☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
عوام کو مِل کیا رہا ہے ۔۔۔۔؟

عوام کو مِل کیا رہا ہے ۔۔۔۔؟

تحریر : طیبہ بخاری

02-02-2020

٭: جواب ملے نہ ملے لیکن ہر ذہن ، ہر زبان پر سوال ہے کہ عوام کو مِل کیا رہا ہے۔۔۔۔؟

٭:حکومتوں کی جانب سے جواب ملتا ہے ۔۔۔تھوڑا وقت دیں ۔۔۔سمجھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔

٭:سوال یہ بھی ہے کہ آخر کب تک انتظار بس انتظار کرنا پڑے گا ۔۔۔۔کیونکہ اب ’’گھبرانا نہیں ‘‘ سے کام نہیں چلے گا 

٭: ایک خاندان کو3وقت کی روٹی کیلئے روز کم سے کم1ہزار روپے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔

٭:جب وزیر اعظم کا تنخواہ میں’’ گزارا‘‘ مشکل سے ہو رہا ہے تو 15سے 25ہزار روپے تک کمانے والے شہری پر کیا گزر رہی ہو گی 

٭:70برس کے مسائل کا رونا چھوڑ کر صرف 17ماہ کا ذکر چھیڑ دیں تو بھی مسائل کے ’’انبار ‘‘ ہی ملیں گے ۔۔۔۔

٭:ایسا لگ رہا ہے کہ ’’وسائل ‘‘ گم ہو گئے یا اِن پر ایسے قبضہ کر لیا گیا ہے جیسے کسی غریب کے پلاٹ یا جائیداد پر قبضہ کیا جاتا ہے 

٭:کچھ عروج پر ہے تو سیاست برائے سیاست ۔۔۔ الزامات برائے الزامات ۔۔۔دھاندلی برائے دھاندلی۔۔۔ کرپشن برائے کرپشن ۔ ۔۔۔تعصب برائے تعصب ۔۔۔ نفرت برائے نفرت ۔۔۔۔جبر برائے جبر 

٭:خدمت ، جمہوریت ،غور و فکر ،عزم ، اتحاد ، یقین ، تنظیم ، عمل پیہم کتب تک محدود ہو گئے 

٭:حکومت سے پوچھیں کہ غریب عوام کے مسائل کب حل ہونگے ۔۔۔تو جواب ملتا ہے ۔۔۔تھوڑا وقت دیں 

٭:مسائل کی نشاندہی کریں ۔۔۔۔تو جواب ملتا ہے ۔۔۔ سمجھنے کی ضرورت ہے؟ 

٭:عوام کو مِل کیا رہا ہے ۔۔۔مخمصہ ۔۔۔گو مگو کی کیفیت ۔۔۔کنفیوژن۔۔۔۔بد دلی ۔۔۔۔انتشار 

٭:اب سوال یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل بھی’’ ٹرانسپیرنٹ‘‘ نہیں رہی۔۔۔۔؟

٭: پاکستان کے بارے میں رپورٹ درست یا پرانے اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ۔۔۔کون ہے اس کنفیوژن کا ذمہ دار ۔۔۔؟

٭:عوام کو مِل کیا رہا ہے ۔۔۔۔ملک میں آٹا ہے اور نہیں بھی ۔۔۔۔بحران ہے اور نہیں بھی ۔۔۔۔کون ہے اس کیفیت کا ذمہ دار ۔۔۔؟

٭:عوام کو مِل کیا رہا ہے بد دِلی اور انتشار ۔۔۔۔بحران پہ بحران فرضی ہوںیا حقیقی ۔۔۔۔مہنگائی ہی مہنگائی ۔۔۔۔

