☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ دنیا اسپیشل کچن کی دنیا کھیل فیشن متفرق کیرئر پلاننگ دین و دنیا ادب روحانی مسائل
اِس بار مودی لہر نہیں ۔۔۔

اِس بار مودی لہر نہیں ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

04-07-2019

بھارت میں اِس بار لوک سبھا الیکشن صرف انتخابی ہار جیت کا فیصلہ کرنے نہیں جا رہے۔۔۔۔

اِس بار فیصلہ ہو گا انتہا پسند نظریات کا امن پسند نظریات سے۔۔۔

مقابلہ ہو گا سیکولر عوام کا انتہا پسند جماعتوں سے ۔۔۔۔ انتہا پسند وں کا جمہوریت پسندوں سے ۔۔۔۔

کارپوریٹ سیکٹر کا سیکولر سیکٹر سے ۔۔۔۔ طاقتور وں کا کمزوروں سے۔۔۔ سیاسی پنڈتوں کا عام سوچ سے ۔۔۔

ان انتخابات میں جیت کسی کی بھی ہو اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ’’اِس بار مودی لہر نہیں ۔۔۔‘‘جو رکھ رکھاؤ،تام جھام ،کرشمہ یا جادو 2014ء میں تھا وہ ’’تھا ‘‘ ہو چکا اب نہیں ہے ۔۔۔۔اب ’’لہر ‘‘ کو ’’قہر ‘‘ اور ’’زہر ‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔اور انتخابات سے پہلے اتنی بڑی تبدیلی کوفراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ بی جے پی اقتدار میں رہے یا نہ رہے اپنا ’’سیاسی وقار ‘‘ کھو بیٹھی ہے ۔۔۔۔

وہ بی جے پی جو کل تک دوسروں سے’’ پوچھ گچھ ‘‘ کرتی تھی آج خود ’’کٹہرے ‘‘ میں کھڑی ہے اور عوام دبنے کی بجائے اب ’’سوال ‘‘ اٹھا رہے ہیں ۔۔نعرہ بلند کر رہے ہیں ۔۔تبدیلی چاہتے ہیں ۔۔۔ پارٹی میں’’بغاوت ‘‘کا معاملہ الگ سے ہے۔۔۔بڑے بڑے نام علی الاعلان علیٰحدگی اختیار کر رہے ہیں اور بعض اپنا احتجاج ووٹوں کے ذریعے ریکارڈ کروائیں گے۔۔۔ انہی خطرات و خدشات کے پیش نظر ایک انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ اس بار ووٹر لسٹوں سے مسلمانوں اور دلتوں کے نام غائب کئے جا رہے ہیں ۔۔۔میڈیا بھی اس ’’دھاندلی ‘‘ پر آواز اٹھانے پر مجبور ہو چکا ہے ۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔۔۔؟

اِس بار مودی لہر کیوں نہیں ہے اس کا اندازہ صرف ان اعدادو شمار سے لگا لیجئے جنہیں مودی جی کا حامی میڈیا بھی چھپائے نہیں چھپا پا رہا ، بھارتی کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2018 ء سے فروری 2019 ء کے دوران سرکاری خزانے کا نقصان 8.51 لاکھ کروڑ روپے تک جا پہنچا جو پورے سال کیلئے ترمیم شدہ بجٹ اندازہ 6.34 لاکھ کروڑ روپے سے 134.2 فیصد زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار سے واضح ہو چکا ہے کہ سرکاری خزانے کا نقصان بڑھنے کی اہم وجہ ریونیو کا کم رہنا ہے ۔ بھارت کا غیر ملکی کرنسی ذخیرہ 13 اپریل 2018 ء کو اختتامیہ ہفتے میں 426.02 ارب ڈالر کی ریکارڈ اونچی سطح پر پہنچ گیا تھا لیکن اس کے بعد سے اس میں کافی گراوٹ آئی ۔ مرکزی بینک کے مطابق آئی ایم ایف میں ملک کا ریزرو ذخیرہ بھی 15 لاکھ ڈالر گھٹ کر 2.99 ارب ڈالر رہ گیا۔بھارت کی اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے بڑھتے ہوئے مالی خسارے پر مودی حکومت اور وزیرخزانہ ارون جیٹلی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نامکس (مودی اکنامکس)فلاپ ہے ،پھر بھی مودی جی ٹپ ٹاپ ہیں۔کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے حکومت کے قرض اور مالی خسارے کے بارے میں ایک انگریزی اخبار میں شائع خبر کی نقل ٹوئیٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ مودی حکومت آئندہ مالی سال میں 7اعشاریہ 11لاکھ کروڑ روپے کا قرض لے گی۔‘‘ دوسری جانب آر ایس ایس( راشٹریہ سیوک سنگھ ) پر پابندی لگنے اور ہٹنے سے متعلق دستاویز کو’’ غائب‘‘ کر دیا گیا ہے ۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ ان دستاویز کے غائب ہونے یا انہیں منظر عام سے ہٹانے کا کیا فائدہ یا نقصان ہے اور اس کا مودی لہرسے کیا تعلق ہے ؟ تو ہم صرف اتنا بتاتے چلیں کہ 1948ء میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی لگی تھی جس کو سال بعد ہٹادیا گیا تھا۔ اس سے متعلق دستاویز عوامی طور پر دستیاب ہونی چاہیئں لیکن نہ تو یہ بھارتی نیشنل آرکائیوز کے پاس ہیں اور نہ ہی وزارت داخلہ کے پاس۔ یعنی آر ایس ایس پر 1948ء میں پابندی لگنے اور 1949ء میں پابندی ہٹانے سے متعلق اہم فائلوں کا کچھ پتہ نہیں ہے۔

