☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
فیصلے ہو چکے، اب عملدرآمد کا وقت

فیصلے ہو چکے، اب عملدرآمد کا وقت

تحریر : طیبہ بخاری

05-17-2020

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔
٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔
٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

٭:تمام اقدامات ایک طرف، کورونا کی روک تھام ہر شخص کی انفرادی ذمے داری ہے۔۔۔ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ کورونا علامات پر ٹیسٹ کرائیں یہ سب کیلئے ضروری ہے۔۔۔
٭:کہا جا رہا تھا کہ پاکستان میں کورونا یورپ، امریکہ کی طرح مہلک ثابت نہیں ہوا لیکن وطن عزیز میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔۔۔
٭: 11 ہزار سے زائد مریضوں کے ساتھ پنجاب ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ۔۔۔ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ8 ہزار سے زائد افراد صحتیاب ہو چکے ۔۔۔
٭:لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز بھی ہو چکا نئے پلان کے تحت محلوں میں چھوٹی دکانوں اور مارکیٹوں کو کھولنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔۔۔کھانے پینے کی دکانیں اور میڈیکل سٹورز کے علاوہ تمام کاروبار ہفتے میں2 دن بند رکھے جائیں گے۔۔۔
٭:نشاندہی کردہ ہسپتالوں کی او پی ڈیز بھی کھول دی گئیں
٭:ملک بھر میں تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے
٭:صحت کے ڈیٹا کیلئے ایک پورٹل بن چکا ۔۔۔ملک میں 70لیب ہیں جہاں کورونا ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔۔۔ کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر مسلسل کام کر رہا ہے۔۔۔ اب تمام ملک بند کرنے کے بجائے مخصوص علاقوں پر فوکس ہوگا۔۔۔
٭:حکومت کو امید ہے کہ این سی سی کے فیصلے پر قومی اتحاد کے ساتھ عملدرآمد ہوگا۔۔۔اب ہم سب کو ممکن بنانا ہے کہ یہ امید نہ ٹوٹے ۔۔۔دوبارہ لاک ڈائون کی نوبت نہ آئے اور غریب ، امیر ہر گھر کا چولہا جلتا رہے۔۔۔
٭:غور کریں کہ 45 روز سے نافذ لاک ڈائون میں نرمی کے بعدبڑے شہر ہائی رسک قرار دئیے جا رہے ہیں تو صورتحال کس قدر تشویشناک ہو گی ؟۔۔۔
٭:حکومت مجبوراً محدود پیمانے پر کاروبار شروع کرنے کی اجازت دے رہی ہے ، اب یہ عوام کا فرض ہے کہ وہ حکومت کو دوبارہ لاک ڈائون کی طرف جانے پر مجبور نہ کریں۔۔ ۔
٭:اللہ پاک ہم پر رحم کرے لیکن ہمیں خود پر بھی رحم کرنا ہوگا
٭:عوام کو سمجھنا ہوگا کہ صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔۔۔ مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔۔
٭: ہم لاک ڈائون کی فیز ٹو میں داخل ہوگئے ہیں اور ہمیں کورونا سے بچائو والی ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔۔۔