٭:72برس سے حکمران طبقے کی ایک ہی صدا ہے ۔۔۔تھوڑا وقت دیں ۔۔۔

جون ایلیا نے شائد انہی دنوں اور حالات کے بارے میں کہا تھا کہ 

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا 

میری ہر بات بے اثر ہی رہی 

نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا 

اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں 

ہم غریبوں کی آن بان میں کیا 

شام ہی سے دکان دید ہے بند 

نہیں نقصان تک دکان میں کیا 

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں 

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا 

خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا 

آ رہا ہے مرے گمان میں کیا 

وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے 

اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا 

ہے نسیمِ بہار گرد آلود 

خاک اُڑتی ہے اس مکان میں کیا 

بہار ہو یا خزاں ۔۔۔ جمہوریت ہو یا آمریت غریب آدمی کے مکان میں خاک ہی اُڑ رہی ہے،صرف ایک ہفتے یعنی 7دن کی مہنگائی کا جائزہ لیں تو ادارہ شماریات نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کے حوالے سے گذشتہ ہفتے جو رپورٹ جاری کی اس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں 15اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس میں چینی، آٹا، چائے ،چکن اور گائے کے گوشت کے علاوہ دالیں بھی شامل ہیں۔ایک ہفتے میں چینی 3روپے 60پیسے فی کلومہنگی ہوئی جبکہ پچھلے ایک سال کے دوران چینی کی قیمت میں 18روپے 86پیسے فی کلو کا اضافہ ہوا اور 1سال میں آٹے کا 20کلو کا تھیلا 167روپے مہنگا ہوا۔ چکن برائلرمرغی جو بکرے اور گائے کے گوشت کے بعد عام آدمی کے پاس گوشت کی واحد شکل بچی ہے اس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ 

 ملکی معیشت کے لڑکھڑانے کی ایک بڑی وجہ تجارتی خسارے کو بھی قرار دیا جاتا ہے اس خسارے کا مختصراً ذکر کیا جائے کہ کیسے پاکستان تجارتی خسارے کے بوجھ تلے دبا تو تحقیقی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 15سال کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ1.06 ارب ڈالر سے بڑھ کر 37.58 ارب ڈالرز ہو گیا۔سابق حکومتوں کی درآمدات پرانحصارپالیسی کیوجہ سے تجارتی خسارے میں 36.52ارب ڈالرزاضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2003ء کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 1.06 ارب ڈالرز تھا جو مالی سال 2008ء کے دوران 20.92 ارب ڈالرز تک پہنچا اور مالی سال 2018ء کے اختتام پر خسارے کا حجم 37.58 ارب ڈالرز تک بڑھ گیا۔سابق حکومتوں کی درآمدات پر انحصار کی پالیسی کی نتیجے میں 15 سال کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں 36.52 ارب ڈالرز اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیز ترین اضافہ جبکہ برآمدات میں معمولی اضافہ ہے۔ماہرین کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2001ء کے بعد ترقی کرنے والی معیشتوں نے 7 فیصد سالانہ کی شرح نمو حاصل کی اور مینوفیکچرنگ و برآمدات کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی جبکہ پاکستان میں صورتحال اسکے برعکس رہی اورماضی کی حکومتوں نے مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی ترقی اور برآمدات میں اضافہ کی بجائے درآمدات پر انحصار کی پالیسی جاری رکھی جس کے نتیجے میں پاکستان تجارتی خسارے کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔ مالی سال 2003ء کے دوران پاکستان کی برآمدات 11.16 ارب ڈالرز تھیں جبکہ تجارتی خسارہ 1.06 ارب ڈالرز رہا ۔ مالی سال 2008ء میں صرف 5سال کے قلیل عرصے میں تجارتی خسارے کا حجم 20.92 ارب ڈالرز تک بڑھ گیا اور دوران سال ملکی برآمدات 19.05 ارب ڈالرز جبکہ درآمدات کا حجم 39.97 ارب ڈالرز رہا ۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ10 سال میں مالی سال 2018ء کے اختتام تک برآمدات 23.21 ارب ڈالر تک ہی بڑھ سکیں جبکہ مالی سال 2008ء تا 2018ء کے دوران درآمدات کا حجم 60.80 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا۔

 مزید برآںاسے نا اہلی کہا جائے یا مجرمانہ غفلت کہ پاک وطن کا قیمتی سرمایہ پانی تیزی سے ضائع ہو رہا ہے ۔پاکستان آبی وسائل کی کمی کی وجہ سے سالانہ اوسطاً 29 ارب ڈالر کا پانی سمندر میں پھینک رہا ہے۔یہ انکشاف ارسا کے ممبر پنجاب راؤ ارشاد علی خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے سامنے کیا۔ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے مطابق آبی ذخائر کی کمی کے باعث پاکستان سالانہ اوسطاً 29 ارب ڈالرز کا پانی سمندر میں پھینک رہا ہے۔ ملک میں آبی ذخائر کی تعمیر نہ ہونے سے 1976 سے سالانہ اوسطاً 29 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں جارہا ہے1 ملین ایکڑ فٹ پانی کے اقتصادی ثمرات 1 ارب ڈالر زکے برابر ہیں۔