آر ایس ایس پر پابندی لگانے اور ہٹانے کی جو بھی وجہ رہی ہو، یہ اہم نوعیت کا ریکارڈ تھا جن کو پبلک کیا جانا ضروری تھا اور اب جب عوام ان دستاویز کے بارے میں جاننا چاہ رہے ہیں تو بتایا یہ جا رہا ہے کہ یہ دستاویز’’غائب ‘‘ ہیں اور کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ یہ دستاویز کہاں گئیں ۔۔۔۔یہاں یہ سب بتانے کا مقصد اور مطلب یہ ہے کہ مودی دور میں بھارت میں ’’سچ ‘‘ اور ’’جھوٹ‘‘ کی جنگ جاری ہے سچ کو ’’غائب ‘‘ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

مودی حکومت کے جھوٹ پہ جھوٹ ’’گنگا‘‘ الیکشن میں سزا دے گی

سچ کو غائب کرنے کی بات ہو رہی ہے تو مودی حکومت کے ’’جھوٹ‘‘ بلکہ جھوٹ پہ جھوٹ کو لیکر بھارت میں لمبی چوڑی بحث چھڑی ہے جس کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جا سکتی بس اتنا جان لیجئے کہ سیاسی مبصرین اور عوامی مدبرین کہہ رہے ہیں کہ ’’مودی حکومت جتنا جھوٹ بولے گی اتنا نقصان ہوگا۔ 2019ء میں اس حکومت کو’’ گنگا جی‘‘ ہرانے ہی والی ہیں اب جتنا جھوٹ بولا جائے گا گنگا کاغصہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا۔ حکومت کو اب تو جھوٹ بولنا روکنا ہی ہوگا۔گذشتہ لوک سبھا انتخاب 2014 ء میں نریندر مودی نے کہا تھا’’ میں گنگا کا بیٹا ہوں، گنگا نے مجھے بلایا ہے۔

گنگا کو صاف ستھرا بنانے کیلئے کام کروں گا۔ ‘‘ 5 سال گزر گئے لیکن حکومت نے گنگا جی کی صفائی کیلئے کچھ بھی کام نہیں کیا جیسے گنگا جی پہلے میلی تھیں اب اس سے بھی زیادہ میلی ہو گئی ہیں بلکہ ہمالیہ کو برباد کرنے کیلئے باندھ بنا رہے ہیں۔مودی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود باندھ بنانے کا کام جاری رکھا۔ الکنندا، منداکنی کی معاون ندیاں پنڈر، دھولی گنگا اور ننداکنی وغیرہ پر باندھ بن رہے ہیں۔

مودی حکومت کو منداکنی اور الکنندا کی معاون ندیوں پر باندھ روکنے یا ختم کرنے تھے تبھی گنگا نے صاف ہونا تھا لیکن مودی حکومت نے ایسا نہیں کیااور مکمل طورپر صفائی کو فراموش کر دیا صفائی کے نام پر گھاٹ بنائے گنگا کو ٹھیک کرنے کا کوئی بھی کام کامیابی سے نہیں کیا گیا۔ اب 2019ء کے الیکشن میں پھر سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 2020 ء مارچ تک گنگا کوصاف کر دیں گے۔

