☰  
× صفحۂ اول (current) کچن کی دنیا غور و طلب دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل تاریخ کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ کھیل ادب خواتین فیشن صحت روحانی مسائل دین و دنیا
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس سے نفرت کی سیاست تک

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس سے نفرت کی سیاست تک

تحریر : طیبہ بخاری

03-31-2019

µ کیا بتائیں ۔۔۔کیسے سمجھائیں ۔۔۔کیسی جی رہے ہیں اس خطے کے عوام زندگی ۔۔۔۔پاکستان اور بھارت میں بسنے والے کروڑوں امن کے طلبگار عوام طرح طرح کے خوف ، وسوسوں ، خطرات اور عدم تحفظ کے بوجھ تلے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں اور ناجانے کب تک ایسے ہی جئیں گے شاعری میں یہ چند سطریں شائد ایسے ہی بے بس انسانوں کیلئے لکھی گئی ہیں جن کا تعلق دونوں ملکوں سے ہے

کیسے کہیں کہ کیسے گزاری ہے زندگی

کیا بوجھ تھی کہ سر سے اُتاری ہے زندگی

مقتل تھے گام گام پہ رستہ طویل تھا

اپنے لہو سے ہم نے سنواری ہے زندگی

کرتی ہے خود تلاش یہ کانٹوں کا راستہ

اس واسطے سکون سے عاری ہے زندگی

قائم ہے ایک فاصلہ دونوں کے درمیاں

شک اور یقیں کے ساتھ اب جاری ہے زندگی

گام گام پر سجے مقتلوں سے سمجھوتہ کر چکے ہیں جنوبی ایشیاء کے عوام ۔۔۔ اور ایسا ہی سمجھوتہ ہوا ہے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پر ۔۔۔ خطے کی ہی نہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کی مودی حکومت کو دس سے بارہ سال لگ گئے اس سانحے کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی تک اور فیصلہ یہ آیا کہ کوئی مجرم نہیں ،۔۔کوئی ملزم نہیں ۔۔۔سب بری ۔۔ ۔درجنوں مرنے والوں کا کوئی گناہ نہیں۔۔۔ اور درجنوں متاثرین کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔۔۔

سمجھوتہ ایکسپریس پر ایسے ہی خوف کے ماحول میں سفر کرتے رہو ۔۔۔ زندہ جلتے رہو ۔۔۔مرتے رہو اور نفرت کی سیاست کا شکار بنتے رہو۔۔۔ انصاف کیلئے برسوں انتظار کرو۔۔۔اور سرحدوں پر دھکے کھاتے پِھرو ۔۔۔۔کیونکہ تمہیں تو 1947ء میں تقسیم کر دیا گیا تھا ۔۔۔تمہارے خاندان سرحدوں کے آر پار بانٹ دئیے گئے تھے ، کاٹ دئیے گئے تھے، گھر اجاڑ دئیے گئے تھے ، اپنے بیگانے کر دئیے گئے تھے ، دیس کو پردیس بنا دیا گیا تھا ۔۔۔پھر بھی تم باز نہیں آئے ۔۔۔سمجھوتہ ایکسپریس سے کبھی اِس پار تو کبھی اُس پار لُٹے پٹے گھر دیکھنے، اُجڑی زمین چومنے، بچے کھچے رشتے ناطے جوڑنے، بچھڑے دوستوں کو دیکھنے آتے جاتے رہے۔۔۔تمہارے ساتھ یہ سلوک تو ہونا ہی تھا ۔۔۔تم زخم کھا کر بھی باز نہ آئے ۔۔۔

تمہیں ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرنے کی سزا تو ملنا ہی تھی ۔۔۔۔یہ سمجھوتہ نفرت کو کہا ں گوارا تھا اس لئے اس نے تمہیں تمہاری تمام اچھائیوں کیساتھ زندہ جلا ڈالا۔۔۔لیکن یہ کیا ہوا برسوں بیت گئے ، عدالت کا فیصلہ بھی نفرت کے حق میں آگیا لیکن نفرت کی جیت کیوں نہ ہوئی۔۔۔وہ آج بھی بری ہو کر مجرموں کی طرح کٹہرے میں کیوں کھڑی ہے ، اپنی بریت کا جشن کیوں نہیں منا رہی ۔۔۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ تم نے چند بے آسرا ، نہتے ، مظلوم ، بے گناہ محبت کے مسافرجسموں کو شہروں کی رونق سے دور سرحدوں کے جنگل میں نفرت کی آگ میں جلا ڈالا لیکن تم ان کا پیغام ، ان کی سوچ اور ان کی محبت کو نہیں جلا سکے ۔ تم نے اُن کے خون سے ہولی تو کھیلی لیکن تم اپنے ماتھے سے ان کا خون کبھی صاف نہیں کر پاؤ گے ۔۔۔۔یہ خون تمہارا پیچھا کریگا ،انصاف تک ۔۔امن تک ۔۔ عدالتیں تمہیں سزا دیں نہ دیں لیکن ہر امن پسند سوچ تم پر تازیانے برسائے گی ۔۔۔

