☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
کورونا کیا کچھ نگل گیا ۔۔۔۔؟

کورونا کیا کچھ نگل گیا ۔۔۔۔؟

تحریر : طیبہ بخاری

04-19-2020

 ٭:نہ نظر آنیوالاکورونا دنیا بھر میں کیا کچھ نہیں نگل گیا ۔۔ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں ، سکون ، روزگاراور سب سے بڑی آزادی۔ 

٭:اس وائرس نے زندگی کا رُخ بدلا یا زندگی ہی بدل ڈالی۔۔ ۔
 

 

٭:معیشت کا رُخ بدلا یا معیشت ہی بدل ڈالی ۔۔۔
٭:سماجی آزادی اور رابطوں کا رُخ بدلا یا سماج ہی بدل ڈالا۔۔۔ 
٭:دوستی کا انداز بدل ڈالا ۔۔۔۔یادوست ، دشمن ہی بدل ڈالے ۔۔۔ 
٭:دنیا کا کیا حال کر دیا ۔۔۔۔حکمرانی کے انداز ، سیاست کے دائو پیچ ۔۔۔ حکمت عملی ، منشور ، بجٹ ، مختص فنڈز ، ترقیاتی پروگرام ، ترجیحات، اہداف سب تبدیل کر دیا۔۔۔یا تبدیل ہو جائیگا۔۔۔ 
٭:دنیا تو دنیا کورونا مذہبی رسومات اور تہواروں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔۔
٭:ہر کوئی سوچ رہا ہے فکر مند ہے کہ کورونا مزید کیا کچھ کریگا ۔ ۔ ؟ اور اس وباء کے تھم جانے کے بعد مزید کون کون سے طوفان آئیں گے ۔۔؟لیکن ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ جو قوم جتنا احتیاط کرے گی اتنا محفوظ رہے گی ۔۔۔
٭:کورونا اس وقت1لاکھ سے زائد انسانی جانیں چھین چکا ہے اس پر بھی بس نہیں ناجانے مزید کیا کیا کچھ چھینے گا جبکہ مصدقہ متاثرین کی تعداد 16 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔۔۔۔
٭:اٹلی میں 18 ہزار سے زائد قیمتی جانیں گئیں،اٹلی میں کورونا سے اب تک 100 ڈاکٹرز اور 30 نرسز جان گنوا چکے ہیں۔
 ٭:دنیا بھر میں مسیحی برادری نے ایسٹرکے تہوار پر اپنے گھروں میں ہی عبادت کی ، گرجا گھر سنسان رہے،ایجوکیشن ہی نہیں عبادت بھی آن لائن ہو رہی ہے ۔بھوک سے مجبور ہزاروں انسان بھی امداد کیلئے’’لائن ‘‘بنا کر کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ فلپائن میں ایسٹر کی آن لائن سروس میں بشپ پاپلو ورجیلیو ڈیوڈ نے کوویڈ 19 کا موازنہ شیطان سے کیا۔بشپ ڈیوڈ کا کہنا تھا ’’ایک بار جب یہ ہمارے اندر آ جاتا ہے تو اس سے لڑنا اور مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
٭:آن لائن کا ذکر ہو رہا ہے تو کورونانے دنیا کی طاقتور ترین معیشت رکھنے والے ملک امریکہ کے شہریوں کو بھی راشن کیلئے قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور کرد یاہے ۔ ریاست کیلیفورنیا میں مفت راشن بانٹنے والے سٹور کے سامنے گاڑیاں اور لوگوں کی لمبی قطار یں دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ریاست نیویارک میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کیلئے قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔
 ٭: اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں اِس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ کورونا کے تصدیق شدہ کیسز ہیں۔نیو یارک شہر سے ایسی تصاویر سامنے آ رہی ہیں جن میں مختلف تنظیموں کے ارکان اجتماعی قبر میں تابوتوں کو دفن کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ لاطینی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں کورونا کی وجہ سے صورتحال اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ سپتالوں میں مریض اور لاشیں رکھنے کیلئے جگہ ختم ہو چکی ہے۔ کئی مقامات پر لاشیں تابوت میں ر کھ کر سڑکوں پر چھوڑ دی گئی ہیں۔