☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی)
کورونا سے ’’ ڈرونا ‘‘ ۔۔۔سب کو مل کر ہو گا لڑنا

کورونا سے ’’ ڈرونا ‘‘ ۔۔۔سب کو مل کر ہو گا لڑنا

تحریر : طیبہ بخاری

03-22-2020

٭:کسی نے شائد انہی لمحات کیلئے کہا تھا کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا۔۔۔
٭:یہ فیصلہ انسانیت کو کرنا ہی پڑے گا کہ ’’کورونا سے ڈرونا‘‘۔۔۔ اور سب کو مل کر ہو گا لڑنا ۔۔۔۔
 

 

٭: ہم سب کو ابھی جینا ہے ۔۔۔صفائی کیساتھ ۔۔۔امن کیساتھ انصاف کیساتھ ۔۔۔۔پورے یقین کیساتھ ۔۔۔ 
٭:انسانیت کو خطرہ ہے تو بے یقینی سے ۔۔۔خوف سے ۔۔۔  بدامنی سے ۔۔۔نا انصافی سے ۔۔۔بد انتظامی سے ۔۔۔
 ٭:عالمی وباء سے ایک بار پھر اس ضرورت نے جنم لیا ہے کہ دنیا انسانیت کے تحفظ اور بقاء کیلئے نئے سرے سے سوچ و بچار کرے، تحقیق کا دائرہ وسیع کرے ۔۔۔صحت کے مسائل پر یکساں غور وفکر اور دستیاب وسائل کی بلا تفریق فراہمی ممکن بنائی جائے ۔۔۔
 ٭:انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کا مظاہرہ کیا جائے ۔۔۔۔
٭:اعلانیہ و غیر اعلانیہ جنگوں کا خاتمہ کیاجائے ۔۔۔ ’’زندگی‘‘ کو ریلیف دینے کیلئے تمام عالمی تنازعات کو فوری حل کیا جائے ۔ ۔ ۔ ٭:انسانوں کیساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کا بھی خاص خیال رکھا جائے ۔ ۔۔زمینی اور ماحولیاتی صفائی پر خصوصی حکمت عملی ترتیب دی جائے جس پر تمام ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر فوری عملدرآمد کویقینی بنایا جائے ۔۔۔
٭: 3ہفتے قبل چین کا ہر سکول اور کالج بند کر دیا گیا تاکہ کورونا وائرس کے انفیکشن کو محدود کیا جا سکے۔وہاں وائرس سے ڈرنے کی بجائے طلبا ء پڑھائی کر رہے ہیں، کروڑوں طلبا  نہ صرف آن لائن پڑھائی کر رہے ہیں بلکہ کراٹے بھی سیکھ رہے ہیں۔۔۔کچھ ایسا ہی جذبہ دنیا بھر میں چاہئے ، ڈرنے اور حوصلہ ہارنے کی بجائے ہمت اورمنصوبہ بندی سے اس وائرس کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ ۔۔جو کہ ڈر کر یا ہمت ہار کر بالکل بھی نہیں کیا جا سکتا 
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو بالآخر عالمی وباء قرار دیدیا ہے حالانکہ اس سے کہیں پہلے ہی دنیا کے زیادہ تر ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی تھی۔اس حوالے سے یہ سوال عام پوچھا جا رہا ہے کہ وباؤں کے مختلف درجوں این ڈیمک (endemic)، ایپی ڈیمک (epidemic)، اور پین ڈیمک (pandemic) میں کیا فرق ہوتا ہے اور یہ کہ اب تک آخرالذکر اصطلاح یعنی عالمی وباء کورونا وائرس کے لیے استعمال کیوں نہیں کی جا رہی تھی۔عالمی وبا ء کی اصطلاح کسی بھی ایسی متعدی بیماری کے لیے مختص ہے جس میں مختلف ممالک میں کثیر تعداد میں لوگ ایک دوسرے سے متاثر ہو کر بیمار پڑ رہے ہوں۔ آخری مرتبہ 2009ء میں سوائن فلو کو عالمی وباء قرار دیا گیا تھا جس سے تقریباً 2لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر روزا لِنڈ ایگو نے وبا ء کی تشریح کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وائرس کیسے پھیلتا ہے اور ایک عام انفیکشن عالمی وباء کی شکل کیسے اختیار کر لیتی ہے۔ڈاکٹر روزا لِنڈ ایگو کے مطابق’’ وائرس کے اس پھیلاؤ کو سمجھنے کیلئے ہمیں اس بات کو دیکھنا ہوگا کہ لوگ دنیا بھر میں سفر کرتے ہیں۔ اگر یہ وائرس یا انفیکشن ایسی جگہوں پر پہنچ جائے جہاں یہ برقرار رہ سکتے ہوں تو پینڈیمک (عالمی وباء) کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ وائرس بہت چھوٹا ہوتا ہے اور یہ پروٹین اور جینیاتی مواد سے مل کر بنتا ہے۔دنیا میں کئی طرح کے وائرس پائے جاتے ہیں۔ فلو وائرس کی ایک ایسی قسم ہے جس سے ہر سال کئی انسان متاثر ہوتے ہیں۔ ہر سال 10 سے 20 فیصد برطانوی آبادی کو فلو ہوتا ہے۔ وائرس کا پھیلاؤ سمجھنے کیلئے ہم فلو کی مثال لے سکتے ہیں۔ ایک انسان سے دوسرے انسان میں کھانسنے یا چھینکنے سے پھیل سکتا ہے۔ یہ تب بھی پھیل سکتا ہے کہ جب کسی بیمار شخص کا بلغم کسی جگہ موجود ہو۔ اس لیے اپنے ہاتھ دھونا بہت ضروری ہے کچھ ایسے وائرس بھی ہیں جو براہِ راست رابطے سے پھیلتے ہیں، جیسا کہ جب لوگ گلے ملیں یا بوسہ لیں۔ اسی طرح ایچ آئی وی جیسے وائرس بھی ہیں جو جنسی عمل سے پھیلتے ہیں۔‘‘
 عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم کے مطابق اگرچہ کورونا وائرس میں عالمی وباء بننے کی صلاحیت ہے مگر فی الحال ہم اس کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کو وقوع پذیر ہوتا نہیں دیکھ رہے مگر وقت کے ساتھ مختلف ممالک میں اس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اب 114 ممالک میں کورونا وائرس کے 118000 مصدقہ کیسز ہیں۔ وائرس کے بارے میں زبان کی تبدیلی اس وائرس کے اثرات میں بدلاؤ نہیں لاتی مگر عالمی ادارہ صحت کو امید ہے کہ کورونا وائرس کو عالمی وباء قرار دئیے جانے کے بعد ممالک اس سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں تبدیلی لائیں گے۔چند ممالک صلاحیت کی کمی کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ بعض ممالک عزم کے فقدان کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک کو یہ اقدامات اٹھانے کیلئے کہا ہے:(1) ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے میکینزم کو مؤثر اور بہتر بنایا جائے: (2)عوام کو وائرس کے خطرات سے آگاہ کیا جائے، اور بتایا جائے کہ لوگ اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں: (3)کووِڈ 19 سے متاثرہ ہر شخص کو ڈھونڈا جائے، اسے الگ تھلگ رکھا جائے، ٹیسٹ کیے جائیں اور اس کے متاثرہ شخص سے متعلقہ تمام افراد کا سراغ لگایا جائے۔
 ڈاکٹر ٹیڈروس کی بریفنگ کے مطابق’’ہم یہ پُرزور انداز میں یا واضح طور پر نہیں کہہ سکتے، مگر تمام ممالک مل کر اس عالمی مرض کا رخ بدل سکتے ہیں۔’’عالمی وباء‘‘ کی اصطلاح کے استعمال میں لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے۔ اگر اس اصطلاح کا غلط استعمال کیا گیا تو یہ غیر ضروری خوف اور مایوسی پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے جس سے اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ہم نے اس سے قبل کورونا کی عالمی وباء کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی وباء دیکھی جس پر قابو بھی پایا جا سکے۔ ہم نے تمام ممالک کے دروازوں پر دستک دی ہے ۔ ہمیں اس حوالے سے کی جانیوالی ناکافی کوششوں پر شدید تشویش ہے۔ہم نے شروع دن سے ہی اس حوالے سے اقدامات کئے ہیں ۔۔۔ اور متعدد ممالک نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ایسے ممالک جہاں اب اس وائرس کے نتیجے میں متعدد کیسز سامنے آ رہے ہیں، ان کیلئے اب بات یہ نہیں کہ کیا وہ اسے روک سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
یہاں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ آسٹریلوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا سے بچائوکی ویکسین تیار کرلی ہے۔ ایس اسپائک نامی ویکسین کوئنز لینڈ یونیورسٹی کے 3 سائنسدانوں نے تیار کی ہے جسے آزمائشی مرحلے میں چوہوں پر آزمایا جا رہا ہے جب کہ اگلے مرحلے میں انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری پر 20 سے 30 لاکھ ڈالرز لاگت آئے گی اور بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار چیلنج ہو گا جبکہ ویکسین کی طبی آزمائش میں چند مہینے درکار ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی سائنسدان بھی کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔اسرائیل کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اوفیر اکونیس کا کہنا تھا کہ ہمیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں کامیابی ملی ہے، آئندہ 3 ماہ میں ویکسین کو انسانوں پر استعمال کیلئے تیار کرلیا جائے گا۔
 

