☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سپیشل رپورٹ(طاہر محمود) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) ثقافت(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ و عجیب(انجنیئررحمیٰ فیصل) صحت(سید عبداللہ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک) دنیا کی رائے(راحیلہ سلطان)
جارحیت اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چلیں گے

جارحیت اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چلیں گے

تحریر : طیبہ بخاری

01-19-2020

بار بار جارحیت کیوں ۔۔ہر بار انتہا پسندی کیوں ۔۔؟ مسلسل ھمکیاں کیوں ۔۔۔نفرت کی آندھیاں کیوں ۔ ۔ ۔ جنگ کے بادل کیوں ۔۔۔؟الزامات کی بوچھاڑ کیوں ۔۔۔نفرت کا پراپیگنڈہ کیوں ۔۔۔؟ انتشار ہی انتشارکیوں ۔۔۔۔خلفشار ہی خلفشار کیوں ۔۔۔؟ ایک درجن بھارتی ریاستوں کا متنازع شہریت بل پر عمل درآمد سے انکار کیوں ۔۔۔کیوں اپنا رہے ہیں نوجوان مزاحمت کے نت نئے طریقے ۔۔۔۔ کیوں مظاہروں کا دائرہ دنیا تک وسیع ہو تا جا رہا ہے ۔۔۔؟

اور بھی بہت سے سوال ہیں ۔۔۔بہت سے کیوں ہیں ۔۔۔لیکن اب بس ۔۔۔ سب کا جواب بس اِتنا ہے کہ جارحیت اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چلیں گے ۔۔۔نہ بھارت کے اندر نہ بھارت کے باہر ۔۔۔کیا بھارت میں ’’شب کا سفر ‘‘ شروع ہو چکا ؟ کیا ہے کسی رہنما یا عوامی نمائندے کے پاس وہ سرمایہ جس سے’’ اُجالے ‘‘خریدے جا سکیں ۔۔۔

دہلی کا شاہین باغ ایوانوں میں براجمان بھاری بھرکم جمہوریت کے مقابلے میں سیکولر ازم کی گواہی دے رہا ہے ۔ ۔ بھائی چارے اور انصاف کی علامت بن کر اُبھرا ہے۔۔۔ شاہین باغ میں بیٹھی خواتین پاکستان کی ایجنٹ ہیں؟ گود میں بچے لئے اور آنکھوں میں آنسو لئے دھرنے پر بیٹھی یہ خواتین کس سے ’’غداری‘‘ کر رہی ہیں ۔؟ ذرا سنیں تو سہی یہ خواتین کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔بس اِتنا کہ ۔۔۔کئی نسلوں سے بھارت میں رہ رہے ہیں ،آج کہتے ہیں کاغذ دکھائو ، لمحوں میں پرایا کر دیا ، مودی سرکار نے ہمارے دل بہت دکھائے۔۔۔ خواتین کیوں یہ اشعار پڑھ رہی ہیں کہ 

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

کیوں ہے اِن بھارتی خواتین اور لاکھوں مظاہرین کو اِتنا یقین وہ کس چشمے کے منتظر ہیں ۔۔۔اپنے ہی دھرتی پر اپنے ہی حاکموں کیخلاف کیوں ہیں سراپا احتجاج ۔۔۔؟ اب یہ قافلہ چپ نہیں رہیگا،سوال پوچھتا رہیگا،جواب دینا ہو گا،بات کرنی پڑیگی، سرحد کے باہر ہو یا اندر ۔۔۔ عوام نے ہلہ بول دیا ہے ۔ لاٹھی ، گولی کی سرکار اب اتنی آسانی سے نہیں چلے گی جتنی ماضی میں چلتی رہی ۔اب کی بار،سننا پڑے گی عوام کی پکار کیونکہ وہ بے باک انداز میں اور بلا کسی کے خوف کے کہہ رہے ہیں کہ

مجھ سے امیرِ شہر کا نہ ہوگا احترام

میری زباں کے واسطے تالے خرید لو

یہ ہوکیا رہا ہے بھارت میں ۔۔۔کیا چل رہا ہے ایوانوں میں ۔ ۔ کتنی زبانوں پر تالے لگائیں گے یا اختیار کریں گے ’’احترام کا راستہ ‘‘ ۔؟ایک بات تو طے ہے کہ’’ نفرت کا کاروبار‘‘ نہیں چلے گا بانٹنے، کاٹنے اور مزید تقسیم کرنے کا ایجنڈا نہیں چلے گا ،سرحدوں کے اندر اور باہر کہیں کوئی’’ خریدار‘‘ نہیں ملے گا ۔۔۔۔خطے میں اب یہ سب نہیں چلے گا ۔۔۔