جبکہ ہسپتالوں میں بستر، دوائوں، وینٹی لیٹرز اور حفاظتی ساز و سامان کی شدید قلت ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اور تائیوان کے صدر کے مابین کشیدگی کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں ۔ڈبلیو ایچ او کے چیف ڈاکٹر تیدروس ادہانوم گیبریئیسس کا کہنا ہے کہ انہیں نسل پرستانہ تبصروں کا سامنا کرنا پڑا اور موت کی دھمکیاں دی گئیں اور اس زیادتی کی ابتداء تائیوان سے ہوئی ۔دوسری طرف صدر سائی کا کہنا کہ تائیوان کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک کی مخالفت کرتا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او اور تائیوان کے مابین یہ تناؤ نیا نہیں تائیوان طویل عرصے سے ڈبلیو ایچ او میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے۔  رکنیت صرف ان ممالک کو دی جاتی ہے جو اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور جو تائیوان کو نہیں مانتے۔ جس کا مطلب ہے کہ جزیرے کو ہنگامی اجلاسوں اور بریفنگز سے خارج کردیا گیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق صدر سائی کا کہنا تھا’’ برسوں سے ہمیں بین الاقوامی تنظیموں سے باہر رکھا گیا اورامتیازی سلوک کیسا محسوس ہوتا ہے، یہ ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔‘‘
 ٭: یورپی یونین نے کورونا سے متاثرہ معیشت کی بحالی کیلئے 540 ارب یورو کا اعلان کیا ہے۔ یورو گروپ کے صدر ماریو سینتینو کے مطابق ہم نے معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے بحالی کیلئے3 مراحل پر مشتمل پلان پر اتفاق کیا ہے۔اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے اکیلے اکیلے نہیں بلکہ مشترکہ طور پر نکل کر ترقی کر سکتے ہیں۔ 240 ارب کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ممالک کے قرض کیلئے رکھے گئے ہیں جو یورپین اسٹیبیلٹی میکنزم کے تحت یورپین بیل آؤٹ فنڈ سے ادا کئے جائیں گے ۔ 200 ارب یورو یورپین انویسٹمنٹ بینک کے ذریعے ملیں گے جبکہ 100 ارب یورو یورپی کمیشن کے ذریعے اس وائرس کے باعث بیروزگار ہونے والے یورپین ورکرز کے تحفظ کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔
٭:چین کا ذکر کریں تو بیجنگ نے اعلان کیا ہے کہ اپنی زمینی سرحدوں کی حفاظت پر مزید وسائل خرچ کریگا تاکہ باہر سے وائرس کا شکار ہونیوالے افراد کو چین میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔
٭: جاپان میں حکومتی اقدامات کے باوجود نئے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انڈونیشیا ، سنگاپور اور تھائی لینڈ میں اموات کی تعداد اور کیسزمیں اضافہ ہو رہا ہے ۔
٭: دبئی میں شہریوں کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے فضائی گشت اور انتہائی جدید آلات کا استعمال کیا جا رہاہے۔خلیج ٹائمز کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خبردار کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کرنا شروع کردیا ہے عوام گھر میں رہیں وگرنہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے نام لے کر انہیں شرمندہ کیا جائے گا۔
٭:  آسٹریا میں حکومت نے عوام کو 22ممالک کا سفر کرنے سے منع کر دیا ہے اور ان ممالک میں جب تک کورونا کا خاتمہ نہیں ہوتا پابندی عائد رکھنے کا عندیہ دیدیا گیا ہے۔ ان ممالک میں پاکستان، انڈیا، ایران، بلجیم، برازیل، فرانس، انڈونیشیا، اٹلی، نیدر لینڈ، نائجیریا، پیرو، فلپائن، پرتگال، روسلینڈ، سن مارینو، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، سنیگال، سپین، جنوبی کوریا، جنوبی افریقہ، یوکرائن، واتکان سٹڈ اور فرائنگیسٹ کوئنگراخ شامل ہیں۔