 موسم گرما میں وائرس ختم ہونے کا امکان

 کورونا وائرس سے متعلق یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا گرم موسم کورونا وائرس کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں؟ بعض دیگر طبی ماہرین کا بھی یہ خیال ہے کہ گرم موسم سے فلو اور دیگر بیماریوں میں کمی سے کورونا وائرس کیسز بھی کم ہو جائیں گے۔البتہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک محقق کرسٹوفر مورس کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ کورونا وائرس بھی فلو اور سانس سے متعلقہ بیماری ہے۔ موسم سرما میں یہ بڑھ جاتی ہیں اور موسم گرما میں اس میں کمی ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ گرم موسم اس وائرس کے تدارک میں مدد دے سکتا ہے لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ آئندہ سردیوں میں یہ وبا ء دوبارہ حملہ آور نہیں ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں فلو اور سانس کی بیماریاں اس لیے زیادہ لاحق ہوتی ہیں کیومکہ ہوا میں خشکی کا عنصر گرمیوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہ وائرس چین کے ٹھنڈے علاقوں کے علاوہ نسبتاً گرم اور مرطوب آب و ہوا والے علاقوں میں بھی پایا گیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موبائل فون ،کی بورڈ،ٹیبلیٹ کورونا کی آماجگاہ ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر صاف کیا جائے ۔ سائنسدانوں نے موبائل کے جو ٹیسٹ کیے ہیں ان سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ موبائل فون کی سطح پر کرونا وائرس دو سے تین دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور اسے چھونے سے وہ انسانی جسم میں منتقل ہو سکتا ہے۔ صرف موبائل فون ہی نہیں بلکہ پلاسٹک اور سٹین لیس سٹیل سے بنی ہوئی تمام اشیاء پر وائرس 2سے 3 دن تک موجود رہ سکتا ہے۔بیماریوں پر کنٹرول اور بچائوکے امریکی ادارے سی ڈی سی پی نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فون، کمپیوٹر کا کی بورڈ اور ٹیبلٹ سمیت استعمال میں آنے تمام ہائی ٹیک آلات کو روزانہ باقاعدگی سے صاف کریں اور اس کیلئے جراثیم کش سپرے وغیرہ کا ستعمال کریں۔ فون کی سطح صاف کرنے کیلئے آپ وائپ استعمال کر سکتے ہیں۔ 
چین کے شہر ووہان سے شروع ہونیوالا کورونا وائرس دنیا کے 145ممالک میں پھیل چکا ہے اور اِس وبائی مرض کو روکنے کیلئے بہت سے ممالک حفاظتی اقدامات کرتے نظر آرہے ہیں۔کورونا وائرس سے بچائوکے اقدامات کرتے ہوئے ان ممالک نے تعلیمی ادارے، اجتماعات اور عوامی مقامات کو بند کردیا ہے۔دوسری جانب اِس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ ریسٹورنٹس کو بھی بند کیا جائے کیونکہ ریسٹورنٹ ایسی جگہ ہے جہاں لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو وہاں یہ مرض ایک انسان سے دوسرے انسان میں با آسانی منتقل ہوسکتا ہے ۔ امریکہ میں قائم سینٹر برائے مرض قابو اور روک تھام (سی ڈی پی) کے مطابق’’ کورونا وائرس کو ایک ایسا وبائی مرض سمجھا جا رہا ہے جو سانس کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو رہا ہے لیکن تا حال ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ ساتھ کھانا کھانے سے یہ موذی وائرس ایک سے دوسرے میں منتقل ہوا ہو۔بغیر کسی تحقیق کے ریسٹورنٹس کو بند کرنا غلط ہے۔‘‘ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سانس کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے جبکہ مل کے کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ ریسٹورنٹس انتظامیہ کیلئے ضروری ہے کہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، ریسٹورنٹس میں جگہ جگہ ہینڈ سینیٹائزر رکھیں جائیں، اِس کے علاوہ کھانا پکاتے وقت صفائی کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔لوگوں کو خود بھی کورونا وائرس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے اور زیادہ رش والے ریسٹورنٹس جانے سے گریز کرنا چاہیے۔