بھارتی عوام سیکولر ازم کے دفاع پر دیوانہ وار اُتر آئے ہیں ، ہندو ،مسلم ،سکھ ، عیسائی سب ایک پلیٹ فارم پر نظر آ رہے ہیں اور بی جے پی سرکار بالکل اُلٹی سمت میں کھڑی ہے ۔۔۔ اُس راہ پر جو انتہا پسندی، ہندو تواکی طرف جاتی ہے۔۔۔ صاف دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے کہ انتہا پسند نظریہ اور راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں بھاری اکثریت میں موجود بی جے پی ’’عوامی احترام ‘‘ کھو چکی ہے ۔ ۔ ایک درجن سے زائد ریاستوں مہاراشٹرا، دہلی، جھاڑ کھنڈ ، بہار ، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، پنجاب، اڑیسہ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، راجستھان اور پدو چیری نے متنازع شہریت قانون پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے۔۔۔۔ شاید اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ زباں کو بند رکھو، سچ کو چھپا کر رکھو ۔۔۔کمزور کو دبا کر رکھو ۔ ۔ ایسے حالات میں جب سچ بولنا مشکل ہو چکا ہے , میڈیا خاموش ہے، اپوزیشن بے بس ہے لیکن طلباء ڈٹے ہوئے ہیں اور مودی سرکار کیلئے چیلنج بن چکے ہیں فنکار بھی طلباء کے ہم آواز ہیں ۔ اسمبلی انتخابات کے اعلان کیساتھ ہی ٹھٹھرتی سردی میں دہلی کے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، عام آدمی پارٹی 2015ء کے نتائج دہرانے کیلئے کمر بستہ ہے تو کانگریس اپنا کھاتہ کھولنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ بی جے پی تختِ دہلی حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے حالانکہ دہلی کو ایک مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہے لیکن بھارت کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے اسکی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے اور بی جے پی یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ ایک بار پھر وہ راجدھانی میں شکست کا منہ دیکھے جبکہ مظاہروں کی صورت میں اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے احتجاجی طلباء کی صورت میں اسے روز کڑے احتساب اور تنقید کا سامنا ہے ۔ 

 انتہا پسندی کیخلاف ڈٹ جانیوالے انہی بھارتی طلباء کی شان میں نعرے اور ترانے لکھے جا رہے ہیں ، یہاں ان کی تفصیل تو بیان نہیں کی جا سکتی ہاں ان ترانوں میں سے ایک ترانہ جو بھارتی اخبارات میں شائع ہو چکا ہے اسے پیش کیا جا سکتا ہے ،اسکا عنوان ہے ’’سروشان ِ علی گڑھ تیرے جذبوں کو سلام‘‘