٭: برطانیہ کے 5لاکھ شہریوں میں کورونا وائرس کی علامات نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور محکمہ صحت کے تھنک ٹینک کو ششدر کر کے رکھ دیا ہے۔ کنگز کالج لندن کی تحقیقاتی ٹیم نے کورونا علامات کا ٹریکر ایپ تیار کر کے سروے کیا جس میں 20  لاکھ سے زائد افرا دکا تجزیہ کیا گیا اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ برطانیہ میں کورونا کے 5لاکھ متاثرین موجود ہیں۔پہلے کورونا10 میں سے 1 فرد میں پایا جاتا تھا اب اس کا پھیلائو خطرناک حد کو چھو رہاہے۔ برطانیہ کے چیف سائنسی مشیر سر پیٹرک والنس کا کہنا ہے کہ اس موقع پر جب ہلاکتوں کی تعداد میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے لاک ڈائون ختم کرنا قبل از وقت ہے ہم پوری قوم کی زندگی اور قسمت کو دائو پر نہیں لگا سکتے ۔یورپی خطے کیلئے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنس کلوج کا صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ’’ اب وقت نہیں ہے کہ اقدامات میں نرمی لائیں دنیا بھر میں موجود کورونا مریضوں کی نصف تعداد یورپ میں موجود ہے۔ سپین ، اٹلی ، جرمنی ، فرانس اور برطانیہ 5 مشکل ترین متاثرہ ممالک ہیں۔‘‘ مزید برآں برطانوی ہوم آفس کے نائب سائنسی مشیر روبرٹ شیوٹ نے انتباہ کیا ہے کہ 80فیصد برطانوی شہریوں کو کسی نہ کسی طور کورونا اپنا شکار بنا سکتا ہے جو لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہیں وہی 20فیصد کورونا سے بچ سکیں گے اگر 80فیصد آبادی کو وائرس لاحق ہو گیا تو برطانیہ میں ہزاروں افراد کی ہلاکت ہوگی۔ دوسری جانب برطانیہ میں خریداروں کی کمی کے باعث ڈیری فارمز مالکان ہر 7یوم بعد 40ملین لیٹر دودھ جس کی مالیت2لاکھ 20ہزار پونڈز سے زائد بنتی ہے گندے نالوں میں پھینکنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔
٭:انڈیا میں کورونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لاک ڈائون نے جانوروں تک غذا کی رسائی کا راستہ بند کردیا ہے۔ سیاحت کا شعبہ شدید متاثر ہے، سڑکوں پر عوام سمیت سیاحوں کے نہ ہونے سے جانور خاص کر بندر غذا سے محروم ہیں ۔ لاک ڈائون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بندروں نے جنہیں بھارت میں مقدس مانا جاتا ہے اور جنہیں مارنے کی اجازت نہیں ہے نے کئی عوامی مقامات سمیت سرکاری دفاتر پر قبضہ جما لیا ہے جبکہ ملٹری اور صدارتی دفاتر کی چھتوں پر بندروں کے جھنڈ ہیں جو غذا کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں۔محکمہ جنگی حیات کے افسران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال میں سینکڑوں جانوروں کی اموات ہوسکتی ہیں۔ 
٭:کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر بنگلہ دیش نے ایک ایسے ضلع کو لاک ڈاؤن کردیا ہے جہاں کیمپوں میں10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین رہتے ہیں۔نیپال کے سینکڑوں کارکن لاک ڈائون کے باعث انڈیا کی سرحد پر پھنسے ہیں۔۔۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جب کورونا شامی پناہ گزین کیمپوں تک پہنچے گا تو کیا ہو گا؟مشرقِ وسطیٰ میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں لاکھوں شامی مہاجرین کورونا کے خوف تلے زندگی بسر کر نے پر مجبور ہیں۔
