☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل طب رپورٹ فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا متفرق کھیل خواتین روحانی مسائل
کیا گھبرانے کاوقت آ گیا۔۔۔؟

کیا گھبرانے کاوقت آ گیا۔۔۔؟

تحریر : طیبہ بخاری

10-27-2019

٭:کیوں ایک اور دھرنا ۔۔۔کیوں ایک اور مارچ ۔۔۔؟

٭:یہ بھی طے نہیں کہ دھرنا ہو گا ، مارچ ہو گا یا جلسہ ۔۔۔ہو گا بھی یا نہیں ۔۔۔؟

٭:بس شور ہے ۔۔۔’’آمد ‘‘کا ’’جانے ‘‘ کا یا استعفے کا ۔۔۔؟

٭:جمہوریت ہے تو پارلیمینٹ میں احتجاج ، اصلاح ، تبدیلی اور تجاویز کیوں نہیں ۔۔۔؟

٭:سڑکوں پر فیصلہ سازی اور استعفوں کے مطالبات کیوں ۔۔۔؟

٭:ذاتی بیانئے کی بحث کا انجام کیا ۔۔۔کون چھیڑتا ہے یہ بحث ۔۔۔کیوں چھیڑی جاتی ہے یہ بحث ۔۔۔کس کے مفاد میں ہے یہ بحث ۔۔؟

٭:ذاتی بیانیہ کس کا ۔۔۔مٹھی بھر عناصر کا ۔۔۔عوامی نمائندوں کا ۔۔۔یا کٹھ پتلیوں کا ۔۔۔؟ 

٭:کیا گھبرانے کا وقت آ گیا ۔۔۔ کون گھبرائے گا ۔۔۔ حکمران ۔۔۔سیاسی ٹیم یا مہنگائی اور بیروزگاری کی دلدل میں دھنسے عوام ۔۔؟

٭:کیا ’’تبدیلی ‘‘میں مزید تبدیلی ناگزیر ہو چکی ۔۔۔ کون لائیگا مزید تبدیلی ۔۔۔۔کیا ہو گی وہ حقیقی تبدیلی ۔۔۔جسکا ہے سب کو انتظار ؟

٭:تمام سیاسی و غیر سیاسی ادارے ایک پیج پر ہیں تو باقی پیجز پر کیا ہے۔۔۔ ؟ 

٭:کاپی یا کتاب کے صفحات خالی ہیں یا اُن پر کچھ لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔۔۔؟

٭:کیا لکھا جائیگا ۔۔۔انتشار ۔۔۔سیاست برائے سیاست ۔۔۔ مفاداتی سیاست ۔۔۔گروہی سیاست ۔۔۔پریشر گروپس ۔۔۔یا میں نہ مانوں ۔۔۔؟

٭:عوام کس کا ’’ٹائیٹل ‘‘۔۔۔؟یا وہ کسی صفحے پر ہیں ہی نہیں یا صرف سٹیج ڈراموں کی جگت کی طرح ’’ڈیڑھ صفحے کی کاپی ‘‘۔۔۔ایک پیج پھٹا ہوا اور ایک پیج خالی ۔۔۔؟

٭:غلطیوں کی سیریز کب ختم ہو گی ۔۔۔ سیریز کے کردار کمزور ہیں یا سکرپٹ ۔۔؟

 ٭:کسی مسلح جتھے کو ملک کا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہونی چاہئے ۔۔۔۔؟

٭:’’ آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن‘‘ کی’’رجسٹریشن ‘‘ اب تک منسوخ کیوں نہیں ہوئی ۔۔۔کیوں اثاثے نہیں ہوئے منجمد۔۔۔ کب ہو گی ریکوری ۔۔۔؟ 

 ٭: پاکستان کا عالمی سطح پر تشخص’’ بسترِمرگ‘‘ پر تھا تو کیا اب ’’صحتمند ‘‘ ہو چکا ۔۔۔؟