سرفرشانِ علی گڑھ تیرے جذبوں کو سلام۔۔۔ جامعہ اسلامیہ کے نونہالوں کو سلام،خون میں ڈوبے ہوئے اِن سارے زخموں کو سلام ،نعرہ زن ان احتجاجی مائوں بہنوں کو سلام ۔۔۔ دیدنی ہے آج منظر قوم کے جذبات کا ، اس سسکتی صبح کا اور کپکپاتی رات کا ،نعرۂ حق کی بلندی سے بھرے لمحات کا ،ظالموں کی زد میں آئے قوم کے حالات کا،جاں ہتھیلی پر لیے ان نوجوانوں کو سلام ، سرفروشان ِ علی گڑھ تیرے جذبوں کو سلام ۔۔۔ جس زمیں کے واسطے ہم نے گنوائی جان ہے، اس زمیں سے دربدر کرنے کا اب اعلان ہے ،ملک سے رکھنا وفا اس قوم کا پیمان ہے یہ ہمارا بس ہمارا ملک ہندوستان ہے،سر زمین ِ ہند کے اِن جانثاروں کو سلام، سرفروشانِ علی گڑھ تیرے جذبوں کو سلام۔۔ آج آیا ہے نکل کر قوم کا یہ ولولہ، بدر و خیبر اور احد والوں کا نکلا قافلہ ،ہم کو کافی ہے فقط عزمِ شہیدِ کربلا ،قوم کی خاطر شہادت کا ہے دل میں حوصلہ، کلمۂ توحید کے اِن پڑھنے والوں کو سلام ، سرفروشانِ علی گڑھ تیرے جذبے کو سلام ۔۔۔ سرفروشی کی تمنا لے کے یہ آنا تیرا ، زندگی کی نذر دے کر زندہ ہو جانا ترا ، جبر و استبداد کے آگے یہ اڑ جانا ترا ، قصر ِ باطل پر بمثلِ برق گِر جانا ترا، ملتِ اسلامیہ کے ان جیالوں کو سلام، سرفروشانِ علی گڑھ تیرے جذبوں کو سلام ۔۔۔ ہے مرا ہندوستان گہوارۂ امن و اماں ، ہیں مسلماں اور ہندو اس وطن کی روح و جاں، دور جو ان کو کرے ہے دشمنِ ہندوستاں ،دیتے ہیں پیغام یہ اس ملک کے فرزندگاں ، ایسی لائق بیٹیوں اور پیارے بیٹوں کو سلام ، سرفروشانِ علی گڑھ تیرے جذبوں کو سلام ۔۔۔ ایک ہی آواز ہے آسام سے گجرات تک ، جامعہ دہلی سے لے کر سرحد مدراس تک ، ہر گلی کوچے سے لے کر خیمۂ افلاک تک ، ہر کسی مظلوم کے کچلے ہوئے احساس تک،سر بکف اب سوئے مقتل چلنے والوں کو سلام ، سرفروشانِ علی گڑھ تیرے جذبوں کو سلام ۔۔۔۔اس ترانے کو پڑھ کر آپ کو اندازہ وہ گیا ہو گا کہ عوام میں کتنا غم وغصہ ہے ،اسی جوش و جذبے کے تحت پورے بھارت میں متنازع شہریت قانون کیخلاف مظاہرے جاری ہیں اور ایک درجن سے زائد ریاستو ں نے اس قانون پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے۔ کیرالہ اسمبلی میں تو اس قانون کی مخالفت میں قرار داد پاس ہوچکی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ نے 11ریاستوں کے وزرا ئے اعلیٰ کو بل کی مخالفت کیلئے خط لکھا ہے ۔ کیرالہ ریاست کی اسمبلی کی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ مرکز مسلم مخالف بل کو واپس لیا جائے، وزیر اعلیٰ کیرالہ کہتے ہیں کہ ’’سیکولرازم اور جمہوریت کو بچائے رکھنے کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے۔‘‘ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارئی وجین نے جن وزرائے علیٰ کوخط لکھا، ان میں دہلی کے کیجریوال، جھارکھنڈ کے ہیمنت سورین.مہارشٹرا کے ادھو ٹھاکرے، بہار کے نتیش کمار، آندھرا پردیش کے وائی ایس جگن موہن ریڈی، مدھیہ پردیش کے کمل ناتھ، پنجاب کے امریندر سنگھ، اڑیسہ کے نوین پٹنایک اور پدوچیری کے وی نارائن سامی شامل ہیں۔ دوسری جانب سابق سیکریٹری خارجہ شیو شنکرکہہ رہے ہیں کہ شہریت بل اور کشمیر پر بھارت نے دنیا سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کرلیا ہے۔ امریکی و برطانوی اخبارات سمیت تمام آزاد ذرائع ابلاغ میں مودی حکومت پر کڑی تنقید جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی ریاستوں کی حکومتوں نے عوامی سیلاب دیکھتے ہوئے کھل کر مخالفت شروع کردی ہے لیکن تمام تر مخالفتوں اور مظاہروں کے باوجود بھارتی وزارت داخلہ نے متنازع شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019پر عملدرآمد کا نوٹیفکیشن جاری کردیاجسکا اطلاق 10 جنوری سے شروع ہوچکا ہے۔دوسری جانب مختلف شہروں میں متنازع قانون کیخلاف احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کرلی ہے، دہلی سمیت کئی شہروں میں طلباء کے بڑے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے حامیوں نے ریلیاں نکالیں۔ کولکتہ میں بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، کولکتہ میں ہونیوالے مظاہرے میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے بھی شرکت کی۔ کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی کا ایک بیان یہاں آپ تک پہنچانا ضروری ہے ، انکا کہنا ہے کہ ’’متنازع شہریت قانون کیخلاف طلباء کی تحریک نے زور پکڑلیا ہے اس کا مطلب ہے کہ حکومت اپنے لئے گڑھا کھود رہی ہے، طلباء نے اس قانون سے ہونیوالے نقصان کو بھانپ لیا ہے اسی لئے وہ پولیس تشدد کے باوجود سڑکوں پر نکل رہے ہیں، کئی ریاستوں کو پولیس سٹیٹ میں بدل دیا گیا ہے۔‘‘ پریانکا گاندھی نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلباء سے ملاقات کی اور انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ یہاں این آر سی‘ این پی آرکیخلاف حیدرآباد کی ریلی کا ذکر نہ کیا جائے تو نا انصافی ہو گی ۔ اس ریلی میں لاکھوں افراد نے شرکت کر کے متنازع قانون کو بری طرح رد کر دیا ۔ اس ریلی میں غیر مسلم بھی شریک ہوئے دوسری جانب علی گڑھ طلباء کا دھرنا جا ری ہے سیکڑوں طلباء نے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جبکہ بی جے پی کے سابق لیڈر یشونت سنہا نے متنازع قانون کی منسوخی کیلئے ممبئی سے دہلی تک 3 ہزار کلومیٹر طویل مارچ کا آغاز کردیا ہے۔ گذشتہ دنوں مودی کولکتہ گئے تولاکھوں افراد ان کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ’’گوفاشسٹ گو‘‘ کے نعرے لگائے ۔ یہاں برطانوی میڈیا کو دئیے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کے انٹرویو کا تذکرہ بہت ضروری ہے ۔ اس انٹرویو میں ممتا کا کہنا تھا کہ’’ شہریت کا متنازع قانون اور شہریوں کی رجسٹریشن کا این آر سی بی جے پی کی نفرت کی سیاست کا ایجنڈہ ہے۔ یہ عوام میں پھوٹ ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھانے کا حربہ ہے لیکن کامیاب نہیں ہو گا۔ شہریت ترمیمی قانون سے بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہوئی اسکے ذریعے مودی حکومت ان کو بھی غیر ملکی بنا دینا چاہتی ہے جو برسوں یہاں رہنے کے بعد بھارت کے شہری ہو چکے ہیں۔ اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے ہندو اور سکھ تارکین وطن کو جو پہلے ہی انڈین شہری بن چکے ہیں،انہیں 5 برس کیلئے غیر ملکی قرار دیا جائیگااسکے بعد حکومت انہیں شہریت دینے کے بارے میں سوچے گی۔وہ تارکین وطن جو پہلے آگئے تھے انڈین شہری ہو چکے ہیں اب ملازمتیں کر رہے ہیں، جائیدادیں خرید رکھی ہیں، کاروبار کر رہے ہیں، اگر انہیں ایک بار پھر غیر ملکی قرار دیا گا تو ان کی املاک، ملازمتیں اور کاروبار سب چھن جائیگا۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے ۔ آزادی کے 73 برس تک یہ سوال نہیں اٹھا اب یہ شہریت کا سوال کیوں اٹھا رہے ہیں۔ جب روٹی کپڑا اور مکان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تو وہ لوگوں کو ملک سے نکالنے کی بات کر رہے ہیں۔آسام میں ہم این آر سی کا حال دیکھ چکے ہیں۔این آر سی، بی جے پی کی نفرت کی سیاست کا ایجنڈہ ہے۔ اس کے ٹارگٹ پر وہ لوگ ہیں جن سے وہ نفرت کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو تو وہ تباہ کرنا ہی چاہتے ہیں۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا خیال ہے کہ بنگال میں بڑی تعداد میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن موجود ہیں اس لیے این آر سی ضروری ہے تو ممتا بینر جی کا جواب تھا ’’ہم لوگ بنگال میں رہتے ہیں8 سال سے اقتدار میں ہیں۔اس سے قبل 30 برس تک کمیونسٹ اقتدار میں تھے تب کیا تھا۔بی جے پی ریاست بنگال کیخلاف ہے، بہار کی بھی مخالف ہے وہ دراصل غریبوں کیخلاف ہے۔بی جے پی کی حکومت این آر سی کو ایک ہندو - مسلم تحریک بنانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن انڈیا کا ایک سیکیولر کردار ہے۔ آج ہر انسان اس کے خلاف ہے۔ ملک کے مسلم تو خلاف ہیں ہی لیکن آج ہندو اس کے زیادہ خلاف ہیں۔‘‘ جب پوچھا گیا کہ مودی حکومت ایک مضبوط حکومت ہے اور وہ مسلسل اپنے ایجنڈے پر آگے بڑھ رہی ہے تو ممتا بینر جی نے کہا ’’کانگریس کے پاس کئی بار اس سے زیادہ اکثریت تھی۔ راجیو گاندھی کے پاس تو 400 نشستیں تھیں۔ مودی حکومت کے پاس تو 300 کے آس پاس ہے۔ یہ اکثریت عوام سے آتی ہے۔ آپ عوام کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔ جمہوریت میں سب سے سب سے طاقتور عوام ہیں، مستقبل عوام کا ہے بالآخر فتح عوام کی ہو گی ۔‘‘ بی جے پی کو سمجھنا ہو گا کہ سرحدوں پر جارحیت اور سرحدوں کے اندر جمہورکیخلاف اقدامات دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ 