صاف ظاہر ہے کہ یہ سفید جھوٹ 2019 ء میں ووٹ لینے کیلئے بولا جا رہا ہے۔ اوما بھارتی نے اس عہدے پر رہ کر کئی بار اعلان کیا تھاکہ اگر اکتوبر 2018ء تک گنگا جی صاف نہیں ہوئیں تو گنگا سمادھی لے لیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ابھی اس عہدے پر بیٹھے نتن گڈکری بھی وہی بول رہے ہیں جونریندر مودی اور اوما بھارتی نے بولا تھا۔مودی حکومت نے بڑی بڑی کمپنیوں کیلئے سب کچھ کر دیا ہے لیکن گنگا کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ سب دیکھ کرسبھی کو لگتا ہے کہ بی جے پی والے ہندوستان کے’’ ستیہ مے وجیتے کو جھوٹ مے وجیتے ‘‘ میں بدلنے میں کامیاب رہے جیسا کہا، ویسا کچھ بھی نہیں کیا ۔

گنگا کو دیا گیا وعدہ پورا ہوتا تو مودی کو 2019ء کے لوک سبھا الیکشن میں دوبارہ فائدہ مل جاتا لیکن پہلے ہی ’’ماں گنگا ‘‘دھوکہ کھائے بیٹھی ہیں اس لئے اس بار جھوٹ کا فائدہ اس حکومت کو نہیں ملے گا۔ گنگا جی کو ملا دھوکہ اب مودی حکومت کو بہت ہی بھاری پڑے گا جھوٹی بات پر گنگا جی ووٹ نہیں دلائیں گی۔ مودی حکومت کو گنگا جی ہرانے ہی والی ہیں۔ اب جتنا جھوٹ بولا جائے گا گنگا کاغصہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا۔

ڈاکٹر جی ڈی اگروال کہتے تھے یہ حکومت ہماری عوام کا خزانہ گنگا جی کے نام پر کچھ خاص لوگوں کو بانٹنا بند کرے توبھی گنگا ماں ان کو معاف کر دیں گی، لیکن مائی سے کمائی کرنا انہوں نے روکا نہیں ہے۔ اس کی سزا ان کو اب بھگتنی ہی پڑے گی۔۔۔۔‘‘ یہ تبصرہ ، تجزیہ یا پیشگوئی ہماری نہیں بھارت کے سیاسی و مذہبی پنڈتوں کی ہے ۔ اب وہ جانیں اور مودی جی جانیں ، ہم تو وہ بیان کر رہے ہیں جو بھارتی کہہ رہے ہیں، سوچ رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں ۔۔۔

مودی کے مقابل 111کسان کیا چاہتے ہیں ؟

اب ذکر کرتے ہیں نریندرمودی کیخلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کرنیوالے 111 کسانوں کا جن کو انتخابی اکھاڑے سے باہر روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ مودی دور میں کسانوں کیساتھ کیا سلوک کیا گیا ، کسانوں کی بڑی تعداد خودکشیوں ، بھوک ہڑتالوں اور مظاہروں پر کیوں مجبور ہوئی یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔ یہاں ہم آپ کو صرف اتنا بتاتے چلیں کہ وارانسی سے تمل ناڈو کے بی جے پی کے متعدد سینئر رہنما بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ یہ111 کسان مودی جی کیخلاف الیکشن نہ لڑیں۔ بی جے پی کے سینئر رہنما ان111کسانوں سے اپیلیں اور وعدے کر رہے ہیں کہ وہ کسانوں کے مطالبات کو بی جے پی کے انتخابی منشور میں ضرور شامل کریں گے بس وہ مودی کیخلاف الیکشن نہ لڑیں ۔

انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کسان رہنما پی ایاکنو اس بارے میں کہتے ہیں ’’ کنیاکماری پارلیمانی حلقے سے آنے والے مرکزی وزیر پون رادھا کرشنن ان سینئر رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ہم سے رابطہ کیا۔کسانوں کامنصوبہ ہے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے اور اگھوری سادھوؤں کے بھیس میں نریندر مودی کیخلاف مہم چلائیں گے۔ہمارا منصوبہ ابھی بھی وہی ہے ہم کسانوں کو انصاف دلانے کیلئے ننگے ہو کر مظاہرہ کریں گے۔ہم ابھی بھی بی جے پی قیادت کی طرف سے کسی پختہ وعدے کی امید کر رہے ہیں اگرہمارے مطالبات مانے جاتے ہیں اور ان کو بی جے پی کے منشور میں شامل کیا جاتا ہے تب ہم وارانسی سے مخالفت نہ کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