٭: ڈنڈا بردار فورس کی’’ پریڈ‘‘ اور’’ سلامی ‘‘۔۔۔۔’’آئین کے تناظر ‘‘ میں دیکھی جائیگی یا نہیں ۔۔۔؟

ایسے بہت سے سوالات ہیں جنکے جواب اور نتائج کسی کے پاس نہیں بس 31اکتوبر تک بغیر پیسہ پھینکے تماشہ دیکھیں اور حالات کی ستم ظریفی پہ’’کُڑھتے ‘‘ جائیں ۔۔۔

 دنیا پر نظر دوڑائیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین سے تجارتی معاہدے کیلئے ’’پُر امید ‘‘ ہو چکے ہیں تو دوسری جانب امریکہ کیساتھ جاری تجارتی جنگ کی وجہ سے تیسری سہ ماہی کے دوران چین کی معیشت کی بڑھوتری میں سست روی واقع ہو گئی ہے جسے عالمی معیشت کیلئے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔۔۔ہانگ کانگ میں پابندیوں کے باوجود حکومت مخالف مظاہرین کا احتجاجی مارچ 20ہفتوں سے جاری ہے۔۔۔پاکستان میں بھی مارچ ، دھرنے یا جلسے کی بحث کافی عرصے سے جاری ہے اس سیریز کا ڈراپ سین کیا ہو گا کچھ کہا نہیں جا سکتا روز کوئی نہ کوئی تبدیلی رونما ہو رہی ہے ۔ حکومت اپنے محاذ پہ ڈٹی ہے اور اپوزیشن اپنے قدم جمانے میں مصروف ہے ۔۔۔ہوا کا رُخ کسی کو معلوم نہیں لیکن سب نے پتنگ چڑھا رکھی ہے ۔ 

