☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
کرتارپور کوریڈور

کرتارپور کوریڈور

تحریر :

11-03-2019

ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں

ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے

نفرت ، تقسیم اور ظلم کیخلاف پنجاب سے ایک بار پھر توحید کی صدا اُٹھ رہی ہے ۔۔۔جسے ظالم کل بھی روک نہ پایا تھا۔شری گرنتھ صاحب کی جلد اول، جپ جی کا پہلا شعر

اک اونکار سَتِ نام، کرتا پرکھ، نِر بھَو، نِرویر

اکال مورتِ، اجونی، سے بھنگ، گُر پرساد

ترجمہ ’’صرف ایک خدا کا وجود ہے جو حقیقتاً خالق ہے، وہ خوف اور نفرت سے عاری ہے، وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا اور لافانی ہے، وہ بذات خود قائم، عظیم اور رحیم ہے۔‘‘۔۔۔۔

٭:اور تخلیق سے قبل ہی پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ۔ گونجا۔۔۔7دہائیوں بعد بھی یہ نعرہ پوری طاقت سے گونج رہا ہے بغیر کسی خوف کے ۔۔۔۔

 ٭:پاکستان سازشوں کے باوجود دلوں سے نفرتوں کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ بے لوث جذبے کے تحت دوریوں کو قربتوں میں بدل رہا ہے ۔۔۔دور سے نظروں سے سجدہ کرنیوالوں کو بابا گورو نانک کے دربار میں ماتھا ٹیکنے کا سدا کیلئے عظیم موقع فراہم کرنے جا رہا ہے

یہ سنہری کلس، یہ گرودوارے ۔۔۔سب ہیں انسانیت کے گہوارے ۔۔۔ان میں گونجے ہے وہ مدھر بانی۔۔۔جس طرح جل ترنگ میں پانی ۔۔۔روح کو فتح مند اس نے کیا ۔ ۔ 

حق کا پرچم بلند اس نے کیا ۔۔۔درس توحید کا دیا سب کو۔۔۔ مل گیا جیسے اک دیا سب کو ۔۔۔

٭:پاکستان انسانیت اور درس ِتوحید کے دئیے کو ہی روشن کرنے جا رہا ہے ۔۔۔

امرتا پریتم نے وارث شاہ کو بڑے درد بھرے شکایتی لہجے میں کچھ اس طرح پکارا تھا (چند مصرعے )

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول

تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین

اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن

اُٹھ دردمنداں دیا دردیا اُٹھ تک اپنا پنجاب

اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

٭:آج بھی سرحدیں لہو لہو ہیں ۔۔۔ آر پار لاشیں بکھری ہیں۔۔۔لاکھوں مائوں بیٹیاں نوحہ کناںہیں۔۔۔

٭:مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیلبن چکا، ظلم کی انتہا دیکھئے 80لاکھ سے زائدبے قصور نہتے عوام اپنے ہی گھروں میں قید رہنے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔

 ٭:پاکستان خاموش نہیں۔۔۔ ان مجبوروں کا مقدمہ دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر دلیری اور بے باکی سے لڑ رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ ان نا انصافیوں اور بے جا پابندیوں کا خاتمہ بھی کر رہا ہے جو سکھ برادری پر تقسیمِ برصغیر 1947ء سے جاری تھیں ۔۔۔

 ٭:جی ہاں پاکستان کرتار پور کوریڈور اوپن کرنے جا رہا ہے۔۔۔بھارت سے کشیدہ تعلقات اور سرحدوں پر جنگی صورتحال کے باوجود پاکستان صرف اور صرف انسانی ہمدردری کی بنیادوں پریہ کوریڈور ان جذبات کیساتھ اوپن کر رہا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ سیاسی جھگڑوں اور بٹواروں کو بنیاد بنا کر مذہبی رسومات یا عبادتگاہوں پر پابندیاں لگائی جائیں ۔۔

