☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
بھارتی معیشت کیوں بیٹھ گئی؟

بھارتی معیشت کیوں بیٹھ گئی؟

تحریر : طیبہ بخاری

12-08-2019

٭:بھارتی معیشت ڈول رہی ہے ۔۔۔۔؟

٭:ڈگمگا رہی ہے ۔۔۔لڑکھڑا رہی ہے ۔۔۔؟

٭:یا سست روی کا شکار ہے۔۔۔۔؟ 

٭:کچھ بھی کہا یا مان لیاجائے کیا حقائق جاننے کیلئے یہ کڑوا سچ کافی نہیں کہ بھارت میں7ہزار انجینئرز اورگریجویٹس نے سینٹری ورکرز بھرتی ہونے کیلئے اپلائی کیا جبکہ اسامیوں کی تعداد صرف صرف549 ہے ۔۔۔۔

٭: غیر جانبداری سے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس سے زیادہ ابتری اور کیا ہوسکتی ہے کہ بھارت اور پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان بے روزگاری ، غربت ، بھوک، صحت اور مہنگی تعلیم جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں اور ترقی کی دوڑ سے باہر ہیں۔۔۔ ذرا غور کریں کہ بھارتی پنجاب کے مختلف حصوں اور دیہرادون میں رہنے والے مقبوضہ کشمیر کے طلباء کا کہناہے کہ ان کے کالجوں میں کم حاضری اور تاخیر سے فیس ادا کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا، کیونکہ طلباء مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل370کی خاتمے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے مقررہ حاضری سے قاصر رہے ۔فیس کی وقت پر ادائیگی میں ناکامی پر ان طلباء پر5ہزار سے 12ہزار تک جرمانہ کیاگیا اور اُن کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ جرمانے اور فیس ادا کر سکیں ۔

٭:پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں تو بھارت میں پیاز کے نرخ عوام اور حکومت کو رُلا رہے ہیں ۔ کرتارپور راہداری کے ذریعے پاکستان آنیوالے سکھ یاتری لنگر بنانے کیلئے اپنے ساتھ ٹماٹر لا رہے ہیں جبکہ بھارت میں پیاز کی قیمتیں بڑھنے کے بعد اس کی چوری اور لوٹ مار شروع ہو گئی ہے۔ صرف ایک ریاست کی بات کریں تو مدھیہ پردیش میں ٹرک پر لدے 20 لاکھ روپے مالیت کے پیاز چوری کر لیے گئے۔پیاز کا ٹرک ناسک سے گورکھ پور جا رہا تھا کہ لوٹ لیا گیا۔مہاراشٹرا، گجرات اور کرناٹکا میں غیرمعمولی بارشوں کے باعث فصلیں تباہ ہونے سے پیاز کی قیمتیں بڑھیں۔

٭: اور اگردنیا میں بھوک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ’’گلوبل ہنگر انڈیکس‘‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 117 ممالک کی فہرست میں پاکستان گذشتہ سال کے مقابلے میں 12 درجہ بہتری حاصل کر کے 94ویں نمبر پر جبکہ بھارت 102 نمبر پر ہے۔جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک میں سری لنکا 66ویں، نیپال 73ویں، بنگلہ دیش 88ویںاور افغانستان 108ویں نمبر پر ہے۔گلوبل انڈیکس میں نیچے ہونے کا مطلب ہے کہ اُس ملک کی آبادی کو ضروری خوراک نہیں مل رہی، بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہے، وزن کم اور وہ خوراک کی کمی کا شمار ہیں۔

