☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
گیم آف تھرونز اور پلان ’’بی ‘‘

گیم آف تھرونز اور پلان ’’بی ‘‘

تحریر : طیبہ بخاری

10-06-2019

امن کے دیوانے اور نفرت کے پجاری میں ملاقاتوں اور گفتگو کا سلسلہ تو بند ہے لیکن ایک دوسرے پر الزامات اور لفظی حملوں کا سلسلہ عروج پر ہے ۔۔۔۔امن کا دیوانہ مدتوں بعد خوش نظر آ رہا ہے ، آئوٹ آف ٹینشن ، ریلیکس ، مطمئن اور اب سمجھتا ہے کہ ’’پریشر ‘‘کا جھکائو ہے اسکے مخالف ناراض دوست، ہمسائے نفرت کے پجاری کی طرف ۔۔۔

دونوں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس اور پاک ، بھارت وزرائے اعظم کے دوروں اور تقریروں پر کامیابی کے ڈھول بجا رہے ہیں ۔۔۔۔آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ امن کا دیوانہ کیا مؤقف رکھتا ہے اور نفرت کے پجاری کا کیا کہنا ہے ۔۔۔۔؟

امن کا دیوانہ 

٭:اِس کو کہتے ہیں گھر میں گھس کر مارنا ۔۔۔رئیل سرجیکل سٹرائیک ۔۔۔ بغیر ہتھیار لڑائی ۔۔۔ٹیم ورک ۔۔۔ہوم ورک ۔ بیسٹ کمبی نیشن۔۔۔

٭:وزیر اعظم عمران خان کی تقریر ٹو دی پوائنٹ ۔۔ فی البدی۔ 4نکاتی۔۔ اور’’چو مکھا‘‘ خطاب ۔۔۔جارحانہ بائولنگ اور بیٹنگ 

٭:موقع ، ڈائیس اور ورلڈ سٹیج کا بھرپور استعمال ،سوشل میڈیا پر روانگی اور آمد سب ٹاپ ٹرینڈ ۔۔۔ کشمیر پر دلیرانہ سفارتکاری۔۔

٭:دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں اور خدمات کابھرپور دفاع ۔۔۔مخالفین کو سرپرائز دیدیا ۔۔۔بازی کا پانسہ پلٹ دیا

٭:مودی ڈاکٹرائن کے پاس کوئی دفاع تھا نہ ہی کوئی جواز، مودی کا کہنا نہ کہنا کافی تھا۔۔۔پاکستان کھل کر گرجا ، برسا۔۔۔

٭: پہلی بار نریندر مودی کے کشمیر سے متعلق اقدامات کو عالمی دنیا کے سامنے رکھا گیا۔۔عالمی فورم کو اسکی اہمیت کا احساس دلایا ۔۔

 ٭: اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس بار پاکستان کے وزیرِ اعظم اپنا مؤقف سامنے رکھنے میں انڈیا کے وزیرِ اعظم سے کئی گُنا زیادہ کامیاب ہوئے۔۔۔انڈیا کے پاس الزامات کے سوا کچھ نہیں تھا

٭: مودی ٹیم نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ بات اتنی آگے بڑھے گی کشمیر ان کی گرفت سے نکلتا جا رہا ہے ، ہوا کا رُخ پلٹا کھا رہا ہے

٭: پاکستان نے دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنا مؤقف پیش کیا، نہایت اہم پلیٹ فارم پر ایسی تقریر ضروری تھی۔۔۔ 

٭: ایٹمی جنگ آپشن نہیں لیکن دنیا جو کسی بات پر ٹس سے مس نہیں ہو رہی ،ضمیر کو جھنجھوڑنے کا کام کسی کو تو کرنا تھا، سو ہم نے کیا 