عام آدمی کو شکوہ ہے کہ ہم ماچس کی ڈبیہ سے لیکر یوٹیلٹی بلز تک اشیائے خوردو نوش کی ہر شے پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پیٹرول ، پانی، بجلی ، گیس ، گھر ، دفتر ، تنخواہ ہر چیز پر ٹیکس دے رہے ہیں پھرحکومتیں کیوں نئے ٹیکسوں کی یا مزید ٹیکسوں کی بات کرتی ہیں اور عوام سے مزید ٹیکس دینے کی امید رکھتی ہیں ۔دوسری جانب چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) شبر زیدی کہتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی ذاتی طور پر ٹیکس نہیں دینا چاہتا، ملک کا ٹیکس نظام درہم برہم ہے۔وفاقی دارالحکومت میں تقریب سے خطاب میں شبر زیدی نے اعتراف کیا کہ ٹیکسیشن کا نظام ناکامی کی طرف جارہا ہے، صنعتوں کی قلت کا شکار ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس کا زیادہ بوجھ مینوفیکچرنگ سیکٹر اٹھا رہا ہے، لوگ ٹیکس بوجھ کی وجہ سے مینو فیکچرنگ سے بھاگ رہے ہیں ۔ ریفارم پالیسی کے مطابق ٹیکس کا بوجھ تمام سیکٹرز میں برابر بانٹنا ہے، سسٹم میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہیں۔ ہمیں ایک فیس لیس ایف بی آر چاہیے، تمام مسلمان ممالک میں ٹیکس کا سسٹم آٹومیٹڈ ہے۔ بہت سا پیسہ رئیل اسٹیٹ اور تجارت میں چلا گیا، پاکستان میں گرے منی کو وائٹ کرنے کی جگہ رئیل اسٹیٹ ہے جب تک کاروبار ڈاکومینٹڈ نہیں ہو گا، آپ زیادہ عرصہ اس کو نہیں چلا سکتے، ڈاکومینٹیشن کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہر کوئی سوال کرتا ہے موبائل ڈیوٹی کیوں بڑھی؟ میرا کام نہیں ہے ڈیوٹی لگانا، ڈیوٹی لگانا وزرات خزانہ اور نیشنل ٹیرف آرگنائزیشن کا کام ہے۔میرا کام ٹیکس اور ڈیوٹی اکٹھا کرنا ہے، کوئی بھی وزراتوں کی ذمہ داریوں اور مسائل پر بات نہیں کرتا۔ ہم نے انسانی وسائل کو استعمال میں لانا ہے، ہم مارچ سے پہلے ٹیکس کی تمام بنیادی تجاویز جمع کرکے سامنے لائیں گے، مئی میں جلدی جلدی میں تمام تجاویز اکٹھی نہیں ہو سکتیں، ہمارا بہت بڑا مسئلہ کسٹمز اور درآمدات کا ہے، ہم نے کسٹم میں پیمائش کے یونٹ کو بدل دیا ہے، پہلے ہم باہر سے آئی اشیاء کو وزن سے چیک کرتے تھے، اب اسکینرز کے ذریعے چیک کیا جاتا ہے۔

مزید برآں چیئرمین ایف بی آرکی ہدایت پر ملک بھر میں ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے ٹیکس نادہندگان کے خلاف مہم کا آغاز کردیا ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان بارہا قوم سے وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ ٹیکس چوروں کو نہیں چھوڑیں گے، امیدِ واثق ہے کہ ماضی کے برعکس متذکرہ حالیہ مہم ضرور کامیاب ہو گی تاہم یہ کوشش متعلقہ حکام کیلئے بہت بڑا چیلنج اور کڑا امتحان ہے کیونکہ بااثر افراد نے کبھی یہ کام چلنے نہیں دئیے۔ یہ کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ ملک کی 22کروڑ کی آبادی میں سے محض 20لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے 31لاکھ میں سے 90فیصد افراد ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ایف بی آر کے اپنے اندر پائی جانے والی بدعنوانی ہے ۔دوسری جانب پاکستان بزنس کونسل کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی کے ایک اور یوٹرن سے مایوسی ہوئی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا پاکستان بزنس کونسل کا کہنا ہے کہ حکومت نے 5 برآمدی شعبوں کیلئے بجلی کا ریٹ 7 اعشاریہ 5 سینٹ فی یونٹ مقررکرنے کے ایک سال بعد ہی ٹیرف کو 13 سینٹ فی یونٹ کردیا ۔ حکومت کی جانب سے پلانٹ مشینری پر ٹیکسوں کی چھوٹ کو بھی آدھا کردیا گیا جبکہ حکومتی پالیسی کے ایک اور یوٹرن سے مایوسی ہوئی ۔حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو ملکی برآمدات کو نقصان ہوگا، پیداواری صلاحیت بڑھانے میں سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔ 

