☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
خطے میں ’’بڑی ذمہ داری ‘‘ پوری پاکستان کے امن مؤقف کی جیت

خطے میں ’’بڑی ذمہ داری ‘‘ پوری پاکستان کے امن مؤقف کی جیت

تحریر : طیبہ بخاری

03-08-2020

 ٭:افغان امن معاہدہ ،پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا ۔۔۔؟یہ الگ بحث ہے لیکن پاکستان نے’’ بڑی ذمہ داری نبھا دی‘‘

٭:کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا طالبان امریکہ ایک میز پر ہونگے ، ثابت ہو گیا کہ لیکن طاقت کے استعمال سے کسی بھی نظرئیے سے نہیں لڑا جا سکتا ۔ ۔ خطے میں امن کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی جیت بھی ہو گئی جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے

 

 

٭:معاہدے کے بعد افغان قیادت کا امتحان شروع ہوچکا ۔ ۔ ۔ ٭:کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔۔۔
٭:کیا افغان قیادتیں معاہدے کی اہمیت سمجھ پائیں گی۔۔۔؟
٭:افغان امن عمل کو نقصان پہنچانے والوں پر نظر کون رکھے گا ؟
ایک لمحے کیلئے امریکہ افغان جنگ کے بارے میں سوچیں تو 
٭:تقریباً 2دہائیوں پر مشتمل یہ جنگ اپنے ساتھ خطے میں ان گنت مسائل لیکر آئی ۔۔۔بھوک ، افلاس ،کاروبار اور گھروں کی تباہی ، دم گھوٹتا دھواں اورہر طرف موت ہی موت ۔۔۔
٭:خوبصورتی، آسودگی افغانستان اور پاکستان سے روٹھتی گئی ، ساتھ ساتھ منانے کی کوششیں بھی جاری رہیں لیکن روٹھنے منانے میں کئی سال بیت گئے ۔۔۔اور اب یہ جنگ اپنے پیچھے بھی یہی کچھ بلکہ بہت کچھ چھوڑ جائیگی جسکا تخمینہ ابھی لگانا مناسب نہیں ۔
 ٭:ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ میں 157000 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔۔۔ افغان سیکیورٹی فورسز کے13ہزار جوان جان سے گئے ۔۔۔۔65ہزار طالبان اور31ہزار عام شہری موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے ، ہزاروں بری طرح ز خمی ہوئے۔۔۔یہ بھی بتایاجا رہا ہے کہ اس جنگ میں مارے جانیوالے شہریوں ، افغان فورسز اور طالبان کی کل تعداد کو ملا کر دیکھاجائے تو یہ تعداد 111,000بنتی ہے۔۔۔۔
٭:یہ اعدادوشمار کتنے درست ہیں اس کا فیصلہ تو تباہی دیکھ کر بآسانی کیا جا سکتا ہے اور صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کا سیاسی و معاشی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے ، ۔۔۔۔۔عوام ، حکومت اور طالبان کی سوچ میں کافی فرق ہے اور یہ فرق سمجھانے کیلئے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ یہ تینوں ایک پیج پر نہیں ہیں جبکہ ان سب کا ایک پیج پر آنا دیرپا امن اور خطے کے استحکام کیلئے انتہائی  ناگزیر ہے ۔ 
٭:مارے جانیوالے امریکی فوجیوں کی تعداد 2ہزار 356 بتائی جا رہی ہے جبکہ امریکی فوجیوں کیساتھ دیگر ممالک کے 1100 فوجی بھی لقمہ اجل بنے اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ 
٭:اس جنگ کا بڑا نقصان’’بڑی ذمہ داری ‘‘ نبھانے والے پاکستان نے بھی اٹھایا تقریباً 70ہزار پاکستانی جان گنوا بیٹھے ، معاشی نقصان الگ سے ہوا ، لاکھوں افغان مہاجرین ، خوراک اور روزگار کا بوجھ ، بد امنی، دشمنوں کی سازشیں اور بہت کچھ صرف اکیلے پاکستان نے بھگتا ۔ ۔۔’’ڈومور‘‘ کی گردان اور دبائو اِن سب کے علاوہ ۔۔۔اور اب بھی معاہدے کے حوالے سے ’’تنقید ‘‘
٭: ان تمام تر حالات میں دیکھا جائے تو امریکہ اور اس کے اتحادی آج بھی ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے وہ پہلے تھے ، وہ پہلے بھی خوشحال تھے اور آج بھی خوشحال ہیں  اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان جنگ امریکہ کیلئے ’’درد سر ‘‘ ثابت ہوئی لیکن سپر پاورکوبظاہرکوئی بڑا نقصان یا صدمہ نہیں پہنچا سکی  ۔ ۔ 
٭ـ :سوال یہ ہے کہ فتح کے شادیانے کس کو بجانے چاہئیں ۔۔۔؟ 