کورونا وائرس سے بچائو کیلئے یونیسیف کی جانب سے بچوں اور طلباء کیلئے خصوصی ہدایا ت جاری کی گئی ہیں۔یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ تدابیر کی فہرست کے مطابق بچے خود کو ڈرنے ، غصے  مایوس، اداس، پریشان اور تذبذب کا شکار ہونے سے بچائیں، اپنے والدین اور اساتذہ کرام سے کورونا سے متعلق آگاہی لیتے رہیں اور معلومات کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔خود کی اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی حفاظت کریں ، بار بار20 سیکنڈز تک ہاتھ دھوئیں، ہاتھ دھوتے ہوئے صابن کا استعمال ضروری کریں۔ یاد رکھیں اپنے منہ کو ہاتھ نہ لگائیں، گھر یا سکول میں ایک دوسرے کا گلاس، پانی کی بوتل اور کھانے پینے کے دیگر برتن استعمال کرنے سے گریز کریں۔ذمہ دار شہری بنیں، چھینکتے وقت منہ پر ہاتھ یا رومال رکھیں، ناک صاف کرنے کیلئے ٹشو کا استعمال کریں، بعد ازاں ٹشو کو احتیاط سے پھینک دیں، ہاتھ دھوئیں، خود کے ساتھ دوسروں کو بھی بیماری سے بچایئے خصوصاً اپنے چھوٹے بہن بھائی اور ہم جماعت کو۔یاد رکھیں ! کورونا وائرس ایک سے دوسرے انسان میں پھیلتا ہے لہٰذا خود سمیت دوسروں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دوسروں سے فاصلہ رکھیں۔بیمار ہونے کی صورت میں والدین کو آگاہ کریں، خود ہی گھر میں رہیں باہر نہ جائیں، خود کو بھیڑ اور خاندان کے افراد سے علیٰحدہ کر لیں۔
یہاں کرونا سے نہ ڈرنے کی مثال دینا بھی ضروری ہے  ، کورونا کے خطرے کے باوجود فرانس بھر میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا راؤنڈ ہوا۔فرانس بھر میں بلدیاتی انتخابات کے 30 ہزار میئرز اور کونسلرز کیلئے ووٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے، گو کہ وٹرز کی شرح دوپہر 12 بجے تک 18 عشاریہ 23 فیصد رہی لیکن سرکاری ذرائع کے مطابق 2014ء کے بلدیاتی انتخابات میں یہ شرح 23 فیصد سے زیادہ تھی۔انتخابات کا دوسرا راؤنڈ 22 مارچ(آج) ہو گا، کوروناوائرس کے باعث پولنگ اسٹیشنوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا گیا، اور اسے پانی سے دھویا گیا، اسکے علاوہ دیگراحتیاطی تدابیر بھی اختیار کی گئیں ۔ داخلی اور خارجی راستوں پر ہاتھوں کو جراثیم اور وائرس سے پاک کرنے کیلئے جراثیم کش کٹس رکھی گئیں ۔
علاوہ ازیں کرونا وائرس کے خاتمے کیلئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی درخواست پر ویڈیو کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کو ایک طرف تو اسے دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا جارہا ہے تو دوسری طرف اس پیشرفت کو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مؤقف کو سفارتی فتح سے تعبیر کیا جارہا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سارک کی اہمیت کو مان لیا ہے ۔کروناوائرس کے خاتمے کیلئے درخواست کرکے مودی نے سارک کی اہمیت تسلیم کرلی۔ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم اب تک سارک کی اہمیت سے انکار کرتے آئے ہیں  انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے سارک کی جانب سے بھارت کو کی گئی تمام ہدایت کو نظرانداز کیا لیکن اب بھارت نے خود پاکستان کو کورونا وائرس کے حوالے سے ہونیوالے سارک اجلاس میں شرکت کی درخواست کی۔۔۔کاش دنیا جنگوں کے وبال سے آزاد ہو کر تمام تنازعات مل بیٹھ کر حل کرے اور ہتھیاروں کی بجائے انسانوں پر وسائل خرچ کرے۔ 
 