کورونا کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال مزید 2 درجے خراب ہوگئی ہے علامات ظاہر ہوئے بغیر اور مقامی سطح پر کورونا وائرس منتقلی کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں کورونا کے 86 فیصد مریض مقامی منتقلی کی وجہ سے متاثر ہوئے، پنجاب 7547،سندھ7766،اسلام آبادمیں503 مریض مقامی طور پرمتاثر ہوئے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے 24 ہزار 73 مصدقہ متاثرین میں سے 20 ہزار 725 یعنی 86 فیصد مریضوں کو مقامی منتقلی کی وجہ سے وائرس لگا، باقی 14 فیصد متاثرین کو بیرون ملک سفر کے دوران وائرس لگا۔مقامی منتقلی کے سب سے زیادہ متاثرین اسلام آباد میں ہیں جہاں 503 مریض یعنی 96 فیصد کو مقامی سطح پر وائرس لگا،پنجاب میں مقامی منتقلی کے مریض 83 فیصد یعنی 7547 مریض ہیں جبکہ سندھ میں 90 فیصد یعنی 7766 مریض مقامی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ملک میں مکمل لاک ڈائون ختم نہیں کیا گیا ،پنجاب کے 6 بڑے شہروں میں کورونا پھیلائو کے باعث لاک ڈائون میں نرمی نہیں کی جائے گی، صوبے کے کم از کم 15 اضلاع میں کورونا کے کم پھیلائو کے باعث لاک ڈائون میں نرمی کی گئی ہے جبکہ کراچی، لاہور اور پشاور میں کورونا کیسزکی تعداد بڑھ رہی ہے۔پنجاب کے 359 اور کے پی میں 177 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈائون کیا گیا، خیبر پختونخوا میں بعض مقامات پر سمارٹ لاک ڈائون کیا جا رہا ہے۔ لاڑکانہ، کوئٹہ میں بھی کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ حکومت اب بجائے تمام ملک کو بند کرنے کے کورونا سے متاثرہ مخصوص علاقے بند کرے گی ۔ ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ معیشت کا پہیہ بھی چلے اور لوگوں کا تحفظ بھی ہو، تمام ادارے مل کر مربوط نظام کے تحت کام کررہے ہیں،ایپ کے ذریعے ملک بھر کے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ ایپ کے ذریعے مریض کو قریبی ہسپتال اور وینٹی لیٹر کی دستیابی کا علم ہوسکے گا۔یہ امر بھی تشویشناک ہے کہ وطن واپس آنیوالے سیکڑوں پاکستانیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت نکلے۔ مشرق وسطیٰ ممالک سے واپس آنے والے سیکڑوں پاکستانیوں میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔اس وباء کے پھیلنے اور شٹ ڈائون کے نتیجے میں اکثر اپنی ملازمتوں سے محروم اور کیمپوں میں گذر بسر پر مجبور تھے۔ 20 ہزار پاکستانی اب تک وطن واپس آگئے ہیں۔ان میں اکثریت غیر ہنر مند محنت کش طبقے کی ہے کیونکہ اقتصادی مندی کے نتیجے میں ان کی ملازمت ختم ہو گئی ہیں۔واپس آنے والوں میں سندھ سے تعلق رکھنے والے 2069 میں سے 500 افراد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں واپس آنے والے 1600 میں سے 200 افراد کورونا میں مبتلاپائے گئے۔جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کثیر تعداد وطن واپس آنا چاہتی ہے جن کی تعداد تقریباً 1 لاکھ ہے مگر ان کی واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے پاس قرنطینہ کی سہولیات کی کمی ہے۔
صوبائی حکومتوں کی جانب سے قرنطینہ کی سہولیات کی فراہمی پر پاکستانیوں کی واپسی تیز ہوسکے گی۔ بیرون ملک سے آنیوالے تمام پاکستانیوں کو 3 دن قرنطینہ میں گزارنا ضروری ہے، ان افراد کے کورونا ٹیسٹ کے منفی آنے کی صورت میں ہی انہیں گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
پنجاب میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کیلئے ہوم آئیسولیشن کے قواعد و ضوابط جاری کر دیئے گئے ہیں۔ہوم آئیسولیشن کیلئے خصوصی ہوم آئیسولیشن کمیٹی بنے گی، متعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر ہوم آئیسولیشن کمیٹی کے اراکین کو نامزد کریگا۔ ضلعی ہوم آئیسولیشن کمیٹی کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر کریگا، کمیٹی میں محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار شامل ہونگے۔شہری اور دیہی یونین کونسل کی سطح پر سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی، کمیٹی قرنطینہ کیلئے گھروں کے سائز اور اہلخانہ کی تعداد کی جانچ کے بعد اجازت دے گی۔جس مریض میں کورونا کی ہلکی علامات ہونگی وہی گھر پر قرنطینہ کا اہل ہوگااگر مریض کی حالت خراب ہو تو اسے ہوم قرنطینہ کی اجازت نہیں ہوگی۔کورونا مریض اور دیگر اہلِ خانہ کی تعلیم، کورونا کے بارے میں آگہی دیکھی جائے گی، ہوم آئیسولیشن کی بنیادی ضروریات کے بارے میں علم کو بھی پرکھا جائے گا۔ مریض روزانہ اپنی صحت کے متعلق اپڈیٹس محکمہ صحت کو بھجوانے کا پابند ہوگا، مریض کو ہوم آئیسولیشن کے دوران ہر 10 دن بعد اپنا ٹیسٹ کروانا ہوگا۔دو بار ٹیسٹ رپورٹ منفی آنے پر مریض ہوم آئیسولیشن ختم کر سکے گا، دوسری بار بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آئے تو دوبارہ ٹیسٹ اگلے 5 دن بعد کروانا ہوگا۔ کورونا ٹیسٹ کیلئے محکمہ صحت کا عملہ گھر سے سیمپل لے کر جائیگا، مریض کو حکومت سے منظور شدہ نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کی اجازت ہوگی۔جن علاقوں میں ٹیسٹنگ سہولت میسر نہیں وہاں علامات ختم ہونے کے بعد بھی مریض خود کو مزید 2 ہفتے کیلئے آئیسولیٹ رکھے گا۔
علاوہ ازیں عیدالفطر پر ٹرین آپریشن شروع کر نے کا اصولی فیصلہ بھی ہو چکا ہے ایس او پیز تیار کر لئے گئے ہیںٹکٹ بکنگ آفس مکمل طور پر بند رہیں گے ٹکٹوں کی بکنگ آن لا ئن ہو گی ٹرین روانگی سے24 گھنٹے قبل آن لائن بکنگ بھی بند ہوجا ئے گی صرف بکنگ والے مسافر ہی اسٹیشن میں داخل ہوسکیں گے باقی لوگ اسٹیشن سے باہر رہیں گے۔ مسافر اپنے ما سک صابن اور دستانے اپنے ساتھ لیکر آئیں گے ورنہ ٹرین میں سفر نہ کر سکیں گیاسٹیشن پر تمام سٹال مکمل طور پر بند ہو نگے مسافر کھانا گھر سے لیکر آئیں گے ہر بوگی میں 78 کی بجا ئے 60مسافر سفر کرسکیں گے اور بزنس کلاس کے روم میں 6 کی بجا ئے 4 مسافر ہونگے بوگی کے دروازے صرف ریلوے اسٹیشن پر کھلیں گے اور ہر بوگی میں ریلوے ملازم موجود رہے گاٹکٹ کلکٹر مسافر کے موبائل پر ٹکٹ والا میسج خود دکھائے گا۔کلکٹر موبائل کو ہاتھ نہیں لگائے گا ٹرین پر سفر کر نے سے پہلے کوویڈ19کے ٹیسٹ ہونگے اسٹیشن پر یا ٹرین کے اندر کسی بھی مسافر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تو اسے فورًا قرنطینہ کوچ میں منتقل کیا جائے گا۔
یہ تمام تفصیلات جاننے کے بعد بآسانی کہا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر سطح پر اہم اور بڑے بڑے فیصلے کئے جا چکے اب ان فیصلوں پر عملدرآمد کا وقت ہے اور عملدرآمد عوام نے کرنا ہے اور ہر حال میں کرنا ہے ۔

