☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل رپورٹ سنڈے سپیشل
3الفاظ، تیسری نسل اور سیاسی تعفن

3الفاظ، تیسری نسل اور سیاسی تعفن

تحریر : طیبہ بخاری

11-10-2019

٭:’’آزادی ‘‘کے نام پہ دھرنا بھی ۔۔۔جلسہ بھی۔۔۔ مارچ بھی ۔۔۔ کنٹینر بھی ۔۔۔تقریریں بھی ۔۔۔دھمکیاں بھی۔۔

٭: ایک بار پھرعوام چند دنوں کیلئے ’’ آزاد آسمان ‘‘سے دور ہوئے۔۔۔اپنے ہی دیس میں محصور ہوئے۔۔۔نئے کردار آتے جا رہے ہیں ۔۔۔مگر ناٹک وہی پرانا ہے ۔۔جو کچھ بیت رہی ہے ملک و عوام پہ بیت رہی ہے ۔۔۔عوام بے چارے کس کو حالات بتائیں، کس سے گلہ کریں۔۔۔سب کے ہاتھوں میں ہی تلوار نظر آتی ہے۔۔۔دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں ۔ ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا 

٭:یہ منظر کون سا منظر ہے، پہچانا نہیں جاتا۔۔۔سیہ خانوں سے کچھ پوچھو شبستانوں پہ کیا گزری۔۔۔

٭:کوئی کرے تو کہاں تک مسیحائی کرے کہ ایک زخم بھر رہا ہے تو دوسرا دہائی دے رہا ہے۔۔۔مہنگائی ، بیروزگاری ، صحت اور تعلیم کے مسائل سے دوچار عوام کا حال ا یک شعر میں بیان کیا جائے تو 

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہو گا

میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا

٭:’’سیاسی تعفن ‘‘ ہے کہ کم ہونے کی بجائے پھیلتا ہی جا رہا ہے کوئی 3الفاظ سننا چاہ رہا ہے تو کوئی 3الفاظ نہیں کہنا چاہتا ۔۔۔کوئی 5الفاظ یا ایک لفظ کی کہانی سنا رہا ہے ۔۔۔ جمہوریت کے نام پر جمہور کی خدمت اور ترجمانی کے دعوے سبھی کر رہے ہیں لیکن عوام کل بھی پریشان تھے آج بھی پریشان ہیں اور فکرمند ہیں کہ ناجانے یہ ’’سیاسی تماشا ‘‘ کب ختم ہو گا ۔۔دھواں دار تقریریں ۔ الزامات سے بھرے بیانات ۔۔۔۔نفرتوں سے بھرے تجزیات جلسوں پہ جلسے ۔۔۔دھرنوں پہ دھرنے کب ختم ہونگے ۔ ۔ ۔ ۔ جب سب پارلیمینٹ میں ہیں تو سڑکوں پہ سیاسی جھگڑے کیوں۔۔۔جب سب پارلیمینٹ کے اراکین ہیں بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں تو ’’سلیکٹیڈ‘‘ اور ’’میں نہ مانوں ‘‘ کی گردان کیوں ۔۔۔؟ کسی کی ’’تبدیلی ‘‘ نا منظور ہے تو ایوان کے اندر ’’من چاہی تبدیلی ‘‘کیوں نہیں لائی جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ جمہوریت کے نام پہ جمہوری اداروں کی’’ بے توقیری‘‘ کیوں ؟ ہے کوئی پوچھنے والا کہ عوام کے دئیے ٹیکس سے اربوں روپے کے نتیجے میں جو انتخابات ہوئے اور اس کے نتیجے میں جو پارلیمان وجود میں آئی جس کے اجلاسوں پر بھی عوام کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور منتخب اراکین پارلیمان جو عوام کے پیسوں سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ان کا قانون سازی کے حوالے سے’’سکورنگ ریٹ ‘‘ کیا ہے؟ 14 ماہ کے دوران پارلیمان کے ذریعے کتنی قانون سازی ہوئی؟ ۔۔۔ہے کوئی جو صرف حکومت ہی نہیں اپوزیشن کی ’’پرفارمنس ‘‘ بھی چیک کرے ۔ ۔ ۔ استعفوں کا مطالبہ مجلس قانون ساز میں کیوں نہیں ۔ ۔ ؟جب فیصلے سڑکوں پہ ہی ہونے ہیں تو مجلس قانون ساز کیوں ۔ ۔ ۔ ؟ کیا ’’سیاسی ڈیڈلاک‘‘ جمہوریت کیلئے اچھی علامت ہے ۔ ۔؟شاید انہی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے افتخار عارف نے لکھا تھا کہ 

 بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا

میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا

چراغِ حجرہ درویش کی بجھتی ہوئی لو

ہو ا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہو گا

کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں

نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہو گا

کہانی آپ اُلجھی ہے کہ اُلجھائی گئی ہے

یہ عقدہ تب کُھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

زمیں جب عدل سے بھر جائے گی نور علی نور

بنامِ مسلک و مذہب تماشا ختم ہو گا

یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہو گا

تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے

کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہو گا

دلِ ما مطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا

جو خلق اُٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہو گا

 اب کی بار جو تماشا لگا ہے تو نہیں بتائیں گے ہم نئے کردار ۔ نہیں اچھالیں گے کسی کی پگڑی ۔۔۔نہیں لینا کسی کا نام ۔ ۔ ۔ نہیں بتانا کسی کا مقصد ، ایجنڈا یا مطلب ۔۔۔۔آپ عوام سب جانتے ہیں ، ہم صرف 2 کرداروں کے نام لیکر گفتگو کریں گے ۔ ایک کردار کانام ہے ’’حکومتی ٹیم ‘‘ اور دوسرے کردار کا نام ہو گا ’’احتجاجی ٹیم ‘‘ ۔۔۔کہانی وہی پرانی تھی جسکے سکرپٹ کو بُرا بھلا کہا گیا لیکن پھر بھی ساری باتیں وہی دہرائی گئیں جو 2014ء کے دھرنے میں تحریک انصاف اور (ن )لیگ کی حکومت کر رہی تھی، احتجاجی ٹیم نے استعفیٰ مانگا ، حکومتی ٹیم نے کہا وزیراعظم استعفیٰ دیں گے نہ ہی فوری طور پر الیکشن کروانے کی ضرورت ہے۔ تیس چالیس ہزار لوگ آجائیں اور استعفیٰ کی ڈیمانڈ کریں تو ایسے جمہوری حکومت نہیں چل سکتی لیکن 2014ء میں جب تحریک انصاف ڈیمانڈ کر رہی تھی (ن ) لیگ کی طرف سے بھی یہی کہا جاتا تھا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو قانون حرکت میں آئے گا اور نقصان کی ذمہ دار اپوزیشن جماعتیں ہوں گی۔

 احتجاجی ٹیم کا دعویٰ تھا کہ’’ وفاقی دارالحکومت میں’’ سنجیدہ اجتماع ‘‘ تھا اور ساری دنیا اسے سنجیدہ لے ‘‘۔۔۔۔اب ذرا ملاحظہ کیجئے کہ سنجیدہ افراد نے کیا کیا کیا اور کہا آزادی مارچ میں افغان طالبان کا جھنڈا لہرانے پر 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ، جبکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تردید کی گئی کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔ فیصلہ آپ عوام کریں کہ کس نے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔، ڈپٹی کمشنر کا دعویٰ میڈیا پر نشر ہوا تو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی کہ جلسہ گاہ سے کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا۔پھر اسٹیج سے اعلان ہوا کہ ایک نامعلوم لڑکے نے افغانستان کے طالبان کے پرچم کو لہرا رکھا تھا جس کو پنڈال سے باہر نکال دیا گیا 