ہمارے مطالبات میں سبھی کسانوں کی قرض معافی، زراعتی پیداوار کی منافع بخش قیمت اور کسانوں کیلئے ہر مہینے 5 ہزار روپے کی پنشن جیسے مطالبات شامل ہیں۔رادھا کرشنن اور کئی دوسرے بی جے پی رہنما ہم سے بات چیت کر رہے ہیں ہمیں ذاتی طور پر کسی سے شکایت نہیں ،ہمارے مطالبات کسانوں کیلئے ہیں اور ہمارا مسئلہ حکومت کی پالیسیاں ہیں۔اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ ہم سے دہلی میں ملاقات کریں گے اور ہمارے سبھی مطالبات کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وارانسی سے 111 کسانوں کے الیکشن لڑنے کی تیاری ہم بند کر دیں گے۔‘‘

اِس بار نوجوان ’’مودی مودی‘‘ نہیں کر رہے

وہ سینئر صحافی اور تجزیہ کار جنہیں بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں پورا سچ بولنے اور لکھنے نہیں دیا جا رہا وہ مختلف ویب سائیٹس پر اپنے بلاگز اور ولاگز پر کھل کر ’’مودی لہر ‘‘پر’’ قہر‘‘ بن کر برس رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اِس’’ قہر‘‘ کو خوب عوامی پذیرائی مل رہی ہے ان تبصروں اور تجزیوں کا خلاصہ صرف نوجوان ووٹرز کی حد تک جو2014ء میں مودی لہر کی جان تھا کا 2019ء میں کیا حال ہو چکا ہے آپ کو بتاتے چلیں تو کہا جا رہا ہے کہ’’ 2014ء کے انتخابات میں کسی کے سامنے مائیک رکھتے ہی مودی-مودی شروع ہو جاتا تھا۔

کچھ بھی سوال پوچھنے پر جواب مودی-مودی آتا تھا۔ اس بار ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا۔ کیا یہ نوجوان مودی کو ووٹ نہیں کریں گے؟ جب نوجوانوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کسے ووٹ کریں گے تو حزب مخالف نے بی جے پی کے بارے میں جو کہا ہے، اس حوالے سے کسی نے بی جے پی پر سوال نہیں کیا۔ سیاسی گفتگو ایک طرفہ ہو چکی ہے، تنوع مٹ چکا ہے۔ نوجوانوں کی گفتگو سے حزب مخالف غائب ہو چکا ہے اس کیلئے حزب مخالف بھی قصوروار ہے۔

حزب مخالف نے ابلاغ کے اختیاری طریقے کا استعمال نہیں کیا۔ جو ان کے اداروں کا ڈھانچہ تھااس کا استعمال نہیں کیا۔نوجوانوں کو پتا ہے کہ دیہی علاقوں اور قصبوں میں تعلیمی انتظام ٹھپ ہے۔ اس کا معیار اتنا خراب ہے کہ وہ کئی سال سکول اور کالج میں گزارنے کے بعد بھی درجہ چہارم کے لائق ہی ہو پاتے ہیں۔ ان نوجوانوں نے سرکاری سکول اور کالج گھٹیا ہی دیکھے ہیں۔

گھٹیا کالجوں کا ہر دور میں بنے رہنے اور اس کے کبھی نہ بدلنے نے ان نوجوانوں کو تعلیم میں اصلاح کی کسی بھی امید سے دور کر دیا ہے۔ روزگار کے سوال سے کافی پریشان ہیں بھارتی نوجوان اور وہ کھل کر نہیں کہہ رہے کہ وہ کس کو ووٹ کریں گے۔ زمین پر رینگ کر مظاہرہ کرنے سے لیکر پولیس کی لاٹھی کھانے اور کئی مقدموں میں گھیرے جانے کے بعد اب وہ کسی اور آپشن کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بعض کہہ رہے ہیں کہ ہم ووٹ نہیں کریں گے سیاسی جماعتوں نے بار بار کسانوں کو ٹھگا ہے۔ اب ہم ٹھگے جانے اور کچلے جانے میں فرق نہیں کر پاتے ہیں۔ سیاسی تبدیلی ایک پارٹی کو ہراکر دوسری کو لانے سے نہیں آتی ۔ سیاسی تبدیلی آتی ہے سیاسی شعور کی تعمیر میں۔ کیا حزب مخالف نے کسی سیاسی شعور کی تعمیر کی ؟ یا پھر لوگوں نے اپنی سطح پر سیاسی شعور کی تعمیر کی ہے، جس میں میڈیا اور حزب مخالف تنظیموں کا کوئی کردار نہیں ہے، تو اس کا جواب 26 مئی کو ملے گا۔ ‘‘ان تحریروں اور سروے رپورٹس کے خلاصے سے صاف ظاہر ہے کہ نوجوانوں میں مودی لہر دم توڑ چکی ہے اور اب وہ اپنے مسائل کے حل کیلئے کسی اور سمت کا تعین کرنے جا رہے ہیں ۔