٭:ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عوام سے رمضان المبارک کی عبادت گھروں پر رہ کر کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں برس ہم رمضان المبارک کی اجتماعی عبادات سے محروم رہیں گے، شہری تنہائی میں عبادت کا موقع نہ گنوائیں۔ دنیا بھر کی طرح ایران بھی کورونا سے متاثر ہے اور وہاں اب تک وائرس کے 66ہزارسے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 4ہزار سے زائدافرادجاں بحق ہوچکے ہیں۔
٭: سعودی عرب بھی عالمی وباء سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے  شاہی خاندان کے 150سے زائد افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے آل سعود خاندان کے علاج کیلئے مقرر ڈاکٹروں اور مخصوص ہسپتالوں میں 500 خاص بستروں کا انتظام کر دیا گیا ہے کیونکہ متاثرین کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ ریاض کے گورنر اور سینئر سعودی شہزادہ کو آئی سی یو میں داخل کر دیا گیا ہے۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق شاہی خاندان کے افراد کے علاج کیلئے جو الرٹ جاری کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ’’شاہی خاندان کے افراد کے علاج کیلئے تیار رہیں‘‘ یہ الرٹ کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال کی طرف سے سینئر ڈاکٹرز کو بھیجا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کو اس کی نقل موصول ہوئی ہے۔ الرٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہمیں نہیں معلوم متاثرین کی کتنی تعداد کا علاج کرنا ہوگا لیکن صورتحال کیلئے ہائی الرٹ رہنا ہوگا، تمام دیگر مریضوں کو دیگر مقامات پر منتقل کر دیا جائے اور صرف انتہائی ہنگامی کیسز سے نمٹا جائے۔ ہسپتال کے کسی بھی بیمار رکن کا علاج ہسپتال میں نہیں کیا جائے گا، ہسپتال صرف شاہی خاندان کے ارکان کے علاج کیلئے مختص رہے گا۔‘‘ سعودی عرب میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے 6 ہفتوں بعد اب یہ وبا ء شاہی خاندان کے افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔ 84 برس کے شاہ سلمان نے جدہ کے قریب ایک جزیرے پر قائم محل میں خودکو قرنطینہ کرلیا ہے جبکہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی بعض وزراء کے ہمراہ خود کو الگ مقام پر محدود کر دیا ہے۔
٭: ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کوروناجانوروں میں منتقل ہواتو پوری دنیا کے جنگلوں سے چند ہی دنوں میں حیوانات کی نسل ختم ہو کر رہ جائیگی جس طرح لوگ ڈائنو سار کے اب ڈھانچے دیکھتے ہیں اس طرح موجودہ وقت میں جنگلوں میں اچھلنے کودنے والے جانور بھی ماضی کا حصہ بن جائیں گے لہٰذا برطانیہ سمیت یورپین ممالک کے لوگ جنہیں پالتو جانور پالنے کا شوق ہے اپنے جانوروں کی مکمل حفاظت کریں اور انہیں باہر سیرو تفریح کیلئے نہ لے جایا جائے ،لاک ڈائون صرف انسانوں کیلئے ہی نہیں پالتو جانوروں کیلئے بھی ہے۔ 
٭:کورونا کی وجہ سے دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کو خسارے اور بدترین مالی بحران کا سامنا ہے۔ دنیا کے مختلف ہوائی اڈے تقریباً بند ہوچکے ہیں۔ ائیر لائنزفالتو عملے کو فارغ کر رہی ہیں کورونا کے بعد یہ صورتحال بتدریج بہتر تو ہو سکتی ہے مگر یکدم اس عروج پر نہیں پہنچ سکتی جس پر کورونا کے پھیلنے سے قبل تھی۔
