☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) خصوصی رپورٹ(صہیب مرغوب) صحت(محمد ندیم بھٹی) رپورٹ(افتخار شوکت ایڈوکیٹ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ دنیا(انجنیئررحمیٰ فیصل) دلچسپ دنیا() دلچسپ دنیا() دلچسپ دنیا() طنزومزاح(ممتاز مفتی) طنزومزاح(علی رضا احمد) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(نجف زہرا تقوی) تاریخ(محمد سعید جاوید) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
مہنگائی کے آفٹر شاکس ۔۔۔اور صبر کے مشورے

مہنگائی کے آفٹر شاکس ۔۔۔اور صبر کے مشورے

تحریر : طیبہ بخاری

10-20-2019

فارسی کا ایک بہت مشہور ضرب المثل شعر ہے

چنیں قحط افتاد اندر دمشق

کہ یاراں فراموش کردند عشق

ترجمہ ’’ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ یار لوگوں کو عشق بھول گیا‘‘ وطن عزیز کے لاکھوں نہیں کروڑوں عوام کے حالات آجکل ایسے ہی ہیں کہ وہ سب کچھ بھول بھال کر دال روٹی اور بنیادی ضروریہ اشیاء کو پورا کرنے کی جھمیلے میں پھنسے ہیں اور اگلی پچھلی حکومتوں کو ’’دعائیں ‘‘ دے رہے ہیں جنہوں نے انہیں مہنگائی کے جال میں ایسا پھنسایا کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر ہی نہیں آ رہا ۔ ۔۔جمہوریت پہ عوامی شاعر حبیب جالب نے ایک نظم لکھی تھی جب پاک وطن کی آبادی 10کروڑ کے لگ بھگ تھی لیکن جمہوریت کی حالت اورمسائل تب بھی وہی تھے جیسے آج ہیں جالب نے جومحسوس کیا لکھ ڈالا۔ ۔ ۔ اس نظم کی چند لائنیں ہم ’’قومی مفاد ‘‘ میں شامل نہیں کر رہے آپ چاہیں تو نیٹ یا جالب کی کلیات سے ان لائنوں تک پہنچ سکتے ہیں۔۔۔نظم کچھ اس طرح ہے کہ 

دس کروڑ انسانو! ۔۔۔زندگی سے بیگانو! ۔۔۔صرف چند لوگوں نے ۔۔۔حق تمہارا چھینا ہے ۔۔۔خاک ایسے جینے پر ۔۔۔یہ بھی کوئی جینا ہے ۔۔۔بے شعور بھی تم کو ۔ بے شعور کہتے ہیں ۔۔۔سوچتا ہوں یہ ناداں ۔۔۔کس ہوا میں رہتے ہیں ۔۔۔اور یہ قصیدہ گو ۔۔۔فکر ہے یہی جن کو ۔ ۔ ہاتھ میں علم لے کر ۔۔۔تم نہ اُٹھ سکو لوگو ۔۔۔کب تلک یہ خاموشی ۔۔۔چلتے پھرتے زندانو ۔۔۔دس کروڑ انسانو! ۔ ۔ ۔ یہ ملیں یہ جاگیریں ۔۔۔کس کا خون پیتی ہیں ۔۔۔جھونپڑوں سے رونے کی ۔۔۔کیوں صدائیں آتی ہیں ۔۔۔جب شباب پر آ کر ۔۔۔کھیت لہلہاتا ہے ۔۔۔کس کے نین روتے ہیں ۔ ۔ ۔ کون مسکراتا ہے ۔۔۔کاش تم کبھی سمجھو ۔۔۔کاش تم کبھی سمجھو ۔ ۔ کاش تم کبھی جانو ۔۔۔دس کروڑ انسانو! ۔۔۔علم و فن کے رستے میں ۔۔۔لاٹھیوں کی یہ باڑیں ۔۔۔یہ کرائے کے غنڈے ۔ یادگار شب دیکھو ۔۔۔کس قدر بھیانک ہے ۔۔ظلم کا یہ ڈھب دیکھو ۔۔۔رقص آتش و آہن ۔۔۔دیکھتے ہی جاؤ گے ۔ ۔ ۔ دیکھتے ہی جاؤ گے ۔۔۔ہوش میں نہ آؤ گے ۔۔۔ہوش میں نہ آؤ گے ۔۔۔اے خموش طوفانو! ۔۔۔دس کروڑ انسانو! ۔۔۔صبح و شام لٹتے ہیں ۔۔۔قافلے محبت کے ۔۔۔جب سے کالے باغوں نے ۔۔۔آدمی کو گھیرا ہے ۔۔۔مشعلیں کرو روشن ۔ ۔ دور تک اندھیرا ہے ۔۔۔میرے دیس کی دھرتی ۔۔۔پیار کو ترستی ہے ۔۔پتھروں کی بارش ہی ۔۔اس پہ کیوں برستی ہے ۔ ۔ ملک کو بچاؤ بھی ۔۔۔ملک کے نگہبانو ۔۔۔دس کروڑ انسانو! ۔ بولنے پہ پابندی ۔۔۔سوچنے پہ تعزیریں ۔۔۔پاؤں میں غلامی کی ۔۔۔آج بھی ہیں زنجیریں ۔۔۔آج حرفِ آخر ہے ۔ بات چند لوگوں کی ۔۔۔دن ہے چند لوگوں کا ۔۔۔رات چند لوگوں کی ۔۔اُٹھ کے درد مندوں کے ۔۔۔صبح و شام بدلو بھی ۔ جس میں تم نہیں شامل ۔۔۔وہ نظام بدلو بھی ۔۔۔دوستوں کو پہچانو ۔۔۔دشمنوں کو پہچانو ۔۔۔دس کروڑ انسانو! ۔۔۔