 
پاکستان کی محتاط پالیسی ، عوام گھبرائیں نہیں
 اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان نے اس وباء کے حوالے سے انتہائی محتاط اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا یہی وجہ ہے کہ عوام فوری گھبراہٹ اور خوف سے محفوظ رہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کو احتیاطی ، حفاظتی تدابیر اور علاج کی سہولیات کے حوالے سے آگاہ کیا ، اس حوالے سے میڈیا کی بھی بھرپور مدد لی جا رہی ہے ، عوام کو حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ٹوئٹر پر حکومتی پالیسی کے بارے میں کہا ’’ کورونا وائرس سے متعلق حکومتی پالیسی شروع دن سے انتہائی محتاط اور اس کے نتیجے میں آنے والے مؤثر ردِ عمل سے متعلق رہی ۔اس پالیسی کے نتائج عالمی سطح پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت تمام اداروں نے تسلیم کئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم محدود وسائل کے باوجود اس عالمی وباء کا کامیابی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔‘‘
وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے مطابق ’’ کورونا وائرس سے بچائوکیلئے ہمارے بروقت اقدامات کی گواہی ڈبلیو ایچ او بھی دے رہا ہے۔ وائرس کے بین الاقوامی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے حکومت نے عوام کے مفاد، تحفظ اور سلامتی کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے ساتھ ایک ہو کر اس وائرس کو شکست دیں گے، مشکل وقت ہے لیکن ہماری قوم ہر آزمائش میں سرخرو ہوئی ہے۔ وزیرِ اعظم وائرس کے تدارک کیلئے کیے جانیوالے اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ عوام وائرس سے متعلق ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر لازمی عمل کریں، معاشی طور پر مستحکم اور شعبہ طب میں بہتر نتائج رکھنے والی اقوام نے بھی احتیاطی تدابیر اپنائی ہیں۔‘‘
مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے واضح الفاط میں کہا کہ’’ خودنگرانی کررہاہوں،عوام کوروناسے بچائوکی ہدایات پرعمل کریں، احتیاط لازم ہے مگر ہیجان کی قطعاً ضرورت نہیں،عالمی ادارہ صحت نے ہماری کاوشوں کوسراہاہے،میں قوم کو بتاناچاہتا ہوں کہ کرونا وائرس کے تدارک کیلئے کئے جانیوالے اقدامات کی ذاتی طور پر نگرانی کررہا ہوں ۔ عوام کو میری نصیحت ہے کہ کرونا سے بچائو کیلئے حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ ہم خطرات سے پوری طرح آگاہ اور چوکنے ہیں اور اپنے لوگوں کی صحت و سلامتی کیلئے مناسب انتظامات کر چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے ہماری کاوشوں کو سراہا ہے اور انہیں دنیا میں بہترین قرار دیا ہے۔‘‘
