☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
بھارت کے نامور مسلمان کرکٹرز

بھارت کے نامور مسلمان کرکٹرز

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

07-28-2019

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کچھ غیر مسلم کرکٹرز نے بھی خدمات سرانجام دیں۔ ان میں ویلس میتھائس، انیل دلپت، دانش کنیریا اور یوسف یوحنا شامل ہیں۔ یوسف یوحنا نے 2004میں اسلام قبول کرلیا اور وہ محمد یوسف ہو گئے۔ ویلس میتھائس کی شہرت ان کی زبردست فیلڈنگ کی وجہ سے تھی لیکن وہ ایک اچھے بلے باز بھی تھے۔ انیل دلپت وکٹ کیپر بلے باز تھے لیکن وہ جلد ہی کرکٹ سے آؤٹ ہو گئے کیونکہ ان کی کارکردگی ناقص تھی۔

اس کے بعد دانش کنیریا آئے اور انہوں نے ایک عمدہ لیگ سپنر کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوایا۔ ان کی 250سے زیادہ وکٹیں ہیں اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے بعد سب سے زیادہ وکٹیںدانش کنیریا ہی کی ہیں۔ یوسف یوحنا ایک بہت اچھے مڈل آرڈر بلے بازتھے۔ انہوں نے اپنے دلکش کھیل سے کئی سالوں تک شائقین کرکٹ کو محظوظ کیا۔ 2004میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام محمد یوسف رکھا گیا۔

 

بھارت میں کئی مسلم کرکٹرز نے اپنے شاندار کھیل کی بدولت نام کمایا۔ ہم ذیل میں بھارت کے ان مشہور مسلمان کرکٹرز کے بارے میں اپنے ناظرین کو بتائیں گے جنہوں نے اپنے معیاری کھیل کی وجہ سے اپنا نام ہمیشہ کیلئے تاریخ کے صفحات میں لکھوا لیا۔

-1 سید مشتاق علی

17دسمبر 1914کو اندور میں پیدا ہونے والے سید مشتاق علی آل راؤنڈر تھے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے اور سلو لیفٹ آرم باؤلر بھی تھے۔ اس زمانے میں بہت کم کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ مشتاق علی نے 11ٹیسٹ میچ کھیلے اوردو سنچریاں بنائیں۔ انہوں نے 32-21رنز کی اوسط سے 612رنز بنائے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 226فسٹ کلاس میچ کھیلے اور 35.90رنز کی اوسط سے 13213رنز بنائے ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 233رنز تھا۔ انہوں نے 30سنچریاں اور 63نصف سنچریاں بنائیں۔ فسٹ کلاس میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 162تھی لیکن 11ٹیسٹ میچوں میں صرف تین وکٹیں حاصل کر سکے۔ انہوں نے سب سے پہلا ٹیسٹ میچ 1934کو کلکتہ میں بھارت کیخلاف کھیلا اور ان کا آخری ٹیسٹ بھی انگلینڈ کے خلاف ہی تھا۔وہ اپنے دور کے خاصے مشہور کرکٹر تھے۔ 18جون 2005کو 90برس کی عمر میں سید مشتاق علی کا اندور میں انتقال ہو گیا۔

-2 منصور علی خان پٹودی

منصور علی خان پٹودی بھارت کے کپتان بھی رہے۔ انہیں ٹائیگر پٹودی بھی کہا جاتا تھا۔ منصور پٹودی صرف 21برس کی عمر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے۔ انہیں بھارت کے عظیم ترین کپتانوں میںسے ایک مانا جاتا ہے۔ وہ اپنے دور کے بہترین فیلڈر تھے اور ایسا آسٹریلیا کے مشہور تبصرہ نگار جان آرلٹ اور انگلینڈ کے سابق کپتان ٹیڈڈیکسٹر نے ان کے بارے میں کہا تھا۔ 5جنوری 1941کو بھوپال میں پیدا ہونے والے منصور پٹودی نے 46ٹیسٹ میچ کھیلے اور 34.91رنز کی اوسط سے 2793رنز بنائے۔ انہوں نے چھ ٹیسٹ سنچریاں اور 17نصف سنچریاں بنائیں۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 203رنز ناٹ آؤٹ تھا۔ انہوں نے ایک ٹیسٹ وکٹ بھی حاصل کی۔ وہ کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلتے رہے۔ ایک حادثے میں وہ اپنی ایک آنکھ سے محروم ہو گئے۔ خدشہ تھا کہ شاید اب ان کا کرکٹ کیریئر ختم ہو جائیگا لیکن انہوں نے کرکٹ جاری رکھی۔