 گفتگو کا سلسلہ موضوع کے تحت آگے بڑھائیں تو ورلڈ اکنامک فورم کے تازہ ’’عالمی مسابقتی انڈیکس‘‘ میں پاکستان 3 درجے تنزلی کے بعد 110 ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ اس انڈیکس میں دنیا کی 141 معیشتوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔عالمی فورم کے اس برس کے انڈیکس میں دنیا بھر کے 141 ممالک کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ گذشتہ برس کے مقابلے میں اس برس پاکستان کی کرپشن سمیت کئی دیگر شعبوں میں خراب کارکردگی کے باعث ملک مزید 3 درجے نیچے جا کر 110ویں نمبر پر رہا۔ فورم کی سالانہ رپورٹ میں 4 بنیادی شعبوں کو 12 ضمنی شعبوں میں تقسیم کر کے درجہ بندی کی گئی۔ ان 12 ضمنی شعبوں کو بھی 100 سے زائد شعبوں میں تقسیم کیا گیا جن میں سے ایک کرپشن کا انڈیکس بھی ہے ۔ مسابقتی انڈیکس میں مجموعی کارکردگی کے اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے پیچھے ہے۔جنوبی ایشیائی ممالک میں اس برس کے انڈیکس میں بھارت کی کارکردگی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے تاہم10 درجے تنزلی کے باوجود عالمی درجہ بندی میں بھارت 68ویں نمبر پر رہا۔ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں سری لنکا (84ویں)، بنگلہ دیش (105ویں) اور نیپال 108ویں نمبر پر رہا۔عالمی مسابقتی انڈیکس میں معیشت کے اعتبار سے کسی ملک کی مجموعی درجہ بندی کیلئے جن 4 مرکزی شعبوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اِن میں موزوں ماحول، افرادی قوت، مارکیٹ اور جدت سے متعلق ماحول شامل ہیں۔معیشت کے ضمن میں موزوں ماحول کے درجے کو 4 ضمنی شعبوں میں تقسیم کر کے دیکھا گیا۔ اداروں کے اعتبار سے عالمی درجہ بندی میں پاکستان کو 107ویں نمبر پر رکھا گیا۔ پاکستان انفراسٹرکچر کے اعتبار سے 105ویں اور مجموعی معاشی استحکام میں 116ویں نمبر پر رہا۔ سب سے خراب کارکردگی انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے مطابقت کے حوالے سے رہی جس میں پاکستان10 بدترین ممالک میں شمار ہوا۔ افرادی قوت کو صحت اور ہنر کے درجوں میں تقسیم کیا گیاجن میں پاکستان کا درجہ بالترتیب 115واں اور 125واں رہا۔مارکیٹوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستانی تجارتی منڈی حجم کے اعتبار سے دنیا کی 29 ویں بڑی منڈی قرار دی گئی تاہم مصنوعات کی منڈی 126 ویں، لیبر مارکیٹ 120ویں اور اقتصادی نظام کے حوالے سے پاکستان کا درجہ 99واں رہا۔تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو رواں برس پاکستان دنیا میں 52ویں نمبرپر اور جدت یا اختراحی صلاحیتوں کے حوالے سے 79ویں نمبر پر ہے ۔ کرپشن کے انڈیکس میں گذشتہ برس کے مقابلے میں پاکستان کی درجہ بندی مزید2 درجے خراب ہوئی گذشتہ برس پاکستان 99ویں پر تھا اور اس برس 101ویں نمبر پر ہے۔علاوہ ازیں ترقی کی رفتار سست ہونے کے باوجود پاکستانی معیشت میں استحکام کے آثار ہیں ،ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹنٹس(اے سی سی اے) کی جانب سے اکائونٹنسی کے سینئر ماہرین پر مشتمل عالمی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت مستحکم نہیں لیکن معاشی ترقی کے اثرات نظر آ رہے ہیں توقع ہے کہ اس سال تقریباً 3.5 فیصد رہے گی ۔