 گیس ،گندم ،گنے کے بعد کپاس کی باری؟

سستی گیس کی راہ میں رکاوٹ اور قومی خزانے کو مبینہ نقصان پہنچانے کے الزام میں نیب نے وزارت پٹرولیم کے بدین فور فیلڈ سے متعلق انکوائری شروع کردی ہے۔ نیب نے بدین فور سائوتھ ویل سے سستی گیس نیشنل گریڈ میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالنے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر جانچ پڑتال شروع کی ہے اور پٹرولیم ڈویژن سے تصدیق شدہ ریکارڈ طلب کرلیا جبکہ دیگر فیلڈز سے سسٹم میں گیس شامل نہ کرنے کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔نیب کے مطابق 4 ڈالرز میں ملنے والی گیس میں مبینہ رکاوٹ ڈال کر 10 ڈالرز والی گیس کیلئے راہ ہموار کی گئی جس سے قومی خزانہ کو مالی نقصان ہوا۔ وزیراعظم کو آٹا اور گندم بحران سے متعلق جو رپورٹ ارسال کی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ یہ بحران باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیدا کیا گیا اور اس میں بعض سرکاری افسران اور سیاسی شخصیات ملوث ہیں۔ بحران محکمہ خوراک کی انتظامی نااہلی اور سیاسی دبائوکی وجہ سے پیدا ہوا ہے نومبر تک گندم 1550 روپے فی من تھی جسے منصوبہ بندی سے 1950 روپے تک پہنچایا گیا ‘ دو ماہ قبل مارکیٹ میں گندم وافر تھی، تاہم دسمبر میں غائب ہونے لگی۔ صاف شدہ گندم 2100 روپے من ملنے پر چکی مالکان نے بھی قیمت بڑھا دی ۔

 آٹے کے بعد ملک بھر میں چینی کی فی کلو قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔لاہور اور کوئٹہ میں 4 سے 6 روپے اضافے کے بعد ایک کلو چینی 80 روپے کی ہوگئی۔کراچی میں 74 روپے کلو فروخت ہونے والی چینی اب 77 سے 78 روپے میں دستیاب ہے۔دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کے کسانوں سے غیرقانونی طور پر کم قیمت میں اربوں روپے کا گنا خرید کر سندھ کی شوگرملوں کوفروخت کرنیوالے بیوپاریوں کیخلاف کریک ڈائون کا حکم دیدیا ہے۔ یہ احکامات خفیہ ایجنسی کی اس رپورٹ کے بعد جاری کئے گئے جس میں کہا گیا ہے کہ ضلع بہاولپور سمیت جنوبی پنجاب کے 40سے زائد بیوپاریوں نے انتہائی سستے داموں گنا خریدکر کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور اس گنے کو خریدکر رحیم یارخان، مظفرگڑھ اور ملتان کے علاوہ سندھ کی شوگرم ملوں کو فروخت کررہے ہیں۔ محکمہ داخلہ نے اس دھندے میں ملوث بیوپاریوں کے خلاف کریک ڈائون کا حکم دیدیا ہے۔جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت میں بیٹھے شوگراورآٹامافیانے چند دنوں میں عوام کی جیبوں سے اربوں روپے لوٹ لئے ہیں۔ حکومت خودکہتی ہے کہ آٹے کی قلت اور قیمت میں اضافہ منصوعی ہے تو پھر اب تک ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں کیا گیا۔ ابھی تک عدالتوں کی طرف سے شوگر، لینڈ اور ڈرگ مافیا کے خلاف کوئی سوموٹو ایکشن نہیں لیا گیا۔