مارچ 1962میں انہیں بھارتی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا اس وقت بھارتی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھے۔ اس وقت ناری کنٹریکٹر بھارتی ٹیم کے کپتان تھے۔ ویسٹ انڈیز کے باؤلر چارلی گرفتھ کی گیند لگنے سے وہ زخمی ہو گئے اور اس پر منصور پٹودی کو کپتان بنا دیا گیا۔ بھارت نے گھر سے باہر جو سیریز جیتی وہ نیوزی لینڈ کے خلاف تھی اور اس سیریز کے کپتان منصور پٹودی تھے۔ منصور پٹودی 25اگست 2011کو 70برس کی عمر میں وفات پا گئے۔

-3 محمد اظہر الدین

محمد اظہر الدین ایک زبردست کرکٹر تھے۔ انہوں نے 47ٹیسٹ اور 174ایک روزہ میچوں میں بھارتی ٹیم کی قیادت کی۔ 8فروری 1963کو حیدر آباد میں پیدا ہونے والے اظہر الدین نے 99ٹیسٹ میچ کھیلے اور 45.08کی اوسط سے 6216رنز بنائے۔ انہوں نے پہلا ٹیسٹ میچ 1984میں کلکتہ کے ایڈن گارڈن میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ وہ ایک دلکش سٹروک پلیئر تھے جنہوں نے گریگ چیپل، ظہیر عباس اور وشوا ناتھ کی یاد دلا دی۔ جن لوگوں نے ان کا عروج دیکھا ہے وہ ان کے کھیل کو کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ اظہر الدین وہ واحد کرکٹر ہیں جنہوں نے اپنے پہلے تین ٹیسٹ میچوں کی پہلی اننگز میں سنچری بنائی۔ اظہر الدین نے جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے آخری ٹیسٹ میں بھی سنچری بنائی۔ ٹیسٹ میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 199رنز ناٹ آؤٹ تھا۔ انہوں نے 334ایک روزہ میچ کھیلے اور 36.92ٹیسٹ اور 21نصف سنچریاں بنائیں جبکہ ایک روزہ میچوں میں ان کی سنچریوں کی تعداد سات تھی جبکہ انہوں نے 58نصف سنچریاں بنائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک باکمال کرکٹر تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ وہ اپنے دور کے بہترین فیلڈر تھے اور انہوں نے 100سے زیادہ کیچز پکڑے۔

-4ظہیر خان

ظہیر خان بہت اچھے فاسٹ باؤلر تھے۔ کیپل دیو اور سری ناتھ کے بعد انہوں نے ایک فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے شہرت کی۔ وہ بائیں ہاتھ سے باؤلنگ کرتے تھے۔ انہوں نے 92ٹیسٹ میچ کھیلے اور 32.95رنزکی اوسط سے 311وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ایک اننگز میں 11مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی بہترین باؤلنگ 87رنز کے عوض سات وکٹیں ہیں۔ انہوں نے 200ایک روزہ میچ کھیلے اور 29.11رنزکی اوسط سے 282وکٹیں اپنے نام کیں۔

7اکتوبر 1978کو دائم آباد ضلع احمد نگر میں پیدا ہونے والے ظہیر خان 1999سے 2006تک برودہ کی طرف سے کھیلتے رہے۔انہوں نے کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلتے رہے اور 2004سے 2006تک سرے اور ورسٹر شائر کی طرف سے کھیلتے رہے۔ رانجی ٹرافی کے 2000-01سیزن کے فائنل میں انہوں نے مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے 145رنز دے کر آٹھ وکٹیں اپنے نام کیں جبکہ دوسری اننگز میں انہوں نے 16رنز دے کر آٹھ وکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسری اننگز میں انہوں نے 16رنز دے کر پانچ وکٹیںلیں، ان کی باؤلنگ کی بڑی خوبی ریورس سوئنگ تھی۔ اس کے علاوہ ان کی لائن اور لینتھ بھی بڑی درست ہوتی تھی۔

