☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خواتین(نجف زہرا تقوی)
بھارت کے ’’مبینہ غدار ‘‘

بھارت کے ’’مبینہ غدار ‘‘

تحریر : طیبہ بخاری

03-15-2020

٭:ایک ماہ تک بھارت میں رہ کر سُنا، پڑھا اور دیکھاکہ بھارت کو کرونا سے زیادہ ’’انتہا پسندی کے وائرس ‘‘ سے خطرہ لاحق ہو چکا 

٭:نفرت کا وائرس کروڑوں زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ۔۔۔گنگا جمنی تہذیب بُری طرح متاثر ہو چکی۔۔۔ لیکن افسوس مرض کی تشخیص کے باوجود ’’علاج ‘‘ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا ۔۔۔جنونیوں ،فسادیوں اور انتہا پسندوں کیلئے تا حال’’آئیسولیشن ‘‘ کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ۔۔۔
٭:لیکن ہمیں کچھ نہیں کہنا کہ بھارت کے حالات کیسے ہیں؟ کون خطرے میں ہے اور کون خطرے سے باہر ۔۔۔
٭:کس کو نقصان پہنچ رہا ہے ،کس کو فائدہ ،کون تباہی کی طرف جا رہا ہے اور کون ’’راستے‘‘ میں ہے ۔۔۔کون غفلت کی نیند سو رہا ہے اور کون کھلی آنکھوں خواب دیکھ رہا ہے ۔۔۔کون با خبر ہے اور کون بے خبر ۔۔۔میڈیا آزاد ہے یا قید ۔۔۔اقلیتیں آزاد ہیں یا محکوم ۔۔۔۔؟ہمیں نہیں معلوم ۔۔۔
٭:ہمیں معلوم ہے تو بس اتنا کہ ہمسائے میں آگ لگی ہو تو اپنے گھر کے باہر بیٹھ کرچائے پی سکتے ہیں نہ آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں،خوش گپیاں بھی نہیں لگا سکتے۔۔۔کیوں ۔۔۔ کیونکہ آگ ہم تک نہ بھی پہنچے دھواں ضرور پہنچے گا اور ایسا دھواں جس میں نہتے انسانوں کا لہو بھی شامل ہو۔۔۔یہ بھی معلوم ہے کہ۔۔۔گولی ، بارود اور تباہی کی آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن جن کے پاس آنکھیں ہیں وہ کیوں نہیں دیکھ رہے۔۔۔؟
٭:حالات اور غیر جانبدار میڈیا سب صاف صاف بتا رہے ہیں کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔۔۔آگ ، لاٹھی ، گولی ، فساد ، جلائو گھیرائو ، مارو ، پکڑو، بھگائو ، نکالو ، لوٹو ، سمیٹو سب چل رہا ہے ۔ ۔ اس لئے کہ ۔۔۔’’بھارت ماتا ‘‘کی جے کہنے والے ہی بھارت میں رہیں گے۔۔۔یہ ہم نہیں کہہ رہے۔۔۔یہ کہہ رہی ہے بی جے پی، آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند جماعتیں ۔۔ ۔
٭:ہم نے تو گنگا جمنی تہذیب والا سیکولر ، جمہوری بھارت دیکھااور آج بھی اسی کو دیکھنے اور ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دعاگو ہیں کہ کروڑوں انسانوں کا یہ دیس نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کیلئے امن ، دوستی اور خوشحالی کا باعث بنے ۔ ۔ ۔ انسانوں کے رہنے کے قابل بنا رہے ۔ ۔ یہاں جمہور کیلئے زندگی وبال ، فساد، انتقام یا سزا نہ ہو ۔۔ اپنے دیش کی بھلائی اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنیوالوں کو ’’غدار‘‘ قرار نہ دیا جائے ۔۔سب کی ترقی ، سب کا تحفظ ہونا چاہئے ۔۔۔
تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ11 دسمبر 2019 ء کو بھارتی پارلیمینٹ نے شہریت کا متنازع قانون منظور کیا تھا جسکے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائیگی لیکن مسلمانوں کو نہیں ۔اس قانون کے ذریعے بھارت میں موجود بڑی تعداد میں آباد بنگلہ دیشی مہاجرین کی بے دخلی کا بھی خدشہ ہے۔ اس متنازع قانون کیخلاف بھارت بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ہر مکتبۂ فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ پنجاب، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان،   تلنگانہ ، مغربی بنگال سمیت کئی بھارتی ریاستیں شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ سے انکار کرچکی ہیں جبکہ ریاست کیرالہ اس قانون کو سپریم کورٹ لے گئی ہے۔لیکن فسادات کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے ، شاہین باغ کو ’’اجاڑنے ‘‘ کی بھرپور کوشش جاری ہے، نئی دہلی میں احتجاج کرنیوالے مسلمانوں پر بی جے پی کے غنڈوں نے حملہ کیا جس کے بعد فسادات پھوٹ پڑے جن میں 50سے زائد مسلمان ہلاک سینکڑوں زخمی ہوئے، انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کیساتھ ساتھ مساجد، سکولوں  اور کاروباری مراکزکو شدید نقصان پہنچایا ۔
بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ جے رام ٹھاکر کی نظر میں ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کا نعرے لگانے والوں کو ہی بھارت میں رہنے کا حق ہے۔ گذشتہ ماہ شملہ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جے رام ٹھاکر نے کہا تھا ’’جو بھارت ماتا کی جے کہیں گے، وہی بھارت میں رہیں گے۔ جو لوگ اس مائنڈ سیٹ کیساتھ کام کر رہے ہیں کہ بھارت میں چیزیں درست انداز میں نہیں چل رہیں  ان کیساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے اورہمیں اس بارے میں اب سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ جو یہ نہیں کہیں گے وہ بھارت مخالف ہونگے۔‘‘ نئی دہلی فسادات پر بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا ’’ وزیر داخلہ امیت شاہ معاملے کو حل کر لیں گے، اس معاملے کو بہتر طریقے سے حل کرنے کیلئے اور کوئی شخص نہیں۔‘‘
وزیر داخلہ امیت نے فساد سے متاثرہ شمال مشرقی دلی کے علاقوں کا دورہ کیا یا نہیں ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے ۔ ۔ ہاں یہ خبریں ضرور آئیں کہ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی  فساد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ان کے دکھ درد کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ راہول گاندھی کئی سینئر رہنمائوں کیساتھ تشدد زدہ علاقے برج پوری پہنچے اور تشدد میں جلائے گئے گھروں، سکولوں اور دکانوں کا معائینہ کیا ، نذر آتش کئے گئے ایک سکول کی حالت دیکھتے ہوئے راہول جذباتی ہو گئے اور بولے ’’ یہ سکول دہلی کا مستقبل ہے اور ، نفرت اور تشدد نے اسے برباد کر دیا ، سکولوں میں بھارت کا مستقبل ہے لیکن تشدد زدہ علاقوں میں سکولوں کو نفرت اور تشدد نے جلا کر خاک کر دیا ۔ اس تشدد سے مادرِ وطن کا بھلا نہیں ہو سکتاسب کو مل کر رہنا اور کام کرنا ہے ۔ ‘‘ راہول گاندھی کو اس موقع پر بتایا گیا کہ اس سکول کا استعمال تشدد بھڑکانے کیلئے کیا گیا اور ہم آہنگی کا ماحول خراب کرنے میں مصروف ہزاروں فسادیوں نے سکول میں کئی گھنٹوں قبضہ رکھا۔  یہ جاننے کے بعد راہول گاندھی کا کہنا تھا ’’ راجدھانی میں ہوئے تشدد سے دنیا میں بھارت کی شبیہہ خراب ہوئی، بھارت کو تقسیم کیا جا رہا ہے لیکن اس نفرت کی آگ میں جھونکنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ بھارت کو مل کر ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے کیونکہ نفرت اور تشدد سے بھارت ترقی نہیں کر سکتا ، تشدد اور نفرت تقسیم کرتے ہیں اور یہ ترقی کے دشمن ہیں ۔ ‘‘ دوسری جانب بھارت کی 10 مزدور تنظیموں نے مودی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف’’بھارت بند‘‘کا اعلان کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں 25 کروڑ لوگ شامل ہوں گے۔ راہول گاندھی نے اس ملک گیر ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔راہو گاندھی کے مطابق مودی سرکار نے پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس کو کمزور کیا ہے۔ مغربی بنگال میں کئی ٹرینیں روکی گئیں اور وہاں سب سے زیادہ ہڑتال کا اثر نظر آ رہا ہے۔   