 

اسلام آباد کے لاک ڈائون میں 31مئی تک توسیع کیوں ؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کی روک تھام کیلئے کیے گئے لاک ڈائون میں 31 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے جبکہ سٹیل، پلاسٹک پائپ، الیکٹرانک آلات، پینٹس انڈسٹری کھول دی گئی ہے۔سینیٹری ورکس اور ہارڈ ویئر کی دکانیں بھی کھلی رہیں گی، کریانہ سٹورز بھی کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ چھوٹی مارکیٹس میں ایس او پیز کے ساتھ دکانیں کھولی جا سکیں گی۔ دکانیں ہفتے کے 5 دن کھولنے کی اجازت ہوگی۔پارکس، ٹریل، پولو کلب، ٹینس کورٹ ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے کھولنے کی اجازت ہو گی۔اسلام آباد کی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا ہے کہ جنرل سٹورز، بیکریز، آٹا چکی، ڈیری شاپس کو پورا ہفتہ کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی۔دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں کورونا متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔ اسلام آباد میں وائرس کے پھیلاؤ کے رحجان پر نظر ڈالی جائے تو اپریل 14 سے لے کر جب یہاں صرف 140 متاثرین تھے تو اپریل 27 تک روزانہ اوسطاً تقریباً 10 نئے مریض سامنے آتے رہے۔ اپریل 28 کو 36 نئے مریضوں کے سامنے آنے کے بعد اس تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔28 اپریل سے 3 مئی تک روزانہ تقریباً 25 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 4 مئی کو 49 نئے متاثرین کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ یہ ریکارڈ بھی زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا اور پھر 8 مئی کو اسلام آباد میں 51 نئے متاثرین کا اضافہ ہوا۔ملک کے دیگر صوبوں کی طرح اسلام آباد میں بھی متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔وطن عزیزمیں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد تقریباً 30 ہزار ہو چکی ہے۔ جیسے جیسے ٹیسٹ زیادہ ہو رہے ہیں نئے متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا 4،509 متاثرین کے ساتھ پنجاب اور سندھ سے تو بہت پیچھے ہیں مگر اس صوبے میں سب سے زیادہ 234 افراد اس وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ وائرس سے8 ہزار سے زائد مریض مکمل صحت یاب بھی ہوئے ہیں جن میں 4 ہزار سے زائد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ سندھ میں2 ہزار سے زائد جبکہ خیبر پختونخوا میں1 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
 

 کورونا سے جنگ برسوں چل سکتی ہے

امریکہ میں صحت سے متعلق ایک سینئر ماہر نے امریکی کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی ہلاکت خیز وبا ء کورونا پر فوری قابو پا نا ممکن نہیں اس کیخلاف جنگ طویل اور مشکل ہو گی۔ اوباما انتظامیہ میں ڈیزیز کنٹرول سنٹر کے ڈائریکٹر ٹام فرائیڈن نے کہا جب تک اس وبا ء کے توڑ کیلئے مؤثر ویکسین تیار نہیں کر لی جاتی کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی ، غیر متوقع واقعات پیش آئیں اور یہ وبائی دشمن مہینوں اور برسوں تک پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ماہرین امراض کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق کے باوجود مزید ہلاکت آفرین زور پیدا ہونے سے پتا چلتا ہے کہ کورونا کے پھیلائو میں تبدیلی کا امکان نہیں ۔ گذشتہ ماہ الس الاموس نیشنل لیبارٹری کے جاری کردہ پری پیپرز جن کا محققین نے جائزہ نہیں لیا تھا میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نے وائرس کے ایک نئے زور کی نشاندہی کی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں پھیلے وائرس کے پروٹین اسپائکس میں سے ایک میں تبدیلی نے زور پکڑا جو چین میں نمودار ہونیوالے وائرس کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے۔ جبکہ پاکستان میں ماہرین کا لاک ڈاؤن میں نرمی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے کورونا وباء مزید پھیلے گی، نرمی کر کے کورونا کو پھیلانے کے دروازے کھولے جارہے ہیں ۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ماہرین نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت بہتر سے بہتر لاک ڈاؤن نافذ کرے۔
 

بلوچستان کی 79 فیصد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ


بلوچستان میں ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 135 افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔کورونا سے متعلق بلوچستان کمانڈ۔و آپریشن سینٹر میں منعقدہ اجلاس میں بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر وحید نور اور ڈاکٹر ثناء اللہ پانیزئی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صوبے میں جولائی کے پہلے ہفتے اور وسط جولائی میں کورونا کا پھیلاؤ انتہا تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ وقت انتہائی احتیاط کا ہے، عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ اس دوران 79 فیصد آبادی اس وائرس سے متاثر ہو جائے۔ماہرین نے تحقیق کے مختلف طریقۂ کارکے تحت اس وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس پیش کیں اور اس کا موازنہ دنیا کے دیگر ممالک سے کیا۔ ماہرین کے مطابق کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ٹیسٹنگ صلاحیتوں میں اضافہ اور رینڈم ٹیسٹنگ ضروری ہے جبکہ بڑے شہروں کی آبادی کو زونز یا یوسیز میں تقسیم کر کے ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ زیادہ متاثر ہ علاقوں کو سخت لاک ڈاؤن یا مکمل طور پر دوسرے علاقوں سے الگ کردیا جائے تاکہ پھیلاؤ زیادہ نہ ہوسکے۔ حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام کا مکمل تعاون ضروری ہے وگرنہ یہ موذی مرض جو بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اس کا پھیلاؤ خطرناک ہو جائے گا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی یا سمارٹ لاک ڈاؤن کی صورت میں تاجر، دکاندار اور عوام کو ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔ ماسک پہننے پر سختی کی جائے اس کا اطلاق 100فیصد ہونا چاہیے۔ نقل وحمل کے حوالے سے ضلع کے اندر اور دیگر شہروں تک جانے پر سختی سے پابندی کرائی جائے کیونکہ جو علاقے اس وائرس کے پھیلاؤ کی زد میں نہیں آئے وہ محفوظ رہ سکیں۔
یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ بلوچستان میں 91 فیصد افراد وائرس کی مقامی طور پر منتقلی سے متاثر ہوئے، مقامی منتقلی کی شرح کے تناسب سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے۔ محکمہ صحت کی یومیہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں کورونا کے مجموعی 1935 متاثرین میں سے مقامی منتقلی کے بعد اس وائرس سے متاثر ہونیوالوں کی تعداد 1779 ہے جو کہ 91 فیصد بنتی ہیں۔مقامی منتقلی کے سب سے زیادہ متاثرین 1563 یعنی 87.9 فیصد کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

مزید پڑھیں

  کورونا کے باعث ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں بیٹھ جانا۔۔۔ اس وباء سے مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔اور اگر مقابلہ نہیں کرنا تو کم سے کم نمٹنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوروناسے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔اب طے یہ کرنا ہے کہ اس وباء کے ہوتے زندگی کو کیسے بحال کرنا ہے ۔۔۔ ترقی کا پہیہ کیسے چلانا ہے ۔۔۔بند کاروبار کیسے کھولنے ہیں ۔ بڑھتی بے روزگاری کو کیسے روکنا ہے ۔۔۔ لڑکھڑاتی معیشت کو کیسے سہارا دینا ہے ۔۔۔نقصانات اور خساروں کے اندیشے کیسے کم کرنے ہیں ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔مکمل لاک ڈائون بھی نہیں ہوا اور معیشت کا بھی نقصان ہوگیا۔۔۔ڈپریشن اور معاشی مسائل کے شکار عوام کو کیسے امید اور حوصلہ دینا ہے ۔۔۔۔

مزید پڑھیں

مکمل لاک ڈائون یا سمارٹ لاک ڈائون ۔ ۔ ؟  لاک ڈائون ہونا چاہیے یا نہیں ۔۔۔جواب کسی کے پاس نہیں ۔  لگتا ہے ڈاکٹرز ، ماہرین اور عالمی ادارے کسی اور پیج پر ۔۔۔اور عوام، تاجروں  میں بحث کسی اور پیج پر ہو رہی ہے ۔۔جواب اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے ۔۔۔کیونکہ اکیلے کورونا سے مقابلہ نہیں ، بھوک ، غربت ، بے روزگاری نے بھی سر ُاٹھا لیا ہے۔۔۔    

مزید پڑھیں