☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(عبدالمجید چٹھہ) عالمی امور(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خواتین(نجف زہرا تقوی) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) فیچر(ایم آر ملک)
امریکہ میں ’’سیاسی جنگ ‘‘

امریکہ میں ’’سیاسی جنگ ‘‘

تحریر : طیبہ بخاری

06-28-2020

  ٹرمپ کے دماغ میں گوبر بھرا ہے،صدارتی دفتر کیلئے فٹ نہیں، ذاتی عملہ
انکی نقل اُتارتا ہے، روسی صدر پیوٹن کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ
ایک مچھلی کی طرح کھیل سکتے ہیں :جان بولٹن کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

  کنگ فو وائرس ہو ۔۔۔خلائی مخلوق ہو یا جان بولٹن کی کتاب ۔ ۔ یہ تینوں آئندہ امریکی انتخابات کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ انتخابی جلسے، ریلیاں، میٹنگز اور فنڈ ریزنگ شروع ہو چکی ہیں ۔ ۔ اس وقت صدر ٹرمپ اپنی پوزیشن اور پالیسیاں کلیئر کرنے کی تگ و دو میں ہیں ۔۔۔ ابھی چند روز قبل کی بات ہے کہ مشرق بعید میں ساحلی علاقے کے نزدیک امریکی(بی52) بمبار طیارے روس کی سمندری حدود کے قریب پرواز کر رہے تھے کہ روسی لڑاکا طیاروں نے امریکی طیاروں کا راستہ روک لیا، روسی لڑاکا طیاروں نے فوری اڑان بھری اور امریکی طیاروں کا راستہ روکا۔۔۔امریکہ کے اندر کی صورتحال کا ذکر کریں تو وہاں بھی صدر ٹرمپ کا ’’راستہ‘‘ روکنے کی کوششیں جاری ہیں ، کبھی صدر کی دماغی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تو کبھی کورونا صورتحال اور دیگر پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے یہ سب کچھ اس لئے بھی ہے کہ صدارتی انتخابات نزدیک آتے جا رہے ہیں اور انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے ۔ ابھی انتخابی مہم کے ایک طرف ٹرمپ اور دوسری طرف جو بائیڈن نظر آ رہے ہیں آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ۔ ۔
ٹرمپ زیادہ تر امریکیوں کے خیالات سے’’ مختلف‘‘ ہیں وہ ایسے کہ عارضی باڑ جس نے وائٹ ہائوس پر مظاہرین کو جدا کیا تھا وہ ہٹ تو گئی ہے لیکن اسکے مکین صدر ٹرمپ، پہلے سے کہیں زیادہ جدا دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ رائے شماری بشمول خبر ایجنسی/ اِپساس کی رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ ڈیموکریٹک چیلنجر جو بائیڈن سے نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔ لیکن زیادہ انکشاف کی بات یہ ہے کہ یہ رائے شماری ظاہر کرتی ہے کہ صدر کا 25 مئی کو جارج فلائیڈ کی موت کے بعد تیزی سے امریکی انتخابات سے تعلق ٹوٹ گیا ہے اورانکے خیالات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔ مارچ سے رائٹرز / اِپساس پولنگ کے اعداد و شمار کے تجزئیے کے مطابق ٹرمپ ان امور کا کم مقبول رخ اختیار کرتے ہیں جنہیں امریکی اس وقت مسئلہ کہتے ہیں جیسے کہ کورونا وائرس وبائی مرض اور پولیس اصلاحات۔ ۔۔جبکہ امریکی سپریم کورٹ سے بھی ’’چونکا ‘‘ دینے والے فیصلے آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر امریکی عدالت عظمیٰ نے جون میں ہی ایک ایسا فیصلہ سنا یا جس کی ٹرمپ انتظامیہ کو توقع نہیں تھی ، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی تارکین وطن کیساتھ امریکہ آئے بچوں سے متعلق پروگرام’’ ڈاکا‘‘ ختم نہیں کر سکتی۔

یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ پروگرام امریکہ میں مقیم تارکین وطن کے ساڑھے چھ لاکھ بچوں کو بے دخلی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔کنزرویٹو چیف جسٹس جان جی رابرٹس نے عدالت کے4 لبرل ججوں کے ساتھ مل کر پانچ چار کے فرق سے یہ رولنگ دی۔ اسے صدر ٹرمپ کی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو2 سال سے اس پروگرام کو ختم کرنے کے خواہش مند ہیں۔یہ پروگرام 2012ء میں اس وقت کے صدر باراک اوباما نے بنایا تھا تاکہ اس کے تحت آنیوالے نوجوان امیگرنٹس امریکہ میں رہتے ہوئے سکول جائیں اور کام کر سکیں۔ یہ پروگرام بعد میں مجوزہ ’’دا ڈریم ایکٹ‘‘ کا حصہ بنا اور نوجوان امیگرنٹس کو’’ ڈریمرز‘‘ کا نام دیا گیا۔صدر ٹرمپ نے اس فیصلے پرتنقید کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ’’ سپریم کورٹ سے خوفناک اور سیاسی نوعیت کے فیصلے آ رہے ہیں، جو ان لوگوں کیلئے دھچکے کا باعث ہیں جو فخر سے خود کو ری پبلکن یا قدامت پرست کہتے ہیں۔ کیا آپ یہ تاثر لے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ مجھے پسند نہیں کرتی؟‘‘۔۔۔کچھ ایسا ہی ہوا جون ٹینتھ ڈے پر جب امریکی ایوان نمائندگان سے چاروں سپیکرز کی پورٹریٹس ہٹادی گئیں۔

جون ٹینتھ ڈے امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی یاد کے طورپر منایا جاتا ہے یہ وہ دن تھا جب مغربی حصے میں لوگوں نے اعلان نجات کیا تھا، اس بار یہ دن ایسے موقع پر آیا ہے جب سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک کے بعد دوسری ریاست میں سیاہ فاموں کو قتل کیا گیا اور ان واقعات کیخلاف مظاہرے جاری ہیں ۔ امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے مطابق اس دن کو مناتے ہوئے ان چاروں سپیکرز کی تصاویر کیپٹل ہل سے ہٹادی گئی ہیں جنہوں نے کنفیڈریسی دور میں کام کیا تھا۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم کی بات کریں تو چند روز قبل انہوں نے کورونا خدشات کو نظر اندازکرتے ہوئے اوکلاہوما میں انتخابی جلسہ کیا یہ کورونا وباء کے آغاز سے اب تک اُن کا پہلا جلسہ تھا۔ جلسے سے قبل انتظامات کرنے والی ٹیم کے 6 ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد انہیں قرنطینہ کردیا گیا ۔ اس جلسے کو قانونی طور پر چیلنج کیا گیا تھا کہ کہیں اس کے ہونے سے کورونا مزید نہ پھیلے۔تاہم ریاستی سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا جس کے بعد 19 ہزار لوگوں کی گنجائش والے بینک آف اوکلا ہوما سینٹر میں یہ جلسہ کیا گیا ۔ اوکلاہوما میں وائرس کے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مقامی طبی اہلکاروں نے اس جلسے کے انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا تاہم صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جلسہ گاہ آنے والوں کیلئے ایس او پیز تیار کئے جسکے تحت جلسہ گاہ آنے والے ہر شخص کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کو امید ہے کہ یہ جلسہ انہیں نومبر میں ہونیوالے صدارتی انتخابات کیلئے سیاسی قوت فراہم کریگا۔علاوہ ازیں ٹرمپ نے کورونا کی وباء کا الزام ایک بار پھر چین پر لگاتے ہوئے اس کو’’ چائنہ وائرس‘‘ اور ’’کنگ فو وائرس‘‘ کا نام دیا۔ ریاست اوکلاہوما کے شہر ٹلسا میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ کورونا کو کئی نام دیئے جا سکتے ہیں چائنہ وائرس اور کنگ فو وائرس بھی کہا جا سکتا ہے۔ ہماری حکومت کے اقدامات نے ہزاروں امریکیوں کی جانیں بچائی ہیں۔‘‘ صدر ٹرمپ کی ماسک نہ پہننے کی عادت کو بھی میڈیا میں آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ’’جہاں تک ماسک پہننے کا تعلق ہے، ٹرمپ کوئی مثالی کردار ادا نہیں کر رہے ہو سکتا ہے کہ وہ اسے کمزوری کی علامت سمجھتے ہوں۔ ہو سکتا ہے انہیں اسکے پہننے کی کوئی وجہ سمجھ نہ آ رہی ہو۔ ‘‘ ٹرمپ نے ریاست مشی گن میں ایک فیکٹری کا دورہ کیا ، دورے کے دوران بھی انہوں نے ماسک پہننے سے اجتناب کیا۔