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ دہلی فسادات میں پولیس نے 531 ایف آئی آر درج کیں اور 1647افراد کو حراست میں لیاجن علاقوں میں فسادات ہوئے ان میں جعفر آباد ، موجپور چوک ، وجے پارک ، برہمپوری ، بابر پور ، نور الہٰی ، یمنا وہار ، مصطفی آباد ، چاند باغ ، بھجن پورا ، کراول نگر ، کھجوری خاص ، کردم پوری اور گوکلپوری سمیت کئی علاقوں کے نام لئے جا رہے ہیں ۔ ان علاقوں کے نام جاننے کے بعد بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی بڑی تعداد میں فسادی آئے اور کئی گھنٹوں تک ان علاقوں میں جو کچھ کیا اس سے کتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کی قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا ہو گا ، آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی دیر تک بلکہ کئی دنوں تک سینکڑوں فسادی آگ و خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کسی نے انکا ہاتھ نہیں روکا ۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب درج ایف آئی آرز کی تعداد 500سے زیادہ ہے تو ہلاکتوں کی تعداد کیسے کم ہو سکتی ہے صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس قدر ظلم ہوا کہ’’ دہلی کا دل‘‘ بھی دہل گیا ہو گا اور مدتوں بعد ایک بار پھر دلی اجڑی ۔ ۔  اس ظلم پر لوک سبھا میں بحث تو نہیں ہوئی لیکن اتنااحتجاج ضرور ہوا کہ اس احتجاج سے دلبرداشتہ سپیکر اوم برلا مسلسل 2دن ایوان میں نہیں آئے۔ اوم برلا ایوان میں ارکان کے برتاؤ سے بہت پریشان اور ناراض تھے اس سے قبل جب ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا تھا تو اپوزیشن ارکان دہلی تشدد پر فوری بحث کرانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفے کے مطالبے کے سلسلے میں نعرے لگاتے ہوئے سپیکر کے ڈائس کے قریب آ گئے تھے ۔ ایوان میں سپیکر کو بار بار چیلنج کیا جا رہا ہے سپیکر احتجاجی رویوں سے بہت پریشان ہیں۔ اپوزیشن دہلی تشدد پر فوراً بحث کرانیکا مطالبہ کر رہی ہے اوراسی وجہ سے ان میں اور حکومتی ارکان میں نوک جھونک اور ہاتھا پائی بڑھتی جا رہی ہے، سپیکر کی پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں حالات اس قدر قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں کہ کانگریس کے7اراکین کوپورے بجٹ اجلاس سے معطل کر دیا گیا ہے ۔ ان اراکان کی معطلی کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ لوک سبھا میں معدنیات ریگولیشن (ترمیمی) بل، 2020 منظور کرانے کے دوران سپیکر کی میز سے ایوان میں کام کاج سے متعلق کاغذات اٹھاکر پھاڑ دینے کے الزام میں کانگریس کے 7 ارکان کو پورے بجٹ اجلاس کیلئے معطل کردیا گیا۔ 3 بار کارروائی ملتوی کی گئی حکومت نے شور و غل میں بغیر بحث کے اس بل کو منظور کرانے کی کوشش کی۔ اس دوران کانگریس کے اراکین نے ایوان میں کام کاج سے متعلق کاغذات چھین کر پھاڑ دیئے جس کے باعث کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ کارروائی پھر سے شروع ہوئی تو صدر نشیں میناکشی لیکھی نے کہاکہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ سپیکر کی میز سے ایوان میں کام کاج سے متعلق کاغذات پھاڑ دیئے جائیں۔ انہوں نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیا۔