بالی وڈ میں بھی مخالف ہوا

بالی وڈ سے بھی’’ مودی لہر‘‘ کیخلاف ہواچل پڑی ہے اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے کہ مایا نگری کے 100سے زائد فلمسازوں نے عوام سے بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کر دی ہے۔ فلمسازوں کا کہنا ہے کہ ماب لنچنگ اور گؤرکشا کے نام پر بھارت کو فرقہ پرستی کی بنیاد پر بانٹا جا رہا ہے۔ کوئی بھی شخص یا ادارہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتاہے تو ان کو ملک مخالف یا غدار قرار دیدیا جاتا ہے۔

مودی دور میں پولرائزیشن اور نفرت کی سیاست میں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی اخبار ’’د ی ہندو‘‘ کے مطابق ملک کے 100 سے زیادہ فلمساز جن میں زیادہ تر آزاد فلمساز ہیں’’لوک تنتر بچاؤ منچ‘‘ کے تحت متحد ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر عوام سے بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی ہے اِن میں آنند پٹوردھن ، ایس ایس ششی دھرن، سودیون، دیپا دھنراج ، گروندر سنگھ، پشپندر سنگھ، کبیر سنگھ چودھری ، انجلی مونٹیرو، پروین مورچھلے دیواشیش مکھیجا اورفلم ’’ اتسو‘‘کے ہدایتکار اور مدیر بینا پاپ جیسے مشہور فلمساز شامل ہیں۔ فلمسازوں نے اپنا بیان آرٹسٹ یونائٹ انڈیا ڈاٹ کام ویب سائٹ پر لوڈ کیا۔

ان کا ماننا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کے دور حکومت میں پولرائزیشن اور نفرت کی سیاست میں اضافہ ہوا دلتوں، مسلمانوں اور کسانوں کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے ثقافتی اور سائنسی اداروں کو لگاتار کمزور کیا جا رہا ہے اور سینسرشپ میں اضافہ ہوا ہے اس کے علاوہ اور بھی دیگر وجوہات ہیں۔فلمسازوں کا ماننا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں عوام سمجھداری سے ووٹ نہیں کریں گے تو فاشزم ہمیں مشکل میں ڈال دیگا۔ 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت کا مذہبی طور پر پولرائزیشن کیا جا رہا ہے اور مودی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔

بی جے پی حب الوطنی کو ترپ کے اِکے کی طرح استعمال کر رہی ہے کوئی بھی شخص یا ادارہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو اس کو ملک مخالف یا غدار وطن قرار دیا جاتا ہے۔ بی جے پی حب الوطنی کو اپنا ووٹ بینک بڑھانے کیلئے استعمال کر رہی ہے ساتھ ہی آرمڈ فورسز کو اپنی حکمت عملی میں شامل کرکے بھارت کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔‘‘ بالی وڈ سے لوک سبھا الیکشن کو لیکر بہت سی خبریں ہیں لیکن یہاں ہم آپ کو صرف دو خبروں کے بارے میں بتاتے چلیں جن سے آپ کو بالی وڈ میں چلنے والی’’ہوا ‘‘ کا مزید اندازہ ہو جائیگا ۔ ۔ ۔

بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر کے سیاست میں آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کیخلاف منفی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ارمیلا کانگریس میں شامل ہونے پر مودی سرکار کے نشانے پر آگئی ہیں سوشل میڈیا پر یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ کانگریس کی انتخابی امیدوار ارمیلاکے شوہر پاکستانی نژاد تاجر ہیں ۔ کانگریس کی جانب سے ارمیلاکو لوک سبھا کا ٹکٹ فائنل کیے جانے کے بعد یہ باتیں فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں پھیلائی جا رہی ہیں۔سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے پروپیگنڈے میں کہاجارہا ہے کہ ارمیلا کے شوہر محسن کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ایک تاجر خاندان سے ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے’’شترو ‘‘ اب بی جے پی کے نہیں رہے کانگریس کے ہو چکے ہیں ۔ شترو گن سنہا نے گذشتہ دنوں بی جے پی کو اپنا استعفیٰ تھمایا اور کانگریس کے نوجوان رہنما راہول گاندھی سے ہا تھ ملا لیا۔ماضی کے معروف اداکار اورآج کے سیاستدان شتروگن سنہا جو کافی عرصے سے کھل کر بی جے پی کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے اب بی جے پی کو چھوڑ چکے ہیں ، شترو گن سنہا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر راہول گاندھی کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوے لکھا ’’ بی جے پی سے نکلنامشکل تھا لیکن امید ہے کہ اب میرے عزیز دوست لالو یادواور نہرو گاندھی کے خاندان کی قیادت کے تحت کام کرنا خوش آئند ہوگا‘‘۔۔۔ ’’دبنگ گرل ‘‘ سوناکشی سنہا جنہیں کسی سے ڈر نہیں لگتا نے انڈیا اسٹائلش ایوارڈز 2019 ء میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقیدکرتے ہوئے اپنے والدشتروگن سنہا کی بی جے پی چھوڑنے کی وجہ بھارتی میڈیا کو کچھ اس طرح بتائی کہ’’ میرے والدکو بہت پہلے ہی بی جے پی چھوڑ دینی چاہیے تھی اگر کوئی شخص اپنے ارد گرد ہونے والی چیزوں سے خوش نہ ہو تو اسے اپنا قبلہ بدل لینا چاہیے۔ میرے والد اپنی مرضی سے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں اور مجھے لگتا ہے ان کو یہ قدم کافی پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا۔ میرے والد بی جے پی کے رہنما جے پی ناریان ، اٹل بہاری واجپائی ، لعل کرشن ایڈوانی کے ساتھ ہی پارٹی کا حصہ بنے تھے لیکن اس کے باوجود بی جے پی کی جانب سے ان کووہ عزت نہیں دی جارہی تھی جس کے وہ حقدار ہیں۔‘‘ یہ تھے بالی وڈمیں چلنے والی ہوا کے دو جھونکے جن سے رُخ کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں ۔

بی جے پی کو 200سے کم نشستیں ملیں گی مودی اگلی بار وزیر اعظم نہیں بنیں گے

اب ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ حالات لوک سبھا الیکشن سے پہلے کیا رُخ اختیار کر چکے ہیں اور کون سے نئے موڑ آنیوالے ہیں سب سے پہلے راجدھانی چلتے ہیں جہاں ’’آپ ‘‘ بی جے پی سے ’’تُو تکار ‘‘پر اتر آئی ہے اور دبنگ انداز میں انتخابی اکھاڑے میں اپنی موجودگی کا احساس دلوا رہی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے پیشگوئی کی ہے کہ ’’نریندرمودی اس مرتبہ وزیر اعظم نہیں بنیں گے اور لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی 200سے کم نشستوں پر کامیابی حاصل کرپائے گی،

بھارت میں مودی اور امیت شاہ کی آمرانہ طرز کی حکومت ہے جس کیخلاف تمام جماعتیں جدوجہد کر رہی ہیں ، بھارت کو مودی اور امیت شاہ کی جوڑی سے بچانا ہے جس کیلئے جو کچھ بھی کرنا پڑے ہم اس کیلئے تیار ہیں ۔ دہلی ، ارونا چل پردیش اور مغربی بنگال کے عوام متحد ہو رہے ہیں تمام کا مقصد یہی ہے کہ مودی اور امیت شاہ کی جوڑی کا خاتمہ ہو۔ مودی نے وعدے کے مطابق خصوصی درجہ نہ دیتے ہوئے اروناچل پردیش کے عوام کیساتھ دھوکہ کیا،اب ریاست کی 25لوک سبھا نشستوں پر تلگو دیشم کامیاب ہو گی اسی طرح دہلی کی تمام لوک سبھا نشستوں پر عام آدمی پارٹی کا قبضہ ہو گا ۔

