے نے سنچری بنائی۔ جواب میں بھارت نے 4وکٹوں کے نقصان پر ہدف پورا کر لیا۔ گوتھم گھمبیر نے 97جبکہ دھونی نے 91رنز بنائے۔ دھونی کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ 1983کے بعد یہ دوسرا موقع تھا جب بھارت نے ورلڈکپ جیتا۔ بہرحال یہ ایک بہت اچھا مقابلہ تھا۔

 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان کا دورہ آسٹریلیا ایک لحاظ سے منفرد اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ منفرد اس لئے کہ اس میں پاکستان نے نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو ا ...

مزید پڑھیں

کرکٹ کا میدان ہو یا گلوکاری کا، پاکستان کے غیر مسلم افراد نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی زبردست صلاحیتوں کی بدولت شہرت بھی حا ...

مزید پڑھیں

اس حقیقت سے انکارمشکل ہے کہ پاکستان کرکٹ کو شروع سے ہی اچھے فاسٹ اور سپن باؤلرز ملے جن کی وجہ سے پاکستانی ٹیم نے اپنے ابتدائی دور میں ہی ...

مزید پڑھیں