بار بار دھمکیاں صرف پاکستان نہیں پوری دنیا کیلئے خطرہ 

جنوبی ایشیاء کے عوام اور عالمی برادری کو اب مزید کسی گائیڈنس یا تشریح کی ضرورت نہیں کہ بار بار جنگ کی دھمکیوں سے کس کا فائدہ ہو رہا ہے کون خطے میں امن نہیں چاہتا ، کون امن کا حامی ہے اور کون خطے سے بھوک ، غربت ، بے روزگاری اورصحت کے مسائل پر کام کرنے سے گریزاں ہیں ۔۔۔؟اس میں کوئی شک اور بحث نہیں کہ بھارت بڑا ملک ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ خطے میں بڑے ملک کے علاوہ کوئی اور ملک اپنی آزادی، خود مختاری اورامن کیساتھ نہیں رہ سکتا ۔بڑاے ملکوں کو بڑے پن کا ثبوت دینا ہو گا ، توسیع پسندانہ اور انتہا پسندانہ نظریات کیساتھ کبھی بھی خطے میں امن قائم نہیں رہ سکتا اور کوئی چھوٹا ملک ہو یا بڑا سلامت نہیں رہ سکتا کیونکہ جدید دور میں صرف جنگ ہی نہیں جنگ کا خطرہ بھی ترقی کی راہ بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے اور کسی ایک ملک کی غلطی کی سزا سب بھگت رہے ہیں اور جنگ کی سزا تو پوری دنیا بھگتے گی ۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بار بار بھارت کے فوجی اور سیاسی سربراہان کی جانب سے دھمکیوں میں پہل کی جا رہی ہے اور اس بار پھر بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے دھمکی دی ہے کہ ’’پارلیمینٹ حکم دے تو کشمیر کا وہ حصہ لینے کیلئے بھی فوجی کارروائی کریں گے جو پاکستان کے پاس ہے‘‘۔۔۔۔اب اس سوچ کو محض زبانی جمع خرچ کہا جائے توسیع پسندی، چانکیہ کا عیارانہ فلسفہ ، ہندو نسل پرستی ، تنگ نظری پر مشتمل آر ایس ایس کے متعصبانہ نظریات یا خطے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ۔۔۔؟ کچھ بھی کہیں ایسی سوچ کسی کے مفاد میں نہیں صرف پاکستان کیلئے ہی نہیں پوری دنیا کیلئے خطرناک ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، پاکستان بلا وجہ عالمی برادری کو بار بار خبردار نہیں کر رہا ۔ مثال کے طور پر جنرل منوج مکند کی میڈیا سے گفتگو ملاحظہ کریں جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں مہینوں سے جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا کوئی ذکر کیے بغیر بظاہر آزاد کشمیر میں بھارت کی فوجی کارروائی کا جواز فراہم کرنے کی خاطر دعویٰ کیا کہ ’’کنٹرول لائن پر بہت سرگرمیاں ہو رہی ہیں، شارٹ ٹرم خطرہ دراندازی جبکہ طویل مدتی خطرہ روایتی جنگ ہے، ہم اسی کی تیاری کر رہے ہیں‘‘۔ جنرل منوج نے شمالی اور مغربی سرحدوں پر بیک وقت جنگ کی بات کرکے واضح کیا کہ آزاد کشمیر پر قبضے کی ممکنہ کارروائی کے دوران اگر چین سے کسی قسم کا خطرہ ہوا تو بھارت اس کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کررہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے جن مذموم ارادوں کا اظہار کیا ہے، اِس پر قرار واقعی کارروائی کرنا محض پاکستان نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ اور پوری عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ ترجمان پاک افواج میجر جنرل آصف غفور نے اس بیان کا فوری اور بھرپور جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’’بھارت 27فروری 2019ء کو ہمارے جواب کا مزہ چکھ چکا ہے اور آئندہ اُسے اس سے بھی زیادہ سخت جواب ملے گا‘‘۔جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں دنیا کو بالکل درست طور پر خبردار کیا کہ آر ایس ایس کے ہندو انتہاپسند نظریات نے ایک ارب آبادی کے ایٹمی ملک پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے، اور یہ صورتحال بھارت اور پورے خطے میں کسی بڑے قتل و غارت کا سبب بن سکتی ہے