مودی اور امیت شاہ کی حکمرانی کو شکست دینا ضروری ہے کیونکہ ان دونوں نے بھارت ، اسکے سیکولر ڈھانچے اور معیشت کو برباد کر دیا ہے ، اِنہوں نے مختلف مذاہب کیساتھ ساتھ ذاتوں کی بنیاد پر اختلافات پیدا کئے ہیں یہ دونوں بھارت کیلئے کافی خطرناک ہیں۔‘‘ یہ تھے اروند کیجریوال جو راجدھانی میں ڈٹے ہوئے ہیں اور جس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تختِ دہلی کو ان انتخابات میں مودی جی اور ان کی ٹیم کو زور کا جھٹکا دھیرے سے لگ سکتا ہے ۔

مظالم کی انتہا ، مقبوضہ کشمیر میں دانشور بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبورہو گئے

مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا ہو چکی ہے جسکی وجہ سے کشمیری دانشور بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔یہ پاکستان نہیں کہہ رہا کہ جسے بھارت مخالف ایجنڈا کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے بلکہ یہ سچ ایک امریکی اخبار نے رپورٹ کیاہے۔ امریکی اخبار لکھتا ہے کہ انتہائی تعلیم یافتہ اساتذہ بھی بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، پروفیسر محمد رفیع بھٹ ایسے استاد تھے جنہیں طلباء بے حد چاہتے تھے، ایک ایسے دانشور تھے جنہوں نے صارفین پر نمایاں تحقیق کی تھی۔ یونیورسٹی آف کشمیر کے پروفیسر رفیع اچانک لاپتہ ہوگئے تھے، 2 روز بعد ان کی لاش ملی۔اخبار کا کہنا ہے کہ پروفیسر رفیع نے بھارت کیخلاف تحریک میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور مبینہ مقابلے میں مارے گئے، پروفیسر کی درس و تدریس کے شعبے سے مزاحمتی تحریک میں شمولیت نئے رجحان کا حصہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2008ء کے بعد سے مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، چند برس پہلے تک کمزور ہوتی مسلح جدوجہد میں نئی توانائی آگئی ہے، مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے پروفیسر رفیع کے سامنے شاندار مستقبل تھا لیکن انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جو بلا وجہ نہیں تھا ۔ 2018 ء میں 191 کشمیری نوجوانوں نے مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی، 2017 ء کے مقابلے میں مزاحمتی تحریک میں نوجوانوں کی شرکت 2018 ء میں 52 فیصد بڑھی جبکہ 2013 ء میں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد صرف 16 تھی۔

دوسری جانب یورپی پارلیمینٹ کے50 ارکان نے پیلٹ فائرنگ کے تمام واقعات میں آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یورپی پارلیمینٹ کے 50 ارکان نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوام کی بھیڑ کو کنٹرول کرنے کیلئے پیلٹ گن کے استعمال پرپابندی لگائی جائے اور اے ایف ایس پی اے اور پبلک سیکیورٹی ایکٹ پی ایس اے جیسے قوانین کو ختم کیا جائے۔

ممبرز آف دی یورپین پارلیمینٹ (ایم ای پی ایس) نے 25 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے خط میں کہا’’ ہم منتخب ارکان آپ سے پہلے اور حال میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کیساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی، جیسا کہ او ایس سی ایچ آر-1 کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے، کے خلاف گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔‘ ‘ یورپی ارکان نے شوپیاں ضلع میں پیلٹ گن کی متاثرہ 19 مہینے کی حبہ نثار کا ذکر بھی کیا جو گذشتہ سال نومبر میں زخمی ہو گئی تھی۔خط میں کہا گیا ’’ ہم خاص طور پر 19 مہینے کی بچی کے تکلیف دہ معاملے کا ذکر کرنا چاہیں گے جو پیلٹ گن سے بری طرح زخمی ہو گئی تھی۔

آرمڈ فورس (جموں و کشمیر) اسپیشل رائٹ ایکٹ 1990ء (اے ایف ایس پی اے) اور جموں و کشمیر 1978ء پی ایس اے محافظ دستوں کو کسی بھی طرح کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف ایک طرح سے تحفظ دیتے ہیں۔ پیلٹ گن کا استعمال فوراً بند کیا جانا چاہیے اور سبھی ہندوستانی قوانین کو عالمی انسانی حقوق کے معیارات کی تعمیل کے مطابق لانا چاہیے ۔