ملک تا حال ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں برقرار ہے پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کی کوشش میں بھارتی ناکامی اپنی جگہ تاہم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا آئندہ 4 ماہ کا وقت دیتے ہوئے گرے لسٹ میں رکھنا پاکستان کیلئے بھی کوئی بڑی کامیابی نہیں بلکہ متعدد چیلنجز سے نمٹنے کا ایک مختصر دورانیہ ہے۔ عالمی ادارے کا مطالبہ ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کا مکمل خاتمہ کرے، آئندہ اجلاس تک مؤثر پیش رفت نہ ہوئی تو کارروائی ہو گی۔ معاشی بحرانوں سے نبرد آزما حکومت اب اور کتنے اور کیا کیا اقدامات کرے گی یہ مرحلہ طے ہونا ابھی باقی ہے ۔ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں بلیک لسٹ تو کیا گرے لسٹ میں بھی رہنے کا متحمل نہیں ہو ا جا سکتا خدانخواستہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان کو اقتصادی، سفارتی اور معاشی دھچکا ہی نہیں لگے گا بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے تعلقات، کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساکھ بھی متاثر ہوگی ،امن کی بحالی کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں مسدود ہو جائیں گی ،سافٹ لونز کی کڑی چھان بین ہوگی اور ایشیاء پیسفک گروپ میں پاکستان کی شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق بڑھتا غیر فعال قرضہ پاکستانی معیشت کو بحال کرنے میں نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ 8 سال میں پاکستان کے غیر فعال قرضوں میں بلند ترین اضافہ ہوا جون سے اب تک غیر فعال قرضوں کی شرح 23 فیصد بڑھی ہے بلند شرح سود قرض کی ادائیگی میں مشکلات پید اکر رہی ہے۔ صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے ورک فورس کم کی گئی ہے قومی بینکوں کے بڑھتے غیر فعال قرضے دینے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکومت نے نمو کا ہدف 2.4 فیصد کردیا ہے ایک دہائی میں معاشی نمو کا ہدف کم ترین ہے۔دوسری جانب مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ، بے چارے عوام میں اس طوفان کے تھپیڑے دیر تک برداشت کرنے کی سکت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے ۔تخفیف ِ غربت و سماجی تحفظ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں آمدنی کے لحاظ سے غربت کی موجودہ شرح 24جبکہ کثیر الجہتی اشاریوں کی بنیاد پر 38فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جو مہنگائی کی وجہ سے مزید کئی گنا بڑھی ہے۔ صورتحال روز بروز گھمبیر ہوتی جا رہی ہے ملک کی 22کروڑ آبادی میں سے صرف خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی شرح 28فیصد سے زیادہ ہے۔ ان حالات میں 44فیصد بچے غذائی قلت کے باعث ذہنی و جسمانی نشوونما سے عاری اور مختلف بیماریوں کا شکار ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر 5سال سے کم عمر بچوں، دودھ پلانے والی مائوں اور حاملہ خواتین پر پڑ رہا ہے۔ ملک کے 20اضلاع میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے جن میں سے بلوچستان کے 10، خیبر پختونخوا کے 8جبکہ گلگت بلتستان اور سندھ کا ایک ایک ضلع قابل ذکر ہے۔ ان آبادیوں کا 90فیصد سے زیادہ حصہ ایسا ہے جہاں ایک ہی شخص کئی افراد کے کنبے کی کفالت کرتا ہے۔۔۔۔اب ایک اکیلا کب تک مہنگائی سے لڑیگا اور اسکی مدد کس کی ذمہ داری ہے ۔۔۔کچھ پتہ نہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی معاشی ٹیم1 سال کے اندر ملکی معیشت بحال کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جاری خسارے میں کمی آئی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 111 اعشاریہ5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ غیر ملکی نجی سرمایہ کاری میں 194 فیصد اضافہ ہوا ہے۔برآمدات میں 5 اعشاریہ9 فی صد اور ترسیلاتِ زر میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔وزیراعظم نے مہنگائی کا ایک بار پھر نوٹس لیتے ہوئے مڈل مین کا کردار ختم کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کیلئے مختلف وزارتوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔ وزیراعظم نے ای سی سی کو مؤثر اور جامع حکمت عملی وضع کرنے اورآٹے کی قیمت میں کمی لانے کیلئے اقدامات کی ہدایت بھی کی ہے۔علاوہ ازیں وفا قی حکومت نے قرضوں کی انکوائری کیلئے قائم کئے گئے انکوائری کمیشن اور نیب کو کلاسیفائیڈ ( خفیہ ) معلومات تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کیلئے کابینہ ڈویژن نے سمری منظوری کیلئے کا بینہ کو بھجو ائی ہے کابینہ میں 12نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جا ئیگا۔پاکستان بیو رو بر ائے شماریات کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے اتار چڑھائو کے بارے میں پر یزنٹیشن دی جا ئے گی۔ وزارت دفاع نے بی او ٹی کی بنیاد پر شمسی توا نائی کی پیداوار کی اجازت مانگی ہے۔ لوکاسٹ ہا ئوسنگ کیلئے 5ارب روپے کے بلا سود قرضوں کی منطوری کیلئے وزارت ہا ئوسنگ کی سمری پر غور کیا جا ئیگا۔ حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری پر خصوصی رعایت کا عندیہ بھی دیا ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کو مکمل ملکیت سمیت متعدد ٹیکس استثناء دینے کی تجویز زیر غور ہے۔حکومت نے ایسی تمام غیر ملکی کمپنیوں کو مکمل ملکیت دینے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں جو سی پیک کے تحت اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیز)میں سرمایہ کاری کریں گے۔مذکورہ اسپیشل اکنامک زونز کو جو مجوزہ مراعات دی جائیں گی ان میں انکم ٹیکس سے استثناء، غیر رہائشیوں پر ٹیکس چھوٹ اور تارکین وطن کو انکم ٹیکس استثناء 2040ء تک شامل ہے۔مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور ایف بی آر کے درمیان ہونے والے باضابطہ اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی مالکان کو 100فیصد چھوٹ دینے کی تجویز ہے اور اس میں کم سے کم سرمایہ کاری کی شرط نہیں ہوگی۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اسے کم از کم ان شعبوں کیلئے موجودہ ایس ای زیٹ کا حصہ بنایا جائے، جس کا اعلان حکومت کرچکی ہے۔اجلاس میں یہ بھی پوچھا گیا کہ ان شعبوں کے بارے میں بتایا جائے جنہیں 100فیصد غیر ملکی ملکیت میں شامل نا کیا جائے۔اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ پلانٹ اور مشینری کی درآمدی ڈیوٹی پر10سال کیلئے 100فیصد استثناء دینے کی شق شامل کی جائے۔ بیروزگاری کے خاتمے کیلئے حکومتی ٹیم کی بیرون ممالک کاوشیں بھی جاری ہیں اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو اپنی لیبر مارکیٹ ڈیٹابیس تک رسائی دینے کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کو ڈیٹا بیس تک رسائی ملنے کے بعد افرادی قوت میں اضافہ ہوگا۔یہ پیشکش متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے انسانی وسائل نصر بن ثانی الحملی نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری سے ابوظہبی ڈائیلاگ کے پانچویں وزارتی سیشن کے موقع پر ملاقات میں کی۔ یو اے ای کی لیبر مارکیٹ ڈیٹا بیس تک رسائی سے پاکستان کو وہاں پر ملازمتوں کے مواقعوں سے متعلق آگاہی حاصل ہوگی اور پاکستان متعلقہ شعبوں کیلئے افرادی قوت تیار کر کے متحدہ عرب امارات بھیج سکے گا پاکستان افرادی قوت کی شفاف بھرتی کیلئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو مربوط بنانا چاہتا ہے۔

