☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر فیض احمد چشتی ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) تجزیہ(خالد نجیب خان) فیشن(طیبہ بخاری ) شوبز(مروہ انصر چوہدری ) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کھیل(طیب رضا عابدی ) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
کورونا کیساتھ کیسے رہنا ہے ۔۔۔۔۔سوچو پاکستان

کورونا کیساتھ کیسے رہنا ہے ۔۔۔۔۔سوچو پاکستان

تحریر : طیبہ بخاری

05-24-2020

 صرف افریقہ میں25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او
کورونا کی وجہ سے دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے: اقوام متحدہ

 ٭:لاک ڈائون کافی حد تک ختم ہو چکا ۔۔۔پر کورونا کے وار جاری ہیں۔۔۔اس وقت تک کورونا وائرس سے بچائو صرف احتیاط میں ہے۔۔۔احتیاط کوئی مشکل یا نا ممکن کام نہیں صرف سماجی فاصلہ رکھنا، فیس ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال ہے۔۔۔
٭:احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا پاکستان جیسے ممالک میں زیادہ ضروری ہے کیونکہ کورونا کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔۔۔۔
٭:صورتحال مزید خراب ہوتی نظر آرہی ہے۔۔۔
٭:نہ دکاندار احتیاط کررہے ہیں نہ خریدار۔ عید کی شاپنگ پر بازاروں میں رش سب نے دیکھا،حکومتی ہدایات کے باوجود ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں ہوا۔۔۔اب عید پر احتیاط لازم ہے
٭:پاکستان کی طرح کئی ممالک میں لاک ڈائون میں نرمی لائی جارہی ہے لیکن دنیا کو اس وبا ء کی وجہ سے بڑی قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے۔۔۔٭:کیا کبھی ہم نے سوچا بحیثیت قوم ہماری ذمہ داریاں کیا کیا ہیں ۔۔۔؟سب یہ جانتے ہیں کورونا عالمی وباء ہے ، تیزی سے انسانی جانوں کو نگل رہی ہے لیکن ہم اس سے بچنے کیلئے کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ؟حکومت اپنی طرف سے امدادکا عمل جاری رکھے ہوئے ہے ۔۔۔کیا ہم نے کسی کی مدد کی ؟ہم تو اپنی مدد آپ نہیں کر رہے ۔۔۔۔کیا ہم حکومت کے بنائے ایس او پیز پر گھر کے اندر اور باہرمکمل عمل کر رہے ہیں ۔۔۔؟
٭:کیا ہم سادگی سے سب کو ساتھ ملا کرعید نہیں منا سکتے ۔۔۔؟
٭:عید منانے کیلئے شاپنگ ضروری ہے یازندگی ۔۔۔۔؟
٭:سب نے دیکھا کس طرح بازاروں ، مارکیٹوں میں ہم نے ایس او پیز کی دھجیاں اڑائیں ۔۔۔ہم کیوں ہر مسئلے ، ہر معاملے پر’’ پسماندگی ‘‘ کا اظہار کرتے ہیں ۔۔۔۔
٭:کیا ہم نے پڑھا عالمی ادارہ صحت کیا کہہ رہا ہے ۔۔۔ خبردار کیا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کووڈ 19کبھی ختم نہ ہو جبکہ صرف افریقہ میں 25کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں۔وہاں خوراک کیلئے میلوں لمبی قطاروں میں کھڑے لاکھوں لوگ کیانشانِ عبرت یا ساری دنیا کیلئے سبق نہیں ۔۔۔؟
٭:اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کیساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے۔۔۔سوچیے کیا ہم اخلاقی پستی کیساتھ اس وباء کا مقابلہ عمر بھر کر سکتے ہیں ۔۔۔ بظاہر تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے چند دنوں یا چند مہینوں میں ہتھیار پھینک دئیے ۔۔۔ کورونا کے بارے میں حکومتی فیصلوں پہ ہمیں عمل کرنے میں دشواری ہے تو اپنے لئے اپنے ایس او پیز بنا لیں شائد آپ ان پہ عمل کر سکیں