 ایشیاء کی تیسری بڑی معیشت بھارت ’’گلوبل ہنگر انڈیکس‘‘ کے مطابق جنوبی ایشیاء میں سب سے پیچھے ہے۔ بھارت 2010ء میں 95ویں نمبر پر تھا اور اب 2019ء میں 102ویں نمبر پر ہے۔دنیا بھر میں جنوبی ایشیائی ممالک اور افریقہ میں صحارائے اعظم کے جنوب میں واقع ممالک ہنگر انڈیکس میں سب سے پیچھے ہیں۔ رپورٹ میں جنوبی ایشیا ء کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بچوں کو کم خوراک میسر ہونے کے باعث ان کی عالمی فہرست میں درجہ بندی اتنی پیچھے ہے۔مزید یہ کہ بچوں کی نشوونما میں کمی کا تناسب سب سے زیادہ جنوبی ایشیا ء میں پایا جاتا ہے جہاں وہ 37 فیصد سے زیادہ ہے۔بھارت میں بچوں کی نشوونما میں کمی کا تناسب تقریباً 38 فیصد ہے اور6 ماہ سے 23 ماہ کی عمر والے بچوں میں10 فیصد سے بھی کم کو ان کی عمر کے لحاظ سے مطلوبہ غذا ملتی ہے۔’’گلوبل ہنگر انڈیکس‘‘ کی 2019ء کی فہرست میں لیٹویا، بیلاروس، ایسٹونیا، کویت اور ترکی کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خوراک کے معاملے صورتحال سب سے اچھی ہے۔ 

٭: واپس چلیں اپنے موضوع کی طرف تو کہا جا رہا ہے کہ نریند رمودی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں سے معیشت بیٹھ گئی اور بھارت اُبھرتی معیشت کا اعزاز کھو بیٹھا جس سے شرح نمو 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔جولائی تا ستمبر بھارتی معاشی شرح نمو ساڑھے 4 فیصد رہی گذشتہ سال جولائی تا ستمبر بھارتی معیشت کی شرح نمو 7 فیصد تھی، رواں سال اپریل سے جون 2019 میں شرح نمو 5 فیصد تھی اسی طرح بھارت میں بے روزگاری کی شرح بھی 40 سال کی بلند ترین سطح پر آچکی ہے ۔۔

بھارت میں رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے جو اعداد و شمار جاری کئے گئے ان میں مجموعی پیداوار کی ترقی کی شرح میں مسلسل گراوٹ نظر آ رہی ہے۔خدشات سچ ثابت ہوئے اور جی ڈی پی کی شرح نمو ساڑھے چار فیصد رہی ۔ عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز نے کچھ عرصہ قبل ترقی کی شرح کے 5 فیصد سے بھی کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا لیکن اس جائزے میں خدشات کے باوجود ترقی کی شرح 4.7 فیصد بتائی گئی تھی۔اب جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ اس خوف سے بھی بدتر ہیں اور پچھلے6 برسوں میں بدترین ہیں۔ اس سے قبل 2013ء میں جنوری اور مارچ کے درمیان یہ شرح 4.3 فیصد تھی۔مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ جی ڈی پی کی ترقی کی شرح میں یہ مسلسل چھٹی سہ ماہی ہے جس میں گراوٹ نظر آئی۔ صنعت کے شعبے کی شرح 6.7 فیصد سے کم ہو کر محض نصف فیصد رہ گئی ہے جسے اقتصادی ماہرین انتہائی پریشان کن قرار دے رہے ہیں۔اس میں بھی اشیاء کی تیاری میں اضافے کی بجائے نصف فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ دوسری طرف زراعت کے شعبے میں اضافے کی شرح 4.9 سے کم ہو کر 2.1 فیصد اور سروسز کے شعبے میں ترقی کی شرح 7.3 فیصد سے کم ہو کر 6.8 ہوگئی ہے۔