ظہیر خان ضرورت پڑنے پر اچھی خاصی بلے باز بھی کر لیتے 2017میں ظہیر خان کو بھارتی کرکٹ ٹیم کا باؤلنگ کنسلٹنٹ مقرر کر دیا گیا۔ ظہیر خان کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے بازوں کو بڑی مہارت سے آؤٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ 14فروری 2014کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔

-5سید کرمانی

سید مجتبیٰ حسین کرمانی وکٹ کیپر بلے باز تھے اور انہوں نے بھی بھارتی ٹیم کے لئے شاندار خدمات سرانجام دیں۔ 29دسمبر 1949کو پیدا ہونے والے سید کرمانی نے 24جنوری 1976کو اپنا پہلا ٹیسٹ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔ انہوں نے 88ٹیسٹ میچ کھیلے اور 27.04رنز کی اوسط سے 2759رنز بنائے۔ انہوں نے دو ٹیسٹ سنچریاں اور 12نصف سنچریاں بنائیں۔ وہ لوئر آرڈر بیٹسمین تھے اور انہوں نے کئی بار بھارت کو مشکل صورت حال سے نکالا۔ جس وقت سیدکرمانی بھارت کے وکٹ کیپر تھے اس وقت وسیم باری پاکستان کے وکٹ کیپر تھے۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ وسیم باری پاکستان کے بہترین وکٹ کیپر تھے۔ 1978-79میں جب بھارتی ٹیم ایک طویل عرصے بعد پاکستان کے دورے پر آئی تو اس ٹیم کے وکٹ کیپر بھی سید کرمانی تھے۔وسیم باری سے ان کی اچھی دوستی تھی۔ انہوں نے 49ایک روزہ میچ بھی کھیلے جن میں انہوں نے 373رنز بنائے اور ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 48رنز تھا۔ سید کرمانی نے دس سال تک بھارتی ٹیم کے لئے کھیلا۔ وہ ایک عمدہ وکٹ کیپر تھے۔ انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف 1986میں سڈنی میں کھیلا۔

-6 محمد کیف

محمد کیف کو اس وقت شہرت ملی جب وہ بھارت کی انڈر 19کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور انہوں نے 2000میں u-19ورلڈ کپ جیتا۔ انہوں نے بہت کم انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی۔ یوں کہنا چاہیے کہ ان کا کرکٹ کیریئر وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ انہوں نے صرف 13ٹیسٹ میچ کھیلے اور 32.8رنز کی اوسط سے 624رنز بنائے۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 148رنز ناٹ آؤٹ تھا۔ 125ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 32.0رنز کی اوسط سے 2753رنز بنائے۔ اور ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 111رنز ناٹ آؤٹ تھا۔ یکم دسمبر 1980کو اترپردیش میں پیدا ہونے والے محمد کیف کرکٹرز کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد محمد تعریف اتر پردیش کرکٹ ٹیم اور ریلوے کی طرف سے کھیلتے تھے۔ محمد کیف نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ کے خلاف 2مارچ 2000کو کھیلا۔ ان کا پہلا ایک روزہ میچ انگلینڈ کے خلاف تھا جو انہوں نے 28 جنوری 2002کو گرین پارک میںکھیلا۔ محمد کیف کو 2002میں سینٹ ویسٹ سیریز کے فائنل میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر خاصی شہرت ملی۔ انہوں نے 87گیندوں پر 75رنز بنائے۔ بھارت نے یہ فائنل انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ اس میں محمد کیف نے یووراج سنگھ کے ساتھ مل کر 121رنز بنائے اور بھارت کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ محمد کیف کی شہرت کی اصل وجہ ان کا بہترین فیلڈر ہونا تھا۔ ان جیسا فیلڈر کم ہی پیدا ہوتا ہے۔

