☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا شخصیت عالمی امور سنڈے سپیشل یوم عاشور کچن کی دنیا صحت تحقیق غور و طلب تاریخ
اور کتنا غلبہ کتنا ظلم چاہئے ۔ ۔ ؟

اور کتنا غلبہ کتنا ظلم چاہئے ۔ ۔ ؟

تحریر : طیبہ بخاری

09-08-2019

٭:دنیا آنکھیں کھولے ۔۔۔اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔۔۔کیونکہ

٭:صرف ہم نہیں ۔۔۔۔سب خطرے میں ہیں ۔۔۔

٭:جنوبی ایشیاء میں دو ایٹمی طاقتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہیں۔۔۔جنگ چھڑ گئی تو جیت کسی کی نہیںہو گی ۔۔۔

٭:کیا دنیا ’’مشترکہ ہار ‘‘کا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔؟ 

٭:احتجاج کا رُخ سڑکوں سے سرحدوں کی طرف گیا تو بہت کچھ بدلے گا ۔۔۔غلبہ ۔۔۔اور غلبے والی سوچ بھی 

٭:صرف ڈل جھیل نہیں پورا برصغیر اُداس ہے ۔۔۔ 

٭:حساس دل و دماغ رکھنے والا ہر شخص غمگین ۔۔۔پُر نم ۔۔۔حالتِ ماتم میں ہے 

٭:کرفیو مقبوضہ کشمیر میں ۔۔ سوگ پورے خطے میں ہے۔۔۔

٭:کیا عالمی منصف خطے کو اسی طرح جلتا ، سُلگتا ، بِلکتا دیکھتے رہیں گے ۔۔۔؟

٭:انسان اور انسانیت کرب میں مبتلا ہیں اوربھارتی ظالم حکمران’’ مطمئن ‘‘۔۔۔؟

٭:ایک طرف امن اور ثالثی کی پیشکشیں ہیں اور دوسری جانب ظلم و سفاکیت کا عملی مظاہرہ ۔۔۔۔

٭:کیا دنیا کو یہ ظلم نظر نہیں آتا کہ آج کسی کشمیری کو اپنے گھر جانے کیلئے پہلے عدالت جانا پڑتا ہے۔۔۔

٭: 72برس کا قبضہ، غلبہ ، ظلم ۔۔۔اب اور کتنا ۔۔۔؟

٭:کیا دنیا کے کسی گوشے میں کوئی یہ بھی سوچ رہا ہے کہ آنیوالی نسلوں کیلئے ورثے میں کیا چھوڑا جا رہا ہے ۔۔۔تنازعات ۔۔۔منافقانہ پالیسیاں ۔۔۔جنگ۔۔۔بھوک ۔۔۔یا امن۔۔؟

٭:دنیا کی خاموشی پر افسوس کرنے والے بڑھتے کیوں جا رہے ہیں ۔۔۔؟

٭:جوابدہ سب ہیں ۔۔۔جوابدہ ہونا ہو گا ۔۔۔آج نہیں تو کل ۔۔۔قبضہ ، غلبہ ، ظلم ختم کرنا ہو گا ۔۔۔آج یا کل

٭:کیا خوب عالمی قیادت ہے کہ زمین پر جنگیں چھڑی ہیں انسانیت رحم اور امن کیلئے تر س رہی ہے اور اب ’’خلائی جنگ ‘‘کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔۔۔جنگیں اور جنگی سوچ ختم کرنے کی بجائے ،مقبوضہ خطوں کو آزادی دینے کی بجائے ’’سپیس کمانڈ‘‘ کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔۔۔ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلا ء میں جنگ کیلئے پینٹاگون میں خصوصی سپیس کمانڈ کا افتتاح کیا،وائٹ ہائوس میں تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا’’ یہ ایک تاریخی دن ہے جسے خلاء میں امریکہ کی سلامتی اور دفاع کیلئے یاد رکھا جائیگا، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ خلاء میں امریکہ کے غلبے کو خطرہ نہ ہو۔‘‘

٭:زمین پر انسانوں اور انسانیت کی بقاء ، دفاع ، سلامتی بھلے خطرے میں پڑ جائے لیکن خلاء میں غلبہ چاہئے ۔۔۔اور کتنا غلبہ ۔ ۔ ؟