دوسری جانب متنازعہ شہریت قانون کو چیلنج کرنیوالی 150 سے زائد درخواستیں سماعت کیلئے زیر التوا ہیں تمام درخواستوں پر مودی سرکارکو نوٹس جاری ہو چکاہے لیکن سپریم کورٹ جلد سماعت کرنے سے انکاری ہے جسکے باعث بھارتی عوام میں مایوسی اور تشویش پائی جا رہی ہے ۔زیر التوا ء درخواستوں کی سماعت میں تاخیر پر شاہین باغ کی خواتین مظاہرین کا مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سپریم کورٹ عوام کا آخری سہارا ہوتا ہے۔ 22جنوری کو سپریم کورٹ نے سماعت ٹالتے ہوئے مودی سرکارکو جواب داخل کرنے کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا تھا، امید تھی کہ فروری میں سماعت شروع ہوجائیگی لیکن افسوس عدالت عظمیٰ نے اس حساس مسئلے کو جلد سماعت کے قابل نہیں سمجھا۔ ہندو، کیا مسلمان، دلت قبائلی ، کمزور سبھی طبقے متنازعہ شہریت قانون کیخلاف 3 ماہ سے سڑکوں پر ہیں اور اس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ جلد سماعت نہیں کرتی تو صرف مایوسی کاہی اظہار کیا جاسکتا ہے۔ بعض درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کَپل سبل جلدسماعت کی درخواست بھی کر چکے ہیں۔جس پرعدالت کا کہنا ہے کہ’’ خواتین کے حقوق بنام مذہبی روایت معاملے کی سماعت کے بعد اس کیس کو سنا جائیگا۔ آپ ہولی کے بعد پھر تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کریں‘‘  جبکہ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال عدالت کو بتاچکے ہیں کہ مودی سرکار اگلے ہفتے اپنا جواب داخل کر دے گی ۔ ۔ ۔
 بھارت میں حالات کی سنگینی کا اندازہ اس ایک جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’میرے پاس برتھ سرٹیفکیٹ نہیں تو کیا مر جائوں؟ ‘‘ یہ جملہ کسی عام آدمی کا نہیں بلکہ بھارتی ریاست تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اور تلنگانہ راشٹر سمیتھی کے سربراہ کلوا کنٹلا چندر شیکھر رائو (کے سی آر) کا ہے ۔ انہوں نے ریاستی اسمبلی میں گورنر کے خطاب پر قرارداد تشکر پیش کئے جانے کے موقع پر مودی حکومت کو تجویز دی کہ وہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر جیسے متنازع قوانین کے بجائے شہریوں کیلئے قومی شناختی کارڈ متعارف کرائے۔ انہوں نے مودی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا’’ عوام سے کہا جا رہا ہے اپنے والدین کے برتھ سرٹیفکیٹ لے کر آئو۔ این پی آر کے تحت انہیں اپنی بھارتی شہریت کو ثابت کرنا ہوگا جو غلط ہے۔ پرانے وقتوں میں ہمارے بزرگ زائچہ بنا کر دیتے تھے جسے برتھ سرٹیفکیٹ تصور کیا جاتا تھا۔ میرے پاس کوئی سند پیدائش نہیں ، میری پیدائش اپنے آبائی گائوں کی ہے۔ اس زمانے میں گائوں دیہات میں ہسپتال یا میٹرنٹی ہومز نہیں ہوتے تھے، پجاریوں کا مرتب کردہ زائچہ ہی برتھ سرٹیفکیٹ تصور ہوتا تھا۔ جنم کنڈلی میرے پاس آج بھی موجود ہے۔ میرا خاندانی پس منظر متمول ہے، اس کے باوجود کوئی برتھ سرٹیفکیٹ موجود نہیں تو دلت اور شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے غریب برتھ سرٹیفکیٹ کہاں سے لائیں گے۔ انتہاپسندانہ قوانین کی وجہ سے دنیا میں بھارت کا احترام ختم ہو گیا ہرجگہ یہی ایشو زیربحث ہے۔ سی اے اے قانون تو بنیادی طور پر بھارتی آئین ہی کے خلاف ہے جس کا پہلا جملہ ہی ’’کسی مذہب، ذات اور نسل کے بغیر‘‘ ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا کوئی قانون قابل قبول نہیں ہوتا۔‘‘