جبکہ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے حکومت کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے چین سے مشاورت کی تجویز دی ہے۔ لندن سے جاری ہونیوالے ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات میں مرکزی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔ سندھ حکومت نے کورونا خطرات میں عوام کی جان بچانے کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے ۔ حکومت منحرف ارکان کو 10،10 کروڑ دینے کے بجائے کورونا وائرس کیلئے مناسب فنڈز مختص کرے۔ ملک میں کوروناوائرس سے بچائو، تحفظ، علاج کیلئے جامع پالیسی اپنائی جائے،مرکزی اورصوبائی سطح پر مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ میں باربار خبردار کرکے حکومت کو اس کے فرض کا احساس دلارہا ہوں، بیانات، دعوؤں اور پریس کانفرنسوں کے بجائے اقدامات پرتوجہ مرکوز کی جائے۔
دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجم نثار کے مطابق معا شی نظام کو کورونا کے اثرات سے محفو ظ رکھنے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر معاشی ریلیف پیکیج کا اعلان کرے جس سے ٹریڈ اور انڈسٹر ی کو فائدہ ہو۔ شرح سود فوری کم کی جائے کیونکہ اس کے کم کرنے سے کاروباری سر گرمیو ں میں اضافہ ہوگا۔حکومت ایسے اقدامات اور حکمت عملی مرتب کرے جس سے معا شی نمو برقرار رہے اور تجارت میں اضافہ ہو کیونکہ کورونا کی وجہ سے جو عالمی معاشی بحران آیا ہے اس سے معاشی نمو کم ہونے کا خدشہ ہے ۔  معاشی نظام کو کورونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشی ریلیف پیکیج دے ۔ یورپ کورونا کی وجہ سے "epicentre" بن چکا ہے جو کہ پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان کی 20 فیصد برآمدات ڈیوٹی فری یورپ کو جا تی ہیں۔
 امریکی کانگریس نے بھی 50 ارب ڈالرز کی ایمرجنسی فنڈ نگ کا کہا ہے اسی طر ح امریکہ کے سینٹر ل بینک نے معیشت کو ریلیف دینے کیلئے شر ح سود کو کم کردیا ہے۔ شر ح سود کم کرنے سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا، جس سے معیشت stimulate ہوگی۔ آئی ایم ایف نے بھی 50 ارب ڈالرز غریب اور درمیانے در جے کے ممالک کیلئے مختص کیے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کے صدر کے مطابق افراط زر کم ہو رہا ہے جو کہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شر ح سود کو کم ہو جانا چاہیے اور دوسری طر ف معیشت کو بھی استحکام کی ضرورت ہے جو معا شی نمو کو سپورٹ کر ے۔ بصورت دیگر معا شی کرائسز مزید آئیگا، جس سے انڈسٹریل نمو کم ہو گی اور مزید بیمار صنعتیں بند ہو جائیں گی۔ 
 