اور یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ ہانگ کانگ کی پورٹ ہولڈنگ کمپنی نے پاکستان میں 240ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان سے ہانگ کانگ کی ہچی سن پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے وفد نے ملاقات کی۔ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق نئی سرمایہ کاری سے 3 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ہانگ کانگ کی کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کو 1 ارب ڈالر تک لے جائے گی کمپنی کراچی پورٹ کو ایشیا ء کی تجارت کا مرکز بنانے میں سہولت فراہم کرے گی۔

 مارچ سے ایسے نمٹیں گے جیسے جمہوریت میں نمٹا جاتا ہے : حکومتی ٹیم 

 اور اب بات کریں اپوزیشن کے آزادی مارچ کی تو حکومتی ٹیم کے چند ارکان کا کہنا ہے کہ وہ ا سے جمہوری انداز میں نمٹے گی ملک میں مارشل لا ء کے کوئی امکانات نہیں ، آزادی مارچ والوں سے ایسے نمٹیں گے جیسے جمہوریت میں نمٹا جاتا ہے ۔ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے سفارتی محاذ پر سر توڑ کوششیں کیں اور انکی تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان بلیک لسٹ نہ ہونے میں کامیاب رہا، ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا گیا۔ وزیراعظم کی کوشش ہے کہ خطے کا امن خراب نہ ہو، امت کے اتحاد کے مشن پر وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کے دورے پر گئے، سعودیہ اور ایران میں کشیدگی کم ہورہی ہے، ہماری کوشش ہے امن کو آگے بڑھائیں ٹینشن میں کمی دکھائی دے رہی ہے۔ آج ہندوستان دبائو میں ہے، بھارت چاہتا ہے پاکستان اندرونی مسائل میں الجھ جائے، عالمی برادری کی کشمیر سے توجہ ہٹانے پر بھارت پاکستان میں شوشہ چھوڑنا چاہتا ہے۔ دلی سمجھتا ہے کہ پاکستان اگر اپنے اندرونی مسائل میں الجھ جاتا ہے تو ان کی کشمیر پر سے توجہ اُٹھ جائے گی۔ ہماری کوشش ہوگی کی کہ مارچ والے اپنا اظہار پرامن انداز میں کریں۔

وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے مطابق پاکستان گرے لسٹ میں ہے، اگلے چند ماہ نہایت اہم ہیں، اس صورتحال میں مولانا ملیشیا اور جتھوں کے ساتھ دہشت کی علامت بن کر ملک و قوم کے تشخص اور وقار کو کیوں مجروح کرنا چاہتے ہیں؟ پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کے بھارتی مذموم عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔ قیامِ پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کی اولادیں استحکام پاکستان کی منزل کے حصول میں روڑے اٹکا رہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لا رہے ہیں، ایف اے ٹی ایف کی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے خاتمے کے اقدامات کی تعریف ہماری کاوشوں کا اعتراف ہے، پاکستان اس ضمن میں مزید اقدامات کیلئے پُرعزم ہے۔۔۔۔قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک دم سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیاحالانکہ ان کی جماعت نے کبھی ایوان میں کوئی مسئلہ نہیں اٹھایا۔ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہوجائے، ڈنڈے لہرا کے ڈرانے دھمکانے کا طریقہ کبھی نہیں دیکھا۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کو آئین اور اسلام کے منافی قرار دیا۔نعیم الحق کے مطابق مولانا کے عزائم کچھ اور ہیں ان کے اعلانات آئین اور اسلام کے منافی ہیں، مولانا کی تخریب کاری روکنے کیلئے حکومت تیار ہے۔۔۔۔گورنر پنجاب چودھری سرور کے مطابق جے یو آئی کے احتجاج اور دھرنے کی ٹائمنگ درست نہیں سب کو کشمیر پر توجہ دینی چاہئے۔ مولانا فضل الرحمٰن سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنادی معاملہ مذاکرات سے حل ہوگا، اعتراض دھرنے یا احتجاج پر نہیں بلکہ اسکی ٹائمنگ پر ہے ۔ پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے، 2 ہفتے پہلے ایک شہر میں 60 فیصد لوگ ہیپاٹائٹس کے مریض پائے گئے۔ پنجاب میں 10 ملین لوگ ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں اور ہیپاٹائٹس کی سب سے بڑی وجہ پینے کا گندا پانی ہے، 2020 ء تک پنجاب کے 2 کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کریں گے۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہماری امپورٹ ایکسپورٹ سے 3 بلین ڈالر زیادہ ہے۔کوئی ہمارے خلاف لکھے تو ہم اسے مخالف سمجھتے ہیں،اس سوچ کو بدلناہوگا۔۔۔۔۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات ایسے نہیں کہ یہاں احتجاج کی سیاست کی جائے، جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لینا ہوگا۔ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، موجودہ حالات میں احتجاجی سیاست کا کوئی جواز نہیں یہ وقت قوم کو یکجا کرنے کا ہے۔پاک دھرتی کے قرض کو اتارنے کیلئے سب کو ایک ہونا ہے اور سیاسی قوتوں پر بھی اس قرض کی ادائیگی کی بھاری ذمہ داری ہے۔ ملک افراتفری کی سیاست سے آگے نہیں جا سکتا، قوم کی خوشحالی کیلئے منفی سیاست سے قطع تعلق ہونا ہوگا۔

دوسری جانب پنجاب میں آزادی مارچ کے قائدین اور کارکنوں کیخلاف نقص امن پر سیکشن 16ایم پی او کے تحت کریک ڈائون کا فیصلہ کرتے ہوئے فہرستیں تیار کرلی گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ سمیت اعلیٰ حکام نے وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دی ہے کہ کریک ڈائون میں قائدین اور کارکنوں پر 16ایم پی او کے تحت مقدمات درج کرکے گرفتار کیا جائیگا، 16ایم پی او کے تحت گرفتارشدگان کو 90 روز تک حراست میں رکھنے کا اختیار ہوتا ہے جبکہ اس مدت میں 2مرتبہ توسیع کی جاسکتی ہے۔ کالعدم تنظیم انصار الاسلام کیخلاف کارروائی کیلئے وزارت داخلہ نے کابینہ کی منظوری لے لی ہے جس طرح تحریک لبیک کیخلاف کارروائی کی گئی تھی یہ کریک ڈائون بھی اسی طرز کا ہوگا۔وزیر داخلہ اعجاز علی شاہ اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے قانون شکن عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائی پر اتفاق کیا ہے۔پنجاب میں امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر اعجاز شاہ، چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، اعلیٰ سول و عسکری حکام، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ اور متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،اس موقع پر امن عامہ کی بہتری کیلئے پنجاب اور وفاق میں رابطے مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ قانون شکن عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائی ہوگی، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام کیاجائیگا۔ جرائم پیشہ افراد کیخلاف بلاامتیاز آپریشن جاری رکھا جائے اور داخلی و خارجی راستوں کی سخت چیکنگ کی جائے۔امن عامہ اور انسانی جان و مال کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں۔

حکومتی کمیٹی اور مذاکرات کی کہانی 

 سرحدوں کے اندر ہوں یا باہر مذاکرات کی کہانی انتہائی طویل اور پرانی ہے جس کی تفصیل میں جانے کی فی الحال دامن ِ وقت میں گنجائش نہیں گفتگو کا دائرہ صرف آزادی مارچ کے حوالے تک محدود رکھیں تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے معاملے پر حکومت نے 7 سینئر ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی۔کمیٹی میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود ،وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری ،رکن قومی اسمبلی اسد عمر اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی شامل ہیں۔کمیٹی سربراہ کے مطابق ملک کسی طور پر سیاسی افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا، اپوزیشن کے ساتھ افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں گے، ملک کو اس وقت اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، کشمیر کے عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، کمیٹی کو اپوزیشن سے بات چیت کا اختیار دیا گیا ہے، کمیٹی کسی بھی سیاسی انتشار سے بچنے کے لئے اپوزیشن سے مذاکرات کریگی۔ وزیرا عظم کے استعفے کی بات ناممکن ہے، اپوزیشن بات نہیں کرے گی تو افراتفری ہوگی۔ حکومت نے اپنی رٹ تو قائم کرنی ہے، پھر ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت میں پہلا باضابط رابطہ ہوا ۔ مذاکراتی کمیٹی کے رکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل عبدالغفور حیدری کو ٹیلیفون کیا کمیٹی کو 20اکتوبر کو رات 8 بجے مولانا عبدالغفور حیدری سے ملاقات کرنا تھی،مولاناعبدالغفور حیدری نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رابطے کی تصدیق کی اور کہاکہ ہم نے اپنا مؤقف واضح کردیا وہ اس کے باوجود ملنا چاہتے ہیں اب دیکھتے ہیں ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کیا تجاویز اور سفارشات سامنے لاتے ہیں۔ جے یو آئی ف نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ۔ حکومت کی باتوں سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ مذاکرات کرنا چاہتی ہی نہیں حکومتی ٹیم اپنی تجاویز اور ایجنڈا لے کر تو آئے کہ ان پر بات ہوسکتی ہے یا نہیں۔پھر اگلے روز مذاکرات منسوخ کردیئے گئے ۔رہنما جے یوآئی (ف) مولانا عبدا لغفور حیدری نے قائم مقام صدر صادق سنجرانی کو فون کرکے ملاقات کی منسوخی سے آگاہ کیا ۔جے یو آئی (ف) نے حکومت سے مذاکرات کیلئے 4 رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس میں مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم درانی، مولانا عطاء الرحمٰن اور سینیٹر طلحہ محمود شامل تھے۔۔۔۔۔تادم تحریر مذاکرات کی کہانی کبھی ہاں کبھی ناں والی صورتحال کا شکار تھی اور ادھوری تھی۔۔۔ تصویر دھندلی تھی کچھ صاف نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ ایک دوسرے پر لفظوں کی گولہ باری جاری تھی جس میں حصہ لیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے مطابق تبدیلی میں اب مزید تبدیلی ناگزیر ہے، حکومت اپنے خلاف احتجاج کے اعلان سے ہی حواس باختہ ہوگئی ہے۔ سبز باغ دکھانے والوں کو دن میں تارے دکھائی دینے لگے ہیں، حکومت کی اقتدار پر گرفت دن بدن ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ قوم بناوٹی تبدیلی کے بجائے حقیقی تبدیلی چاہتی ہے، پی ٹی آئی حکومت کو مکافات عمل کا سامنا ہے، تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ جب ترقی کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو حکومتوں کی الٹی گنتی شروع ہوجاتی ہے، خالی نعروں اور پھیکی سیاست سے غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔ گلاسڑا فرسودہ نظام دکھوں کا مداوہ نہیں کرسکتا، حکومت نے آج تک سوائے جھوٹے اعداد و شمار اور خوش نما نعروں کے کچھ نہیں کیا۔ حکومت اپنے خلاف احتجاج کے اعلان ہی سے حواس باختہ ہوگئی ہے، عوام حکومت سے خائف، ہمدردیاں نفرتوں اور تعلق لاتعلقی میں بدل رہے ہیں۔

حکومت کے پاس کوئی بیانیہ نہیں :(ن) لیگ

عمران مدت پوری نہیں کر پائیں گے : پیپلز پارٹی 

 مسلم لیگ (ن) کے مطابق وزیر اعظم گالیاں نکالے اور وزراء مذاکرات کا جھانسہ دیں یہ ممکن نہیں، نااہل اور نالائق حکومت قومی، دفاعی اور خارجی سلامتی و بقاء کا مسئلہ بن چکی ہے، اسے جانا ہوگا۔حکومت کے گھبرانے کاوقت آگیاہے، حکومتی مذاکرات کی پیشکش بغل میں چھری منہ پہ رام رام کے مترادف ہے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے فسطائیت کیخلاف کھڑے ہونے کو عین جمہوریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج عوام کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، خود دھرنے دینے والے اس پر کیسے اعتراض کر سکتے ہیں؟ 126 دن کے دھرنے میں سکول بند رہے، چینی صدر کا دورہ نہ ہوسکا، اب بچوں کی تعلیم کا خیال آ رہا ہے؟ مذاکرات سے پہلے عمران خان 2014 ء کے دھرنے پر قوم اور نواز شریف سے معافی مانگیں، پی ٹی وی، سپریم کورٹ اور پارلیمینٹ پر چڑھائی کرنیوالے کس منہ سے درس دے رہے ہیں؟ سول نافرمانی، ہنڈی اور منتخب وزیراعظم کو گلے سے گھسیٹ لائوکے نعرے آج بھی لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہیں، طرفہ تماشا جاری ہے، ایک طرف نالائق وزیراعظم مذاکراتی ٹیم کا دھوکہ دیتا ہے تودوسری جانب سیاسی مخالفین کو گالیاں دیتا اور تضحیک کرتا ہے۔موجودہ حکومت کے پاس کارکردگی دکھانے کیلئے کچھ نہیں، انکے پاس اپنی نالائقی اور نااہلی چھپانے کیلئے کوئی بیانیہ موجود نہیں، شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمٰن ہی نہیں پورا پاکستان آپکو نااہل اور ناکام کہہ رہا ہے۔پارلیمان کو تالا، اپوزیشن کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا، مخالف آواز بند کرنا، ایسی فسطائیت کیخلاف کھڑا ہونا عین جمہوریت ہے۔

مزید برآں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان بطور وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر پائیں گے، کیونکہ ان میں اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ افراد اس کٹھ پتلی حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور ہیں۔ سلیکٹڈ حکومت کے خلاف احتجاج ضرور کریں گے لیکن کسی کو جمہوریت ڈی ریل کرنے نہیں دیں گے۔چونکہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں اور عوام بشمول تاجر، اساتذہ اور نوجوان ڈاکٹر اس کٹھ پتلی حکومت سے تنگ آچکے ہیں اس لیے انہیں نہیں لگتا کہ عمران خان صاحب اپنی حکومت کی مدت پوری کر پائیں گے۔ حکومت معاملات کو مہذب طریقے سے حل کرے کیونکہ ملک چلانے اور کرکٹ میچ کھیلنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہیے کہ وہ لوگوں میں اتفاق و اتحاد پیدا کریں اور لوگوں کے مسائل کو حل کریں، بجائے اس کے کہ وہ نیب اور رینجرز کے ذریعے چھوٹے چھوٹے الیکشنز میں دھاندلی کرواتے پھریں۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور پیپلزپارٹی کی کراچی سے کشمور تک مہم اس سلیکٹڈ حکومت کی نااہلی کے خلاف ہے۔ اگر ملک میں مارشل لاء نافذ کیا گیا تو پیپلزپارٹی آمریت کے خلاف اپنا تاریخی کردار ادا کرے گی۔انہوں نے سیاسی قوتوں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت وقت کے خلاف جدوجہد کرتے وقت اس بات کا خیال ضرور رکھیں کہ کہیں ان کا احتجاج غیر جمہوری قوتوں کو دخل اندازی کا موقع فراہم نہ کردے۔

دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ وزیراعظم کا استعفیٰ ناممکن ہے، فضل الرحمٰن اسلام آباد پرچڑھائی کرنا چاہتے ہیں، افراتفری سے نقصان کے ذمہ دار ہم نہیں ہونگے، مذاکراتی ٹیم گھبرا کر نہیں جمہوری روایات کومدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی۔ ایل او سی اور سرحدوں پرصورت حال کشیدہ ہے،اپوزیشن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، ہم جمہوری لوگ ہیں اور آئین اور قانون کی پاسداری اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔پارلیمنٹ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کے ہمراہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی تھے۔ وزیردفاع نے واضح کہاکہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن اور تمام دروازوں پر دستک دینے کے بعد مارچ اور دھرنا کیا تھاہمارے پاس تو دھاندلی کا جواز بھی تھا۔ دوسری مرتبہ بھی جب نکلے اس وقت پاناما کا سنگین معاملہ تھا لیکن جب کمیشن بنا تو ہم نے اس فیصلے کو تسلیم کیا ۔ ہم چاہتے ہیں بیٹھ کر بات چیت ہو اور اپوزیشن جماعتوں سے درخواست ہے کہ اگر کوئی ایشوز ہیں تو بات کریں اگر میز پر نہیں بیٹھیں گے تو افرا تفری ہوگی۔ ہماری ٹیم کی ذمہ داری صرف مذاکرات تک ہے اور ہماری ٹیم اپنی مکمل ذمہ داری پوری کر گی، اپوزیشن نے مذاکرات نہ کئے یا ناکامی ہوئی اور کوئی افرا تفری ہوئی تو حکومت اور ریاست نے اپنی رٹ قائم کرنی ہے اور آئین اور قانون خود راستہ بنائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان میں بھی مسلح جتھوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اگر ایسا کچھ ہوا اور پاکستان اور اس کے عوام کا نقصان ہوا تو اپوزیشن خود اس کی ذمہ دار ہوگی۔ بھارتی چینل مذاق اڑا رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے اپوزیشن ان کے ایجنڈے پر ہے اس لئے اپوزیشن کو چاہیئے وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ملکی معاشی حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں وزیر اعظم کا استعفی ناممکن ہے اگر اپوزیشن مارچ ختم نہیں ہوتا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ آئین میں نیشنل ایکشن پلان میں مسلح جتھے بنانے کی اجازت نہیں، دینی مدارس کے طلبہ بھی ہمارے بچے ہیں بطور وزیر تعلیم انہیں سیاست کیلئے استعمال کرنے پر بھی ہمیں شدید تحفظات ہیں۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:بھارتی معیشت ڈول رہی ہے ۔۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں

شاعر نے شائد یہ مقبوضہ کشمیر کیلئے کہا ہو گا

...

مزید پڑھیں

٭:سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔۔۔نہ ہو

...

مزید پڑھیں