دوسری جانب 8بین الاقوامی تنظیموں میں سے2 تنظیمیں جو کرپشن پر ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی سالانہ رپورٹ میں معاونت کرتی ہیں، 2019ء کیلئے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو پہلے سے زیادہ کرپٹ قرار دینے جا رہی ہیں۔۔۔ خدشہ ہے کہ پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے کرپشن پر انڈیکس ( سی پی آئی) کی آئندہ سالانہ رپورٹ میں اپنی پوزیشن کھو دے گا یہ رپورٹ فروری 2020ء میں برلن سے جاری ہوگی۔ کرپشن کی جانچ پڑتال پر کام کرنیوالی تنظیم کے ذرائع کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی پوزیشن 99 سے نیچے 101 ویں دکھائی گئی ہے کرپشن انڈیکس میں درجہ بندی گرنے کی وجہ کرپشن سے متعلق زیادہ کیسز کا اندراج بتایا جاتا ہے ۔ دوسری جانب یورپی یونین نے کرپشن کی اطلاع دینے والوں یا وسل بلوورزکے تحفظ پر سوالات اٹھادئیے ہیں ۔ لکسمبرگ میں یورپین یونین کے وزرائے انصاف کے اجلاس میں منظورکئے گئے ڈائریکٹومیں اس اقدام کو نافذ کیا گیا جسکی یورپی پارلیمینٹ نے اپریل میں بھاری اکثریت سے منظوری دی تھی۔

عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ کے بعد اب ملک کے اندرونی حالات کا جائزہ لیں اور چند شعبوں کا ذکر کریں تو ادویات کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے، ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے مختلف ادویات کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافہ کر دیا ۔ دوسری جانب سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میںایف بی آر حکام نے تسلیم کیا کہ کسٹم انٹیلی جنس کے پاس وسائل اور اہلکاروں کی کمی کے باعث افغانستان سے مؤثر انداز میں سمگلنگ روکنے میں ناکام ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے میں40 کروڑ ڈالرز سے 50 کروڑ ڈالر زکی سمگلنگ ہورہی ہے جبکہ 8ماہ میں موبائل فون کی درآمد پر 7 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا صرف موبائل فون کی سمگلنگ میں کمی ہوئی ۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گاڑیوں کے تمام شعبہ جات میں طلب میں واضح کمی دیکھی گئی۔اس طرح کاروں کی فروخت میں 39.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور 3 ماہ کے دوران صرف 31 ہزار 107 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گذشتہ سال اس عرصے کے دوران فروخت شدہ کاروں کی تعداد 51 ہزار 221 یونٹس تھی۔اسی طرح ٹرکوں کی فروخت میں 49.7 فیصد، بسوں میں 26 فیصد، ٹریکٹرز میں 31.6 فیصد، جیپ میں 58 فیصد، پک اپس میں 48 فیصد اور 2/3 وہیلر گاڑیوں کی فروخت میں 19.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ 4اکتوبر کو ختم ہونیوالے ہفتے میں بینک کے ذخائر میں 1کروڑ 60لاکھ ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے سٹیٹ بینک کے ذخائر 7ارب 75کرور 76لاکھ ڈالرز ہو گئے ، کمرشل بینکو ں کے ذخائر 7ارب 23کروڑ 53لاکھ ڈالرز ہیں جبکہ رواں مالی سال کے 3 ماہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے 5.4 ارب ڈالرز کی ترسیلات وطن بھیجیں۔

یہاں ملک بھر یا پسماندہ علاقوں کی دگر گوں حالت بیان کرنے کی بجائے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنیوالے صرف ایک شہرکراچی کی حالت بیان کریں تو شہر کی ٹوٹی پھوٹی اور خستہ حال سڑکیں کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کرتی ہیں ، متعدد علاقوں میں کہیں سیوریج کا پانی جمع ہے تو کہیں پینے کے پانی کی پائپ لائن لیک ہونے کے باعث سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔سرجانی ٹائون سے گولی مار چورنگی، سہراب گوٹھ پل سے راشد منہاس روڈ تک اور صدر ، شاہراہ پاکستان ،حسن اسکوائر ، سائٹ ایریا، سمیت مختلف علاقوں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ حکمران حسب عادت وعدے کر رہے ہیں کہ وہ صفائی کیساتھ ساتھ سڑکوں اور سیوریج کی حالت بھی خود دیکھیں گے۔ یہ تو ایک شہر کا حال ہے باقی ملک کا حال کیا ہو گا اسکا اندازہ آپ بہتر طور پر لگا سکتے ہیں ہمیں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔

دوسری جانب گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی کے مزید جھٹکے لگ سکتے ہیں عوام صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مثبت سوچ رکھیں، مہنگائی کم کرنا ہمارا مقصد ہے جو کچھ وقت میں کم ہوجائیگی تاہم مسائل کافی بڑے ہیں جنہیں حل کرنے میں وقت لگے گاصورتحال مشکل تھی اور ڈیفالٹ بھی ہوسکتا تھاجس پر ہم نے معیشت کیلئے مشکل فیصلے کیے اور اب صورتحال دن بدن بہتر ہو رہی ہے، ماہانہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ نصف رہ گیا ہے ایف بی آر سے تعاون کریں ، 2017ء میں فارن ایکسچینج ریٹ سسٹم نافذ ہوجاتا تو آئی ایم ایف نہ جانا پڑتا، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے سے مہنگائی بڑھی جسے کم کرنے کیلئے شرح سود میں اضافہ کیا 2015ء تک تجارتی خسارہ صفر تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالرز تھے، 2016ء سے خسارہ بڑھنا شروع ہوااور ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹ نہ ہونے سے زرمبادلہ ذخائر کم ہونا شروع ہوگئے ۔

 ساری صورتحال پر بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہم ان حالات تک کیسے پہنچے ، پھر کیوں مشکل فیصلے کیے گئے اور اب کیوں کہا جا رہا ہے کہ حالات بہتر ہوں گے۔ بیرونی خسارہ بڑھتا جارہاتھا اورایکسچینج ریٹ ایڈجسٹ نہیں ہو رہا تھا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ماہانہ 2 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا جس پر قرضہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ بین الاقوامی اقتصادی نظام میں قرضہ دینے والے آپ کی حالت اور واپس ادائیگی کی استطاعت دیکھتے ہیں جب دوست ممالک نے ہاتھ کھینچا تو آخری راستہ آئی ایم ایف تھا۔ گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف بھی کسی کو قرضہ دینے سے پہلے دو چیزیں ضرور دیکھتا ہے کہ جن مسائل کے حل کیلئے قرضہ لیا جارہا ہے ان کے حل کیلئے کیا پالیسی لائی گئی ؟ اور خسارہ اتنا زیادہ تو نہیں کہ قرضہ واپس نہ کیا جاسکے اسی بنیاد پر ہمیں ایک مشکل پروگرام کا انتخاب کرنا پڑااور سخت فیصلے کیے گئے۔ آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالرز قرض کی منظوری دی اور پاکستان نے 99 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کی پہلی قسط وصول کر لی۔ سخت فیصلوں کے بعد عوام کو پریشانی ہوئی تاہم ہمیں دیگر ممالک کے تجربات سے علم تھا کہ شروع میں پریشانی ہو گی لیکن یقین تھا کہ جیسے ہی مارکیٹ بوسٹ اپ ہوگی تو حالات بہترہونگے اور آج حالات بہتر ہیں۔ ہم نے مارکیٹ ریٹ سسٹم کا نفاذ کیا جس سے ماہانہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ نصف رہ گیا ہے۔ اگر 2017ء میں یہی نظام نافذ کیا جاتا ، ریٹ سیٹ ہو جاتا اورذخائر کم نہ ہوتے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑتی ، آج روپے کی قدر مارکیٹ طے کر رہی ہے جس سے تمام قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں۔ خسارے کو کم کرنے کیلئے بجلی اور گیس کے ریٹ بڑھانے پڑے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور مہنگائی کم کرنے کیلئے شرح سود بڑھانا پڑی جس سے عوام کو پریشانی کا سامناکرنا پڑرہا ہے ، مستقبل میں مہنگائی کے مزید جھٹکے لگ سکتے ہیں اس لئے عوام صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ۔ عوام ایف بی آر سے تعاون کریں یہ سب کے حق میں ہے زیادہ لوگ ٹیکس ادا کریں گے تو سب پر بوجھ کم ہوگا، ہمارا نظام فری فلوٹ نہیں کہ مرکزی بینک مداخلت نہ کرسکے لیکن ہمارا مستقبل روشن ہے، ہم ڈیجیٹل پے منٹس کو پش کرنے کیلئے ورلڈ بینک کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس سے صارفین کو فائدہ ہوگا۔گورنر سٹیٹ بینک کے تاثرات اور فراہم کردہ تفصیلات ایک طرف جبکہ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کے ابتدائی 15ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات 20 روپے 57 پیسے تک فی لیٹر مہنگی ہوگئیں یہ اضافہ اگست 2018ء سے اکتوبر 2019ء کے عرصے کے دوران ہوا،موجودہ دور حکو مت میں عالمی منڈی میں خام تیل 14ڈالرز فی بیرل سے زیادہ سستا ہواجبکہ پاکستانی عوام کو کوئی ریلیف نہ ملا،عوام کوعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے ریلیف سے محروم رکھا گیا۔یہاں ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اقتصادی و معاشی اصلاحات اور پالیسی سازی کا فورم اکنامک ایڈوائزری کونسل غیر فعال ہوگیا ہے۔میڈیا رپورٹسکے مطابق اکنامک ایڈوائزری کونسل کا 6 ماہ سے کوئی مشاورتی اجلاس نہیں ہوا وزیراعظم بطور انچارج وزارت خزانہ اکنامک ایڈوائزری کونسل کے سربراہ ہیںجبکہ کونسل غیر فعال ہونے کے باعث 4 پرائیویٹ ممبرز استعفیٰ دے چکے ہیں ۔ اکنامک ایڈوائزری کونسل سے معاشی و اقتصادی صورتحال پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی، وزیراعظم نے اسد عمر کے استعفے کے بعد سے مشاورت کیلئے نہیں بلایاجبکہ کونسل ملکی معاشی صورتحال کی بہتری کی ترجیحات کا تعین بھی نہیں کرسکی، اسد عمر کی وزارت کے دوران اکنامک ایڈوائزی کونسل کے صرف 4 اجلاس ہوئے تھے۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کئی اہم امور پر سفارشات بنانا کونسل کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔یہ تھے مہنگائی کے آفٹر شاکس ۔۔۔جن میں سے چند آ چکے ہیں اور چند کے آنے کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں ۔ ۔ اوپر سے عوام کو صبر کے ’’مشورے ‘‘ الگ سے دئیے جا رہے ہیں ۔۔۔۔دیکھتے جائیے آگے آگے ہوتا ہے کیا ۔۔۔

