☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل انٹرویوز عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل کیرئر پلاننگ ادب
پی ایس ایل کا پانچواں ایڈیشن پاکستان میں

پی ایس ایل کا پانچواں ایڈیشن پاکستان میں

تحریر : طیب رضا عابدی

08-04-2019

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔ یہ تمام ایونٹ اگلے سال فروری میں پاکستان کی گرائونڈز پر کھیلا جائے گا۔ پاکستان میں کھیلنے کیلئے راضی غیرملکی پلیئرز سے ہی معاہدے ہوں گے۔ اس مرتبہ فائنل لاہور میں کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ0 1 میچز کی میزبانی لاہور کو دی گئی ہے ۔کراچی میں 9 ،راولپنڈی میں 8 اورملتان میں 4 منعقد ہو نگے ۔ پشاور اورآزاد کشمیر میں بھی ایک ایک میچ کے انعقاد پرغور ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے بورڈ حکام جلد دونوں وینیوزکا دورہ کرکے اپنی رپورٹ پی ایس ایل انتظامی کمیٹی کے حوالے کریں گے۔ نیشنل اسٹیڈیم کوئٹہ گلیڈی ایٹر، پشاور زلمی اور کراچی کنگز کا ہوم گراؤنڈ ہوگا، قذافی اسٹیڈیم لاہور ملتان سلطانز، اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرزکے میچوں کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ حکام نے تمام ٹیموں پر واضح کردیاہے کہ اس بار پی ایس ایل کے تمام میچزپاکستان میں ہی کرائے جائیں گے، غیرملکی کھلاڑیوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کیاجارہاہے کہ ڈرافٹ میں صرف ان ہی کھلاڑیوں کوشامل کیا جائیگا جو پاکستان آکر میچز کھیلنے کی تصدیق کریں گے۔

دوسری طرف پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خان نے کہاکہ پی ایس ایل 5کے تمام میچز پاکستان میں ہی ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہم نے بی پلان بھی تیارکررکھا ہے،اس کے لیے یواے ای میں بکنگ بھی کرالی تاکہ اگر خدانخواستہ کسی وجہ سے تمام میچز یہاں ممکن نہ ہوسکیں تو مقررہ وقت پر لیگ کو شروع کرسکیں۔

پی سی بی حکام نے پی ایس ایل کے انتظامات پراپنی تیاریوں کا آغاز کررکھاہے ۔ پاکستان سپرلیگ 5کا میلہ 20 فروری سے 22 مارچ تک کرانے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ایس ایل فائیو کا ڈرافٹ نومبرکے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں کرانے کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔ 

یاد رہے کہ پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جبکہ تیسرے اور چوتھے ایڈیشن کے فیصلہ کن معرکوں کی میزبانی کراچی نے کی تھی۔ اسی لیے اب ایڈیشن فائیو کا فائنل لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رواں برس کراچی میں پی ایس ایل کے اختتامی مرحلے کے مقابلوں کے کامیاب انعقاد کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پی سی بی کو پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن کے مکمل طور پر پاکستان میں انعقاد کی ہدایت کی تھی، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ایل کی مکمل وطن واپسی کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے بھی پاکستان سپرلیگ کے سیزن فائیو کے تمام میچوں کو پاکستان میں کروانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں خالی سٹیڈیمز سے وزیراعظم کے فیصلے کی توثیق ہوئی ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘ان شااللہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے پرہجوم میدانوں میں میچ کھیلے جائیں گے۔یاد رہے کہ 2016 میں پی ایس ایل کے پہلے سیزن کے تمام میچز متحدہ عرب امارات میں ہوئے تھے تاہم 2017 میں ٹورنامنٹ کا فائنل قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہوا تھا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کہتے کا بھی کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں پی ایس ایل کے مقابلے رواں سال آخری بار ہورہے ہیں، 2020ء میں پاکستان سپر لیگ کو پاکستان لارہے ہیں، پی ایس ایل 5 کے تمام میچز پاکستان میں ہوں گے۔ اس کے بعد پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی کا بھی بیان سامنے آیا تھا کہ پی ایس ایل فائیو کے تمام میچز پاکستان میں ہونگے ۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ نہ صرف حکومت بلکہ پی سی بی بھی پی ایس ایل کو پاکستان میں کرانے میں سنجیدہ ہے اور اس کے لئے ممکنہ سکیورٹی انتظامات سے لے کر سٹیڈیمز کی تزئین و آرائش تک کے تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ایونٹ کو کامیاب بنائے گی ۔ پی سی بی کوئٹہ کے بگٹی سٹیڈیم کی تزئین آرائش کررہی ہے تو دوسری طرف اسے آزاد کشمیر کے مظفر آباد کے سٹیڈیم کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے ۔ ملتان کا سٹیڈیم بھی بہت خوبصورت ہے ۔ پنڈی کے سٹیڈیم کو بھی مزید بہتر کیا جانا چاہیے ۔ ملتان اور راولپنڈی میں بھی کام شروع ہے، ارباب نیاز سٹیڈیم کی تعمیر نو جاری ہے۔ سٹیڈیمز میں واش رومز کی حالت بہت ناگفتہ بہہ ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ سیٹوں کا بھی برا حال ہوتا ہے ۔ اس لئے ان کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ گرائونڈ پر لش گرین گھاس ہونے سے گرائونڈ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ایونٹ سے پہلے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف توجہ دی جانی چاہیے جن پر عوام کی براہ راست نظر پڑتی ہے ۔ 