 اور اب بات کریں کپاس کی تو گذشتہ برس ملک میں کپاس کی فصل کی کاشت میں بھی ریکارڈ کمی دیکھی گئی جس کی وجہ سے برآمد کنندگان میں تشویش پائی جارہی ہے ۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو ایک یا 2 کروڑ نہیں پورے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی کپاس عالمی منڈی سے خریدنا پڑ سکتی ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ ٹیکسٹائلز ہے لیکن اس کے خام مال کپاس کی پیداوار کا حال بہت برا ہے۔کپاس کے بیج پر علاقائی ممالک جیسی توجہ نہ ہونے کے سبب بھارت جیسے ملک کپاس کی پیداوار میں پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں۔اہداف تھے کہ پاکستان کپاس ایکسورٹ کے ساتھ بھاری زرمبادلہ بھی کمائے اور آئی ایم ایف جیسے پروگرام کی ضرورت نہ ہو، تاہم صرف بیج پر عدم توجہ نے ملک کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ٹیکسٹائل ماہرین کے مطابق پاکستان کو رواں سال تقریباً 5 ملین بیلز امپورٹ کرنا ہوں گی۔ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کو اس خریداری میں چند ماہ میں ہی 1ارب 50 کروڑ ڈالرز خرچ کرنا ہوں گے، یعنی آئی ایم ایف کی طلب سے ملنے والی سالانہ امداد سے زائد رقم یہاں خرچ کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق صرف موسم کو پیداوار میں کمی کی وجہ قرار دے کر متعلقہ ادارے بری الذمّہ نہیں ہو سکتے۔پاکستانی بیج پیداواری اعتبار سے کمزور ہوتا گیا ہے اور اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔بھارت کپاس استعمال کے بعد بھی اربوں ڈالرز ایکسپورٹ سے کما رہا ہے اور پاکستان آئی ایم ایف کی سالانہ امداد سے زائد کی خریداری عالمی منڈی سے کر رہا ہے۔

 ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر بھی کنفیوژن 

 

 ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے گذشتہ دنوں دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن سے متعلق 2019ء کی رپورٹ جاری کی جس میں بتایا کہ پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پچھلے سال کی نسبت ایک نمبر کم حاصل کر سکااور 2018ء کی نسبت 2019ء کے دوران پاکستان میں کرپشن بڑھی ۔رپورٹ منظر عام پر آتے ہی پاکستان میں تبصروں ، تجزیات اور تنقید کا طوفان امڈ آیا پھر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر کا وضاحتی بیان بھی میڈیا کی زینت بنا کہ رپورٹ میں نہیں کہا کہ 2019ء میں پاکستان میں کرپشن بڑھی ۔ چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان سہیل مظفر کے مطابق پاکستان کا سکور ایک درجہ نیچے جانا کرپشن میں اضافے یا کمی کی نشاندہی نہیں کرتا سیاستدانوں اور میڈیا نے ہماری رپورٹ کو غلط رپورٹ کیا، غلط اعداد و شمار پیش کر کے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے بدعنوانی کے خلاف اقدامات قابلِ ستائش ہیں، موجودہ حکومت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ انڈیکس میں شامل ڈیٹا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا نہیں ہوتا، رپورٹ میں 13 مختلف ذرائع کے اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں۔۔۔۔۔پھر میڈیا پر یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں پرانے اعدادوشمار استعمال کیے؟پھر ان سوالات پر بھی بحث و مباحثے ہوئے۔ سوشل میڈیا پر یہ الجھن پائی جاتی ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پرانے اعدادوشمار کا استعمال کرکے رپورٹ مرتب کی۔ سی پی آئی ، 2019 ء رپورٹ میں اعدادوشمار کی تفصیلات موجود ہیں جس میں سروے کی مدت کی نشاندہی کی گئی ہے۔تمام 8 ایجنسیوں نے جدید اعدادوشمار لیے ہیں اور چند ایجنسیوں نے اپنا سروے اکتوبر2019 ء میں کیا جبکہ چند ایجنسیوں نے 2018 ء میں کیے گئے سروے کی اعدادوشمار لیے ہیں۔ سی پی آئی، 2019 رپورٹ 13 ایجنسیوں یا سروے ذرائع پر مشتمل ہے اِن میں سے 8 کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ان 8 میں سے 5 ایجنسیوں نے پاکستان سے متعلق منفی رائے ظاہر کی جبکہ 3 نے مثبت رائے کا اظہار کیا جس میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔ جن5 ایجنسیوں نے پاکستان کو منفی سکور دیا ہے ان میں برٹلزمین فائونڈیشنز ٹرانسفرمیشن انڈیکس، گلوبل انسائٹ کنٹری رسک ریٹنگز، ویرائیٹیز آف ڈیموکریسی، عالمی اقتصادی فورم اور ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لاء انڈیکس شامل ہیں۔ برٹلزمین فائونڈیشنز ٹرانسفرمیشن انڈیکس کے اعدادوشمار فروری، 2017ء سے جنوری 2019ء تک کے ہیں۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لاء انڈیکس کے اعدادوشمار مئی اور نومبر2018ء کے درمیان کے ہیں جبکہ پاکستان کو مثبت سکور دینی والی ایجنسیوں میں اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کنٹری رسک سروس، دی پی آر ایس گروپ انٹرنیشنل کنٹری رسک گائڈ اور ورلڈ بینک کنٹری پالیسی اینڈ انسٹیٹیوشنل اسسمنٹ شامل ہیں۔