مودی حکومت کو پیلٹ کے استعمال سے زخمی ہوئے اور مارے گئے افراد کے خاندانوں کو مکمل اور مؤثر بازآبادکاری دینی چاہیے۔ حکومت تمام حادثات میں آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے جہاں پیلٹ فائرنگ کے استعمال سے اموات ہوئیں یا سنگین طور پر عوام زخمی ہوئے ہیں۔‘‘ شوپیاں کے بعد پلوامہ کا ذکر کرتے چلیں تو بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت کہتے ہیں’’مودی حکومت کو کشمیریوں اور پاکستان سے بات چیت کرنی چاہئے۔

بات چیت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پلوامہ حملہ جیش محمد کی جانب سے الیکشن سے قبل مودی حکومت کیلئے تحفہ تھا ، ہمیں قوم پرستی کے بجائے حب الوطنی پر زور دینا چاہئے۔ قوم پرستی جنگ کی وجہ بنتا ہے۔‘‘ انہوں نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کے بعد وہاں کی وزیراعظم کے بیان کی تعریف کی ، انہوں نے جسینڈا آرکیڈن کے جملے ’’وہ ہم ہیں‘ ‘کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس بیان کو دنیا میں ایک مثال بنانا چاہئے۔

پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ کشمیر کے معاملے پر معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے اور اگر یہ معاہدہ طے پاجاتا تو مقبوضہ وادی میں امن قائم ہو سکتا تھا۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداﷲ نے پلوامہ حملے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’چھتیس گڑھ میں اتنے جوان مرے مگر نریندرمودی کبھی پھول چڑھانے نہیں گئے۔ پلوامہ میں 40 جوانوں کی ہلاکت پر سب کو شک ہے پلوامہ حملے کے بعد مودی نے یہ دکھانے کی کوشش کی میں بہادر ہوں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔

مودی کی طرف سے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان پر حملے میں مودی سرکار کی طرف سے من گھڑت دعوے کیے گئے۔ پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کے دعوے میں کسی نے کہا 300 بندے مارے اور کسی نے کہا ہزار مارے جبکہ پاکستان نے مقدمہ کیا ہے کہ ان درختوں کی قیمت دو جو گرائے ہیں۔‘‘ اس بار لوک سبھا کے الیکشن میں مودی لہر نہیں ہے کے حق میں کم وقت میں جتنے دلائل اور خبریں بھارت سے آپ کی خدمت میں پیش کی جا سکتی تھیں ہم نے کیں اور انتخابات کے انعقاد اور نتائج آنے تک یہ سلسلہ ہم یونہی جاری رکھیں گے۔۔۔۔

آخر میں چلتے چلتے صرف یہ بتاتے چلیں کہ حالات اس نہج تک آ پہنچے ہیں کہ2017ء میں ناقص کھانے کی شکایت پر برطرف کیا جانے والا بھارتی فوجی( بی ایس ایف کانسٹیبل ) تیج بہادر بھی آئندہ انتخابات میں وزیراعظم مودی کا مقابلہ کرے گا۔ تیج بہادر کا کہنا ہے کہ ’’میں اُترپردیش کے بنارس حلقے سے بحیثیت آزاد امیدوار وزیراعظم مودی کے خلاف الیکشن لڑوں گا ، میں کرپشن کے خاتمے کیلئے انتخاب لڑنا چاہتا ہوں ۔میں نے کرپشن کیخلاف آواز اُٹھائی لیکن برطرف کردیا گیا، میرا پہلا مقصد فورسز میں کرپشن کو ختم کرنا ہے۔‘‘یہ حال ہو چکا ہے نریندر مودی اور ان کی ٹیم کا کہ کوئی بھی ان پر اعتماد اور اعتبار کرنے کو تیار نہیں ۔۔۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:درد کی تصویر ۔۔۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر خطرے کے بادل مدتوں سے منڈلا رہے تھے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

کسی نے پوچھا ضمیر کب سے ہے ۔۔۔عمر کتنی ، مزاج کیسا ہے ۔ ؟

رفتار کتنی، گفتار کیسی ۔۔۔کیا دِکھتا ، چلتا ، بولتا بھی ہے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

ہرمعاشرے کے کچھ مخصوص رسم ورواج ہوتے ہیں، آج ہم آپ کو سویڈن میں ایک ایسے رواج کے بارے میں بتائیں گے کہ وہاں رات 10 بجتے ہی زوردار چیخ کیو ...

مزید پڑھیں