 

 چین اور امریکہ کے ایک دوسرے پر وائرس پھیلانے کے الزامات

چین اور امریکہ نے ایک دوسرے پر کورونا وائرس پھیلانے کے الزامات لگائے ہیں۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کورونا وائرس چین کے شہر ووہان میں لانے والی امریکی فوج ہو۔ امریکہ اپنے اعداد و شمار ظاہر کرے اور چین کو وضاحت دے ۔ امریکہ نے کورونا وائرس کو ووہان وائرس کا نام دیا تھا، جبکہ چینی سینٹر آف ڈیزیز نے جنوری میں کہا تھا کہ یہ وائرس ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے پھیلا تھا۔ امریکی سینٹر آف ڈزیز کنڑول کے رابرٹ ریڈ فیلڈ نے ایوان نمائندگان میں تسلیم کیا کہ کچھ امریکی انفلوئنزا سے مرے ان کے کورونا کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔امریکہ میں انفلوئنزا کے 34 ملین کیسز، 20 ہزار اموات رپورٹ ہوئیں، بتایا جائے کہ اس میں سے کتنے کورونا سے متاثر تھے۔ امریکہ الزامات چھوڑ کر وائرس کیخلاف تعاون کے فروغ پر اپنی توانائی خرچ کرے۔کورونا سے نمٹنے کے چینی اقدامات کی بین الاقوامی ستائش پر امریکہ میں اب بھی ایک شخص نے کان بند کررکھے ہیں۔ امریکی صدر نے ٹیلی وژن پر خطاب کے دوران کہا تھا کہ یہ وائرس چین سے پھیلا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاہے کہ ہوسکتاہے امریکی فوج نے ووہان میں کورونا وائرس پھیلایاہو۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے امریکی مشیر سلامتی کے بیان کے ردعمل میں کہاکہ امریکی فوج ہی شاید ووہان میں کورونا وائرس لائی تھی۔ اپنے ٹویٹ میں ترجمان نے کہا کہ شفافیت کا فقدان امریکہ میں ہے ، چین میں نہیں۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے الزام لگایا تھا کہ چین نے کورونا وائرس پر ردعمل میں سستی کا مظاہر کیا،جس کی گذشتہ ماہ سے دنیا قیمت ادا کر رہی ہے ، حالانکہ ووہان میں اس وائرس کی نشاندہی ایک سال قبل ہو گئی تھی۔
علاوہ ازیں امریکہ کی سٹاک مارکیٹ بھی اس وائرس کے باعث لڑکھڑا کر گر پڑی۔امریکی سٹاک مارکیٹ میں 1987ء کے بعد پہلی باراس قدر مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے، ڈائو جونز انڈکس میں 2300 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ۔حد یہ ہوئی کہ ٹریڑری بانڈز کی تجارت بھی نہ ہو سکی، ایس اینڈ پی اور نیسڈیک میں بھی 9 فیصد سے زائد کمی نوٹ کی گئی۔گھنٹی بجتے ہی سٹاک مارکیٹ 7 فیصد گرنے کے سبب ٹریڈنگ کو کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا ۔سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے سے متعلق صدر ٹرمپ کے اقدامات کے باوجود 15 سیشنز میں ڈائو اور ایس اینڈ پی انڈکس 13 بار مندی کا شکار ہوا ۔مارکیٹ کو استحکام دینے کیلئے فیڈرل ریزرو کی جانب سے 1 اعشاریہ 5 کھرب ڈالرز انجکٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ امریکہ میں کورونا وائرس سے اموات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور بیماروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ریاست اوہائیو میں محکمہ ہیلتھ کی ڈائریکٹر ایمی ایکٹن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صرف اوہائیو میں ممکنہ طورپر1 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔نیویارک میں ہنگامی حالت نافذ ہے جبکہ والٹ ڈزنی کمپنی نے کیلی فورنیا میں اپنا ڈزنی لینڈ اور ایڈونچر تھیم پارک  بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
 