 مسلم لیگ (ن) ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ کو حکومت کے منہ پر طمانچہ قرار دیتے ہوئے ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ ملک کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کا رپورٹ پر ردعمل میں کہنا ہے کہ 10 سال بعد ملک کا ٹرانسپیرنسی انڈیکس تنزلی کا شکار ہوا۔ سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی پی پی کے سینئر رہنما سعید غنی کے مطابق رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اس سال کرپشن میں اضافہ ہوا مہنگائی و بیروزگاری نے گذ شتہ ایک سال میں غریب کی کمر توڑ دی۔ وزیر اعظم کے دعوے بے نقاب ہو گئے اور رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیڑھ سال میں ملک ہر حوالے سے پیچھے چلا گیا۔ قانون کی حکمرانی کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بھی پاکستان مزید تنزلی کی طرف گیا ہے جبکہ ایک سال میں پاکستان جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی پیچھے چلا گیا۔ گذ شتہ ایک سال میں عدلیہ اور میڈیا پر بھی حملے بڑھ گئے، انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بھی پاکستان کا درجہ گذ شتہ ایک سال میں خراب ہوا۔ میڈیا پر آج ختنی قدغنیں ہیں پہلے کبھی دیکھنے کو نہ ملیں تھیں اور اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائیاں بھی بڑھ گئیں ہیں۔چیئرمین پاک سر زمین پارٹی مصطفیٰ کمال کہتے ہیں وزیراعظم خدارا کرپشن کا نام لینا چھوڑ دیں، ملک میں کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے، یہاں ریاست مدینہ کا نام لے کر لوگوں کی تذلیل کی جاتی ہے۔غریب عوام کے پاس پانی ، بجلی ہے نہ گیس اب خدمت کا موقع ہمیں دیا جائے

 مسائل 20ء میں نہیں، 21ء میں حل ہونگے

 

 تحریک انصاف کی حکومت کو ایک کے بعد ایک منفی خبر کا سامنا ہے ، پہلے صرف اتحادی اور حکومتی اراکین حکومت کی کارکردگی اور مبینہ کرپشن پرسوالات اٹھ ر ہے تھے لیکن اب عوام میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے عوام میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کے حکومت اپنے وعدوں اور دعوئوں پر پورا نہیں اتر رہی ۔ خیبر پختونخوا کی کابینہ سے 3 وزراء کو فارغ کرنے سے پی ٹی آئی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ، پنجاب میں بھی اراکین اسمبلی کے روٹھنے اور منانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ بات وزیر اعظم سے ملاقاتوں اور گلے شکوؤں سے آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ ملک میں سیاسی ہلچل کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن سرگرم ہیں، وزیراعظم نے لاہور اور کراچی کے دورے کئے پی ٹی آئی کے ناراض اراکین اسمبلی سے ملاقات کی۔ مسلم لیگ (ن) مہنگائی پر حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر ٹف ٹائم دینے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر پنجاب میں پیپلز پارٹی کو متحرک اور منظم کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ 2020ء میں مسائل حل کریں گے، جبکہ میں اپنے لوگوں کو کہتا ہوں کہ مسائل 2021ء میں حل ہوں گے۔ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، افواہیں پھیلائیں جا رہی ہیں، چوروں اور ڈاکوئوں نے ملک کو لوٹا، ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، کابینہ میں تجویز دوں گا کہ منتخب لوگوں کی پرائس کنٹرول کمیٹی ہونی چاہیے۔ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں، میں نے کابینہ میں ڈٹ کر مخالفت کی کہ آٹا ایکسپورٹ نہ کریں۔ عمران خان کی حکومت میں مہنگائی ختم کریں گے، راولپنڈی میں 4 ترقیاتی کام کر کے آخری جلسہ کروں گا اور آپ سے اجازت لوں گا،آئی ایم ایف کے پاس جانا اس حکومت کی مجبوری تھی۔مہنگائی ہے، قوم آئی ایم ایف کو قیمت چکا رہی ہے،احتساب کے بجائے آٹا، بجلی سستی کردیتے تو بہتر ہوتا۔