طلباء اور فنکار بن چکے ہیں سیسہ پلائی دیوار 

جس کا ڈر تھا وہی بات ہو گئی ۔۔۔۔ بی جے پی کیخلاف جواہر لعل یونیورسٹی میں کنہیا کمار کی شعلہ بیانی سے جنم لینے والی تحریک کو آر ایس ایس کے انتہا پسندوں نے ہاسٹل میں گھس کر بے رحمانہ تشدد سے ختم کرنے کی کوشش کی لیکن اس ظلم کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی اور بھرپور مذمت کا ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے جو بی جے پی اور آر ایس ایس کیخلاف تاریخ میں ایف آئی آر کے طور پر ضرور درج ہو گا ۔ جے این کے طلباء جن میں لڑکیاں اور اساتذہ بھی شامل تھے کو مار مار کر لہو لہان کر دیا گیا انکا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ آر ایس ایس کے غنڈے یونیورسٹی ہاسٹل میں گھس کر جب تشدد کا بہیمانہ کھیل کھیل رہے تھے تو باہر پولیس موجود تھی لیکن کسی نے انہیں روکنے کی زحمت نہیں کی ۔ کئی روز تک معاملے پر کوئی کارروائی ہوئی نہ کسی کو گرفتار کیا گیا مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے اہم شاہراہوں پر دھرنا دیا، سوشل میڈیا پر شور اور شدید احتجاج کے بعد مجبوراًدہلی پولیس کی کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)نے مجرموں کی نشاندہی شروع کی اور ایک واٹس ایپ گروپ ’’یونٹی اگینسٹ لیفٹ ‘‘ کیخلاف کارروائی شروع کی ۔پولیس کے مطابق 5 جنوری کو جے این یو کیمپس کے پرتشدد واقعہ میں اس گروپ کے ارکان شامل تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور تصاویر کے ذریعے ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی ۔دہلی پولیس مذکورہ واٹس ایپ گروپ کے 60 میں سے 37 ارکان کی شناخت پہلے ہی کر چکی ہے۔ یہ گروپ تشدد والے دن یعنی5 جنوری کو ہی بنایا گیا تھا۔وائس چانسلر ایم جگدیش کمار حالات معمول پرلانے کیلئے سب کچھ بھول کر پھر سے نئی شروعات کرنے کی مسلسل اپیل کر رہے ہیں جبکہ طلباء یونین ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ طلباء یونین کا کہنا ہے کہ جے این یو انتظامیہ کی ملی بھگت سے تشدد کو انجام دیا گیانقاب پوشوں نے کیمپس میں گھس کر ہاسٹل میں توڑ پھوڑ کی اورسٹوڈنٹس کے ساتھ مارپیٹ کی جس سے طلباء یونین کی صدر اویشی گھوش اور جغرافیہ کی پروفیسر سچترا سین سمیت 34 افراد زخمی ہو ئے۔

دوسری جانب طلبا پر راشٹراپتی بھون کی جانب مارچ کے دوران پولیس تشدد کی ایک اور ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔اس ویڈیو میں پولیس کو طلباء پر لاٹھی چارج کرتے ،مارتے پیٹتے اور گھسیٹتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جس کے بعد پولیس نے متعدد طلباء کو حراست میں بھی لیا۔ ان طلباء کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ بھارتی صدر کی رہائش کی طرف مارچ کرکے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے۔