٭: آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوئی بھی اہم یا خاص فیصلہ کرنے کیلئے سوچنا پڑتا ہے ، دل و دماغ کی سننا پڑتی ہے ، حالات کو پرکھنا پڑتا ہے ، دلیل و منطق کو زیر غور لانا پڑتا ہے ، مثبت و منفی پہلوئوں کا جائزہ لینا پڑتا ہے ، مشاورت کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر فیصلہ کیا جاتا اور کوئی لائحہ عمل یا ضابطہ سامنے آتا ہے ۔۔۔کورونا سے خودکو ، اپنے پیاروں کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے اگر آپ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تو اب کرلیں کیونکہ اس وباء سے فوری یا چند مہینوں میں جان نہیں چھوٹ سکتی ۔۔۔ہمیں اس کیساتھ جینے کی عادت ڈالنا ہو گی ۔ خود کو محفوظ رکھنا ہو گا اور دوسروں کی حفاظت بھی یقینی بنانا ہو گی تبھی انسانی معاشرہ آگے بڑھ سکے گا ۔ ۔۔۔
غور کیجئے عالمی ادارے ہمیں کیا سمجھنا چاہ رہے ہیں اور کن خطرات و خدشات کا اظہار کر رہے ہیں ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالات شعبہ کے ڈائریکٹر مائیکل رائن نے کورونا کے بارے میں جنیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیاہے کہ ’’ہو سکتا ہے یہ وائرس ہماری کمیونٹی میں اینڈیمک بن جائے اور ہو سکتا ہے یہ وائرس کبھی ختم نہ ہو۔ایچ آئی وی ختم نہیں ہوا مگر ہم نے اس وائرس کا مقابلہ کرنا سیکھ لیا۔ میرے خیال میں کوئی بھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ کووڈ-19 کی بیماری کا خاتمہ کب ہو گا۔ ویکسین کے بغیر لوگوں میں اس وائرس کیخلاف قوتِ مدافعت درکار سطح تک آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔دنیا بھر میں کوورنا ویکسین تیار کرنے کی 100 سے زیادہ کوششیں جاری ہیں مگر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ کبھی نہ بن سکے۔ اگر ویکسین بن بھی جاتی ہے تو وائرس پر قابو پانے کیلئے انتہائی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گی۔ اب بھی دنیا میں خسرہ جیسی کئی بیماریاں ہیں جن کی ویکسین موجود ہے مگر ان کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔‘‘دنیا بھرمیں مئی کے وسط تک 3 لاکھ کے قریب افراد کوورنا سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 43 لاکھ سے زیادہ ہے۔اقوامِ متحدہ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ کورونا کی وبا ء فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں یا اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں اور طالبعلموں تک، سب کیلئے ذہنی دباؤ اور کوفت کا باعث ہے۔ ایک پالیسی بیان میں اقوامِ متحدہ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وباء سے نمٹنے کے منصوبوں میں ذہنی صحت کے علاج اور عوام کیلئے نفسیاتی امداد فراہم کرنے کے طریقے بھی شامل کریں۔اچھی ذہنی صحت ایک پھلتے پھولتے معاشرے کیلئے ضروری ہے کیونکہ اقدامات کے بغیر وباء کیساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔
علاوہ ازیں امریکہ میں کورونا سے 90 دن تک محفوظ رکھنے والی جراثیم کش تہہ تیار کر لی گئی ہے۔یہ تحقیق امریکہ میں یونیورسٹی آف ایری زونا میں کی گئی جسکے مطابق کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے سطح پر یہ تہہ صرف ایک بار چڑھانا ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے یہ جراثیم کش تہہ وائرس کی پرو ٹین پر حملہ کرکے اسے کمزور بناتی ہے۔

اس جراثیم کش تہہ کیلئے ایک بار کیا جانے والا سپرے 3سے 4 ماہ تک کیلئے کافی ہو گا۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں برس کے آخر تک کورونا ویکسین تیار کرلی جائے گی اور اسے مفت فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔وائٹ ہائوس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدرنے ویکسین کی تیاری میں تیزی لانے کیلئے ’’آپریشن وارپ اسپیڈ‘‘ کااعلان کیا جس کی سربراہی چیف سائنسدان ا ور امریکی فوج کے جنرل کریں گے۔امریکی صدر نے ویکسین کی تیاری کو مین ہٹن پروجیکٹ کے بعد امریکی تاریخ کی وسیع پیمانے پر سائنسی، صنعتی اور لاجسٹکس کی کوشش قرار دیا ۔ مین ہٹن پروجیکٹ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کا کام ہے جس سے پہلے بار جوہری ہتھیار تیار کیے گئے تھے۔ تاہم امریکی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس سال ویکیسن کی بڑے پیمانے پر فراہمی کاامکان نہیں ہے۔
پاکستان کا ذکر کریں تو وزیراعظم عمران خان کہتے ہیںاس سال تک کورونا کی ویکسین تیار ہونے کا امکان نہیں اس لئے ہمیں وائرس کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہوگا‘امریکہ اورچین جیسا لاک ڈائون نہیں کر سکتے۔ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھول رہے ہیں اور آہستہ آہستہ لاک ڈائون اٹھا رہے ہیں‘ ایک طرف کورونا دوسری طرف اس کے معاشی اثرات ہیں‘ ہم نے دونوں سے نمٹنا ہے‘روزگار نہ دیاتو لوگ بھوک سے مرجائیں گے ‘ہم کتنے عرصے تک 12 ہزار روپے پہنچاسکتے ہیں اور 12 ہزار روپے کب تک ایک خاندان کیلئے کافی ہوں گے؟عوام کو احتیاط کرنا ہوگی ‘ ہسپتالوں میں ابھی وہ دبائونہیں جس کی توقع کی جا رہی تھی لیکن ہم ذہنی طور پر تیار ہیں کہ کیسز میں اضافہ ہو گا ‘جس طرح ہر شعبے میں اقدامات اٹھائے وہ قابل تعریف ہیں۔ لاک ڈائون سے اڑھائی کروڑ ایسے افراد کا روزگار شدید متاثر ہوا جو دیہاڑی یا ہفتے کی آمدن پر گزارا کرتے ہیں‘ رجسٹرڈ بیروز گاروں کو بھی وزیر اعظم فنڈ سے نقد رقم ملنا شروع ہو گئی ہے۔ حکومت کو پوری طرح احساس ہے کہ طبی شعبے سے وابستہ کارکنوں، ڈاکٹرز اور ماہرین پر اس وقت بہت بڑا دبائو ہے اور موجودہ صورتحال میں ان پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے۔وہ جہاد کر رہے ہیں‘ بظاہر یہ وائرس ابھی ختم ہونے والا نہیں‘ لاک ڈائون کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وائرس تیزی سے نہیں پھیلتا‘لاک ڈائون کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو جمع ہونے سے روکا جائے۔ چین، جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ملکوں میں لاک ڈائون ختم ہوا تو کورونا کی دوسری لہر آ گئی اور یہ دوبارہ سے پھیلنے لگا، جب بھی کہیں لوگ جمع ہونگے تو یہ وائرس تیزی سے پھیلے گا لیکن ہمارے سامنے مسئلہ ہے کہ کب تک لاک ڈائون کر سکتے ہیں‘ہمارے وسائل محدود ہیں اور اپنے محدود وسائل کے اندر کب تک ہم لوگوں کو پیسہ دے سکتے ہیں۔
صوبوں کا ذکر کریں تو پنجاب میں لاک ڈائون ختم اور صوبے میں ٹرانسپورٹ اور شاپنگ مالز کھولنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔ شہر کے اندر اور ایک سے دوسرے شہر کیلئے ٹرانسپورٹ کی اجازت بھی دیدی گئی ہے‘ادھر خیبر پختونخوا حکومت نے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کھول دی ہے۔پنجاب حکومت نے آٹو موبائل انڈسٹری کے پیداواری یونٹس کو بھی کام کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔شاپنگ مالزکے اوقات کار کا بھی تعین کردیا گیا ہے، مالز میں ایس او پیز کا سختی سے نفاذ ہوگا، تھرمل گن سے چیکنگ، ہینڈ سینٹی ٹائز اور ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے گا۔آٹو موبائل انڈسٹر ی پیداواری یونٹس کو ہفتے میں 7 دن کام کی اجازت کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آٹو انڈسٹری شو رومز کو ہفتے میں 4 دن کام کی اجازت ہو گی ۔ ادھر خیبرپختونخوا میں پبلک ٹرانسپورٹ کو ایس او پیز(قواعد و ضوابط) کے تحت کھولاگیا، اس ضمن میں ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مل کر ایس او پیز تشکیل دئیے گئے۔بسوں میں سفر کرنے والوں کو ماسک اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔صوبے میں پٹرول پمپ 24 گھنٹے کھلے رہیں گے جبکہ حجام کی دکانیں جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کو 4 بجے تک کھلی رہیں گی۔عالمی وباء کے پیش نظر جاری لاک ڈائون میں نرمی کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کی اجازت پر اندرون ملک محدود تعداد میں پروازیں بھی شروع ہو چکی ہیں تمام مسافروں کیلئے ماسک پہننا اور سینیٹائزر کا استعمال لازم ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ان ایس او پیز پر کتنا عمل کرتے ہیں اور کورونا سے خود کو کیسے محفوظ رکھ پاتے ہیں۔