گرے لسٹ سے نکلنے کی امید 

 

بھارتی میڈیا نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالے جانیکا امکان ظاہر کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چین کی لابنگ اور نجی کنسلٹنٹ کی مدد کے باعث پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دینے کا 75فیصد امکان ہے ممکن ہے کہ 16 فروری کو ہونے والی پلینری میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں چین نے 39 ممالک کے گروپ کو بتایا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی میں مؤثر کوششیں کر رہا ہے۔پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے اور وائٹ لسٹ میں آنے کے لیے 39 ووٹوں میں سے 12 ووٹ درکارہیں۔جبکہ دوسری جانب خلیجی اخبار نے مزید 6ماہ تک پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ اخبار کے مطابق پاکستان کو مزید 6 ماہ کیلئے گرے لسٹ میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان وہ قانون سازی کر سکے جس کی مدد سے بینکاری نظام کی عالمی معیارات کے عین مطابق از سر نو ڈھانچہ سازی ہو سکے تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو یقین ہے کہ فروری میں پاکستان کو گرے لسٹ نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا لیکن ماہرین اور سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ گرے لسٹ میں پاکستان کا مزید 6 ماہ تک نام شامل رکھا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے خلیج ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے بہت شاندار کام کیے ہیں، ہم نے 27 میں 24 خدشات دور کر دئیے ہیں اور جلد ہی ہم ایف اے ٹی ایف کے رہنما اصولوں پر 100 فیصد تک عمل کے قابل ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان کیلئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں جیسا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، اے ڈی بی اور یورپی یونین سے آسان شرائط پر مالی معاونت حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ پاکستان کے سابق چیف اکنامسٹ پرویز طاہر کے مطابق دنیا ایف اے ٹی ایف گائیڈلائنز پر عمل میں پاکستان کی مدد کیلئے تیا رہے، ہم میں کچھ معاملات میں ٹیرر فنانسنگ کے اہم پہلوئوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، لیکن ایف اے ٹی ایف کی گائیڈلائنز پر عدم عمل کیلئے برداشت کی حد صفر ہے۔ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ اچھی پیشرفت کے باوجود گرے لسٹ میں مزید 6 ماہ تک کیلئے رکھا جا سکتا ہے جس کی زیادہ تر وجہ بھارت کی مخالفت ہو سکتی ہے کیونکہ اس وقت بھارت کے پاس ہی ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ کے وائس چیئرمین شپ کا عہدہ ہے، بھارت پاکستان کو گرے سے نیچے گرا کر بلیک لسٹ میں شامل کرانا چاہتا ہے جبکہ چین اس کا مخالف ہے، لہٰذا درمیانہ راستہ گرے لسٹ ہی بچتا ہے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

مزید پڑھیں

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔ ٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔ ٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں

  کورونا کے باعث ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں بیٹھ جانا۔۔۔ اس وباء سے مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔اور اگر مقابلہ نہیں کرنا تو کم سے کم نمٹنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوروناسے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔اب طے یہ کرنا ہے کہ اس وباء کے ہوتے زندگی کو کیسے بحال کرنا ہے ۔۔۔ ترقی کا پہیہ کیسے چلانا ہے ۔۔۔بند کاروبار کیسے کھولنے ہیں ۔ بڑھتی بے روزگاری کو کیسے روکنا ہے ۔۔۔ لڑکھڑاتی معیشت کو کیسے سہارا دینا ہے ۔۔۔نقصانات اور خساروں کے اندیشے کیسے کم کرنے ہیں ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔مکمل لاک ڈائون بھی نہیں ہوا اور معیشت کا بھی نقصان ہوگیا۔۔۔ڈپریشن اور معاشی مسائل کے شکار عوام کو کیسے امید اور حوصلہ دینا ہے ۔۔۔۔

مزید پڑھیں