احتجاجی ٹیم میں شامل دیگر بڑے کھلاڑیوں کی تقاریر کو چھوڑتے ہوئے صرف مولانا فضل الرحمن کی ایک تقریر کے چند جملے شاملِ گفتگو کئے جائیں تو انکا کہنا تھا کہ ’’معاہدہ ٹوٹ چکا، حکومتی رٹ ختم ہوگئی، اب حکومت ہم کریں گے، ملک کو آگے لیکر جائیں گے، حکومت غیر آئینی جعلی ہے، خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی، اپنی آئینی حیثیت ٹھیک کر لو، آنیوالوں دنوں میں ہم نے مزید مؤثر فیصلے کرنے ہیں۔ تحریک جدو جہد مسلسل کا نام ہے۔ 126 دن دھرنا کوئی ہمارے لئے آئیدیل نہیں ، ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا، غریب انسان مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے، جب تک موجودہ حکمران ملک میں ہیں ملک پیچھے جائے گا،70 سال کے قرضے ایک طرف انکے ایک سال کے قرضے اُس پر بھاری ہیں۔ہمارے مارچ میں خواتین کو عزت دی گئی۔ا آزادی مارچ کاتمام شہروں میں شاندار استقبال کیا گیا، ہمارے قافلوں کی وجہ سے نہ کوئی مسافر متاثر ہوا نہ کوئی مریض، اپوزیشن میں کوئی تقسیم نہیں۔ جب تک حکومت سے جان نہیں چھوٹے گی ہم میدان میں رہیں گے، وزیراعظم ہو تو وزیراعظم والی زبان استعمال کرو، آزادی مارچ میں کسی نے طالبان کا جھنڈا لہرایا تو بڑی بات ہو گئی، یہ بھی ہمارے جلسے کے خلاف سازش ہے۔‘‘مولانا فضل الرحمن نے اور بھی بہت کچھ کہا ، شٹر ڈائون اور لاک ڈائون کی دھمکیاں بھی جن کو یہاں دہرانا ضروری نہیں تاریخ کا قلم بڑا بے رحم ہوتا ہے وہ سب محفوظ کر چکا اور جب کبھی ضرورت پڑی بیان کرتا رہیگا ۔۔۔

پھر مارچ ، دھرنے اور جلسے میں اور بھی بہت کچھ ہوا سٹیج پر ایک نظر آنیوالی ٹیم میں اختلافات کی اندرونی کہانی سامنے آئی کسی نے پارلیمینٹ اور چاروں اسمبلیوں سے مشترکہ استعفے دینے کی تجویز دی تو کسی نے شدید تحفظات کا اظہار کر دیا۔ کسی کا مزید بیٹھنے پردبائو تھا تو کسی کا کھڑے ہونے پر ۔۔۔اجتماعی استعفے اور پہیہ جام بھی زیر غور رہے۔۔۔احتجاجی ٹیم شکوے شکایت کرتی رہی کہ وزرا ء نے ہمارے قائدین کیخلاف جو زبان استعمال کی وہ قابل افسوس ہے، ہمارے والدین تک بات نہ پہنچے،پنجاب کے ایک وزیر نے ہماری حب الوطنی پر طنز کئے آپ کیسے کسی کی نیت جان سکتے ہیں، نیتوں کو خدا جانتا ہے، آپ خدائی اختیار کیسے رکھتے ہیں؟۔ ۔۔۔۔ٹی وی چینلز پر تبصروں اور مباحثوں میں بھی احتجاجی ٹیم کے شرکاء گرجتے برستے رہے اور مؤقف اپنایا کہ یوٹرن نہیں لیں گے استعفوں کا پتا کب استعمال کرنا ہے یہ ہم جانتے ہیں شٹر ڈائون، ہائی وے بندش، استعفوں کے آپشن سمیت بہت سی چیزیں زیر غور ہیں، ووٹ کا ریشو دیکھیں 4 کروڑ 71 لاکھ 72 ہزار ووٹ اپوزیشن جماعتوں نے لیا اوراکثریت ان پر عدم اعتماد کر رہی ہے ان کے پاس 4 کروڑ ووٹ ہیں اتحادیوں کو ملا کر۔۔۔۔۔

یہ تھی 3الفاظ ، تیسری نسل اور سیاسی تعفن کی کہانی ۔۔۔عوام کی ’’سیاسی تعفن ‘‘ سے جان چلد چھٹے گی یا بدیر اسکا جواب ایک خبر کی صورت میں کچھ اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کا اپوزیشن کے جواب میں ملک گیر جلسوں کا فیصلہ کیا ہے عوام کے پاس جاکر بتایا جائیگا کہ اپوزیش جماعتوں نے اپنے بڑوں کی کرپشن چھپانے کیلئے مارچ کیا، ان جلسوں سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے اور اسلام آباد میں ایک بار پھر پی ٹی آئی اپنے ورکرز کو اکٹھا کر کے جمہوری انداز میں اپوزیشن کا جواب دیںگی۔۔۔۔۔یہ سوال و جواب کا سلسلہ کب ختم ہو گا کچھ کہا نہیں جا سکتا ، ایک نظم پیش کی جا سکتی ہے شائد ترجمانی ہو سکے 

 اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

دہقان تو مرکھپ گیا اب کس کو جگاؤں

ملتا ہے کہاں خوشہ ٔگندم کہ جلاؤں

شاہین کا ہے گنبدشاہی پہ بسیرا

کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

ہر داڑھی میں تنکا ہے،ہر ایک آنکھ میں شہتیر

مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر

توحید کی تلوارسے خالی ہیں نیامیں

اب ذوق یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن

مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن

جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈرہو

وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے

اس بندہ ٔمومن کو میں اب لاؤں کہاں سے

وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو!

