☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(امام النووی) انٹرویو(زاہد اعوان) متفرق(اے ڈی شاہد) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
فالس فلیگ آپریشن بار بار کیوں؟

فالس فلیگ آپریشن بار بار کیوں؟

تحریر : طیبہ بخاری

06-07-2020

 مقبوضہ کشمیر میں مظالم ، نیپال اور چین سے سرحدی تنازعات میں تیزی اور پاکستان کیخلاف اشتعال انگیز کارروائیاں ۔ جاسوس ڈرون طیاروں کا استعمال۔۔۔۔کیا چاہتی ہے مودی ڈاکٹرائن

 

سیاستدان ہتھیاروں پر لگنے والی دولت آئندہ وباء کو روکنے کیلئے استعمال کریں: پوپ فرانسس

 

 

 

 ٭:امریکہ میں کالے گورے کی سیاست شروع ہو چکی ہے تو جنوبی ایشیاء میں انڈیا اور اینٹی انڈیا محاذ گرم ہو چکا ہے ، قابل غور بات یہ ہے کہ یہ محاذ انڈیا خود گرم کر رہا ہے اور تسلیم بھی نہیں کر رہا ۔ ہے کوئی جو اِن دنوں مودی ڈاکٹرائن سے یہ سوال پوچھے کہ چین کیخلاف کہاں گیا ’’گھر میں گھس کر مارنے ‘‘ کا بیانیہ ۔۔؟بھارت کے اندر اورباہربسنے والے کروڑوں ذہنوں میں یہ سوال ضرور ابھر رہا ہو گا بھلے انہیں’’انتہا پسندوں کی ٹیم ‘‘ سے پوچھنے کا موقع ملے یا نہ ملے ۔۔۔۔یہ سوال بھی پوچھے جائیں گے کہ انڈیا، چین فوجی ٹکراؤ کتنا سنگین ہے ،لداخ کے محاذ پر کیا ہوا اور کیوں ہوا ؟۔۔۔ ایک طرف کورونا کی وباء اور دوسری جانب سرحدی کشیدگی کیوں ؟ ٹائمنگ کا مقصد کیا۔۔ ؟ جنوبی ایشیاء میں ہی ایک ساتھ چاروں طرف سے محاذ کیوں چھیڑا گیا ۔۔۔؟