٭: پاکستان میں سکھ برادری کا مکہ مدینہ ہے اور پاکستان کی جانب سے کبھی یہ کوشش نہیں کی گئی کہ سکھ برادری کو ان کے مکہ مدینہ سے دور رکھا جائے یا ان کی آوت جاوت پر بلا وجہ پابندیاں عائد کی جائیں ۔۔۔۔

 ٭:کرتار پور کوریڈور اس عزم کا گواہ بننے جا رہا ہے کہ 1947ء میں جس کربناک انداز میں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت اور خونریزی کے بعد پاکستان نے آزادی حاصل کی پاکستان نے7دہائیوں تک جس طرح اعلانیہ اور غیراعلانیہ جنگوں کا سامنا کیا ان سب کے باوجود پاکستان نے خون بھری سرحد پہ امن کا راستہ ہموار کر دیا ۔۔۔۔سکھ برادری کیساتھ دہائیوں سے ہونیوالے ظلم کا خاتمہ کر دیا انہیں ان کے مکہ مدینہ سے ملا دیا ۔۔۔ اپنے زخموں کو بھلا دیا اور نئے سفر کا آغاز کر دیا 

 ٭:یہ بابا گورونانک کی تعلیمات کا نتیجہ ہی تھا کہ سکھ برادری نے اپنے سب سے مقدس مقام دربار صاحب امرتسر کی بنیاد رکھنے کیلئے پہلی اینٹ جوڑنے کیلئے حضرت میاں میر ؒ کا انتخاب کیا جبکہ دوسری جانب حضرت میاں میرؒ سکھ گورو ئوں کے معتقد تھے۔ 

اول اللہ نور اپایا قدرت کے سب بندے

اک نور تے سب جگ اُچیا کون بھلے کو مندے

 باباگرو نانک نے اپنے اقوال و اعمال اور افعال کے ذریعے انسانوں کو سیدھے اور سچے راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ آپ نے انسانوں کو جہالت و تاریکی سے نکال کر خواب غفلت سے بیدار کیا اور یہ باور کرایا کہ خدا ہی عبادت کے لائق ہے اور سبھی کا پروردگار ذات واحد ہی ہے۔ در اصل باباگورو نانک کی تعلیمات کسی ایک مذہب اور مکتبہ فکر کیلئے مخصوص نہ تھی بلکہ ان کی تعلیمات اور اعمال و افعال میں تمام مذاہب کے لوگوں کیلئے پیغام پنہاں ہے۔آپ نے کسی ایک مذہب کے لوگوں کی بھلائی پیش نظر نہ رکھی بلکہ تمام انسانوں کی بھلائی اور فلاح و بہبود کیلئے کام کیا ۔بابا گورو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس کرتارپور میں بسرکیے کھیتی باڑی بھی کی یہاں سے تقریباً 2 کلو میٹر کے فاصلے پر وہ روزانہ ڈیرہ کرتے ، اپنے پیرو کاروں اور مریدوں سے ہمکلام ہوتے۔ جب ہندوستان تقسیم ہوا تو کرتار پور پاکستان میں آ گیا اور ’’ڈیرہ بابا نانک‘‘ ہندوستان میں چلا گیا۔ تقسیم کے بعد بھارت میںڈیرہ بابا نانک کے قصبے میں ایک مچان میں دور بین نصب ہے۔ وہاں لوگ جمع ہوکر دوربینوں کی مدد سے گوردوارہ کرتار پور کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں، عبادت کرتے اور گرنتھ صاحب کا ورد کرتے ہیں۔

 ایک طرف امریکی جریدہ بطور سند لکھ رہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جمہوریت کی طرح بھارت کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال کے باوجود مغرب کا اکثر تجارتی طبقہ مودی کی حمایت کررہا ہے۔ بھارت میں ٹیکس دینے والوں کی شرح بھی خطرناک حد تک کم ہوئی ہے بھارت کی معیشت نااہل اور برے طریقے سے چلائی جارہی ہے، اس کے علاوہ مقبوضہ جموں کشمیر اور آسام میں مسلمانوں سے انتہائی امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔۔۔۔ اور دوسری طرف پاکستان خطے میں امن، بھائی چارے ، ظلم اور نا انصافی کیلئے کوشاں ہے ، مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈائون اور سرحدوں پر جھڑپوں کے باوجود وزیر اعظم عمران خان سکھ برادری سے اپنا کیا وعدہ نبھانے جا رہے ہیں 9نومبر کو کرتار پور کوریڈور کا افتتاح ہوگا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق تاریخی معاہدہ طے پاچکا ہے ،پاکستان کی طرف سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل جبکہ بھارت کی طرف سے امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری ایس سی ایل داس نے معاہدے پر دستخط کئے ، دستخط کے بعد ڈاکٹر فیصل نے اپنی گفتگو کا آغاز اس شعر سے کیا

 اک شجر ایسا بھی محبت کا لگایا جائے

 جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے

 ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ’’آج بڑی خوشی کا دن ہے ، بھارت سے معاہدہ کرنا آسان نہیں تھا،معاہدہ دین اسلام کی دیگر مذاہب سے احترام کی تعلیمات پر مبنی خارجہ پالیسی کامظہر ہے۔سکھ یاتری صرف گوردوارہ تک جائیں گے اورواپس آئیں گے، بھارت یاتریوں کی فہرست 10دن پہلے پاکستان کو دے گا، کرتار پور کاریڈور سے متعلق انتظامات مکمل ہیں۔‘‘ معاہدے کے تحت روز 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزادربارصاحب کرتار پور آسکیں گے ‘ بھارتی یاتریوں کو پاسپورٹ، آدھار کارڈ یا پین کارڈ بطور شناخت دکھانا ہوگا‘ 20 ڈالرز سروس چارجز لیے جائیں گے۔ پاکستان امیگریشن حکام ہر بھارتی یاتری کو ایک بار کوڈوالا کارڈ جاری کریں گے، بھارتی یاتریوں کی آمد صبح 8سے دن 12بجے تک ہوگی اور غروب آفتاب تک سب یاتریوں کو واپس جانا ہوگا۔

اس موقع پر پاکستان نے بھارت کو یقین دلایا کہ لنگر (کمیونٹی کچن) اور پرساد (مٹھائی اور دیگر کھانے کی اشیاء) بانٹنے کا معقول انتظام کیا جائیگا۔معاہدے کا اہم نکتہ پاکستان کی جانب سے فی یاتری 20ڈالرز بطور سروس چارج عائد کرنے پر اصرار تھا جبکہ بھارت فیس نہ عائد کرنے پر زور دے رہا تھا۔ دریں اثناء بھارتی وزارت داخلہ نے سکھ یاتریوں کو یاترا کے حوالے سے ’’کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا‘‘ پر مبنی ہدایت نامہ جاری کیا جس کے مطابق 13برس سے کم عمر کے بچے اور 75 برس یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ گروپ کی شکل میں سفر کریں۔ گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور آنے کے خواہشمند یاتریوں کو زیادہ سے زیادہ 11ہزار روپے لانے اور 7 کلوگرام کا ایک بیگ ساتھ رکھنے کی اجازت ہوگی، اور گوردوارے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ یاترا کے دوران ماحول دوست مواد یا سامان، ترجیحاً کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا ہونگے گوردوارے اور اس کے گرد و نواح کو صاف ستھرا رکھنا ہوگا۔ خواہشمند یاتریوں کو مجوزہ تاریخ سے قبل خود کو آن لائن رجسٹر کرانا ہوگا۔ بھارتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہوگا کہ سفر کی اجازت مل گئی ہے۔یاتریوں کو ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے ان کی رجسٹریشن کی تصدیق، ان کے سفر کی تاریخ سے تین، چار روز قبل دی جائے گی۔جبکہ ایک الیکٹرانک ٹریول اتھورائزیشن بھی جنریٹ کیا جائیگا۔ یاتریوں کیلئے ضروری ہوگا کہ جب وہ پسینجر ٹرمینل عمارت میں پہنچیں تو اس الیکٹرانک ٹریول اتھورائزیشن کو اپنے پاسپورٹ کے ساتھ رکھیں۔ڈیرہ بابا نانک، ضلع گورداسپور پنجاب میں واقع پسینجر ٹرمینل کی عمارت میں سگریٹ نوشی، تمباکو نوشی یا کچھ بھی پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یاتریوں کو کسی بھی غیر متعلقہ چیز کو نہ چھونے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے اور آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی مشکوک چیز کی اطلاع حکام کو دیں۔ اونچی آواز میں موسیقی سننے یا بلا اجازت فوٹو گرافی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کرتار پور صاحب کوریڈور کا باقاعدہ افتتاح 8نومبر کو کرینگے۔ یاتریوں کو وہاں جانے کیلئے اپنا پاسپورٹ ساتھ رکھنا ہوگا۔کرتار پور راہداری کھلنے سے مذہبی ٹورازم کا پہلا دروازہ پاکستان پر کھل جائیگا 200 افراد انتظام چلائیں گے فرسٹ ایڈ کیلئے منی ہسپتال، میڈیا سنٹربھی بنایا گیا ہے معاہدے کے مطابق اگر واقعی 5 ہزار سکھ یاتری روزانہ کرتار پور آنا شروع ہوگئے تو حکومت کو صرف سروس چارجز کی مد میں روزانہ 1 لاکھ ڈالرز کی آمدنی ہوگی جو ماہانہ 30لاکھ ڈالرز اور سالانہ3 کروڑ 60ڈالرز میں بدل جائیگی جس سے معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہونگے۔ کرتار پور راہداری پر بھارت سے آئے سکھ یاتریوں کی کلیئرنس کے عمل میں تیزی لانے کیلئے 80 امیگریشن کائونٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے بھارت سے آئے یاتریوں کی سہولت کیلئے 3 داخلی راستے بنائے گئے ہیں۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) یاتریوں کی کلیئرنس لسٹ اُنکی آمد سے 10 روز قبل بھارتی حکام کو بھیجے گی۔ پاکستان رینجرز کے زیر نگرانی خصوصی بسوں میں یاتریوں کو گوردوارہ دربار صاحب لے جایا جائیگا جبکہ گوردوارے میں داخل ہونے سے قبل اُنکے پاسپورٹ سکین کیے جائیں گے۔پاکستان اور بھارت دونوں ممالک سے آئے یاتریوں کو گوردوارہ دربار صاحب میں داخلے سے قبل بائیو میٹرک سکریننگ کروانی ہو گی یاتری واپسی کیلئے اُسی گیٹ کا استعمال کریں گے جہاں سے وہ تصدیق کے بعد اندر آئے تھے۔ وزارت داخلہ نے راہداری پر کارروائیوں میں آسانی پیدا کرنے کیلئے 169 انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز ، کانسٹیبلز اور خواتین کانسٹیبلز کے علاوہ 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔بھارتی یاتریوں کی آمد صبح 8سے دن 12بجے تک ہوگی اور غروب آفتاب تک سب کو واپس جانا ہوگاجبکہ بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات کا آغاز 12 نومبر سے کیا جائے گا۔ 

وزیراعظم عمران خان نے 28 اکتوبر کو باباگرونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد بھی رکھا، ننکانہ صاحب میں سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی ، صوبائی وزرا ء اور غیر ملکی سفیروں نے شرکت کی، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے تقریب کے مہمانوں کا استقبال کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق بابا گورونانک کے 550 ویں جنم دن تقریبات کیلئے مثالی انتظامات کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے کرتارپورگوردوارہ کی تعمیر میں سکھ مذہب اور تاریخی اہمیت کا مکمل خیال رکھا گیا ہے اور پاکستان نے منصوبے پر مقامی وسائل خرچ کئے،کوئی بیرونی امداد نہیں لی۔

 دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی کرتارپورراہداری کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ راہداری کے باضابطہ کھلنے کے منتظر ہیں، پڑوسیوں کے درمیان عوامی رابطوں کا بننا اچھی خبرہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ساؤتھ اورسینڑل ایشیا بیورو نے ٹوئٹر پر کرتارپورراہداری کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا راہداری کھلنے سے سکھ یاتری گردوارہ کرتارپورصاحب کا دورہ کرسکیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان 1947ء میں ہجرت کے موقع پر خونریزی اور ظلم و ناانصافی کے تمام واقعات کو بھلا کر کتابِ عشق ‘‘ کا اگلا ورقہ کھولنے جا رہا ہے بھارت اس کا رخیر میں حصہ ڈال سکتا ہے ہمت ہے تو اسکا بھرپور جواب دے۔۔۔ 7دہائیوں سے بچھڑے لاکھوں خاندانوں کو جو سرحد کے آر پار بستے ہیں ان کیلئے واہگہ بارڈر کھول دے کیونکہ سیاست اور سیاستدانوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ صرف اور صرف اپنے مفاد کیلئے عوامی رابطوں کو منقطع کریں ، اپنے ہی گھروں میں آنے جانے سے روکیں، بہن بھائیوں اور اپنے پیاروں سے ملنے پر پابندیاں لگائیں، غمی ، خوشی کی تقریبات میں شرکت سے روکیں اور ویزاقوانین کی آڑ میں ظلم کریں ۔۔۔۔بھارت یہ ظلم بند کرے اور اپنے ہی خاندانوں سے ملنے کیلئے سپانسر شپ کی پابندیاں ختم کرے کیونکہ کوئی بھی اعلیٰ سرکاری عہدیدار اپنی حکومت سے مخالفت مول لیکر اور اپنی نوکری کو دائو پر لگا کر کسی مسلمان ، سکھ ، پارسی ، عیسائی یا ہندو کا ویزہ سپانسر شپ سائن نہیں کریگا ۔ 

بشیر بدر نے شائد ایسے ہی حالات کیلئے کہا تھا کہ

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے 

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

ہو سکے تو تاریخ اور کروڑوں انسانوں کے سامنے خود کو شرمندگی سے بچائیں اور خطے کے ماحول کو زندگی اور انسانوں کے زندہ رہنے کے قابل بنائیں ۔۔۔۔شائد کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات ۔۔۔۔

بابا گور ونانک کے اقوال 

گور دوارہ کرتار پور کی موجودہ محل نما عمارت 1921ء میں پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے تعمیر کروائی تھی۔ دیواروں پر بابا گورو نانک کے اقوال درج تھے۔

٭:من جیتے جگ جیت، جو انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے وہ ساری دنیا کو جیت لیتا ہے۔

٭:اے نانک اللہ تعالیٰ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کتنا بڑا ہے۔

٭:تو سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے اور تو ہی ہر جگہ عبادت کے لائق ہے۔

 ٭:سلام اُس کو جو ہر رنگ میں موجود ہے۔ گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔

٭:خدا کی حمدو ثناء سننے سے ہمارے دکھ پریشانیاں اور گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔

 ٭:توُہی سب کو مارنے اور پالنے والا ہے تو ہی مکمل بخشش کرنیوالا ہے تُوہر شے میں موجود ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کی بات جانتا ہے اے نانک اللہ کی بندگی کے بغیر زندگی بیکار ہے۔

٭:اے انسان اس عارضی دنیا کا غرور نہ کر، اس کی کچھ حیثیت نہیں یہ محض ایک خواب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے انسان کے سب کام سنور جاتے ہیں۔

٭:اللہ مرے انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر اختیار رکھتا ہے۔

٭:اللہ تعالیٰ کی کوئی ذات پات نہیں، وہی عقل و علم والا ہے۔

آج نانک ہے نام امرت کا ۔۔۔آشنا درد آدمیت کا 

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ،خواجہ بختیار کاکیؒ،نظام الدین اولیاءؒ، میر وارث علی شاہؒ،گیسو درازؒ،بلھے شاہؒ،بابا فریدؒ اور گورو نانک دیو جی سبھی نے اپنے پیغامات بنی نوع انسان تک پہنچانے کیلئے مقامی زبانوں کا سہارا لیا، اسی عرصے میں آپسی میل جول کی وجہ سے ہند وستان میں’’اردو‘‘ جنم لے رہی تھی اردو ہندوستان میں بسنے والی تمام قوموں کے درمیان رابطے کا بہترین ذریعہ تھی اس زبان نے تمام مذاہب کے احترام کا سب سے زیادہ سبق سکھایا پھر یہی زبان پاکستان کی قومی زبان ٹھہری شائد اسی لئے شاعرِ مشرق مفکر ِ پاکستان علامہ اقبالؒ ’’نانک ‘‘کے عنوان سے نظم لکھی تھی کہ

قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروانہ کی

قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی 

آہ بد قسمت رہے آوازِ حق سے بے خبر

غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر 

آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا

ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا

شمعِ حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی

بارش رحمت ہوئی،لیکن زمیں قابل نہ تھی 

آہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے

درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے

برہمن سرشار ہے اب تک اسی پندار میں

شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں 

بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا

نورِ ابراہیم سے آذر کا گھر روشن ہوا 

پھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے 

(کلیات اقبال،بانگ درا،حصہ سوم، صفحہ195)

علامہ اقبالؒ کی اس نظم میں گورو نانک جی کو’’ مرد کامل ‘‘کہہ کر خطاب کیا گیا ، باباگورو نانک جی پر ایک اور اہم نظم ولی محمد نظیر اکبرآبادی کی بھی ہے نظم کاعنوان ’’گرو نانک جی کی مدح‘‘ ہے۔ اس نظم میں گورو نانک جی کو ’’کامل رہبر‘ ‘کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو

وہ کامل رہبرجگ میں ہیں یوں روشن جیسے ماہ گرو 

مقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرو

نِت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرو 

اِس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو 

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

ہر آن دلوں بیچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا لاتے ہیں

اور سیوک ہو کر ان کے ہی ہر صورت بیچ کہاتے ہیں 

کر اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین اسے دکھلاتے ہیں

خوش رکھتے ہیں ہر حال انہیں سب من کا کاج بتاتے ہیں 

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابانانک شاہ گرو 

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو 

جو آپ گرو نے بخشش سے اس خوبی کا ارشاد کیا

ہر بات وہی اس خوبی کی تاثیر نے جس پر صاد کیا

یاں جس جس نے ان باتوں کو ہے دھیان لگا کر یاد کیا

ہر آن گرو نے دل ان کا خوش وقت کیا اور شاد کیا 

سب منکے مقصد بھر پائے خوش وقتی کا ہنگام لیا 

دکھ درد میں اپنے دھیان لگا جس وقت گرو کا نام لیا

پل بیچ گرو نے آن انہیں خوشحال کیا اور تھام لیا 

جو ہر دم ان سے دھیان لگا امید کرم کی دھرتے ہیں 

وہ ان پر لطف و عنایت سے ہر آن توجہ کرتے ہیں 

اسباب خوشی اور خوبی کے گھر بیچ انہوں کے بھرتے ہیں

آنند عنایت کرتے ہیں سب من کی چنتاہرتے ہیں 

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو 

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو 

(کلیات نظیر اکبرآبادی)

جاوید وششٹ کا شمار اردو کے معتبر شعراء میں ہوتا ہے ان کی مشہور نظم’’ ذکر نانک‘‘کے عنوان سے ملتی ہے

ذکر نانک پہ سر جھکاتا ہوں 

پھر میں لوح و قلم اٹھاتا ہوں 

نکہت نو بہار آئی ہے

اس کا سندیس ہی تو لائی ہے 

ذات اس کی ہے چشمۂ عرفاں

نام اس کا ہے نانک دوراں

نام نانک کا جام امرت کا

آج نانک ہے نام امرت کا 

رازداں زندگی فطرت کا

آشنا درد آدمیت کا 

اشک شبنم ہے وہ گل تر ہے

درد انسانیت کاپیکر ہے 

وہ گرو ا ک دماغ روشن ہے

معرفت کا چراغ روشن ہے 

(آج کل دہلی،گرو نانک نمبر،نومبر 1969، صفحہ 3)

گرو نانک جی نے اپنی تعلیمات کے ذریعے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان اخوت وبھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں جو سعی کی اس میں انہیں کامیابی و کامرانی بھی نصیب ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں مذہب کے انسان آج بھی گرو نانک کو عقید ت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ منور لکھنوی لکھتے ہیں 

ہر شوالے میں تکریم نانک کی تھی

خانقاہوں میں تعظیم نانک کی تھی 

پاک سے پاک تنظیم نانک کی تھی 

درس نانک کا تعلیم نانک کی تھی 

 

 

سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک دیو جی 

کلیان چند کے خاندان میں 15 اپریل 1429ء کو پیدا ہونے والے لڑکے کو انسانیت کے عظیم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ گورو نانک دیو کا زمانہ5 صدی سے زیادہ پہلے کا نہیں ہے، ان کی زندگی اور تعلیمات دونوں کو محفوظ اور زندہ و جاویدرکھنے کی عظیم ذمہ داری تاریخ نبھا رہی ہے ۔ انہوں نے جو مذہبی رہنماؤں کا سلسلہ شروع کیا اس سے9جانشین ہوئے جن کی بناء پر ان کا نام اور تعلیمات کا تسلسل 1807ء تک یعنی انیسویں صدی کی ابتداء تک پہنچ جاتا ہے۔ دسویں اور آخری گورو گو بند سنگھ کے انتقال سے گورو نانک کے جانشینوں کا سلسلہ ختم ہوا اور ان کی وراثت مقدس کتاب(گورو گرنتھ صاحب) سپرد کی گئی۔ برصغیر پاک و ہند کے عوام میں شعور، احساس ، حلیم اور امن دوستی کی منہ بولتی تصویر ہیں گورو نانک جی ۔گورو نانک کے دل میں انسانیت کیلئے درد تھا انہوں نے اپنے قول و عمل کے ذریعے مذہب کی اصل سچائی سے لوگوں کو متعارف کرایا اور یہ ثابت کیا کہ مذہب تفریق و جدائی نہیں اتحادو یگانگت کا طلبگار ہے۔ دنیا کے تمام انسان خدائے واحد کے بندے ہیں اور ایک دوسرے کے تئیں انسانیت کی قدروں اور انسانیت کے اصول کی پاسداری ہی میں مذہب کی سچائی مضمر ہے۔ آج بھی گورودواروں کے دروازے تمام مذاہب کے ماننے والوں کیلئے کھلا رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ گرو نانک جی نے مذہب کی تفریق ختم کرنے کیلئے محض قول کا سہارا ہی نہیں لیا بلکہ عملی ثبوت بھی پیش کیایہی نہیں انہوں نے بھائی بالا جی جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور بھائی مردانا جن کا تعلق دینِ اسلام سے تھا دونوں کو ایک ساتھ رکھ کر انسانی یکجہتی و اخوت کا ثبوت پیش کیا۔ 

ہر سال کی طرح اس سال بھی بابا گورو نانک دیو کا جنم دن مکمل جوش و جذبے اور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائیگا لیکن اس بار اس کی شان اور سج دھج نرالی ہو گی کیونکہ اس بار بابے کا دربار سب کیلئے کھلنے جا رہا ہے ۔ یوں تو بابا جی کا جنم دن 15اپریل لکھا جاتا ہے تاہم ان کی پیدائش کی ایک اور تاریخ جو اسی تاریخ کے ساتھ مروج ہے کاتک کے مہینے (وسط اکتوبر تا وسط نومبر) کی پورنماشی (یعنی چاند کی چودہ تاریخ کی رات) ہے اور بابا گورو نانک کی سالگرہ اسی تاریخ کو منائی جاتی ہے یہ تاریخ بعد کی جنم ساکھیوں سے حاصل کی گئی ہے ۔ 

آپ کی شاعری روح و قلب کی تسکین کا باعث بنتی ہیکیونکہ وہ خدا کے تصور اور انسان کے فرائض کے بارے میں ہے۔ا کال پرکھ کے (واحد ذات، حق تعالیٰ) بھگت بابا گورو نانک کہتے ہیں کہ ’’ جس طرح خدا نے اپنا کلام بھیجا میں نے اسی شکل میں اسے ادا کردیا‘‘۔ حقیقت یا روح مطلق کا تذکرہ اور انسانی وجود کی اس عرفان کے ذریعے تکمیل ہی سکھوں کی مقدس کتاب کا موضوع ہے جس میں صرف گورو نانک کی تخلیقات ہی نہیں بلکہ5 دوسرے گورو صاحبان اور عہد وسطیٰ کے ہندوستان کے بعض ہندو بھگت اور مسلمان صوفیاء کی تخلیقات بھی ہیں۔ 

 سولہویں صدی میں شہنشاہ ظہیر الدین بابر سے لے کر شاہجہاں اور پھر آخری مغل بادشاہ ظفر تک ہندوستان نے سماجی، شخصیاتی، معاشرتی اور مذہبی شکست و ریخت کا سامنا کیا۔ اسی دوران مختلف تہذیبوں کے تصادم اور میل جول سے زبانوں نے جنم لیا تصوف کو فروغ حاصل ہوا اور اس کے خلاف مختلف تحاریک بھی چلائی گئیں۔چشتیہ سلسلے کے بزرگ حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی تعلیمات کا بابا گورو نانک پر انتہائی اثر ہوا کیونکہ بابا گورو نانک شیخ فرید الدین عطار ؒکی پندرہویں پشت میں ان کے ایک پوتے شیخ ابراہیم فرید چشتی ؒکے مرید ہوئے ۔ اسی تعلق کی بناء پر کہا جاتا ہے کہ مسلمان صوفیاء کا بابا نانک کی زندگی پر گہرا اثر ہوا۔باباگورو نانک نے ہندوستان، لنکا، ایران اور عرب کے سفر کیے اور40 سال تک ان ممالک کے مقدس مقامات کی زیارت میں مشغول رہے۔ شیخ شرف الدین بو علی قلندر ؒپانی پتی کے آستانہ پر وہ ایک مدت تک رہے،مشائخ ملتان کی صحبت میں بھی رہے۔آپکا مشن ہندو اور مسلمانوں کو ایک کرنا تھا۔ یہ صوفیائے اسلام کی صحبت کا اثر تھا کہ آپ نے اعلان کیا تھا کہ ’’ خدا ایک ہے اور اس کا خلیفہ نانک سچ بولتا ہے۔‘‘ڈاکٹر تارا چند لکھتے ہیں کہ’’ گورو نانک پیغمبر اسلام ؐکو اپنا راہبر سمجھتے تھے اور ان کی تعلیمات پر بھی یہی اسلامی رنگ ہے۔ صوفیوں کی طرح نانک گورو یا راہبر کی متابعت ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک روحانی سفر کے 4 مراحل تھے۔ سرن کھنڈ، انان کھنڈ، کرم کھنڈ اور سچ کھنڈ۔ ‘‘کتاب نانک پرکاش کے مصنف کے مطابق’’ گورو نانک کے یہ 4 مراحل صوفیاء کے 4 مقامات، شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ اسلام کا گورو نانک پر کتنا گہرا اثر ہوا یہ بات خود بخود ظاہر ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بشیر بدرنے شاید پاک ، بھارت تعلقات اور عوام کے حالات کے بارے میں یہ لاجواب شعرکہا تھا کہ

...

مزید پڑھیں

٭:’’آزادی ‘‘کے نام پہ دھرنا بھی ۔۔۔جلسہ بھی۔۔۔ مارچ بھی ۔۔۔ کنٹینر بھی ۔۔۔تقریریں بھی ۔۔۔دھمکیاں بھی۔۔

...

مزید پڑھیں

٭:کیوں ایک اور دھرنا ۔۔۔کیوں ایک اور مارچ ۔۔۔؟

٭:یہ بھی طے نہیں کہ دھرنا ہو گا ، مارچ ہو گا یا جلسہ ۔۔۔ہو گا بھی یا نہیں ۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں