☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
مائینڈ سیٹ تبدیل کرنا ہو گا

مائینڈ سیٹ تبدیل کرنا ہو گا

تحریر : طیبہ بخاری

03-24-2019

ضبط ، تحمل ، برداشت اور لہجے میں محبت لئے پاکستانی قیادت مودی حکومت کی طرف بار بار مذاکرات اور دیرینہ مسائل کے حل کیلئے قدم بڑھاتی ہے لیکن جواب میں وہ گرمجوشی اور نیک نیتی نہیں مل رہی جس کا انتظار جنوبی ایشیاء کو ہی نہیں پوری دنیا کو ہے ۔

کہیں پر بول دیتا ہوں

تعلق بوجھ بن جائے تو

اس کو چھوڑ دیتا ہوں

میں اک دریا کے جیسا ہوں

جو اپنی دھن میں چلتا ہوں

بپھر جائوں جو مستی میں

کنارے توڑ دیتا ہوں

محبت کے تقاضوں میں

بہت خوددار سا ہوں میں

وفاداری پہ آئوں تو

حدیں سب توڑ دیتا ہوں

انتہا پسندی کی لہر ہو یا اسلامو فوبیا کی بحث دنیا کو انسانیت سے پیار اور امن کی پکار پر لبیک کہنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے اورخدا کا خاص کرم کہ مملکت خداداد پر برسر اقتدار طبقہ کبھی کسی دور میں خونریزی ، دہشت گردی ،جبر ، ظلم اور توسیع پسندانہ نظریات کا حامی نہیں رہا۔ مودی حکومت میزبانی کے دائرے کو سمیٹتی ہوئی دہلی سے اٹاری تک لے آئی ہے، عوامی رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں اداکاروں اور مریضوں کے بعداب صحافیوں اور ادیبوں کو بھی ویزے دینے سے انکاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ بھارت کی ایسی پالیسی کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی ، اس سے یہ صاف سمجھا جا سکتا ہے

کہ بھارت کی پالیسی اور تھی اور مودی حکومت کا مقصد کچھ اور ہے ۔۔۔مودی حکومت کیا پالیسی لیکر اقتدار میں آئی تھی اور اب کس خاص حکمت عملی کے تحت انتخابی اکھاڑے میں اُترنا چاہتی ہے اس کی مزید وضاحت کی ضرورت اس لئے نہیں کہ حالات خود گواہ ہیں کہ بھارت کے اندرسیکولر ازم جمہوریت اور اقلیتوں کو جس قدر خطرہ آج ہے شائد ہی پہلے کبھی تھا۔ بھارت کو مستقبل کا سفر انتہا پسندی اور جبر کی پالیسی کیساتھ کرنا ہے یا گاندھی کے عدم تشدد کے نظرئیے کیساتھ اس بار لوک سبھا کے انتخابات میں اس کا فیصلہ بھی ہونے جا رہا ہے ۔ اسی لئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 1ماہ تک مودی حکومت کی طرف سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔

مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں جلسوں سے خطاب میں عمران خان نے کہا’’پاکستان کی بہتری اور خوشحالی کیلئے مودی سمیت ہر ایک سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں بھارت میں الیکشن سے پہلے کسی کارروائی کا خدشہ ہے،اگلے 30دن ہمیں دھیان رکھنا پڑے گا، کہ الیکشن جیتنے کیلئے وہاں سے کسی قسم کی کارروائی نہ ہو۔ بدقسمتی ہے کہ بھارت کی ایک جماعت الیکشن نفرتیں پھیلا کر جیتنا چاہتی ہے ، انہوں نے ایک واردات کی اور ہماری ایئر فورس نے ملک کا صحیح معنوں میں دفاع کیا۔ پاکستان قوم امن چاہتی ہے، ہم سب سے امن چاہتے ہیں،تمام ہمسایوں سے امن چاہتے ہیں،

آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اسے کوئی غلطی سے بھی کمزوری نہ سمجھے، مقبوضہ کشمیر کے عوام پر جو ظلم ہورہا ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہے،جس طرح کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیںانہیں دلیری پر سلام پیش کرتا ہوں۔ قبائلی علاقے کے عوام اپنی حفاظت کیلئے تیار رہیں،سیکیورٹی فورسز بھی ہائی الرٹ ہیں، ہم نے اپنے قبائلی علاقوں کی مدد نہیں کی پیسہ خرچ نہیں کیا تو دشمن قبائلی علاقے میں انتشار پھیلانے اور عوام کو اکسانے کی کوشش کریں گے۔‘‘

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی نئی ویزا پالیسی کا افتتاح بھی کر دیا ۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان محفوظ ملک ہے ، سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبے پر عمل کیلئے ٹاسک فورس بنائی ہے، آئندہ برسوں میں نیا اور خوشحال پاکستان ہوگا۔نئی ویزاپالیسی کے اجراء کا مقصد سرمایہ کاری کافروغ ہے ،چین ،ترکی،ملائیشیا،یواے ای اور برطانوی شہریوں کو آن لائن ویزا 4 ہفتوں میں جاری ہوگا بھارتی نژاد غیرملکی شہری بھی مذہبی سیاحتی ویزا حاصل کرسکیں گے۔

ماضی میں مائنڈ سیٹ تھا کہ ویزا کا اجراء اتنا مشکل بنا دو کہ کوئی یہاں آئے ہی نہیں،60 کی دہائی میں پاکستان بہت پُراعتماد تھا، تیزی سے اوپر جارہاتھا، پھرہمارا مائنڈ سیٹ تبدیل کیا گیا، اب مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کو محفوظ ملک بنانے کا سہراسیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو جاتاہے،ہمیں اب کوئی سیکیورٹی کے مسائل نہیں ہیں۔ بھارت کے الیکشن تک تھوڑا سا مسئلہ ہوگا، وہاں انتخابات ہونے کے بعد انشاء اللہ تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات ہوں گے۔

نادرا ذرائع کے مطابق سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے اور شفافیت کے ساتھ آن لائن ویزا سسٹم کے ذریعے 60ء کے عشرے کے بعد پہلی بار پاکستان کوغیر ملکی شہریوں کیلئے کھولا جارہا ہے۔ 12 کیٹگریز میں سیاحت، بزنس، ورک،صحافی، سرکاری ، سفارتی، فیملی وزٹ، سماجی و ثقافتی کانفرنسز وسیمینار کے ساتھ تبلیغ، غیر ملکی این جی اوز اور ڈومیسٹک ویزا پر بھی آن لائن ویزا سسٹم کا اطلاق ہوگا

ا س نوعیت کے ویزا کیلئے درخواستوں کی منظوری کا اختیار بدستور وزارت داخلہ کے پاس رہے گا۔حکومت کے مطابق آن لائن ویزا سہولت 175 ملکوں کے شہریوں کو فراہم کی جائے گی اور انہیں اب درخواست گزاری اور سفارت خانوں میں حاضری کے طویل چکر سے نجات مل جائے گی۔

دوسری جانب پاکستان میںکرتارپورراہداری منصوبے پر تعمیراتی کام 50فیصد تک مکمل کر لیا گیاہے۔ ہیوی مشینری سے منصوبہ تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دربار صاحب کرتار پور سے ڈیرہ بابا نانک تک تقریباً ساڑھے 4 کلومیٹر سڑک بنانے کا کام پاکستان کی جانب سے جاری ہے تعمیراتی کاموں کے فضائی مناظر سے کام کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ کرتار پور راہداری کھولنے سے متعلق مذاکرات کیلئے پاکستان کا 18رکنی وفد وزارت خارجہ میں ڈی جی سائوتھ ایشیا اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی قیادت میں مذاکرات کیلئے’’ مثبت پیغام‘‘ لیکر اٹاری گیا ۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مثبت پیغام کی وضاحت میں کہا’’ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر میں بھی سایہ جائے۔ پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ خطے کے امن اور استحکام کیلئے ضروری ہے، پاکستان نے کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ، امید ہے بھارت بھی مثبت قدم آگے بڑھائے گا ۔ کرتارپور راہداری سے دونوں ممالک میں امن بھی ہو گا۔ وزیر اعظم کا یہ اقدام نہ صرف خاص طور بھارتی سکھوں کو سہولت پہنچائے گا بلکہ موجودہ صورتحال میں آگے بڑھنے کے حوالے سے مثبت قدم ثابت ہو گا اور جھگڑے سے تعاون، کشیدگی سے امن اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

‘‘ پاکستان کی طرف کرتارپور راہداری کی تعمیر کا افتتاح 28 نومبر 2018 ء کو کیا گیا تھا جس میں بھارت کے ایک وفاقی وزیرایک صوبائی سمیت بھارتی ارکان پارلیمنٹ اور عام افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ یکم جنوری 2019ء کو پاکستان نے بھارت کو کرتارپور راہداری کے مجوزہ معاہدہ کا ڈرافٹ بھجوایا اور تجویز دی تھی کہ پاکستانی وفد اس حوالے سے 14 مارچ کو بھارت کا دورہ کر سکتا ہے اور اس کے بعد بھارتی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

واہگہ پر میڈیا سے گفتگو کے بعد پاکستانی وفد اٹاری گیااور بھارتی حکام سے مذاکرات کیے۔ پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ و داخلہ، قانون و انصاف اور مذہبی امور کے حکام شامل تھے، مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوا جسکے مطابق راہداری کے طریقے اور مسودے سے متعلق پہلی ملا قا ت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور فریقین نے مختلف امور پر تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کیے۔