٭:پہلی جنگ عظیم ۔۔۔دوسری جنگ عظیم ۔۔۔یہ کیا ٹرم ، منطق یا لفاظی ہے ۔۔۔؟کیوں آج بھی ان بدترین جنگوں کو’’ عظیم ‘‘ لفظ سے پکارا اور یاد کیا جاتا ہے۔۔۔؟ان سے نفرت ، بیزاری اور مذمت کے جذبات یا الفاظ کو کیوں فروغ نہیں دیا گیا ۔۔۔؟ کیوں قصور واروں کو ذلیل و رسوا نہیں کیا گیا ۔۔۔؟کیوں لاکھوں زندگیوں کے نقصان کو ’’عظیم نقصان ‘‘ قرار نہیں دیا گیا ، کیوں جیتی جاتی زندگیوں کو جنگوں کا ’’ایندھن ‘‘ بنایا گیا۔۔؟ 

٭: جنگ کیسی ہوتی ہے ۔۔۔؟1947ء کے بعد سارک ممالک میں بسنے والے کروڑوں انسانوں میں سے شاید ہی کوئی ہو جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اُس نے اپنے دور میں جنگ نہیں دیکھی ۔۔۔اعلانیہ اور غیر اعلانیہ دونوں قسم کی جنگوں سے اس خطے کے بسنے والے متاثر ہو چکے ہیں۔

٭:ظلم و ستم سہتے سہتے آج کشمیریوں کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ’’ ہم پر تشدد نہ کریں۔۔۔ بس گولی مار دیں‘‘۔۔۔

٭:ہے کوئی اس کرب ، تکلیف اور جذبے کو محسوس کرنیوالا ۔۔۔؟

٭:میڈیا میں مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ظلم و ستم کی داستا نیں سامنے آرہی ہیں۔۔۔نہیں کھل کر سامنے آ رہے توظالم کا ہاتھ پکڑنے والے ۔۔۔

 ٭:قابض بھارتی فوج زیر حراست کشمیریوں پر تشدد کی انتہا کررہی ہے ۔پاکستان یا بھارت کے میڈیا کو چھوڑئیے عالمی میڈیابھی کشمیریوں پر بھارت کے ڈھائے جانے والے مظالم بے نقاب کر رہا ہے ۔۔۔ذرا پڑھئے مظلوم کشمیریوں کا نوحہ ۔۔۔برطانوی نشریاتی ادارے کے رپورٹر نے مقبوضہ کشمیر کے جنوبی اضلاع کے علاقوں کا دورہ کیا جہاں کشمیریوں نے بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم کی داستانیں اور رات گئے چھاپوں، مارپیٹ اور تشدد کی ملتی جلتی کہانیاں سنائیں۔ ڈاکٹرز صحافیوں سے کسی بھی مریض کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے،کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انہیں لاٹھیوں، بھاری تاروں سے مارا جاتا ہے اور بجلی کے جھٹکے دئیے جاتے ہیں جسکے باعث ہم کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ تشدد نہ کریں، بس گولی مار دیں۔ایک کشمیری نے ظلم کی داستان سناتے ہوئے کہا’’آرٹیکل 370ختم کرنے کے متنازع فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی فوج گھر گھر گئی راتوں میں چھاپے مار کر گھروں سے نوجوانوں کو اٹھایا، ایک جگہ پر سب کو جمع کیا، مارا پیٹا، ہم پوچھتے رہے ہم نے کیا کیا ہے۔بھارتی فوج کے جوان بس ہمیں مارتے رہے، ہمیں لاتیں ماریں، ڈنڈوں سے مارا، بجلی کے جھٹکے دئیے، تاروں سے پیٹا،جب بیہوش ہو گئے تو انہوں نے ہوش میں لانے کیلئے بجلی کے جھٹکے دئیے، انہوں نے ہمیں ڈنڈوں سے مارا ہم چیخے تو ہمارے منہ مٹی سے بھر دئیے۔میں خدا سے موت کی دعا کر رہا تھا کیونکہ یہ تشدد ناقابلِ برداشت تھا،قابض فورسزنے وارننگ دی کہ کوئی بھی بھارت مخالف مظاہروں میں شرکت نہ کرے۔ مظالم جاری رہے تو گھر چھوڑ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا، وہ ہمیں ایسے مارتے ہیں جیسے جانوروں کو مارا جاتا ہے، وہ ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے۔‘‘ رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں ثبوت کے طور پر بھارتی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ اس رپورٹ نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا اور بھارت کا چہرہ بے نقاب کر دیا۔ 

 امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا پردہ چاک کیا ، رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کم عمر لڑکوں کو گرفتار کررہی ہے۔ کشمیری والدین پریشان ہیں، بھارتی فوج دھڑا دھڑ کم عمر نوجوانوں کو گرفتار کر رہی ہے ، مسلح فوجی رات کے اندھیرے میں گھروں کی دیواریں پھلانگ کر لڑکوں کو گرفتار کر تے ہیں۔ایک کشمیری نوجوان فرحان کی والدہ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا’’ روز سری نگر سے 10 کلو میٹر دور پولیس اسٹیشن جاتی ہوں، بے قصور بیٹے کو لاک اپ میں روتا دیکھ کر دل روتا ہے۔بچوں کو گرفتار کرنیوالا بھارت کچھ بھی کرسکتا ہے، اسی لیے کشمیر کے ہر گھر میں خوف کا ڈیرہ ہے۔‘‘واشنگٹن پوسٹ کے مطابق فرحان ان ہزاروں کشمیریوں میں سے ایک ہے جو بغیر الزام جیلوں میں ہیں، ماں نازیہ روز بیٹے سے ملنے تھانے جاتی ہے لیکن ملاقات روز نہیں ہوتی۔ 

ابھی یہ مظالم کم ہیں کیا کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کے نئے انتظامات کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے،قابض بھارتی فوج نے احتجاج کیلئے نکلنے والوں سے مزید سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سری نگر میں درجنوںنے نئے مورچے قائم کر لئے ہیں جہاں ماہر نشانہ باز بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ گھروں میں محصور کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء ،دودھ و ادویات بھی ختم ہو چکی ہیں۔ مودی سرکار اپنی ہی پولیس کے کشمیری مسلمان اہلکاروں سے بھی خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کا نتیجہ ہے کہ کشمیری پولیس اہلکاروں سے اسلحہ لے کر انہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے ۔دوسری جانب کشمیری پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی حیثیت صرف بھارتی فوجیوں کے مددگار کی سی رہ گئی ہے، 5 اگست کے بعد سے وادی میں پولیس اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کشمیری پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پہلے ان سے سرکاری اسلحہ واپس لے لیا گیا تھا بھارت کو خوف تھا کہ پولیس میں موجود کشمیری اہلکاروں کی جانب سے اس فیصلے کیخلاف بغاوت سامنے آسکتی ہے،وادی میں پولیس کو سائیڈ لائن کرنے کے بعد پولیس اہلکاروں میں بد دلی اور غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔5 اگست کے بعد سے وادی میں پولیس اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات ہو چکے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5اگست سے تقریباً تمام حریت رہنما نظربند ہیں، سیاسی رہنمائوں سمیت 10 ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھربرطانوی اخبار دی گارڈین نے مودی سرکار کے مظالم بے نقاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’مقبوضہ وادی کی صورتحال آتش فشاں کے مترادف ہے جو پھٹنے کو تیار ہے، گرفتاریوں نے کشمیری خاندانوں کی زندگی تباہ کر دی ہیں، جیل کے گیٹ پر بچوں سے ملنے کیلئے آئے والدین کی لمبی قطاریں ہوتی ہیں جیل میں داخلے کیلئے ملنے والوں کے بازو پر خفیہ کوڈ کی مہر لگائی جاتی ہے، ایک ماں کے ہاتھ پر شتر مرغ اور مگرمچھ کی مہر دیکھی۔ بھارتی فوج چادراور چارد یواری کا تقدس پامال کررہی ہے،نوجوان نہ ملنے پر اس کے والد کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا، گرفتار افراد کو لکھنئو، بریلی اور آگرہ کی جیلوں میں منتقل کیا گیا،سخت سیکورٹی کے باوجود مظاہرے جاری ہیں۔‘‘ امریکی میڈیا کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہناہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرپرتاریک اورگہراپردہ ڈال رکھا ہے، پردے کے پیچھے کشمیری پیلٹ گنزاورپابندیوں کا مقابلہ کررہے ہیں، پیلٹ گنز سے سیکڑوں افراد زخمی ہوئے اور ہزاروں افراد کوگرفتارکیا گیا ہے۔ایک امریکی ٹی وی کے مطابق کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدردعمل کاخوف ہے اور اس خوف سے بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں ہزاروں فوجی تعینات کئے ہوئے ہیں،مقبوضہ وادی میں کمیونیکیشن بلیک آئوٹ،کرفیواورپابندیاں ہیں، سامنے آنے والے حقائق کشمیرمیں سب نارمل ہونے کے دعوؤں کے برعکس ہیں، بھارتی فورسزروزانہ آنسوگیس کا استعمال کررہی ہیں۔‘‘