٭: حقِ خود ارادیت کو محدود معنوں میں لینے والے اب ضرور غور پر مجبور ہونگے۔کپتان نے پاکستان اور بھارت عوام کی بجائے ’’تیسرے راستے ‘‘ یعنی کشمیریوں کی رائے اور خواہش کی بات بھی کر دی ۔۔۔۔دنیا کسی پر دھیان نہ دے کشمیریوں کی تو سنے۔ 

٭: اقوامِ متحدہ کو بتا دیا کہ کسی بھی صورت کشمیر پر سودے بازی نہیں کی جائے گی۔۔۔ہم مرتے دم تک لڑنے کیلئے تیار ہیں۔۔

٭: بات اب تقریروں سے آگے بڑھنی چاہیے۔۔۔

٭: اقوامِ متحدہ کے مبصرین آکر انڈیا کی طرف سے جہادی تنظیموں کے کیمپ ہونے کے دعوؤں کا خود معائنہ کر لیں’’بڑی دعوت ‘‘ ہے۔ مودی ڈاکٹرائن میں حوصلہ ہے ایسی کسی ’’دعوت ‘‘ کے دینے کا ۔۔؟کپتان نے جارحانہ بائولنگ کی اور بیٹنگ بھی۔

٭:مودی حکومت اب مسئلہ کشمیر سے آنکھیں نہیں چرا سکتی ، کرفیو ، پابندیوں ، گرفتاریوں، شہادتوں اور استحصال کو چھپایا نہیں جا سکتا ۔۔۔

٭:کیا مقبوضہ کشمیر کی شناخت چھینی یا مٹائی جا سکتی ہے؟یہ الگ بات ہے کہ کشمیری غیر یقینی مستقبل کی گرفت میںہیں۔۔۔

٭:دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے اگر استعمال ہوا تو دونوں تباہ ہوجائیں گے۔۔۔لائن آف کنٹرول ایک ایسی حد ہے جسے تسلیم کرنا ہو گا کیونکہ اسے بدلا نہیں جا سکتا ۔۔۔

٭: اسلاموفوبیا پر ڈٹ کر بات ہونی چاہئے تھی، مسلمانوں سے امتیازی سلوک اور پردے پر پابندی جیسے مسائل اجاگر ہوگئے۔

٭:نفرت کے پجاری ۔۔۔کیا تم نے اس کشمیری خاتون سفیہ نبی کی گفتگو سنی جو اس نے تمہارے دیس کی راجدھانی دلی میں ایک عالمی نشریاتی ادارے سے کی ۔۔۔اگر نہیں سنی تو چلو میں سناتا ہوں۔۔۔۔ سفینہ کہتی ہے ’’ مستقبل کا اب کچھ پتہ نہیں چل رہا آئین میں ہمیں کچھ حقوق دئیے گئے تھے اب ان حقوق کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہماری بہتری کیلئے کیا گیا، تو ہم سے پوچھ کر کرتے، ہمیں اعتماد میں لے کر کرتے۔ کشمیری لوگوں کیلئے یہ ایک جذباتی معاملہ بن چکا ہے۔لوگ اب یہی کہتے ہیں، ابھی یا کبھی نہیں۔ لوگوں کے اب یہی جذبات ہیں یا تو ہم کچھ کریں کہ ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔ اگر ہم اب کچھ نہ کر پائے تو کبھی نہیں کر پائیں گے کیونکہ یہ آخری وقت ہے کچھ کرنے کا۔ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ پورا مواصلاتی رابطہ منقطع ہے مودی حکومت سب کو قید میں ڈال کر فیصلے کر رہی ہے۔کشمیریوں میںبے چینی، اضطراب اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ نئی نسل میں موت کا خوف نہیں ہے وہ ہر پل مر رہے ہیں۔ لوگ قید میں ہوں تو ان کے احساسات کیسے ہونگے؟ ان کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کسی پنجرے میں قیدبلبل ۔ لاک ڈاؤن میں عورتیں، مرد، بوڑھے سبھی اپنے اپنے طور پر مشکلات سے گزر رہے ہیں ۔ عورتوں اور نو عمر بچوں پر ان حالات کا سب سے گہرا اثر پڑتا ہے۔ اظہار کے سارے ذرائع چھین لیے گئے ہیں جذبات اندر ہی اندر اُبل رہے ہیں کب پھٹیں گے یہ کسی کو نہیں معلوم۔ کشمیریوں میں مزاحمت کی قوت بہت زیادہ ہے اور یہ پہلی بار نہیں جب انہوں نے ایسے حالات دیکھے ہوں وہ ایک عرصے سے ایسے حالات دیکھتے چلے آئے ہیںلیکن اس بار کچھ الگ ہی ہے۔آپ نے کشمیریوں کے خصوصی حقوق ختم کر دئیے، فون بند، انٹرنیٹ بند ، سکول بند ہیں۔ کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے آپ بات کر سکیں۔‘‘۔۔۔نفرت کے پجاری ۔۔۔سنی تم نے مقبوضہ کشمیر کی آواز ۔۔۔۔محسوس کرواُن کے جذبات ، خیالات دور کرو اُن کے تحفظات ۔۔۔لیکن مجھے معلوم ہے تم ایسا کچھ نہیں کرو گے کیونکہ تم ظالم ہو ، جابر ہو۔۔۔بے حس ہو چکے ہو۔۔ 