اٹاری سے واپسی پر ترجمان دفتر خارجہ نے واہگہ پرصحافیوں سے گفتگو میں کہا بھارتی حکام سے بہت مثبت بات چیت ہوئی بعض معاملات پر اب بھی اختلافات ہیں تاہم کرتار پور راہداری کشیدگی کو امن اور دشمنی کو دوستی میں بدلنے میں معاون ہوگی، منصوبے کی تکمیل نومبر 2019 میں ہوجائے گی، دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے4کلو میٹر سڑک بنائی جائیگی۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تکنیکی سطح پر بھی دونوں ممالک کے ماہرین میں بات ہوئی،

مذاکرات کا اگلا دور 2 اپریل کو واہگہ پر ہوگا۔ ذرائع کے مطابق دریا پر پُل اور سڑک کی تعمیر کا کام 50 فیصد مکمل ہے اور منصوبہ نومبر میں بابا گورو نانک کی 551ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے۔ادھر بھارت نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کی کوریج کیلئے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہ کر کے تنگ نظری کا ثبوت دیا ۔ مودی سرکار کا کہنا ہے کہ گردوارہ کرتارپور صاحب آنیوالے افراد کی تعداد اور دیگر امور کے تعین کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے مذاکرات ہوئے جس میں نہایت تعمیری اور ٹھوس اقدامات کے فیصلے کئے گئے تاہم پاکستان نے یاتریوں کی تعداد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وفد کا کہنا تھا کہ راہداری کے ذریعے روزانہ 5ہزارافراد کرتارپور صاحب آئیں اور تہواروں اور خاص دنوں میں 15ہزار یاتری گردوارہ صاحب آئیں جبکہ پاکستان نے انتظامی امور کے حوالے سے یومیہ 500سے 700یاتریوں پر اتفاق کیا،مزید یہ کہ بھارت کا مطالبہ ہے کہ تمام بھارتی شہری گردوارہ آسکیں اس کے ساتھ OICکارڈ کے حامل افراد بھی آسکیں جبکہ پاکستان کاجواب تھا کہ صرف بھارتی شہری گردوارہ آئیں۔۔۔ بعض معاملات پر اعتراضات موجود ہیں جن پر2اپریل کو بات چیت ہوگی۔

ایک طرف مودی حکومت کے الزامات ہیں اور دوسری جانب سرحد پر’’شرارتیں ‘‘ جوں جوں بھارت الیکشن کی طرف بڑھ رہا ہے پاکستان کے خدشات درست ثابت ہوتے جا رہے ہیں ۔ ۔ مودی حکومت نے مگ 21 کے بعد سرویلنس ڈرون پاکستان کی ’’یاترا ‘‘کیلئے بھیجا جس کیساتھ پاکستان نے وہی سلوک کیا جو مگ 21کیساتھ کیا تھا ۔

پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والا بھارت کا سرویلنس ڈرون مار گرایا۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹ میں بتایا کہ بھارتی جاسوس ڈرون کو لائن آف کنٹرول پر رکھ چکری سیکٹر میں گرایا گیا۔ ڈرون 150 میٹر پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔گرائے گئے ڈرون کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرایا جانے والا کواڈ کاپٹر ایک سرویلنس ڈرون ہے جسے سرحدی نگرانی کیلئے استعمال کیا جا تا ہے۔ترجمان پاک فوج نے اس موقع پر کہاہم نے جب بھی کارروائی کی تو اس کے ثبوت بھی پیش کیے ،ہم صرف باتیں نہیں بلکہ ثبوت بھی پیش کرتے ہیں جو بھارتی فوج کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں جبکہ ان کا میڈیا صرف جھوٹے دعوے کرتا ہے۔

ایک ماہ قبل 26 فروری کو بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی پاک فضائیہ کی بروقت جوابی کارروائی میں بھارتی طیارے بدحواسی میں پے لوڈ گراکر چلے گئے جبکہ اگلے روز ایک بار پھر دراندازی کی بھارتی کوشش کو پاک فضائیہ نے ناکام بنایا اور 2 بھارتی طیارے نہ صرف مار گئے بلکہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا جسے بعد ازاں جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا گیا۔

ابھی نندن کے بعد بھی پاکستان مسلسل خیر سگالی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے ، اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں 3 سال سے قید بھارتی شہری کواڈیالہ جیل سے رہاکر کے لاہوربھیج دیا گیا جہاں سے اسے واہگہ بارڈرکے راستے بھارتی حکام کے حوالے کیاجائیگا، بھارتی باشندے کو 11 نو مبر2015ء کوسیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کیاگیاتھا۔