مقبوضہ کشمیر میں مظالم ، نیپال اور چین سے سرحدی تنازعات میں تیزی اور پاکستان کیخلاف اشتعال انگیز کارروائیاں ،جاسوس ڈرون طیاروں کا استعمال۔۔۔۔کیا چاہتی ہے مودی ڈاکٹرائن ۔۔۔؟کبوتروں کو جاسوس قرار دے کر پاکستان کیخلاف زہر اگلنے اور میڈیا وار چھیڑنے کا مقصد کیا ہے ؟ بھارتی فالس فلیگ آپریشن کیلئے بنائے گئے منصوبے کے حقائق کو جانچنا ہوگالداخ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کیخلاف مکروہ منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں ان میں بعض نئے ہو سکتے ہیں جبکہ کافی پرانے ہیں ۔ فالس فلیگ آپریشن تو مودی ڈاکٹرائن کی اختراع ہے جس پر کئی برسوں سے سازشیں جاری ہیں ۔۔۔مودی ڈاکٹرائن مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔۔۔لیکن کیا اس بار یہ سب لداخ میں چین اور سرحد پر نیپال کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی کے بعد اپنی خفت مٹانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔۔۔۔؟
نئے منصوبے کے مطابق مقبوضہ وادی کے ایک ویران مقام پر دھماکہ خیز مواد اور کثیر رقم سے لدی گاڑی کو پکڑا گیا ، گاڑی کا ڈرائیور پیدل فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ، جس کا پیچھا کیا گیا نہ ہی اسے گرفتار کیا گیا۔ بھارتی حکام نے گاڑی کوایک دن تحویل رکھ کر اگلے دن دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، اس ڈرامے کا سب سے ناپختہ حصہ پکڑی ہوئی گاڑی تھی۔گاڑی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ حکام کی تحویل میں رہی اور اسے میڈیا کو بھی نہیں دکھایا گیا کیونکہ مودی ڈاکٹرائن ایسا نہیں چاہتی تھی۔ میڈیا گاڑی کو دیکھتا تو سوال پوچھتا کہ دھماکہ خیز مواد آیا کہاں سے اور کہاں سے خریدا گیا ؟ اس کے علاوہ بھی ان گنت سوالات پوچھے جاتے جنکا جواب مودی ڈاکٹرائن تسلسل سے نہ دے پاتی اس لئے سب کاغذوں میں یا خفیہ خفیہ رکھا گیا ۔ یہاں ہندوستان ٹائمز کی 26 مئی کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے چلیں جس میں بتایا جا چکا ہے کہ پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالا دھماکہ خیز مواد بھی بھارت سے حاصل کیا گیا تھا ۔۔۔۔
واپس چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف تو فالس فلیگ آپریشن کیلئے نیا ڈرامہ اندرونی خلفشار، انتقامی کاروائیاں اور کورونا وبا ء سے نمٹنے میں حکومت کی بری طرح ناکامی مودی سرکار کے پاگل پن کا عکاس ہے۔وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بارہا عالمی برادری کو بھارتی عزائم کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں ۔ دوسری جانب بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزیوں اورشہری آبادی پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ مودی ڈاکٹرائن کی سازشی تھیوری نہیں تو اور کیا ہے کہ بار بارجاسوس ڈرون بھی بھیجے جارہے ہیں پاک فوج نے ایل او سی پر گذشتہ چند دنوں میں 3 بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرائے ہیں ، ایک بھارتی کواڈ کاپٹر تونکرون سیکٹر میں 700 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اس نے کوئی حماقت کی تو منہ توڑ جواب ملے گا سرجیکل سڑائیک ڈرامہ ناکام ہوچکا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے اندر پہلے ہی سویلین آبادی انتہا پسند پالیسیوں کیخلاف سراپا احتجاج تھی جبکہ اب فوجی قیادت بھی بول پڑی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی قومی سلامتی کی پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اوربھارتی فوجی قیادت اور اجیت ڈوول میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔چین کیساتھ لداخ کے معاملے پر کشیدگی پر بھارتی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول ہم سب کو مروادے گا۔ خود بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج کا کہناہے کہ سول قیادت کشیدگی ختم کرانے میں ناکام ہوگئی ہے۔چین مسلسل لداخ میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا رہا ہے جبکہ بھارتی فوج کوششوں کے باوجود چینی فوج کو اپنی حدود سے پیچھے ہٹانے میں ناکام رہی ہے، مودی کی کشمیر پالیسی بری طرح ناکام ہو چکی ہے جبکہ چین نے بھارتی فوج کو بے نقاب کر دیا، ڈوول پالیسیوں کی وجہ سے افواج متنازع بن گئی ہیں اور جنرل بپن راوت نے اپنے عہدے کیلئے افواج کو سیاسی بنا دیا۔
بھارتی فوجی قیادت اور ڈوول گروپ میں اختلافات نے مودی ڈاکٹرائن کو پریشان کر ڈالا ہے کیونکہ اس وقت مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول کی غلط پالیسیوں نے بھارت کو بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے۔نیپال نے بھی آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں اور اپنی سرزمین پر بھارتی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے اسے جارحیت قرار دیا ہے۔ چین سے متعلق پالیسی اور جھوٹ پر جھوٹ نے بھارت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، بھارت اس وقت اقوامِ عالم میں تنہا نظر آ رہا ہے، پہلے پلوامہ ڈرامے میں اپنے 40 سپاہی مروائے پھربالاکوٹ میں ہزیمت اُٹھانا پڑی ، بھارتی ائیر فورس کی ناکامی سے بھی مودی ڈاکٹرائن کے خواب چکنا چور ہو ئے ۔ یہ مودی ڈاکٹرائن کے توسیع پسندانہ عزائم نہیں تو کیا ہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھایا ہے لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں

جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ۔مودی ڈاکٹرائن نے پہلے متنازع علاقے کا اسٹیٹس تبدیل کیا اور پھر بھارتی فوجوں کوداخل کیا گیا جس پر چینی فوج نے بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی فوجیوں کی درگت بنادی۔ چین کے سخت جواب پر مودی ڈاکٹرائن نے درپردہ مذاکرات کی کوشش کی اور کئی دنوں تک معاملے کو چھپانے اور میڈیا سے دور رکھنے کی کوشش کی لیکن یہاں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا کیونکہ بھارت کے اندر سے ہی غیر جانبدار صحافی سوشل میڈیا پر بول پڑے جبکہ ’’گودی میڈیا ‘‘ روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا رہا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ مشرقی لداخ کے علاقے میں5مئی کو بھارتی اہلکاروں کی چینی فوج سے جھڑپیں ہوئیں کئی بھارتی فوجی شدید زخمی ہوئے اور متعدد کو حراست میں بھی لیا گیا شمالی سکم میں 9 مئی کو محاذ کھولنے پر بھی بھارت کو منہ کی کھانا پڑی پھر میڈیا میں ایسی خبریں پڑھنے کو بھی ملیں کہ چینی فوجیوں نے مشرقی لداخ کے متنازع علاقے میں داخل ہونے پر بھارتی فوجیوں کے مکے مار مار کر منہ سُجا دئیے۔چینی فوج نے متنازع علاقے میں گشت کرنیوالی بھارتی فوج کا ناطقہ بند کردیا ۔

بھارت نے چین کی جانب سے کرارا جواب ملتے ہی مذاکرات کی کوششیں شروع کیں۔ خفت سے بچنے کیلئے بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ مشرقی لداخ کی سرحد پر چین نے گشت پر مامور اس کے فوجیوں کو نہیں پکڑا سب کارروائیوں کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی جاتی رہی لیکن چین نے واضح الفاط میں کہا کہ بھارت نے سکم اور لداخ میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی اور متنازع علاقے کا اسٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش بھی آ گئی جس میں ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ مودی نے ان سے چین کے ایشو پر رابطہ کیا ۔ اس خبر کو لیکر بھارت میں خوب لے دے ہوئی کہ مودی نے ٹرمپ سے رابطہ کیوں کیا ؟ اس پر بھارتی حکام نے جواب یہ دیا کہ مودی نے امریکی صدر سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان آخری رابطہ 4 اپریل کو ہوا تھا جس میں کورونا کی دوا پر بات ہوئی تھی۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ انہوں نے حالیہ دنوں میں وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی اور بھارت سرحدی معاملے پر چین سے براہ راست رابطے میں ہے۔
یہ تمام تفصیلات اور بیانات کیا یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مودی ڈاکٹرائن کا کائونٹ ڈائون شروع ہو گیا ۔۔۔یا خطے میں مزید تنائو پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے ۔۔۔؟کچھ بھی کہہ لیں گھر میں گھس کر مارنے کا بیانیہ جس بری طرح پٹ رہا ہے اس سے آنیوالے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خطے میں کون بے نقاب ہو رہا ہے اور کس کیخلاف سب ایک پیج پر جمع ہوتے جا رہے ہیں ۔ عالمی برادری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرے ،بد امنی اور کشیدگی کے خاتمے کیلئے تمام دیرینہ تنازعات کو پر امن حل کروائے ۔ چند روز قبل مسیحی برادری کے روحانی پیشوا 83سالہ پوپ فرانسس نے روم میں دعائیہ تقریب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ سیاستدان ہتھیاروں پر لگنے والی دولت آئندہ وباء کو روکنے کیلئے استعمال کریں۔۔۔۔۔ پوپ نے انسانیت کے بہتر مستقبل کیلئے بالکل درست کہا لیکن افسوس سیاستدان مخالف سمت میں سفر کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔

کون خطے میں امن بگاڑنے کی تلاش میں رہتا ہے؟

وادی گلوان لداخ اور اکسائی چین کے درمیان انڈیا اور چین کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔ یہاں پر اصل کنٹرول لائن (ایل اے سی) اکسائی چین کو انڈیا سے جدا کرتی ہے۔ یہ وادی چین کے جنوبی شنجیانگ علاقے اور انڈیا کے علاقے لداخ تک پھیلی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ انڈیا وادی گلوان کے قریب سکیورٹی سے متعلق غیر قانونی فوجی تیاریاں کر رہا ہے انڈین فضائیہ نے بھی جنگی طیاروں کی پیٹرولنگ شروع کر دی تھی۔دونوں ملکوںکے درمیان کشیدگی ختم کرنے کیلئے ڈویژن کمانڈر سطح پر مذاکرات کے کئی دور بھی ناکام ہو ئے۔’’ گلوبل ٹائمز‘‘میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ’’چین نے کشیدگی کم کرنے کیلئے امریکہ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے دونوں ممالک کو صدر ٹرمپ کی ایسی مدد کی ضرورت نہیں۔دونوں کو امریکہ سے خبردار رہنا چاہیے جو خطے میں امن اور بھائی چارے کو بگاڑنے کے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے۔‘‘امریکی صدر 2 بار ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایک انڈین صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا ’’میں آپ کے وزیراعظم کو بہت پسند کرتا ہوںوہ بھلے آدمی ہیں۔ انڈیا اور چین کے درمیان بڑے ٹکرائوجیسی صورتحال ہے دونوں گنجان آبادی والے ممالک ہیں۔ دونوں کے پاس طاقتور فوجیں ہیں۔ انڈیا خوش نہیں اور شاید چین بھی خوش نہیں ہے میں نے وزیراعظم مودی سے بات کی تھی۔میں مدد کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہوں، میں تیار ہوں۔‘‘
انڈیا نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر بہت احتیاط سے جواب دیا تھا۔ انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستوا نے کہا تھا ’’ہم لوگ پر امن حل کیلئے چین سے رابطے میں ہیں۔‘‘ کانگریس پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کیا تھا ’’چین کے ساتھ سرحد پر حالات پر مودی سرکار کی خاموشی سے مشکل وقت میں بڑی سطح پر قیاس آرائیوں کو طاقت مل رہی ہے حکومت کو سامنے آ کر واضح کرنا چاہیے اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں ملک کو بتانا چاہیے۔‘‘

کبوتر پاکستانی جاسوس ، ٹڈی دل دہشتگرد ۔۔۔
بھارتی میڈیا مودی کی حمایت میں اپنی ساکھ کھو بیٹھا

مودی ڈاکٹرائن پاکستان مخالفت کے بخار میں اس قدر شدت سے مبتلا ہو چکی ہے کہ اسے کورونا کی وباء سے نمٹنے کی فکر ہے نہ ہی لاک ڈائون سے بھوک اور بیروزگاری کا شکار ہونیوالے کروڑوں عوام کی پرواہ ۔ اور میڈیا ہے کہ مودی ڈاکٹرائن کا ترجمان بنا ہوا ہے کبھی کبوتروں کوپاکستانی جاسوس قرار دیدیا جاتا ہے تو کبھی ٹڈی دل کو دہشتگرد کہا جاتا ہے ۔ ایسے ایسے مضحکہ خیز تبصرے اور تجزئیے کئے جا رہے ہیں کہ اب بھارتی میڈیا جسے ’’گودی میڈیا ‘‘ کہا جاتا ہے اب اسے مودی حکومت کا ترجمان کہا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے کڑی تنقید بھی کی جا رہی ہے ۔بھارتی اینکر ارناب گوسوامی کی اس بات پر کہ پاکستان ٹڈیوں کو دہشتگرد بنا کر بھیج رہا ہے، انہیں سوشل میڈیا پر آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ تنگ نظری اور انتہا پسندی کی انتہا دیکھیں کہ ایودھیامیں رام مندر کی تعمیر شروع کی جا چکی ہے تو دوسری جانب ریاست اترپردیش میں پاکستان کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے الزام میں 2کشمیری طلبہ پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ،بتایا جا رہا ہے کہ انڈین پینل کوڈ کے تحت الزام ثابت ہوا تو طلباء کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔یہ تمام واقعات اور بھارت کی اندرونی مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یورپی پالیمینٹ نے بھارت کو خط لکھا ہے جس میں انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