پاکستان سپر لیگ کے 3 ایونٹس یو اے ای کے میدانوں پر کامیابی سے ہوچکے ہیں، جبکہ پی ایس ایل 2 کا فائنل 2017ء میں لاہور میں منعقد کرایا گیا، پی ایس 3 کا 2018ء میں فائنل کراچی جبکہ ناک آؤٹ مرحلے کے 2 میچز لاہور میں کھیلے گئے تھے۔ امید ہے کہ اب ایڈیشن فائیو کے تمام میچز بھی زبردست انداز میں ہونگے اور شائقین کرکٹ بھرپور انداز میں لطف اندوز ہونگے ۔ اصل میں ٹی ٹوئنٹی جیسے ایونٹ کی کامیابی کا راز ہی اس کے اپنے ملک میں انعقاد سے وابستہ ہونے سے ہے ۔ آئی پی ایل ، بگ بیش، بنگلا دیش پریمئر اور کیرئبین پریمئر لیگ ہو سب اپنے اپنے ملک میں ہونے کی وجہ سے بھرپور انداز میں چل رہی ہیں ۔ پی ایس ایل جب اپنی گرائونڈز پر ہوگی تو بھرپور کرائوڈ کی وجہ سے جب ٹی وی پر میچز دکھائے جائیں گے تو اس کا رنگ ہی کچھ اور ہوگا اس کا عالمی طور پر اثر ہی کچھ اور ہوگا اور سپانسر بھی زیادہ ملیں گے ۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر سال پی ایس ایل کی مقبولیت میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے اور ہر ایڈیشن میں دنیائے کرکٹ کے بڑے سٹار حصہ لیتے نظر آئے ہیں بلکہ پانچویں ایڈیشن میں تو شائقین کے لئے بڑی خبر یہ ہے کہ اس بار جنوبی افریقہ کے ٹاپ بائولر ڈیل سٹین بھی پی ایس ایل کا حصہ ہونگے۔ اس کے علاوہ ٹیموں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ فرنچائزرز کی بڑھتی ہوئی توجہ اور رجحان سے بھی پتا چلا کہ ایونٹ کامیاب جارہا ہے ۔ پاکستان میں ایونٹ کی واپسی سے اس ایونٹ کی کامیابی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس ایونٹ کے رنگ بھرنے میں جہاں کئی چیزیں اہم تھیں وہاں کمنٹری سے لیکر پی ایس ایل کی ٹیم کے اعلان تک نے شائقین کو محظوظ کئے رکھا ۔2019 کی ٹیم کا جب اعلان کیا گیا تو اس پر شائقین کرکٹ نے زبردست ویلکم کا اظہار کیا۔ یہ ایک طرح کئی نئی جدت تھی جسے ہر سال اپنانے سے نئے رجحان کا پتا چل رہا ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی سی ایل 2019کی ٹیم کا اعلان کیا جس میں اے بی ڈی ویلیئرز کو اس ٹیم کا کپتان چنا گیا جبکہ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اس ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ۔ 