ماہرین کے مطابق فی کس آمدن زیادہ ہونے کا مطلب شہریوں کی بہتر زندگی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں غربت یا بھوک نہ ہوکیونکہ یہ اوسط ہوتی ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں فی کس جی ڈی پی تقریباً 55 ہزار ڈالرزہے لیکن وہاں بھی تقریباً 10 فیصد لوگ اپنے کھانے کا انتظام کرنے سے قاصر ہیں ۔ بھارت کی فی کس جی ڈی پی رواں سال1 لاکھ 46 ہزاربھارتی روپے رہی۔ اتنی سالانہ کمائی میں ممبئی جیسے بڑے شہر میں بہت سے لوگ گزر بسر کرتے ہیں لیکن یہ بھارت میں فی کس جی ڈی پی کا اوسط ہے اور اس کا مطلب ہے کہ گنتی کے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کا لاکھوں گنا زیادہ کما رہے ہیں اور بھارتی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اس کا دسواں یا سواں حصہ بھی حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ یہ عدم مساوات کی ایک علیٰحدہ بحث ہے۔گذشتہ ڈیڑھ سال سے جی ڈی پی میں مسلسل گراوٹ نظر آ رہی ہے اور اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس میں بہتری کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر رواں سال کی چوتھی اور آخری سہ ماہی میں بھی زوال کا سلسلہ جاری رہا تو پھر اس میں بہتری لانا مشکل ہوگا کیونکہ مودی حکومت اس میں اصلاح کیلئے کئی اقدام پہلے ہی کر چکی ہے۔مودی حکومت کا ٹارگٹ معیشت کو 5 کھرب ڈالرز تک لے جانا ہے۔ صرف کیلکولیٹر پر حساب کتاب کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 12 فیصد سے زیادہ ہونی چاہیے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ10برسوں سے بھارت 10 فیصد کی ترقی کا خواب دیکھتا رہا ہے اور عموماً ترقی کی شرح سالانہ 7 سے8 فیصد کے درمیان رہی ۔پچھلے سال ترقی کی اس شرح میں کمی آئی لیکن پھر بھی تقریباً 7فیصد تھی لیکن اب اگر اس میں مزید کمی آتی ہے تو یہ سنگین پریشانی کی علامت ہے۔

یہ پریشانی کی علامت اس لیے بھی ہے کہ عام آدمی کے اخراجات میں تیزی سے کمی نظر آئی ہے۔ وہ بھی عام آدمی کے اخراجات میں جسے کنزیومر سپینڈنگ کہا جاتا ہے۔ یعنی لوگ سامان نہیں خرید رہے، اخراجات میں کٹوتی کر رہے ہیںاور ان کے پاس جو رقم ہے اُسے سوچ سمجھ کر خرچ کر رہے ہیں یا زیادہ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سامان فروخت نہیں ہوگا تو کمپنیاں اور تاجر مشکل میںآئیں گے ، کمپنیاں اور تاجر مشکل میں ہوں گے تو عملہ، کارکن یالیبر مشکل میں آئیگا تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ہوسکتا ہے تنخواہ بھی نہ ملے اور نوکری جانے کا خدشہ رہے۔ انہی وجوہات کے سبب بھارت میںبہت سے لوگ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا جا رہا ہے کہ عوام کو اپنی ترقی پر بھروسہ نہیں ، ابھی تک بی جے پی حکومت نے جو کچھ کیا وہ سب اس راہ پر ہے کہ بینکوں سے قرض لیے جائیں، نظام میں پیسہ آئے، کاروبار میں تیزی آئے اور ترقی میں اضافہ ہو۔لیکن قرض میں سود کی شرح کا محض کم ہونا ہی اس پریشانی کا علاج نہیں ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اس ساری صورتحال کے بارے میں مؤقف رکھتی ہیںکہ بھارت میں کوئی کساد بازاری نہیں ہے۔ علم معاشیات کی رُو سے انکی بات سہی ہو سکتی ہے لیکن انگریزی میں جسے ’’سلو ڈاؤن‘‘ کہتے ہیں اس کا مطلب بھی تو مندی اور سست رفتاری ہی ہوتا ہے۔ اور خود وزیر خزانہ اعتراف کر چکی ہیں کہ شاید یہ سست روی ہے۔

 