پاکستان مودی حکومت کی جانب بار بار دوستی اورامن کا ہاتھ بڑھاتا چلا آ رہا ہے لیکن جواب میں صرف انتہا پسندی اور شر انگیزی مل رہی ہے ۔ پاکستان بھارتی قیدیوں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کر رہا ہے جبکہ مودی سرکار جواب میں پاکستانی قیدیوں کی لاشیں بھجوا رہی ہے ۔

کیا یہ انصاف ہے ۔۔۔کیا یہ اچھی عوامی جماعت ہونے کا ثبوت ہے ۔۔۔بھارتی الیکشن کوئی بھی جماعت جیتے یا ہارے پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے ایک ذمہ دار ملک ہونے کا کردار نبھاتا رہیگا ، بھارتی سیاسی جماعتوں خاص کر بی جے پی کو اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہو گا ۔۔ کروڑوں عوام کیلئے ۔۔۔اور خطے کی ترقی و امن کیلئے ۔۔۔۔۔

علاوہ ازیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جا وید با جوہ نے وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعظم آ فس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک بھارت کشیدگی، کالعدم تنظیموں کیخلاف ایکشن اور سیکورٹی کی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ پاکستانی مسلح افواج ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے بھارتی جارحیت کے جواب میں مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم کو مسلح افواج کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔

٭٭٭

مودی دباو کا شکارہیں؟

بھارت میں الیکشن کمیشن کے لوک سبھا کے انتخابات رمضان المبارک میں کرانے کے اعلان پر کئی جماعتوںنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔الیکشن کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے پانچویں،چھٹے اور ساتویں مرحلے میں پولنگ رمضان المبارک میں ہوگی جس پراپوزیشن سمیت کئی دیگر جماعتوں نے احتجاج کیا ہے۔ دوسری جانب ہم آپ کو بتاتے چلیںکہ بھارت کے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں حکمراں جماعت بی جے پی کو2014 ء کے مقابلے میں 44نشستوں پر شکست ملنے کا امکان ہے2014 ء میں بی جے پی نے 282نشستیں حاصل کی تھیں اسی طرح 2014ء کے مقابلے میںحکمراں جماعتوں کے اتحاد این ڈی اے کو 2014ء کے مقابلے میں70 نشستوں پر شکست کا سامنا ہوگا۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق این ڈی اے کو امسال لوک سبھا انتخابات میں 285نشستیںپر کامیابی ملنے کا امکان ہے، 2014 ء میں این ڈی اے کو 355نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

علاوہ ازیں بھارتی ریاست اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی غربت اور بے روزگاری سے توجہ ہٹانے کیلئے گڑھے مردے اکھاڑ رہے ہیں۔ مودی اپنے دور اقتدار میں مختلف علاقوں میں سکیموں کے نفاذ اورسنگ بنیادرکھنے میں مصروف رہے اوراپنی تشہیری مہم پر3 ہزار 44کروڑ روپے خرچ کر ڈالے اس سرکاری فنڈز سے ریاست اترپردیش کے ہر گائوں میں تعلیمی اور صحت مراکز قائم کئے جاسکتے تھے۔ وزیر اعظم مودی اپنی حکومت کی ناکامیاں چھپا رہے ہیں اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے اور عوام کو ایسی تمام کوششوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

دوسری جانب اب یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ بہتر سفارتکاری سے مودی حکومت پر دبائو بڑھایا جا سکتا ہے پہلا اور آخری آپشن مذاکرات ہی ہیں، نریندرمودی پہلے بھی پاکستان کیخلاف کارروائی کر کے شرمندگی اٹھا چکے ہیں اب مزید شرمندہ نہیں ہونا چاہیں گے۔ ۔۔۔بی جے پی کو مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے مظالم کا خمیازہ بھگتنا پڑیگا ، صرف فروری میں27سے زائد مظلوم کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور 180سے زائد کو زخمی کر دیا گیا کیا عالمی طاقتوں کو انصاف کرنا ہو گا ،اس ظلم کو روکنا ہو گا وگرنہ پلوامہ جیسے واقعے ہوتے رہیںگے۔۔۔۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی بے یقینی بڑھ رہی ہے: آئی ایم ایف کا اعتراف۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں موت کا خوف ختم ہوچکا اور اب’’ بے خوف ...

مزید پڑھیں

امن کے دیوانے اور نفرت کے پجاری میں ملاقاتوں اور گفتگو کا سلسلہ تو بند ہے لیکن ایک دوسرے پر الزامات اور لفظی حملوں کا سلسلہ عروج پر ہے ۔۔۔ ...

مزید پڑھیں

٭:معیشت میں بہتری کے آثار نے جنم لیا ہے۔۔۔

...

مزید پڑھیں