٭: امریکہ آج بھی طاقتور ، محفوظ ، مالی طور پر مستحکم اور امیر ہے ،یہ الگ بحث ہے کہ افغانستان سے ’’باعزت ‘‘ واپسی کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑے اور دوسروں کو ثالثی کی پیشکش کرنیوالوں کو خود ’’ثالث ‘‘ کی ضرورت پڑ گئی۔۔۔ افغانستان میں اس وقت تقریباً 14 ہزار کے قریب امریکی فوجی اور 39 ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کے 17ہزار کے قریب فوجی موجود ہیں۔۔۔ دیکھنا یہ بھی پڑے گا کہ افغانستان اور پاکستان میں کیا کچھ تباہ ہوا شاید کوئی سوچ سکے کہ کیا کھویا ۔۔۔کیا پا یا ۔۔۔؟اور جو کھویا ہے اُسے پھر سے پانے میں کتنا وقت لگے گا؟ لیکن اب کیا کہاجائے کہ معاہدے کو ہی ’’غنیمت‘‘ سمجھا جا رہا ہے اور تباہی کو ہی ’’جیت ‘‘۔۔۔
ابھی جو صورتحال بن رہی ہے اس کے مطابق امریکی فوجی انخلاء امن سے مشروط ہے، طالبان افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے، 135 دن میں 8 ہزار امریکی فوجی رہ جائیں گے جو آئندہ9 ماہ میں نکلیں گے، اس معاہدے کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دوحہ میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں نائب طالبان امیر ملابرادر اور امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل نے دستخط کئے ۔ مشترکہ اعلامیے میں کہاگیاکہ امریکہ طالبان پر عائد پابندیاں ختم کریگا، 10مارچ 2020تک 5ہزار طالبان قیدی اورایک ہزار افغان اہلکاروں کو رہا کیا جائیگا،فوراً بعد افغان حکومت اور  طالبان مذاکرات شروع ہونگے۔ قطری وزیر خارجہ کے مطابق 19سالہ طویل جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگئی ، معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تمام فریقوں کا کردار قابل تعریف ہے ۔ 
دوحہ میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا امریکہ اورطالبان دہائیوں سے جاری تنازعات ختم کررہے ہیں، تاریخی مذاکرات کی میزبانی پر امیرِ قطر کے شکرگزار ہیں، امن ڈیل سے افغانستان میں امن قائم ہوگا، اگر طالبان نے معاہدے کی پاسداری کی تو عالمی برادری کا رد عمل مثبت ہوگا افغان عوام معاہدے پر خوشیاں منا رہے ہیں، امن کے بعد افغانیوں کو اپنے مستقبل کا تعین کرناہے۔ امن کیلئے امریکی اور افغان فورسز نے مل کر کام کیا، امن کی فتح ہوئی ،طالبان القاعدہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے وعدے پر قائم رہیں، میں جانتا ہوں کہ اسے فتح قراردینا مناسب نہ ہوگا، افغانوں کی فتح اس وقت ہوگی جب وہ امن اورخوشی سے رہ سکیں گے۔ امریکہ طالبان مذاکرات کو کامیاب بنانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، امن معاہدہ امریکہ،افغانستان اور پوری دنیا کیلئے فتح ہے،معاہدے کی کامیابی طالبان اور دیگر فریقین کی پاسداری پر منحصر ہے۔۔تقریب سے خطاب میں قطر میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی بردار نے کہا اسلامی امارات امریکہ کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کا عزم کیے ہوئے ہے، ہم تمام ممالک کیساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، تمام افغان گروپس کو کہتا ہوں کہ مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے اکٹھے ہوں۔
 امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے افغانستان کے کئی شہروں میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا۔معاہدہ نہ صرف تاریخی بلکہ افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی جانب بہترین سنگ میل ثابت ہو گا۔ طالبان کی جانب سے مذاکرات کرنیوالی ٹیم کے اہم رہنماعباس استانکزئی کا ماننا ہے کہ ہم جنگ جیت گئے۔ دوسری جانب نیٹو سربراہ نے معاہدے کو امن کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد افغان جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھااب یہ وقت ثابت کریگا کہ وہ نئے امریکی انتخابات سے قبل وعدہ پورا کر سکے یا طویل ترین جنگ ۔۔۔۔
 