 

ملکی معیشت کیلئے اگلا سال کافی مشکل ہوگا

ماہرین ان خدشات کا اظہارکر رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کیلئے اگلا سال کافی مشکل ہو گا بیرون ملک سے ترسیلات زر میں آئندہ مہینوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کے مطابق کوروناکے معاشی اثرات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے ، صرف2 مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں کمی آئی ہے۔ابھی توعید کی وجہ سے بیرون ملک سے ترسیلات زر میں کمی نہیں آئی لیکن آئندہ ترسیلات زر میں کمی ہوگی۔اس صورتحال میں پاکستان کو بجٹ بیلنس کرنا بہت مشکل ہوگا، پاکستان کو اگلے بارہ اٹھارہ مہینوں کیلئے آئی ایم ایف کی طرف سے ریونیو بڑھانے کے دبائو کو مسترد کردینا چاہئے۔احساس اور دیگر فلاحی پروگراموں کی وجہ سے ہمارے اخراجات بڑھیں گے مگر ریونیو کم ہوگا، اگلے بارہ اٹھارہ مہینوں کیلئے ایمرجنسی بجٹ بنانا ہوگا، عالمی اداروں کے ساتھ قرضوں کو ری شیڈول کرنے کی بات کرنی چاہئے۔ حکومت نے کنسٹرکشن پیکیج تو دیدیا مگر بینکنگ سیکٹر اس میں اپنا کردار ادا نہیں کررہا ، کورونا بحران کی وجہ سے شرح سود میں کمی اچھی بات ہے، مہنگائی کم ہونے کے ساتھ شرح سود میں مزید کمی ہونی چاہئے، پاکستان کے پاس شرح سود نیچے لے جانے کی بڑی گنجائش ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرون ملک سے ترسیلات زر میں آئندہ مہینوں میں کمی آنے کی توقع ہے، یورپ اور امریکہ کورونا کا بری طرح شکار ہوئے اس لئے اپریل میں برآمدات توقع سے بہت زیادہ گرگئی ہیں، آئندہ چند مہینوں میں برآمدات میں 40فیصد تک جبکہ ترسیلات زر میں 30فیصد گراوٹ دیکھی جاسکتی ہے، کورونا سے پہلے بھی اور کورونا کے بعد بھی معیشت استحکام کی طرف جاتی نظر نہیں آتی ، اگلے 6 سے 12 مہینے پاکستانی معیشت کیلئے بہت سخت ثابت ہوں گے۔
پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ نئے مالی سال میں ریونیو بڑھانے کے نئے ذرائع تلاش کرنے ہونگے۔ نئے مالی سال میں چھوٹے قرضے دیئے جائیں گے تاکہ لوگ اپنا کاروبار ٹھیک سے کرسکیں۔ نئے سال کے بجٹ کے کچھ اہم انڈیکیٹرز ہونگے، ہماری کوشش ہوگی کہ صحت کے شعبے کو مزید بہتر کریں۔ جاری ترقیاتی اسکیمز مکمل کریں گے، نئے مالی سال کا بجٹ بنانے کیلئے نئی حکمت عملی بنانا ہوگی جس میں میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے۔
دوسری جانب زیادہ آمدنی والے حلقوں کیلئے کورونا ٹیکس کی تجویز دینے کے بعد ایف بی آر مزید آپشنز پر غور کر رہا ہے جن میں سگریٹس پر ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ، مینوفیکچررز سے شروع ہونیوالے وی اے ٹی موڈ میں جی ایس ٹی کی سپلائی چین میں توسیع، اثاثوں پر ایک وقت کا اراضی ٹیکس لگانے کیساتھ ساتھ چھوٹے اور متوسط کاروباروں کو ریلیف فراہم کرنا شامل ہیں۔ سب سے پہلے حکومت کا اگلے مالی سال کا ہدف کم کرنے کے لئے آئی ایم ایف سے بات چیت کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت ہدف 5103 ارب روپے سے کم کرکے 4800 تا 5000 ارب روپے کرنے کی بات چیت کی جائے گی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایف بی آر تمام ٹیکسوں کے ڈیٹا انضمام کیلئے آٹومیشن کا استعمال کریگا۔
 

امریکی اقتصادی صورتحال مشکل ترین، جرمن معیشت 2.2 فیصد سکڑگئی

پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے، آئی ایم ایف

کیا آپ جانتے ہیں کہ کورونا کے باعث مریکی اقتصادی صورتحال مشکل ترین ہو چکی ہے جبکہ جرمن معیشت پہلی سہ ماہی کے دوران 2.2فیصد سکڑگئی ہے۔اے ڈی بی کاکہناہے کہ کورونا سے 15کروڑ افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں ۔ امریکہ کے حالیہ معاشی اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معیشت مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور اگر لاک ڈائون ختم بھی کرلیاجائے تب بھی یہ صورتحال جلد بہتر نہیں ہوسکے گی۔ صنعتی پیداوار اور ریٹیل سیکٹر کو اپریل میں شدید دھچکا لگا،امریکہ میں اب تک 86ہزار سے زائد افرادکوروناسے ہلاک اور 3کروڑ 65 لاکھ کے قریب بے روزگار ہوگئے ہیں اور ہر ہفتے ہی لاکھوں شہری بے روزگاری الائونس کی درخواستیں دے رہے ہیں۔
پاکستان کا ذکر کریں تو مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے مطابق کورونا کی وجہ سے جاری مالی سال کے دوران ترقی کی شرح منفی1.5 جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران 2 فیصد رہنے کا امکان ہے‘برآمدات اورٹیکس ریونیو میں کمی آئی جبکہ بیروزگاری میں اضافہ ہورہاہے۔ انٹرنیٹ پرمنعقدہ سیمینار(ویبینار) میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا’’جاری مالی سال میں مالیاتی خسارے میں 9 فیصدکمی کاامکان تھا جسے اب 7 فیصد کردیا گیاہے، آئندہ مالی سال کے دوران خسارے میں مزید کمی اورجی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح میں بھی کمی لائی جائیگی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رواں سال عالمی معاشی بڑھوتری میں3 فیصد کمی کا اندیشہ ظاہرکیاہے، عالمی معیشت سکڑنے کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات متاثرہوئی ہیں۔ ‘‘
دوسری جانب آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ٹریسیا سانچز دابن نے وفاقی وزیر اقتصادی امور خسروبختیار سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کی مستقبل میں پائیدار معاشی ترقی کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔ ملاقات میں کورونا کے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر خسرو بختیار نے کہا پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی جانب سے آر ایف آئی کے ذریعے 1.38ارب ڈالر کی معاونت قابل تعریف اقدام ہے ، کورونا عالمی مسئلہ ہے جس سے مل کر لڑنا ہے۔دریں اثناء وفاقی وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار اور گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضاباقر نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تبادلہ خیال کیا عالمی مالیاتی اداروں کے اعلانات پرگفتگو کی گئی۔