پبلک سیفٹی ایکٹ، کیرالہ میں طلباء پر مقدمہ اور آسام میں مسلمانوں کی رجسٹریشن کیوں ۔۔۔؟

یہ ظلم کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ مسلسل کرفیو اور پابندیوں کے باوجود گرفتار ساڑھے 4 ہزار سے زائد کشمیریوں پرکالا قانون’’پبلک سیفٹی ایکٹ ‘ ‘لاگو کر دیا ہے جن میں حریت رہنما، سیاسی کارکن ، تاجر،سماجی کارکن اور عام نوجوان شامل ہیں۔پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے 2 برس تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے، بھارتی ایجنسیاں 35ہزار سے زائد سوشل میڈیا اکائونٹس کی چھان بین بھی کر رہی ہیں۔کشمیر میڈیا سروس نے بھارتی فورسز کی حراست سے لاپتہ کشمیریوں پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 29 برسوں کے دوران 8 ہزار سے زائد کشمیری حراست کے دوران لاپتہ ہوئے۔ گمشدہ افراد کے اہل خانہ کو اپنے پیاروں سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی گئیں جبکہ ہزاروں گمنام قبریں دریافت ہوئی ہیںیہ قبریں بھارتی فورسزکی حراست سے لاپتہ ہونے والوں کی ہیں۔

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کیساتھ آسام میں بھی ظلم کابازار گرم کر دیا ہے19لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی ، غیرملکی قرار دیدیاحتمی فہرست میں شہریت سے محروم ہونے والے افراد کو اپیل کیلئے صرف 4 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ متعصب مودی سرکار نے بنگالی مہاجرین کی آڑ میں مسلم آبادی پر وار کیا اور بے وطن کئے جانے والوں کو گرفتا ر کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں ،بنگلا دیش سے ملحقہ بھارتی ریاست کی 34 فیصد مسلمان آباد پہلے ہی بھارتی حکمرانوں کے نارو ا سلوک کا سامنا کر رہی تھی، نیا فیصلہ قیامت بن کر ٹوٹا ۔مودی سرکار نے آسام کے مسلمانوںسے کہا ہے کہ بھارتی شہریت کے حصول کیلئے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ 1971ء سے قبل ان کے والدین یا ان سے بھی پہلے کی نسل اس ریاست میں رہائش پذیر تھی۔۔۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کے شہریوں سے ان کے خاندانی سلسلے کی دستاویزات طلب کی گئی ہیں، مودی حکومت کے رجسٹریشن کے عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسے آسام میں اقلیتوں کیخلاف اقدم قرار دیا گیاہے۔شہریت سے محروم ہونے والے افراد ٹریبونلز اور اس حوالے سے بنائی گئی خصوصی عدالتوں میں اپیل کرسکتے ہیں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا بھی حق دیا گیا ہے اپیل مسترد ہونے کی صورت میں ایسے افراد کو غیر معینہ مدت کیلئے حراست میں بھی لیا جائے گا۔ مودی سرکار کی نا اہلی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کئی خاندانوں میں ایک بھائی کو شہری دوسرے کو غیر ملکی قرار دیدیا گیا جبکہ راہول گاندھی سمیت دیگراپوزیشن رہنمائوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ مودی لاکھوں لوگوں کو راتوں رات بے وطن کر رہے ہیں، خاندانوں میں جدائی ڈالنا نا قابل قبول ہے،عوام میں ’’بڑے پیمانے پر عدم تحفظ‘‘ پیدا کر دیا گیا ہے۔ ‘‘دوسری جانب امریکی حکومت کے ایک مشاورتی بورڈ نے بھی آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن کے معاملے پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ بورڈ کے سربراہ ٹونی پیرکنز کا کہنا ہے کہ آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن کے دوران ممکنہ زیادتیوں کے حوالے سے انہیں تحفظات ہیں کیونکہ اس عمل میں لوگوں کیلئے اپنے مذہب سے متعلق تفصیلات بتانا لازمی ہے۔ یہ طریقہ بھارت میں مذہبی آزادی کے نظریات کے منافی ہے۔ 