 آخر میں چند سوالات
 ٭:بھارت میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے سب کے سب جنکی تعدادکروڑوں میں ہے ایک دم  ’’غدار‘‘ کیسے ہو گئے ۔۔۔؟ 
٭:کیا راہول گاندھی ، منموہن سنگھ ، اروندھتی رائے، جاوید اختر،تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کلوا کنٹلا چندر شیکھر رائو  سب کے سب ’’غدار ‘‘ہیں۔۔۔ ؟
 ٭:دیس کے بارے میں اچانک ان سب کے نظریات کیسے بدل گئے ۔۔۔؟
٭:کیوں ’’مبینہ غداروں ‘‘ کی فہرست روز بروزطویل ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔ ؟  
٭:طلباء اور خواتین سڑکوں پر دھرنوں اور مظاہروں پر آمادہ کیسے ہو گئے ۔۔۔؟
 ٭:معاملات جلائو گھیرائو سے قتل عام تک کیسے جا پہنچے ۔۔۔ ؟ 
٭:کیوں انتہا پسندوں کو کھلی چھٹی دی جا رہی ہے ۔۔۔ ؟ 
٭:مودی حکومت شاہین باغ کے دھرنا مظاہرین سے بات چیت کرنے کو تیار کیوں نہیں ۔۔۔؟
٭:اپنے ہی لوگوں سے مذاکرات کار کی ضرورت کیوں ۔۔۔؟
٭:مسلمانوں سے اتنی نفرت کیوں ۔۔۔؟
 اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار کیوں ۔۔۔؟
٭:سب کے سب غدار ہیں تو وطن پرست کون ۔۔۔؟
اراضی ہتھیانے کابھیانک منصوبہ ، مظلوم کشمیریوں کو بے دخل کرنے کی تیاریاں
 یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ میڈیا رپورٹس میں انتہاپسند وزیر اعظم نریندر مودی کا مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنے آباؤ اجداد کے علاقے سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بے نقاب ہوا ہے، رپورٹس کے مطابق مودی سرکار نے کشمیریوں کو ان کی جائیداد سے بے دخل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں مقبوضہ کشمیرمیں سرمایہ کاری کے نام پر کانفرنس کرائی جائیگی جس میں کشمیر کی زمین کوڑیوں کے مول غیر مقامی ہندوؤں کو فروخت کی جائیگی۔گلوبل انویسٹرز کانفرنس مارچ کے آخریا اپریل میں کرائی جائیگی جسکے ذریعے فلم انڈسٹری، سیاحت، زراعت، باغبانی، آئی ٹی، متبادل توانائی اور دیگر صنعتوں کے نام پر زمینیں ہندوؤں کو دی جائیں گی۔مقبوضہ کشمیر کے 18 شہروں میں 6 ہزار ایکڑ اراضی مختلف ہتھکنڈوں سے قبضے میں لی جا چکی ہے جو ہندوپنڈتوں اور آر ایس ایس کے کارکنوں کو دی جائیگی جبکہ دارالحکومت سری نگر کی 20 ہزار کنال اراضی بھی ہندو سرمایہ کاروں کو صرف ایک روپیہ فی کنال پر دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔بنکوں نے کشمیری تاجروں کی 2 ہزار اراضیاں یکم مارچ سے قبضے میں لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ گذشتہ 7 دہائیوں میں کشمیر کی 42 ہزار کنال اراضی صنعتکاروں کو دی جاچکی ہے حالانکہ کشمیر کی زمینی حیثیت میں تبدیلی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنے کیلئے مودی سرکار نے 37 قوانین کے نفاذ کی منظوری دی تھی جس میں اراضی کے حصول، بحالی اور آبادکاری ایکٹ سمیت 37 قوانین کانفاذ شامل تھا۔ان قوانین کے تحت بھارتی شہری بحالی اور آباد کاری ایکٹ کے تحت اب مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکیں گے اور جائیداد حاصل کر سکیں گے۔