اک بار تھا ہم چھٹ گئے اس بارگراں سے

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے

اُگتے ہیں تہ سایۂ گل خار غضب کے

یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی

اس کے تن خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے

جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے

تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا

مرمرکے جئے ہے کبھی جی جی کے مرے ہے

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

کسی کو ملک دشمنی نہیں کرنی چاہئے

حکومتی ٹیم نے احتجاجی ٹیم کے ’’سیاسی حملوں ‘‘ کا بھرپور جواب دیا اور کہا کہ احتجاجی ٹیم مدرسے کے بچوں کو ساتھ لے کر آئی، اداروں پر تنقید افسوسناک ہے، وزیر اعظم کے گھر میں گھس کر استعفیٰ لینے اور گرفتاری کے اعلان پرعدالت میں مقدمہ بغاوت دائر کریں گے وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے نہ قبل از وقت انتخابات ہوں گے،حکومتیں اتنی بھی لاچار نہیں ہوتیں کہ 30 سے 40 ہزار بندے آ کر قبضہ کر لیں۔ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں مگر استعفے پر کوئی بات نہیں ہو گی، ٹکرائو ہوا تو ذمہ دار حکومت نہیں ہوگی، جلسے میں تقریروں پر افسوس ہوا ، ادارے ہم سب کے ہیں ان پر تنقید نہ کی جائے، فوج جمہوری حکومت کے ساتھ ہے۔ احتجاج احتسابی عمل روکنے کی کوشش ہے، مارچ کے باعث مسئلہ کشمیر پیچھے چلا گیا۔ حکومتی ٹیم کے رکن وفاقی وزیرعلی امین گنڈا نے مولانا فضل الرحمن کو ایک بار پھر انتخابی میدان میں اترنے کا چیلنج دیتے ہوئے پیشکش کی کہ میں اپنی نشست چھوڑنے کو تیار ہوں، مولانا کو چیلنج ہے دوبارہ انتخابات جیت کر دکھائیں ، چاہیں تو ہر پولنگ اسٹیشن میں کیمرے لگا کر انتخابات لڑلیں، ہمت ہے تو چیلنج قبول کریں۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود،معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا ’’ ہم بات کرنے کو تیار ہیں لیکن اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ہماری طرف سے گلہ کسی کو نہیں کرنا چاہئے کیونکہ عمران خان نے کھلے دل سے اجازت دیتے ہوئے انہیں آنے دیا، لیکن یہ پھر بھی دھمکی دیتے ہیں تو یہ ایمان اور زبان کے کچے ہیں، ہم اپنی زبان پر قائم ہیں اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا کہ کوئی یہ کہے کہ اپنے معاہدے سے ہٹ گئے ۔ اگر اداروں پر تنقید کرینگے جنہوں نے شہادتیں دیں، تو پھر پاکستان میں کون کام کریگا، کسی کو ملک دشمنی نہیں کرنی چاہئے، یہ ادارے ہم سب کے ہیں۔ شہباز شریف کی بات بھی سنی کہ میری 10 فیصد حمایت بھی کی جاتی تو میں کچھ اور کر دیتا، لیکن میں کہتا ہوں کہ انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے تھا کہ نواز شریف اقتدار میں کیسے آئے، یہ پہلی دفعہ ہے کہ ایک فوج اور ادارہ نیوٹرل ہے اور انہیں شکست ہوئی جس پر انہیں تکلیف ہے، یہ سب کسی کی پشت پناہی پر چلتے رہے لیکن اب ادارے سمجھ گئے اور اب نیوٹرل کردار ادا کر رہے ہیں جس پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کہتے تھے کہ مذہبی کارڈ استعمال نہیں کیا جائے گا اور پیپلز پارٹی بھی کہتی تھی کہ وہ اس کی حمایت نہیں کریگی لیکن وہ سٹیج پر کھڑے تھے اور ہنس رہے تھے، دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ملک کو نقصان پہنچا ۔ ہم نے الیکشن میں دھاندلی کی بات کی تھی جسکے بعد اسمبلی میں معاملہ اٹھایا اور عدالتوں میں بھی گئے تمام حربے استعمال کرنے کے بعد دھرنے میں آئے لیکن یہ تو گئے ہی نہیں۔ ہم کسی طرح کا ٹکرائو نہیں چاہتے، یہ ڈرتے ہیں کہ اگر حکومت کامیاب ہو گئی اور سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو انہیں اقتدار نہیں ملے گا۔شہباز شریف بتائیں کہ فوج نے انہیں پولیسنگ، کچہری، تعلیمی اداروں کے نظام کو ٹھیک کرنے سے روکا تھا؟ اپوزیشن والے انتظار کیوں کررہے ہیں استعفے دیں میدان میں آئیں۔ انہوں نے کشمیر سے ایشو کو ہٹا کے اپنے مقاصد کی طرف موڑ دیا ہے، اگر انہیں الیکشن پر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں۔۔۔۔۔یہ تو تھا حکومتی ٹیم کا مؤقف ۔۔۔۔اپوزیشن کو یہ تو تسلیم کرنا پڑیگا کہ انکا جمہوری حق تسلیم کیا گیا اور انہیں اسلام آباد آنے دیا گیا ، بلا روک ٹوک جلسوں کی اجازت دی گئی اور کسی پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا ۔

 

5 خاندان ، چمچے اور حلوے کی پیشکش 

حکومتی ٹیم نے احتجاجی ٹیم کو للکارتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے ایک اشارے پر 5 پیاروں اور ان کے چمچوں پر زمین تنگ کر دیں گے اور انہیں کہیں چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔ حلوہ مارچ کی بدبو سے تعفن پھیل چکا، حکومت کو کمزورنہ سمجھا جائے ہم عمران خان کی ہدایت پرتحمل کامظاہرہ کررہے ہیں۔ سوال بنتا ہے کہ بے نظیر بھٹوسمیت سینکڑوں پاکستانیوں کی شہادت کے ذمہ دار بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ سے ان کا کیا تعلق تھا؟حلوہ مارچ کی ناکامی پاکستان کی کامیابی ہے مارچ وہ طبقہ کر رہا تھا جس نے قیامِ پاکستان کی مخالفت کی، ان کے بزرگ قائدِ اعظمؒ کی اپوزیشن تھے۔ اس طبقے کی شکست پاکستان کے مستقبل کی کنجی ہے ۔ کنٹینر پر موجود 5 خاندان اپنی اولاد تک حکمرانی پہنچانے کیلئے ریاست پر حملہ آور ہیں 31 سال سے ناجائز حکمرانوں کا کھایا ہوا نمک حلال کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ۔۔۔حکومتی ٹیم کے ارکان کنٹینر پر جا کر احتجاجی ٹیم سے مرغ چھولے کھانے کی فرمائشیں کرتے رہے جبکہ احتجاجی ٹیم کے ارکان حکومتی ٹیم کے ارکان کو حلوے کی پیشکش بھی کرتے رہے ۔

حکومتی ٹیم اپنے کپتان کا مؤقف دہراتی رہی کہ ہم کسی صورت این آر او نہیں دیں گے نہ کرپشن آگے بڑھنے دیں گے، وزیراعظم کا قصو رموٹی گردنوں والے ڈاکوئوں کو احتساب کے عمل میں لاکھڑا کرنا ہے۔ دو جماعتوں کے پاس احتجاج کیلئے لوگ نہیں ہیں، دونوں جماعتوں نے اپنا ملبہ تیسرے کے کندھے پر رکھ دیا ، مارچ کی ناکامی کے بعدحکومت آسمان پر پہنچ جائے گی، ہم راکٹ میں بیٹھے ہوں گے اور آسمان کی بلندیوں پر ہوں گے، ہم چاند کے مسافر ہیں ان کی سیاست قبرستان کی ہے۔ دہائیوں سے قوم پر مسلط رہنے والوں کواپنی تیسری نسل کا سیاسی مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ حکومت سے مولانا فضل الرحمٰن کا جھگڑا اسد محمود کے لیے ہے، آصف زرداری کا جھگڑا بلاول کیلئے ، نواز شریف کا جھگڑا مریم نواز کیلئے ، شہباز شریف کا جھگڑا حمزہ شہباز کیلئے اور اسفندیار ولی کاجھگڑاایمل ولی خان کیلئے ہے۔جب یہ سب اکٹھے حکومت سے باہر ہوئے ہیں تو سب یکجا ہو کر منتخب حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