عدم اعتماد ، ڈر اور مایوسی کی زہریلی آمیزش ترقی کو متاثر کر رہی ہے : منموہن سنگھ 

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 4.5فیصد رہنے کو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ’’ناکافی‘‘ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ معیشت کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ہمارے سماج کی حالت زیادہ تشویشناک ہے ۔ معیشت پر نیشنل کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے بھارتی معیشت کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا کہ ’’آئی جی ڈی پی کے اعدادوشمار 4.5فیصد کے سب سے کم سطح پر ہے ، یہ صاف طور پر نا قابل قبول ہے بھارت کی توقع 9-8فیصد کی شرح نمو ہے ۔ پہلی سہ ماہی کی 5.1فیصد جی ڈی پی سے دوسری سہ ماہی میں 4.5فیصد پر پہنچنا تشویشناک ہے ۔ اقتصادی پالیسیوں میں کچھ تبدیلی کر دینے سے معیشت کی بحالی میں مدد نہیں ملے گی ۔ اقتصادی حالت سماجی حالت سے متاثر ہوتی ہے ، ہمارا سماج گہرے عدم اعتماد ، ڈر اور مایوسی کے جذبات کی زہریلی آمیزش میں مبتلا ہے اور یہ سب اقتصادی سرگرمیوں اور ترقی کو متاثر کر رہا ہے ۔ معیشت میں سالانہ 8فیصد کے اضافے کیلئے ہمیں سماج کے موجودہ ڈر کے ماحول کو خود اعتمادی کے ماحول میں بدلنا ہو گا ۔ معیشت کی حالت سماج کی حالت کا عکس ہوتی ہے ہمارے بھروسے اور خود اعتمادی کا سماجی تانا بانا تباہ ہو چکا ہے ، آپسی اعتماد ہمارے سماجی لین دین کی بنیاد ہے اور اس سے اقتصادی ترقی کو مدد ملتی ہے ۔ صنعتکار سرکاری افسران کے ذریعے استحصال کے خوف میں مبتلا ہیں ۔ بینکر ڈر سے نئے قرضے نہیں دینا چاہتے صنعتکار ناکامی کے ڈر سے نئے منصوبے شروع کرنے میں جھجک رہے ہیں ۔ حکومت اور دیگر اداروں میں بیٹھے پالیسی بنانے والے سچ بولنے سے ڈرتے ہیں مختلف اقتصادی شعبوں میں گہرا ڈر اور عدم اعتماد ہے۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتا ہوں کہ سماج میں گہرائی تک داخل ہو چکے شک کو دور کرتے ہوئے معیشت کی مدد کریں سماج میں ’’جڑ پکڑتے خدشات ‘‘ دور کریں اور بھارت کو پھر سے خوشگوار اور آپسی بھروسے والا سماج بنائیں ۔ ‘‘

اور اگر2سال قبل نومبر 2017ء کا ذکر کریں جب مودی حکومت کی نوٹ بندی پالیسی پر بحث جاری تھی تو اس وقت منموہن سنگھ نے اسے ’’بغیر سوچا سمجھا قدم ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ منظم لوٹ اور قانونی ڈاکہ زنی تھی ، نوٹ بندی کا کوئی ہدف حاصل نہیں ہو سکا ، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے جی ڈی پی میں 40فیصد خدمات والے غیر منظم شعبوں اور چھوٹے پیمانوں پر ہونیوالی تجارت کو دوہرا جھٹکا لگا ۔ نوٹ بندی اورجی ایس ٹی نے جی ڈی پی کو بری طرح متاثر کیا ۔

دوسری جانب کانگریس کی جنرل سیکرٹری پرینکا گاندھی جی ڈی پی کی شرح گر کر 4.5فیصد تک آنے کا ذمہ دار مودی حکومت کو قرار دے رہی ہیں۔ انکا ماننا ہے کہ صاف ہو گیا کہ مودی سرکار اقتصادی ترقی کے جھوٹے دعوے کر رہی ہے، بی جے پی بے روزگاری کم کرنے میں ناکام رہی کسانوں سے جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا نہیں کر پائی اور ترقی کی خواہش رکھنے ولے بھارت اور اسکی معیشت کو بی جے پی سرکارنے اپنی ناکامی کی وجہ سے برباد کر دیا ۔ 