تمہیں نفرت کی سزا ملے گی۔۔۔ضرور ملے گی ، آنیوالی نسلیں سوال کریں گی کہ محبتوں کو کس سرحد پر اور کیوں ناحق قتل کیا گیا اور کس کے کہنے پر یہ ظلم کیا گیا۔سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا مختصراً ذکر کریں تو سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں 18 فروری 2007ء کو پانی پت کے قریب 2 بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 68 مسافر مارے گئے جن میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔ اس کیس میں اسیمانند سمیت 4 ملزمان کو اب بری کر دیا گیا ہے۔اسیمانند کے علاوہ لوکیش شرما، کمل چوہان اور راجیندر چودھری اس معاملے میں بری ہو گئے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ سانحے کے بعد ہریانہ پولیس نے ایک کیس درج کیا تھا اور جولائی 2010ء میں تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی تھیں۔ بنا کمار سرکار عرف سوامی اسیما نند ، لوکیش شرما،کمل چوہان اور راجندر چودھری عدالت میں پیش ہوئے تھے۔بم دھماکوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کی پہلے ہی دسمبر 2007 ء میں موت ہو گئی تھی جبکہ دیگر 3 ملزم رام چندر کل سنگرا،سندیپ ڈانگے اور امیت فرار تھے۔2015ء میں اس واقعے کے 11 اہم سرکاری گواہ منحرف ہوگئے تھے۔سمجھوتہ بم دھماکے جیسے سنگین مقدمے میں اسیما نند کی رہائی اور گواہوں کے منحرف ہونے کا معاملہ اس وقت ہوا جب ایک سرکاری وکیل نے یہ الزام لگایا کہ قومی تفتیشی ادارہ این آئی اے ہندو شدت پسندوں کیخلاف مقدمات کمزور کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔یہ مقدمہ چندی گڑھ سے ملحقہ شہر پنج کولہ کی ایک عدالت میں چل رہا تھا ۔

عدالت کے باہر کے ’’سازگار حالات‘‘کو دیکھتے ہوئے مقدمے کے اصل ملزم سوامی اسیما نند بھی اپنے اقبالیہ بیان سے منحرف ہو گئے تھے کیونکہ وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں سوامی کی رہائی کا دفاع کر رہے تھے ۔ یہاں یہ یاد رہے کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس سے دو ماہ قبل مالی گاؤں بم دھماکے کے مقدمے کی سرکاری وکیل روہنی سالیان نے بھی این آئی اے پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان پر دبا ؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ہندو انتہا پسندوں کے خلاف نرم رویہ اختیار کریں۔ ان دھمکیوں کے بعد روہنی نے ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیدیا تھا۔

2015ء میں صرف چند ہفتوں میں کم از کم 11 اہم سرکاری گواہوں کے منحرف ہو جانے کے باوجود یہ کہا جا رہا تھا کہ اس سے مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کیس کی بنیاد واقعاتی شواہد پر قائم ہے اور یہ ثابت ہو جائیگاکہ سمجھوتہ ٹرین میں بم دھماکہ ایک سازش کے تحت کیا گیا تھا اور ملزموں کے خلاف جرم ثابت ہو جائیگا۔ 137 گواہوں کے بیان لئے جا چکے تھے جبکہ 80 گواہ باقی تھے ۔

خودبھارتی سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے اچانک گواہوں کے منحرف ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس وقت کہا تھا کہ ’’ یہ ایک خطرناک روش ہے جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے تب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ سمجھوتہ ، مالی گاؤں، اجمیر درگاہ اور اس طرح کے جن واقعات میں سنگھ خاندان کے لوگ ملوث ہیں ایسے معاملات کو رفع دفع کیا جائے۔