حالانکہ ریاستی وزیر انصاف دانا نیسل نے انہیں واضح طور پر ایسا کرنے کا کہا تھا۔کار ساز ادارے فورڈ کی اس فیکٹری میں کورونا بحران کے دوران وینٹیلیڑز تیار کیے جا رہے ہیں۔ نیسل نے ایک خط کے ذریعے صدر ٹرمپ کو بتایا تھا کہ ریاست میں آج کل ماسک پہننا لازمی ہے اور یہ ضابطہ امریکی صدر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا ’’میں نے فیکٹری کا دورہ شروع کرتے وقت ماسک پہنا تھا،میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ پریس اسے دیکھ کر خوش ہو۔‘‘ انہوں نے ماسک اپنی جیب سے نکال کر دکھایا اورزور دے کر کہا کہ ان کا اور ان کے ارد گرد رہنے والے تمام افراد کا کورونا ٹیسٹ ہو چکا ہے۔ اس لئے انہیں ماسک پہننے کی ضرورت نہیں‘‘ ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے واضح طور پر کہا کہ’’ اگر امریکہ کو کورونا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو حکومت پہلے کی طرح کی سخت پابندیاں نہیں لگائے گی اگر ایسا ہوا تو ہم آگ بجھائیں گے، ملک کو بند نہیں کریں گے۔‘‘ ٹرمپ نے اس موقع پر ریاستی گورنر سے کورونا پابندیوں میں نرمی کرنے کا کہا تاکہ امریکی اقتصادیات دوبارہ سے اپنی پٹڑی پر آ سکے۔
یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ جارج ڈبلیو بش کے دور میں وزیرخارجہ رہنے والے کولن پاول ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں ۔ کولن پاول کی جانب سے جوبائیڈن کی حمایت کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے ان پر کڑی تنقید کی اور انہیں عراق جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا ڈالا۔ ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ میں پاول کو عراق جنگ میں امریکہ کو غیر ضروری طور پرالجھانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا ’’ کولن پاول مشرق وسطیٰ کی تباہ کن جنگوں میں ہماری شمولیت کا ذمہ دار ہے۔ وہ ایک مغرور شخص ہے اور ایک دوسرے مغرور جو بائیڈن کو ووٹ دینا چاہتا ہے۔کیا پاول نے یہ نہیں کہا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے؟ عراق کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا مگر ہمیں جنگ میں الجھا دیا گیا۔‘‘مزید برآں ٹرمپ نے ایک بڑا اعلان بھی کر دیا انہوں نے کہا کہ وہ جرمنی سے ساڑھے 9 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے کابینہ کے اجلاس میں جرمنی میں تعینات امریکی افواج کی تعداد میں کمی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جرمنی پر الزام عائد کیا کہ جرمن حکومت نیٹو کے تحت اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی اور امریکہ کے ساتھ تجارت میں بھی جرمنی کا رویہ درست نہیں ۔جرمنی نے نیٹو کو مالی امداد کی ادائیگی میں غفلت کا مظاہرہ کیا اور میں جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے 25000 کر رہا ہوں اگر جرمنی نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو جرمنی سے اپنے فوجی واپس بلا لونگا ہم جرمنی کا تحفظ کر رہے ہیں اور وہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے یہ تو کوئی مناسب بات نہیں ۔ فوج کی تعیناتی پر کافی خرچ آتا ہے اور یہی نہیں نیٹو کے ارکان اب امریکہ کے ساتھ اتحاد کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ جرمنی نے اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)کا 2 فیصد حصہ نیٹو کو دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اسے پورا نہیں کر رہا۔ نیٹو کے رکن ملکوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2024 ء تک 2 فیصد رقم نیٹو کو دیں گے۔ جرمنی جب تک خرچ کے اپنے ہدف کو پورا نہیں کرتا امریکہ وہاں اپنی فوج کی تعداد کم کر دیگا۔ٹرمپ نے تجارت کے سلسلے میں بھی جرمنی پر غلط رویہ اپنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکہ نے کئی سال کی تجارت پر اربوں ڈالر زخرچ کیے لیکن ہمیں تجارت اور نیٹو کے حوالے سے بھی جرمنی سے تکلیف پہنچی ، جرمنی فوجیوں کی موجودگی سے منافع کما رہا تھا کیونکہ اس کے فوجیوں نے ملک میں اپنا پیسہ خرچ کیا۔ دوسری جانب جرمنی کا کہنا ہے کہ اسے2031 ء تک اس ہدف تک پہنچ جانے کی امید ہے۔۔۔۔۔یہ تھی امریکہ میں جاری ’’سیاسی جنگ ‘‘ کی صورتحال ، نومبر تک اس میں کیا کچھ مزید ہو گا اس کے بارے میں بھی ہم آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے ۔

خلائی مخلوق اور ٹرمپ کا انکار
2 جولائی 1947 ء کو امریکہ میں ایک پراسرار واقعہ پیش آیا تھا، طوفانی رات کو امریکی قصبے روزویل میں مبینہ طور پر ایک اڑن طشتری آگری تھی، تاہم اب تک واضح نہیں ہوسکا کہ واقعے کی اصل حقیقت کیا ہے۔ خیال رہے کہ روزویل کی یہ کہانی آج بھی لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے، ہمیشہ معمہ بنے رہنے والے اس واقعے کی یاد میں ہر سال 2 جولائی کو ورلڈ یو ایف او ڈے منایا جاتا ہے۔
ڈون جر امریکی صدر کے سب سے بڑے بیٹے ہیں، انہوں نے امریکی ٹی وی انڈسٹری میں اپنی شناخت بنائی، انہیں بااثر بزنس مین کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔ ڈون جر نے یوٹیوب پر اپنے والد ٹرمپ کا انٹرویو کیاجس میں اہم موضوعات پر سوالات کیے اور’’ خلائی مخلوق‘‘ کا تذکرہ بھی چھیڑا۔ڈون جرنے انٹرویو کے دوران سوال کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم جاننا چاہتے ہیں کیا یہاں خلائی مخلوق موجود ہے ‘ ‘؟ جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا ’’ خلائی مخلوق کے حوالے سے اہم معلومات اور دلچسپ باتیں سنی ہیں ،میں اس حوالے سے باتیں جانتا ہوں لیکن نہیں بتاؤں گا۔‘‘

ڈیمو کریٹس کا بولٹن کی گواہی کا مطالبہ

2020ء کے آغاز میں ہی امریکہ میں ڈیموکرٹس نے اپنے مطالبے کو دہرایا تھا کہ صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کے مقدمے میں قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کی گواہی لی جائے۔ڈیموکریٹس کا یہ مطالبہ بولٹن کی کتاب میں ان دعوؤں کے بعد آیا تھا جسکے کچھ اقتباسات نیویارک ٹائمز میں شائع ہوچکے ہیں۔ بولٹن نے اپنی کتاب میں سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ ٹرمپ امریکی صدر کے عہدے کیلئے انتہائی غیر موزوں ہیں، نومبر کے انتخابات جیتنے کیلئے چین سے مدد مانگی ہے۔ مائیک پومپیو نے مجھے پر چی پر لکھ کر دیا کہ ٹرمپ کے دماغ میں گوبر بھرا ہے، ٹرمپ کا ذاتی عملہ ان کی نقل اُتارتا ہے، وہ صدارتی دفتر کیلئے فٹ نہیں۔‘‘امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جان بولٹن نے ٹرمپ کو صدارتی دفترکیلئے نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’روسی صدر پیوٹن کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ کیساتھ ایک مچھلی کی طرح کھیل سکتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ٹرمپ صدارتی عہدے کیلئے فٹ ہیں اور وہ اس کام کو انجام دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔‘‘ بولٹن کی کتاب کی اشاعت رکوانے کی وائٹ ہائوس کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔صدر ٹرمپ کی نظر میں کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے جس میں من گھڑت کہانیاں لکھی گئیں اور ان سے منسوب باتیں غلط ہیں۔دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ اس کا امریکی الیکشن میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے دورِ صدارت کے بارے میں پڑھنے کیلئے کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں، لیکن جان بولٹن کی کتاب خاصی دلچسپی کا باعث بنی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مصنف ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے جبکہ دوسر ی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے10 بڑے دعوے کیے ہیں۔ان کی تصنیف ’’دی روم وئیر اٹ ہیپنڈ‘‘ (وہ کمرہ جہاں یہ سب کچھ ہوا) امریکی صدر کی جیو پولیٹکس کے بنیادی حقائق کے بارے میں انکی جہالت پیش کرتی ہے، انکے اکثر فیصلوں کے پیچھے دوبارہ منتخب ہونے کی خواہش کار فرما ہوتی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب کانگریس ٹرمپ کا مواخذہ کر رہی تھی تو بولٹن کیوں خاموش رہے جبکہ اُس وقت خود ٹرمپ نے اپنے سیکیورٹی امور کے مشیر جان بولٹن کو’’ نالائق‘‘ اور’’ بور کرنے والا بڈھا احمق‘‘ کہا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے بہت کوشش کی کہ وہ اس کتاب کی اشاعت رکوائے، لیکن امریکی میڈیا کو پیشگی نسخے مل چکے ہیں جس میں سے انہوں نے اقتباسات شائع کرنا شروع کر دئیے ہیں۔کتاب میں چشم کشا الزامات کی تفصیلات بے شمار ہیں جنہیں مختصراً بیان کیا جائے تو ’’ ٹرمپ دوبارہ انتخابات جیتنے کیلئے چین سے مدد مانگ رہے تھے، جیلوں کی تعمیر کو ’’درست اقدام ‘‘ قرار دیا، آمروں کو ’’ذاتی طور پر مراعات کی پیشکش کی‘‘، مواخذے کی کوششیں،دو سے زیادہ مرتبہ صدر بننے کی خواہش، ٹرمپ کو معلوم نہیں تھا کہ برطانیہ جوہری قوت ہے یا یہ کہ فِن لینڈ روس کا حصہ تھا، امریکہ نیٹو سے نکل جانے کے بہت ہی قریب تھا، وینزویلا میں فوجی مداخلت اور ’’ساتھیوں کے مذاق‘‘ جیسے انکشافات شامل ہیں ۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے جان بولٹن کو غدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت افسوسناک اور خطرناک بات ہے جان بولٹن کا عوامی کردار ایک غدار کا ہے جس نے عوام کے اعتماد کو توڑ کر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

جوبائیڈن نے مئی میں سب سے زیادہ فنڈ جمع کیا

امریکی صدارتی امیدوار جوبائیڈن کیلئے مئی کا مہینہ بہترین ثابت ہوا ہے کیونکہ انہوں نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے ساتھ مل کر مئی میں سب سے زیادہ 8 کروڑ 8 لاکھ ڈالرز فنڈز اکٹھا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مہم میں کسی بھی ماہ کے دوران یہ سب سے زیادہ فنڈ ہے ۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو سابق حریف ہیلری کلنٹن سے بھی کمزور قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ وہ باآسانی دوبارہ الیکشن جیت جائیں گے لیکن یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ انہیں ہراسکتی ہے۔امریکی اخبار کو خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے 2016ء میں ہیلری کلنٹن سے مقابلے کا موازنہ کیا اور کہا کہ جوبائیڈن کہیں زیادہ کمزور امیدوار ہیں۔ امریکہ بہتر سے بہتر ہورہا ہے۔ تیسرے کوارٹر میں جی ڈی پی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہوگی تاہم ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ لاک ڈائون ختم نہ ہو، وہ سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں کہ ملک نہ کھلے۔مجھے سب سے زیادہ خدشات ڈاک کے ذریعے ہونے والی ووٹنگ سے ہیں ڈیموکریٹس دھوکے بازی کرتے ہیں اور الیکشن چرا سکتے ہیں۔