احتجاجی ٹیم نے جواب کچھ اس طرح دیا کہ’’حکومتی رکن جس راکٹ پر سوار ہوکر چاند پر جائیں گے وہ انکے اپنے ایک وزیرکا بنایا ہوا تو نہیں ہے،انکے وزیر رویت ہلال کمیٹی کے خول سے نہیں نکلے، آج جو صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے یہ کرائے دار ہیں ان کا ذاتی مکان نہیں ہے، کسی کو این آر او دینے کا اختیار نہیں انہیںسیاسی جدوجہد کے ذریعے ہٹانا لازمی ہے۔‘‘

ہلہ گلہ ، ناشتے ، جُھولے ، طرح طرح کے کھیل اور ویڈیوز 

 

احتجاجی ٹیم کے شرکاء جہاں ایک طرف اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے، وہیں دوسری طرف اپنا وقت خوب تفریح کرتے گزارتے رہے اور طرح طرح کے کھیل کھیلتے نظر آئے۔ایک طرف بے چارے عوام ’’سیاسی تعفن ‘‘ کا شکار تھے تو دوسری طرف حکومت کیخلاف جاری دھرنے میں کارکنان کی طرف سے خوب ہلہ گلہ کرنے کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں۔کبھی کارکن جھولا جھولتے نظر آئے، ٹرکوں پر سفرکے دوران اچھل کود کرتے رہے، موٹر سائیکلوں پہ نت نئی حرکتیں کرتے رہے تو کبھی ایک دوسرے کے ساتھ کشتی لڑتے دکھائی دئیے جبکہ بعض توجہ حاصل کرنے کیلئے جوڈو کراٹے اور جمناسٹک کے کرتب کرتے رہے ۔قصہ مختصر شرکاء نے تفریح سے بھرپور دن گزارے اور احتجاج کے ساتھ ساتھ آپس میں مذاق مستیاں اور کھیل کود کیا۔کوئی ٹینشن میں نہیں تھا ،گرائونڈ میں چہل پہل عام تھی، جگہ جگہ کھانوںکے سٹال ، کہیں گرما گرم چائے بنتی نظر آئی، تو کوئی اخبار پڑھتا نظر آیا، تازہ دم رہنے کیلئے شرکاء صبح سویرے دودھ پتی، حلوے اور نان کا ناشتہ کرتے گرائونڈ کی صفائی بھی کی کسی نے کچرا اُٹھایا تو کسی نے بستر لپیٹ کر رکھے، ٹھنڈے موسم سے بچنے کیلئے گرم کپڑوں کا استعمال کیا ۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائر ل ہوئی جس میںمارچ کے شرکاء گوجر خان کے قریب جھولے کے مزے لیتے رہے اور خوب ہلہ گُلہ کیا۔ بعض شرکاء جلسہ گاہ کے اطراف میں موجود سڑک پر فٹ بال کھیل کر لطف اندوز ہوئے، جبکہ ایک بڑی تعداد ان کا یہ میچ دیکھتی اور داد دیتی رہی۔دوسری جانب چند افراد نے ایک بڑی سی چادر کی مدد سے اپنے ساتھی کو فضاء میں اُچھالا، جبکہ ساتھ کھڑے افراد نے اس منظر کو خوب انجوائے کیا۔ناشتے میں ہرنائی بلوچستان کی سوغات ٹکی بھی کھائی گئی جو 3 ماہ تک خراب نہیں ہوتی۔بعض شرکاء جہاں اپنے ساتھ کھانے پینے کا بہت سا سامان لائے وہیں ایک شخص اپنے ساتھ سولر پینل اور بیٹری بھی لے آیا جس سے مارچ کے شرکا ء نے اپنے موبائل فون چارج کیے۔۔۔۔دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جلسے میں اسٹیج سے نواز شریف کے خلاف نعرے بھی لگ گئے۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:بھارتی معیشت ڈول رہی ہے ۔۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں

شاعر نے شائد یہ مقبوضہ کشمیر کیلئے کہا ہو گا

...

مزید پڑھیں

٭:سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔۔۔نہ ہو

...

مزید پڑھیں