☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
خطرہ ابھی باقی ہے ۔۔۔۔

خطرہ ابھی باقی ہے ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

04-26-2020

  ٭:دنیا کوسماجی فاصلہ بھی رکھنا ہو گا اور ایک بھی رہنا ہو گا ۔۔۔ دور دور سہی لیکن ساتھ ساتھ ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔خطرہ ابھی باقی ہے ۔۔۔بقول وزیر اعظم 20مئی تک کورونا کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے۔۔۔ 

 

٭:کورونا کا جڑ سے خاتمہ نہ سہی لیکن وطن عزیز سے خاتمہ ضرور یقینی بنانا ہے ۔۔۔جتنا نقصان اس موذی وباء نے پہنچایا ہے جواب میں ہمیں اتنا ہی مضبوط بن کر دکھانا ہے ۔۔۔
 ٭:زندگی، زندگی کی رونق، معیشت ، خوشحالی ، سب کو سنبھالنا ہے ۔ ۔ ۔ وطن عزیز کو ہر قسم کے بحران اور خطرات سے بچانا ہے ۔۔۔
٭: ایسا کر دکھانا ہے کہ لاک ڈائون بھی رہے اور کاروبار زندگی بھی چلتا رہے۔۔۔دکانیں ، مارکیٹس کھلیں رہیں اور لاک ڈائون کے ثمرات بھی کم نہ ہوں ۔۔۔کوئی بھوک سے نہ مرے ، بے آسرا نہ رہے ،  مدد کو نہ ترسے ۔۔۔بچے ، بوڑھے جوان سب ہشاش بشاش رہیں  سماجی،معاشی ، نفسیاتی ہر قسم کے دبائو سے آزاد رہیں ۔۔۔
٭:مسجدیں آباد رہیں اور سماجی فاصلہ ختم نہ ہو۔۔۔
 ٭:یہ سب کر دکھانا ہے اور ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ۔۔
 ٭:کسی ایک شہر یا صرف شہروں کو ہی نہیں پورے ملک کودنیا کیلئے ’’ ماڈل ‘‘ بنانا ہے۔۔۔صحت کا شعبہ حکومتوں کی اولین ترجیح بن چکا ہے اب ہمیں صفائی کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہے۔۔۔ چین میں لاک ڈاؤن کے بعد زندگی آہستہ آہستہ معمول پر واپس آنے لگی ہے اور دارالحکومت بیجنگ میں 73 بڑے سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔۔۔۔عالمی وباء سے بچنے کیلئے کئے گئے حکومتی فیصلوں پر ہمیں مکمل عملدرآمد یقینی بنانا ہے 
 ٭:جلد سے جلدکورونا کے شکنجے کو توڑنا ہو گا ۔۔ اور یہ کام ہم کر سکتے ہیں ۔۔۔بغیر کسی سیاسی و سماجی اختلاف کے ۔۔۔
٭: آج جی 20 ممالک کہہ رہے ہیں کہ کورونا نے صحت کے عالمی نظام میں ’’کمزوریوں‘‘ کو بے نقاب کر دیا ۔۔۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کورونا بحران کے دوران مہاجر خواتین اور لڑکیوں کو صنفی تشدد کے شدید خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے۔۔۔ سب جان چکے ہیں، بھگت رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کورونا کے باعث معاشی مشکلات میں گھر چکی ہے مشکلات ہمارا تعاقب بھی کررہی ہیں لیکن مشکلات و مصائب کے ان لمحات میں اچھی خبروں کو نظر اندازنہیں کرنا چاہئے ۔یہ خوشی کی بات ہے کہ دنیا معاشی مسائل سے نکلنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہے اور تعاون کا دائرہ مزید بڑھانا بھی چاہتی ہے ۔ مثال کے طور پر جی20 ممالک کی جانب سے پاکستان کوقرض ادائیگی میں بڑا ریلیف مل گیا۔ پاکستان کو رواں سال 12ارب ڈالرزقرض ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی قرض اقساط اور سود کی ادائیگی کیلئے اڑھائی سال کا ریلیف دیاگیا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں میں آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک شامل ہیں جبکہ عالمی بینک ،پیرس کلب اور آئی ڈی بی کو ادائیگیاں نہیں کی جائیں گی۔پاکستان کوقرض اقساط  کی ادائیگیوں میں جون 2022 ء تک کاریلیف ملا ہے، جی 20ممالک کے ریلیف کا اطلاق باہمی کمرشل قرض کی ادائیگی پر بھی ہوگا۔