انڈین کوڈ آف سول پروسیجر1908،پینل کوڈ1860،عوامی نمائندگی ایکٹ1950،مردم شماری کاایکٹ1948،فوجداری قونین ایکٹ1973 کرپشن کی روک تھام کے 1988ء کے قانون سمیت تمام قوانین اب مقبوضہ کشمیر میں لاگو ہونگے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل 370 اور 35A کی موجودگی میں بھارتی قوانین کشمیر میں لاگو نہیں ہو سکتے تھے اس لئے مودی سرکار نے 5 اگست 2019 ء کو آرٹیکل 370 اور35A کو ختم کیا، جموں کشمیر ایکٹ2019ء کے بعد جموں،کشمیر اور لداخ بھارت میں ضم ہوچکے ہیں جس کے سیکشن 96 کے تحت مرکزی حکومت کوقوانین میں ترمیم یا تنسیخ کا مکمل اختیارحاصل ہے۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام بھارت میں تیسرے درجے کے غلام شہری بن کر رہ گئے ہیں، کشمیری قائدین محصور اور ذرائع مواصلات بند ہیں،کشمیر ی 7 ماہ سے بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں،متنازعہ شہریت ایکٹ کے بعد بھارت کے اندر بغاوت بڑھتی جارہی ہے اور آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔مودی حکومت کے متنازعہ اقدامات خطے کو کشت وخون کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے انسانیت سوز مظالم اور متنازعہ بھارتی اقدامات کیخلاف آگے بڑھ کر کردار ادا کرے تاکہ کوئی بڑا سانحہ جنم نہ لے سکے۔
دوسری جانب خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس نے رپورٹ جاری کی جس کے مطابق 1989ء سے اب تک قابض بھارتی فوج نے ہزاروں کشمیری خواتین کو شہید کیا۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونیوالے 95 ہزار کشمیریوں میں ہزاروں خواتین بھی شامل ہیں، 2001ء سے اب تک 671 کشمیری خواتین کو شہید کیا گیا۔ فوج کے مظالم میں 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں، 11 ہزار 179 خواتین کی عصمت دری کی گئی، بڑی تعداد میں کشمیری خواتین کے شوہر لاپتہ ہیں۔ پیلٹ گنوں کی فائرنگ کے نتیجے میں سیکڑوں سکو ل کی بچیاں زخمی اور متعدد بینائی سے محروم ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ قابض بھارتی حکومت نے آسیہ اندرابی سمیت درجنوں کشمیری خواتین رہنما کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں قید کر رکھا ہے۔ 
بھارت کو 3اہم چیلنجز کا سامنا ، حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں
 سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا تعلق بھارت میں اپوزیشن کی مرکزی جماعت کانگریس سے ہے۔گذشتہ دنوںدہلی میں مسلم کش فسادات پر ’’دی ہندو‘‘ میں انکا کالم شائع ہوا جس میں انہوں نے لکھا ’’ بھارت کی موجودہ صورتحال بہت ہی زیادہ سنگین اور پریشان کن ہیں۔ ملکی ادارے، میڈیا اور عدالت حالات کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔ میں بھارت کی موجودہ حالت پر بہت زیادہ مایوس ہوں، حکومت کو متنازع شہریت ترمیمی قانون واپس لے لینا چاہیے۔ بھارت کو سماجی انتشار، معاشی سست روی اور عالمی سطح پر پھیلی وباء جیسے 3 اہم چیلنچز کا سامنا ہے۔ نریندرمودی کیلئے بہت ضروری ہے کہ وہ قوم کو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملاً باور کروائیں کہ جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ اس سے با خبر ہیں اور قوم کو یقین دہانی کرائیں کہ وہ مسائل سے نمٹنے میں مدد کریں گے تاکہ ہم ان کا آسانی سے مقابلہ کر سکیں۔ اگر ان چیلنجز کا فوری طور پر سد باب نہ کیا گیا تو حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔ مجھے تشویش ہے کہ خطرات کا مضبوط مرکب نہ صرف بھارتی روح کو مخدوش کرسکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہماری معاشی اور جمہوری طاقت کی حیثیت کو بھی نیست و نا بود کر سکتا ہے۔‘‘ دہلی میں مسلم کش فسادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’’ فرقہ وارانہ کشیدگی اور مذہبی منافرت کو فروغ دینے میں سیاستدانوں کا بھی ہاتھ ہے، حیرت ہے امن و امان برقرار رکھنے والے اداروں نے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنے فرائض پورے نہیں کیے اور عدالت و میڈیا جیسے ادارے بھی اس میں ناکام رہے۔ چونکہ قدغن کا کوئی انتظام نہیں ہے اس لیے معاشرتی کشیدگی کی آگ پورے بھارت میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہمارے ملک کی روح کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اس آگ کو وہی بجھا سکتے ہیں جنہوں نے اسے لگایا ہے۔ اس وقت بھارت کی لبرل شناخت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ چند برس قبل تک جو بھارت عالمی سطح پر اپنی لبرل جمہوری اقدار کے ذریعے معاشی ترقی کا نمونہ پیش کررہا تھا وہ اب مایوس کن معاشی حالات میں تیزی سے جھگڑوں میں گھری یہ ریاست اب (میجوریٹیرئین) ریاست بننے کی راہ پر ہے معیشت کی ترقی کیلئے سماجی ہم آہنگی بہت ضروری ہے جو اس وقت خطرات سے دو چار ہے اور اگر ملک میں فرقہ واراونہ بے چینی پائی جائے گی تولاکھ جتن کے باوجود معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی اور سرمایہ کاری ممکن نہیں ہے۔‘‘
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ فروری میں بھارت کی شرح نمو 4.7 فیصد تک گِری ہے۔ شرح نمو کا اس حد تک گرنا گذشتہ کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ مینوفیکچرنگ میں کمی نے مجموعی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
آمریت اور مزاحمت میں جنگ جاری ہے پہلا نشانہ مسلمان ہیں
نومبر2019ء میں جالندھر میں ایک تقریب سے خطاب میں معروف بھارتی مصنفہ و سماجی کارکن اروندھتیق رائے نے اپنے ہی ملک کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’بھارت کو مہان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس ملک کی سچائی مقبوضہ کشمیر کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے اورہم خاموش تماشائی بن کر ظلم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ چند روز قبل اروندھتی رائے نے دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر ریلی سے خطاب میں چند مزید الفاظ میڈیا کے ذریعے غور و فکر کیلئے سپرد کئے تھے کہ ’’ انتہا پسندی بھارت کا ’’کرونا وائرس‘‘ ہے جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بدترین آمر اور ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار ہے انتہا پسندی وہ بیماری ہے جس میں بھارت مبتلا ہے ، یہ جنگ آمریت اور مزاحمت کے درمیان ہے جس میں مسلمان سب سے پہلا نشانہ ہیں۔ انتخابات میں شرمناک شکست پر بی جے پی اور آر ایس ایس دہلی سے انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے اور آنیوالے بہار الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ حکمران جماعت کے رہنمائوں کی اشتعال انگیز تقاریر، جے شری رام کے نعرے لگا کر حملہ کرنیوالوں، خاموش تماشائی بنے یا جلائو گھیرئو میں شامل اور نیم مردہ حالت میں مسلمان نوجوانوں پر ڈنڈے برسا کر ترانہ گانے پراصرار کرنیوالے پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز موجود ہیں۔ دہلی میں تشدد، فسادات نہیں، مسلمانوں کیخلاف منظم بربریت ہے۔دہلی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کی ذمہ دار بی جے پی ہے۔‘‘علاوہ ازیں بھارتی مصنف کنعان ملک نے برطانوی اخبار’’ دی گارڈین‘‘ میں اپنے مضمون میں لکھا ’’ دہلی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کی ذمہ دار ہندو قوم پرست بی جے پی کا پھیلایا ہوا نفرت کا زہر ہے۔ شہریت قانون کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کو بھارت کے روہنگیا بن جانے کا خدشہ لاحق ہے۔ بی جے پی ہندوتوا کے نظرئیے پر عمل پیرا ہے جو بھارت کو صرف ہندو دیکھنا چاہتے ہیں، بی جے پی کے وزیر گری راج سنگھ آزادانہ کہتے پھرتے ہیں کہ تقسیم کے وقت تمام مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا۔‘‘
دوسری جانب دلی فسادات پر جاوید اختر کی ٹویٹ پرسوشل میڈیا پر تنقیدی سلسلہ جاری ہے ۔بالی وڈ کے نغمہ نگار جاوید اختر ایک بار پھر نہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرول ہو رہے ہیں بلکہ ان کیخلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ جاوید اختر نے مذہبی نفرت کو بڑھاوا دیا اس لیے ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔جاوید اختر مختلف موضوعات کے بارے میں سوشل میڈیا پر کھل کر بات کرتے ہیں اور 27 فروری کو دلی فسادات کے بارے میں انہوں نے ایک ٹویٹ کی جس میں لکھا تھا ’’اتنے لوگ مارے گئے، اتنے سارے لوگ زخمی ہوئے، بہت سے گھر جلائے گئے، دکانیں جلائی گئیں، لوٹی گئیں۔ سینکڑوں لوگ بے گھر ہو گئے لیکن دلی پولیس نے صرف ایک گھر کو سیل کیا اور اس مکان کے مالک کو پکڑا۔ اتفاق سے اس کا نام طاہر ہے۔۔۔ہیٹس آف دلی پولیس۔‘‘ان کی اس ٹویٹ کے جواب میں ’’نفرت بریگیڈ ‘‘ نے انہیں ٹرول کرنا شروع کر دیا۔ ایک نے لکھا ’’آپ دہشتگرد کی حمایت کر رہے ہو‘ ‘ دوسرے نے لکھا’’کیا ایسا کر کے آپ کا ضمیر آپ کو ملامت نہیں کرتا۔‘‘اس کے بعد جاوید اختر نے ایک اور ٹویٹ میں بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ’’ بھائی میں طاہر کو پکڑے جانے کیخلاف نہیں بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی جنہوں نے پولیس کی موجودگی میں اشتعال انگیز بیانات دئیے تھے۔‘‘ لیکن جاوید اختر کیخلاف ایف آئی آرکے بعد بھارت میں ’’مبینہ غداروں‘‘ کی فہرست میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 زیادہ تفصیلات میں الجھے بغیر صرف ایک بیان پر غور کر لیا جائے تو سیاسی دنیا میں اٹھنے والے نئے طوفان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔اٹلی میں رکن پارلیمینٹ روم سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی سارا کونیل نے موجودہ صورتحال پر انتہائی معنی خیز اور قابل غور مؤقف اختیار کیا ہے جس کی تہہ یا تحقیقات تک جانے کا مطالبہ تیزی سے زور پکڑرہا ہے۔

مزید پڑھیں

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

مزید پڑھیں

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔ ٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔ ٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں