☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غورطلب(ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) ستاروں کی چال(مرزا وحید بیگ)
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جنگی جرائم

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جنگی جرائم

تحریر : طیبہ بخاری

06-21-2020

  چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملٹری اکیڈمی میں گریجویشن تقریب میں شرکت کی،خطاب کے دوران پانی انہوں نے سپ بھرنے کے انداز سے پیا، وہ اپنا گلاس ایک ہاتھ سے تھام نہ سکے دوسرے ہاتھ سے گلاس سنبھالنا پڑا۔ تقریب میں آتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی ٹرمپ لڑکھڑائے ۔ ۔ ۔

ان تمام باتوں نے ماہرین اور عام عوام کو چونکا دیا ہے ، خاص کر ماہرین بول اْٹھے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے دماغ کا سکین کروالینا چاہیے۔ ٹرمپ کے دونوں ہاتھوں سے گلاس تھامنے پر ماہر نفسیات ڈاکٹر بینڈے لی نے کہا ’’ یہ ایک اعصابی علامت ہے اور انہیں دماغ کا سکین کرواناچاہیے۔‘‘

صدارتی دوڑ میں ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن کے فنڈ ریزر نے بھی بیان داغ دیا کہ’’ حالیہ ویڈیوز ظاہر کرتی ہیں کہ ٹرمپ کو کچھ طبی مسائل ہیں۔‘‘ان بیانات کا جواب ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کچھ اس طرح دیا کہ ’’جس ریمپ سے تقریر کے بعد اتر رہا تھا وہ بہت سیدھا اور لمبا تھا اس میں کوئی ریلنگ نہیں تھی اور یہ سب بہت سلپری تھا۔ آخر میں گرنے کا جو انداز اپنایا وہ فیک نیوز والوں کے ساتھ مزاح کے طور پر کیا تھا۔ ‘‘۔۔۔۔۔
٭: سوچنے کی بات ہے کہ کہیں سیڑھیاں چڑھنے، اترنے ، گلاس پکڑنے اور پانی کا گھونٹ بھرنے کا انداز اہم، توجہ طلب اور لائق تبصرہ ہو جاتا ہے ماہرین بول اُٹھتے ہیں اور کہیں مسلسل جنگی صورتحال ، کشیدگی ،ہزاروں جانوں کا نقصان اور کروڑوں عوام کے مسائل نظر نہیں آتے یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دئیے جاتے ہیں ۔ جنوبی ایشیاء کے خطے کی مثال ہی لے لیجئے بلکہ اس خطے میں سے بھی صرف 3ملکوں پاکستان،بھارت اور افغانستان کو لے لیجئے جہاں امن سے زیادہ بد امنی ۔۔۔روٹی سے زیادہ بھوک ۔۔۔ پانی سے زیادہ پیاس اور سہولیات سے زیادہ مسائل ملیں گے ۔ ۔۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شائد ہی عالمی سطح پر کوئی طاقت اس صورتحال پر فکر مند ہو۔۔۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ کوئی بیان یا تبصرہ نہ ملتا ہو ۔۔۔ سب ملتا ہے پر کبھی کبھار ۔۔۔۔پھر ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ شائد یہ سب ’’فیک نیوز والوں کے ساتھ مزاح کے طور پر کیا جا رہا ہے ‘‘۔۔۔بہر حال کچھ بھی ہو جنوبی ایشیاء کی صورتحال اتنی سادہ نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے یا سمجھی جا رہی ہے نہ ہی اس میں سب کچھ اچانک رونما ہوتا ہے جتنا سمجھا جاتا یا سمجھا جا رہا ہے ۔
٭:ٔ’’مرنے کیلئے تیار ہیں لیکن سی اے اے اور این آر سی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں‘‘۔۔۔ یہ وہ نعرہ ہے جو پاکستانی بھارتیوں کیخلاف نہیں بلکہ بھارتی اپنے ہی ملک میں اپنی ہی حکومت اور اپنے ہی قوانین کیخلاف لگا رہے ہیں۔۔کیا یہ بھی پاکستانی سازش ہے ۔؟ تو ایک عام شخص جسکا تعلق سیاست یا سازشی نظریات سے نہ ہو تووہ فوری جواب دیگا ’’نہیں ہر گز نہیں‘‘ ۔۔تو پھر سوال یہ ہے کہ بھارت میں ہر ظلم یا زیادتی کیخلاف آواز بلند کرنیوالوں کو پاکستان جانے کے مشورے کیوں دئیے جاتے ہیں ۔۔ ۔؟
٭: ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب بھارت کے اندر بسنے والے اس کے شہری ’’مودی ڈاکٹرائن ‘‘ یعنی اپنی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں سے خوش نہیں تو بھلا مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام جو کئی دہائیوں سے ظلم سہتے آ رہے ہیں پچھلے 10ماہ سے اپنے ہی گھروں میں قید ہیں مسلسل لاک ڈائون کا عذاب سہہ رہے ہیں بھلا وہ اپنے حق خود ارادیت کو جس کی خاطر وہ ہزاروں جانیں قربان کر چکے ہیں کیسے مودی ڈاکٹرائن کے حوالے کر سکتے ہیں ۔۔۔؟
٭: سوال یہ بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کب تک رہے گی، کیوں وادی میں مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو 9 ماہ سے زائد عرصہ ہوچلاہے، گذشتہ سال 5 اگست سے تاحال تمام مواصلاتی رابطے کیوں منقطع ہیں،کیوں حریت قیادت اور سیاسی رہنما بدستور گھروں اور جیلوں میں بند ہیں ۔ ۔۔۔؟
٭: ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیوں کسی کو بھارت کے اندر ہونیوالا احتجاج نظر نہیں آ رہا ، کیوں دہلی کے شاہین باغ کا احتجاج نظر انداز کیا جا رہا ہے، مودی ڈاکٹرائن صرف خطے کیلئے ہی نہیں اپنے ہی ملک کی سالمیت کیلئے بھی خطرہ بن چکی ہے ، انتہا پسند پالیسیوں سے تنگ سیکولر و جمہوری نظریات رکھنے والے بار بار اپنے ہی سرکار کو متنبہ کر رہے ہیں کہ بھارت صرف ہندو ریاست بن کر نہیں رہ سکتا ، مسلمانوں ، دلتوں اور دیگر اقلیتوں پر عرصۂ حیات تنگ کر کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں کہلا سکتا ، کیوں اقلیتوں کو سنا نہیں جا رہا ۔۔۔؟
٭: ایک سوال یہ بھی ہے کہ کورونا کا قہر جاری ہے بھارت دنیا بھر میں اس قہر کا شکار ہونیوالوں میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آ چکا ہے روزانہ ہزاروں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں ، ریکارڈ اموات ہو رہی ہیں ، لوگ بھوک سے بھی مر رہے ہیں پھر بھی ہر ہمسایہ ملک کیساتھ تنائو اور جنگ کی سی صورتحال کا کیا مطلب ہے ۔۔۔جبکہ کسی ملک کی جانب سے پہل بھی نہیں کی گئی ۔۔۔؟
٭: چین کیساتھ محاذ آرائی زوروں پر ہے ، پورے بھارت میں چینی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے، دوسری جانب نیپال کیساتھ سرحدی جھڑپیں جاری ہیں ، نیپالی پارلیمینٹ کے فیصلوں اور نیپال کے نقشے پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس پر بھی بس نہیں افغانستان میں بھی مودی ڈاکٹرائن کو ’’اپنا کردار ‘‘ چاہئے ۔۔۔آخر ان سب حرکتوں کا مقصد کیا ہے ۔۔۔؟
٭: یہ سب کیا ہے اور کب تک چلتا رہے گا ، کب تک خطہ ایک انتہا پسند گروہ یا ڈاکٹرائن کے ہاتھوں یرغمال بنا رہے گا ۔۔۔آخر کب تک ۔۔۔؟ کب تک خطے پر جنگ کے بادل ہی منڈلاتے رہیں گے کب تک امن کی تازہ ہوا نہیں چلے گی۔۔۔یا صرف بارود کی بُو اور بھوک ہی اس خطے کا مقدر رہے گی ۔۔۔۔؟
اقتدار سنبھالتے ہیں تقریباً 2سال قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے مودی سرکار کو خطے میں پائیدار امن اور بقائے انسانیت کیلئے ایک قدم بڑھانے اور جواب میں خود دو قدم آگے بڑھنے کی پیشکش کی تھی لیکن اسکا مثبت جواب اب تک نہیں آیا الٹا جواب میں جنگ جیسی صورتحال ملی ۔ یہی وجہ ہے کہ سافٹ امیج کے حامل وزیر اعظم عمران خان کو کہنا پڑا کہ ’’ہندوتواکے خمیرسے جنم لینے والی مودی سرکارکی توسیع پسندانہ پالیسیاں بھارت کے ہمسایوں کیلئے مسلسل خطرہ ہیں۔بی جے پی سرکار مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جمانے کیلئے جو کچھ کر رہی ہے وہ چوتھے جنیواکنونشن کے تحت ایک جنگی جرم ہے۔ شہریت کے متنازع بھارتی قانون سے پاکستان کو جعلی کارروائی کا خطرہ ہے جبکہ بھارت کے نیپال اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعات صورتحال کی سنگینی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر پر دعویٰ کے بعد یہ سب! میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ سفاک مودی سرکار بھارتی اقلیتوں جنہیں اس نے کمتر شہریوں کا درجہ دے رکھا ہے،کیلئے ہی خطرناک نہیں بلکہ علاقائی امن کو بھی اس سے نہایت خطرہ ہے ۔ نازیوں کی لیبینز ورم (لیونگ سپیس) کی طرح ہندوتوا کے خمیر سے جنم لینے والی مودی سرکار کی توسیع پسندانہ پالیسیاں بھارت کے ہمسایوں کیلئے مسلسل خطرہ ہیں۔‘‘
پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بھارتی وزیر دفاع کا بیان پر واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ بیان پاکستان مخالف جنون کی عکاسی کرتا ہے۔ 5 اگست کا بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش کا حصہ ہے اور ڈومیسائل جیسے قوانین کشمیریوں کے حقوق دبانے کی کوشش ہیں۔ دنیا جب کورونا وباء کیخلاف جنگ میں مصروف ہے، ایسے میں بھارتی افواج نے جعلی مقابلوں اور گھرگھر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے نام پر ظلم و جبر مزید تیز کردیا ہے۔ جنازوں کیلئے کشمیری شہداء کے جسد خاکی تک ان کے گھر والوں کو واپس نہیں کیے جا رہے، اختلاف رائے رکھنے والوں کو خاموش کرایا جارہا ہے یہاں تک کہ تمام حریت رہنما مسلسل قید وبند کا شکار ہیں۔ پاکستان بے گناہ کشمیریوں کو درپیش مشکلات اور مصائب دنیا کے سامنے لاتا رہے گا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ناقابل تنسیخ حق کی بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔
یہاں برطانیہ کی لیبرپارٹی کے رہنما کئیر اسٹارمر کے خط کا ذکر بھی کرتے چلیںجو انہوں نے پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان کے نام لکھا جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ پاکستان اور بھارت کو مسئلے کا حل کشمیریوں کے ساتھ مل کر نکالنا چاہیے۔ ہمیں کمیونیٹیز کے درمیان تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کے اہلکاروں پر پابندیاں لگائے جانے کے برعکس برطانیہ اور فرانس نے عالمی عدالت انصاف کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کے تحت عالمی عدالت انصاف کے بعض اہلکاروں پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔یہ پابندیاں آئی سی جے کے ایسے اہلکاروں پر لگائی جا رہی ہیں جو افغانستان میں مبینہ نسل کشی کے واقعات میں امریکی فوجیوں کے ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ برطانیہ آئی سی سی کی اصلاحات کی حمایت جاری رکھے گا لہٰذا عالمی عدالت انصاف عالمی سطح پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات جاری رکھے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں کے اعلان کو عدالت پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف کے اہلکاروں پر عائد پابندیاں فوری طورپر واپس لی جائیں ۔۔۔کیا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھی عالمی برادری ایسا ہی مؤقف اپنائے گی ، مسئلہ کشمیر پر بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائیگا پر امن حل حل پر زور دیا جائیگا اور کشمیریوں کی نسل کشی پر بھارتی قابض افواج کیخلاف تحقیقات کرائی جائیںگی۔۔۔ایسا ہو گا تو تبھی جنوبی ایشیاء میں امن اور ترقی ممکن ہو سکے گی ۔ وگرنہ عالمی انصاف اور طاقتوں پر سوالات اٹھتے رہیں گے اور کروڑوں زندگیاں دائو پر لگی رہیں گی ۔

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کھلا چیلنج

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر دفاع کو چیلنج دیا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کشمیری ان کے ساتھ ہیں تو میں انہیں دعوت دیتا ہوں کہ مظفرآباد آ جائیں جتنا کشمیری آج مودی سرکار سے متنفر ہے اتنا پچھلی 7 دہائیوں میں نہیں تھا۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیری ان کے ساتھ ہیں تو میں دعوت دیتا ہوں کہ مظفرآباد آ جائیں، وہاں آکر دیکھ لیں کتنے کشمیری ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع مجھے یا عمران خان کو سری نگر آنے کی دعوت دیں، دیکھ لیتے ہیں کہ کتنے کشمیری ہماری بات پر توجہ دیتے ہیں۔مودی سرکار غلط فہمی کا شکار ہے، اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔۔۔ ایک نجی چینل سے گفتگو میں وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا بھارت اپنے مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے جو کشمیریوں سے رویہ روا رکھا ہوا ہے،

اس صورتحال میں بھارت سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور دنیا بھر میں کشمیر پر بات کرنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ بھارت میں کورونا وائرس کی صورتحال بہت پیچیدہ ہو گئی ہے، وہاں مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ بھارت کے ارادے اچھے دکھائی نہیں دیتے، بھارتی اقدامات سے خطے کے امن واستحکام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ دنیا کو بھارت کے عزائم کا نوٹس لینا چاہیے، بھارت غیرقانونی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے اور آبادیاتی تناسب بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے اور بلوچستان میں بھی شورش کو ہوا دے رہا ہے۔ نیپال کے ساتھ بھی بھارت کا جارحانہ رویہ سب کے سامنے ہے جبکہ وہ لداخ کے متنازع علاقے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے جس سے پورے خطے کا امن و استحکام داؤ پر لگا ہے  مودی سرکارنے سیکولرازم کو دفن کردیا ہے اور ہندوتوا سوچ کو ہوا دے رہا ہے جبکہ بھارت کے اندرونی حالات دگرگوں ہیں اور معیشت کے برے حالات ہیں ۔

کشمیری بچوں میں ذہنی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں

 مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کو کورونا کی آڑ میں کشمیری نو جوانوں کو ستانے کا نیا بہانہ مل گیا ہے۔بھارتی فورسز قرنطینہ کے نام پر وادی میں واپس آنے والے طلباء کو طرح طرح سے ذہنی و جسمانی اذیتیں پہنچارہی ہیں۔کورونا کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو ستانے اور مشکلات کا ذکر طلباء اور ان کے عزیز و اقارب سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں۔ایک طالبہ نے بتایا کہ طلباء کو ائیرپورٹ سے فوجی گاڑیوں میں بی ایس ایف کیمپ لے جایا گیا طالبات کو اندر جانے سے انکار کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا بھارتی فورسز پر جنسی زیادتی کے الزامات زبان زدعام ہیں اور ایسے میں طالبات کو بھی ان مراکز میں رکھنے پر والدین شدید بے چینی اور کرب میں مبتلا ہیں۔حال ہی میں ایک قرنطینہ مرکز میں لڑکی پر پولیس کانسٹیبل کے حملے کا واقعہ سامنے آیا تھا جبکہ قرنطینہ سینٹرز میں سہولیات اور صفائی نہ ہونے پر بھی طلباء سے برا سلوک کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب کورونا کے بعد وادی کے بدتر حالات کے باعث بچوں میں ذہنی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔یونیسیف کے تحت چلنے والے ایک ہسپتال کے مطابق وباء کے باعث ذہنی مسائل سے دو چار 300 بچے سامنے آچکے ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کورونا کی مہلک وبا ء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، کسی ملک میں لاک ڈائون ختم ہو چکا ہے تو کہیں پھر سے لاک ڈائون کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کیو نکہ وبا ءکے باعث مریضوں اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی 22 فیصد آبادی کے کوروناکے شدید مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جان لیوا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ اور اثرات کی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے1 ارب 70 کروڑ افراد ذیابیطس، دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے امراض میں مبتلا ہیں، اور ایسے امراض میں مبتلا افراد میں کورونا کی علامات انتہائی سنگین شدت کی ہونگی ۔

مزید پڑھیں

  ٹرمپ کے دماغ میں گوبر بھرا ہے،صدارتی دفتر کیلئے فٹ نہیں، ذاتی عملہ انکی نقل اُتارتا ہے، روسی صدر پیوٹن کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ایک مچھلی کی طرح کھیل سکتے ہیں :جان بولٹن کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

مزید پڑھیں

 جولائی کے آخر ، اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہونگے ،فرنٹ لائن پر حالات تسلی بخش نہیں،بے احتیاطی کی تو سب کی زندگی اور ملک کو خطرے میں ڈالیں گے

مزید پڑھیں