کیا یہ خوف اور بوکھلاہٹ کی انتہا نہیںکہ کیرالہ کے پیرامبرا سلور کالج کے 30 طلبا ء کیخلاف مقدمہ صرف ایک غلط فہمی کی بنیاد پر درج کرلیا گیا ۔مختصراً بتاتے چلیں کہ مسلم سٹوڈنٹس فرنٹ نامی طلباء تنظیم نے کالج الیکشن کے حوالے سے نکالی جانیوالی ریلی کے دوران کالج کیمپس کے اندر پرچم لہرایا،پرچم کا رنگ و ڈیزائن پاکستان کے قومی پرچم سے ملتا جلتا ہے ۔ اس معاملے میں کیرالہ سٹوڈنٹس یونین بھی شامل تھی اور ان دونوں تنظیموں کو کانگریس کی حمایت حاصل ہے ۔ پولیس نے طلباء پر تعزیرات ہند کی دفعہ 143، 147، 153 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کرلیا جبکہ مسلم سٹوڈنٹ فرنٹ کا کہنا ہے کہ ان کا پارٹی پرچم پاکستان کے پرچم سے مشابہہ ہے، پرچم اتنا بڑا تھا کہ آدھا حصہ چھپ گیا اور جو حصہ نظر آیا وہ پاکستانی پرچم سے مشابہہ تھا، حکام نے غلط فہمی کی بنیاد پر کیس ٹھوک دیا ۔

عالمی کانفرنس ،قوم یک زبان ، مذاکرات کی مشروط پیشکش 

پاکستان عالمی برادری کو مسلسل خبردار کر رہا ہے،حکومت نے کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملے پر عالمی کانفرنس بلانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ کانفرنس میں قانون، بین الاقوامی امور کے عالمی ماہرین اور سفراء کو مدعو کیا جائے گا، ابھی یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کانفرنس کا انعقاد آزاد کشمیر یا اسلام آباد میں کرائے جائے ۔کانفرنس میں کشمیر کی اصل صورتحال عالمی ماہرین کے سامنے رکھی جائے گی، ماہرین سے مسئلہ کے حل کیلئے قانونی تجاویز بھی مانگی جائیں گی۔۔۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی اپیل پر ملک بھر میں 30اگست کو خصوصی طور پر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ قوم نے یک زبان ہو کر اپنے وزیر اعظم کی کال پر پورے جوش و خروش سے لبیک کہا اورکشمیریوں کیساتھ اپنی محبت اور جذبات کا اظہار کیا ۔۔۔ ۔وزیر اعظم نے کہا کہ’’کشمیری اس وقت انتہائی سخت وقت سے گزر رہے ہیں،80 لاکھ کشمیری کئی ہفتوں سے کرفیو میں بند ہیں۔ بھارت کی حکومت کو سمجھنے کیلئے آر ایس ایس کے فلسفے کو سمجھنا ہوگا، آر ایس ایس مسلمانوں کی نفرت میں بنائی گئی، جس طرح جرمن نازی سمجھتے تھے کہ دوسروں کو قتل کرو یا ملک سے نکال دو یہی آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آج آر ایس ایس کے نظرئیے نے ہندوستان پر قبضہ کرلیا ہے، آر ایس ایس سمجھتی ہے کہ مسلمانوں کوسبق سکھانا ہے، افسوس سے کہتا ہوں کہ جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو اقوام متحدہ خاموش رہتی ہے۔ آر ایس ایس کے ممبر نے ہی گاندھی کو قتل کیا تھا، آر ایس ایس والے نہ بھارتی آئین کو مانتے ہیں نہ کسی عدالت کو یہ صرف ہندو راج کو مانتے ہیں۔ اگر دنیا مودی کی فاشسٹ حکومت کے سامنے نہ کھڑی ہوئی تو یہ بات یہاں رُکے گی نہیں، ہمیں معلوم ہے کہ یہ آزاد کشمیر میں کچھ نہ کچھ کریں گے اور میں نریندرمودی کو واضح کر دیتا ہوں کہ اگر آزاد کشمیر میں کچھ کیا تواینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ پاک فوج تیار ہے، بھارت کو بھرپور جواب دیں گے، میں دنیا کو بتا رہا ہوں کہ جب 2 ایٹمی ممالک آمنے سامنے ہوںگے تو اثر ساری دنیا میں جائے گا۔کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر دنیا کو کھڑے ہوجانا چاہیے تھا، ہندوستان میں آج مسیحی برادری پر بھی ظلم ہو رہا ہے۔ مودی نے تکبر میں اپنا آخری پتہ کھیل لیا ہے، اب کشمیر کی آزادی دور نہیں، ہم مہم چلائیں گے کہ سب سے پہلے مقبوضہ وادی میں کرفیو اٹھایا جائے۔‘‘