‘‘ یہاں انگریزی کے سرکردہ جریدے ’ ’کیری آن‘‘ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جس میں سوامی اسیما نند کا ایک طویل انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے بم دھماکوں کے کئی واقعات کے بارے میں اہم انکشافات کیے تھے۔ جریدے کے مدیر ہرتوش سنگھ بل نے بھی کہا تھا کہ ’’ این آئی اے نے کبھی ان انکشافات کی روشنی میں کوئی تفتیش نہیں کی۔گواہوں کے منحرف ہونے میں ایک منظم طریقہ کار نظر آتا ہے اور اس سے یہ کیس ہی کمزور نہیں ہوگا بلکہ بھارت کی پوزیشن بھی متاثر ہوگی۔‘‘ صحافتی طبقوں کے علاوہ قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ ’’ اس مقدمے کے ملزم اگر قانون اور انصاف کی گرفت سے بچ گئے تو اس سے نہ صرف این آئی اے کی ایمانداری مشکوک ہوگی بلکہ پاکستان سمیت عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بھی زبردست نقصان پہنچے گا۔

‘‘سو ایسا ہی ہوا 4سال قبل بھارتی، غیر ملکی میڈیا اور غیر جانبدار حلقے جن خدشات کا اظہار کر رہے تھے وہ 2019ء میں سانحے کے فیصلے کی صورت میں سامنے آ گئے ۔۔۔آج بھارت میں ہی سانحہ سمجھوتہ کیس کے فیصلے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں بھارتی صحافی بھی بول رہے ہیں۔معروف بھارتی صحافی وجَیتا سنگھ نے کہا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکا کیس میں تمام ملزمان کو چھوڑ دیا گیا کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ دھماکے میں جان سے جانے والے 68 افراد کوکسی نے قتل نہیں کیا؟ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ سب لوگ خودبخود انتقال کر گئے؟مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند بھارتی انتہاپسند جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا رکن تھا۔

ایک اور ٹویٹ میں وجَیتا سنگھ نے دھماکے کے ایک زخمی پاکستانی انیل سمیع کی ویڈیو شیئر کی ۔وجَیتا کے مطابق انیل سمیع کا مؤقف ہے کہ وہ حملہ آوروں کو پہچان سکتا ہے مگر بھارتی عدالت میں اسے بلایا ہی نہیں گیا۔ جب بھارت میں بسنے والے انصاف پسند عوام اس فیصلے سے مطمئن نہیں تو پاکستان کیسے خاموش رہ سکتا ہے ۔پاکستان نے اس نا انصافی کیخلاف احتجاج میں کہا ہے کہ ’’ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزموں کی بریت پر دنیا بھارت کے دہرے معیار کا نوٹس لے ، سانحے میں شہید ہونے والے بے گناہوں کے ذمہ داران چاروں مجرموں کو بری کر دینا انتہائی تشویشناک ہے۔

اعترافِ جرم کے باوجود مجرموں کو بری الزمہ قرار دینے سے متعلق بھارتی عدالت کے فیصلے نے دنیا کو حیران کر دیا۔ بھارت ایک طرف تو او آئی سی میں نشست چاہتا ہے، کرائسٹ چرچ واقعہ کی مذمت کرتا ہے لیکن مسلمان شہداء اور مسجدوں کا ذکر کرنے پر بھارت پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ تو تھا سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا مختصراً قصہ۔۔۔ اب ذکر کرتے ہیں’’ نفرت کی سیاست ‘‘ کا ۔۔۔جس کا اندازہ آپ اس خبر سے لگا لیں کہ 2019ء کے خوشحال ممالک کی فہرست جاری کر دی گئی ہے

جس کے مطابق بھارت کی7 درجے تنزلی ہوئی ہے اور سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت پاکستان اور چین سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ عالمی فہرست میں پاکستان 67نمبر پر بھارت 140 ویں نمبرپر ہے جبکہ گزشتہ برس 2018ء میں بھارت اس فہرست میں 133ویں نمبر پر تھا۔۔۔خوش اور مطمئن رہنے میں بھی پاکستانی قوم نے بھارتیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔بھارت کی اچانک 7درجے تنزلی کیوں ہوئی صاف ظاہر ہے کہ اس کی وجہ ’’نفرت کی سیاست ‘‘ ہے ۔