2اہم دستخط
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ایسے کون سے 2دستخط کئے جنہیں اہم قرار دیا جا سکتا ہے ۔ پہلے اہم دستخط کا ذکر کریں ٹرمپ نے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی افواج کے اہلکاروں کے، افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی تحقیقات یا مقدمہ چلانے پر، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اہلکاروں کیخلاف پابندیوں کی منظوری کے انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے جنگی جرائم کے ٹربیونل کے مارچ میں ہونیوالے فیصلے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں افغانستان میں امریکی افواج اور طالبان قیدیوں پر تشدد سمیت مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت ’’آئی سی سی‘‘ کے اقدامات امریکی قومی خودمختاری کیلئے خطرہ ہیں۔امریکی وزیر دفاع مائیک پومپیو نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ ٹرمپ حکومت ایک جعلی عدالت کی جانب سے اپنے لوگوں کو دھمکایا جانا برداشت نہیں کر سکتی اور نہ ہی کرے گی۔‘‘
اور اب دوسرے اہم دستخط کا ذکریں تو امریکہ کے سابق مشیر جان بولٹن کی کتاب میں صدر ٹرمپ پر بڑے پیمانے پر ایغورمسلمانوں کی نظر بندی کی منظوری کے الزام کے بعد ٹرمپ نے ایک قانون سازی پر دستخط کردئیے جس میں ایغور مسلمانوں پر کیے جانے والے مبینہ کریک ڈائون پر چین کیخلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس بل کو کانگریس نے صرف ایک مخالف ووٹ کے مقابلے کثرت رائے سے منظور کرلیا جس کا مقصد چین کی مسلم اقلیت کے اراکین پر ظلم و ستم کے ذمہ داروں کیخلاف پابندیوں کو لازم قرار دے کر چین کو ایک بھرپور پیغام دینا ہے۔ دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی قانون کی منظوری پر واشنگٹن کو جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور نتائج کا ذمہ داری خود امریکہ ہوگا۔ امریکہ چین کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچانا بند کرے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کورونا کی مہلک وبا ء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، کسی ملک میں لاک ڈائون ختم ہو چکا ہے تو کہیں پھر سے لاک ڈائون کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کیو نکہ وبا ءکے باعث مریضوں اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی 22 فیصد آبادی کے کوروناکے شدید مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جان لیوا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ اور اثرات کی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے1 ارب 70 کروڑ افراد ذیابیطس، دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے امراض میں مبتلا ہیں، اور ایسے امراض میں مبتلا افراد میں کورونا کی علامات انتہائی سنگین شدت کی ہونگی ۔

مزید پڑھیں

  چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملٹری اکیڈمی میں گریجویشن تقریب میں شرکت کی،خطاب کے دوران پانی انہوں نے سپ بھرنے کے انداز سے پیا، وہ اپنا گلاس ایک ہاتھ سے تھام نہ سکے دوسرے ہاتھ سے گلاس سنبھالنا پڑا۔ تقریب میں آتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی ٹرمپ لڑکھڑائے ۔ ۔ ۔ ان تمام باتوں نے ماہرین اور عام عوام کو چونکا دیا ہے ، خاص کر ماہرین بول اْٹھے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے دماغ کا سکین کروالینا چاہیے۔ ٹرمپ کے دونوں ہاتھوں سے گلاس تھامنے پر ماہر نفسیات ڈاکٹر بینڈے لی نے کہا ’’ یہ ایک اعصابی علامت ہے اور انہیں دماغ کا سکین کرواناچاہیے۔‘‘

مزید پڑھیں

 جولائی کے آخر ، اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہونگے ،فرنٹ لائن پر حالات تسلی بخش نہیں،بے احتیاطی کی تو سب کی زندگی اور ملک کو خطرے میں ڈالیں گے

مزید پڑھیں