معیشت بہتر، اعتماد بحال ہوگیا، تجارتی اور مالیاتی خساروں پر قابو پالیا: حکومت

 وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس چند روز قبل ہواجس میں وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیاکہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔بیمار صنعتوں کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعظم کوآگاہ کیا گیاکہ کل 687 ایسے یونٹس ہیں جن کو فوری طور پر بحال کرنے کیلئے اقدامات کیے جاسکتے ہیں، پبلک پرا ئیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ 60 دن کے اندر ایک مفصل منصوبہ بندی کے تحت ان یونٹس کو بحال کرنے کیلئے جن قوانین اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان کو مکمل کیا جائے،پرائیویٹ سیکٹر کو ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے شامل کیا جائے۔ کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ سرمایہ کار کسی دقت یا ہچکچاہٹ کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں۔ مقامی سطح پر چھوٹے صنعتی یونٹس کو ترجیح دی جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تعمیرات سیکٹر کیلئے مراعات فراہم کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس شعبے سے متعلقہ صنعتوں کو جلد ٹیکس مراعات دیدی جائیں گی۔سٹیل اور سیمنٹ صنعتوں کے سیلز ٹیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ ایف بی آر، نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی اور صوبائی حکومتوں سے مل کر لائحہ عمل ترتیب دیں ۔علاوہ ازیں پاک، چین اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر 1270کلو میٹر کی شاہراہیں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گلگت سے چترال اور ڈیری غازی خان سے ژوب تک شاہراہیں تعمیر ہوں گی۔ پشاور تا ڈیرہ غازی خان، سوات ایکسپریس وے فیز 2 سمیت قراقرم ہائی وے پر کام ہوگا۔