 
 امن معاہدے کے اہم نکات
 ٭:طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔

٭:امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلاء کی ٹائم لائن دی جائے گی۔
٭:غیرملکی افواج کا مکمل انخلاء عالمی گواہان کی موجودگی میں ہوگا اور اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیخلاف امارات اسلامی یعنی طالبان اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ امارات اسلامی جسے امریکہ نے ریاست تسلیم نہیں کیا ہے وہ 10 مارچ 2020 ء سے بین الافغان مذاکرات شروع کریگا۔
 ٭:مکمل جنگ بندی بین الافغان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگی۔ افغان فریقین ایک جامع جنگ بندی، اس کے نفاذ اور مستقبل کے سیاسی روڈمیپ پر بھی مذاکرات کریں گے۔ پہلے مرحلے میں افغانستان میں تعینات 13 ہزار فوجیوں کی تعداد ساڑھے چار ماہ میں 8600 تک لائی جائے گی۔ اس کے بعد باقی ماندہ فوجیوں کا انخلا ساڑھے نو ماہ میں ہو گا۔
٭: امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان میں 5فوجی اڈے خالی کریں گے۔ اوسلو میں بین الافغان مذاکرات سے قبل طالبان اور امریکہ ایک دوسرے کے قیدیوں کی حتمی فہرست حوالے کریں گے۔
٭: 10 مارچ 2020 ء تک طالبان کے 5 ہزار قیدی اور دوسرے فریق کے 1 ہزار افراد کو رہا کیا جائیگا۔ دونوں فریقین باقی ماندہ قیدیوں کو 3 ماہ کے اندر رہا کرینگے۔ انٹرا افغان مذاکرات کے دوران 27 اگست تک امریکہ طالبان رہنمائوں پر عائد پابندیاں اٹھائیگا اور اقوام متحدہ بھی طالبان رہنمائوں پر پابندیاں ختم کریگا۔ امریکہ افغانستان کی تعمیرِ نو اور بین الافغان مذاکرات کے بعد نئے سیاسی نظام کیلئے اقتصادی معاونت جاری رکھے گا لیکن افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریگا۔ 
٭:معاہدے کی رو سے طالبان افغانستان کی زمین القاعدہ سمیت کسی بھی فرد یا گروہ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ طالبان واضح پیغام دیں گے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کیلئے خطرہ بننے والوں کی افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہوگی جبکہ طالبان ارکان کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ ایسے کسی بھی فرد یا گروہ سے تعاون نہ کریں۔ اس کیساتھ ساتھ طالبان ایسے کسی بھی فرد یا گروہ کو بھرتی کرنے، تربیت دینے، فنڈز لینے نہیں دیں گے اور معاہدے کی رو سے ان کی میزبانی نہیں کی جائے گی۔ 
٭:بین الاقوامی ہجرت قانون اور اس معاہدے کی رو سے طالبان افغانستان میں سیاسی پناہ یا رہائش تلاش کرنے والوں سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے خطرہ بننے والوں کو افغانستان میں داخلے کیلئے طالبان ویزے، پاسپورٹس، سفری اجازت نامے اور دیگر قانونی دستاویزات فراہم نہیں کریں گے۔
 ٭:امریکہ سلامتی کونسل سے اس معاہدے کی منظوری اور توثیق کی درخواست کرے گا۔ طالبان اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے، افغانستان اضاخیل رجسٹریشن سینٹر سے پہلا خاندان افغانستان کیلئے روانہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے افغان کمشنر ایٹ کے تعاون سے اضاخیل پایان میں رجسٹریشن سینٹر قائم کردیا جس میں نادرا، افغان کمشنر ایٹ اور یو این ایچ سی آر کے دفاتر قائم کردئیے گئے ہیں۔یو این ایچ سی آر کے ترجمان  کے مطابق رضاکارانہ واپسی کا عمل نومبر تک جاری رہے گا افغانستان پہنچے پر افغان مہاجرین کو فی کس 200 ڈالرز دئیے جائیں گے، گذشتہ سال رضاکارانہ واپسی میں 900 خاندان اضاخیل رجسٹریشن سینٹر سے افغانستان گئے تھے امن معاہدے سے ممکنہ واپسی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
