☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
کورونا طویل عرصے چل سکتا ہے انہی حالات میں کام کرنا ہوگا

کورونا طویل عرصے چل سکتا ہے انہی حالات میں کام کرنا ہوگا

تحریر : طیبہ بخاری

05-10-2020

  کورونا کے باعث ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں بیٹھ جانا۔۔۔
اس وباء سے مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔اور اگر مقابلہ نہیں کرنا تو کم سے کم نمٹنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوروناسے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔اب طے یہ کرنا ہے کہ اس وباء کے ہوتے زندگی کو کیسے بحال کرنا ہے ۔۔۔
ترقی کا پہیہ کیسے چلانا ہے ۔۔۔بند کاروبار کیسے کھولنے ہیں ۔
بڑھتی بے روزگاری کو کیسے روکنا ہے ۔۔۔ لڑکھڑاتی معیشت کو کیسے سہارا دینا ہے ۔۔۔نقصانات اور خساروں کے اندیشے کیسے کم کرنے ہیں ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔مکمل لاک ڈائون بھی نہیں ہوا اور معیشت کا بھی نقصان ہوگیا۔۔۔ڈپریشن اور معاشی مسائل کے شکار عوام کو کیسے امید اور حوصلہ دینا ہے ۔۔۔۔

وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس کی رائے میں پاکستان شاید ایک اور بڑا لاک ڈاؤن برداشت نہ کر سکے، اسی لیے ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤن کا استعمال کرنا پڑے گا۔۔۔دنیا بھی اسی فارمولے پر عمل کرنے جا رہی ہے ۔ مثال کے طور پر ملائیشیا نے زیادہ تر کاروبار کھول دئیے ہیں۔ وزیر اعظم محی الدین یاسین کہتے ہیں ہم محتاط طریقے سے معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیار ہیں کورونا کی وباء پھیلنے کے سبب بند کیے گئے کاروبار کھولے جارہے ہیں تاہم کسی قسم کی عبادت اور ایسے کاروبار پر پابندی برقرا رہے گی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ تعلیمی سرگرمیاں فی الحال بحال نہیں کی جائیں گی۔ 10 یا اس سے کم افراد پرمشتمل کھیلوں کی بھی اجازت دی جائے گی جس میں رننگ، بیڈمنٹن اور سائیکلنگ جیسے کھیل شامل ہونگے۔
پاکستان پر مہلک وائرس کورونا کے شدید ترین وار جاری ہیں 2 مئی کے اخبارات نے ایک ہی دن میں ریکارڈ 47افراد کے جاں بحق ہونے اورملک بھرمیں ریکارڈ 1226 نئے مریضوں کے بعد تعداد 17ہزار سے بڑھنے اورصرف 1 ہفتے میں ہیلتھ ورکرزکے انفیکشن میں75فیصداضافے کی اطلاعات عوام تک پہنچائیں۔ اب تک 216 ڈاکٹر، 67 نرسز اور 161سٹاف وائرس کاشکار ہوئے۔ دبئی، شارجہ اور کولمبو سے جناح ٹرمینل پر 483 مسافروں میں سے 190 مسافروں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔۔ کورونا کے پھیلائو کے باوجود ملک میں صورتحال قابو میں ہے، متاثرین کی تعداد اور ہلاکتیں مغربی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہیں، اس کی وجہ کیا ہے اس سے متعلق مختلف مفروضے سامنے آرہے ہیں، صرف پاکستان ہی نہیں بھارت کے حوالے سے بھی یہی سوال اٹھایا جارہا ہے۔ امریکی اور برطانوی میڈیا اور دیگر ادارے سوال اٹھارہے ہیں کہ1 ارب 30کروڑ آبادی والے بھارت میں اب تک کورونا کے صرف 35ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے اور 1100سے زائد اموات ہوئیں، یہ تعداد بہت کم ہے اور کیوں ہے؟ میڈیا کے مطابق بھارت میں کورونا ٹیسٹ آبادی کے تناسب سے کم ہوئے ،ماہرین نے پیشگوئی کی تھی کہ کورونا کے لاکھوں کیسز سامنے آسکتے ہیں مگر اب تک بھارت میں ایسی گھمبیر صورتحال پیدا نہیں ہوئی، بھارت میں کورونا سے اس وقت 10 لاکھ لوگوں میں سے ایک موت رپورٹ ہورہی ہے جبکہ امریکہ میں10 لاکھ افراد میں سے 175کورونا کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت نے 14اپریل کو جو لاک ڈائون نافذ کیا تھا وہ کام کررہا ہے، بھارت میں 519کیسز رپورٹ ہوتے ہی لاک ڈائون کردیا گیا تھا جبکہ اٹلی اور برطانیہ میں ہزاروں کیسز سامنے آنے کے بعد لاک ڈائون کیا گیا، بھارت میں اس وقت شرح اموات بھی3 فیصد ہے جو اٹلی، فرانس اور برطانیہ کی 13فیصد سے زائد شرح اموات سے کہیں کم ہے۔
واپس ملکی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں توسندھ حکومت نے سرکای اعلامیہ میں کہا ہے کہ کورونا طویل عرصے چل سکتا ہے انہی حالات میں کام کرنا ہوگا۔ ان حالات میں ہمیں احتیاط کے ساتھ آ ہستہ آ ہستہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی بحال کرنا ہوگا۔ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا وائرس کی وباء کب تک رہے گی۔ اس لیے ہمیں کاروباری معاملات کو چلانے کیلئے مؤثر طریقے سے ایس او پیز بنانی پڑیں گی تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں اور عوام کو بھی سہولتیں مل سکیں۔ یہ ایک حقیقت ہے ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے مختلف کمیٹیز بنا دی ہیں جو ایس اوپیز تیار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے کورونا وبا ء کے پیش نظر صوبے بھر میں عام تعطیلات میں 15مئی تک توسیع اور کورونا سے جاں بحق ہونیوالے فرنٹ لائن ورکرز کے ورثاء کیلئے 70لاکھ روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کردیا ہے، تمام ریسٹورنٹس، فوڈ پوائنٹس، سیاحتی مقامات، بین الاضلاع اور شہروں کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی رہے گی، جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی البتہ دودھ کی دکانیں 4بجے کے بعد کھلے رہنے اور مویشی منڈیوں کو مشروط طور پر کھولنے کی بھی اجازت دیدی ہے، بلدیاتی انتخابات مؤخر کردئیے گئے ہیں جبکہ صوبائی کابینہ نے ایپڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کی منظوری دیدی ہے۔
وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت اب تک 83 ارب 25 کروڑ روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ احساس ایمرجنسی کیش کے تحت رقم کی ترسیل جاری ہے، کیٹیگری ٹو میں 23 لاکھ صارفین کو رقم کی ترسیل کی جا چکی ہے۔ کیٹیگری تھری کو رقم کی ادائیگی جلد شروع ہو گی، کیٹیگری ون اور ٹو میں اب تک 1 کروڑ 68 لاکھ سے زائد افراد میں رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ اب تک اس پروگرام کے تحت 83 ارب 25 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام 144 ارب روپے کا ہے۔ احساس ایمرجنسی کیش کی امداد 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی، فی خاندان 12000 روپے کی رقم دی جائے گی۔جبکہ سٹیٹ بینک نے ملک میں صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کورونا سے نمٹنے کی اپنی ری فنانس سہولت (RFCC) کے تحت سنگل ہاسپٹل/ میڈیکل سینٹر کی فنانسنگ حد کو 200 ملین سے بڑھا کر 500 ملین کر دیا ہے۔اس سہولت کے تحت سٹیٹ بینک ، بینکوں کو صفر فیصد پر فنانسنگ مہیا کرتا ہے جو ہسپتالوں/ میڈیکل سینٹرز سے زیادہ سے زیادہ 3 فیصد سالانہ تک چارج کر سکتے ہیں۔
اب اگر مہنگائی کا جائزہ لیں توقومی ادارہ شماریات کے مطابق مارچ کی نسبت اپریل کے مہینے میں مہنگائی کم ہوئی لیکن رمضان المبارک میں پھر بے قابو ہوگئی۔ دالیں، پھل، گوشت ، ادویات، چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ سبزیاں، دودھ، ٹماٹر، گندم، پٹرول، بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی۔ مارچ میں مہنگائی11.2 تھی اپریل میں کم ہو کر 8.5فیصد ہوگئی۔دوسری جانب تاجر رہنمائوں کا کہنا ہے کہ حکومت موجودہ صورتحال میں شرح سود میں کمی لائے تاکہ تاجر و صنعت کار لاک ڈائون سے متاثرہ کاروبار بہتر ی میں لاسکیں۔قومی ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی10 ماہ میں مہنگائی میں 11.22 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، رمضان میں متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔
قومی ادارہ شماریات کے مطابق گھی26، گندم اور تعمیراتی سامان 17، آٹا 15 اورگوشت 14فیصد مہنگا ہوا۔رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں گاڑیاں 14، ادویات13، چنے 12 اورجوتے 11 فیصد تک مہنگے ہوئے ۔ مارچ کے مقابلے میں اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 0.8 فیصد کم ہوئی ہے۔ اپریل 2019 سے اپریل 2020 ء تک مہنگائی کی شرح 8.5 فیصد رہی۔جولائی سے اپریل تک مہنگائی کی شرح 11.22 فیصد رہی۔ ایک سال میں آلو 92.2 فیصد اور گیس کی قیمت 54.8 فیصد بڑھ گئی۔
یہاں آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ چھوٹے کاروبار اور صنعتیں دوبارہ کھلیں گی توان کے 3 ماہ کے بل حکومت ادا کریگی۔5 کلوواٹ کے کمرشل اور 70 کلوواٹ کے صنعتی کنکشنز مستفید ہوں گے، پچھلی کھپت کو دیکھ کر 3ماہ کی رقم اگلے بل میں جمع کرادی جائیگی۔چھوٹا کاروبار امدادی پیکیج کے ذریعے 35لاکھ کاروباری افراد فائدہ اٹھا سکیں گے،صورتحال قابو میں ہے، عوام احتیاط کریں تو پابندیاں کم کی جاسکتی ہیں ۔ علاوہ ازیں قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی ( ایکنک ) نے 249 ارب 91کروڑ مالیت کے 4 میگا ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی ،پختونخوا میں 30ارب کے زرعی آبپاشی منصوبہ ،12ارب 43کروڑ40لاکھ کے این 5 کے لودھراں ملتان سیکشن تعمیر کی منظوری دی گئی ۔ ایکنک نے پنجاب انسانی وسائل کی سرمایہ کاری کے تحت 32ارب روپے کے منصوبے کی منظوری بھی دی ، یہ منصوبہ پنجاب کے11پسماندہ اضلاع بہاولنگر ، بہاولپور ، بھکر ، ڈیرہ غازی خان ، خوشاب، لیہ ، رحیم یار خان اور راجن پور میں 5سال میں مکمل کیا جائیگا، منصوبے کے تحت ان علاقوں میں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات اور خوراک کی فراہمی کے پروگرام کے علاوہ ، غریب بچوں کے والدین کو معاشی سپورٹ اور بچوں کی ابتدائی تعلیم پر خرچ کی جائیگی۔ ایکنک نے خیبرپختونخوا کے 26اضلاع میں زرعی آبپاشی کی بہتری کے منصوبے کیلئے 30ارب روپے کی منظوری بھی دی منصوبہ 6 سال میں مکمل کیا جائیگا، جس کے تحت 14260واٹر کورسز ،10ہزار ایکٹرعلاقے میں آبپاشی کا جدید نظام ، 5000 پانی کے سٹوریج ٹینک کی تعمیر اور دیگر استعداد کار میں اضافے کے پروگرام شامل ہیں ۔
وفاقی حکومت نے کورونا ریلیف فنڈ اور احساس پروگرام کے انضمام کا فیصلہ کیا ہے۔ جو شخص 1 لاکھ روپے ریلیف فنڈ میں دے گا اس کے ساتھ حکومت 4 لاکھ روپے اضافی جمع کرے گی اور یہ رقم کورونا سے بیروزگار افراد پر خرچ ہوگی جبکہ وزیراعظم عمران خان ایک بارپھر مکمل لاک ڈائون کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکمراں اشرافیہ نے سوچے سمجھے بغیر فیصلہ کیا کہ ملک میں لاک ڈائون کرنا ہے‘ لاک ڈائون کا فیصلہ امیروں نے کیا‘ غریب اور مزدور آدمی کا سوچا ہی نہیں۔اگر کوروناوباء سے صرف غریب شکار ہوتے تو کبھی لاک ڈائون کرنے میں اتنی تیزی نہ دکھائی جاتی‘ گنداپانی پینے سے مرنے والے غریب کے بچوں کی کسی کو فکرہی نہیں‘لاک ڈائون میں بتدریج نرمی کی جائے گی‘ ہم مزید شعبوں کو جلد کھولیں گے۔ہمارا خیال تھا کہ اپریل کے آخر میں ہسپتالوں پر دبائو ہو گا، وینٹی لیٹرز اور آئی سی یو بھر جائیں گے لیکن صورتحال ایسی نہیں ہے‘کورونا کیسز اندازے سے کم ہیں‘بہت سے ملکوں کی نسبت ہمارے ملک کے حالات بہتر ہیں‘جب تک اس وقت کی ویکسین تیار نہیں ہوتی وباء پر قابو پانے کے باوجود اس کا خطرہ موجود رہے گا۔پاکستان کواپنا ہیلتھ انفراسٹرکچر (صحت کا ڈھانچہ)ٹھیک کرنا ہوگا ۔احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کے تحت سب سے زیادہ رقم سندھ میں تقسیم کی گئی‘ بیروزگار ہونے والے مزدوروں اور دیہاڑی دار افراد کی نشاندہی کیلئے یونین کونسل کی سطح پر ٹائیگر فورس کا ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ کامسٹیک ہیڈکوارٹرزمیں کوروناسے متعلق بریفنگ کے بعد اپنی ٹیم کے ہمراہ اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے پاکستان میں اندازے سے کم اموات ہوئی ہیں‘وزیراعظم ریلیف فنڈ کی رقم کورونا متاثرین کیلئے رکھی گئی ہے۔اس امداد کیلئے بیروزگار افراد ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ کر سکیں گے‘پروگرام کا آغاز جلد کیا جائے گا۔ہر یونین کونسل میں ٹائیگر فورس کا ایک ڈیسک قائم کیا جائے گا جو بیروزگار ہونے والے سفید پوش افراد کی نشاندہی اور رجسٹریشن کرے گا۔ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز کیلئے بڑا پروگرام شروع کر رہے ہیں‘اگر کورونا فنڈ میں مخیر حضرات ایک روپیہ جمع کرائیں گے تو 4 روپے حکومت اس میں شامل کریگی۔کورونا ٹائیگر ریلیف فورس سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ روزگار بحال کرنے کیلئے لاک ڈائون آہستہ آہستہ کھولنا ہے، لاک ڈائون سے دیہاڑی دار اور نچلا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا اور بہت سارے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو کورونا پھر سے پھیل جائے گا اور ہمیں پھر لاک ڈائون کی طرف جانا پڑے گا۔ ٹائیگر فورس رضاکارانہ فورس ہے، یہ پیسے اکٹھے نہیں کریگی اسے تنخواہ بھی نہیں ملے گی۔فورس کہیں بھی ذخیرہ اندوزی دیکھے، خود ایکشن نہ لے،انتظامیہ کو آگاہ کرے، فورس لاک ڈائون کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے لوگوں کی رجسٹریشن کرائے۔
علاوہ ازیں لاک ڈائون کے سبب ملک بھر میں بند کیے گئے نادرا دفاتر 4مئی سے کھول دیئے گئے ہیں۔دفاترکھلتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد نادرا مراکز پہنچ گئی، احساس کفالت پروگرام کے لئے بائیو میٹرک کرانے والی خواتین کا ہجوم دیکھنے میں آیا،جبکہ احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلوں کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ اس کے علاوہ سڑکوں ، بازاروں اور دکانوں پر عوام کو ہجوم یہ ثابت کر رہا ہے کہ عوام سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھ رہے حکومت اورڈاکٹرز کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو کسی بڑے خطرے کا سبب بن سکتا ہے ۔اور یہ صورتحال کسی بھی طور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ہمیں ملک کو بے روزگاری ، معاشی بدحالی سے بچانا ہے تو ہمیں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہو گا ،گھروں سے باہر نکلتے ہوئے چہرے پر ماسک لازمی پہننا ہو گا، ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا ہو گااور باہر نکلتے ہوئے گلوز پہن لیں تو اپنے لئے بھی بہتر ہو گا اور دوسروں کیلئے بھی ۔ یہ احتیاطی تدابیر اتنی مشکل نہیں کہ ان پر عمل نہ کیا جا سکے ۔ جب حکومتوں اور ماہرین کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کورونا سے نمٹنے میں ایک سال یا مزید چند مہینے درکار ہیں تو عوام کے پاس احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، بھوک اور بے روزگاری سے بچنا ہے تو اداروں اور صنعتوں کو کھولنا پڑے گا اور ایس او پیز پر ہر حال میں عمل کرنا ہو گا اور یہ سب عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔

 

ٹرمپ سے پھر اختلاف ،کورونا کا نقطۂ آغاز قدرتی ہے: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے کورونا وائرس کا نقطہ آغاز قدرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے وائرس کے چین کی لیبارٹری میں تیاری کے ثبوت دیکھے ہیں۔ علاوہ ازیں کورونا سے متعلق افواہوں کے سدباب کیلئے عالمی ادارہ ٔصحت نے نوجوانوں پر کام شروع کردیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ کورونا وائرس سے متعلق غلط اطلاعات کے سدباب کیلئے مزید مؤثر اقدامات کررہا ہے۔
دوسری جانب ایک سائنسی تحقیق کے تجزئیے سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کورونا وائرس اتنے سنگین اور مہلک اثرات مرتب نہیں کررہا جتناکہ سمجھا جارہا تھا۔برطانوی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے 28 تجزیاتی پیپرز کا مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہسپتال آنیوالے کورونا مریضوں میں سگریٹ نوشی کرنیوالوں کا تناسب اندازوں سے بہت کم تھا ۔ پبلک ہیلتھ کے ایک پروفیسر نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی اور کورونا وائرس میں کوئی غیرمرعی معاملہ ہے اور اس حیرت انگیز معاملے کے سامنے آنے کے بعد سائنسدان اس کا پتہ لگانے کیلئے سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔برطانیہ میں کیے گئے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ وہاں کورونا سے متاثر ہونے والے جو مریض ہسپتالوں میں لائے گئے ان میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کا تناسب صرف 5 فیصد تھا، جو کہ ملک میں سگریٹ نوشی کرنے والے ساڑھے چودہ فیصد کا صرف ایک تہائی تھے۔فرانس میں تو یہ تعداد 4 گنا کم تھی جبکہ چین میں کی گئی ایسی ہی تحقیق میں یہ تعداد کل مریضوں کا 3 اعشاریہ 8 فیصد تھا۔چین کی آدھی سے زیادہ آبادی پابندی سے سگریٹ نوشی کرتی ہے۔اس تجزیاتی تحقیق میں 2 پیپرز ایسے بھی تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ سگریٹ نوشوں میں وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو امکان یہ ہوتا ہے کہ یہ بہت زیادہ بیمار ہونگے اور انہیں وینٹی لیٹشن کی ضرورت پڑے گی۔البتہ تحقیق کاروں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ غالباً ہسپتال مریضوں کی سگریٹ نوشی کرنے کے معاملے کو مناسب طریقے سے ریکارڈ نہیں کررہے ۔اب تحقیق کار معاملے کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کیا سگریٹ نوشی اور کورونا میں کوئی ایسا معاملہ ہے کہ یہ سگریٹ نوش مریضوں پر وائرس اتنے شدید اثرات مرتب نہیں کررہا جتنے کہ یہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد پر کررہا ہے۔

کورونا کے باعث آٹو انڈسٹری بیٹھ گئی
بھارت میں ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی


وطن عزیز میں آٹو انڈسٹری کورونا وائرس کی وباء پھیلنے سے پہلے ہی بقا ء کی جنگ لڑ رہی تھی اور اب وباء کے باعث مشکلات نے اسے بے بس کردیا ہے ۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق کوروناکے باعث آٹو انڈسٹری مکمل طور پرگھٹنے ٹیک چکی ہے جبکہ وینڈرز کو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ موٹیو پارٹس اینڈ ایسسری مینوفیکچرز ایسوسی ایشن نے لاک ڈائون میں نرمی ضروری قرار دیدی ہے۔ لاک ڈائون سے قبل ہی اس انڈسٹری میں سیل 23سے 44فیصد تک کم ہو چکی تھی جس کی وجہ سے پلانٹ بند کرنا پڑ رہے تھے ،سب سے زیادہ آٹو سیکٹر کے وینڈر متاثر ہوئے ہیں ،یہ ملک کا ایس ایم ای سیکٹر ہے ، مخدوش حالات کے باعث کئی وینڈرز اپنا کاروبار ختم کرچکے ہیں۔ عام حالات میں اس سے زیادہ عجیب کوئی خبر نہیں ہوسکتی تھی کہ ایک ارب 38 کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں اپریل کے 30 دنوں میں ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی۔ لیکن کورونا بحران میں اس پر حیرت کا کوئی سوال نہیں۔بھارت میں گاڑیاں بنانے والے سب سے بڑے ادارے نے کہا کہ اپریل میں مقامی سطح پر اس کا ایک بھی یونٹ فروخت نہیں ہوا۔
ایک طرف آٹوانڈسٹری کا برا حال ہے تو دوسری جانب تیل کی گرتی قیمتیں ہیں۔ یہاں ہر وقت حکومت پر تنقید کے نشتر چلانے والے یہ جان کر حیران ہونگے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت علاقائی ممالک بھارت، بنگلادیش، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات میں سب سے کم ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں پیٹرول 96 فیصد اور بنگلادیش میں 104 فیصد تک مہنگا ہے۔قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پاکستان میں 1 لیٹر پیٹرول 81 روپے 58 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے جو تقریبا ً ڈالر میں فی لیٹر 51 سینٹس بنتا ہے۔اگر بھارت میں دیکھیں تو نئی دہلی میں فی لیٹر پیٹرول 92 سینٹس اور ممبئی میں1 ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس کا پاکستانی کرنسی میں حساب لگائیں تو 1 لیٹر پیٹرول نئی دہلی میں 146روپے 24 پیسے جبکہ ممبئی میں 160روپے 36 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔اسی طرح بنگلادیش میں 1 لیٹر پیٹرول کی قیمت 1ڈالر سے زیادہ ہے جو پاکستانی کرنسی میں 166 روپے 82 پیسے بنتی ہے۔سری لنکا میں بھی فی لیٹر پیٹرول 85 سینٹس اور پاکستانی کرنسی میں 135 روپے 73 پیسے کا ہے نیز متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمت پاکستان سے معمولی زیادہ ہے، جو 52 سینٹس اور پاکستانی کرنسی میں 82 روپے 85 پیسے ہے۔

تاریخی بجٹ خسارے کا خدشہ

یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ کورونا کے باعث سپین کی معیشت کو گذشتہ دہائی کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے ۔ اندازوں کے مطابق سپین کی معیشت 2020 ء میں 9.2 فیصد سکڑے گی تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سال اس میں کافی بہتری آئے گی۔ادھر یورو زون کی مجموعی معیشت سال کی پہلی سہ ماہی میں تاریخ کی تیز ترین تیزی سے سکڑی ہے۔ جنوری سے مارچ تک کے خطے کا جی ڈی پی 3.8 فیصد تک سکڑ گیا ہے جو کہ 2008 ء کے عالمی مالیاتی بحران سے کہیں بھی زیادہ شدید ہے۔دوسری جانب ماہرین معیشت نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ رواں سال پاکستان کوتاریخی بجٹ خسارے کا سامنا کرنا ہوگا۔سابق وزیرخزانہ حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے حکومت نے مناسب قدم اٹھایا، پٹرول کی قیمتوں میں کمی ایک سال بھی برقرار رہی تو عوام کو 300ارب کا فائدہ ہوگا، حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی کا تمام ریلیف عوام کو نہ دے کر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے کی صورت میں پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھانے کیلئے جگہ رکھی ہے۔ رواں سال پاکستان کوتاریخی بجٹ خسارے کا سامنا کرنا ہوگا، خسارہ جی ڈی پی کے 10 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، یہ خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے بھی اوپر جائے گا، سٹیٹ بینک نے پہلے 1 مہینے میں اچھے اقدامات کئے ہیں، شرح سود 13.25فیصد سے کم کر کے 9فیصد پر لانے سے بجٹ کو 1 ہزار ارب روپے کا فائدہ ہوچکا ہے، شرح سود 7فیصد پر لے جائی جائے تو 1500ارب کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ ملک میں پہلی دفعہ کرنٹ اکائونٹ میں بہتری آئی مگر فائنانشل اکائونٹ 1500ارب خسارے میں چلا گیا، پاکستان ابھی بھی معاشی دلدل سے نہیں نکلا 2.8ارب ڈالر زکی ہاٹ منی ملک سے جاچکی ہے ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے قرضوں میں رعائت کی اپیل کااعادہ کرتے ہوئے ترقی پذیر ملکوں کو درکار اہم اور فوری تعاون فراہم کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معاشی پیداوار کا کم ازکم10 فیصد ان ملکوں کیلئے عالمی امدادی پیکج کیلئے مختص کیاجاناچاہیے۔