مزید برآں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ معیشت بہتر، اعتماد بحال ہوگیا،تجارتی اور مالیاتی خساروں پر قابو پالیا، سٹاک مارکیٹ ، کرنسی مستحکم ، شناختی کارڈ والا معاملہ بھی جلد حل ہوجائیگا، منی لانڈرنگ روکنے پر تمام ادارے متفق ہیں، 5لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میںشامل کر لئے، آمدن 16فیصد بڑھی، مشکل فیصلوں کے نتائج ملنا شروع ہو گئے،3ماہ میں مالیاتی خسارہ 36،تجارتی خسارہ 35فیصد کمی ہوا، سٹیٹ بینک کا منافع 85ارب روپے ہو گیا۔رواں مالی سال نان ٹیکس ریونیو 1600ارب تک لے جائیں گے، فارن ریزروز اور ایکسچینج ریٹ مستحکم ہو گیا ، پٹرول کی قیمتیں بھی نہیں بڑھیں،پی ٹی اے منافع 70ارب ہو گیا، چھوٹے اور درمیانے کاروبار میں آسانی کیلئے پالیسی لا رہے ہیں۔ حکومت نے 2 بڑے خساروں تجارتی اور مالیاتی خسارے پر قابو پالیا ہے ، سرمایہ کار پْر اعتماد ہو رہا ہے،نجکاری سے مزید اربوں روپے آ ئیں گے،سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز پر فل پالیسی آرہی ہے۔ حکومت کے دوسرے سال کے پہلے 3ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو پہلے 3ماہ میں تجارتی خسارہ 35فیصد جبکہ حکومت کا مالیاتی خسارہ 36 فیصد کم ہوا ،ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ، امپورٹ میں کمی لائی گئی ،فارن ریزروز مستحکم ہوئے اور اوورسیز ایمپلائمنٹ میں بھی اضافہ ہوا ۔سٹاک مارکیٹ میں بھی22 فیصد اضافہ ہوا رواں مالی سال میں تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالرز سے کم ہو کر5.7ارب ڈالرز ہو گیا، تجارتی خسارے میں 35فیصد کمی آئی جبکہ حکومت کے مالیاتی اخراجات میں بھی 3ماہ کے دوران واضح کمی آئی ۔ پچھلے سال حکومت کا مالیاتی خسارہ 738ارب تھا جواس سال 476 ارب روپے تک آگیا سٹیٹ بینک سے 3ماہ میں قرضہ نہیں لیا گیا۔سپلمنٹر ی گرانٹس بھی بند کردی گئی ہیں ہم اخراجات کوکنٹرول کرناچاہتے ہیں ان اقدامات کی وجہ سے ریونیومیں 16فیصد اضافہ کیا گیا۔ نان ٹیکس ریونیومیں بھی اضافہ ہو رہا ہے نان ٹیکس ریونیو سے مرادحکومت کی وہ آمدن ہوتی ہے جو ٹیکس کے علاوہ ہوتی ہے پچھلے سال نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 406 ارب روپے حاصل کیے گئے رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں ہم نے 140 ارب روپے کا اضافہ کیا نان ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 1200 ارب روپے رکھا گیا ہے لیکن نان ٹیکس ریونیو میں مزید400 ارب روپے کااضافہ ہوسکتا ہے۔

 ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کیلئے اربوں ڈالرز ضائع کیے گئے ہم نے کوشش کی کہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے تحت رکھا جائے 3سال بعد 340 ملین ڈالر کا بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ۔ فیکٹریز میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں ملازمتیں نکلیں گی، گذشتہ 5سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،برآمدات کے شعبے کو سبسڈی دی جا رہی ہے، حکومت نے برآمدی سیکٹر کی مدد کی جس کے نتائج آنے لگے ہیں۔آئی ایم ایف ،عالمی بینک ،ایشیائی ترقیاتی بینک سے 10ارب ڈالرز ملے ہیں ، بیرون ملک ملازمتوں کیلئے جانیوالوں میں ڈیڑھ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا،جنوری تا اگست 3 لاکھ 73ہزار افراد ملازمتوں کیلئے بیرون ملک گئے ۔ ایل این جی پلانٹ کی نجکاری سے 300 ارب روپے اضافی منافع آسکتا ہے ،پی ٹی اے کا منافع اب 70 ارب روپے ہے ٹیلی کام کا 338 ارب روپے اضافی منافع آسکتا ہے اسی طرح سٹیٹ بینک کا منافع200ارب روپے اضافی ہو سکتا ہے ۔ حکومت کے خسارے کو کم کرنے سے فائدہ عوام کو ہو گا،جو بھی کوشش کی ہے اس کا محور پاکستان ہے۔

آمدنی میں کمی دماغی صحت کیلئے نقصان دہ ، پاکستان میں ہر تیسرا فرد ذہنی دبائو کا شکار 

 ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ دنیا میں جاری تجارتی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاری میں رکاوٹ کا سامنا ہے اور سرمائے کے بغیر اقتصادی سرگرمیوں سے غربت کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔عالمی بینک کے چیف ماہر اقتصادیات پائن لوپی کوجیانو گولڈ برگ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دنیا میں جاری تجارتی کشیدگی سے عالمی اقتصادی شرح نمو متاثر ہورہی ہے، ترقی کے بغیر لوگ لامحالہ جدوجہد کریں گے۔ امریکہ چین تجارتی جنگ تمام عالمی جھگڑوں کامرکز ہے کیونکہ اس سے سینکڑوں ارب ڈالرز کی تجارت متاثر ہورہی ہے، امریکہ کی یورپی یونین سے بھی مزاحمت کی صورتحال، کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ تجارت کے بارے میں قوانین بھی تبدیل کئے جا رہے ہیں اس کے علاوہ برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلاء بھی تجارتی کشیدگی کا ایک عنصر ہے اور ان سب کے باعث غربت کی شرح میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکہ میں ہونیوالی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آمدنی میں کمی دماغی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ ریسرچ میں اس پر غور کیا گیا کہ موجودہ دور میں کم عمر افراد میں ذہنی امراض کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ کیوں ہورہا ہے؟۔ اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں مگر سالانہ آمدنی میں کمی آنا بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ کولمبیا میل مین سکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن نوجوانوں کو سالانہ آمدنی میں 25 فیصد یا اس سے زائد کمی کا سامنا ہوتا ہے ان میں درمیانی عمر میں سوچنے کے مسائل اور دماغی صحت میں خرابی کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ طبی جریدے جرنل نیورولوجی میں شائع ہونے والی ریسرچ میں محققین کا کہنا تھا کہ آمدنی میں کمی میں 1980ء کی دہائی سے ریکارڈ کمی آئی ہے اور ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں کہ اس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔محققین نے 707 افراد کے دماغی سکین ایم آر آئی کے ساتھ کیے اور دریافت کیا کہ جن افراد کی آمدنی میں کمی آئی ان کا دماغی حجم آمدنی برقرار رکھنے والے افراد کے مقابلے میں چھوٹا تھا۔ ایک یار آمدنی میں کمی کا سامنا کرنے والے افراد کو بھی دماغی کنکٹیویٹی کی کمی کا سامنا ہوا۔یہاں ہم اپنے ملک کا ذکر کریں توپا کستان میں ہر تیسرا مریض ذہنی دبائو سے متاثر ہے،پاکستان میں بیمار پڑنے والے ہر تیسرے شخص کا مرض ذہنی دبائو کی وجہ سے بدتر ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں فیملی معالجین کو بھی ذہنی بیماریوں پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق ذہنی بیماریوں پر توجہ کم دینے کی وجہ سے ملک میں صحت کے شعبے کے مسائل کئی گنا بڑھ چکے ہیں پاکستان میں 2016ء کے دوران 5500افراد نے خودکشی کی۔

 ایک اور تحقیق میں سائنسدانوںنے بچوں کے دانت کاٹنے کی وجہ بتادی۔بعض بچوں میں دانتوں سے کاٹنے کی عادت ہوتی ہے اور اکثر والدین اس بات سے پریشان بھی ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ ہر کسی کو کاٹ لیتا ہے جو کہ بعض اوقات شرمندگی کا باعث بھی بنتا ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق والدین کا زیادہ وقت نہ دینا بچوں کے دانت کاٹنے کا سبب بنتا ہے ۔۔۔ شائد اس پہ بھی کوئی تحقیق ہو یا تحقیق کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اب تو ثابت ہو رہا ہے کہ’’ حکمرانوں کا عوامی مفاد کے کاموں کو زیادہ وقت نہ دینا انسانوں کو کتوں کے کاٹنے کا سبب بن رہا ہے اور صوبہ سندھ میںکتے اس موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔‘‘ 