سورت میں حکومت کیخلاف عوام کا غصہ انتہا کو جا پہنچا بھارت میں اِن دنوں الیکشن کا ماحول ہے، عوام نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست سے کس قدر تنگ آ چکے ہیں اس کی ایک نہیں ان گنت مثالیں ہیں ، میرٹھ میں پوری کی پوری مسلمانوں کی بستی نذر آتش کر دی جاتی ہے ، کہیں اونچی آواز میں گانا سننے پر مسلمان نوجوان کو سر عام قتل کر دیا جاتا ہے ،توکہیں ہولی کے دن کرکٹ کھیلنے پر مسلمان نوجوانوں کو مار مار کر لہولہان کر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کرکٹ کھیلنا ہے تو پاکستان چلے جاؤ ۔۔۔

اس واقعے کی تفصیل بھی آپ کو بتائیں گے پہلے چلتے ہیں گجرات جہاں کئی علاقوں میں حکومت سے ناراضی کے پیش نظر لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ اور موجودہ رکن پارلیمان کے خلاف بینر زلگا دئیے گئے ہیں۔لوک سبھا انتخابات سے پہلے گجرات کے سورت میں حکومت سے ناراضی اس حد تک جا پہنچی ہے کہ گزشتہ 25 برسوں سے وہاں رہ رہے عوام نے نہ صرف لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ بی جے پی کے موجودہ رکن پارلیمان سی آر پاٹل کیخلاف اعلان ِ بغاوت کر تے ہوئے شہر میں بڑی تعداد میں ایسے پوسٹر زلگے ہیں،

جن پر لکھا ہے ’’ مودی سے بیر نہیں سی آر تیری خیر نہیں۔‘‘یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ شمالی ہندوستان کی ریاستوں کے تقریباً15 لاکھ سے زیادہ عوام سورت میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر شہر کے کپڑا کارخانوں میں کام کرتے ہیں ۔ مخالفت کر رہے عوام کے مطابق جن علاقوں میں شمالی ہندوستانی بڑی تعداد میں رہتے ہیں ان کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

یہاں تک کہ بار بار درخواست کے باوجود ان کے مسائل کا حل نہیں ہوتا اسی لئے انہوں نے اس طرح انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔سورت کے اودھنا علاقے کی تقریباً 18 سوسائٹیز میں بھی ایسے 100 بینر زلگے ہیں جن میں علاقے میں کسی بھی رہنما کے داخل نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ پوناگاؤں علاقے میں لوگوں نے بی جے پی کے کسی بھی امیدوار کے داخلے پر پابندی لگانے کے بینرز لگادئیے ہیں۔

بی جے پی کو گجرات میں ’’ بغاوت‘‘کا سامنا دوسری جانب گجرات کے نوجوان رہنما ہاردک پٹیل کہتے ہیں کہ ’’ گجرات ماڈل ریاست نہیں ہے جس کو بی جے پی نے 2014 ء میں الیکشن جیتنے کیلئے پیش کیا تھا ریاست سے 400 لڑکیاں روزانہ غائب ہورہی ہیں۔ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں مگر مودی پھر بھی کہیں گے کہ وہ چوکیدار ہیں۔اُس وقت بھی ریاست میں بے روزگاری تھی اور کسان خود کشی کر رہے تھے۔

مودی اور امیت شاہ نہیں چاہتے کہ گجرات سے باہر کے لوگ اس سچائی کو جانیں۔ گجرات میں 55 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں اور ہردن ایک کسان خود کشی کر رہا ہے۔2014ء میں بی جے پی گجرات ماڈل پر بات کرکے الیکشن جیتی اور مرکز میں حکومت بنائی تقریباً ساڑھے 4 سال پہلے ایک یونیورسٹی ملک میں کھلی جو راشٹر واد کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔حکومت سے سوال پوچھنے والوں کو راشٹر دروہی قرار دیا جاتا ہے۔ اپنے ہی ملک کے شہریوں کو راشٹر دروہی کہنا بھارت ماں کی توہین ہے ۔ جس کا وعدہ کیا گیا وہ 2 کروڑ نوکریا ں کہاں ہیں ؟ کتنے لوگوں کو ان کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے ملے ؟

کیا بی جے پی دوسرے ملکوں سے بلیک منی واپس لائی ؟ نہیں وہ اپنا وعدہ نہیں نبھا سکے۔ اس لیے وہ راشٹر واد کے مدعوں کو اٹھاکر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں بی جے پی سے نہیں ڈرتا،بی جے پی لوگوں کو ڈرانا اور حکومت کرنا چاہتی ہے۔ مگر ہم ڈریں گے نہیں۔ ہم ان سے سوال پوچھیں گے اور شیروں کی طرح ان کا مقابلہ کریں گے۔میں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے نام کو بھی بدل کر بے روزگار ہاردک پٹیل کر دیا ہے۔

یہ قدم میں نے وزیر اعظم کی چوکیدار والی مہم کے بعد اٹھایا ہے۔ گجرات میں بی جے پی ڈر گئی ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں پر 5 سال کی سزا ہے پھر بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں اور ہمیں الیکشن لڑنے سے روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر بی جے پی کی وجہ سے میں الیکشن نہیں لڑپا یاتو گجرات اور ملک کی مختلف ریاستوں میں کانگریس کے امیدواروں کو جتانے کیلئے انتخابی تشہیر کروں گا۔‘‘

گڑ گاؤں کے واقعے نے سب کو جھنجھور کر رکھ دیا گجرات اور سورت کی صورتحال جاننے کے بعد اب چلتے ہیں دہلی سے ملحقہ شہر گروگرام (گڑگاؤں) کے بھوپ سنگھ محلے جہاں ایک مسلمان خاندان کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور سب کو بے چین کر گئی۔اس ویڈیو میں ایک گھر کے افراد کو بہت سے نوجوان لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ہندوؤں کے تہوار ہولی کے دن کا واقعہ ہے جس دن روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ ’’دشمن بھی گلے مل جاتے ہیں۔‘‘ کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا’’ہر محب وطن ہندوستانی گروگرام میں شر پسندوں کے ہاتھوں ایک خاندان کے لوگوں کی بے رحمی کے ساتھ پٹائی پر متنفر ہے۔

آر ایس ایس/ بی جے پی سیاسی اقتدار کیلئے تعصب اور نفرت کو ہوا دے رہی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اس کے سنگین نتائج پر متنبہ کرتا اور ان کی حکمت عملی کے تاریک پہلو کو دکھاتا ہے۔‘‘ معروف صحافی راجدیپ سر دیسائی نے لکھا ’’ہم سب کو اپنا سر شرم سے جھکا لینا چاہیے۔ نفرت کی سیاست اور اس کی پروپیگنڈا مشین ایسا ہی کرتی ہے۔ ہم سب شرمندہ ہیں۔‘‘پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ کے پروفیسر اشوک سوائیں نے لکھا’’کیا ہندوستان خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ‘‘ ’’دی ہندو‘‘ اخبار نے ایف آئی آر کے حوالے سے کہاکہ شکایت کنندگان نے بتایا کہ بغیر کسی اشتعال کے انہیں گالیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ وہ پاکستان جا کر کھیلیں۔

جب دلشاد کے چچا نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو ایک موٹر سائیکل سوار انہیں تھپڑ مار کر بھاگ گیا۔ پھر اپنے دوستوں کے ساتھ واپس آیا اور دلشاد کے گھر زبردستی گھس گیا۔اس پر تشدد واقعے کے شکار محمد ساجد کے بھتیجے دلشاد نے بتایا کہ شام پانچ ساڑھے پانچ بجے نیا گاؤں سے 25-30 لوگ لاٹھی، ڈنڈوں، بھالوں اور نیزوں کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں موجود 12 افراد کو تشدد کرکے شدید زخمی کر دیا۔ ویڈیو میں خواتین کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے۔ لوگ ان پر بھی تشدد کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ بچے چھت پر چھپتے نظر آتے ہیں ۔

محمد ساجد نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’’مجھے فون کر کے مقدمہ واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔میں فیصلہ نہیں کروں گا۔ حکومت نے میری مدد نہیں کی تو میں اپنے بچوں کے ساتھ خود کشی کر لوں گا۔ میں یہ جگہ چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ان لوگوں نے مجھ پر اتنے ڈنڈے برسائے کہ یاد کرکے بھی ڈر جاتا ہوں۔ ہم مسلمان ہیں اور انڈیا کے رہنے والے ہیں، پاکستان سے آخر ہمارا کیا رشتہ ہے؟‘‘نیا گاؤں ایک گوجر اکثریتی علاقہ ہے اور وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کی لڑائی تھی جسے ہندو مسلمان کا فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔ویڈیو دیکھ کر ایک بار پھر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ انڈیا میں آخر اس طرح کے حملے کب رکیں گے۔ اس سے قبل گروگرام میں مسلمانوں کو جمعے کی نماز پڑھنے پر بھی پابندی لگائی گئی تھی اور نمازیوں کو چند شرپسند عناصر نے پارک سے بھگا دیا تھا۔