دنیا کو معاشی نقصان سے بچنے کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا 
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو معاشی نقصان سے بچنے کیلئے کورونا وائرس کیخلاف جلد اقدامات لینے ہوں گے۔ معاشی نقصان سے بچنے کیلئے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، حکومتیں اپنی معاشی پالیسیز کو نرم رکھیں۔ سخت قوانین پہلے سے غیر یقینی کی صورتِ حال کو بڑھائیں گے، حکومتیں ضروری اشیائے خورد و نوش اور طبی مصنوعات کی برآمد پر پابندی نہ لگائیں۔ جہاں ضرورت ہو وہاں وسائل کی دستیابی کو ضروری بنایا جائے، کورونا وائرس کی روم تھام کیلئے علاج معالجے پر سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے۔عالمی بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ غریب طبقے کیلئے مالی و مفت طبی امداد کو یقینی بنایا جائے، معاشی سرگرمیوں کیلئے ٹیکس میں چھوٹ، سبسیڈی اور قرضے مہیا کیے جائیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کے حملے سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ کاروبار بھی مر رہے ہیں، سفری سہولتیں فراہم کرنے والی ٹریول ایجنسیوں میں ان دنوں سناٹے کا راج ہے، ٹریول ایجنٹس دیوالیہ ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں۔کہاں تو ان دنوں میں ٹریول ایجنٹوں کے ہاتھوں کو ٹکٹیں بنانے سے فرصت نہ ہوتی تھی اور اب یہ حال ہے کہ انگلیاں کی بورڈ پر ساکت پڑی ہیں، کورونا وائرس نے ٹریول ایجنٹس کا کام تمام کردیا ہے۔ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ سفر نہیں کر رہے اور جنہیں مجبوری میں کرنا پڑرہا ہے، انہیں بھی سفری سہولیات فراہم کرنا دشوار ترین ہے جبکہ مجبور مسافر پریشان ہیں۔ٹریول ایجنٹس ایئرلائنز کوکچھ ایڈوانس دے کر ٹکٹیں بک کراتے ہیں پھر انہیں بیچ کر پرانی ادائیگی کرکے نئے بکنگ کراتے ہیں لیکن کورونا وائر س کے حملے نے پوری سپلائی چین کومتاثر کیا ہے۔ٹریول ایجنٹس نے انٹر نیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) سے خصوصی صورتحال پر خصوصی اقدامات کرنے کی سفارش کی جو مسترد کردی گئی۔
 دوسری جانب عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرنسی نوٹ کی لین دین کورونا وائرس کے پھیلنے کا باعث بن سکتی ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق جراثیم اور وائرس کرنسی نوٹ پر زیادہ جمع ہوتے ہیں، نوٹ کو استعمال کرنے کے بعد متاثرہ ممالک کے شہری ہاتھ ضرور دھوئیں۔کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ کرنسی نوٹ، دروازے کے ہینڈل، دفاتر کے باورچی خانے اور کینٹین، اے ٹی ایم مشین، زینے کی ریلنگ، ٹیلیفون اور طیارے کی نشستیں بھی ہوسکتی ہیں۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کورونا کی مہلک وبا ء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، کسی ملک میں لاک ڈائون ختم ہو چکا ہے تو کہیں پھر سے لاک ڈائون کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کیو نکہ وبا ءکے باعث مریضوں اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی 22 فیصد آبادی کے کوروناکے شدید مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جان لیوا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ اور اثرات کی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے1 ارب 70 کروڑ افراد ذیابیطس، دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے امراض میں مبتلا ہیں، اور ایسے امراض میں مبتلا افراد میں کورونا کی علامات انتہائی سنگین شدت کی ہونگی ۔

مزید پڑھیں

  ٹرمپ کے دماغ میں گوبر بھرا ہے،صدارتی دفتر کیلئے فٹ نہیں، ذاتی عملہ انکی نقل اُتارتا ہے، روسی صدر پیوٹن کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ایک مچھلی کی طرح کھیل سکتے ہیں :جان بولٹن کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

مزید پڑھیں

  چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملٹری اکیڈمی میں گریجویشن تقریب میں شرکت کی،خطاب کے دوران پانی انہوں نے سپ بھرنے کے انداز سے پیا، وہ اپنا گلاس ایک ہاتھ سے تھام نہ سکے دوسرے ہاتھ سے گلاس سنبھالنا پڑا۔ تقریب میں آتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی ٹرمپ لڑکھڑائے ۔ ۔ ۔ ان تمام باتوں نے ماہرین اور عام عوام کو چونکا دیا ہے ، خاص کر ماہرین بول اْٹھے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے دماغ کا سکین کروالینا چاہیے۔ ٹرمپ کے دونوں ہاتھوں سے گلاس تھامنے پر ماہر نفسیات ڈاکٹر بینڈے لی نے کہا ’’ یہ ایک اعصابی علامت ہے اور انہیں دماغ کا سکین کرواناچاہیے۔‘‘

مزید پڑھیں