٭:نفرت کے پجاری۔۔۔ سنا ہے تم وزیر اعظم عمران خان کی ڈاکٹر غلام نبی فائی سے ملاقات پر خوش نہیں ہو اور سوشل میڈیا پر خوب شور مچا رہے ہو، تنقید کے تیر برسا رہے ہو ۔۔۔تم تو ایک ملاقات پر ناراض ہو جبکہ تم نے تو ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر رکھا ہے ، تمام حریت قیادت جیلوں میں قید ہے ، گھروں میں نظر بند ہے، علی گیلانی جیسے بوڑھے اور بیمار شخص پر تم نے فوج کے پہرے بٹھا رکھے ہیں ، شاہ فیصل کو بھی حراست میں لے رکھا ہے ۔ کیوں تم ان سب نہتے افرادسے خوفزدہ ہو؟ رہی بات غلام نبی فائی سے نیو یارک میں ملاقات کی تو جب عمران خان نریندر مودی کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دے سکتے ہیں فون پر گفتگو کر سکتے ہیں ، امن کی خاطر اور جذبۂ خیر سگالی کیلئے اپنی سرزمین پر حملہ کرنیوالے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو واپس کر سکتے ہیں تو ڈاکٹر غلام نبی فائی سے ملاقات کرنے میں کیا حرج ہے ۔۔۔؟

٭:چلو اب بات کرتے ہیں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریرکی ۔۔۔کپتان نے اپنے خطاب میں وہ سب کچھ کہا جو تم اور تمہاری ٹیم نہیں کہہ سکے جبکہ ’’پہلی باری‘‘ ‘‘ تم نے لی ۔۔۔۔کاش تم وہاں ہال میں بیٹھے ہوتے کیمرے کی آنکھ تمہارا بے نقاب ہوتا چہرہ سب کو دکھا پاتی ۔ تم وزیر اعظم کے یہ الفاظ کبھی نہیں بھولو گے تاریخ تمہیں ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی کہ ’’ نریندر مودی نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کرفیو میں رہنے پر مجبور کیا۔ اگر مغرب میں 80 لاکھ جانور قید کر دئیے جائیں تو جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں متحرک ہو جائیں گی۔ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟اس کیلئے آر ایس ایس کا نظریہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مودی اس تنظیم کے تاحیات رکن ہیں اور یہ تنظیم نسلی بالادستی پر یقین رکھتی عیسائیوں اور مسلمانوں کی مخالف اور انکی نسل کشی کرنا چاہتی ہے ۔آر ایس ایس کا نظریہ نفرت کا نظریہ ہے اسی کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا ، گجرات میں 2ہزار لوگوں کا قتل عام ہوا ۔ جب کوئی بالادستی کی سوچ اپناتا ہے تو غرور اور تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور اسی چیز نے مودی سے کشمیر والا فیصلہ کروایا۔ وزیر اعظم عمران نے کشمیر پر بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو ان کا ایجنڈا امن تھا اور اپنے پڑوسیوں ایران اور افغانستان کیساتھ تعلقات ٹھیک کرنا شروع کیے اور اسی جذبے سے نریندر مودی کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا مثبت جواب نہیں ملا اور انہوں نے الزام لگائے ، جواب میں بلوچستان میں انڈیا کی کارروائیوں کے بارے میں بتایااورکہا کہ یہ سب بھول کر آگے بڑھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا اس کی وجہ شاید انتخابی ماحول تھا لیکن انتخابات کے دوران اور بعد میں بھی پاکستان مخالف جذبات کا اظہار ہوتا رہا۔ خطرہ یہ ہے کہ کوئی شخص حالات سے متاثر ہو کر انتہا پسندی کی طرف جا کر کوئی کارروائی نہ کر دے جس کا الزام پاکستان پر لگے۔ جب ایٹمی طاقتوں کے آمنے سامنے آنے کا امکان ہو تو اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرے۔پاکستان تو خود دہشتگردی کا شکار رہا اور 70 ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔کشمیر کی صورتحال 2 ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کروا سکتی ہے۔ اگر یہ جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حد تک جائیگا، یہ دھمکی نہیں وارننگ ہے۔میں اس دیس کا رہنے والا ہوں جس نے پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں80 لاکھ افراد کرفیو میں ہیں اور جب یہ کرفیو اٹھے گا تو وہاں خون کی ندیاں بہیں گی۔ کیا کسی نے سوچا جب خون کی ندیاں بہتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ 13 ہزار نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے کسی نے کبھی ان نوجوانوں کے نقطۂ نظر سے سوچا کہ وہ اس وقت کس کیفیت سے گزر رہے ہوں گے جب انہیں مختلف خبریں مل رہی ہونگی۔ ان میں سے کچھ انتہا پسندی کی طرف جائیں گے اور اس کے نتیجے میں ایک اور ’’پلوامہ‘‘ ہو گا، اس کا الزام بھی پاکستان پر لگے گا ’’اسلامی دہشتگردی‘ ‘کی اصطلاح استعمال ہو گی جسے سن کر دنیا چپ ہو جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس کے مطابق کشمیر میں1 لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں ریپ ہو چکے ہیں۔ کیا کسی نے سوچا کہ انڈیا کے مسلمان اس وقت کیا سوچ رہے ہیں، دنیا بھر کے مسلمان کیا سوچ رہے ہیں؟ یہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کیا وہ کسی ’’کم تر‘‘ خدا کے بچے ہیں، لوگوں کا دل دکھے گا اور پھر کوئی بندوق اٹھا لے گا۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا اور اب ان وعدوں کو پورا کرنے کا وقت ہے۔‘‘یہ تھا جنرل اسمبلی میں کپتان کا خطاب۔۔

 ٭:سنو ۔۔۔وطن واپسی قبل عمران خان نے نیویارک میں امریکی ٹی وی کو جو انٹرویو دیاکیا تم نے اسے پڑھا یا سنا ۔۔۔؟ چلو میںکپتان کی گفتگو کے چند جملے دہراتا ہوں کیونکہ ان میں بھی تمہارے لئے ’’سبق ‘‘ہے۔۔۔عمران خان نے واضح کہا ’’مقبوضہ کشمیر کے حالات مزید بگڑے تو نہ میرے اور نہ ہی امریکی صدر کے قابو میں آئیں گے، جب سے مودی حکومت آئی ہے کشمیریوں پر جبر مزید بڑھ گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ بد سے بدتر ہوتا جائے گا اور یہ انتہائی خطرناک ہے، مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو درست طور پر سمجھ نہیں آرہی کہ کشمیر میں ہو کیا رہا ہے ، مجھے خطرہ ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر قتل عام ہوگا، مودی ہندوئوں کی اجارہ داری پر یقین رکھتے ہیں اور انتہا پسند افراد بھارت کو یرغمال بنا کر حکومت کر رہے ہیں ۔‘‘سنا تم نے مودی نے تو بھارت کو بھی ’’یرغمال ‘‘ بنا لیا ۔۔۔غور کرو ۔۔