2025ء کے بعد ہندوستان کا حصہ بن جائے گا پاکستان: آر ایس ایس کی ہرزہ سرائی

بھارت میں انتہا پسندی کا زہر کس حد تک پھیل چکا ہے اس کا اندازہ آر ایس ایس کے مشیر اندریش کمار کے اس بیان سے لگالیجئے ۔ اندریش کمار نے ’’ Kashmir-Way Ahead‘‘ کے موضوع پر ایک پروگرام میں جو زہر اُگلا ہے وہ انتہائی قابلِ مذمت اور اس طرح ہے کہ ’’آپ لکھ کر لے لیجیے،پانچ سات سال بعد آپ کہیں کراچی ، لاہور،راولپنڈی،سیالکوٹ میں مکان خریدیں گے اور وہاں کاروبار کرنے کا بھی موقع ملے گا1947 ء سے پہلے پاکستان نہیں تھا۔لوگ یہ کہتے ہیں 1947 ء کے پہلے وہ ہندوستان تھا۔2025 ء کے بعد پھر سے وہ ہندوستان ہونے والا ہے۔ مرکزی حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت بھی اس کے حق میں ہے۔اکھنڈ بھارت میں ہندوستان کی سرحدیں بھی یورپین یونین کی طرح ہوں گی۔

‘‘ اندریش کمار کی اس زہر افشانی کا جواب پاکستان کو دینے کی ضرورت نہیں ۔بھارت کے اندر سے ہی سوال وجواب کا وہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس کیلئے باہر سے کسی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔انتہا پسند اپنے ہاتھوں سے توڑ پھوڑ کو خون خرابے تک لے گئے ہیں جو کسی صورت بھارت کے حق میں نہیں ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ ہم 2019 ء کا لوک سبھا انتخابات جیتنے جا رہے ہیں اور 2019 ء کا انتخاب جیتنے کے بعد اگلے 50 برسوں تک کوئی بھی ہمیں ہٹا نہیں پائیگا۔

‘‘اتر پردیش کے اناؤ سے بی جے پی رکن پارلیمان ساکشی مہاراج کا دعویٰ ہے کہ ’’ 2024 ء میں لوک سبھا انتخاب کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی صرف ایک یہی انتخاب بچا ہے جو کہ ملک کے نام پر لڑا جائیگا۔ ملک میں بیداری آ رہی ہے اور آئندہ انتخاب اسی پر ہونے جا رہے ہیں۔‘‘ساکشی مہاراج کے بیان کے بعد دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’’ بی جے پی نے اپنا مقصد صاف کر دیا۔ میں تو پہلے سے ہی کہہ رہا ہوں کہ مودی اور امیت شاہ کی جوڑی دوبارہ آ گئی تو وہ آئین بدل دیں گے اور انتخابات کروانا ہی بند کر دیں گے۔

ہٹلر نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ ‘‘ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے فیصلے سے لیکر گڑ گاؤں تک ہم نے جو حقائق و واقعات آپ کے سامنے پیش کئے انہیں جان کر آپ بخوبی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ خطے میں نفرت کی سیاست کون کر رہا ہے اور اس کے نقصانات کا ذمہ دا رکون ہے۔۔ ٭٭٭٭ Uملزموں کی بریت پر دنیا 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:درد کی تصویر ۔۔۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر خطرے کے بادل مدتوں سے منڈلا رہے تھے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

کسی نے پوچھا ضمیر کب سے ہے ۔۔۔عمر کتنی ، مزاج کیسا ہے ۔ ؟

رفتار کتنی، گفتار کیسی ۔۔۔کیا دِکھتا ، چلتا ، بولتا بھی ہے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

ہرمعاشرے کے کچھ مخصوص رسم ورواج ہوتے ہیں، آج ہم آپ کو سویڈن میں ایک ایسے رواج کے بارے میں بتائیں گے کہ وہاں رات 10 بجتے ہی زوردار چیخ کیو ...

مزید پڑھیں