☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
اور اب سمارٹ لاک ڈائون ۔۔۔

اور اب سمارٹ لاک ڈائون ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

05-03-2020

مکمل لاک ڈائون یا سمارٹ لاک ڈائون ۔ ۔ ؟ 
لاک ڈائون ہونا چاہیے یا نہیں ۔۔۔جواب کسی کے پاس نہیں ۔  لگتا ہے ڈاکٹرز ، ماہرین اور عالمی ادارے کسی اور پیج پر ۔۔۔اور عوام، تاجروں  میں بحث کسی اور پیج پر ہو رہی ہے ۔۔جواب اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے ۔۔۔کیونکہ اکیلے کورونا سے مقابلہ نہیں ، بھوک ، غربت ، بے روزگاری نے بھی سر ُاٹھا لیا ہے۔۔۔
 

 

کورونامختصر جائزہ پیش کیا جائے تو ۔۔۔(تادم تحریر)
٭:بُرا وقت آنا تو ابھی باقی ہے: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
٭:لاک ڈائون میں نرمی تباہی پھیلا دے گی : ماہرین 
٭: مریض بڑھتے جا رہے ہیں ، صورتحال مزید بگڑے گی  حکومت بار بار خبردار کر رہی ہے ۔۔۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ مئی اور جون کے آخر میں کورونا اپنی بلند ترین سطح پر پہنچے گا ۔۔۔اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ۔۔۔لیکن خطرہ ہے
 ٭:دنیا بھر میں کورونا سے متاثر ہونیوالوں کی تعداد 27 لاکھ سے تجاوز کر چکی جبکہ1 لاکھ 95 ہزار سے زیادہ لوگ اس جہان فانی سے کوچ کر چکے ہیں جبکہ صحتیاب ہونیوالوں کی تعداد7 لاکھ 81 ہزار سے زیادہ ہے۔
٭: کووڈ 19 سے امریکہ اور یورپ سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ یورپ میں 1 لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ صرف امریکہ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔۔۔۔یورپی یونین نے وبا ء سے متاثرہ یورپی ممالک کی مدد کیلئے 540 ارب یورو کے ایمرجنسی فنڈ کی منظوری دیدی ہے جبکہ جی 20 گروپ نے مزید امداد کا مطالبہ کیا ۔
 ٭:چین نے کورونا وائرس کیخلاف عالمی لڑائی میں مدد کیلئے عالمی ادارہ صحت کیلئے مزید 3 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ۔
٭:صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’’ہم ویکسین تیار کرنے کے بہت قریب ہیں‘ ‘جبکہ امریکی کانگریس نے 484 ارب ڈالرز کے امدادی پیکچ کی منظوری دیدی ہے ۔
٭:بیلجیئم میں 11مئی سے دکانیں کھولنے کا اعلان کر دیا گیا ۔
٭: دبئی میں رمضان کے باعث شاپنگ مالز کھول دئیے گئے
٭:غزہ میں کورونا کے پیش نظر اجتماعی افطار روک دی گئی جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد کے بھوکے رہ جانے کا خدشہ ہے۔۔۔
 ٭:برطانیہ میں انسانوں پر ویکسین کی آزمائش کا آغا ہو چکا ۔
 ٭:جرمنی میں کووڈ-19 متاثرین کی تعداد 152438 جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں 179 اضافے سے مجموعی تعداد 5500 ہو چکی ہے۔۔۔۔افریقہ میں ملیریا سے ہونے والی اموات کی تعداد دوگنا ہو کر 700000 تک پہنچ سکتی ہے‘ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ریجنل دفتر کے مطابق خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں جنوبی افریقہ میں کورونا کے سب سے زیادہ کیسز موجود ہیں۔ اس وباء کے نتیجے میں سول سوسائٹی اور صحت و دیکھ بھال کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور ملیریا سے ہونے والی اموات کی تعداد دگنا ہوسکتی ہے۔
٭:عالمی ادارہ صحت کے مطابق فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کووڈ 19 سے صحتیاب ہونیوالے اور اینٹی باڈیز رکھنے والے افراد کو دوسرے انفیکشن کا کوئی خطرہ نہیں۔متاثرہ افراد کو’’ استثنیٰ کے سرٹیفکیٹ‘ ‘یا ’’خطرے سے پاک سرٹیفکیٹ‘‘ جاری کرنے کیخلاف متنبہ کرتے ہوئے عالمی ادارے کاکہنا ہے کہ اس عمل سے وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایسے افراد کام اور سفر پر واپس جا کر ضروری ہدایات اور احتیاط کو نظرانداز کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ وائرس سے محفوظ ہیں۔۔۔۔
٭:تھائی لینڈ میں کوروناسے متاثرہ مزید 53 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے،7 دیگر کیسز جنوبی صوبے یالا سے رپورٹ ہوئے جہاں پر حکام انفیکشن کی شرح زیادہ ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر آبادی کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں۔جنوری میں وبا ء پھیلنے کے بعد سے تھائی لینڈ میں مجموعی طور پر 2907 تصدیق شدہ کیسز اور 51 اموات کی اطلاع ہے جبکہ 2547 مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔
٭:کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر سری لنکا میں کرفیو کا سہارا لیا جا رہا ہے جبکہ ملک کے دوتہائی حصوں میں کرفیو میں نرمی بھی کی گئی۔ پولیس کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 30000 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ سری لنکا میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 420 ہے اور اب تک اموات کی تعداد 7 ہے۔نئے متاثرہ افراد میں دارالحکومت کولمبو کے قریبی کیمپ سے تعلق رکھنے والے 30 ملاح شامل ہیں اب تک 60 ملاح کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ 
٭:بھارت کی بڑی ریاست اتر پردیش میں 30 جون تک سیاسی ریلیوں اور سماجی و ثقافتی تقریبات پر پابندی ہوگی یہ فیصلہ ریاست میں کورونا کے بڑھتے انفیکشن کے پیش نظر کیا گیاہے ۔ بھارت میں متاثرہ افراد کی تعداد 24000 سے تجاوز کر چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 775 ہوگئی ہے۔۔۔۔
٭:کووڈ۔19 پوری دنیا میں پھیل رہا ہے لیکن ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں اس کے اثرات بہت کم نظر آتے ہیں۔یہ ملک ویتنام ہے جسکی سرحدیں چین سے متصل ہیں جہاں سے وباء شروع ہوئی۔ ویتنام کی آبادی تقریباً 97 ملین ہے 23 اپریل تک اس ملک میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 268 تھی۔صرف یہی نہیں کووڈ- 19 کے باعث ویتنام میں ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا ۔ ابتدائی طور پر ویتنام نے اپنے عوام کو کورونا کیخلاف آگاہ کیا اور وہ اس وبا ء سے لڑنے کیلئے تیار ہوگئے لیکن اب پابندیاں ختم کی جارہی ہیں اور سکولوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ ویتنام نے ایسے 3اہم فیصلے کئے جو دیگر ممالک بھی بطور مثال اپنا سکتے ہیں: سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ۔۔۔کوٹیکٹ ٹریسنگ ۔ ۔ ۔ معاشرے میں آگاہی پھیلانا ۔۔۔
٭:اور اب پاکستان نے سمارٹ لاک ڈائون کی جانب سفر کا آغاز کر دیا ہے ۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا رمضان کا مہینہ کورونا کے حوالے سے فیصلہ کن مہینہ ہے‘اگر ہم نے بے احتیاطی کی تو ہو سکتا ہے عید پر مزید بندشوں کا سامنا کرنا پڑے،عوام حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کریں گے تو معمولات زندگی جلدشروع ہو سکتے ہیں57 لاکھ خاندانوں میں 69 ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ رمضان میں سحر اور افطار کے وقت لوڈ شیڈنگ نہ کرنیکا اعلان کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھا ئی جا رہی ہے۔۔۔۔دوسری جانب سندھ حکومت نے پابندیاں مزید سخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے و زیراعلیٰ مراد علی شاہ مؤقف رکھتے ہیں کہ’’ آنیوالے دنوں میں لاک ڈائون مزید سخت ہوگا، عوام گھروں میں ہی تراویح ادا کریں، رمضان المبارک میں بھی شام 5 بجے کے بعد لاک ڈائون ہوگا اور احترام رمضان آرڈیننس جاری رہیگا۔ریسٹورنٹ اور ہوٹلز شام 5 بجے سے 10 بجے تک پکا ہوا کھانا ڈیلیورکرسکیں گے، سحری میں ہوم ڈیلیوری کی اجازت نہیں ہو گی ۔ اپنے ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے مختلف پریس کانفرنس میں اپنے خدشات سے آگاہ کردیا جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی اْنہی خدشات کا اظہار کیا۔۔۔۔یہ تو تھا سندھ حکومت کا مؤقف دوسری جانب  پنجاب حکومت نے لاک ڈائون میں مزید 15 دن توسیع کر دی سحر وافطار کے وقت دودھ دہی کی دکانیں کھولنے کی اجازت جبکہ افطار کے اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ بلوچستان حکومت نے بھی لاک ڈائون میں 5 مئی تک توسیع کی ہے۔مزید برآں وفاقی حکومت نے ملک میں جاری لاک ڈائون میں مزید 9 مئی تک توسیع کی اور واضح الفاط میں کہاکہ صوبائی حکومتیں صوبوں میں صورتحال کے مطابق فیصلے کریں گی۔
 حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں شناختی کارڈ کی مدت کی شرط بھی ختم کردی ہے جبکہ کیش پروگرام میں کیٹیگری ون 80 فی صد مکمل ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے سمندر پار پاکستانی ڈاکٹروں کیلئے ’’یاران وطن‘‘ پروگرام کا اعلان کیا ہے اس پروگرام کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹرز کورونا سے جنگ میں تعاون کیلئے اپنی سروسز رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کیلئے خود کو رجسٹر کراسکیں گے۔ وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کو ٹیلی میڈیسن، ٹیلی ٹریننگ اور ریسرچ کے ذریعے تعاون کی دعوت دی ہے۔وزیراعظم نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا دنیا بھر میں پاکستانی ماہرین صحت کورونا کیخلاف جنگ میں صف اول میں کھڑے ہیں یہ ماہرین پاکستان میں کورونا سے لڑنے میں ہمارے مدد کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لاک ڈائون کے ساتھ کاروبار بند نہیں کرنا چاہیے تھا، لاک ڈائون کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری بڑھی۔ بھارت، بنگلا دیش اور افریقہ جیسے ممالک مشکلات سے دوچار ہیں، کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کورونا کب تک رہے گا، قوم بن کر اس امتحان میں نبرد آزما ہونا پڑیگا۔ آئی ایس آئی کیساتھ مل کر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم پورے ملک میں شروع کریں گے جس کے بعد جس علاقے میں کورونا ہو گا، صرف اسے لاک ڈائون کیا جائیگا جبکہ باقی میں کاروبار چلتا رہیگا۔ کسی ملک یا عالمی ادارے نے ایک ڈالر کی بھی مدد نہیں کی، زرمبادلہ گرگیا، ٹیکس گرگیا، کاروبار بند ہوگئے اور ملک کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ہمیں صرف غیرملکی قرضوں پر شرح سود کی ادائیگی میں ایک سال کی رائٹ ملی لاک ڈائون کی وجہ سے بیروزگاری بڑھی ہمیں لاک ڈائون کے ساتھ کاروبار بند نہیں کرنے چاہیے تھے۔ تعمیرات کھل رہی ہیں اب ہم جدید سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور ملک میں ٹیلی میڈیسن اینڈ ٹیلی ایجوکیشن شروع کررہے ہیں۔
یوٹیوب وی لاگرزسے ملاقات میں وزیراعظم کا کہنا تھا  ’’کورونا کے معاملے پر دنیا سے کوئی مالی امداد نہیں ملی ، صرف آئی ایم ایف نے قرضوں کی قسطوں میں سہولت دی۔ پاکستان کی ایکسپورٹ گر چکی ہیں، یورپ ، امریکہ،برطانیہ سے ہمارے حالات مختلف ہیں، لاک ڈاؤن سے کمزور طبقہ مشکل میں آگیا ہے، لاک ڈاؤن کے فیصلے پر میری رائے مختلف تھی۔ملک میں پہلے ایسی بیروزگاری نہیں تھی جو آج کورونا کی وجہ سے ہے، امریکہ میں سوشل سیکیورٹی ملتی ہے لیکن ہمارے ہاں بیروزگاروں کی رجسٹریشن تک نہیں۔سب کچھ بند ہونے سے لوگوں کی مشکلات بڑھیں، کاروبار کھول رہے ہیں مگر وقت لگے گا ، اب کورونا کیساتھ معمولات زندگی کو بحال کرنا ہوگا۔ ایجنسیز اور اداروں سے ملکر میکنزم بنا رہے ہیں، پی ٹی آئی ملک میں سب سے پہلے سوشل میڈیا استعمال کرنے والی جماعت ہے، کوئی کتنابھی جھوٹ بولے،آخرکارعوام سچ ڈھونڈلیں گے۔ 
 کورونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون کے دوران55کروڑ 75لاکھ روپے کے عطیات جمع ہوئے جبکہ اب تک مختلف ٹیلی تھون کے ذریعے 2 ارب 76 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جمع ہوچکے ہیں۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے سرکاری ہسپتال تو صرف غریبوں کیلئے ہیں، امیر لوگ تو بیرون ملک علاج کرانے چلے جاتے ہیں‘آپ عدالتوں اورجیلوں میں چلے جائیں وہاں سارے غریب لوگ ہیں‘ کوئی بھی فیصلہ پورے پاکستان کیلئے ہونا چاہیے اشرافیہ کیلئے نہیں‘جب فیصلے ایلیٹ کلاس کیلئے کریں گے تو غلطیاں ہوں گی‘ اب دو پاکستان یہاں نہیں چل سکتے‘ہمارا بہت بڑا مسئلہ پاور سیکٹر ہے‘ سب سے بڑا عذاب مہنگی بجلی کے معاہدے ہیں۔ لاک ڈائون کے اثرات ابھی آئیں گے‘اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر وبائوں سے مختلف ہے‘میری کوشش ہے کہ شرح سود اور کم ہوجائے‘ جیسے جیسے چیزیں کھلتی جائیں گی کورونا وبا ء بڑھتی جائیگی البتہ پاکستان میں اب تک جو ٹرینڈ نظر آرہا ہے اس سے لگتا ہے کہ زیادہ کیسز نہیں ہوں گے۔لوگ مشکل میں ہیں ‘ دکانیں کھولنی پڑیں گی‘مکمل لاک ڈائون کرلیاتو دیہاڑی دار لوگوں کو کیسے سنبھالیں گے ‘مساجدکھولنے پر ڈاکٹرزکے تحفظات سمجھتاہوں۔حکومت ڈنڈے مارکر کچھ نہیں کرسکتی ‘قوم ذمہ داری دکھائے ‘مساجد میں جانا خطرے سے خالی نہیں ‘علماء ذمہ داری دکھائیں ‘ 20نکاتی معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی تو مساجد بند کر دیں گے۔۔۔۔وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) حکومت کے احساس کیش پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنانے میں کردار ادا کررہے ہیں۔  کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کا پتہ لگانے کیلئے حکومت آئی ایس آئی کی جانب سے فراہم کیا گیا سسٹم استعمال کررہی ہے‘ یہ نظام اصل میں دہشتگردوں کا پتہ لگانے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور اب ہم اسے کورونا سے نمٹنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں ‘ سندھ میں گھبراہٹ میں لاک ڈائون کیا گیا۔ غریب بستیوں کے اندرحالات مزیدبگڑیں گے جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں مشکل میں ہوتے ہیں تومجھے تکلیف ہوتی ہے، پاور سیکٹر ہمارے لیے ایک عذاب بناہواتھا۔ اگر بجلی کی قیمتیں نیچے آ گئیں تو مہنگائی کم ہوجائیگی، ایل این جی اورگیس کی قیمتوں کے مہنگے معاہدے کیے گئے۔۔۔۔۔
غربت ، بیروزگاری ، مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور اشیائے ضروریہ و ادویات کی بروقت فراہمی ۔۔۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں دن رات مصروف عمل ہیں اب ہم عوام وک فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں زندگی کا انتخاب کرنا ہے یا کورونا کا ۔۔۔؟ اگر زندگی چاہئے تو ہر قسم کے لاک ڈائون پر عمل کر کے دکھائیں ۔۔۔۔ 
 ’’بد ترین خواب‘‘ 
مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے ٹائمز اخبار کو انٹرویو میں کورونا کی وبائی بیماری کو’’ بدترین خواب‘‘  قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’’ میں منظوری سے قبل بھی ویکسین تیار کرنیوالی کئی کمپنیوں کو مالی امداد فراہم کرونگا تاکہ جتنا جلدی ہو سکے ہم اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے تیار ہوں۔ میں برسوں سے وائرل وبائی بیماری کے اثرات سے پریشان ہوں۔بل گیٹس فاؤنڈیشن، عالمی ادارہ صحت کو سب سے زیادہ امداد دینے والا خیراتی ادارہ ہے۔ عالمی ادارہ خیراتی فیکٹریاں بنانے کیلئے فنڈز کا بندوبست کریگا تاکہ ایسی مختلف ویکسینز کی اربوں خوراکیں تیار کی جاسکیں جو ممکنہ علاج ہو سکتی ہیں اور میںپوری دنیا کو فراہم کرنے کیلئے تیار ہوں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں بننے والی ویکسین کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے دوا ساز کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے۔وہ اسے انسانوں پر آزما رہے ہیں اور اگر ان کے اینٹی باڈی کے نتائج امید افزا ہوئے تو اس صورت میں، میں اور کنسورشیم کے دیگر افراد اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں گے کہ یہ ویکسین بڑے پیمانے پر مینوفیکچرہو سکے۔خوش قسمتی سے ویکسین بنانے والوں میں سے کوئی بھی پیسے بنانے کی توقع نہیں رکھتا۔۔ انہیں پتہ ہے کہ اس میں عوام کا فائدہ ہے۔‘‘
کورونا کا اثر سی پیک پر، برآمدات میں4 ارب ڈالرز کا دھچکا لگنے کا خدشہ
 کورونا کے باعث جہاں ملکی معیشت اور صنعتی شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے وہیں اس موذی وباء کا اثر سی پیک منصوبوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ قومی اقتصادی کمیٹی (این سی سی) کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں پر کام کرنیوالی چین کی کمپنیوں کو تاخیر اور زیادہ لاگت کے ساتھ سپلائی چین اور مزدوروں سے متعلق مسائل کا سامنا ہوگا۔ پاکستان کا خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کے قیام کا منصوبہ بھی متاثر ہوگا کیونکہ چینی کمپنیوں کو فوری افرادی قوت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز بہت اہمیت کے حامل ہونگے۔ اسی لیے بروقت اور زیادہ متاثرہ شعبوں کیلئے پالیسی کی ضرورت ہے جو کہ جزوقتی طور پر ٹیکس ریلیف اور کیش ٹرانسفرز کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ آمدنی اور خرچوں کے مقاصد میں ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی کیونکہ کم درآمدات کے نتیجے میں کم آمدنی کے ساتھ وبا ء سے نمٹنے کے لیے خرچوں میں اضافے سے مالی خسارہ بڑھ جائیگا جس کی وجہ سے قرضوں کی صورتحال متاثر ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں بہت سے کاروبار میں لیکویڈیٹی مسائل کا سامنا ہوگا۔ عالمی مارکیٹوں میں سختی ہوگی لہٰذا برآمدات اور ترسیلات، مالی توازن بگڑسکتا ہے، قرضوں میں اضافہ مسائل کا سبب ہوگا۔
دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ ہمیں کورونا کے باعث برآمدات میں کمی کی وجہ سے4 ارب ڈالرز کا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے، معاشی سفارتکاری کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں،قوم دل کھول کروزیراعظم ریلیف فنڈمیں حصہ ڈالے ،کنسٹرکشن، زراعت، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹرز پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہے ہیں ،رمضان المبارک میں اگر اس مرتبہ بھی آپ اپنا حصہ وزیراعظم ریلف فنڈ میں بھجوائیں گے تو بہت بڑی خدمت ہو گی۔
 
ٹریس ، ٹریک اینڈ کوارنٹائن حکمت عملی 
 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے آئندہ دنوں میں کورونا کیسز کی تعداد عروج پر جانے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنیوالے دن بہت اہم ہیں۔ وباء کیخلاف فوجی وسیاسی قیادت اور پوری قوم متحدہے سمارٹ لاک ڈائون کے تناظر میں ٹریس ، ٹریک اینڈ کوارنٹائن کی جامع حکمت عملی پر عمل کیا جائیگا۔ ملک میں کورونا کیسزابتدائی اندازوں سے کم ہیں لیکن اب تعداد عروج پر جانے کا خدشہ ہے‘عوام گھروں کو ہی عبادت گاہ بنا لیں،ہمیں اجتماعی اور انفرادی طور پر شدید احتیاط کی ضرورت ہے ۔سمارٹ لاک ڈائون کے دوران حکومتی احکامات کے مطابق کوششیں کی جائیں گی، بنیادی مقصد کورونا کی نشاندہی پر صرف ہاٹ سپاٹس اور کلسٹرز کو فوکس کرکے لاک ڈائون کرنا ہے جس میں فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے ۔ چینی ڈاکٹرز کی ٹیم 2 ماہ قیام کرے گی۔ جی ایچ کیو میں آرمی چیف کی زیر صدارت پی ایس اوز کانفرنس ہوئی، جس میں مستقبل کی حکمت عملی اور ہر قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے اقدامات بھی اس کانفرنس میں زیر غور آئے اس سال اب تک بھارت نے ساڑھے 8سو مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول کے ساتھ آزاد کشمیر کے پرامن شہریوں کو نشانہ بنایا ۔26فروری کو پاکستان میں کورونا کے پہلے کیس کی تشخیص سے لے کر اب تک 456 مرتبہ بھارت نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔کووڈ19 سے متعلق آزاد جموں کشمیر کے حوالے سے بھارت نے جو جعلی خبریں چلانے کی کوشش کی اس کی حقیقت بھی دنیا کے سامنے کھل چکی ہے۔
بدترین وقت ابھی آئے گا: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق برا وقت ابھی آئیگا کیونکہ کئی ممالک نے لاک ڈائون کی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔ کورونا ایک سانحہ اورایسا وائرس ہے جسے بہت سارے لوگ ابھی تک سمجھ نہیں سکے ۔ ڈبلیو ایچ او میں کوئی چیز پوشیدہ یا راز نہیں، یہ صحت کا مسئلہ ہے، چیزوں کو خفیہ رکھنا یا چھپانا مشکلات پیدا کرتا ہے۔ کورونا بہت ہی خطرناک ہے یہ سب سے بڑی دشمن بیماری ہے، ہم سب کواسکامقابلہ کرنا چاہیے۔عالمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈ روس کا ماننا ہے کہ مزید مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد جولائی کے وسط میں2لاکھ تک پہنچ سکتی ہے ۔ پاکستان نیشنل سٹریٹجک پریپرڈنیس اینڈ ریسپونس پلان (Pakistan National Strategic Preparedness and Response Plan) کے متعارف کرائے جانے کی تقریب کے موقع پر اپنے ویڈیو بیان میں ٹیڈ روس نے کہا کورونا کے معیشت پر اثرات تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ لاک ڈائون کی وجہ سے غریبوں کی تعداد دگنی ہوسکتی ہے، اس سلسلے میں پاکستان، اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں کو متحرک اور جامع حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ مریضوں کی تعداد سندھ اور پنجاب میں بڑھ رہی ہے، جس سے نظامِ صحت پر نمایاں دبائو آرہا ہے۔ اس موقع پر ہمیں سماجی و اقتصادی اور غذائی اثرات کم کرنے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔۔۔۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا سے عالمی سطح پر پیدا ہونیوالے معاشی بحران کے باعث بھوک بڑھ سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کاکہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے افراد جو پہلے ہی غربت اور بھوک کا شکار ہیں کوروناان کیلئے تباہ کن ہوگا۔ عالمی سطح پر خوراک کی کمی یا عدم دستیابی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد دگنی ہوکر تقریباً ساڑھے 26 کروڑ ہوسکتی ہے۔ وباء کے باعث سیاحت نہ ہونے، سفری پابندیوں، خراب معاشی صورتحال اور دیگر پابندیوں کے باعث 13 کروڑ افراد بھوکے رہ جائیں گے جبکہ ساڑھے 13 کروڑ افراد پہلے ہی اس کٹیگری میں شامل ہیں۔
چیریٹی گروپ آکسفیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا کی وباء سے دنیا بھر میں 50 کروڑ سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں منفی اثرات غریب ملکوں پر زیادہ محسوس ہوں گے۔آکسفیم کی اس تحقیق میں عالمی بینک کی جانب سے 1 اعشاریہ 90 ڈالرز، 3 اعشاریہ 20ڈالرز اور 5 اعشاریہ 50 ڈالرز یومیہ کمانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1990ء کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ ان تینوں درجات میں غربت کی شرح بڑھے گی اور آمدنی میں 20 فیصد کمی واقع ہو گی۔اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر میں کورونا کے باعث بھوک میں دگنا اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکہ، چین اور ایران میں کیا کچھ چل رہا ہے
 رواں سال کے آغاز میں عراق میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد یقینی طور پر یہ امریکہ کی طرف سے براہ راست فوجی کارروائی کی سب سے بڑی دھمکی تھی۔جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اور اب پھر صدر ٹرمپ کی ایک ٹویٹ نے دھمکی کا ساماحول پیدا کر دیا ہے، اس دھمکی کے پیچھے گذشتہ دنوں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے جس میں امریکہ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نیوی کی متعدد مسلح سپیڈ بوٹس نے خلیج سے گزرنے والے امریکی جنگی جہازوں کے بحری بیڑے کو تنگ کیا۔ان جہازوں میں یو ایس ایس لیوس بی پْلر، ایک موبائل بیس جہاز، اور ایک تباہ کن بحری جہاز یو ایس ایس پال ہیملٹن شامل تھے۔ پاسدارانِ انقلاب نے تصادم کا اعتراف کیا ہے لیکن الزام امریکیوں پر ڈالا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران میں کووڈ -19 کے بحران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی افراتفری اور غیر یقینی صورتحال سے سخت گیروں رہنماؤں کو فائدہ پہنچنے کا خطرہ موجود ہے ۔دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ اس امید پر ایران پر’’ زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی اپنی پالیسی کو دگنا کر رہی ہے کہ شاید یہ وبائی مرض بالآخر تہران میں اسلامی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایران دوسرے محاذوں پر پیشرفت جاری رکھے ہوئے ہے، اپنی سیٹلائٹ مدار میں بھیجی ہے۔ ماہرین کو تشویش ہے کہ اگرچہ تہران کیلئے گئے بہت سے اقدامات ایسے ہیں کہ ان کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔اگر تھوڑے عرصے کے لیے کم توجہ دی جائے تو شاید امریکہ ایران کشیدگی کم ہو جائے، لیکن ایسا ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
دوسری جانب برطانیہ اور امریکہ کے قومی سلامتی کے عہدے داروں کا خیال ہے کہ چین کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار نہیں دے رہا ۔ اس کے باوجود یورپی حکام چین کو براہ راست للکارنے سے محتاط نظر آتے ہیں۔چین نے کسی بھی قسم کی معلومات کو چھپانے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وائرس کیخلاف جنگ میں مکمل شفافیت دکھائی ۔17 اپریل کو ووہان میں  اموات کی تعداد میں اچانک 50 فیصد اضافہ ظاہر کیا۔ اس پر چینی حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کے باہر ہونے والی اموات کو شامل کرنے کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا ۔ ۔۔۔۔علاوہ ازیں نیو یارک کے گورنر اینڈریو کوومو نے ایک تحقیق کی جانب اشارہ کیا جس کے مطابق نیویارک میں کوروناچین سے نہیں بلکہ یورپ سے داخل ہوا۔ روئٹرز کے مطابق گورنر کا کہنا تھا کہ صدرٹرمپ کی طرف سے دیر سے نافذ کی گئیں سفری پابندی اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہیں۔گورنر کوومو نے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یکم مارچ کو ریاست کے پہلے تصدیق شدہ کیس کے وقت تک شاید 10000 سے زیادہ افراد اس بیماری کا شکار ہو چکے ہوں۔ نیوریارک میں وائرس ممکنہ طور پر اٹلی سے آیا۔ 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

مزید پڑھیں

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔ ٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔ ٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں

  کورونا کے باعث ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں بیٹھ جانا۔۔۔ اس وباء سے مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔اور اگر مقابلہ نہیں کرنا تو کم سے کم نمٹنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوروناسے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔اب طے یہ کرنا ہے کہ اس وباء کے ہوتے زندگی کو کیسے بحال کرنا ہے ۔۔۔ ترقی کا پہیہ کیسے چلانا ہے ۔۔۔بند کاروبار کیسے کھولنے ہیں ۔ بڑھتی بے روزگاری کو کیسے روکنا ہے ۔۔۔ لڑکھڑاتی معیشت کو کیسے سہارا دینا ہے ۔۔۔نقصانات اور خساروں کے اندیشے کیسے کم کرنے ہیں ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔مکمل لاک ڈائون بھی نہیں ہوا اور معیشت کا بھی نقصان ہوگیا۔۔۔ڈپریشن اور معاشی مسائل کے شکار عوام کو کیسے امید اور حوصلہ دینا ہے ۔۔۔۔

مزید پڑھیں