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی ایس ایل کی منتخب کردہ 12 رکنی ٹیم میں شین واٹسن، کامران اکمل، بابراعظم، اے بی ڈی ویلیئرز، کولن انگرام، آصف علی، کیرن پولارڈ، فہیم اشرف، حسن علی، وہاب ریاض، عمر اکمل اور سندیپ لمی چنے شامل رہے۔اس ٹیم کا انتخاب مدثر نذر، رمیز راجہ اور ڈینی موریسن نے کیا۔

اب تک ہونے والے چار ایڈیشنز میں سب سے زیادہ کامیاب اسلام آباد یونائیٹڈ رہی ہے جس نے دو مرتبہ ٹائٹل جیتا جبکہ پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر ایک ایک مرتبہ چیمپئن رہے ۔ 

پی ایس ایل کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کے پیچھے دو شخصیات کی محنت نظر آتی ہے جن میں سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف اور نجم سیٹھی کا نام ملتا ہے ۔ اصل میں ذکاء اشرف نے اس کا نام پی ایس ایل رکھا ۔ ابتدائی کام بھی ہوا لیکن وہ اسے شروع نہ کراسکے ۔شہریا ر خان کے دور میں پی سی بی گورننگ بورڈ کا اجلاس ہورہا تھا کہ اس وقت کے چیئرمین شہریارخان نے کہا کہ میں تو ٹی ٹوئنٹی گیم پر یقین ہی نہیں رکھتا اصل کرکٹ تو ٹیسٹ یا ون ڈے ہے اور ہمیں اسی پر فوکس کرنا چاہیے۔ بورڈ کے ممبران نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی لیگ پر کتنا پیسہ خرچ ہوگاجس پر نجم سیٹھی اٹھے اور انہوں نے فزیبلیٹی بناکر دکھائی اور کہا کہ اگر نقصان ہوا تو دو تین لاکھ ڈالر کا ہوگااور اگر فائدہ ہوا تو دو تین ملین ڈالر کا فائدہ ہوسکتا ہے ۔ یہ سن کر ایک ممبر نے کہا کہ اس لیگ کو کروائیں اگر ڈبل بھی نقصان ہوتا ہے تو ہم یہ رسک لینے کیلئے تیار ہیں بس پھر کیا تھا باقیوں نے بھی ہامی بھرلی اور پی ایس ایل کرانے کیلئے ایک اینٹ رکھ دی گئی جو اس کی منظور ی صورت میں سامنے آئی۔تیاریاں شروع کردی گئیں لیکن جب دبئی والوں سے وینیو کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے گرائونڈز تو فروری کیلئے بک ہیں متبادل گرائونڈز کیلئے قطر سے بات کی گئی لیکن وہاں عالمی معیار کے سٹیڈیمز نہ ہونے اور تماشائیوں کی ممکنہ تعداد کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے کا ڈر تھا۔ دوسری طرف یو اے ای میں پاکستانی بہت بڑی تعداد میں آباد تھے۔ اس لئے قطر والا منصوبہ ڈراپ کردیا گیا۔2016ء میں دبئی گرائونڈز کے مہیا ہونے پر پہلا سیزن کروانے کا فیصلہ ہوا۔ فرنچائزرز کی طر ف سے بھرپور رسپانس ملنے پر پی سی بی کو بھی حوصلہ ملا اور وہ میدان میں کود پڑے۔ اس کیلئے ایک پوری ٹیم بنائی گئی جس میں نئے لوگوں کو رکھا گیا اور کچھ پہلے سے موجود افراد سے فائدہ اٹھایا گیا۔ پہلی ٹیم جو فروخت ہوئی وہ کوئٹہ کی تھی جو ایک ملین ڈالر میں بیچی گئی۔اسلام آباداور پشاور15,15 کروڑ روپے کی فروخت ہوئیں جبکہ سب سے زیادہ قیمت لاہور اور کراچی کی لگی جو26,26 کروڑ میں فروخت ہوئیں۔جبکہ تیسرے ایڈیشن کیلئے چھٹی ٹیم جو شامل کی گئی وہ ملتان سلطان کی تھی جو 55کروڑ روپے میں فروخت ہوئی۔تیسرے ایڈیشن کیلئے ملتان ، فیصل آباد اور سیالکوٹ پر نیلامی ہوئی لیکن سب سے زیادہ قیمت ملتان کی لگی جس پر ملتان سلطان کی ٹیم فائنل کردی گئی ۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو پی ایس ایل جیسے چھوٹے فارمیٹ میں نئے ٹیلنٹ نے قومی ٹیم میں جگہ بنائی جن میں حسن علی، شاداب خان، رومان رئیس ، شاہین آفریدی ، آصف علی ودیگر نام شامل ہیں ۔ پی ایس ایل فرنچائزرز ان مقامی کھلاڑیوں کو لینے میں دلچسپی لیتے ہیں جن کی ٹی ٹوئنٹی کے فارمیٹ میں اچھی کارکردگی ہوتی ہے ۔ قائد اعظم ٹرافی یا ون ڈے کپ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے 

کھلاڑیوں کو عموماََ نظر انداز کردیا جاتا ہے جس کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ ٹیسٹ کا کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی میں نہیں چل سکتا ۔جس کی وجہ سے پاکستان کی اصل کرکٹ یا طویل فارمیٹ کی کرکٹ متاثر ہورہی ہے اور پاکستان ٹیسٹ کرکٹ یا ون ڈے میں وہ کارکردگی نہیں دکھا پارہا جو وہ ٹی ٹوئنٹی میں دکھاتا ہے ۔ پی ایس ایل میں حاصل ہونیوالی شہرت میں بیچارے ڈومیسٹک ایونٹ کھیلنے والے بڑے کھلاڑی شامل ہی نہیں ہوپاتے اور ان کی سخت محنت رائیگاں ہی جاتی ہے کیونکہ جب تک کسی کھلاڑی کو شہرت نہیں ملتی وہ نہ اچھے مستقبل کی امید کرسکتا ہے نہ ہی قومی ٹیم کاحصہ بن سکتا ہے ۔ قائد اعظم ٹرافی کے اچھے بلے باز سعد علی، افتخار علی ، عابد علی اور محمد سعد دوسرے کھلاڑیوں جیسی شہرت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے اگر انہیں بھی پی ایس ایل جیسا ’’بوسٹ اپ ‘‘ملے تو وہ زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں ۔ پی ایس ایل کا فارمیٹ ایسا بنانے کی ضرورت ہے کہ ٹاپ کے ریجنل کرکٹرز بھی اس کا حصہ بن سکیں۔ ڈومیسٹک ایونٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو پی ایس ایل ڈرافٹنگ میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ ایسا نظام ہو کہ اچھا کھلاڑی خود بخود کھیل کر اوپر آتا جائے ۔ ڈومیسٹک میں اچھا کھیلے تو پی ایس ایل میں اور پی ایس ایل میں اچھا کھیلے تو قومی ٹیم میں آجائے ۔پی سی بی کو چاہیے کہ وہ قائد اعظم ٹرافی جیسے ایونٹ کو مقبول بنائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں کہ ڈومیسٹک ون ڈے میچز کی بھی بھرپور تشہیر ہوسکے۔ پی ایس ایل کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی ڈومیسٹک کرکٹ پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ 

مزید پڑھیں

کرکٹ گراؤنڈ اگر خوبصورت ہو تو میچ دیکھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی اکثر کرکٹ گراؤنڈز بہت شاندار اور دلکش ہیں ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان کا دورہ آسٹریلیا ایک لحاظ سے منفرد اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ منفرد اس لئے کہ اس میں پاکستان نے نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو ا ...

مزید پڑھیں

کرکٹ کا میدان ہو یا گلوکاری کا، پاکستان کے غیر مسلم افراد نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی زبردست صلاحیتوں کی بدولت شہرت بھی حا ...

مزید پڑھیں

اس حقیقت سے انکارمشکل ہے کہ پاکستان کرکٹ کو شروع سے ہی اچھے فاسٹ اور سپن باؤلرز ملے جن کی وجہ سے پاکستانی ٹیم نے اپنے ابتدائی دور میں ہی ...

مزید پڑھیں