وفاقی وزیر اور گورنرسٹیٹ بنک نے اتفاق کیا کہ کورونا کے باعث معاشی نقصان کوریکور کرنے کیلئے مالیاتی استعداد میں اضافہ کیا جائیگا۔وفاقی وزیر نے گورنر سٹیٹ بنک کو وزیراعظم کی جانب سے قرضوں میں ریلیف کے عالمی اقدام سے متعلق آگاہ کیااور بتایا کہ اس کیلئے عالمی برادری سے رابطے میں ہیں۔انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے1 ارب 40 کروڑ ڈالر زکے ابتدائی ریلیف پیکیج سمیت دیگر عالمی اداروں کے اعلانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ٭: قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔۔زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔۔۔اور عملدرآمد عوام نے اپنے بھرپور تعاون سے کرنا ہے۔۔۔ ٭:لاک ڈائون میں نرمی حکومت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی آزمائش ہے۔۔۔کورونا کو شکست دینی ہے تو ہر طبقے کو حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا ۔۔کیونکہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا۔۔۔ ٭:زندگی کا پہیہ چلا نا ہے ساتھ ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔۔صرف پابندیا ں ہی اس موذی مرض کا علاج نہیں ہیں ، احتیاط سے بھی بھرپور کام لیا جا سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں

  کورونا کے باعث ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں بیٹھ جانا۔۔۔ اس وباء سے مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔اور اگر مقابلہ نہیں کرنا تو کم سے کم نمٹنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوروناسے کب جان چھوٹے گی ۔۔۔اب طے یہ کرنا ہے کہ اس وباء کے ہوتے زندگی کو کیسے بحال کرنا ہے ۔۔۔ ترقی کا پہیہ کیسے چلانا ہے ۔۔۔بند کاروبار کیسے کھولنے ہیں ۔ بڑھتی بے روزگاری کو کیسے روکنا ہے ۔۔۔ لڑکھڑاتی معیشت کو کیسے سہارا دینا ہے ۔۔۔نقصانات اور خساروں کے اندیشے کیسے کم کرنے ہیں ۔۔۔کیونکہ ۔۔۔مکمل لاک ڈائون بھی نہیں ہوا اور معیشت کا بھی نقصان ہوگیا۔۔۔ڈپریشن اور معاشی مسائل کے شکار عوام کو کیسے امید اور حوصلہ دینا ہے ۔۔۔۔

مزید پڑھیں

مکمل لاک ڈائون یا سمارٹ لاک ڈائون ۔ ۔ ؟  لاک ڈائون ہونا چاہیے یا نہیں ۔۔۔جواب کسی کے پاس نہیں ۔  لگتا ہے ڈاکٹرز ، ماہرین اور عالمی ادارے کسی اور پیج پر ۔۔۔اور عوام، تاجروں  میں بحث کسی اور پیج پر ہو رہی ہے ۔۔جواب اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے ۔۔۔کیونکہ اکیلے کورونا سے مقابلہ نہیں ، بھوک ، غربت ، بے روزگاری نے بھی سر ُاٹھا لیا ہے۔۔۔    

مزید پڑھیں