پاکستان نے سعودی عرب اور یو اے ای کو 5ارب ڈالرز   جبکہ چین کے 3ارب 40کروڑ ڈالرز ادا کرنے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ڈیٹ ڈویژن نے ریلیف پلان مرتب کرنا شروع کر دیا ہے ۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.386ارب ڈالرزکی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرض ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کیلئے دیا گیا ہے، امداد سے بین الاقوامی ذخائر میں کمی کو سہاراملے گا۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6 ارب ڈالرز قرض کا پروگرام برقرار ہے، قرض پروگرام کا دوسرا جائزہ جلد از جلد آئی ایم ایف بورڈ میں پیش کرنے پر کام کررہے ہیں۔ پاکستان کیلئے 1 ارب 40 کروڑ ڈالر (25400000000 روپے) فنڈز 6 ارب ڈالرز قرض پروگرام کے علاوہ ہیں جبکہ 1 ارب 40 کروڑ ڈالرز کے اضافی فنڈز کورونا سے نمٹنے کیلئے دے رہے ہیں ۔ لیکن آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کا بحران مسلم دنیا میں پہلے سے موجود کشیدگی، عدم استحکام، بیروزگاری کو کساد بازاری کی طرف دھکیل رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو کورونا اور تیل کی گرتی قیمتوں سے دہرا جھٹکا لگا ہے۔ اگر حکومتیں کورونا کے چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہیں تو مسلم ممالک میں سماجی بے چینی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو گا ۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق خطے میں سب سے بڑا چیلنج جنگ سے متاثرہ یمن، افغانستان اور عراق کا ہے۔ ساتھ ہی وہ ملک جہاں پناہ گزینوں کی بہت بڑی آبادیاں ہیں، اس بحران سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ آئی ایم ایف نے ایشیاء پیسیفک کے خطے کے بارے میں ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ 60برسوں میں پہلی بار ایشیاء کی معیشت صفر نمو کا شکار ہوگی۔’’یہ معمول کے مطابق کاروبار کا وقت نہیں ہے‘‘ ایشیائی ممالک کو اپنے ٹول کٹس میں تمام پالیسی آلات استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ 
 مزید برآں برطانیہ نے کوونا وائرس کے پیش نظر پاکستان کے 26 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کیلئے 26 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز امداد دیں گے دوست ہی مشکل وقت میں کام آتا ہے،ہمیں اپنے رویوں اور برتاؤ میں تبدیلی لانا ہوگی۔دنیا بھر میں عوام کوروناکی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں،پاکستان کورونا کے نقصانات سے باہر آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو ایک اور اہم پیش رفت سے بھی آگاہ کرتے چلیں کہ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کی پریشانی کافی حد تک دور کر دی ہے ،وزارت برائے سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل و ترقی نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کے مسائل کے تدارک کیلئے ویب سائٹ متعارف کرادی۔ ویب سائٹ پر تمام خصوصی فلائٹس کا شیڈول جار ی کیا جائے گا جبکہ حکومتی گائیڈ لائنز اور پالیسیوں کے حوالے سے بھی یہاں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ ویب سائٹ کا آغاز اُن پاکستانیوں کیلئے کیا گیا ہے جو بیرونِ ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق اسپیشل فلائٹ کا شیڈول Covid.gov.pk پر موجود ہوگا۔
یہاں ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ تحریک انصاف حکومت کے ابتدائی 600 روز مکمل ہو چکے ہیں اس عرصے میں حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ، ان چیلنجز میں سب سے اہم روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ثابت ہوا ۔مہنگائی 5.8 فیصد سے بڑھ کر 10.2 فیصد ہوگئی، بجلی، گیس، چینی، دالیں، آٹا اور گھی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جس پر اپوزیشن حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان اپیل کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں سیاست نہ کریں،و ز یر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ’’ 20مئی تک ملک میں کورونا کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے کورونا سے جو صورتحال ہے، اس کی پہلے مثال نہیں ملتی، پہلے یہ اندازہ تھا کہ 25 اپریل تک 50 ہزار مریض ہوں گے لیکن اس ماہ ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی کیونکہ تمام تیاری مکمل ہے اگلے مہینے تک ہم کورونا سے لڑنے کیلئے مزید تیاری کر لیں گے۔اس وقت کورونا سے متعلق پاکستان میں حالات بہتر ہیں، 13 مارچ تک 8 لاکھ لوگوں کی ایئرپورٹ پرسکریننگ کی گئی، بروقت اقدامات سے ایک بھی کورونا کیس چین سے نہیں آیا۔ لاک ڈائون میں یہ سوچنا چاہیے کہ اس سے غریب پر کیا اثر ہوگا؟ لاک ڈائون میں کمزور طبقے کی فکر ہورہی ہے، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مزدور رجسٹرڈ نہیں ہیں اورڈر ہے کہ لوگ بھوک سے سڑکوں پرآگئے تو لاک ڈائون کا فائدہ نہیں ہوگالوگوں کو بیروزگاری اور بھوک سے بچانے کیلئے تعمیراتی شعبہ کھولا، خطرہ کورونا سے نہیں بلکہ خطرہ اس بات کا ہے کہ لاک ڈائون میں لوگوں کا کیا ہوگا۔ لاک ڈائون ڈنڈے سے صحیح نہیں ہوگا پولیس عوام کو ڈنڈے مارنے کے بجائے لاک ڈائون سے متعلق سمجھائے۔رمضان المبارک میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ ذخیرہ اندوزوں اور سمگلرز کو خبردار کرتا ہوں کہ اب سخت کارروائی ہوگی۔‘‘
دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت علماء کرام اور مشائخ کے ایک اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح اور نماز جمعہ سے متعلق 20 نکاتی متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق نماز کیلئے صفوں اور نمازیوں کے درمیان 6فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا، 50 سال سے بڑوں اور بچوں کو مساجد میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، نمازی ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گے نہ گلے ملیں گے، دریاں، قالین نہیں بچھائے جائیں گے۔ہر نماز سے پہلے فرش کلورین سے دھویا جائیگا  نمازی لگے ہوئے نشانات پر کھڑے ہونگے، نماز مسجد کے احاطے میں ہوگی، سڑکوں اور فٹ پاتھ پر نہیں، شرائط پوری نہ ہونے پر حکومت کارروائی کرسکے گی، نمازی وضو گھر سے کرکے آئیں گے، نزلہ زکام کا مریض مسجد نہیں آسکے گا۔ 
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ویڈیو لنک کے ذریعے علماء اور مشائخ کے اجلاس کی صدارت کی، رمضان المبارک کے دوران نماز تروایح اور نماز جمعہ سے متعلق آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ،گورنرز، علماء کرام اور سیاسی شخصیات کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی چاروں صوبائی حکومتوں سے اس حوالے سے تحریری سفارشات طلب کی گئی تھیں۔ 