٭: پاکستان کا ذکر کریں توپارلیمانی کمیٹی برائے کورونا وائرس نے11نکاتی ٹرمز آف ریفرنس (ٹی اوآرز) کو حتمی شکل دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اکیلے اس عالمی وباء سے نہیں لڑ سکتی‘ملکر مقابلہ کرنا ہوگا‘رمضان میں خوراک کی ضرورت بڑھ جائے گی ۔ مخیر حضرات آگے آئیں ‘آنیوالے تین چار ہفتے خطرناک ہوسکتے ہیں‘ہمیں اُس وقت کی تیاری کرنی ہے‘ کورونا سے معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔وسط فروری سے اب تک سٹاک مارکیٹ میں 21فیصد کمی ہوچکی ہے‘ روپے کی قدر میں3 فیصد‘سرمایہ کاری پورٹ فولیومیں 1عشاریہ 4ارب ڈالرزکمی ہوئی۔2021ء میں جی ڈی پی کی شرح نمو کم رہے گی‘برآمدات اور ترسیلات زرمیں بھی کمی ہوئی ‘ گندم کی کٹائی کیلئے ہر طرح کی انڈسٹری کھولی جا رہی ہے‘اقتصادی بحران کورونا سے بڑاخطرہ ہے ‘ ضروری اشیاء کیلئے سپلائی لائن کھول دی جائیگی‘ بتدریج لاک ڈائون کی طرف جارہے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا وائرس کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمینٹ ہائوس میں ہواجس میں ارکان نے ویڈیولنک کے ذریعے شرکت کی۔ علاوہ ازیں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی بلوں میں ماہانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ کو جون تک مؤخر کرنے کی منظوری دیدی ہے اس سے قومی خزانے پر 151ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
 اس مخدوش صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف سے پاکستان کو 1.4 ارب ڈالرز کا ایمرجنسی ریلیف ملے گاجبکہ اے ڈی بی نے بھی پاکستان کو 8 ارب 30کروڑ روپے امداد دینے کی منظوری دیدی ہے۔کورونا سے نمٹنے کیلئے مالی معاونت کی فراہمی کیلئے آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے  عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے آن لائن کھلی کچہریوں کی اجازت دیدی ہے ۔ ایس او پیز کا اطلاق یکم مئی 2020 سے ہوگا۔اعلامیے کے مطابق کورونا کی صورتحال کے پیش نظر فی الحال آن لائن کچہریوں کی اجازت ہو گی جبکہ حالات کی بہتری کے ساتھ ہی رو برو کچہری کا انعقاد ہوگا۔
تمام تر صورتحال جاننے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو قوم جتنا احتیاط کرے گی اتنا محفوظ رہے گیاور جو قوم احتیاط نہیں کرے گی وہ دیکھ لے کہ کورونا کیا کچھ نگل گیا اور کیا کچھ نگلنے والا ہے۔ شائد فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے کہ زندہ رہنا اور کورونا سے بچ کر رہنا ہے توساری دنیا کو مل کر رہنا ہو گا ، مل کر کام کرنا ہو گا ، مل کر تمام مسائل اور دیرینہ تنازعات کا پائیدار حل تلاش کرنا ہو گا۔
 جعلی ادویات سے بھی خطرہ
 عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں کورونا وائرس سے بچائو کیلئے جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے سنگین مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔افریقہ میں فروخت ہونیوالی جعلی ادویات کے بارے میں بھی علم ہوا ہے جہاں جعلساز مارکیٹ میں پیدا ہونیوالے خلاء سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں لوگ بنیادی ادویات کا ذخیرہ کر رہے ہیں تاہم بڑی تعداد میں طبی سامان تیار کرنے والے2 ممالک چین اور بھارت میں لاک ڈائون اور ادویات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے جعلی ادویات کی گردش بڑھ رہی ہے۔ کم یا درمیانی آمدن والے ممالک میں جعلی ادویات کی اس تجارت، جس میں ایسی دوائیں شامل ہیں جن میں کوئی غلط یا غیر فعال اجزاء شامل ہیں، کی مالیت 30 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔
 