 ٭: تمہیں تو یہ جان کر بہت مایوسی ہوئی ہو گی کہ چین اور ملائیشیا نے بھی کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کردی ہے۔چینی وزیر خارجہ نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے منشور ،سلامتی کونسل کی قراردادوں اور باہمی معاہدوں کی بنیاد پرپر امن طریقے سے حل کیا جائے، امید ہے خطے میں جلد امن لوٹ آئیگا۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر حملہ کر کے قبضہ کیا گیا،اقدام کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہو لیکن یہ غلط ہے، پاکستان اور بھارت مسئلہ پر امن طریقے سے حل کریں۔

٭:کیا عالمی میڈیا کی کوریج تم بھول پائو گے ۔۔۔؟نہیں ، ہرگز نہیں ۔ ۔۔کیامودی جی کے خطاب کو اتنی کوریج ملی ؟۔۔۔نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم نے 45منٹ کے خطاب میں کشمیر کا مقدمہ بھرپور لڑا۔ٹوئٹر پر پاکستان سے شروع ہونیوالا پہلا ٹرینڈ ’’عمران خان وائس آف کشمیر‘ ‘10 لاکھ ٹوئٹس کے ساتھ پہلا ہیش ٹیگ بن گیا جس نے ایک دن میں ٹوئٹر کے ورلڈ وائیڈ ٹرینڈ پینل پر اپنی جگہ بنائی۔وزیر اعظم کا خطاب سوشل میڈیاپر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جبکہ بی بی سی، سی این این سمیت دیگر پرنٹ و الیکٹرانک عالمی میڈیا نے بھی بھرپور کوریج دی۔تاریخی خطاب پر سوشل میڈیا تبصروں سے بھر گیا۔ایک صارف نے عالمی ٹرینڈ پینل پر موجود ’’اسپائیڈرمین‘‘ کے بارے میں لکھا کہ دوسرے نمبر پر اسپائیڈرمین ہیں جبکہ سُپر مین عمران خان کا نمبر پہلا ہے۔ایک اور صار ف نے لکھا صرف 10 گھنٹوں میں ایک ملین ٹوئٹس،ناقابل یقین ،جیو میرے پاکستانیو ! ایک اور صارف نے لکھا’’ عمران خان مسئلہ کشمیر کو آج کی دنیا کا بڑا مسئلہ اجاگر کرنے پر دنیا بھرمیں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیاپر راج کر رہے ہیں۔‘‘ایک اور صارف نے کہا ’’ 27 فروری کو چائے بہت فنٹاسٹک تھی اور27 ستمبر کو تقریر بہت فنٹاسٹک تھی۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا ’’ وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کرلیا ۔ ‘ ‘ کیا تم بھول گئے ۔۔۔نہیں تم کبھی نہیں بھول پائو گے کہ جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے 5 بار تالیاں بجائی گئیں۔ شاندار خطاب کی نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں نے تعریف کی۔۔۔کپتان کے خطاب نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی یاد بھی تازہ کردی 15دسمبر 1971ء کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھٹو نے بھی ایسا ہی تاریخی خطاب کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے خطاب کے ذریعے اِس بات کا مظاہرہ کیا کہ ہم دنیا کے سامنے حق اور سچ بات کہنے سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہوتے ۔