 طلباء و اساتذہ سے متعدد بالی وڈ شخصیات نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے واقعے پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔نامور اداکارہ سوارا بھاسکر نے یونیورسٹی پر حملے کو’’ آر ایس ایس کی دہشتگردی‘‘ قرار دیا۔سوارا ویڈیو پیغام میں انتہائی جذباتی دکھائی دیں اور انہوں نے نوجوان طلباء کی آواز کو نقاب پوش اور ہتھوڑا بردار افراد کے زور پر دبانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔بالی وڈ کی ایک اور اداکارہ کریتی سینن نے بھی طلباء پر تشدد پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ واقعے نے انہیں شدید دلی صدمہ پہنچایا۔کریتی نے لکھا’’ آج کل بھارت میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ انتہائی خوفناک ہے جبکہ منظم دہشتگردوں کے ذریعے طلباء اور اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے‘‘ انہوں نے غنڈہ گردی کی سیاست ختم کرنے کامطالبہ بھی کیا۔ماضی کی ’’مست گرل‘‘ روینہ ٹنڈن،لیجنڈ اداکارہ شبانہ اعظمی ،فلمساز وشال بھردواج ، اداکارہ نیہا دھوپیا ،اداکار رتیش دیش مکھ ، اداکارہ تاپسی پنوں اور کونکنا سین شرما نے یونیورسٹی پر حملے سے متعلق سوالات اٹھائے اور پوچھا ’’آخر پولیس طلباء کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہوئی؟اور نقاب پوش حملہ آور کون تھے؟‘‘

بھارتی فلمساز کبیر خان نے متنازع شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں بدستور خاموش رہنے والے بالی وڈ سٹارز کے بارے میں کہا’’ یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔ ہم اس طرح کہہ سکتے ہیں انہیں کسی بات کا خوف ہے۔ ماضی میں جن لوگوں نے لب کشائی کی اُن پر حملے کئے گئے اور کسی نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا۔ اگر آپ حق کیلئے لب کشائی کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو انہیں لب کشائی پرمجبور نہیں کرسکتے۔ شاید اسی لئے کئی نامور سٹارزنے ابھی تک سی اے اے یا این پی آر یا این آر سی کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔‘‘ نامور ہدایتکار وفلمساز انوراگ کشپ نے نظم پڑھ کرمودی سرکار کے جارحانہ اقدام کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ۔ 

دیپکا پاڈوکون کو طلباء ریلی میں جانا اور اظہار یکجہتی کرنا بہت مہنگا پڑا ، دیپکا نے حملے میں زخمی ہونیوالی طلباء یونین کی صدر اویشی گھوش سے ملاقات کی تھی جس کے بعدبی جے پی بوکھلا اٹھی، دہلی میں بی جے پی کے ترجمان تیجندر پال سنگھ اور بی جے پی کی قومی ترجمان نور پور شرما نے عوام سے مطالبہ کیا کہ دیپکا کی فلموں کا بائیکاٹ کیا جائے سوشل میڈیا پر دیپکاکیخلاف خوب زہر اگلا گیا۔ دیپکا کیخلاف انتہا پسندوں کی مہم کے سد باب کیلئے کانگریس میدان میں اتری اور اس نے دیپکا کی فلم’’چھپاک‘‘ کی حمایت میں جگہ جگہ پوسٹرز لگائے جبکہ سماج وادی پارٹی نے فلم دیکھنے کیلئے ملٹی پلیکس کے ایک شو کو مکمل بک کروا لیا ۔۔۔۔طلباء اور فنکار مودی سرکار کیخلاف سیسہ پلائی دیوار بن چکے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی حکومت اس دیوار کے ساتھ مزید کتنا برا سلوک کر پاتی ہے 

 