امن معاہدہ ہو گیا ، اب تجزیات ، خدشات اور افغان قیادت کے مابین مذاکرات کے حوالے سے گفتگو اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد دیرپا امن کو خطے میں قدم جمانے میں کتنی مدت درکار ہو گی اور ’’امن دشمن ‘‘ کیا کیا گُل کھلاتے ہیں ۔۔۔۔
 افغان صدر اور پینٹاگون چیف کے ’’تیور ‘‘
یہ خبریں پوری دنیا کیلئے حیران کن تھیں کہ امن معاہدے کے اگلے ہی روز کابل میں پریس کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی معاہدے کی اہم شرط سے پیچھے ہٹتے دکھائی دئیے ، یہ اندرونی سیاسی دبائو تھا یا کچھ اور کہ انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا’’ طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا قیدیوں کی رہائی کا معاملہ انٹر افغان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کیا جاسکتا، افغانستان میں جزوی جنگ بندی مکمل جنگ بندی کے حصول تک جاری رہے گی۔ امریکہ قیدیوں کی رہائی میں مدد فراہم کر رہا ہے لیکن اس پر فیصلے کا اختیار افغان حکومت کا ہے اور انٹر افغان مذاکرات کیلئے مذاکراتی ٹیم تشکیل دی جائیگی۔‘‘ابھی معاہدے پر بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور مبصرین اسے خطے میں ’’بڑی تبدیلی ‘‘قرار دے رہے تھے کہ افغان صدر کی پریس کانفرنس موضوع بحث بن گئی ۔ امریکی وزیردفاع اور پنٹاگون چیف مارک ایسپر نے کہا’’ اگر طالبان نے سیکیورٹی ضمانت اور امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تو امریکہ تاریخی معاہدہ منسوخ کرنے میں ہچکچائے گانہیں ۔‘‘
 قطر میں طویل جنگ کے خاتمے کیلئے تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی تقریب سے قبل کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور امریکی وزیردفاع مارک ایسپر نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، اس موقع پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ بھی موجود تھے۔ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ’’ طالبان نے حکومت کی جانب سے جنگ بندی کا مثبت انداز میں جواب دیا، طالبان نے افغان سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی ضمانت دی ہے، افغان فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہم افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں امریکا اور نیٹو فورسز کی جانب سے افغان فوج کی مالی اور عسکری مدد کی کوششیں قابل تعریف ہیں،افغان عوام نے امن کیلئے بہت قربانیاں دیں ہیں اور ہزاروں افراد جنگ میں مارے گئے۔موجودہ افغان نسل نے آنیوالی نسلوں کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، پاکستان اور دیگر برادر ممالک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘
اس موقع پر امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ اور دیگر قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی کوششوں سے ہم طویل ترین جنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت کررہے ہیں،  امریکہ اور افغانستان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا اہم اور تاریخی موقع ہے۔ ہمارے عالمی اتحادی افغان حکومت کے ساتھ سیکیورٹی تعلقات برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔ اامن معاہدہ تشدد کے خاتمے کیلئے مل کر جدوجہد کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ افغان فورسز گذشتہ کئی برسوں سے اپنے ملک میں امن کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہیں، افغان افواج کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ضروری امداد جاری رکھیں گے۔ دورہ کابل کے دوران مارک ایسپر نے خبردار کیاکہ اگر طالبان اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے تو وہ دیگرافغانوں کیساتھ مل بیٹھنے اور اپنے ملک کا مستقبل بنانے کا موقع گنوا دیں گے۔ امریکہ امن معاہدہ منسوخ کرنے میں ہچکچائے گانہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس سے جنگ زدہ افغانستان میں جامع اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہو گی، سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ’’ معاہدہ افغانستان میں استحکام کی بحالی کیلئے اہم کردار کردار ادا کریگا اور اس سے افغان شہریوں کو ترقی میں کردار ادا کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘ یورپی یونین سمیت عالمی برادری نے بھی مریکہ اور طالبان کے مابین معاہدے اور امریکا افغانستان کے علیٰحدہ اعلامیے کو جامع امن عمل کی سمت میں اہم اقدام قرار دیا۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل کے مطابق امن کی طرف بڑھنے کا موجودہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہئے یورپی بلاک کوامید ہے کہ ’’افغانوں پر مبنی اور افغان زیرقیادت مذاکرات بغیر کسی تاخیر جامع انداز میں شروع کیے جائیں ۔ یہ بہت ضروری ہے کہ افغان عوام آئندہ حکومت اور امن مذاکرات میں نمائندگی محسوس کریں۔‘‘۔۔۔۔ اب افغان عوام تک اس بڑی تبدیلی کے اثرات کب تک اور کیسے پہنچیں گے اس کا فیصلہ وقت کریگا کیونکہ ابھی تو صرف بات معاہدے اور اعلامیہ تک پہنچی ہے ان سب پر عمل کب تک ہو گا اس کا انتظار سب کو ہے ۔
 نائن الیون کے بعد تاریخی واقعہ، بھارت سبوتاژ کرسکتا ہے، مبصرین
امریکہ ، طالبان امن معاہدے پر تبصروں اور تجزیوں کا طویل اور نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔اکثر مبصرین معاہدے کو نائن الیون کے بعد تاریخی واقعہ قرار دے رہے ہیں اور متعدد ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ امن دشمن قوتیں معاہدے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں کیونکہ بات خراب کرنے والے شروع سے تھے اور اب بھی ہیں۔ پاکستان سے واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ یہ بہت سنہری موقع ہے اس سے بہتر چیز شاید اس خطے نے نہ دیکھی ہو نائن الیون کے بعد یہ بڑا تاریخی واقعہ ہوا اس میں پاکستان کا کلیدی کردار سب نے تسلیم کیا اور ہمارا کردار بھی ہے لیکن بھارت سبوتاژ کرسکتا ہے۔ 1971 ء میں امریکہ کی چین سے صلح کروانے کے بعد پاکستان نے ایک اور بڑا احسان کیا افغانستان میں’’ فیس سیونگ‘‘ دیدی اور اب تیاری کرنی چاہیے اگلے مرحلے کی۔جتنا پہلا مرحلہ آسان تھا اتنا ہی دوسرا مرحلہ انٹرا افغان مشکل ہوگا ماضی میں امریکہ کی پالیسی میں کنفیوژن رہی۔انٹرا افغان ڈائیلاگ میں مسئلے آسکتے ہیں اس میں ہر پارٹی کو لانگ ٹرم ویو لینا پڑے گا ۔ پاکستان کو اپنے کردار کو بہت طریقے سے استعمال کرنا پڑے گا۔ تاریخی ڈیل سے براہ راست جنگ ختم ہو جائیگی،صرف افغانستان نہیں پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونگے لیکن اس ڈیل کا یہ مطلب نہیں کہ اب تنازع ختم ہوگیا۔اس عمل سے چونکہ بھارت کو باہر رکھا گیا اس لئے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے پورے خلوص کے ساتھ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار اد اکیا پاکستان کا مثبت کردار اتنا واضح تھا کہ افغان حکومت نے اختلافات کے باوجود اعتراف کیا ابتدا ء میں افغان حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل سے باہر رکھا گیا تھا لیکن آخری مرحلے میں ان کو بھی شریک کیا گیا ۔
 تجزیہ کاروں کے مطابق بین الافغان مذاکرات کے سلسلے میں دو نہیں کئی فریق ہوں گے مذاکرات صرف افغان حکومت سے نہیں ہوں گے اس میں حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ ، رشید ، حکمت یار، استاد، محقق، افغان سول سوسائٹی اور خواتین کے نمائندے بھی ہوں گے۔اور ضروری ہوگا کہ تمام طالبان کو ایک صفحے پر لایا جائے اور کابل میں بیٹھی قوتوں کو پہلے آپس میں طالبان سے متعلق ایک صفحے پر آنا ہوگا اور پھر مشترکہ بنیادوں پر سیاسی نظام تشکیل دینا ہوگا۔ اگر مفاہمت کا عمل کامیاب نہ ہوا تو ناصرف بیرونی مداخلتوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ خانہ جنگی کی صورت میں ایسی تباہی آئے گی کہ ماضی کی تباہی کو بھول جائیں گے۔۔ افغان ماہرین کے مطابق کابل میں امن اقدامات کا زبردست خیر مقدم کیا گیا ہے پارلیمنٹرین اور بالخصوص عوام سب نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ڈالر کے مقابلے میں افغان کرنسی میں اضافہ ہوا ہے اس کا مطلب ہے اقتصادی مثبت اثر ہوگا۔اب امتحان ہے افغان رہنمائوں کا کہ وہ سیاست کو امن پر ترجیح دیتے ہیں اور مذاکرات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں یا نہیں۔ ابھی بھی معاملات خراب ہیں معاہدے کے نفاذ کا بھی بہت بڑا چیلنج رہے گا، افغان آپس میں معاملات حل نہیں کرتے تو خدشات بڑھتے رہیں گے ، سیاسی تنائو رہا تو بین الاقوامی مذاکرات طویل ہوسکتے ہیں نقصان بھی ہوسکتا ہے۔
 امن کا معنی خیز دروازہ سیاسی حل ہی سے کھلتا ہے
 افغان امن معاہدے میں تاریخی کردار ادا کرنے پر عالمی برادری پاکستان کی معترف ہے اور ہونا بھی چاہئے بلا شبہ پاکستان نے خطے میں اہم ، ذمہ دار اور امن پسند ملک ہونے کاثبوت دیا اور دہشتگردی کیخلاف اپنے کردار کو ثابت کرنے کیلئے ہزاروں قیمتی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے ۔ قربانی اور ذمہ داری کے اسی عزم کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں اس طرح دہرایا کہ’’ ہم دوحہ امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔یہ معاہدہ دہائیوں پرمحیط جنگ سمیٹنے اور افغان عوام کو مشکلات کی دلدل سے نکالنے کیلئے امن و مفاہمت کاپیش خیمہ ہے، ہم معاہدے کی بقاء و کامیابی میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہیں، میرا ہمیشہ سے یہ مؤقف ہے کہ کتنی ہی پیچیدہ صورتحال کیوں نہ ہو، امن کا معنی خیز دروازہ سیاسی حل ہی سے کھلتا ہے، فریقین یقینی بنائیں کہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے خواہاں عناصر کوئی موقع نہ پا سکیں۔ میری دعائیں اہل افغانستان کیساتھ ہیں جو 4 دہائیوں تک قتل وغارت گری کی آگ میں جلتے رہے ۔ ‘‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق معاہدہ افغانستان میں امن اورمفاہمت کو آگے بڑھانے میں اہم پیش قدمی کی عکاسی کرتا ہے، معاہدے پر دستخط کے بعد انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکے گا، افغان جماعتیں اب افغانستان اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے جامع سیاسی سمجھوتہ کریں گی۔ افغانستان کو تعمیر نو اور بحالی کے مرحلے کا آغاز کرنے کیلئے عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے حصول کی کوششوں میں افغان عوام کی حمایت کرنے کی اپنی پالیسی جاری رکھے گا۔ دوحہ تقریب نے ایک بار پھر پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو درست ثابت کیا ، وزیر اعظم عمران خان نے مستقل طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ سیاسی تصفیہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔پاکستان نے معاہدے کو سہولیات فراہم کرنے کے معاملے میں اپنی ذمہ داری کا حصہ پورا کیا اور وہ اپنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر پرامن، مستحکم، متحد، جمہوری اور خوشحال افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ اس معاہدے کے سلسلے میں قیادتیں آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں؟ اور کس حد تک تیار ہیں۔ پاکستان کی رائے میں امن معاہدہ اہم پیش رفت ہے، افغانستان کے عوام امن چاہتے ہیں، انہوں نے طویل جنگ، خون خرابہ اور بربادی دیکھی ہے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو جگہ دینے کیلئے جو لچک دکھانی ہوگی کیا یہ گروپ اس کیلئے تیار ہیں؟ دیکھنا ہوگا کہ آنیوالے دنوں میں کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے، یہ بھی دیکھنا ہے کہ قیادتیں آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں اور کس حد تک تیار ہیں اب قیادت کی آزمائش آئے گی، دیکھنا ہے کہ کیا مقامی قیادتیں وسیع تر مفاد کیلئے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں؟ دوحہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات بھی ہوئی جس میں انہوں ان کے سامنے تین چار نکات رکھے اورپومپیو سے کہا ’’ نقصان پہنچانے والے اب بھی ہیں، ان پر نظر رکھنا ہوگی، ایسا طریقہ کار اپنانا ہوگا کہ منفی کردار والوں کی نشاندہی ہو سکے۔ انٹرا افغان ڈائیلاگ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، جو امید پیدا ہوئی ہے وہ زندہ رہے، لوگوں کا اعتماد بحال رہے۔ معاہدے کے پیچھے مہینوں کی تگ و دو اور طویل کاوش ہے، پناہ گزینوں کی واپسی کیلئے بین الاقوامی توجہ اور وسائل بھی چاہیے ہوں گے۔ امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے جو کر سکتے ہیں کریں گے، 50 سے زائد ممالک کے نمائندے امن معاہدہ تقریب میں موجود تھے، مسلسل کاوش کے بعد یہ سفر طے کیا۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

شاعر موجودہ حالات کی منظر کشی کچھ اس طرح کر رہے ہیں کہ  بہت مصروف رہتے تھے ۔ ۔ ۔ ہواؤں پر حکومت تھی ۔۔تکبر تھا کہ طاقت تھی ۔۔بلا کی بادشاہی تھی کوئی بم لے کے بیٹھا تھا ۔۔۔کسی کے ہاتھ حکمت تھی     

مزید پڑھیں

 کسی نے آجکل کے حالات کیلئے کیاخوب کہا ، شاید آپ ان الفاظ کو سمجھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں     

مزید پڑھیں

٭:کسی نے شائد انہی لمحات کیلئے کہا تھا کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا۔۔۔ ٭:یہ فیصلہ انسانیت کو کرنا ہی پڑے گا کہ ’’کورونا سے ڈرونا‘‘۔۔۔ اور سب کو مل کر ہو گا لڑنا ۔۔۔۔    

مزید پڑھیں