٭:سنو۔۔۔ تم اتنے اچھے اور جمہوریت پسند ہو اور کشمیر یوں پر ظلم نہیں کر رہے تو تم نے کشمیریوں کے حق میں بولنے پر پاکستانیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کیوں معطل کئے ۔۔۔؟ میں سب جانتا ہوں ۔۔۔۔تمہیں اور تمہارے ’’پلان بی ‘‘ کو۔۔۔۔کیا تم نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی جارحیت کیخلاف آواز اُٹھانے پر 4000 سے زائد پاکستانیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل نہیںکئے۔؟کتنے افسوس کی بات ہے کہ سوشل میڈیا صارفین سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اہلیانِ کشمیر کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن بھارتی ٹوئٹر ملازمین نے اُن کیخلاف مہم شروع کردی ہے وہ ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل کر رہے ہیں۔۔ اِس ناانصافی کا پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے بھی جواب دیاہے جسکا ہیش ٹیگ #IndiaHijackedTwitter ہے صارفین اِس ہیش ٹیگ کا استعمال کر کے ٹوئٹس کر رہے ہیں۔ایک صارف نے اپنے ٹوئٹ میں بھارتیوں پر طنز کرتے ہوئے لکھا ’’ ’بھارتی صرف پاکستانیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ہی حملہ کر سکتے ہیں کیونکہ اِن کو یہ نہیں معلوم کہ سرحد کے اُس پار کیسے حملہ کرنا ہے، غریب بھارتی۔‘‘

٭:سنو ۔۔۔میں سب جانتا ہوں کہ تم سوشل میڈیا پر کیااور کیوں کر رہے ہو ۔۔۔سب کو سب اور صاف صاف نظر آ رہا ہے کہ 27 ستمبر کے بعد سے مودی سرکار کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے پیش کرنے کی وجہ سے بھارتی پریشان ہیںاِس وجہ سے بھی پاکستانیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل کیے جارہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ بدلو خود کو ۔۔۔اب یہ سب نہیں چلے گا۔۔۔ 

٭:یہ تو بتائو کہ تمہارے فوجی خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟ ابھی چند روز ہوئے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سب انسپکٹر نے جموں میں اپنی سروس رائفل سے خودکشی کی، بھارتی سرحدی پولیس کا اہلکار اے ایس آئی جسونت سنگھ مردہ حالت میں پایا گیااسکی گردن پر گولی کا زخم تھا۔پولیس اہلکار کا تعلق ہماچل پردیش کے جسونت کو آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد حال ہی میں جموں تعینات کیا گیا تھا۔۔۔۔ 12سال کے دوران مقبوضہ وادی میں 442 بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار خودکشی کر چکے ہیں۔آخر کیوں؟

٭:چین نے ’’گیم آف تھرونز ‘‘ کا جو ذکر کیا اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔اس میں تمہارے لئے بھی پیغام تھا اگر تم سمجھو تو ۔ 

٭: اب مقبوضہ کشمیر میں تمہارے ’’پلان بی ‘‘ پر بات کر لیتے ہیں میں جانتا ہوں کہ مودی حکومت نے مقبوضہ وادی میں کرفیو کے خاتمے پر ممکنہ مخدوش صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرلی ہے مراعات اور سہولتوں کا پیکیج تیار کیا گیا ہے۔سیکیورٹی اداروںمیں بددلی روکنے کیلئے حکمت عملی بھی زیر غورہے جبکہ کشمیریوں کے دل جیتنے کیلئے 50 ہزار ملازمتوںکا لالی پاپ دیا جائیگا۔ مودی حکومت کو کرفیو اٹھائے جانے پر ردعمل کابھی ڈر ہے جبکہ ممکنہ خانہ جنگی اور حملوںکابھی خوف ہے۔تم کیا سمجھتے ہو کہ 3 ہزار کروڑ روپے کے فلم سٹی ، 22 ڈگری کالجز ، سوا ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے تحت ہوٹل قائم کرنے اور270 کروڑ روپے کے 6 منصوبوں سے تم کشمیریوں کو خرید لو گے ۔۔۔ ہر گز نہیں ۔۔۔۔

مجھے یاد ہے مودی نے مہاراشٹرا میں انتخابی ریلی میں کہا تھا کہ ’’کشمیر کو دوبارہ جنت بنائیں گے اور ہر کشمیر ی کو گلے لگائیں گے‘‘۔۔۔لاکھوں کشمیری جو شہید کر دئیے ان کا کیا کرو گے۔؟ جبکہ تم یہ تسلیم کر رہے ہو کہ تم نے کشمیر کی جنت کو اُجاڑا ۔۔۔

کشمیر میں سرمایہ کاری کے راستے کھولنے کیلئے مودی حکومت نے پہلی گلوبل انویسٹر کانفرنس اکتوبر میں سری نگر میں کرنے کا اعلان کیاتھاتاہم حالات کے پیش نظر اب اس کانفرنس کو آئندہ برس کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ابوظہبی میں بھارتی ارب پتی بی آ ر سیٹھی نے جموں میں 3ہزار کروڑ کا ’’ فلم سٹی‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ مودی ڈاکٹرائن نے بھارت بھر میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعتوں ، تنظیموں اور اداروں کو بھی اعتماد میں لینا شروع کردیا ہے،علماء اب کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی حمایت کررہے ہیں، جمعیت علمائے ہند نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا ہے، مرکزی جماعت اہلحدیث نے بھی مودی اقدامات کی حمایت کی ہے۔دہلی حکومت کشمیر میں تعلیمی اور روزگار پیکیج کااطلاق کرنے جارہی ہے۔مودی حکومت نے کشمیر کی ترقی کیلئے وزرا ء کی ٹیم تشکیل دی ہے جو بلوپرنٹ تیار کریگی ٹیم 31اکتوبر کو رپورٹ جمع کرائے گی۔بی جے پی کرفیو کے خاتمے کے بعد مقامی انتخابات کروانے کیلئے حلقوں کی حد بندی کرنا چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہی ہے نا تمہارا ’’پلان بی ‘‘۔۔۔یا د رکھو ۔ ۔ ۔ اب تک کشمیری تمہارے ہر پلان کو ٹھکراتے آئے ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی کرینگے کیونکہ وہ چاہتے ہیں ’’آزادی‘‘کوئی پلان نہیں

نفرت کا پُجاری 

٭:اب جواب بھی سن لو،امن کے دیوانے ۔۔۔ لیکن میں تم سے بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔۔صرف چند باتیں کرونگا ۔۔۔ترکی اور چین کے مؤقف پر میںنے اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ کشمیر اور لداخ ہمارے اٹوٹ انگ ہیں دیگر ممالک ہماری خودمختاری کا احترام کریں۔۔۔

٭:عمران خان کو جنرل اسمبلی میں 45 منٹ کیوں ملے؟ جب ہر لیڈرکیلئے 15 منٹ کا وقت مقرر تھا ۔ہمارے خلاف سازش کی گئی۔۔۔پھر عمران کے خطاب کے دوران اجلاس میں موجود بھارتی مندوبین کے اُترے ہوئے چہرے کیوں بار بار دکھائے گئے ۔۔؟ وہ سب تو اس لئے پریشان تھے کہ ہمیں اتنی لمبی باری کیوں نہیں ملی۔؟کیمرہ مین نے بھارت کے پینل میں موجود خواتین کے تاثرات کو کیوں فوکس کیا ۔۔۔؟پھر یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اورپاکستانیوں کی جانب سے بے شمار ٹوئٹ کیے گئے ۔۔۔۔لگتا ہے تم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ یہ سب کیا۔۔۔تمہیں ہمارے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا 

٭: اور تمہارے تبصرے اُف توبہ ۔۔۔ایک صارف نے لکھا کہ عمران خان نے اپنے خطاب میں بھارتیوں کو لتاڑ کر رکھ دیا۔ایک صارف نے مودی کی پردے کے پیچھے سے دیکھنے والی تصویر اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا ’’ مودی نے عمران خان کا خطاب کچھ اس طرح سنا ہے۔‘‘اپنے خطاب میں جب بھارتیوں کو ہٹلر سے تشبیہ دی تو تب بھی بھارتی نمائندوں کا چہرہ کیمرہ مین نے دکھایا۔ ایک صارف نے لکھا ’’ عمران نے مودی کی صورتحال نازک کر دی ‘‘ ایک صارف نے بھارتی مندوبین کی تصویر اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا ’’ ہمارا چہرہ پڑھیں حالات نہ پوچھیں۔‘‘ ہمارے وزیر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے اور دلچسپ میمز بنائے جا رہے ہیں۔ عالمی میڈیا پر بھی تمہیں سراہا جا رہا ہے ہمارے پی ایم کو جیسے سب بھول گئے ۔۔۔ٹرمپ کیساتھ ہمارے شو کو بھی لگا سب بھول گئے

٭: امن کے دیوانے ۔۔۔منا لو خوشیاں ۔۔ ہمدردیاں سمیٹنے میںبھی تم کامیاب ہو گئے ہو ، کوئی بات نہیں بڑی مارکیٹ تو ہم ہیں بڑے ممالک کے مفادات تو ہمارے ساتھ جڑے ہیں ۔۔۔

٭:عمران کا خطاب ایک مدبر کا نہیں مہم جو کا تھا۔۔۔ ایٹمی جنگ کی دھمکی دی ، نفرت اور تشدد کو ہوا دی۔۔۔

٭: اقوام متحدہ میںبھارتی وزارتِ خارجہ کی فرسٹ آفیسر ودیشا میترا رد عمل میں کہہ چکی ہیں کہ’’یو این او کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا جب ایک عالمی لیڈر نے اس فورم پر خون کی ندیاں، نسلی تعصب، ہتھیار اٹھانے، آخر تک لڑنے جیسے الفاظ استعمال کیے ہوں،21 ویں صدی اور مہذب معاشروں میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران امن کا پیغام دیا تاہم پاکستانی وزیر اعظم نے نفرت کی آگ کو بھڑکایا ،تقریر میں پختگی کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملی ، ہندوستان لگاتار ترقی کیلئے کام کر رہا ہے۔ جہاں تک جموں و کشمیر کی بات ہے تو بھارت اس ریاست کو اصل دھارے میں جوڑنے اور اس کی ترقی کیلئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک قدیم اور غیر مستقل انتظام یعنی دفعہ 370 کو ہٹائے جانے پر پاکستان کا نفرت بھرا رد عمل اس سوچ کو سامنے لاتا ہے کہ جو لوگ لڑائی میں یقین کرتے ہیں وہ کبھی بھی امن کی کوششوں کا استقبال نہیں کرتے۔بھارت کے لوگوں کو اپنی طرف سے بولنے کیلئے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔

یہ تھا امن کے دیوانے اور نفرت کے پجاری میں مکالمہ جو ابھی ختم نہیں ہوا اور ناجانے کب تک جاری رہیگا ۔۔۔انتظار کیجئے

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی بے یقینی بڑھ رہی ہے: آئی ایم ایف کا اعتراف۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں موت کا خوف ختم ہوچکا اور اب’’ بے خوف ...

مزید پڑھیں

٭:معیشت میں بہتری کے آثار نے جنم لیا ہے۔۔۔

...

مزید پڑھیں

٭:یہ ’’دوسرے ہٹلر ‘‘ کی بھول ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے سب ختم ہو گیا ، کشمیری اور پاکستانی ’’مقابلہ &ls ...

مزید پڑھیں