اجلاس کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ میں کہاگیا موجودہ صور تحال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف کیا جائے۔مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اورسحر کا اجتماعی انتظام نہ کیا جائے۔ مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ، آئمہ اور خطیب ضلعی وصوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں۔اگر رمضان کے دوران حکومت محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کریگی۔ اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ مخصوص علاقہ کیلئے احکامات اور پالیسی بدل دی جائیگی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں قوم میں اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے، اس سال رمضان میں ایک پالیسی بنانی چاہیے،یہ ملکی تاریخ اور تقدیر کے اعتبار سے بڑا اہم موقع ہے،ایک وبا ء ساری دنیا میں پھیل رہی ہے،اس دوران احتیاطی تدابیر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اسلامی معاشرے میں نظم و ضبط کا اظہا مساجد سے ہونا چاہیے، قوم منتظر ہے کہ حکومت اور آئمہ مل کر آگے بڑھیں۔
حفاظتی اقدامات اوراین ڈی ایم اے 
 ٭:چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کے میڈیا کو فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق پہلے کورونا کے روزانہ 500ٹیسٹ ہو رہے تھے ،یومیہ اب کورونا ٹیسٹ کی استعداد  6500ہو چکی ہے ۔۔۔ورونا ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی تعداد 14سے 50ہو گئی ہے جبکہ،کم عملے ، تکنیکی مسائل کے باعث استعداد کے مطابق ٹیسٹ نہیں ہو رہے ۔اس ماہ کے آخر تک مزید 18لیبز کام شروع کر دیں گی ،مئی کے وسط تک ہر ضلع یا ڈویژن میں ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود ہو گی ۔ ہمارے پاس 7لاکھ ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں ، لیبارٹریز میں یومیہ 20ہزار ٹیسٹ کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جن کٹس کی شکایات ملی تھیں انہیں واپس منگوا لیا گیا تھا ،اس وقت ملک میں ٹیسٹنگ کٹس کا کوئی مسئلہ نہیں ۔صوبوں کو باقاعدہ تصدیق شدہ کٹس فراہم کی جا رہی ہیں،ماہرین متفق نہیں کہ فی الحال کورونا کے کوئیک ٹیسٹ کئے جائیں۔ 57ہزار کٹس کے بارے میں بعض شکایات ملی تھیں لیکن واپس منگوائی گئی کٹس درست کام کر رہی ہیں ۔وینٹی لیٹرز کی تعداد 71سے بڑھ کر 250 ہو چکی ہے ،مزید سینکڑوں وینٹی لیٹرز فراہم کئے جا سکتے ہیں ۔این ڈی ایم اے نے ساڑھے 8لاکھ ٹیسٹنگ کٹس خریدی ہیں ، زیادہ تر ٹیسٹنگ کٹس چین سے درآمد کی گئی ہیں۔
1لاکھ کے لگ بھگ کٹس چین سے عطیے میں ملیں ،این 95 ماسک کے سوا کوئی سامان درآمد نہیں کیا جا رہا ۔
 علاوہ ازیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا  کیخلاف جنگ میں قدم قدم پر چین پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ۔ پاک ، چین تعلقات ہمیشہ مشکل وقت میں ثابت قدم رہے، دنیا کو کورونا وائرس کا چیلنج درپیش ہوا تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ آگئے، چین نے ووہان میں پاکستانی طلباء کا خیال رکھا، کورونا کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔چین کے طبی ماہرین کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا، چینی ماہرین نے ڈاکٹرز، سرکاری اہلکاروں، شعبۂ صحت کے حکام سے ملاقاتیں کیں وفد نے پنجاب، سندھ کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقاتیں بھی کیں۔ چین نے مشکل وقت میں پاکستان کو اہم طبی آلات، اشیاء اور ادویات فراہم کیں، فوری طور پر 5 لاکھ 29 ہزار 924 این 95 ماسک فراہم کیے،چینی امداد میں 33 ہزار 744 حفاظتی لباس، 10 ہزار ٹیسٹنگ کٹس شامل تھیں۔  مشکل ترین وقت میں 36 وینٹی لیٹر، 180 تھر مومیٹر، 100 تھرمل سکینرز دئیے، گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے خصوصی مدد کی، خنجراب کے راستے بروقت طبی امداد بھجوائی، پاک آرمی نے بذریعہ ہیلی کاپٹرز یہ طبی سامان گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں تک پہنچایا۔۔۔۔یہ تھا حفاظتی اقدامات کا مختصر جائزہ اور عالمی وباء کیخلاف  پاک، چین تعاون کا منہ بولتا ثبوت ۔۔۔ 
احساس پروگرام کے تحت 44لاکھ خاندانوں کی امداد 
 ٭:احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت رقوم تقسیم کرنے کی جوتفصیلات سامنے آئی ہیںان کے مطابق پروگرام کے تحت 10 روز کے دوران مجموعی طور پر 44لاکھ 44 ہزار 702 مستحق خاندانوں میں 53 ارب 33 کروڑ 62 لاکھ 24 ہزار روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور مزید امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے ۔ احساس پروگرام سے استفادہ کرنے والے مستحقین کی اکثریت یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی ہے۔
کوروناویکسین کی تیاری میں 18ماہ لگیں گے ۔۔۔بل گیٹس کا اہم انکشاف
جب سے کورونا کی بھیانک وباء نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے تب سے مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے دوسرے امیرترین شخص بل گیٹس اور انکی پیشگوئیاں عالمی میڈیا میں زیر بحث ہیں ۔ طویل خاموشی کے بعد ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں بل گیٹس نے مزید انکشافات کر دئیے ہیں انکا کہنا ہے کہ’’ کوروناویکسین کی تیاری میں تقریباً 18 ماہ لگیں گے، وباء کیخلاف جنگ میں جو ہوسکا کریں گے ویکسین کی تیاری میں رقم کو فوقیت نہیں دی جاتی، میں خوشی سے چیک لکھ رہا ہوں۔ وبائی مرض کیخلاف پیشگی کوئی تیاری نہیں تھی جس کے باعث مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، علاج کے دریافت میں وقت ناگزیر ہے، عام طور پر ویکسین کی تیاری میں 5 سے 6 سال لگتے ہیں لیکن کورونا کی سنگینی دیکھتے ہوئے ویکسین کی تیاری تیزی سے جاری ہے۔ وبا ء کیخلاف جنگ میں مال ودولت کی کوئی اہمیت نہیں، دنیا بھر میں خوشی سے عطیات دے رہا ہوں، میری فنڈنگ تنظیم اور مجھ سے جو ممکن ہوسکا کرتے رہیں گے۔ ‘‘
بل گیٹس نے عالمی ادارہ صحت کو امریکی امداد روکنے کے فیصلے پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی اہلیہ میلنڈا کے ہمراہ کورونا سے لڑنے کیلئے مزید 150 ملین ڈالرز امداد کا اعلان کرتے ہوئے ا نکا مزید کہنا تھا ’’ ایسی صورتحال میں جب پوری دنیا مہلک وائرس کا مقابلہ کررہی ہے ڈبلیو ایچ او کو امریکی امداد روکنا سمجھ سے بالا تر ہے، ٹرمپ کا یہ فیصلہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘بل گیٹس اور میلنڈا کا کہنا تھا  ’’عطیات کے ذریعے ویکسین کی تیاری، صحت کی بہتری سمیت دیگر طبی آلات کا بندوبست کیا جائے گا۔ عالمی ادارہ صحت وہ اہم شعبہ ہے جو اس وباء پر قابو اور ختم کرسکتا ہے، ہمیں اس کی مدد کرنے چاہیے، تمام ممالک کو یک زبان ہوکر وبا ء کیخلاف لڑنا ہوگا، تب ہی ہم مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں۔‘‘