متنازع قانون پر عمل شروع، آسام سے 500مسلم خاندانوں کے 1800افراد گھروں سے بے دخل

آسام کے ضلع بیسوآناتھ کے ضلع چوٹیا اسمبلی حلقہ میں 6دسمبر سے زبردستی کسی قانونی عمل کے بغیر 426مسلم خاندانوں کے 1800افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا گیا ، انتظامیہ نے ان مسلمانوں کے مکانات مسمار کر دئیے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ تمام خاندان قومی رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی ) میں شامل ہیں اور انکے پاس شہریت کے حقیقی ثبوت ہیں۔ بھارتی اخبارات کے مطابق شدید سردی میں ان کے پاس سر چھپانے کیلئے چھت ہے نہ کھانے کیلئے کھانا، سرد موسم سے بچنے کیلئے انکے پاس گرم کپڑے بھی نہیں ۔ گوہاٹی اور ریاست کے دیگر حصوں میں انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے پوری ریاست میں سی اے اے مخالف مظاہروں کو اب تک میڈیا میں کم کوریج مل رہی ہے۔ ایک میڈیا چینل نے آسام حکومت کی نئی زمین پالیسی پر خصوصی کوریج کا اہتمام کیا جسکا مقصد کسی قانونی عمل کے بغیر ہزاروں بنگالی ہندوئوں اور مسلمانوں کا انخلاء ہے ۔ 28نومبر 2019ء کو آسام اسمبلی میں نئی پالیسی پر بحث اس وقت مؤخر کر دی گئی جب اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور سنگین سوالات اٹھائے۔ اخبار لکھتا ہے کہ آسام اسمبلی کے سپیکر مسٹر ہسیتندر ناتھ گوسوامی نے اسمبلی میں ایک فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ نئی زمین پالیسی کو (جنوری ، فروری 2020ء کے اجلاس میں ) مناسب بحث و مباحثے کے بعد ہی نافذ کیا جائیگا جبکہ ریاستی حکومت نے بنگالی ہندوئوں اور مسلمانوں کے انخلاء کی متنازع پالیسی قانونی باریکیوں کا بہت کم خیال رکھتے ہوئے ریاست کے مختلف حصوں میں شروع کر دی ہے ۔ دوسری جانب آسام کے ڈیٹنشن سینٹر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے خود بھارتی اخبارات کے مطابق ہی اب تک 29افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں ۔ یہ وہ ہلاکتیں ہیں جو رپورٹ ہوئی ہیں عوامی و سماجی حلقوں میں ان ہلاکتوں پر غم و غصہ بڑھ رہا ہے بالی وڈ کی ایک اداکارہ رچا چڈھا جنکا تعلق اسی ریاست سے بتایا جا تا ہے نے ان ہلاکتوں پر غصے کا اظہار کیا ہے ، رچا چڈھا نے احتجاجاً ایک ٹوئیٹ کیا جو بہت وائرل ہو رہا ہے۔ رچا نے لکھا ’’ہندو نریش آسام میں ڈیٹنشن سینٹر میں دم توڑنے والے 29ویں شخص ہیں، اُن لوگوں سے اتفاق کرتی ہوں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندو خطرے میں ہیں ۔‘‘ 

 شہریت کے متنازع قانون کیخلاف پورا بھارت سراپا احتجاج ہے جبکہ بی جے پی کے قانون ساز وکرم سینی پاکستان کو’’ادلا بدلی ‘‘ کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بھاجپا کے قانون ساز وکرم سینی نے بھارتی میڈیا کے سامنے مشورہ کچھ اس طرح دیا کہ’’پاکستان کو چاہیے کہ اپنے ملک میں شہریت کا قانون نافذ کرے اور جو مسلمان بھارت میں متنازع شہریت کا شکار ہورہے ہیں اُن کو پاکستان میں شہریت دیدی جائے۔بھارت میں جو مسلمان شہریت کی وجہ سے ظلم برداشت کر رہے ہیں وہ اگر چاہیں تو پاکستان جا سکتے ہیں اُن کو کوئی نہیں روک رہا ۔ پاکستان ادلا بدلی کرلے جو ہندو وہاں تکلیف میں ہیں اُن کو بھارت بھیج دے اور بھارت کے مسلمانوں کو پاکستان میں شہریت دیدی جائے۔‘‘ یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ وکرم سینی کی جانب سے کوئی پہلا مشورہ نہیں تھا مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد بھی انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے سے ہمارے(بی جے پی کے ) کارکنان بہت پُرجوش ہیں کیونکہ اب وہ کشمیری خواتین سے بِناء کسی خوف کے شادی کرسکتے ہیں۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

شاعر موجودہ حالات کی منظر کشی کچھ اس طرح کر رہے ہیں کہ  بہت مصروف رہتے تھے ۔ ۔ ۔ ہواؤں پر حکومت تھی ۔۔تکبر تھا کہ طاقت تھی ۔۔بلا کی بادشاہی تھی کوئی بم لے کے بیٹھا تھا ۔۔۔کسی کے ہاتھ حکمت تھی     

مزید پڑھیں

 کسی نے آجکل کے حالات کیلئے کیاخوب کہا ، شاید آپ ان الفاظ کو سمجھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں     

مزید پڑھیں

٭:کسی نے شائد انہی لمحات کیلئے کہا تھا کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا۔۔۔ ٭:یہ فیصلہ انسانیت کو کرنا ہی پڑے گا کہ ’’کورونا سے ڈرونا‘‘۔۔۔ اور سب کو مل کر ہو گا لڑنا ۔۔۔۔    

مزید پڑھیں