منموہن سنگھ اور پرینکا گاندھی کے خدشات کے جواب میں اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاویڈکر کہتے ہیں کہ مودی حکومت نے معیشت میں بہتری کیلئے جو قدم اٹھائے ان کے نتائج سامنے آ رہے ہیں جی ڈی پی کے اعدادوشمار میں نظر آنیوالی گراوٹ عالمی وجوہات کے سبب ہے ۔ 6مہینوں میں ملک تیزی سے ترقی کی جانب بڑھا ، بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کا کام ہوا اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ۔ اقتصادی سستی جو دنیا بھر میں ہے اسی کا تھوڑا اثربھارت دکھائی دے رہا ہے لیکن لوگوں کے ہاتھوں میں پیسے کی ترسیل میں اضافہ ہوا ۔ حکومت نے کئی بڑے فیصلے کئے بینکوں کا انضمام ہو یا بینکوں کو 70ہزار کروڑ روپے دینے کی بات ہو ، اڑھائی لاکھ کروڑ روپے کا قرض صنعتوں کو دینے کا خصوصی پروگرام ہو یا این سی ایل ٹی میں زیر التواء بہت سارے معاملات سلجھانے کی بات ہوبھارت سب سے کم کارپوریٹ ٹیکس والا ملک بن گیا ہے ۔‘‘

غلط فیصلوں نے معیشت کی شکل مسخ کر کے رکھ دی ہمسایہ ممالک ہم سے آگے نکل گئے: بھارتی میڈیا 

یہاں بھارتی میڈیا کی رپورٹس کا تذکرہ کرنا بہت ضروری ہے جو معیشت کے بارے میں جاری کئے گئے اعدادوشمار پر دبے دبے انداز میں بات کر رہا ہے ۔ہم کوئی تبصرہ نہیں کرتے صرف ایک بھارت روزنامے کے ادارئیے کا تذکرہ کئے دیتے ہیں ،اخبار اپنے ادارئیے میں لکھتا ہے کہ قحط الرجال اور قحط الروزگار کے سنگین المیے سے دوچار بھارتی معیشت ترقی ٔ معکوس کی جانب سفر کر رہی ہے۔ اقتصادی شرح نمو میں مسلسل گراوٹ جاری ہے جبکہ اس کے برعکس پڑوسی ممالک کی شرح نمو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان کی موجودہ اقتصادی شرح نمو اپنی رفتار سے جاری ہے اور وہاں جی ڈی پی 5.2فیصد ہے ۔ ’’ہمسایہ پہلے ‘‘ کی پالیسی شروع کرتے ہوئے بھارت نے جس سری لنکا کو 45کروڑ ڈالرز کا قرض دیا اسکی جی ڈی پی 6.5فیصد ہے جبکہ ہماری کاوشوں کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والا بنگلہ دیش 8.2فیصد کے جی ڈی پی کے ساتھ ایشیاء میں مضبوط معیشت والا ملک بننے کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ ہم 5ہزار ارب ڈالرز کی معیشت کا بلند و بانگ دعویٰ کرتے ہوئے عوام کو احمقوں کی جنت کی سیر کرا رہے ہیں ۔ ہوش ربا معاشی عدم مساوات اور اقتصادی کساد بازاری کیساتھ جی ڈی پی کی شرح میں کمی کا سب سے زیادہ اثر بھارتی غریب عوام پر پڑ رہا ہے ۔ معاشی اصولوں کے مطابق جب کسی ملک کی شرح نمو میں ایک فیصد کمی آتی ہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر شہری کی آمدنی میں یومیہ 105روپے کمی آ گئی ۔ آمدنی میں کمی کی وجہ سے عوام کی قوتِ خرید کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی ہے اور اسکا اثر پیداواری کمپنیوں پر پڑتا ہے ۔ خریدار نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیاں اپنی پیداواری اکائیاں بند کردیتی ہیں جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع ختم ہو جاتے ہیں بلکہ مزدوروں اور صنعتی کارکنوں پر بے روزگاری کا بھیانک عفریت مسلط ہو جاتا ہے ۔ گذشتہ کئی برسوں سے یہ صورتحال بھارت میں جاری ہے اور آنیوالے برسوں میں اس کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ۔ معیشت کی بحالی کیلئے وزارت خزانہ کی جانب سے اب تک جتنے اقدامات کئے گئے ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘ کے مصداق وہ سب بے اثر ہو چکے ہیں ۔ جی ایس ٹی کے نفاذ ، بینکوں کا انضمام ، منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری جیسے فیصلے بحران کا ایسا طوفان لے آئے جس نے بھارتی معیشت کی شکل مسخ کر کے رکھ دی ہے ۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ معیشت جس تیزی سے بحران کا شکار ہوئی اس سے کہیں زیادہ رفتار کیساتھ چند سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی دولت میں اضافہ ہوا ہے ۔ 2017-18میں بھارت کا جی ڈی پی 7.2فیصد تھا جو مسلسل کم ہوتے ہوئے آج 4.5فیصد پر ہے ، آج بھارت میں ہر 100میں سے 15افراد بھوکے رہتے ہیں اور ہر سال 7ہزار بچے کھانے کی کمی کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ گنتی کے چند افراد کے پاس اتنی دولت عدم مساوات کی مکروہ اور غلیظ ترین شکل ہے ۔ یہ صورتحال بھارتی معاشی نظام کی مکمل ناکامی کی آئینہ دار ہے۔ قبل اس کے کہ دیر ہو جائے اور بھارت دیوالیہ پن کی دہلیز پر پہنچ جائے اس کے ازالے کیلئے ہنگامی اور جنگی پیمانے پر کارروائی ہونی چاہئے، فقط بلند و بانگ دعو ؤں ، پُر شکوہ الفاظ اور خوش نما وعدوں کی بنیاد پر بھارت کا معاشی نظام نہیں چلایا جا سکتا اور نہ ہی اس صورتحال کو وقتی بحران سمجھ کر اس سے فرار مسئلے کا حل ہو سکتا ہے ۔ مسئلے کی سنگینی اس امر کی متقاضی ہے کہ اس پر مودی حکومت کے سبھی دماغ سر جوڑ کر بیٹھیں اور صورتحال سے چھٹکارے کی ہوشمندانہ اجتماعی کوششیں کریں ۔ 