دوسری جانب امریکہ کے طبی ماہرین نے کورونا سے شفا ء حاصل کرنے کیلئے ایک اور دوا کا تجربہ کیا جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ امریکی ماہرین نے’’ ریمڈِ سیور‘‘ نامی دوا تیار کی جس کا اْن بندروں پر تجربہ کیا گیا جو کورونا کی نئی قسم سے متاثر ہوئے تھے۔امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کورونا کے انسداد کیلئے جو دوا تیار کی گئی اْس کے مثبت کلینیکل نتائج سامنے آئے جو ہم سب کیلئے حوصلہ افزا ہیں۔’’ ریمڈِسیور‘‘ نامی دوا کی آزمائش قومی ادارے ان آئی ایچ کی زیر نگرانی جاری ہے، چونکہ ابھی اس دوا کی باضابطہ منظوری نہیں کی گئی اس لیے اس کا تجربہ انسانوں پر نہیں کیا جاسکا۔ماہرین کے مطابق دوا انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد کورونا وائرس کو مکمل طور پر ہلاک یا ختم کردیتی ہے۔ دوا کی تخلیق طبی تحقیقی ادارے جیلیڈ سائنسز کے محققین نے کی۔
بھارت کو امریکی ہارپون میزائلوں کی فروخت
خطہ عدم استحکام کا شکار ہوگا: پاکستان 
مقبوضہ کشمیر اس وقت دہرے عذاب سے گزر رہا ہے ایک طرف کورونا ہے تو دوسری جانب کئی ماہ سے جاری بھارتی لاک ڈائون اور اب ظلم میں مزید اضافہ کچھ اس طرح کیا جا رہا ہے کہ قابض فوج نے تحریک آزادی کو دبانے کے تمام حربو ں میں ناکامی کے بعد کشمیریوں کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل شروع کرتے ہوئے زرعی زمینوں پر قبضے کرنے شروع کردئیے ہیں ان زرعی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے فوجی کیمپس قائم کئے جارہے ہیں۔ ۔۔۔پاکستان بار بار عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے مظالم اور غیر انسانی کرفیو کی جانب مبذول کروا رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی الٹا امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہارپون میزائلز اور ٹارپیڈوز کی فروخت شروع ہو چکی ہے امریکہ، بھارت کو 15 کروڑ 50لاکھ ڈالرز کی لاگت سے 10ہارپون میزائل اور 19ٹارپیڈوز فروخت کر رہا ہے  پاکستان نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ہارپون میزائلوں کی بھارت کو فروخت اور تکنیکی تعاون کی فراہمی کورونا وباء کیخلاف جنگ کے تناظر میں پریشان کن ہے،جنوبی ایشیاء کی سلامتی کی ابتر صورتحال مزید خراب ہو گی۔بھارت کو حساس ہتھیاروں کی فروخت سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ پاکستان کئی مرتبہ عالمی برادری کو بھارتی جارحانہ عزائم سے آگاہ کر چکا ہے اور بھارت کو میزائلوں کی فراہمی جنوبی ایشیاء کی سلامتی کی ابتر صورتحال مزید خراب کر سکتی ہے۔
 دوسری جانب بھارتی صحافی ارون دھتی رائے نے عالمی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا مودی کے مسلم کش اقدامات کو روکے، بھارت میں مسلم کش فسادات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔مودی حکومت کورونا وباء کے پھیلائو کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرا کر ہندوئوں کے جذبات اکسا رہی ہے جس سے حالات ایک بار پھر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مودی سرکار ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے جس پر دنیا کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے عالمی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ارون دھتی رائے نے متنازع شہریت بل اور اس کی مخالفت کرنے والے مسلمان شہریوں اور مساجد کو انتہا پسند ہندوئوں کی جانب سے شہید کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، مودی حکومت ایک بار پھر تاریخ دہرانا چاہتی ہے۔
 یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ بھارتی فوج میں تیزی سے کورونا پھیلنے کی خبریں سامنے آ رہی ہے ۔ بھارتی فوج میں پہلے2 ڈاکٹروں سمیت 8 فوجیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ اب  بحریہ کے مزید 21 اہلکار کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جس کے بعد بحریہ میں وائرس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کیسز رپورٹ ہونے کے بعد نیوی اہلکار شدید خوفزدہ ہیں، فوجیوں کے ٹیسٹ ہنگامی بنیادوں پر کیے جارہے ہیں تاکہ فوری طور پر کورونا کو روکا جاسکے۔ جن اہلکاروں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے انہیں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں اور وہ معمول کے مطابق اپنے امور انجام دے رہے تھے۔بحریہ نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے ہاسٹل کو قرنطینہ سینٹر میں منتقل کیا اور تمام ملازمین کو وہیں قیام کرنے کے احکامات دئیے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے نیوی ذرائع کو بنیاد بنا کر لکھا ’’اس وقت بڑے پیمانے پر ان متاثرہ اہلکاروں سے رابطے میں آنے والے افراد کو تلاش کرنے کا آپریشن جاری ہے‘‘۔
 40 فیصد افراد نصف آمدن سے محروم، 51فیصد نوکریاں کھوجانے کا خطرہ
 دنیا میں کون ہے جو کورونا سے متاثر نہیں ہوا؟ کسی کی زندگی کورونا سے متاثر ہوئی تو کسی کا روزگار ۔۔۔کوئی اپنوں سے محروم ہو گیا تو کوئی اپنے روزگار اور کاروبار سے غرضیکہ کورونا کی تباہ کاریاں ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہیں ۔مختلف ادارے تخمینوں ، تجزیوں اور سروے رپورٹس مرتب کرنے میں مصروف ہیں کہ کوروناکیا کچھ تباہ کر چکا اور کیا کچھ کرنے جا رہا ہے ۔ ایک سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا  کہ کورونا کی وجہ سے ہر 10 میں سے 4 افراد کو مالیاتی نقصان کا سامناکرنا پڑا اور نصف یا اس سے زائد آمدن سے محروم ہو گئے ہیں۔ مالی طور پر متاثرہ 10 افراد میں سے 4 افراد اپنی آدھی آمدنی یا اس سے زیادہ حصے سے محروم ہو گئے ہیں ،جن افراد کی آمدن متاثر ہوئی ہے ان میں سے تقریباً 14فیصد افراد کا کہنا ہے کہ عالمی وباء کی وجہ سے ان کی آمدن نصف رہ گئی ہے ۔ سروے میں مزید 7فیصد افراد نے بتایا کہ ان کی آمدن میں نصف سے زیادہ کمی ہوئی ، 16فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ اپنی پوری آمدن سے محروم ہو چکے ہیں۔ کنسلٹنگ کمپنی کینٹر کے مطابق کورونا کی وجہ سے برطانیہ بھر میں مجموعی طور پر 37 فیصد افراد کی آمدنی متاثر ہوئی جن کا کہنا تھا کہ ان کی آمدن میں نصف یا اس سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ برطانیہ میں تقریباً ایک تہائی (32 فیصد) افراد کا کہنا ہے کہ کورونا نے پہلے ہی ان کی ذاتی آمدنی کو متاثر کر دیا ہے۔ مزید 35 فیصد لوگ اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں اس کے اثرات دیکھیں گے، اگرچہ انہوں نے ابھی تک اس کا سامنا نہیں کیا ہے۔ برطانیہ بھر میں 9 اپریل سے 13 اپریل کے درمیان یہ سروے 1000 سے زائد افراد سے کیا گیا۔ برطانیہ کیساتھ ساتھ اس رپورٹ میں جی سیون ممالک کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور دیگر ملکوں کے عوام سے بھی اس حوالے سے سروے کیا گیا۔ جی سیون میں 47 فیصد افراد کا خیال تھا کہ ان کی حکومت کا رسپانس درست تھا جبکہ 44 فیصد افراد کا خیال ہے کہ ان کی حکومت نے جو اقدامات کئے وہ خاصی حد تک آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس سروے میں جی سیون کے تقریباً نصف (48 فیصد) لوگوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے آمدنی کے خسارے کا سامنا کرنیوالے افراد کیلئے جو سپورٹ فراہم کی وہ خاصی یا منصفانہ طور پر اچھی تھی۔ اس ریٹنگ میں کینیڈا (77 فیصد ) کے ساتھ اور برطانیہ سب سے بہتر پائے گئے۔ اس سروے میں برطانیہ میں 70 فیصد افراد نے آمدنی میں کمی کا سامنا کرنیوالے افراد کیلئے برطانوی حکومت کے اقدامات کو بے حد یا منصفانہ طور پر اچھا قرار دیا۔ اس ریسرچ میں 63 فیصد افراد نے ان کمپنیز، جن کو کورونا کی وجہ سے بندش یا آمدنی میں نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کی سپورٹ کیلئے حکومت کے اقدامات کو مثبت قرار دیا۔
پاکستان کا ذکر کریں تو ’’ اپساس‘‘ کے سروے کے نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ صرف 25 فیصد لوگ ذاتی طور پر کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے وصول کرتا ہو۔ سروے نتائج تشویشناک صورتحال ظاہر کر رہے ہیں جیسا کہ 51 فیصد کو اگلے 6 ماہ میں نوکریاں کھوجانے کا خطرہ ہے اور یہ خطرہ زیادہ تر ان لوگوں کے درمیان موجود ہے جن کا تعلق  خیبر پختونخوا سے ہے۔ ان 51 فیصد میں سے 49 فیصد کا تعلق شہری علاقوں اور 54 فیصد کا دیہی علاقوں سے ہے۔ بلوچستان میں لوگوں کی کم تعداد ہے جسے نوکریاں کھوجانے کا خطرہ ہے۔ اس خطرے کا اظہار صرف 45 فیصد نے کیا ہے۔ اس سوال پر کہ آیا آپ ذاتی طور پر کسی شخص کو جانتے ہیں جسے حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے دئیے گئے ہیں تو صرف 4 میں سے 1 شخص خصوصاًدیہی علاقوں سے کسی ایسے شخص کو جانتا تھا جس نے 12 ہزار روپے وصول کئے ہوں۔ ’’ہاں‘‘ میں جواب دینے والے 25 افراد میں سے 27 فیصد مرد اور 19 فیصد خواتین تھیں صرف 23 فیصد شہری علاقوں سے تعلق رکھتے تھے جبکہ 29 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے تھا۔ 12 ہزار روپے کی سکیم کے بارے میں جاننے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد کا تعلق سندھ سے ہے جیسا کہ 29 فیصد کے پاس اس کی معلومات ہیں اور پھر 25 فیصد جن کا تعلق پنجاب سے ہے۔ کے پی کے سے صرف 21 فیصد اور بلوچستان سے 23 فیصد کو اس کا علم ہے۔ 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

مزید پڑھیں

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔ ٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔ ٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں

  کورونا کے باعث ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں بیٹھ جانا۔۔۔ اس وباء سے مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔اور اگر مقابلہ نہیں کرنا تو کم سے کم نمٹنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوروناسے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔اب طے یہ کرنا ہے کہ اس وباء کے ہوتے زندگی کو کیسے بحال کرنا ہے ۔۔۔ ترقی کا پہیہ کیسے چلانا ہے ۔۔۔بند کاروبار کیسے کھولنے ہیں ۔ بڑھتی بے روزگاری کو کیسے روکنا ہے ۔۔۔ لڑکھڑاتی معیشت کو کیسے سہارا دینا ہے ۔۔۔نقصانات اور خساروں کے اندیشے کیسے کم کرنے ہیں ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔مکمل لاک ڈائون بھی نہیں ہوا اور معیشت کا بھی نقصان ہوگیا۔۔۔ڈپریشن اور معاشی مسائل کے شکار عوام کو کیسے امید اور حوصلہ دینا ہے ۔۔۔۔

مزید پڑھیں