 علاوہ ازیں برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ’’ ایسے ماحول میں جہاں کرفیو نافذ ہے، لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، گینگ ریپ ہو رہے ہیں، لوگ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں مجھے تو مذاکرات کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری ہٹایا جائے، لوگوں کے حقوق بحال کیے جائیں، پوری کشمیری قیادت جو پابند سلاسل ہے اس کو رہا کیا جائے اور انہیں (شاہ محمود کو ) کشمیری قیادت سے ملنے کی اجازت دی جائے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔اس جھگڑے کے 3فریق ہیں۔ انڈیا، پاکستان اور کشمیر۔ کشمیریوں کے جذبات کو پامال کر کے مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھا جا سکتا۔ پاکستان کے پاس جنگ کا کوئی آپشن نہیں ہے۔‘‘

احمد فراز نے شائد انہی دنوں یا ان جیسے دنوں کے بارے میں طویل نظم لکھی تھی جس کے چند مصرعے حاضر ہیں کہ

تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاری

ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں

تمیں بھی زعم مہا بھارتا لڑی تم نے

ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں

ستم تو یہ ہے کہ دونوں کے مرغزاروں سے

ہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہے

الم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہار

عدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے

تو اب یہ حال ہوا اس درندگی کے سبب

تمہارے پائوں سلامت رہے نہ ہاتھ مرے

نہ جیت جیت تمہاری نہ ہار ہار مری

نہ کوئی ساتھ تمہارے نہ کوئی ساتھ مرے

 

 

پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابیاں ، او آئی سی بھی بول پڑی 

 

مقبوضہ کشمیر کی حیثیت یکطرفہ تبدیل کرنے کیلئے بھارت کی انسانیت سوز پالیسی مودی سرکارہی کے گلے پڑچکی ہے اور پاکستان کے مئوقف کو عالمی سطح پر بڑ ی سفارتی کامیابیاں مل رہی ہیںحکومت پاکستان ،اوورسیز پاکستانیوںا ورکشمیریوں کی کاوشیں رنگ لارہی ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں پہلی بار مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا۔امریکی اوریورپی پارلیمانی کمیٹیوں میں مسئلہ کشمیرپر بات ہوئی۔ یورپین یونین کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس2 ستمبر کو ہو ا وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے شرکت کی جبکہ امریکی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین نے کشمیری کمیونٹی سے ملاقات کی اور وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی ۔ امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بریڈ شرمن نے ساتھی رکن کانگریس آندرے کارسن کے ساتھ مل کر کشمیر سے تعلق رکھنے والے امریکیوں سے ملاقات کی جس میں کشمیریوں نے مقبوضہ وادی میں اپنے عزیروں کے حوالے سے درپیش خطرات سے آگاہ کیا ۔ بریڈ شرمن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں مزید جاننے کے منتظر ہیں۔انہوںنے کمیٹی کااجلاس جلد بلانے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کو زیر بحث لانے کی یقین دہانی کرائی ۔