بی جے پی کا اقتدار سمٹ رہا ہے 

بھارت کی دوسری بڑی ریاست مہاراشٹر میں شیوسینا، کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کی اتحادی حکومت قائم ہونے کیساتھ ہی بی جے پی ایک اور ریاست میں اقتدار سے محروم ہوگئی ۔ 2017 ء میں بھارت کے 71 فیصد حصے پر بی جے پی اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان تھی لیکن اب اس کا اقتدار سمٹ کر 40 فیصد ریاستوں تک ہی محدود ہو چکا ہے۔یعنی صرف بھارت کے جی ڈی پی میں کمی نہیں آئی بلکہ بی جے پی کے اقتدار کی شرح میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے اور صرف 2سال میں اسکے اقتدار میں 31فیصد کمی آئی ۔ بڑی ریاستوں میں اب صرف اتر پردیش پر اس کی حکومت ہے مہاراشٹر میں اقتدار کھونا بھاجپاکی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل دونوں کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے۔شیو سینا بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی تھی اور مہاراشٹر میں ان کی مخلوط حکومت تھی۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میںمہاراشٹر کی 288 رکنی اسمبلی میں شیو سینا کو 56 اور بی جے پی کو 105 نشستیں حاصل ہوئیںجو حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ اکثریت سے زیادہ تھیں۔ لیکن شیو سینا نے مطالبہ کر دیا کہ اس مرتبہ وزیر اعلیٰ انکا ہو گا۔ بی جے پی اس کیلئے تیار نہیں تھی اس لیے دونوں کا سیاسی اتحاد ٹوٹ گیا۔ دوسری جانب کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی تھیں جو ہمیشہ بی جے پی اور شیو سینا کیخلاف رہی ہیں۔ اس بار بھی دونوں جماعتوں نے شیو سینا اور بی جے پی کے خلاف الیکشن لڑا لیکن ریاست کی پلٹتی سیاسی بساط پر سب بدل گیا۔ آپسی نظریاتی اختلافات بھلا کرشیو سینا کی قیادت میں حکومت بنالی گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی، شیو سینا سے اتنے بڑے سیاسی دھچکے کیلئے تیار نہیں تھی۔ اس نے شیو سینا اور کانگریس کی حکومت بننے سے پہلے ہی ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا۔مہاراشٹر اقتصادی طور پر بھارت کی سب سے اہم ریاست ہے۔ بی جے پی اتنی آسانی سے مہاراشٹر کا اقتدار شیو سینا اور کانگریس کودینے کیلئے تیار نہیں تھی کئی ڈرامائی تبدیلیاں ہوئیں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما اجیت پوار کو اپنے ساتھ ملا یا گیا اور گورنر کی مدد سے صبح 8بجے دیوندر فڈ نویس کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف دلایا گیا۔سپریم کورٹ نے اس حکومت کو اگلے ہی روز مہارشٹر اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا۔ بی جے پی کے پاس اسمبلی میں مطلوبہ عددی اکثریت نہیں تھی۔ انہوں نے اسمبلی میں اکثریتی ووٹ کی گنتی سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔جسکے بعد شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے ممبئی کے شیواجی پارک میں ہزاروں حامیوں کی موجودگی میں ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ وہ شیو سینا کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں،اِن کی حکومت میں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کے وزرا بھی شامل ہوں گے۔ ایسا پہلی بار ہے جب 3 جماعتوںنے ملکر مخلوط حکومت بنائی اور بی جے پی کو دھول چٹا دی۔تینوں جماعتوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سیکولرزم کے اصولوں پر عمل پیرا رہیں گی۔مہاراشٹر میں شیو سینا کی قیادت میں حکومت کا قیام اور اودھو ٹھاکرے کا وزیر اعلیٰ بننا، بی جے پی کیلئے انتہائی بڑا دھچکا ہے۔ اس کے اثرات آئندہ برس ہونے والے ریاستی انتخابات پر پڑ سکتے ہیں۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی ذاتی طور پر اب بھی مقبول ہیں لیکن بھارت کی تیزی سے بگڑتی معیشت اور حالیہ ریاستی انتخابات میں خراب کارکردگی کچھ حد تک عوام کے موڈ میں تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں۔شیو سینا کے کانگریس کے ساتھ آنے سے پارلیمنٹ بالخصوص راجیہ سبھا میں مودی حکومت کی مشکلات بڑھیں گی۔ حکومت شہریت کے ترمیمی بل سمیت کئی اہم بل موجودہ اجلاس میں پیش کرنے والی ہے۔ایوان میں اپوزیشن کی مخالفت اب پہلے سے زیادہ سخت اور شدید ہو گی۔ کچھ عرصے قبل تک پورے ملک میں بی جے پی کی جو یکطرفہ فضا ء نظر آتی تھی اس میں یقینی طور پر ہلکی ہی سہی لیکن تبدیلی نظر آ رہی ہے ۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بار بار جارحیت کیوں ۔۔ہر بار انتہا پسندی کیوں ۔۔؟ مسلسل ھمکیاں کیوں ۔۔۔نفرت کی آندھیاں کیوں ۔ ۔ ۔ جنگ کے بادل کیوں ۔۔۔؟الزامات کی بوچھا ...

مزید پڑھیں

٭:این آر سی نا منظور ۔۔۔سی اے اے نا منظور ۔۔۔کالا قانون نامنظور ۔۔۔مودی ٹیم کیخلاف بھارتی عوام ایک پیج پر ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

نیا سال کی نئی خوشیاں منائی جا رہی ہیں ۔۔۔نئے آسمانوں سے آنکھیں ملائی جا رہی ہیں ۔۔۔ سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے ۔۔۔وہ لمحات جنہیں ہم ...

مزید پڑھیں