چین ، انڈیا کشیدگی طویل عرصہ تک چل سکتی ہے

چین سے سرحدی تنازع اس قدر شدیدہے کہ نریندر مودی نے بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقات کی لیکن’’ فیس سیونگ‘‘ کا کوئی ایک موقع ابھی تک ہاتھ نہیں لگ سکااُلٹا سابق بھارتی جرنیلز اور ماہرین یہ تجزئیے کر نے پر مجبور ہیں کہ چین کا محاذ ان کیلئے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک سے زائد مثالیں دینے کی بجائے یہاں ہم آپ کوبھارت کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ وی پی ملک کے انٹرویو کی تفصیلات سے آگاہ کرتے چلیں جنہیں جان کر آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چین سے کشیدگی کو لیکر مودی ڈاکٹرائن کس قدر الجھن کا شکار ہے ۔ وی پی ملک کہتے ہیں ’’ میرے خیال میں چین اور بھارت کے مابین سرحدی کشیدگی کو فوجی سطح پر حل کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور اب شاید یہ معاملہ سیاسی اور سفارتی سطح پر ہی حل ہو گا۔ یہ کشیدگی کافی طویل عرصہ چل سکتی ہے کیونکہ اس کے پیچھے کارفرما عوامل پہلے سے کہیں مختلف ہیں اور ان کی نوعیت تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے۔

چین کی جانب سے انڈیا کے سرحدی علاقے میں مداخلت کی وجوہات جاننے سے قبل یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ معاملہ اس ہی مخصوص علاقے میں کیوں پیش آ رہا ہے اور اِس وقت ہی کیوں؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انڈیا لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے علاقے میں موجود اپنے انفراسٹرکچر کو گذشتہ کئی برسوں سے بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم چین اس پر نالاں ہے۔حال ہی میں وہاں ایک دریا پر (انڈین) آرمی انجینیئرز نے ایک پْل تعمیر کیا ہے جس کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا تھا۔ اس علاقے پر چین بھی کبھی کبھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر ہمارے لیے یہ راستہ اس لیے اہم ہے کہ یہ شیراک، دولت بیگ سے ہوتا ہوا قراقرم پاس تک جاتا ہے ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے ۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔جب ہم نے جموں و کشمیر (مقبوضہ کشمیر) میں آئینی تبدیلی کی تھی اور وہاں آئین کے آرٹیکل 35 اے کا نفاذ کیا تھا تو چین نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ ان کو قابل قبول نہیں ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ چین کا پاکستان کے ساتھ سٹریٹیجک اشتراک ہے۔

یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ چین کے اندرونی معاملات کیا چل رہے ہیں۔کورونا کے پس منظر میں چین کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ شی جن نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی ایسے علاقے جن پر چین کا دعویٰ ہے وہ واپس لے لیں گے۔ کئی وجوہات کی بنا ء پر چین ہمارے (انڈیا) مخالف چل رہا ہے اور پہلے سے موجود بھروسہ اب ختم ہو رہا ہے۔‘‘جب بھارت کے سابق آرمی چیف وی پی ملک سے پوچھا گیا کہ کیا آیا انڈیا کی جانب سے مختلف سرحدی علاقوں میں ہونے والی تعمیراتی سرگرمیاں موجودہ کشیدگی کی وجہ ہو سکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا ’’ انڈیا ایسا (تعمیراتی سرگرمیاں) آج سے نہیں بہت عرصے سے کر رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں کرنے کا منصوبہ 2000ء میں بن چکا تھا جبکہ اس پر عملدرآمد 2012ء سے شروع ہو ایہ نئی بات نہیں ہے، گذشتہ کئی برسوں سے وہاں (سرحدی علاقوں) سٹرکوں اورپُلوں کی تعمیر ہو رہی ہے۔ مگر یہ بات ضرور ہے کہ یہ سرگرمیاں چین کو کھٹکتی ضرور ہیں مگر صرف یہ وجہ نہیں ہو سکتی۔

چین اور انڈیا کے درمیان سرحدی علاقوں میں امن کے حوالے سے بہت سے معاہدے موجود ہیں اور جب بھی کسی سرحدی علاقے میں جھگڑے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو متاثرہ علاقے میں چین اور انڈیا کی افواج کے نمائندے ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس نوعیت کے معاملات نہیں ہوئے ہیں مگر اس مرتبہ جو ہوا ہے وہ میرے خیال میں تکنیکی سطح پر نہیں ہوا بلکہ سٹریٹیجک سطح پر ہوا ہے۔ شاید (اوپر بیان کی گئی) وجوہات کی بناء پر انہوں نے فیصلہ کیا ہو مگر کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے کہ انہوں نے ہمیں سرپرائز دیا ہو کیونکہ ان علاقوں میں ہماری افواج ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ چین اور انڈیا کے درمیان سرحد پر امن کے حوالے سے معاہدے ہیں مگر اب وجوہات کیا ہیں مودی حکومت کو اس کو دیکھنا ہو گا اور میرے خیال میں وہ دیکھ بھی رہے ہوں گے۔ موجودہ صورتحال اس سے مختلف ہے ایک ہی وقت میں اتنے وسیع سرحدی علاقے میں ایسا ہونا ایک مختلف بات ہے۔ ‘‘ اشاروں اشاروں میں وی پی ملک سب کچھ کہہ گئے اور تسلیم بھی کر گئے ، بھلے مودی ڈاکٹرائن مانے یا نہ مانے سوال یہ بھی ہے کہ کیا مودی ڈاکٹرائن طویل عرصے تک چین کیساتھ سرحدی کشیدگی برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے ؟

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کورونا کی مہلک وبا ء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، کسی ملک میں لاک ڈائون ختم ہو چکا ہے تو کہیں پھر سے لاک ڈائون کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کیو نکہ وبا ءکے باعث مریضوں اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی 22 فیصد آبادی کے کوروناکے شدید مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جان لیوا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ اور اثرات کی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے1 ارب 70 کروڑ افراد ذیابیطس، دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے امراض میں مبتلا ہیں، اور ایسے امراض میں مبتلا افراد میں کورونا کی علامات انتہائی سنگین شدت کی ہونگی ۔

مزید پڑھیں

  ٹرمپ کے دماغ میں گوبر بھرا ہے،صدارتی دفتر کیلئے فٹ نہیں، ذاتی عملہ انکی نقل اُتارتا ہے، روسی صدر پیوٹن کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ایک مچھلی کی طرح کھیل سکتے ہیں :جان بولٹن کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

مزید پڑھیں

  چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملٹری اکیڈمی میں گریجویشن تقریب میں شرکت کی،خطاب کے دوران پانی انہوں نے سپ بھرنے کے انداز سے پیا، وہ اپنا گلاس ایک ہاتھ سے تھام نہ سکے دوسرے ہاتھ سے گلاس سنبھالنا پڑا۔ تقریب میں آتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی ٹرمپ لڑکھڑائے ۔ ۔ ۔ ان تمام باتوں نے ماہرین اور عام عوام کو چونکا دیا ہے ، خاص کر ماہرین بول اْٹھے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے دماغ کا سکین کروالینا چاہیے۔ ٹرمپ کے دونوں ہاتھوں سے گلاس تھامنے پر ماہر نفسیات ڈاکٹر بینڈے لی نے کہا ’’ یہ ایک اعصابی علامت ہے اور انہیں دماغ کا سکین کرواناچاہیے۔‘‘

مزید پڑھیں