دوسری جانب یورپین خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں مسئلہ کشمیر ا ٹھا دیا۔ یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنمائوں کے درمیان یہ ملاقات برسلز میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران مادام موگرینی نے انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے ساتھ مسئلہ کشمیرپر گفتگو کی۔ مدام موگرینی نے کہا کہ یورپین یونین پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلہ کشمیر کے دوطرفہ بات چیت کی بنیادپر ، پْر امن حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کشیدگی میں اضافے سے بچنے کا مطا لبہ کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سے کشمیری عوام کے حقوق اوران کی آزادی کو بحال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ 

ہندو راشٹرواد کے خواب دیکھنے والی بی جے پی سرکار عرب ممالک سے وزیر اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ اعزات ملنے پر بہت خوشیاں منا رہی تھی لیکن ان خوشیوں پر اوس اس وقت پڑ گئی جب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ او آئی سی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’’ او آئی سی کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پرتحفظات ہیں۔ ایو این کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت تسلیم کرتے ہیں۔ او آئی سی یقین رکھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل یو این قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے، او آئی سی کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ کشمیر میں انٹرنیٹ، موبائل فون، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی یکطرفہ اقدام ہے ،تنازع کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری ہے ، پاکستان اور بھارت مذاکرات کا عمل شروع کریں، ریاست میں نافذ کرفیو اور پابندیاں فوراً ہٹائی جائیں،کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے، مواصلات و ذرائع ابلاغ کو بحال کیا جا نا چاہئے، جنوبی ایشیاء میں ترقی ، امن اور استحکام کیلئے دونوں ملکوں میں بات چیت ضروری ہے ، کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔‘‘

دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی سفارتی روابط میں تیزی لاتے ہوئے کشمیریوں کا نوحہ ’’مستقل ‘‘ بیان کر رہی ہیںاور سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں کہ پیلٹ گنز سے مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں بچے بینائی سے محروم ہوچکے ہیںنہتے کشمیریوں کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ ، انہوں نے انسانی حقوق کے انڈر سیکرٹری جنرل اور یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقاتیں کیں اور جموں و کشمیر میں بڑھتی بھارتی جارحیت اور سنگین انسانی المیے کے خطرے سے خبردار کیا۔اقوام متحدہ کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل برائے پیس آپریشنز خالد خیری سے ملاقات کے دوران انکا کہنا تھا کہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے لگایا جانیوالا کرفیو اور انسانیت سوز پابندیاں خطرناک صورتحال میں داخل ہو چکی ہیںبھارتی بربریت سے حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے، لائن آف کنٹرول کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ امن مشن کی تعداد بڑھا کر اسے مزید فعال بنایا جائے۔۔۔۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے بڑھاوے سے گریز کریں۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریش اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان فرانس کے شہر بیارٹز میں ہونے والے جی سیون ممالک کے اجلاس کے دوران سائیڈلائن پر ملاقات ہوئی جس میں مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی گئی۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر میں کسی بھی بڑھاوے سے گریز کریں۔۔۔۔

یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ امریکہ نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری پابندیوں اور بندشوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مورگن اورٹاگس کے مطابق امریکہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے، جموں و کشمیر میں جائز قانونی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے انسانی حقوق کی فراہمی کا احترام کیا جائے۔مذاکرات کو یقینی بنایا جائے امریکہ ، پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ جموں و کشمیر میں جبری گرفتاریوں اور پابندیوں پر امریکہ کو گہری تشویش ہے امریکہ مطالبہ کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام، جائز قانونی طریقہ کار اور مذاکرات کو یقینی بنایا جائے اور لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام کی صورتحال برقرار رکھی جائے۔۔۔۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:یہ ’’دوسرے ہٹلر ‘‘ کی بھول ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے سب ختم ہو گیا ، کشمیری اور پاکستانی ’’مقابلہ &ls ...

مزید پڑھیں

٭:آخر کیا چاہتی ہے مودی سرکار ،جواب دو ۔۔۔جواب دینا ہو گا

٭:سوال اٹھتے رہیں گے ۔۔ابھی تو سلسلہ شروع ہوا ہے

...

مزید پڑھیں

٭:خون اپنا ہو یا پرایا نسلِ آدم کا خون ہے آخر ۔۔۔

...

مزید پڑھیں