ایف بی آر کا ہدف اور نیب کے 1219ریفرنس

ایف بی آر نے رواں مالی سال کا ہدف پورا کرنے کیلئے خصوصی ٹاسک فورسز قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے جنہیں انکم ٹیکس ، کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز کی وصولی کا خصوصی ٹاسک دیا جائیگا علاوہ ازیں ایف بی آر نے تمام میگا سٹورز، شاپنگ مال، ریسٹورنٹس، کیفے، کافی شاپس، ہوٹلوں، طعام گاہوں اور سنیک بارز کیلئے یکم دسمبر 2019ء سے الیکٹرونک ڈیوائس سسٹم نصب کرنا لازمی قرار دیدیا ہے۔ ایف بی آر کا یہ کمپیوٹرائزڈ سوفٹ ویئر کیش مشینوں سے منسلک ہوگا اور صارفین ایف بی آر کو اپنے ادا کردہ ٹیکس کی جانچ پڑتال کر سکیں گے۔ مقام فروخت (پوائنٹ آف سیل) نئے سافٹ ویئر الیکٹرونک ڈیوائس سسٹم (ای ڈی ایس) سے منسلک ہوں گے۔ ممبر پالیسی اور ترجمان ایف بی آر ڈکے مطابق سیلز ٹیکس قواعد 2006ء میں ترمیم کے ذریعہ مذکورہ کاروباری مراکز کو 30 جون 2020ء تک ٹیکس نیٹ میں لایا جائیگا اس کے بعد ہسپتالوں اور لیبارٹریز کو اس نظام کے تحت لایا جائے گا۔ تیار ملبوسات، مقامی طور پر تیار ٹیکسٹائل مصنوعات، چمڑے اور مصنوعی اشیاء مشروط طور پر کم دام پر فروخت کی جا سکیں گی۔ ان اشیاء کی خوردہ فراہمی معیاری ریٹ سے مشروط ہوگی۔ مجموعی اشیاء کی فراہمی کے سپلائر سسٹم میں ردوبدل کا مرتکب پایا گیا تو وہ دام میں کمی کا حقدار نہیں ہوگا۔ 

مزید برآں قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے اپنی کار کردگی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 22ماہ میں اس نے بد عنوان عناصر سے71ارب روپے کی ریکوری کی، نیب سکھر نے10.656ارب، لاہور نے 31.231ارب، نیب بلوچستان نے0.949، نیب کراچی نے10.861،نیب راولپنڈی نے 14.653,نیب ملتان نے2.5ارب، نیب پختون خوا نے0.5ارب اور نیب گلگت بلتستان نے0.014ارب روپے کرپٹ عناصر سے 22 ماہ میں وصول کئے۔ نیب نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک342ارب روپے برآمد کیے ہیں ، اس کی سزا کی شرح 70 فیصد ہے جو ملک کے دیگر اینٹی کرپشن ا داروں سے بہت بہتر ہے ملک کی مختلف احتساب عدالتوں میں1219ریفرنس دائر ہیں جن کی مالیت900 ارب روپے ہے، نیب کو مضاربہ اور مشارکہ کیخلاف 43000درخواستیں موصول ہوئیں ، اس میں 44 افراد کو گرفتار کیا گیا، 616ملین روپے ریکورکیے گئے، 6 ہزار کنال زمین ، 10 گھر اور 10 قیمتی گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئیں۔ اس ضمن میں نیب نے 32 ریفرنس دائر کیے تا کہ متاثرین کو لوٹی ہوئی دولت واپس دلائی جا سکے۔ نیب بیورو ز میں مختلف اصلاحات کو متعارف کرایاگیا، نیب ہیڈکوارٹرز اور ریجنل بیورو ز میںتاجروں کے مسائل کے حل کیلئے سپیشل ڈیسکس بھی قائم کیے اورچیئرمین نیب نے تاجروں کیخلاف انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس کے تمام مقدمات کو ایف بی آر کو بھجوانے کا بھی حکم دیا ۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے نیب کے 2 ترمیمی بلز سمیت 6 نئے قوانین سے متعلق صدارتی آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2019 ء بھی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائیگا سمری وفاقی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے۔بے نامی ٹرانزیکشن ترمیم بل2019 ء اورنیب ترمیمی بل 2019ء بھی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بار بار جارحیت کیوں ۔۔ہر بار انتہا پسندی کیوں ۔۔؟ مسلسل ھمکیاں کیوں ۔۔۔نفرت کی آندھیاں کیوں ۔ ۔ ۔ جنگ کے بادل کیوں ۔۔۔؟الزامات کی بوچھا ...

مزید پڑھیں

٭:این آر سی نا منظور ۔۔۔سی اے اے نا منظور ۔۔۔کالا قانون نامنظور ۔۔۔مودی ٹیم کیخلاف بھارتی عوام ایک پیج پر ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

نیا سال کی نئی خوشیاں منائی جا رہی ہیں ۔۔۔نئے آسمانوں سے آنکھیں ملائی جا رہی ہیں ۔۔۔ سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے ۔۔۔وہ لمحات جنہیں ہم ...

مزید پڑھیں