لاکھوں افراد خطِ غربت سے نیچے چلے جائیں گے

سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر حفیظ اے پاشا کورونا سے ہونیوالے نقصانات کو کچھ اس طرح دیکھ رہے ہیںکہ 2020ء کے منظر نامے کا انحصار ایکسچینج ریٹ کے اْتار چڑھائو پر ہوگا۔ 2020ء کے اوائل تک 10 لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے اور تقریباً 90 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت حکومت کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ حالیہ برس آئی ایم ایف پروگرام کی مقرر کردہ حدود کے اندر مزید معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کیلئے کوششیں ہوں گی۔ اگر کرنٹ اکائونٹ خسارے کو محدود کرنے کا عمل جاری رہا تو امکان ہے کہ کرنسی قدرے مستحکم رہے گی اور مہنگائی کی شرح سست ہو جائے گی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ 2020ء معاشی تبدیلی کا سال ہے، جڑواں خسارے میں نمایاں کمی کے ذریعے مہنگائی میں کمی کو ہدف بنایا گیا ہے،بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مسابقت پیدا کرنے کیلئے صنعت کو سبسڈی فراہم کی ہے اِس میں گیس اور بجلی پر بھی سبسڈی شامل ہے۔ اس کے علاوہ برآمدی صنعت کو بینک قرضوں پر بھی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ ایمرجنسی پروگرام کے تحت 13 منصوبوں میں 287 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ حکومت برآمدات کیلئے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر بھی کام کررہی ہے، چین سے ہونیوالے معاہدے کے تحت حالیہ برس برآمدات26 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو پاکستان کیلئے نیا ریکارڈ ہوگا اور معاشی ترقی کی رفتار میں نمایاں فروغ ملے گاملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری واپس آئے گی۔ اِسی برس سی پیک کے فوائد صنعت و زراعت سمیت معیشت کے پیداواری شعبوں میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ وزیراعظم کا احساس پروگرام ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے خواب کی تعمیر کی سمت ایک قدم ہوگا۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری نے محنت کشوں کی بیروزگار ی کے معاملے پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھا ہے جس میں بیرون ملک کام کرنے والی ورک فورس کو پہنچنے والے نقصان پر سخت تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔۔ دوسری جانب فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک(فافن) نے سروے کیا جس کے مطابق ملک میں جاری لاک ڈائون کے باعث 26 فیصد خواتین ملازمت سے فارغ ہوئیں۔ 14 فیصد خواتین کو مستقل طورپرنکال دیا گیا جبکہ باقی خواتین ملازمین کی خدمات عارضی طورپرمعطل کردی گئیں۔جن خواتین ملازمین کو نکالا گیا ان میں فیکٹری ورکرز ، سیلز پرسنز، نجی سکولز، ہسپتالوں اور دیگرتجارتی اداروں میں کام کرنے والی خواتین شامل ہیں۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

مزید پڑھیں

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔ ٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔ ٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں

مکمل لاک ڈائون یا سمارٹ لاک ڈائون ۔ ۔ ؟  لاک ڈائون ہونا چاہیے یا نہیں ۔۔۔جواب کسی کے پاس نہیں ۔  لگتا ہے ڈاکٹرز ، ماہرین اور عالمی ادارے کسی اور پیج پر ۔۔۔اور عوام، تاجروں  میں بحث کسی اور پیج پر ہو رہی ہے ۔۔جواب اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے ۔۔۔کیونکہ اکیلے کورونا سے مقابلہ نہیں ، بھوک ، غربت ، بے روزگاری نے بھی سر ُاٹھا لیا ہے۔۔۔    

مزید پڑھیں