 
عالمی معیشت شٹ ڈائون ،60 کروڑ افراد غربت کا شکار ہو جائیں گے
 
کورونا عالمی معیشت کو لے بیٹھا، بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے دنیابھر میں حکومتیں معیشت کو سہارا دینے کیلئے اقتصادی پیکیج دینے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف بڑھتی ہلاکتیں ہیں اور دوسری طرف بڑھتے احتجاج ۔۔۔ اطالوی وزیراعظم نے یورپی یونین کی ناکامی کے خطرے کی نشاندہی کر دی ادھر امریکہ میں لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ مزید 66لاکھ افراد نے بیروزگاری الائونس کی درخواست دیدی ہے ۔ اقوام متحدہ کاکہناہے کہ وائرس کے باعث نصف ارب لوگ غربت میں جا سکتے ہیں، دوسری جانب فرانسیسی حکومت کو رواں سال جی ڈی پی میں 6فیصد کمی متوقع ہے۔
آئی ایم ایف سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کاکہناہے کہ کورونا کے باعث ایسا اقتصادی بحران پیدا ہورہا ہے جو گذشتہ دہائی دیکھنے میں نہیں ملااور اس بحرا ن سے نمٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وائرس پر قابو پانے کیلئے عالمی معیشت شٹ ڈائون ہوکر رہ گئی ہے۔اقوام متحدہ (یو این) اور عالمی ادارے آکسفیم کی تازہ رپورٹس کے مطابق کورونا سے دنیا بھر میں نصف ارب لوگ غربت میں جا سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں کی گئی ایک سٹڈی سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں 40 سے 60 کروڑ افراد غربت میں چلے جائیں گے۔ فرانس میں بھی کورونا کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے اور اب ڈاکٹرز کی یونین نے خبردار کیاہے کہ کورونا 16لاکھ افراد کو متاثر کرسکتا ہے۔۔ادھر عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیاہے کہ افریقہ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے استعمال کیے جانیوالے حفاظتی طبی آلات کی قلت کا بحران کا سامناہے۔ 
جرمنی نے کورونا کو یورپی یونین کے رکن ملکوں کیلئے’’ سب سے بڑا ٹیسٹ‘ ‘قرار دیدیا۔ جرمنی کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ نے بھی کورونا سے پیدا ہونیوالی صورتحال کو تاریخ کا مشکل ترین وقت قرار دیا جبکہ فرانس نے خبردار کیا ہے کہ وہ جنگ عظیم دوئم کے بعد سب سے خطرناک بحران سے دوچار ہے۔ اس حوالے سے جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے تمام یورپی ملکوں پر زور دیا کہ وہ خطے کو اس بیماری سے بچانے کیلئے متحد ہو جائیں۔جاپان نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 10 کھرب ڈالرز کا امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکہ میں کورونا کو نائن الیون یا پرل ہاربر سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بحران سے نکلنے کیلئے اتفاق اور اتحاد پر زور دیا۔ یورو زون کے وزرائے خزانہ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے خبردار کیا کہ میرے نزدیک یورپی یونین اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ ہر کوئی متاثر ہے اور اس وجہ سے پورے یورپ بشمول جرمنی کے مفاد میں ہے کہ وہ اس مشکل وقت کا مل کر مقابلہ کریں۔ اٹلی فرانس اورسپین نے جرمنی، آسٹریا اور ہالینڈ کو وائرس کے معاشی اثرات کم کرنے کیلئے قرضوں کی مشترکہ سہولیات کی درخواست کی لیکن امیر ترین شمالی ملکوں کے رہنمائوں نے جرمنی اور نیدرلینڈ کے ان خدشات کی مخالفت کی کہ ان کے ٹیکس دہندگان اس بل کی حمایت نہیں کریں گے۔ 
یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ مارچ کے دوران قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد پورے برطانیہ میں مکانوں کی قیمتیں جمود کا شکار رہیں۔ای وائی آئٹم کلب کے چیف اقتصادی مشیر ہوورڈ آرچر کا کہنا ہے کہ گذشتہ 5 ماہ کے دوران پہلی مرتبہ قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوسکا ۔ رائل انسٹی ٹیوشن آف چارٹرڈ سرویئرز کی رائے میں یہ جمود ایک طوفان سے قبل پیدا ہونے والے جمود جیسا ہے۔
دوسری جانب عالمی بینک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ملکوں کو صحت عامہ اور غربت سے لڑنے کیلئے پہلے سے زیادہ کام کرنا ہوگا۔ رواں سال جنوبی ایشیا ء میں معیشت کی رفتار 1.8 سے 2.8 فیصد ہونے کا خدشہ ہے جبکہ کورونا سے پہلے معیشت کی رفتار 6.3 فیصد کا اندازہ تھا 40 سال میں پہلی بار اس رفتار سے معیشت تنزلی کا شکار ہوگی۔رپورٹ کے مطابق 6 ماہ قبل 2021 میں جنوبی ایشیا کی معیشت کی رفتار 6.7 فیصد کا اندازہ لگایا گیا تھا جبکہ سال 2021 میں معیشت کی رفتار3.1 سے 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ لاک ڈائون کے باعث جنوبی ایشیاء کے 8 ممالک میں کاروبار معطل ہے جس سے معیشت کا پہیہ رک گیا ہے۔
  