-7 عرفان پٹھان

عرفان پٹھان کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ابھی مزید کچھ سال کھیل سکتے تھے۔ وہ نئی گیند سے بہت اچھی باؤلنگ کراتے تھے اور ان کی ان سوئنگ کو ہر بلے باز بڑی احتیاط سے کھیلتا تھا۔ وہ بلے بازی بھی کر لیتے تھے۔ ان کے بھائی یوسف پٹھان بھی کرکٹر تھے لیکن وہ اتنا نام نہیں کما سکے۔ 27اکتوبر 1984 کو پیدا ہونے والے عرفان پٹھان نے اپنا پہلا ٹیسٹ 12دسمبر 2003کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا جبکہ پہلا ایک روزہ میچ بھی انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف 2004میں کھیلا۔

عرفان پٹھان نے 29ٹیسٹ میچوں میں 1105رنز بنائے اور ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 102رنز تھا۔ انہوں نے 120ایک روزہ میچوں میں 1544رنز بنائے اور ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 83رنز تھا۔ عرفان پٹھان نے 24ٹی 20میچ بھی کھیلے اور اس میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے 24.6رنز کی اوسط سے 172رنز بنائے۔

عرفان پٹھان نے 29ٹیسٹ میچوں میں 32.26رنز کی اوسط سے 100وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے سات بار اننگز میں 5وکٹیں اپنے نام کیں جبکہ دو بار ایک میچ میں دس وکٹیں حاصل کیں۔

-8 محمد شامی

محمد شامی اس وقت واحد مسلم کرکٹر ہیں جو اس وقت بھارتی کرکٹ ٹیم میں شامل ہیں۔ وہ ایک بہت عمدہ فاسٹ باؤلر ہیں جو 145کلو میٹر کی رفتار سے باؤلنگ کراتے ہیں 3ستمبر 1990 کو امروہہ میں پیدا ہونے والے محمد شامی نے پہلا ٹیسٹ 21نومبر 2013کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا جبکہ ان کا پہلا ایک روزہ میچ پاکستان کے خلاف تھا جو انہوں نے 6جنوری 2013کو کھیلا۔ ان کا پہلا ٹی 20میچ بھی پاکستان کے خلاف تھا۔ انہوں نے اب تک 40ٹیسٹ میچوں میں 29.5رنز کی اوسط سے 144وکٹیں اپنے نام کی ہیں ۔ حال ہی میں انگلینڈ میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں انہوں نے ایک میچ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ محمد شامی آئی پی ایل بھی بڑی باقاعدگی سے کھیلتے ہیں اور اس لیگ نے ان کی صلاحیتوں کو بہت نکھارا ہے۔ محمد شامی کا کیریئر اس وقت عروج پر ہے اور لگ یہی رہا ہے کہ وہ آئندہ کافی عرصے تک بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہیںگے۔

مذکورہ بالا مسلمان کرکٹرز کے علاوہ کئی اور مسلمان کھلاڑیوں نے بھارت کی طرف سے کرکٹ کھیلی لیکن وہ خاصی پرانی بات ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اتنی زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی۔ ان کھلاڑیوں میں غلام احمد، احسان الحق، مبارک علی، اصغر علی، امیر الٰہی،محمد نثار اور کئی دوسرے شامل ہیں۔ 

 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پسند کی شادی کرنا ہر کسی کا حق ہے۔ ان شادیوں میں کئی کامیاب ہوتی ہیں لیکن کچھ شادیاں ناکام بھی ہوجاتی ہیں۔ جب بات کرکٹرز کی ہو تو پھر یہ جو ...

مزید پڑھیں

کرکٹ گراؤنڈ اگر خوبصورت ہو تو میچ دیکھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی اکثر کرکٹ گراؤنڈز بہت شاندار اور دلکش ہیں ...

مزید پڑھیں

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔ یہ تمام ایونٹ اگلے سال فروری میں پاکستان کی گرائونڈز پر کھیلا جائے گا۔ پ ...

مزید پڑھیں