 
بھوک سے بھی نمٹنا ہوگا
 
پاکستان نے عالمی وباء کے ملک کی جی ڈی پی نمو پر اثرات کا اندازہ 0.8 تا 1.3 فیصد لگایا ہے اور منفی اثرات میں کمی لانے کیلئے عالمی بینک کی مشاورت سے سماجی و اقتصادی محاذوں کیلئے ایکشن پلان تیارکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن نے اندازہ لگایا کہ پاکستان کی جی ڈی پی نمو کووڈ 19 کے اثرات کا سامنا 0.8 تا 1.3 فیصد تک کرے گی لہٰذا پاکستان کی جی ڈی پی کی نمو 2 تا 2.5 فیصد رہے گی جس کا ہدف اس سے قبل رواں مالی سال کیلئے 3.3 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف نیچے کی جانب ہوگا لہٰذا تمام دیگر معاشی اہداف کو دوبارہ ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔ ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق عالمی وباء کی خطرناک رفتار نے عالمی منڈیوں اور حقیقی معیشتوں کو جھنجھوڑ ڈالا ہے؛ اس کے اثر نے پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی منڈیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ وائرس کے اثرات پسماندہ بین الاقوامی تجارت، کم غیرملکی ترسیلات زر اور بیروزگاری میں بے انتہا اضافے سمیت وسیع پیمانے پر ہوں گے۔  
وزیراعظم عمران خان بار بار کہہ ر ہے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں بھوک سے بھی نمٹنا ہوگاانہوں نے گذشتہ دنوں دو صوبوں  خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا دورہ بھی کیا، حیات آباد میڈیکل کمپلکس پشاور میں وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع میں کورونا وباء دیگرعلاقوں کی نسبت زیادہ پائی گئی ہے صوبے میں 275 قرنطینہ سینٹر زبنائے گئے جن میں 18,000 افراد کی گنجائش ہے اور وزیراعلیٰ نے  32 ارب کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ۔صوبے میں 583 وینٹی لیٹر زموجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹرز سے گفتگو میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے تحفظ کا احساس ہے، حکومت حفاظتی سامان فراہم کر رہی ہے اور وفاقی حکومت ہر سطح پر تعاون کو یقینی بنائے گی پوری دنیا کورونا سے متاثر ہوئی ہے اور عالمی مارکیٹوں کی بندش سے خریداری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، این ڈی ایم اے چین اور دیگر ممالک سے امدادی سامان لا رہا ہے۔
 مزید برآں عالمی وباء کی صورتحال کے پیش نظر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے مؤثر اقدام کرتے ہوئے ملک کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے ناکارہ وینٹی لیٹرز کو کارآمد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ٹوئٹر پر کہا کہ وینٹی لیٹرز کار آمد بنا کر کورونا مریضوں کیلئے استعمال ہوں گے ملک میں 1000 سے زائد وینٹی لیٹرز فنکشنل نہیں تھے اور خراب وینٹی لیٹرز کی مرمت سمیت ٹیکنیکل ٹریننگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ خوشی ہے پاکستانی نوجوان انجینئرز مشکل کی گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کٹس مینوفیکچرنگ سے پہلے لائسنسز کے عمل کا جلد آغاز ہوگا۔ ڈریپ نے قانونی کارروائی مکمل کرلی ہے جس کے بعد پاکستان اپنے وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کٹس بنانے جا رہا ہے۔انشاء اللہ پاکستان کورونا کو شکست دینے والے ممالک میں سرفہرست ہوگا، ہم سب مل کر کورونا کو شکست دیں گے۔
 
 
مؤثر لاک ڈائون نہ کیا گیا تو 6 مہینے ایسے ہی چلتا رہیگا
 
 ملک میں ایک بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ لاک ڈائون مؤثر رہا یا نہیں ، مزید کیسا اور کتنا لاک ڈائون چاہئے ؟ سوشل میڈیا ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تجزیوں ، تبصروں کا سلسلہ جاری ہے جن کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈائون کی کیا اہمیت ہے ۔ صدر مملکت عارف علوی سخت لاک ڈاؤن کے حامی ہیں ایک انٹرویو میں موجودہ صورتحال کے بارے میں انکا کہنا تھا ’’کوروناسے نکلیں گے تو ہماراصحت کا سسٹم مضبوط ہوجائے گا،آزمائش سے بہترین قوم بن کر نکلیں گے یہ بننے کا موقع ہے جو وزیر اعظم کررہے ہیں وہ سمت بہترین ہے۔ حکومت 5 سال پورے کرے گی،گندم اور چینی بحران کی وزیراعظم نے تحقیقات کرائیں اور رپورٹ شائع کروائی۔پاکستان میں رپورٹس دب جاتی ہیں فرانزک رپورٹ آئیگی تو اورکچھ بھی آئیگا ۔‘‘صدر مملکت نے اپنے انٹرویو میں اور بھی کئی موضوعات پر گفتگو کی جن پر تفصیلی گفتگو پھر کبھی فی الحال ہم اپنے موضوع تک محدود رہیں تو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے ہیں ’’تعمیراتی شعبے میں کام سے وباء بڑھ سکتی ہے ، چھوٹے دکاندار تعاون کررہے ہیں لیکن بڑی صنعتوں کا بہت دبائو ہے، ایس او پیز بنارہے ہیں، چاہتے ہیں تمام صوبے لاک ڈائون بڑھائیں ۔ بجلی، گیس صارفین، کرایہ داروں کے ریلیف کیلئے مسودہ تیارکرلیا ہے۔ لاک ڈائون ختم کیا یا نرمی کی تو نتیجہ کیسز میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ 
دوسری جانب وفاقی کابینہ کو بتایا گیا ہے 25اپریل تک پاکستان میں کورونا کے 70ہزار مریض ہوسکتے ہیں، کورونا سے اموات کی شرح دیکھیں تو اموات 700تک پہنچ سکتی ہیں۔حکومت اس رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاننگ کررہی ہے، دنیا کے مختلف ممالک سے پاکستانی واپس آنا چاہ رہے ہیں، متحدہ عرب امارات سے 20ہزار پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں۔یکم اپریل سے 11 اپریل تک وزٹ یا بزنس ویزے پر بیرون ملک گئے پاکستانیوں اور طلباء کو واپس لایا جا رہا ہے، ابھی تک 1800 پاکستانی واپس آچکے ہیں ۔ بیرون ملک مستقل مقیم پاکستانیوں کو اسی ملک میں اپنا علاج کروانا چاہئے۔وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے مطابق 6200پاکستانی واپسی کے منتظر ہیں تمام اوورسیز پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ بہت مجبوری میں ہی واپس آئیں،احساس پروگرام کے تحت غریبوں کو پیسے ملنا خوش آئند بات ہے،بیرون ملک شہریت کے حامل پاکستانیوں کو ایمرجنسی نہیں تو اس ملک میں رکنا چاہئے زکوٰۃ کمیٹیوں اور مقامی حکومتوں کو راشن کی تقسیم کیلئے متحرک کرنا چاہئے جبکہ(ن) لیگ کے رہنمامصدق ملک کے مطابق کورونا کے مریضوں کی تعداد 70ہزار ہوجاتی ہے تو اموات 1400تک پہنچ سکتی ہیں، مؤثر لاک ڈائون نہ کیا گیا تو 6 مہینے ایسے ہی چلتا رہے گا۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

مزید پڑھیں

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔ ٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔ ٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں

  کورونا کے باعث ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں بیٹھ جانا۔۔۔ اس وباء سے مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔اور اگر مقابلہ نہیں کرنا تو کم سے کم نمٹنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوروناسے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔اب طے یہ کرنا ہے کہ اس وباء کے ہوتے زندگی کو کیسے بحال کرنا ہے ۔۔۔ ترقی کا پہیہ کیسے چلانا ہے ۔۔۔بند کاروبار کیسے کھولنے ہیں ۔ بڑھتی بے روزگاری کو کیسے روکنا ہے ۔۔۔ لڑکھڑاتی معیشت کو کیسے سہارا دینا ہے ۔۔۔نقصانات اور خساروں کے اندیشے کیسے کم کرنے ہیں ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔مکمل لاک ڈائون بھی نہیں ہوا اور معیشت کا بھی نقصان ہوگیا۔۔۔ڈپریشن اور معاشی مسائل کے شکار عوام کو کیسے امید اور حوصلہ دینا ہے ۔۔۔۔

مزید پڑھیں